Baaghi TV

Tag: تربت

  • تربت میں کمرے میں سوئے چھ مزدور قتل

    تربت میں کمرے میں سوئے چھ مزدور قتل

    تربت میں افسوسناک واقعہ پیش آیا ہے، نامعلوم افراد کی فائرنگ سے چھ مزدوروں کی موت ہو گئی ہے جبکہ دو افراد زخمی ہو گئے ہیں، مرنے والوں کا تعلق پنجاب سے بتایا جا رہا ہے،

    تعمیراتی کمپنی میں کام کرنے والے مزدور اپنے کمرے میں سو رہے تھے، اسی دوران نامعلوم موٹرسائیکل سواروں نے ان پر فائرنگ کی اور فرار ہو گئے، فائرنگ کے نیتجے میں چھ افراد کی موت ہو گئی ہے، اطلاع پر پولیس کی بھاری نفری موقع پر پہنچ گئی، لاشوں کو پوسٹ مارٹم کے لئے ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے،

    پولیس کاکہنا ہے کہ جاں بحق ہونیوالے مزدوروں کاتعلق پنجاب سے ہے،جاں بحق افراد کے نام رضوان، شہباز، وسیم، شفیق احمد، محمد نعیم اور سکندر ہیں جبکہ غلام مصطفیٰ اور توحید زخمی ہیں، مقتولین 6 میں سے 4 افراد ایک ہی خاندان کے تھے، مقتولین میں 2 سگے بھائی، ایک کزن اور ماموں شامل ہیں.

    کسی بلوچ نے پنجابی نہیں بلکہ دہشت گردوں نے پاکستانی شہید کئے ،نگران وزیر داخلہ
    نگران وزیر داخلہ سرفراز احمد بگٹی نے تربت میں چھ مزدوروں کے اندوہناک قتل کی شدید مذمت کی اور کہا کہ کسی بلوچ نے پنجابی نہیں بلکہ دہشت گردوں نے پاکستانی شہید کئے ہیں، لواحقین سے اظہار تعزیت و ہمدردی، شہدا کی بلندی درجات کیلئے دعا کرتا ہوں،

    نگران وزیر اعلی بلوچستان نے تربت میں بے گناہ مزردوں کے قتل کانوٹس لے لیتے ہوئے انتطامیہ سے رپورٹ طلب کرلی نگران وزیر اعلی کاکہنا تھا کہ یہ واقعہ قابل مذمت ہے، بے گناہ مزردوں کے قتل پر دلی دکھ ہوا، واقعہ کی تمام پہلوں سے تحقیقات کرکے فوری رپورٹ پیش کی جائے انہوں نے ہدایت کی کہ واقعہ میں ملوث عناصر کی گرفتاری کیلئے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں

    نگران وزیر اطلاعات بلوچستان جان اچکزئی کا کہنا تھا کہ تربت میں بے گناہ پاکستانیوں کے ساتھ افسوسناک واقعہ کی پرزور مذمت کرتے ہیں .ریاست کے اقدامات سے پریشان ہوکر دشمن قوتیں انتشار بد امنی کے مذموم عزائم پر اتر آئی ہیں .پاکستان دشمن قوتیں بلوچستان میں نفرت کی آگ پھیلانے میں ہمیشہ ناکام رہی ہیں .بلوچستان میں بسنے والے بلوچ پشتون یا پنجابی سمیت تمام شہری پاکستانی ہیں اور ان کا تحفظ ریاست کی ذمہ داری ہے.دہشتگرد قاتلوں کو پیچھا کیا جائے گا خواہ وہ پہاڑوں یا زیر زمین کہیں بھی چھپے ہونگے اور انہیں نشان عبرت بنایا جائے گا .ہمارے قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ہمیشہ دشمن کی سرکوبی کی ہے.ہم شہدا کے لواحقین کے غم میں برابر کے شریک ہیں اور انہیں یقین دلاتے ہیں کہ خون ناحق کا بدلہ لیا جائے گا،

    اسپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف نے تربت میں مزدوروں پر فائرنگ کی مذمت کی ہے اسپیکر نے فائرنگ سے جان بحق ہونے والے افراد کے درجات کی بلندی اور سوگوار خاندانوں کو اس ناقابل تلافی نقصان کو برداشت کرنے کے لیے صبر جمیل عطاء فرمانے کی دعا کی ہے،

    نیشنل پارٹی نے تربت میں مزدوروں کے قتل کی شدید الفاظ میں مزمت کرتے ہوئے اسے انسانیت دشمن اقدام قرار دیا۔ بیان میں عام اور بے قصور نہتے مزدوروں کو بے دردی سے قتل کرنے کے عمل کوافسوسناک اقدام قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا کہ ریاست ایسےگھناؤنے جرائم کے درپردہ حقائق کو بے نقاب کرکےمجرموں کو فوری گرفتار کرکے قرار واقع سزا دینے کے لیئے اقدامات کرے۔ مزدور اور نہتے افراد کے قتل کی جس قدر مزمت کی جائے کم ہے انسانی حقوق اور دیگر انصاف پسند تنظیموں کو انسانیت دشمن اقدامات کے خلاف اپنی آواز بلند کرنا چاہیے تاکہ عام لوگوں کو انصاف مل سکے۔ حکومت زخمی افراد کے علاج کو یقینی بنائے اور متاثرہ خاندانوں کی مدد کریں.

    ایک ہزار سے زائد خواتین، ایک سال میں چار چار بار حاملہ، خبر نے تہلکہ مچا دیا

    ایک برس میں 10 ہزار سے زائد کسانوں نے کس ملک میں خودکشی کی؟

    فرار ہونیوالے ملزمان میں سے کتنے ابھی تک گرفتار نہ ہو سکے؟

    طالب علم سے زیادتی کر کے ویڈیو بنانیوالے ملزم گرفتار

    ملازمت کے نام پر لڑکیوں کی بنائی گئیں نازیبا ویڈیوز،ایک اور شرمناک سیکنڈل سامنے آ گیا

    200 سے زائد نازیبا ویڈیو کیس میں اہم پیشرفت

    شادی کے جھانسے میں آ کر تعلق قائم کر لیا، اب بلیک میل کیا جا رہا،سٹیج اداکارہ

    کراچی دھماکہ،باغی ٹی وی بیورو آفس کے شیشے ٹوٹ گئے

    تربت واقعہ، ایس پی معطل، لاشوں کوخصوصی ہیلی کاپٹرکے ذریعے کوئٹہ منتقل کیا جا رہا
    حکومت بلوچستان نے تربت واقعہ کا نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ علاقے کے ایس پی کو معطل کر دیا ہے جبکہ واقعہ میں شہید ہونے والے مزدوروں کی لاشوں اور علاقے میں موجود ان کے لواحقین کو وزیر اعلیٰ بلوچستان کے خصوصی ہیلی کاپٹر اور طیارے کے ذریعے کوئٹہ منتقل کیا جاررہا ہے ، سرکاری اعلامیہ میں بتایا گیا ہے کہ نگران وزیر اعلیٰ بلوچستان میر علی مردان خان ڈومکی نے اس واقعہ کا سختی سے نوٹس لیا ہے اور ہفتہ کی علی الصبح سے ہی نگران وزیر اعلیٰ بلوچستان تربت کی ڈویژنل اور ضلعی انتظامیہ سے رابطے میں ہیں نگران وزیر اعلیٰ کی ہدایت پر حکومت بلوچستان کا ہیلی کاپٹر اور طیارہ میتوں ان کے لواحقین اور زخمیوں کو کوئٹہ منتقل کرنے کے لئے تربت پہنچ چکے ہیں جہاں سے انہیں آج صوبائی دارالحکومت کوئٹہ منتقل کیا جائے گا اور کل علی الصبح انہیں ملتان بھیجوایا جائے گا اس ضمن میں حکومت بلوچستان حکومت پنجاب ، کمشنر ملتان ڈویژن عامر خٹک ،ضلعی انتظامیہ ملتان سے رابطے میں ہے زخمی مزدوروں کو بہتر سے بہتر علاج معالجے کی سہولیات فراہم کی جائیں گی اور جاں بحق مزدوروں کی میتوں کو سرکاری سطح پر وزیر اعلیٰ بلوچستان کے خصوصی ہیلی کاپٹر میں منتقل کیا جائے گا جس کے لئے تمام تر انتظامات مکمل کرلئے گئے ہیں حکومت بلوچستان کی جانب سے اس افسوسناک واقعہ کی اعلیٰ سطحی تحقیقات کا حکم جاری کر دیا گیا ہے ہنگامی اقدامات کے تحت تمام تر منتقلی کے امور کو سنجیدگی سے دیکھا جاررہا ہے اور انتظامی سطح پر پوری توجہ سے معاملات کا باریک بینی سے جائزہ لیا جاررہا ہے ، حکومت بلوچستان دکھ کی اس گھڑی میں متاثرہ خاندانوں کے ساتھ ہے اور انتظامی سطح پر میتوں کی منتقلی کے بنیادی امور سمیت زخمی مزدوروں کے علاجِ معالجے کے اقدامات میں تمام تر دستیاب وسائل بروئے کار لائے جاررہے ہیں حکومت بلوچستان کے اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ اس واقعہ کے زریعے پاکستان میں بسنے والی برادر اقوام کے مابین نفرتیں پیدا کرنے کی سازش کی گئی ہے جو کسی طور پر کامیاب نہیں ہوگی ، واقعہ میں ملوث عناصر سے آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا اور واقعہ کے محرکات تک پہنچ کر ملوث عناصر کو کیفرِ کردار تک پہنچایا جائے گا

  • تربت میں خاتون خودکش حملہ آور کے حملے میں ایک پولیس اہلکار شہید،2  زخمی

    تربت میں خاتون خودکش حملہ آور کے حملے میں ایک پولیس اہلکار شہید،2 زخمی

    بلوچستان کے ضلع تربت میں خاتون خودکش حملہ آور کے حملے میں ایک پولیس اہلکار شہید ہو گیا۔

    باغی ٹی وی: بلوچستان کے ضلع کیچ کے انتظامی شہر تربت میں کمشنر آفس کے نزدیک کھڑی سی ٹی ڈی کی گاڑی کے قریب دھماکے میں ایک اہلکار شہید اور دو زخمی ہوگئے، پولیس کے مطابق دھماکا خود کش تھا خودکش حملہ کرنے والی ایک خاتون تھی دھماکے میں پولیس کی ایک خاتون سپاہی بھی زخمی ہوئی اور سیکورٹی فورسز کی گاڑی کو بھی نقصان پہنچا-

    ناردرن بائی پاس؛ ڈاکوؤں نے پولیس اہلکار سے سرکاری اسلحہ چھین لیا

    ڈپٹی کمشنر (ڈی سی) کے مطابق کمشنر روڈ پر خودکش دھماکے میں ایک پولیس اہلکار شہید ہوا، خودکش حملہ ایک خاتون نے کیا جائے وقوعہ کا محاصرہ کر کے تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے اور بہت جلد ملزمان کو تلاش کر لیں گے۔

    نگراں وزیراعلیٰ بلوچستان نے دھماکے میں ایک پولیس اہل کار کی شہادت اور ایک خاتون اہل کار کے زخمی ہونے پر دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے اور واقعے میں ملوث عناصر کو جلد گرفتار کرنے کی ہدایت دی ہے۔

    گونگی بہری 6 سالہ بچی کو زیادتی کا نشانہ بنانے والا ملزم ہلاک

    قبل ازیں ناردرن بائی پاس کے قریب ڈاکوؤں نے پولیس اہلکار سے سرکاری اسلحہ چھین لیا ہےجبکہ کراچی میں اسٹریٹ کرائمز کی وارداتیں روز بروز بڑھتی جارہی ہے، اور بے لگام ڈاکوؤں سے عوام تو کیا پولیس اہلکار بھی نہیں بچ سکے کراچی کےعلاقے ناردرن بائی پاس کے قریب ڈاکو پولیس اہلکار سے سرکاری اسلحہ چھین کر باآسانی فرار ہوگئے۔

    منگھوپیر پولیس نے واقعہ کی تحقیقات شروع کر کے پولیس اہلکار ارسل شوکت کا ابتدائی بیان ریکارڈ کرلیا گیا ہے۔ پولیس اہلکار کے مطابق نامعلوم موٹر سائیکل سوار ملزمان نے واردات کی، اور سرکاری اسلحہ چھین کر لے گئے۔

    میہڑ : نامعلوم مسلحہ افراد کی فائرنگ سے 2افراد قتل

  • تربت:نامعلوم ملزمان کی فائرنگ سے4افرادجاں بحق

    تربت:نامعلوم ملزمان کی فائرنگ سے4افرادجاں بحق

    بلوچستان کے ضلع تربت کے علاقے تمپ میں نامعلوم ملزمان کی فائرنگ سے 4 افراد جاں بحق ہوگئے۔،اطلاعات کے مطابق لیویز حکام کے مطابق واقعہ تمپ کے پہاڑی علاقے شاہاپ میں دوپہر ایک بجے قریب پیش آیا جہاں نامعلوم ملزمان نے فائرنگ کرکے 4 افراد کو قتل کر دیا جبکہ ایک شخص زخمی ہوگیا۔

    لاشوں اور زخمیوں کو اسپتال منتقل کیا گیا جہاں زخمی کو طبی امداد دی جا رہی ہے جبکہ مرنے والے افراد کی شناخت حنیف، بالاچ ،اقبال اور نیاز کے نامون سے کر لی گئی۔

    جاں بحق تمام افراد کا تعلق بالیچہ ، پلا آباد اور مند بلوکی سے ہے لاشوں کو ضروری کارروائی کے بعد ورثاء کے حوالے کر دیا گیا جبکہ واقعے کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔

    ادھر بہادرآباد کے نجی اسپتال میں کار سوار خاتون نوعمر لڑکے کی لاش چھوڑ کر فرار ہوگئیں، پولیس نے واقعے کی تحقیقات کا آغاز کردیا۔

    ذرائع کے مطابق جمعرات کی دوپہر کراچی کے علاقے بہادرآباد میں قائم نجی اسپتال میں کار سوار ایک خاتون نوعمر لڑکے کی لاش لے کر پہنچی، جہاں ڈاکٹروں نے معائنے کے بعد موت کی تصدیق کردی ۔

    لاش کے چہرے اور جسم کے مختلف حصوں پر تشدد کے نمایاں نشانات تھے، ڈاکٹروں کی جانب سے موت کی تصدیق کے بعد خاتون نے اسپتال کے عملے سے ایمبولینس طلب کی جس پر اسپتال نے ایدھی فائونڈیشن کی ایمبولینس منگوائی اور لاش کو قریبی واقع سرد خانے منتقل کرنے لگے۔

  • انقلابی واٹر وے — انجنئیر ظفر اقبال وٹو

    انقلابی واٹر وے — انجنئیر ظفر اقبال وٹو

    گوادر چائنہ کے “ون روڈ ۔ ون بیلٹ” جیسے جدید عالمی تجارتی راستے کا وہ صدر دروازہ ہے جس کے تالے کی کنجی گوادر سے چارسو کلومیٹر مشرق میں ہنگول نیشنل پارک کے قریب ہنگلاچ ماتا کے مندر میں پڑی ہوئی ہے۔ اس چابی سے وہ انقلابی واٹر وے کھلے گا جو ساحل مکران کی تمام بندرگاہوں اورماڑہ، پسنی ، گوادر اور جیونی کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے پینے کے صاف پانی کی قلت سے آزاد کرسکتا ہے۔

    سی پیک کے منصوبہ سازوں کو پنجاب اور سندھ میں کوئلے سے چلنے والے پاور پلانٹ بنانا تو یاد رہے لیکن سی پیک کی روح گوادر شہر کے باسیوں کے لئے پینے کے صاف پانی جیسی بنیادی انسانی ضرورت کی فراہمی بھول گئی کہ جس کے بغیر کوئی شہر زیادہ دیر تک زندہ نہیں رہ سکتا۔ سی پیک منصوبہ ساز اتنی اہم جگہ کو نظرانداز کر گئے جس کا کھوج واپڈا کے انجنئیرز نے پچاس سال قبل لگا لیا تھا۔

    گوادر میں اب مولانا ہدایت الرحمن کی “حقوق دو” تحریک اقتدار میں آچکی ہے جس کا ایک بنیادی مطالبہ پینے کے صاف پانی کی فراہمی بھی تھا لیکن حالات جوں کے توں ہیں۔گوادر کی صاف پانی کی ضرورت کا تخمینہ 7MGD لگایا گیا ہے جو کہ اگلے چند برسوں میں دوگنا ہونے جا رہا ہے ۔مغرب کی مدد سے لگایا جانے والا سمندر کے کھارے پانی کو میٹھا بنانے والا ڈی سیلی نیشن پلانٹ بھی ناکارہ پڑا ہے۔

    گوادر شہر کو مستقل بنیادوں پر لمبے عرصے کے لئے اگر کہیں سے پینے کا صاف پانی فراہم کیا جاسکتا ہے تو وہ صرف مجوزہ ہنگول ڈیم ہی ہے جو کہ گوادر کے مشرق میں تقریباً 400 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔ یہ جگہ کراچی سے 250 کلومیٹر شمال مغرب میں واقع ہے اور کوسٹل ہائی وے پر اگھور نامی جگہ سے دریا کے پل سے تقریباً 16 کلومیٹر شمال میں ہنگول نیشنل پارک سے بھی آگے واقع ہے۔

    ہنگول ڈیم پہلے پہل ضلع آواران کی تحصیل جھل جاؤ میں چند ہزار ایکڑ رقبے کو سیراب کرنے کے لئے سوچا گیا منصوبہ جس میں بعد ازاں بجلی بنانے کی صلاحیت بھی نظر آئی۔ اس دوران ایک وقت ایسا بھی آیا جب یہاں سے سب سے بڑے شہر کراچی اور حتی کہ خلیجی ریاستوں کو پانی کی فراہمی کا بھی سوچا گیا لیکن یہ منصوبہ بوجوہ آگے نہ بڑھ سکا۔

    ہنگول ڈیم کے موجودہ مجوزہ ڈیزائن میں اس سے 65 ہزار ایکڑ سیراب کرنے کا پلان ہے۔ تاہم دس لاکھ ایکڑ فٹ سے زیادہ پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت رکھنے والے ڈیم کے پانی کا سب سے قیمتی استعمال زراعت کی بجائے مکران کے تمام ساحلی علاقے میں پینے کے صاف پانی کی فراہمی ہونا چاہئے۔

    مجوزہ ہنگول ڈیم سے ساحل مکران کے اورماڑہ، پسنی، گوادر اور جیونی بندرگاہ کو ایک عام چھوٹی سی نہر سے قدرتی طور پر بنا بغیر کسی پمپنگ سے پانی پہنچانا ممکن ہے۔ یہ کام زمین کے اوپر یا زیر سمندر پائپ لائن بچھا کر بھی کیا جاسکتا ہے جس کی فزیبیلٹی چیک کرنا ہوگی۔

    یہ ایک ایسا منصوبہ ہے کہ جس کو اگر مناسب طریقے سے پیش کیا جائے تو بیرون ملک پاکستانیوں کا کنسورشئئم یا کوئی بھی ملٹی نیشنل کمپنی PPP موڈ پر ایک دوسرے سے آگے بڑھ چڑھ کر کرنے کے لئے تیار ہوگی۔ حکومت وقت کا خرچہ بہت کم ہوگا اور فوائد سدا بہار ہوںگے۔

    ذیل کے نقشے میں ہنگول ڈیم سے ساحل مکران خصوصا گوادر تک صاف پانی پہنچانے کے آسان ترین روٹ لگا دئے گئے ہیں۔

    روٹ- 1 : عام سی چھوٹی نہر

    یہ روٹ پیلی لائن سے ظاہر کیا گیا ہے مجوزہ گریویٹی نہر کو دکھا رہا ہے۔ یہ نہرسادہ ترین طریقے سے ملکی وسائل، مقامی میٹیرئیل اور لیبر سے بنائی جا سکتی ہے۔ یہ زیادہ تر راستے میں کوسٹل ہائی وے کے ساتھ ساتھ چلے گی سوائے کنڈ ملیر سے آگے تھوڑے پہاڑی علاقے میں ایک چھوٹی ٹنل بنانی پڑے گی یا پھر اس پہاڑی کا بائی پاس کرنے کے لئے سمندرکے نیچے پائپ لائن کا سٹنٹ ڈالنا پڑے گا جو کہ سبز رنگ میں ظاہر کیا گیا ہے۔اس روٹ پر نہر کی بجائے زیر زمین پائپ بھی بچھایا جا سکتا ہے۔

    روٹ۔ 2: سمندر کی تہہ میں پائپ لائن

    یہ پائپ لائن کنڈ ملیر تک 20 کلومیٹر نہر والے روٹ پر چلے گی اور اس سے آگے سمندر کی تہہ میں پائپ لائن بچھائی جائے (جسے سبز اور سرخ کلر کی لائن سے دکھایا گیا ہے)۔ کراچی کو پانی کی فراہمی کے لئے ایک کمزور سی نیلی لائن بھی لگا دی ہے۔

    ان راستوں کی خوبی یہ ہے کہ یہ اپنے روٹ کے تمام چھوٹے بڑے شہروں کو پانی دیتے آگے بڑھیں گے۔ اورماڑہ کے پاس حال ہی میں مکمل ہونے والے بسول ڈیم کی جھیل کو بھی اس خوابی واٹر وے سے منسلک کیا جا سکتا ہے ۔ اس کے علاوہ ساحلی پہاڑیوں سے سمندر میں بہنے والے پہاڑی نالوں کے پانی کو بھی رام کرکے اس واٹر وے سے منسلک کرنے کی کوئی ترتیب بنائی جاسکتی ہے۔

    اس واٹر وے کی صلاحیت صرف 45 کیوسک (30MGD) تک ہوگئی جسے فیز 2 میں بڑھایا جا سکتا ہے۔ ہنگول ڈیم اس سے دس گنا زیادہ پانی بلا روک ٹوک فراہم کرسکے گا جب کہ گوادر کی موجودہ پانی کی ڈیمانڈ 10MGD بھی نہیں۔

    بعض لوگ اس واٹر وے کی 400 کلومیٹر لمبائی پر اعتراض کریں گے تو عرض ہے کہ کچھی کینال تونسہ بیراج سے 500 کلومیٹر دور ڈیرہ بگٹی اور کچھی کے میدانوں تک 6000 کیوسک پانی لانے کے لئے تعمیر ہوچکی ہے اور یہ سارا کام ہمارے مقامی انجنئیرز نے کیا ہے۔ اور اس کا روٹ کوسٹل واٹر وے سے کہیں زیادہ مشکل تھا جس میں تمام راستے میں دائیں طرف کوہ سلیمان سے آنے والے سیلابی نالوں کو کراس کرنا تھا۔

    تربت میں تعمیر شدہ میرانی ڈیم گوادر سے صرف 150 کلومیٹر شمال مشرق میں ہے۔ تاہم اس ڈیم سے گوادر کو پانی کی فراہمی کا روٹ بہت مشکل ہے جس میں بہت زیادہ لمبی ٹنل یا سرنگیں تعمیر کرنا پڑتی ہیں۔ دوسرے میرانی ڈیم کی پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت ہنگول ڈیم سے کہیں کم ہے جس کہ وجہ سے یہ ہنگول ڈیم سے زیادہ توجہ حاصل نہیں کر پاتا اور مہنگا منصوبہ لگتا ہے۔

    ہنگول ڈیم کی تعمیر پر ہنگول نیشنل پارک اور ہنگلاچ ماتا کے مندر کے حوالے سے تحفظ ماحول تنظمیوں اور مقامی آبادی کو کچھ اعتراض تھے جنہیں دور کرنے کے لئے ہنگول ڈیم کو اپنی اصل جگہ سے 16 کلومیٹر شمال میں لے جایا گیا ہے تاکہ تمام لوگ مطمئن ہوں۔ تاہم اس عمل میں ہنگول ڈیم کی پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت آدھی (دس لاکھ ایکڑ فٹ) رہ گئی ہے جو کہ پھر بھی ایک بہترین کیپیسٹی ہے۔

    امید ہے فیصلہ ساز بلوچستان کے ساحل مکران کی پینے کے صاف پانی کی ترجیحات کو سمجھتے ہوئے ان خطوط پر ضرور سوچیں گے اورگوادر کے شہریوں کو پینے کا صاف پانی ضرور ملے گا۔

  • نوجوان قانون نافذ کرنےوالےاداروں کاحصہ بنیں:آرمی چیف

    نوجوان قانون نافذ کرنےوالےاداروں کاحصہ بنیں:آرمی چیف

    راولپنڈی:نوجوان قانون نافذ کرنے والے اداروں کا حصہ بنیں:اطلاعات کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے کہ بلوچستان کا امن، خوشحالی اولین ترجیح ہے۔ نوجوان قانون نافذ کرنے والے اداروں کا حصہ بنیں۔

    پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی طرف سے جاری کردہ بیان کے مطابق سپہ سالار جنرل قمر جاوید باجوہ نے بلوچستان کے علاقے تربت کا دورہ کیا۔ تربت پہنچنے پر کور کمانڈر کوئٹہ لیفٹیننٹ جنرل سرفراز علی نے استقبال کیا۔

    آرمی چیف کو بلوچستان کی سکیورٹی صورتحال، بارڈر مینجمنٹ کے اقدامات کو یقینی بنانے کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی گئی اسی دوران سپہ سالار نے فوجیوں کے حوصلے، آپریشنل تیاریوں کو سراہا اور دہشت گردوں کے خلاف کامیاب آپریشنز پر اطمینان کا اظہار کیا۔

    بیان کے مطابق آرمی چیف نے تربت یونیورسٹی کا بھی دورہ کیا، ضلع کیچ سے تعلق رکھنے والے تمام طبقات کے نمائندوں کے ساتھ تفصیلی ملاقات کی، ملاقات کرنے والوں میں مقامی رہنما، قبائلی عمائدین، طلبہ، وکلا، خواتین سے ملاقات کی۔

     

    https://twitter.com/BaaghiTV/status/1498714332217102344

    اس موقع پر جنرل قمرجاوید باجوہ نے کہا کہ بلوچستان کے نوجوان بہت باصلاحیت ہیں، علاقے کی سلامتی، اپنی تعلیم، ہنرمندی کی ترقی کے لیے دستیاب مواقع سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔

    آرمی چیف نے اس بات کا اعادہ کیا کہ بلوچستان کا امن، خوشحالی اولین ترجیح ہے، بلوچستان میں سماجی و اقتصادی منصوبوں کے لیے پرامن ماحول فراہم کرنے کے لیے ہر ممکن کوشش کرینگے۔ صوبے کی عوام نے ترقی، استحکام کے لیے بڑی قربانیاں دی ہیں۔ جامع قومی کوششوں کے ذریعے بلوچستان کی حقیقی صلاحیت کو بروئے کار لایا جائے گا۔