Baaghi TV

Tag: ترقی

  • نوجوان مایوس نہ ہوں ملک کا مستقبل تابناک ہے،مصدق ملک

    نوجوان مایوس نہ ہوں ملک کا مستقبل تابناک ہے،مصدق ملک

    وزیر مملکت برائے پیٹرولیم ڈاکٹر مصدق ملک نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ آخری کچھ دن رہ گئے ہیں ہم الٹی گنتی گن رہے ہیں ،اس ملک میں ایسا کیا ہے کہ ناامیدی نظر آتی ہے ،

    مصدق ملک کا کہنا تھا کہ ہمیں کیوں ایسا نظر آتا ہے کہ ملک میں کچھ نہیں ہے، ظاہر کہ تماشوں کو تھوڑی دیر کے لئے معطل کرنا پڑے گا ،ہم سب سمجھتے ہیں کہ امریکہ بہت بڑی معاشی طاقت ہے ،امریکہ کی معاشی طاقت کے پیچھے ایپل، گوگل اور ایمازون ہیں ،تین کمپنیوں کی ویلیو چھ ٹریلین ڈالر ہے ، پاکستان کی صرف معدنیات مٹی کی قیمت چھ اشاریہ ایک ٹریلین ڈالر ہے ، پاکستان میں منرل کانفرنس ہونے جا رہی ہے یہ حالت ہے کہ ہم کھدائی بھی نہیں کر سکتے ،ہمیں اللہ نے کاپر اور گولڈ سے نوازا ہے نوجوان مایوس نہ ہوں ملک کا مستقبل تابناک ہے، معدنیات کی مائینگ سے سب سے زیادہ فائدہ اس ملک کی غریب عوام کو ہوگا،پاکستان بے شمار معدنیات سے مالا مال ہے ،

    مصدق ملک کا کہنا تھا کہ معدنیات کی مائینگ سے ہمارے تین مقاصد ہیں ، پہلا مقصد غریب آدمی کا روزگار ہے،دوسرا مقصد مٹی سے ترقی کا سفر ہے،تیسرا مقصد اس مٹی سے کاپر اور سونا نکالنا ہے، پاکستان میں جب بھی ترقی کا آغاز ہوتا ہے چند لوگ ہی امیر ہوتے ہیں ، ہم مٹی نہیں بیچیں گے ترقی بیچیں گے ، مکل سے منرل پر آگے بڑھنے کا کام کر رہے ہیں، سب سے پہلے غریب کو نوکریاں دینگے، ہم پاکستان کی معاشی ترقی کی طرف جائینگے ،اس مٹی سے دھات نکالیں گے لیتیھم ائرن گولڈ کاپر کی فیکٹریاں پاکستان میں لگیں گی ،گوادر میں انھی دھاتوں کا انڈسٹریل زون بنائیں گے ، اگر مٹی سے ایک ارب ڈالر ملتا ہے تو دھات سے دس ہزار ڈالر ملے گا،

    پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے سابق پرنسپل سیکرٹری اعظم خان کے وارنٹ گرفتاری جاری کردیے

    ہ اعظم خان وعدہ معاف گواہ بن گئے ہیں،

    جو بات ہم پہلے دن سے کہہ رہے تھے وہ آج اعظم خان نے کہہ دی ،

    ریاستِ پاکستان کے خلاف چیئرمین پی ٹی آئی کی سازش بے نقاب, اپنے ہی پرنسپل سیکرٹری نے سازشی بیانیہ زمیں بوس کردیا

    اعظم خان نےعمران خان پرقیامت برپا کردی ،سارے راز اگل دیئے،خان کا بچنا مشکل

    طیبہ گل ویڈیو اسکینڈل،میں خاتون سے نہیں ملا، اعظم خان مکر گئے

    وفاقی دارالحکومت میں ملزم عثمان مرزا کا نوجوان جوڑے پر بہیمانہ تشدد،لڑکی کے کپڑے بھی اتروا دیئے، ویڈیو وائرل

  • 25 برس قبل بھرتی: جنرل ہسپتال کی 29 نرسز کو گریڈ 17 مل گیا

    25 برس قبل بھرتی: جنرل ہسپتال کی 29 نرسز کو گریڈ 17 مل گیا

    25 برس قبل بھرتی: جنرل ہسپتال کی29 نرسز کو گریڈ17 مل گیا
    محکمہ صحت پنجاب نے ینگ نرسز ایسوسی ایشن لاہور جنرل ہسپتال کی صدر خالدہ تبسم سمیت 29نرسز کو گریڈ17میں ترقی دینے کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا،اب یہ ہیڈ نرسز کے عہدوں پر اپنے فرائض سر انجام دیں گی۔پرنسپل پی جی ایم آئی پروفیسر الفرید ظفر سے خالدہ تبسم سمیت تمام نرسز نے ملاقات کی جنہوں نے ترقی ملنے پر نرسز کیلئے مبارکباد دیتے ہوئے کامیابی اور نیک خواہشات کا اظہار کیا۔مبارکباد دینے والوں میں میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر خالد بن اسلم کے علاوہ ڈپٹی چیف نرسنگ سپرنٹنڈنٹ رمضان بی بی اور پرنسپل نرسنگ کالج مسز میمونہ ستار شامل ہیں۔یہ امر قابل ذکر ہے کہ یہ نرسز 1998سے چارج نرسز کے طور پر خدمات سر انجام دے رہیں تھیں جنہیں ایک مخصوص عرصہ ملازمت کے بعد گریڈ17میں ترقی دے دی گئی ہے۔

    پروفیسر الفرید ظفر نے اس حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے مزید کہا کہ سرکاری ملازمت میں ترقی ملنے سے نئے عزم کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملتا ہے، نرسنگ کا شعبہ چیلنجز اور مشکل کے ماحول میں کام کرنے کا نام ہے جس میں ہماری خواتین نے ہمیشہ ہرآول دستے کا کردار ادا کرتے ہوئے ڈاکٹرز کے شانہ بشانہ کامیابیاں حاصل کی ہیں اور بالخصوص کورونا،ڈینگی اور دیگر وبائی امراض کے دوران شاندار خدمات سر انجام دی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ29نرسز کی گریڈ17میں ترقی خوش آئند امر ہے جس کے بعد وہ ادارے کی بہتری اور مریضوں کی زیادہ خدمت کر سکیں گی۔ پروفیسر الفرید ظفر نے نرسز کو تلقین کی کہ وہ اپنی سروس کے ساتھ ساتھ مزید تعلیم کا سلسلہ بھی جاری رکھیں تاکہ انہیں عملی زندگی میں آگے بڑھنے کے مواقع میسر آ سکیں۔ ایم ایس ڈاکٹر خالد بن اسلم نے بتایا کہ گریڈ17میں ترقی ملنے والی نرسز کو جنرل ہسپتال کے مختلف شعبوں میں بطور ہیڈ نرس تعینات کیا جائے گا جہاں یہ اپنی نئی ذمہ داریاں سر انجام دیں گی اور علاج معالجے کا معیار مزید بلند ہوگا۔

    عمران خان پرلاٹھیوں کی برسات، حالت پتلی، لیک ویڈیو، خواجہ سرا کے ساتھ

    مونس الہیٰ نے اسپین میں 40 کروڑ کی جائیدادیں، اثاثہ جات اور بارسلونا میں ٹیکسی سروس شروع کی۔

    عمران خان کی محبت بھری شاموں کا احوال، سب پھڑے جان گے، گالی بریگیڈ پریشان

  • چین کی ترقی کا انحصارچینی عوام کی محنت کےجذبےسے وابستہ ہے:پاکستانی طالبعلم نےحقائق بیان کردیئے

    چین کی ترقی کا انحصارچینی عوام کی محنت کےجذبےسے وابستہ ہے:پاکستانی طالبعلم نےحقائق بیان کردیئے

    بیجنگ:چین کی ترقی کا انحصار چینی عوام کی محنت کے جذبےسے وابستہ ہے:پاکستانی طالبعلم نےحقائق بیان کردیئے ،اطلاعات کے مطابق پاکستان سے تعلق رکھنے والے نوجوان محمد فہد بقا چائنیز اکیڈمی آف سائنسز کے انسٹی ٹیوٹ آف ایرو اسپیس انفارمیشن انوویشن میں پی ایچ ڈی کے طالب علم ہیں۔چین میں قیام کے سات برسوں میں انہوں نے اپنی آنکھوں سے بڑی تبدیلیاں دیکھی ہیں اور ان کے خیال میں چین کی تیزرفتار ترقی کا انحصار چینی عوام کی محنت اور خدمت کے جذبات سے وابستہ ہے۔

    جمعہ کے روز چینی میڈ یا کے مطابق گزشتہ سال نومبر میں چین نے پائیدار ترقیاتی ایجنسی کے لیے پہلا سائنس سیٹلائٹ لانچ کیا جس سے ڈیٹا کا پوری دنیا میں اشتراک کیا جائے گا۔محمد بقا کے انسٹی ٹیوٹ نے اس سیٹلائٹ کی تیاری میں حصہ لیا تھا اور انہیں اس بات پر فخر ہے۔انہوں نے کہا کہ چین اس شعبے میں ٹیکنالوجی سے ترقی پذیر ممالک کی مدد کرتا آرہا ہے۔

    گزشتہ سال جون میں انہوں نے مختلف ممالک کے پچاس سے زائد نوجوانوں کے ساتھ چین کے شمال مغربی علاقے کے دیہات کا دورہ کیا اور چینی عوام کی محنت سے متاثر ہو کر اپنے ساتھیوں کے ساتھ چینی صدر شی جن پھنگ کے نام ایک خط بھیجا۔بڑی خوشی کی بات ہے کہ انہیں بہت جلد صدر شی کا جوابی خط ملا۔محمد فہد بقا نے کہا کہ جناب شی جن پھنگ نے اپنے جوابی خط میں لکھا کہ “خوشحالی کے لیے محنت کرنی ہوگی۔” اس جملے سے وہ بہت متاثر ہیں۔ان کے خیال میں چین کی ترقی میں عوام کی انتھک کوششوں اور خدمت کے بے لوث جذبات کا بہت کلیدی کردار ہے۔

    آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے برطانوی ہائی کمشنر کرسچن ٹرنر کی ملاقات

    سیلابی پانی کے بعد لوگ مشکلات کا شکار ہیں کھلے آسمان تلے مکین رہ رہے ہیں

    آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کانجو اور سوات کا دورہ کیا

    وزیراعظم شہباز شریف نے چارسدہ میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا

    پاک فضائیہ کی خیبر پختونخوا، سندھ، بلوچستان اور جنوبی پنجاب کے سیلاب سے شدید متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیاں۔

  • پاک فضائیہ کے 7 ائیر آفیسرز کی ائیر وائس مارشل کے عہدے پر ترقی

    پاک فضائیہ کے 7 ائیر آفیسرز کی ائیر وائس مارشل کے عہدے پر ترقی

    پاک فضائیہ کے 07 ائیر آفیسرز کی ائیر وائس مارشل کے عہدے پر ترقی۔

    15 اگست 2022 : حکومت پاکستان نے پاک فضائیہ کے 07 ائیر آفیسرز کو ائیر وائس مارشل کے عہدے پر ترقی دے دی۔ ترقی پانے والے ایئر آفیسرز میں ایئر وائس مارشل فاروق ضمیر آفریدی، ایئر وائس مارشل اورنگزیب احمد، ایئر وائس مارشل تیمور اقبال، ایئر وائس مارشل حاکم رضا، ایئر وائس مارشل طارق محمود غازی، ایئر وائس مارشل محسن محمود اور ایئر وائس مارشل طاہر محمود شامل ہیں۔

    ایئر وائس مارشل فاروق ضمیر آفریدی نے دسمبر،1992 میں پاک فضائیہ کی جی ڈی پی برانچ میں کمیشن حاصل کیا۔ اپنے کیرئیر کے دوران انہوں نے فائٹر اور آپریشنل کنورژن یونٹس، فلائنگ ونگ اور ایک آپریشنل ایئر بیس کی کمانڈ کی۔ آپ ائیر ہیڈ کوارٹرز اسلام آباد میں اسسٹنٹ چیف آف دی ائیر اسٹاف (آپریشنل ریکوائرمنٹس اینڈ ڈویلپمنٹ) بھی تعینات رہے۔ آپ نے نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی اسلام آباد سے نیشنل سیکیورٹی اینڈ وار اسٹڈیز میں ماسٹرز کیا اور پاک فضائیہ میں شاندار خدمات پر ستارہ امتیاز (ملٹری) سے نوازے جا چکے ہیں۔

    ائیر وائس مارشل اورنگزیب احمد نے دسمبر 1992 میں پاک فضائیہ کی جی ڈی پی برانچ میں کمیشن حاصل کیا۔ اپنے کیرئیر کے دوران آپ نے فائٹر اسکواڈرن اور ایک آپریشنل ائیر بیس کی کمانڈ کی۔ آپ ائیر ہیڈ کوارٹرز اسلام آباد میں بطور اسسٹنٹ چیف آف دی ائیر اسٹاف (آپریشنل ریکوائرمنٹس اینڈ ڈویلپمنٹ) بھی تعینات رہے۔ آپ نے چین سے ملٹری آرٹس اور نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی اسلام آباد سے نیشنل سیکیورٹی اینڈ وار اسٹڈیز میں ماسٹرز کیا۔ آپ ڈیپوٹیشن پر سعودی عرب میں بھی اپنے فرائض سرانجام دے چکے ہیں۔ انھیں پاک فضائیہ میں شاندار خدمات پر ستارہ امتیاز (ملٹری) سے نوازا گیا۔

    ائیر وائس مارشل تیمور اقبال نے دسمبر 1992 میں پاک فضائیہ کی جی ڈی پی برانچ میں کمیشن حاصل کیا۔ اپنے کیریئر کے دوران انہوں نے فائٹر اسکواڈرن، فلائنگ ونگ اور ایک آپریشنل ائیر بیس کی کمانڈ کی۔ آپ نے نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی اسلام آباد سے نیشنل سیکیورٹی اینڈ وار اسٹڈیز میں ماسٹرز کیا۔ آپ ڈیپوٹیشن پر قطر میں بھی اپنے فرائض سرانجام دے چکے ہیں۔ انھیں پاک فضائیہ میں شاندار خدمات پر ستارہ امتیاز (ملٹری) سے نوازا گیا۔

    ائیر وائس مارشل حاکم رضا نے دسمبر 1992 میں پاک فضائیہ کی جی ڈی پی برانچ میں کمیشن حاصل کیا۔ اپنے کیریئر کے دوران آپ نے فائٹر اسکواڈرن اور ایک آپریشنل ائیر بیس کی کمانڈ کی۔ آپ نے ائیر ہیڈ کوارٹرز اسلام آباد میں ڈپٹی چیف پراجیکٹ ڈائریکٹر جے ایف۔17 اور سربراہ پاک فضائیہ کے  سیکرٹری کی حیثیت سے  بھی اپنی خدمات سر انجام دیں۔ آپ نے نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی اسلام آباد سے نیشنل سیکیورٹی اینڈ وار اسٹڈیزمیں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی۔ آپ نے نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی اسلام آباد میں بطور ڈائریکٹنگ اسٹاف بھی اپنی خدمات سرانجام دیں۔ انھیں پاک فضائیہ میں شاندار خدمات پر ستارہ امتیاز (ملٹری) سے نوازا گیا۔

    ایئر وائس مارشل طارق محمود غازی نے دسمبر 1992 میں پاک فضائیہ کی جی ڈی پی برانچ میں کمیشن حاصل کیا۔ اپنے کیریئر کے دوران انہوں نے فائٹر اسکواڈرن، فلائنگ ونگ اور ایک آپریشنل ایئر بیس کی کمانڈ کی۔ آپ نےائیر ہیڈ کوارٹرز اسلام آباد میں بطور اسسٹنٹ چیف آف دی ائیر اسٹاف (آپریشنل ریکوائرمنٹس اینڈ ڈیولپمنٹ) اور ڈائریکٹر (جنرل ڈیوٹیز گروپ) بھی اپنی خدمات سرانجام دی ہیں۔ انہوں نے امریکہ سے اسٹریٹجک سیکیورٹی اسٹڈیز، برطانیہ سے ڈیفنس اسٹڈیز اور پی اے ایف ائیر وار کالج انسٹیٹیوٹ سے اسٹریٹجک اسٹڈیز میں ماسٹرز کی ڈگریاں حاصل کیں۔ انھیں پاک فضائیہ میں شاندار خدمات پر ستارہ امتیاز (ملٹری) سے نوازا گیا۔

    ائیر وائس مارشل محسن محمود نے جون 1992 میں پاک فضائیہ کی انجینئرنگ برانچ میں کمیشن حاصل کیا۔ اپنے کیرئیر کے دوران آپ نے انجینئرنگ ونگ کی کمانڈ کی۔ آپ ائیر ہیڈ کوارٹرز اسلام آباد میں بطور اسسٹنٹ چیف آف دی ائیر اسٹاف (ریڈار انجینئرنگ) بھی اپنی خدمات انجام دے چکے ہیں۔ آپ ایئر وار کالج انسٹی ٹیوٹ، فیصل سے فارغ التحصیل ہیں اور بزنس ایڈمنسٹریشن میں ماسٹرز کی ڈگری بھی حاصل کر چکے ہیں۔ آپ نے ایئر ہیڈ کوارٹرز اسلام آباد میں بطور ڈائریکٹر جنرل ایویونکس اینڈ ویپنز (انجینئرنگ) بھی اپنی خدمات سرانجام دیں۔ انھیں پاک فضائیہ میں شاندار خدمات پر ستارہ امتیاز (ملٹری) سے نوازا گیا۔

    ائیر وائس مارشل طاہر محمود نے اپریل 1992 میں پاک فضائیہ کی ائیر ڈیفنس برانچ میں کمیشن حاصل کیا۔ اپنے کیرئیر کے دوران انہوں نے چار ائیر ڈیفنس یونٹس کی کمانڈ کی۔ آپ ائیر ہیڈ کوارٹرز اسلام آباد میں بطوراسسٹنٹ چیف آف دی ائیر اسٹاف (ٹریننگ اینڈ ایویلیوایشن) بھی اپنی خدمات انجام دے چکے ہیں۔ آپ نے نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی اسلام آباد سے نیشنل سیکیورٹی اینڈ وار اسٹڈیز میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی۔ آپ پاک فضائیہ کے نارتھ سیکٹر میں بطور سیکٹر کمانڈر بھی تعینات رہے۔ انھیں پاک فضائیہ میں شاندار خدمات پر ستارہ امتیاز (ملٹری) سے نوازا گیا۔

    ذمہ داریاں جانتے ہیں، وطن عزیز کے دفاع کیلیے ہر لمحہ تیار ہیں ،سربراہ پاک فضائیہ

    سربراہ پاک فضائیہ نے 54 ویں کمبیٹ کمانڈرز کورس کی گریجویشن تقریب میں دشمن کو دیا اہم پیغام

    بھارتی جارحیت پر پاکستان کا ذمہ دارانہ جواب،ہو گی تقریب، وزیراعظم دیں گے مودی کو اہم پیغام

    پاک فضائیہ خطے میں پاکستان کی سالمیت اور وقار کے دفاع کیلئے مکمل تیار ہے: سربراہ پاک فضائیہ

    عسکری قیادت کا پاک فضائیہ کے آپریشنل ایئر بیس پر جاری کثیر ملکی عسکری مشق کا جائزہ

    @MumtaazAwan

  • معیشت کو ترقی کی راہ پر گامزن کر دیا جائے گا،مفتاح اسماعیل

    معیشت کو ترقی کی راہ پر گامزن کر دیا جائے گا،مفتاح اسماعیل

    وفاقی وزیرخزانہ ومحصولات مفتاح اسماعیل نے کہاہے کہ معیشت کو ترقی کی راہ پر گامزن کر دیا جائے گا اور اور آئندہ چند ہفتوں میں قیمتوں میں اضافے کے معاملے پر قابو پالیا جائے گا، اگلے ہفتے روپیہ پر دبائو کم ہو جائے گا ۔انہوں نے یہ بات ریڈیوپاکستان سے خصوصی گفتگو میں ہی ہے۔ وزیرخزانہ نے کہاکہ بہتر فیصلہ سازی کے نتیجے میں رواں مالی سال کے لیے مقرر کردہ معاشی اہداف حاصل کر لیے جائیں گے۔

    شہبازشریف سے شنگھائی تعاون تنظیم کے سیکرٹری جنرل کی ملاقات،مکمل تعاون کی یقین دہانی

    وزیر خزانہ نے کہاکہ مغرب میں بڑھتی ہوئی کساد بازاری کے پیش نظر برآمدات میں اضافہ ایک بڑا چیلنج ہو سکتا ہے اوراسی تناظرمیں ہمیں اپنی برآمدات کو بڑھانے کے لیے مزید کوششیں کرنا ہوں گی ، معیشت کے اہم برآمدی شعبے کو سہارا دینے کے لیے صنعتی فیڈرز پر کوئی لوڈشیڈنگ نہیں کی جا رہی ہے۔

    وزیر خزانہ نے بعض حلقوں کی جانب سے پیدا کیے گئے اس تاثر کو مسترد کیا کہ حالیہ مہینوں میں ملک کی ترسیلات، برآمدات اور ٹیکس وصولی میں کمی ہوئی ہے، انہوں نے نشاندہی کی کہ مئی اورجون میں میں ریکارڈ ترسیلات ہوئیں جب کہ ایف بی آر نے بھی اہداف حاصل کر لیے ہیں۔ حکومت نے رواں مالی سال کے دوران محصولات میں 35 فیصد اضافے کا ہدف مقرر کیا ہے،

     

    گورنر اسٹیٹ بینک کی تعیناتی کیلئے نام وزیراعظم سیکرٹریٹ کو ارسال

     

    ایف بی آر 7500 ارب روپے جمع کرے گا جبکہ 800ارب روپے لیوی کے طور پر جمع ہوں گے۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ حکومت معیشت کو درست سمت میں لے جانے کے لیے معیشت کے پیداواری شعبوں بشمول زراعت، صنعتوں اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کومعاونت فراہم کررہی ہے ، بیجوں پر ٹیکس ختم کر دیا گیا ہے جبکہ انفارمیشن ٹیکنالوجی کی برآمدات پر ٹیکس ایک فیصد سے کم کر کے 0.25 فیصد کر دیا گیا ہے۔

    روپے کی قدر میں کمی بارے سوال پر وزیر خزانہ نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ اگلے ہفتے روپیہ پر دبائو کم ہو جائے گا۔ اس کی وجہ بتاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومت درآمدات کو کم کرنے میں کامیاب ہوئی ہے،پاکستان اس وقت اس پوزیشن میں کھڑا ہے جہاں اس کی نئی درآمدات برآمدات اور ترسیلات زر سے کم ہیں۔

    انہوں نے یاد دلایا کہ گزشتہ مالی سال میں اسی ارب ڈالر کی درآمدات اور31ارب ڈالر کی برآمدات ہوئیں۔ ایک سوال کے جواب میں مفتاح اسماعیل نے کہا کہ 24 اگست کو آئی ایم ایف کے بورڈ اجلاس کے بعد پاکستان کو آئی ایم ایف کی اگلی قسط اگلے ماہ کے آخر تک ملنے کی امید ہے۔ دوست ممالک سے چار سے پانچ ارب ڈالر کی امداد بھی متوقع ہے،ایک دوست ملک ملک میں فوری سرمایہ کاری کے لیے تیار ہے،وفاقی کابینہ نے سرمایہ کاری کی راہ ہموار کرنے کے لیے قانون کی منظوری دے دی ہے۔

    تیل اور گیس کی موخر ادائیگی سے متعلق معاملات بھی دوست ممالک کے ساتھ ایک ہفتے میں طے کیے جانے کا امکان ہے۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ بجلی کے شعبہ میں بہتری لانے کے لیے جامع اقدامات کئے جارہے ہیں ۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ پچھلی حکومت نے نہ تو بجلی کے ترسیلی نظام کو بہتر بنانے کے لیے کوئی سرمایہ کاری کی اور نہ ہی بجلی پیدا کرنے والے پلانٹس کو بروقت مکمل کیا،پی ٹی آئی کی حکومت نے سستے ایندھن کے طویل المعیادمعاہدے نہیں کیے جس کے نتیجے میں ہمیں ان پاور پلانٹس کو آپریشنل کرنا پڑا جو مہنگے فرنس آئل پر چلتے ہیں۔

    مہنگائی کی وجہ سے عام آدمی کو درپیش مشکلات کے بارے میں پوچھے سوال پر وزیر خزانہ نے کہا کہ سستا پٹرول اور سستا ڈیزل اسکیم کے تحت مستحق خاندانوں کو دو ہزار روپے کی امداد دی جارہی ہے۔ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت مستحق خاندانوں کو نقد امداد بھی فراہم کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یوٹیلیٹی سٹورز کے ذریعے صارفین کو اشیائے ضروریہ رعایتی نرخوں پر فراہم کی جا رہی ہیں۔

  • ملکی ترقی کیلئے ہنرمند افرادی وسائل میں جلد اضافہ ضروری ہے، صدرعارف علوی

    ملکی ترقی کیلئے ہنرمند افرادی وسائل میں جلد اضافہ ضروری ہے، صدرعارف علوی

    صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے جامعات کو آن لائن ذریعہ تعلیم کی جانب منتقل کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ جامعات یونیورسٹی ایڈوائزری بورڈز تشکیل دے کر ان میں انڈسٹری، زراعت اور خدمات کے شعبوں سے ماہرین کو بطور ممبران شامل کریں، تیز رفتار ملکی ترقی کیلئے قلیل مدتی آن لائن اور ہائبرڈ کورسز کی مدد سے ہنرمند افرادی وسائل میں جلد اضافہ ضروری ہے۔

    انہوں نے ان خیالات کا اظہار بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد کے حوالے سے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس میں ریکٹر بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد پروفیسر ڈاکٹر معصوم یاسین زئی اور یونیورسٹی کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔

    صدر مملکت نے زور دے کر کہا کہ وژن اور تزویراتی رہنمائی کی فراہمی کیلئے جامعات کی سینیٹ کو فعال بنایا جائے، جامعات یونیورسٹی ایڈوائزری بورڈز تشکیل دے کر ان میں انڈسٹری، زراعت اور خدمات کے شعبوں سے ماہرین کو بطور ممبران شامل کریں۔ انہوں نے کہا کہ ایڈوائزری بورڈز کے قیام سے جامعات کے نصاب میں مسلسل بہتری لانے میں مدد ملے گی، انڈسٹری اور جامعات میں روابط سے نجی شعبے کو مارکیٹ ضروریات سے ہم آہنگ بنانے کیلئے تحقیق و ترقی کی سرگرمیوں میں مدد ملے گی اور ہماری مصنوعات اور خدمات کے معیار اور قیمتوں کے تناظر میں علاقائی اور عالمی منڈیوں میں مسابقت میں مدد ملے گی۔

    انہوں نے کہا کہ سرکاری شعبہ کی یونیورسٹیوں کو اپنا رویہ تبدیل کرنا چاہیے اور اپنی مہارتوں اور علم کو مؤثر بنانا چاہیے، پبلک سیکٹر جامعات کو نجی شعبے اور صنعت کے ساتھ مل کر مارکیٹ کی ضروریات پر مبنی تحقیق اور ترقی کو فروغ دینا چاہیے۔ صدر مملکت نے کہا کہ جامعات کو چار سالہ ڈگری کورسز اور پی ایچ ڈی پروگراموں کے علاوہ کم مدتی ہنرمند تربیتی ڈگریاں اور ڈپلومہ پروگرام شروع کرنے چاہیئں، جامعات چیمبرز آف کامرس کے تعاون سے تیار کردہ مختصر مدتی ڈپلومہ پروگرام بھی شروع کریں۔

    صدر مملکت نے کہا کہ صنعتکار طلب اور رسد کے فرق سے تیزی سے نمٹنے کیلئے ہنرمند اور تعلیم یافتہ افرادی قوت کی فراہمی میں اضافہ کریں۔ انہوں نے کہا کہ عالمی سطح پر تعلیمی ادارے تیزی سے سیکھنے اور طالب علموں کی تعداد میں اضافہ کیلئے فزیکل ایجوکیشن سے ہائبرڈ اور آن لائن ایجوکیشن کی طرف منتقل ہو رہے ہیں، پاکستانی جامعات کو ترقی یافتہ ممالک کے بہترین آن لائن تعلیمی طریقوں کو اپنانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ہائر ایجوکیشن کمیشن اپنی آن لائن اور فاصلاتی تعلیمی پالیسی پر مسلسل نظرثانی کرے، ایچ ای سی جامعات کو آن لائن تعلیم کی طرف راغب کرنے کیلئے ٹھوس اقدامات اٹھائے۔ انہوں نے کہا کہ ایچ ای سی اپنے فیکلٹی ممبران اور طالب علموں کے پیش نظر تعلیمی اداروں میں اپنے 24 ہزار کورسز کو بھرپور انداز میں پیش کرے۔

    صدر مملکت نے کہا کہ علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی اور ورچوئل یونیورسٹی اپنے نصاب اور طریقہ کار میں مزید بہتری لائیں اور ایسے ممالک کو اپنی اکیڈمک اور تعلیمی مصنوعات کی پیشکش کریں جن ممالک بالخصوص اسلامی ممالک میں آن لائن اور ورچوئل تعلیمی نظام غیرفعال یا موجود نہیں ہے۔ صدر مملکت نے کہا کہ طلبا اور فیکلٹی ممبران میں تنازعات، بے چینی اور تقسیم کی بنیادی وجوہات جاننے کیلئے جامعات اپنے نصاب اور تعلیمی نظام کا جامع جائزہ لیں، جامعات یقینی بنائیں کہ فیکلٹی اور طلباء پوری توجہ علم حاصل کرنے پر مرکوز رکھیں جو کہ یونیورسٹیوں کا کلیدی مقصد ہے۔ صدر مملکت نے معاشرے اور مسلم امہ کے مفاد میں تعلیم، تحقیق، ٹیکنالوجی اور جدت کے فروغ کیلئے بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد کے کردار کو سراہا۔

    قبل ازیں ریکٹر بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد پروفیسر ڈاکٹر معصوم یاسین زئی نے مسلسل سرپرستی اور رہنمائی پر صدر مملکت کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے اجلاس میں صدر مملکت کی جانب سے تمام شعبوں میں بہتری کیلئے دی گئی ہدایات کے تناظر میں یونیورسٹی کی جانب سے عملدرآمد کیلئے کئے گئے اقدامات سے متعلق آگاہ کیا۔

  • کپتان کا انمول ہیرا بھتہ خورنکلا،شہزاد اکبرنے کرپشن کی تاریخ رقم کردی

    کپتان کا انمول ہیرا بھتہ خورنکلا،شہزاد اکبرنے کرپشن کی تاریخ رقم کردی

    لاہور:کپتان کا انمول ہیرا بھتہ خورنکلا،شہزاد اکبرنے کرپشن کی تاریخ رقم کردیا،اطلاعات کےمطابق سابق حکومت کے کچھ کارناموں کے حوالے سے اہم انکشافات آنے شروع ہوگئے ہیں اور اس سلسلے میں سنیئر صحافی مبشرلقمان نے کچھ ایسے حقائق پیش کئے ہیں کہ جن کوابھی تک جھٹلایا نہیں جاسکتا

    سنیئرصحافی مبشرلقمان کہتے ہیں کہ سابق وزیراعظم کے مشیرخاص معاون خصوصی شہزاد اکبر نے مختلف حیلوں اوربہانوں سے اربوں روپے کمائے ہیں اوراس اندازسے کمائے ہیں کہ کسی کو احساس تک نہیں ہونے دیا گیا

    سینیرصحافی کا کہنا تھا کہ وہ ببانگ دہل سابق حکمرانوں کی کرپشن پرچیلنج کررہےہیں لیکن کوئی جواب نہیں آیا،ان کاکہنا تھا کہ بشریٰ بی بی ،خاورمانیکا،مونس الٰہی سمیت کئی اہم شخصیات کی کرپشن کے خلاف پروگرام کیئے لیکن کوئی جواب نہیں آیا

    مبشرلقمان کہتے ہیں کہ میں آج اس شخص کا ذکرکررہا ہوں جس نے کرپشن ختم کرنےکی آڑ میں کرپشن کی ، ان کا کہنا تھا کہ یہ شخص سابق وزیراعظم کے قریبی ساتھی مرزا شہزاد اکبر ہیں جنہوں نے اربوں روپے کمائے، ان کا کہنا تھا کہ احتساب کے نام پرہردور میں ایک بیانیہ دیا جاتا رہا لیکن حققیت میں اس بیانیئے کی آڑ میں لوٹا گیا، ان کا کہنا تھا کہ مشرف دور میں بھی احتساب کا نعرہ لگایا گیا

     

     

    مبشرلقمان کہتے ہیں کہ مشرف دور میں ایک احتساب افسر کی حیثیت سےکام کرنے والے شخص شزاد اکبرکوکوئی جانتا تک نہیں تھا ،ان کا کہنا تھاکہ مشرف دور میں کرپشن کیسز میں ناکامی کے بعد عمران خان نے اس شخص کومعاون خصوصی بناکراپنا منجن بیچنے کا پروگرام بنایا ، ان کا کہنا تھا کہ شہزاد اکبر کولگانے کا مقصد ن لیگ کی قیادت کی کرپشن کو بے نقاب کیا جائے ،جس کے لیے شہزاد اکبر نے بڑی قومی رقم ضائع کردی

    مبشرلقمان کہتےہیں کہ عمران خان نے جس شخص کو کوئی عہدہ دیا اس نے لوٹ مار کی ، ان کا کہنا تھا کہ ایف آئی اے کو بھی شہزاد اکبرکے ماتحت کردیا گیا ، جس کے ذریعے مخالفین پرکرپشن کے کیسز بنائے گئے، ان کا کہنا تھا کہ شہزاد اکبرنے تیل مافیا اورایسے ہی کچھ دیگرشعبہ جات سے اربوں روپے لوٹے ، شہزاد اکبر نے سرکاری اثرورسوخ استعمال کرکے اربوں روپے کمائے

    ان کا کہنا تھا کہ ایسٹ ریکوری یونٹ بنایا گیاجس کے ذریعے بڑی کرپشن کی گئی ، کچھ فرنٹ مین بنائے گئے ، ایسے ہی شہزاد اکبر نے بڑے ٹیکنیکل طریقے سے مال بنایا ، ان کا کہنا تھا کہ شہزاد اکبرنے بہت زیادہ نقصان پہنچایا

  • گلوبل ڈویلپمنٹ انیشیٹو عالمی تعاون اور ترقی کا نیا دروازہ کھولےگا:چین

    گلوبل ڈویلپمنٹ انیشیٹو عالمی تعاون اور ترقی کا نیا دروازہ کھولےگا:چین

    بیجنگ:“عالمی ترقی: مشترکہ مشن اور شراکت ” تھنک ٹینک اور میڈیا کا اعلیٰ سطحی فورم بیجنگ میں شروع ہو گیا ۔ افتتاحی تقریب میں صدر شی جن پنگ نے فورم کے نام مبارکباد کا خط بھیجا جس میں عالمی ترقی کو فروغ دینے کی صورتحال اور درپیش چیلنجز کی وضاحت کی گئی ہے اور گلوبل ڈویلپمنٹ انیشیٹو کو عملی جامہ پہنانے کے تصورات اور تجاویز کا واضح طور پر اعلان کیا گیا ہے ۔ بلاشبہ، ہنگامہ خیز اور بدلتی ہوئی دنیا اور اقتصادی ترقی کی سست روی کے پیشِ نظر، صدر شی کی طرف سےپیش کردہ جی ڈی آئی یقیناً بنی نوع انسان کی مشترکہ ترقی کے حصول کے لیے جستجو کی عکاسی کرتا ہے۔چین اقوام متحدہ کے پائیدار ترقی کے اہداف کی تکمیل کے لیے اپنی دانشمندی اور چینی حل کے ذریعے عالمی تعاون اور مشترکہ ترقی کا ایک نیا دروازہ کھول رہا ہے ۔

    بد ھ کے روز چینی میڈ یا کےمطابق ترقی ہر ملک کا اندرونی تقاضا ہے اور عالمی ترقی کے لیے ایک ناگزیر ضرورت ہے، اس لیے عالمی ترقی دنیا کے تمام ممالک کا مشترکہ مشن ہے۔ گزشتہ سال 21 ستمبر کو صدر شی جن پھنگ نے اقوام متحدہ کی 76ویں جنرل اسمبلی میں جی ڈی آئی پیش کیا، اس کے بعد انہوں نے متعدد مواقع پر عالمی مشترکہ ترقی کے لیے چین کے تصور ات اور تجاویز کو واضح کیا، اور ترقی کو بین الاقوامی ترجیحی ایجنڈے میں شامل کرنے پر زور دیا۔ ا س سے ایک بڑے ملک کے احساس ذمہ داری کو ظاہر کیا گیا ہے ۔

    اہداف مقرر کئے گئے ہیں اور تقاضوں کو بھی واضح کیا گیا ہے،تو اب سب سے اہم چیز اسے عملی جامہ پہنانا ہے، جیسا کہ موجودہ “عالمی ترقی: مشترکہ مشن اور شراکت ” تھنک ٹینک اور میڈیا کے اعلیٰ سطحی فورم میں زور دیا گیا ہے۔ چین نے ہمیشہ مشترکہ ترقی، تعاون اور جیت جیت پر مبنی نئے بین الاقوامی تعلقات کے قیام پر زور دیا ہے ۔

    چین عالمی مشترکہ ترقی پر مبنی انیشیٹو پیش کرنے والا ہے اور ساتھ ہی عمل کرنے والا بھی ہے۔ چین نے دیگر ممالک کے ساتھ مل کر نوول کورونا وائرس کی وبا کی روک تھام اور کنٹرول کے لیے بھر پور کوششیں کیں اور دوسرے ممالک کے لیے ویکسین اور وبا سے بچاؤ کے سازو سامان کی فراہمی جیسی ہر ممکنہ مدد کی ہے ۔چین نے موسمیاتی تبدیلی سے متعلق بین الاقوامی کانفرنسوں میں سرگرمی سے شرکت کی ہے ۔چین ماحولیاتی ترجیحات ، سبز اور کم کاربن کی حامل ترقی کے راستے پر گامزن ہے۔

    چین نے اقوام متحدہ کی فوڈ اینڈ ایگریکلچر آرگنائزیشن، ورلڈ فوڈ پروگرام اور دیگر بین الاقوامی اداروں کے اقدامات اور سرگرمیوں میں گرم جوشی سے حصہ لیا ہے اور عالمی غذائی تحفظ کو یقینی بنانے میں مثبت کردار ادا کیا ہے۔ چین نے نہ صرف اپنے ملک میں غربت کے خاتمے کے لیے عالمی سطح پر پزیرائی حاصل کرنے والی کامیابیاں سمیٹی ہیں بلکہ اقوام متحدہ کے “غربت مٹاؤ اتحاد” میں بھی بانی رکن کی حیثیت سے شرکت کی ہے، جس سے عالمی سطح پر انسداد غربت کو مزید آگے بڑھانے میں اپنا کردار ادا کیا ہے۔ حال ہی میں میزبان ملک کی حیثیت سے چین میں منعقدہ برکس سربراہی اجلاس کا بنیادی نچوڑ بھی عالمی ترقی ہے۔چین ابھرتی ہوئی معیشتوں اور ترقی پذیر ممالک کے ساتھ مل کر نئے عالمی ترقیاتی شراکت داری کے تعلقات کے قیام اور نئے عہد میں پائیدار ترقی کے 2030 ایجنڈے کی تکمیل کے لیے مل کر کام کرنے پر آمادہ ہے ۔

    جی ڈی آئی کا مقصد دنیا کی مشترکہ ترقی اور خوشحالی کا حصول ہے ، اور یہ دنیا کے تمام ممالک کے لوگوں کی خواہشات و توقعات کے عین مطابق ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب کچھ ممالک اپنے ذاتی مفادات کے لیے تسلط پسندی اور طاقت کی سیاسی سوچ سے چمٹے ہوئے ہیں، اور دنیا کو ایک نئی سرد جنگ کے خطرے کا سامنا ہے۔

    اس تناظر میں جی ڈی آئی کی اہمیت اور بھی زیادہ نمایاں ہو گئی ہے ۔ لیکن یہ بات بھی قابل غور ہے کہ اس انیشیٹو کے نفاذ کے دوران مختلف چیلنجز کا سامنا ہو گا ۔ یہ ایک ہموار راستہ نہیں ہے اور اس کے لیے لمبا سفر کرنا پڑے گا ۔ لیکن ہمیں یقین ہے کہ جب تک بین الاقوامی برادری مشکلات کا سامنا کرتے ہوئے جی ڈی آئی کے نفاذ کو مستقل طور پر آگے بڑھانے، اور مشترکہ طور پر ایک عالمی ترقیاتی برادری کی تعمیر کے لیے ٹھوس اور بھر پور کوشش کرنے کا پختہ ارادہ رکھتی ہے ، تو کثیرالجہتی اور عالمی تعاون کو مزید قوت محرکہ ملے گی اور ایک بہتر اور روشن مستقبل کا آغاز ہو گا ۔

  • پائیدار ترقی کے لئے ڈیجیٹل طریقوں کو اپنایا جائے،وزیراعظم

    پائیدار ترقی کے لئے ڈیجیٹل طریقوں کو اپنایا جائے،وزیراعظم

    وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ دولت مشترکہ اجلاس کے انعقاد سے اس کثیر الجہتی فورم کےچارٹر کے مطابق ہماری مشترکہ اقدار اور اصولوں پراچھے اثرات مرتب ہوں گے،پاکستان دولت مشترکہ کی نوجوان نسل کی ترقی کے مشترکہ مقاصد کے حصول کی مد میں اپنا کردار ادا کرنے کے لئے ہمہ وقت تیار ہے،جامع اور پائیدار ترقی کے لئے ڈیجیٹل طور طریقوں کو اپنانا کامیابی کی کنجی ہے، ڈیجیٹل ترقی کی تقسیم میں تفاوت دور کرنا ہمارا عزم ہے، جنوری 2023 میں دولت مشترکہ کے رکن ممالک کے وزراء امور نوجوانان کے 10 ویں اجلاس کی میزبانی پاکستان کرے گا۔

    و روانڈا میں دولت مشترکہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگرچہ میں ذاتی طور پر آپ کے درمیان موجود نہیں ہوں تاہم دولت مشترکہ ممالک کے سربراہان حکومت کے اجتماع سے خطاب کرنا میرے لئے باعث مسرت ہے۔

    انہوں نے روانڈا کی عوام،حکومت اور صدر پالکے گامے کو اس اجلاس کے انعقاد پر مبارک باد پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کے خوبصورت شہر کیگالی میں اس اجلاس کے انعقاد پر ان کا شکریہ ادا کرتے ہیں،انہوں نے کہا کہ آج ہم یہاں اپنی قوموں کے مستقبل کے بارے میں غور کے لئے یہاں جمع ہوئے ہیں، میں ایسے کثیر الجہتی فورم کو زبردست الفاظ میں سراہتا ہوں جن کے دولت مشترکہ کے چارٹر کے مطابق ہماری مشترکہ اقدار اور اصولوں پر اچھے اثرات مرتب ہوں گے۔

    انہوں نے کہا کہ دولت مشترکہ ممالک کی 60 فیصد آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے،انہی نوجوانوں کے ہاتھوں میں دنیا کا مستقبل ہے،وزیر اعظم نے کہا کہ ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل ذرائع کے ہماری زندگی میں بڑھتے کردار کے سبب ہم اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ تخلیقی،جامع اور پائیدار ترقی کے لئے ڈیجیٹل طور طریقوں کو اپنانا ہی کامیابی کی کنجی ہے اس لئے میرا یہ عزم ہے کہ ہم ایسے اقدامات اٹھائیں جن کی مدد سے معاشروں کے درمیان موجودہ ڈیجیٹل ترقی کی تقسیم کم تر کی جائے اور ہم اپنے ہاں ڈیجیٹل خواندگی اور فنی مہارت کو فروغ دیں۔

    اپنی نوجوان آبادی کو ہر طرح کی تعلیم اور تدریسی سرگرمیوں کے ذریعے ڈیجیٹل مہارتوں سے لیس کریں۔وزیر اعظم نے کہا کہ اس موقع اے فائدہ اٹھاتے ہوئے میں فخر سے یہ اعلان کررہا ہوں کہ پاکستان کو یہ اعزاز بخشا گیا ہے کہ دولت مشترکہ ممالک کے امور نوجوانان کے وزراء کی 10 ویں کانفرنس کی میزبانی جنوری 2023 میں پاکستان کے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کرے گا۔وزیر اعظم نے دولت مشترکہ کے امور نوجوانان کے وزراء کو دورہ پاکستان کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ تاکہ وہ ہمارے خوبصورت ملک کے حسن اور تنوع کا جائزہ لے سکیں اور ہمیں اپنی مہمان نوازی کا موقع دیں۔

    وزیر اعظم نے کہا کہ ہم دولت مشترکہ کی نوجوان نسل کی ترقی کے مشترکہ مقاصد کے حصول کی مد میں اپنا کردار ادا کرنے کے لئے ہمہ وقت تیار ہیں۔

  • سابق حکومت نے ترقی کا سفر مجرمانہ غفلت کے نتیجے میں روکا،شہباز شریف

    سابق حکومت نے ترقی کا سفر مجرمانہ غفلت کے نتیجے میں روکا،شہباز شریف

    سابق حکومت نے ترقی کا سفر مجرمانہ غفلت کے نتیجے میں روکا،شہباز شریف

    وزیرِ اعظم شہباز شریف نے سکھر حیدر آباد موٹروے منصوبے کو جلد شروع کرنے کی ہدایت کردی. وزیرِ اعظم نے قراقرم ہائی وے (تھاہ کوٹ رائے کوٹ سیکشن)، بابوسر ٹنل اور خضدار کچلاک روڈ پر بھی کام جلد شروع کرنے کی ہدایات جاری کیں.

    وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ گزشتہ چار سالوں میں ترقی کا سفر مجرمانہ غفلت کے نتیجے میں روکا گیا،ملک ترقیاتی منصوبوں میں مزید تعطل کا متحمل نہیں ہو سکتا. وزیرِ اعظم شہبازکا کہنا تھا کہ منصوبوں کیلئے کنٹریکٹ دینے کے طریقہ کار کو مزید شفاف بنایا جائے.وزیرِ اعظم نے پروکیورمنٹ کے طریقہ کار کو بہتر بنانے کیلئے کمیٹی کے قیام کی منظوری دے دی.

    وزیراعظم نے کہا کہ بین الاقوامی کمپنیوں کی تصدیق کیلئے پاکستانی سفارتخانوں سے معاونت حاصل کریں.متعلقہ اداروں کی ذمہ داری ہے کہ ملک و قوم کا وقت اور پیسہ بچانے کی ہر ممکن کوشش کریں.وزیرِ اعظم شہباز شریف کی زیرِ صدارت نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے جاری شاہراہوں کے تعمیراتی منصوبوں پر پیش رفت پر جائزہ اجلاس منعقد کیا گیا.

    اجلاس میں وفاقی وزراء احسن اقبال، مولانا اسد محمود، وزیر اعظم کے مشیر احد چیمہ، چیئرمین این ایچ اے اور متعلقہ اعلی حکام نے شرکت کی.وزیرِ اعظم کو سکھر حیدر آباد موٹروے منصوبے کے حوالے سے بریفنگ دی گئی.

    اجلاس کو بتایا گیا کہ M-6 سکھر حیدر آباد موٹروے کراچی پشاور موٹروے کا اہم سیکشن ہے جس پر کام گزشتہ حکومت کی سست روی کی وجہ سے تعطل کا شکار رہا. 306 کلومیٹر لمبا چھ رویہ موٹروے 15 انٹرچینجز کے ساتھ 6 اضلاع میں سے گزرے گا. موٹروے کے قیام سے سفر کا وقت کم ہونے کے ساتھ ساتھ ایندھن کی بچت اور پورے پاکستان سے برآمدات کی کراچی بندرگاہوں تک رسائی میں آسانی پیدا ہوگی. منصوبے پر کام چھ ماہ کے اندر شروع کردیا جائے گا جس کی تکمیل 2.5 سال میں ہوگی.

    250 کلومیٹر قراقرم ہائی وے (تھاہ کوٹ رائے کوٹ سیکشن) کے حوالے سے اجلاس کو بتایا گیا کہ اس کی فیضیبلٹی رپورٹ پر کام جاری ہے جسے 7 ماہ کے دوران مکمل کر لیا جائے گا جس سے پاکستان اور چین کے درمیان تجارتی ٹریفک کے بہاؤ میں آسانی، اور داسو اور دیامر بھاشا ڈیمز کی تعمیر کی وجہ سے متبادل راستہ میسر ہوگا.

    بابوسر ٹنل کے حوالے سے اجلاس کو بتایا گیا کہ ٹنل کے علاوہ 66 کلومیٹر روڈ کا مکمل سیکشن تعمیر اور موجودہ روڈ کی بحالی کا کام کیا جائے گا. شاہراہ کے اس حصے میں موسمِ سرما کی برفباری کے دوران ٹریفک کی بلا تعطل روانی کیلئے سنو گیلیریز بھی تعمیر کی جائیں گی. وزیرِ اعظم نے اس منصوبے کو شمالی علاقہ جات میں سیاحت کے فروغ کیلئے انتہائی اہم قرار دیتے ہوئے بین الاقوامی معیار کے مطابق منصوبے کی تکمیل کی ہدایات جاری کیں.

    وزیرِ اعظم کو پروکیورمنٹ کے طریقہ کار کے حوالے سے بھی تفصیلی طور پر آگاہ کیا گیا. وزیرِ اعظم نے پروکیورمنٹ کے طریقہ کار کو بہتر اور مؤثر بنانے کیلئے جامع تجاویز مرتب کرنے کیلئے 9 رکنی کمیٹی تشکیل کردی. کمیٹی میں وفاقی وزیرِ مواصلات، ہاوسنگ منسٹر، ایم ڈی PPRA، چیئرمین PEC شامل ہونگے. وزیرِ اعظم نے کمیٹی کو ایک ماہ کے اندر لائحہ عمل پیش کرنے کی ہدایات جاری کیں.