قصور
ترقیاتی منصوبے، وعدے تو ہیں لیکن شہری سہولیات اب بھی پیچھے
تفصیلات کے مطابق ضلع قصور میں حکومت کی جانب سے نئے ترقیاتی منصوبوں کے وعدے کیے گئے ہیں لیکن شہریوں کا کہنا ہے کہ اصل میں روزمرہ سہولیات میں بہتری نظر نہیں آ رہی
منصوبے کے تحت سڑکوں، پانی و نکاسی کے نظام اور پارکوں کی مرمت کا اعلان تو کیا گیا مگر زمینی حقائق اس سے مختلف ہیں
قصور دیپالپور روڈ،لاہور قصور روڈ،قصور بائی پاس کی سڑکیں خستہ حالی کا تاحال شکار ہیں
عرصہ دراز سے قصور دیپالپور روڈ کی تعمیر ہی مکمل نہیں ہو سکی
شہریوں نے شکایت کی ہے کہ اندورن شہر کی کئی سڑکیں اب بھی خستہ حالت میں ہیں نالے گندے ہیں اور بارش کے موسم میں پانی کھڑا ہو جاتا ہے بعض علاقوں میں تو نئی سڑکیں ابھی تک تعمیر نہیں ہوئیں، اور ترقیاتی فنڈز کے بارے میں شفافیت کی کمی بھی دیکھنے میں آ رہی ہے
عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ یہ منصوبے صرف نمائش کے لیے ہیں اور شہری سہولیات میں حقیقی بہتری کی گنجائش ابھی باقی ہے
مقامی حکام کا موقف ہے کہ منصوبے مرحلہ وار مکمل کئے جائیں گے مگر شہری توقع رکھتے ہیں کہ عملی نتائج جلد نظر آئیں
Tag: ترقیاتی منصوبے

ترقیاتی منصوبوں کے وعدے،مگر ایفاء نا ہونے دیکھ کر عوام میں بے چینی

پنجاب: ترقیاتی منصوبے پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ ماڈل کے تحت کرنے کا فیصلہ
لاہور: وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے صوبے بھر میں سڑکوں، مکانات اور ہاسٹلز کی تعمیر و مرمت اور دیکھ بھال پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ (پی پی پی) ماڈل کے تحت کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔
وزیراعلیٰ نے 18 اہم صوبائی سڑکوں کے علاوہ زرعی، صنعتی اورشہری اہمیت کی 24 راہداریوں کی تعمیر کے بڑے منصوبوں پرعمل درآمد کی بھی منظوری دی،وزیراعلیٰ نے پرانے واٹرانفراسٹرکچر کی بحالی، صاف پانی کی فراہمی اورسیوریج سسٹم میں بہتری کا ہدف مقرر کیا اور سال 2026-27 کے صوبائی ترقیاتی پروگرام میں کم از کم 30 فیصد منصوبے نجی شعبے کی شراکت داری سے شامل کرنے کا بڑا فیصلہ کیا۔
سینئیر صوبائی وزیرمریم اورنگزیب کی صدارت میں پی پی پی سے متعلق تیسرے جائزہ اجلاس میں اہم فیصلے کیے گئے، جس میں ہرشعبے میں سرکاری اورنجی شعبے کی شراکت سے منصوبوں کے آغاز کی ہدایت دی گئی۔
اجلاس میں پنجاب پی پی پی اتھارٹی کو سڑکوں، پانی کی فراہمی اور عوامی سہولیات کے بڑے منصوبوں پر بریفنگ دی گئی، جس میں بتایا گیا کہ جدید ٹیکنالوجی، مشینری اورنظام کے ذریعے سڑکوں کی دیکھ بھال اور ٹول وصولی کے جدید طریقے رائج کیے جائیں گے۔
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ 150 کلومیٹرطویل دیپالپور، پاکپتن، وہاڑی روڈ کو نجی شعبے کی شراکت داری سے دو رویہ بنایا جائے گا جبکہ 100 کلومیٹرچراغ آباد، جھنگ، شورکوٹ روڈ کی دو رویہ کاری کیلئے بھی اصولی منظوری دی گئی،اس سے سفرکا دورانیہ کم ہوگا، حفاظت یقینی بنائی جائے گی اورعوامی اخراجات میں کمی آئے گی جبکہ مسافروں کو بہترین سڑک اورسہولیات فراہم ہوں گی۔

کراچی کے ترقیاتی منصوبوں میں تاخیر برداشت نہیں کرونگا، وزیراعلی سندھ
وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے شہر کراچی کے تین اہم منصوبوں کریم آباد انڈر پاس، کورنگی کاز وے پل اور ملیر ایکسپریس وے کے جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے محکمہ بلدیات کو ہدایت کی کہ وہ منصوبوں کی بروقت تکمیل کا پلان پیش کریں۔
باغی ٹی وی کے مطابق وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ نے محکمہ بلدیات سے سوال کیا کہ تمام فنڈز بروقت جاری ہونے کے باوجود منصوبوں کی تکمیل میں اتنی تاخیر کیوں ہو رہی ہی ۔انہوں نے انہیں ہدایت کی کہ وہ تینوں منصوبوں کی مقررہ مدت کے اندر تکمیل کا منصوبہ پیش کریں۔اجلاس پیر کی صبح 9 بجے وزیراعلی ہاس میں منعقد ہوا جس میں وزیر بلدیات سعید غنی، میئر کراچی مرتضی وہاب، وزیراعلی کے پرنسپل سیکریٹری آغا واصف، کمشنر کراچی حسن نقوی، سیکریٹری بلدیات خالد حیدر شاہ، منصوبوں کے پراجیکٹ ڈائریکٹرز؛ نیاز سومرو، ذوالفقار ابڑو ، ممبر پی اینڈ ڈی سکندر اور دیگر افسران نے شرکت کی۔کریم آباد انڈر پاس منصوبہ سندھ حکومت نے کراچی ڈولپمینٹ اتھارٹی (کے ڈی ای) کے ذریعے شروع کیا ہے۔ بریفنگ کے دوران وزیراعلی سندھ کو بتایا گیا کہ منصوبے کی لاگت 3 ارب 80 کروڑ روپے ہے۔ انڈر پاس کی لمبائی 1080 میٹر ہے جس میں سے 300 میٹر مکمل ہو چکے ہیں۔ 212 پری کاسٹ گرائیڈرز میں سے 151 مکمل ہو چکے ہیں اور منصوبے کی مجموعی پیش رفت 35 فیصد ہے۔ وزیراعلی سندھ نے محکمہ بلدیات کو ہدایت کی کہ انڈر پاس میں نکاسی آب کا مناسب اور مثر نظام فراہم کیا جائے تاکہ بارش کا پانی جمع نہ ہو۔ایک سوال کے جواب میں وزیراعلی سندھ کو بتایا گیا کہ مینا بازار اور بازار فیصل کے سامنے ایک رانڈ اباٹ بنایا جا رہا ہے تاکہ ٹریفک کی نقل و حرکت کو منظم کیا جا سکے۔ وزیراعلی سندھ نے وزیر بلدیات سعید غنی اور میئر کراچی مرتضی وہاب کو ہدایت کی کہ تعمیراتی کام تیز کیا جائے کیونکہ اس کی وجہ سے ٹریفک کی روانی میں مشکلات کا سامنا ہے۔ کورنگی کاز وے پر پل کی تعمیر کے بارے میں وزیراعلی سندھ کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ یہ منصوبہ 6ارب 40 کروڑ روپے سے شروع کیا گیا تھا۔یہ منصوبہ 31 جنوری 2025کو مکمل ہونا ہے جو شاید ممکن نہ ہو سکے۔ اس پر وزیراعلی سندھ نے وزیر بلدیات سعید غنی کو ہدایت کی کہ پل پر کام کی خود نگرانی کریں تاکہ اسے بروقت مکمل کیا جا سکے۔ وزیراعلی سندھ کو بتایا گیا کہ 400 پائلس میں سے 300 مکمل ہو چکے ہیں اور 600 گرڈرز میں سے 504 مکمل ہو چکے ہیں اور منصوبے کی مجموعی پیشرفت 30 فیصد ہے۔وزیراعلی سندھ کو بتایا گیا کہ ملیر ایکسپریس وے جام صادق پل تا کاٹھوڑ 38.889 کلومیٹر کا منصوبہ ہے۔جام صادق پل سے شاہ فیصل تک پہلے حصے کی تعمیر 25 دسمبر 2024 تک مکمل ہو جائے گی۔اس پر وزیراعلی سندھ نے محکمہ بلدیات کو شاہ فیصل تا ایئرپورٹ سڑک کی تعمیر نو کی بھی ہدایت کی۔ وزیراعلی سندھ نے واضح طور پر کہا کہ میں چاہتا ہوں کہ تینوں منصوبوں کی تکمیل کی حتمی تاریخیں جمع کروائیں بعد میں کسی قسم کی تاخیر برداشت نہیں کروں گا۔

آئی ایم ایف نے چاروں صوبوں، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے نئے سالانہ ترقیاتی منصوبے طلب کرلیے
اسلام آباد:بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے چاروں صوبوں، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے نئے سالانہ ترقیاتی منصوبے طلب کرلیے۔
باغی ٹی وی : ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف نے نئے سالانہ ترقیاتی منصوبے طلب کرلیے، چاروں صوبوں، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے ترقیاتی منصوبے طلب کیے گئے، آئی ایم ایف کی جانب سے کہا گیا ہے کہ چاروں صوبائی حکومتیں اپنے ترقیاتی فنڈز کی سیکٹر وائز تقسیم کی تمام تفصیلات پلاننگ کمیشن کو دیں اس حوالے سے پنجاب اور سندھ حکومتوں نے آئندہ مالی سال کےترقیاتی منصو بے اور حکمت عملی وفاقی حکومت سے شیئر کردی ہے تاہم خیبرپختونخوا، بلوچستان، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان اپنے ترقیاتی منصوبے شیئر کرنے سے گریز کررہے ہیں۔
جسٹس بابر ستارکیخلاف مہم ، وزارت دفاع کی رپورٹ مسترد، دوبارہ جمع کرانے کا حکم
ذرائع کا کہنا ہے کہ پنجاب حکومت اپنے ترقیاتی منصوبے 7 فی صد اضافے کے ساتھ 700 ارب روپے رکھنے کی خواہاں ہیں، جس میں مقامی ذرائع سے 577 ارب اور بیرونی ذرائع سے 123 ارب روپے ملنے کا تخمینہ ہے،اسی طرح سندھ کا ترقیاتی منصوبہ 32 فی صد اضا فے سے 764 ارب روپے رکھے جانے کا تخمینہ ہے، جس میں مقامی ذرائع سے 430 ارب اور بیرونی ذرائع سے 334 ارب رو پے ملنے کا تخمینہ ہے۔
لاہور میں جرائم میں کمی ہوئی ہے، سی سی پی او کا دعویٰ
وفاقی حکومت پہلے ہی آئی ایم ایف کی تجویز کی ہدایت پرترقیاتی پروگرام کو ترتیب دے رہی ہے،وفاقی حکومت نے صوبائی نوعیت کے منصوبوں کے فنڈز میں کمی آئی ایم ایف کی ہدایت پر کردی اور آئندہ مالی سال کے لیے اراکین پارلیمنٹ کی صوابدیدی اسکیمیں مکمل طور پر بند کردی گئیں۔
پاکستانی نژاد امریکی کاروباری شخصیت ضیا چشتی نے مقدمہ جیت لیا

ترقیاتی منصوبوں کی تعمیر میں کسی قسم کا تعطل قبول نہیں،وزیرِ اعظم
قائد جمعیت مولانا فضل الرحمٰن کی وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات ہوئی ہے
ملاقات میں موجودہ ملکی سیاسی صورتحال پر مشاورت کی گئی، مولانا فضل الرحمان نے بجٹ 2024۔23 میں معاشی مشکلات کے باوجود ترقیاتی منصوبوں اور عوامی مشکلات کے ازالے کے اقدامات کی شمولیت کو سراہا۔وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کی زیرِ صدارت اسلام آباد میں جاری ترقیاتی منصوبوں پر اعلی سطح کا اجلاس منعقد ہوا. اجلاس میں وفاقی وزیرِ داخلہ رانا ثناء اللہ، مشیرِ وزیرِ اعظم احد خان چیمہ، سابق رکن قومی اسمبلی حنیف عباسی، ڈی جی ایف ڈبلیو او، ڈی جی این ایل سی، چیئرمین سی ڈی اے اور متعلقہ اعلی حکام نے شرکت کی. اجلاس کو سی ڈی کے اسلام آباد میں جاری ترقیاتی منصوبوں پر پیش رفت سے تفصیلی طور پر آگاہ کیا گیا.اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کا کہنا تھا کہ ترقیاتی منصوبوں کی تعمیر میں کسی قسم کا تعطل قبول نہیں. ترقیاتی منصوبوں میں معیار پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا. ترقیاتی منصوبوں کی معینہ مدت میں تکمیل یقینی بنائی جائے.
وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کی زیرِ صدارت اسلام آباد میں جاری بڑے ترقیاتی منصوبوں پر جائزہ اجلاس ترقیاتی منصوبوں کی تعمیر میں کسی قسم کا تعطل قبول نہیں. وزیرِ اعظم#baaghitv #pakistan #islamabad @CMShehbaz pic.twitter.com/hub6u76zwt
— Baaghi TV باغی ٹی وی (@BaaghiTV) June 16, 2023
وزیرِ اعظم کا کہنا تھا کہ چیئرمین کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی تعمیراتی کام کی خود نگرانی کرکے معیار کو یقینی بنائیں. ترقیاتی منصوبوں کی لینڈ اسکیپنگ پر خصوصی توجہ دی جائے. ترقیاتی منصوبوں کی لینڈ اسکیپنگ کرتے وقت بین الاقوامی معیار کو مدنظر رکھا جائے.
آڈیو لیکس جوڈیشل کمیشن نے کارروائی پبلک کرنے کا اعلان کر دیا
عابد زبیری نے مبینہ آڈیو لیک کمیشن طلبی کا نوٹس چیلنج کردیا
تحریک انصاف کی صوبائی رکن فرح کی آڈیو سامنے
پاکستان کی ترقی بلوچستان کی ترقی سے مشروط ہے ،وزیر اعظم
دوسری جانب وزیر اعظم سے جعفر خان مندوخیل کی زیر قیادت ن لیگ ن بلوچستان کے وفد کی ملاقات ہوئی ،وفد میں جمال شاہ کاکڑ سردار یعقوب ناصر، آغا شاہ زیب درانی ، عامر افضل مندوخیل شامل تھے،وزیر اعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پاکستان کی ترقی بلوچستان کی ترقی سے مشروط ہے ، حکومت بلوچستان میں سی پیک کے ترقیاتی منصوبوں پر کام کررہی ہے،بلوچستان کا اصل اثاثہ باصلاحیت بلوچ نوجوان ہیں حکومت بلوچستان کے نوجوانوں کو اعلٰی تعلیم ، پیشہ ورانہ تربیت ، لیپ ٹاپ فرایم کرے گی،
لاہور کے مسائل اور حکومت پنجاب – آصف گوہر
لاہور کے مسائل اور پنجاب حکومت ۔۔۔۔۔
آصف گوہر2018 کے الیکشن جیتنے کے بعد پاکستان تحریک انصاف پنجاب حکومت کو ورثے میں مالی بحران کے علاوہ صوبائی درالحکومت لاہور میں کئ طرح کے مسائل کا سامنا تھا اورنج لائن ٹرین کا نامکمل اور ناممکن منصوبہ جس کی وجہ سے سارے شہر میں گردوغبار اڑتا رہتا تھا۔جس کی وجہ سے لاہور میں ہوا کی کوالٹی خطرناک حد تک متاثر ہوچکی تھی اور شہر کو فضائی آلودگی کا سامنا تھا پنجاب حکومت نے مسئلہ کو فوری حل کرنے کے لئے پنجاب کےتمام محکموں تعلیمی اداروں کو ہنگامی بنیادوں پر شجرکاری مہم شروع کرنے کا حکم دیا اور گلبرگ میں اربن فورسٹنگ میاوکی کے تحت سمارٹ جنگل لگایا گیا۔جلو باٹنیکل پارک کی بحالی پرکام شروع کیا گیا۔
دوسرا بڑا اور قدیم مسئلہ لاہور جس سے سابقہ حکمرانوں نے ہمیشہ آنکھیں بند کئے رکھیں وہ بارش کے پانی سے لاہور میں ہرسال سیلابی صورتحال پیدا ہوجاتی تھی اور ہر سال برسات کے موسم میں لکشمی چوک پر واسا کے بےچارے آفیسرز کو معطل کرنے اور لمبے بوٹ پہن کر فوٹو شوٹ کروانے کے علاوہ کوئی خاطر خواہ کام نہ کیا گیا۔ وزیر اعلی پنجاب عثمان بزدار نے اپنی حکومت کے پہلے سال ہی ماہرین سے مشاورت کے بعد لاہور کے ہاٹ سپاٹ ایریاز میں انڈر گراؤنڈ واٹر ٹینکرز تعمیر کئے گئے اور شمالی لاہور کے علاقے چوک ناخدا مصری شاہ لکشمی چوک نسب روڈ فاروق گنج اور دیگر علاقوں میں اب شدید بارش میں بھی پانی کھڑا نہیں ہوتا۔ اب شہر کےکئ مقامات پر انڈر گراؤنڈ واٹر ٹینکرز تعمیر کئے جارہے ہیں ۔ اس کے ساتھ واسا کی وائس چئیرمین شپ کے لئے شیخ امتیاز کا انتخاب کیا گیا جو بارش شروع ہونے سے قبل اپنی ٹیمز کے ہمراہ شہر کی سڑکوں پر موجود ہوتے ہیں ۔
موجودہ حکومت کو شہر کی بے ہنگم ٹریفک کا مسئلہ بھی درپیش ہوا جس سے نپٹنے کے لئے رش والی جگہ فردوس مارکیٹ چوک پر انڈر پاس تعمیر کیا گیا۔ اور شاہ کام چوک گلاب دیوی ٹریفک سگنل پر انڈر پاسز کی تعمیر جاری ہے مال روڈ پر ٹریفک کی روانی برقرار رکھنے کے لئے اس کو سگنل فری کیا جا رہا ہے ۔
لاہور شہر میں صاف پانی کا نظام پائپ لائنز بوسیدہ ہونے کی وجہ سے ناکارہ ہوچکاہے پنجاب حکومت لاہور کے شہریوں کو صاف پانی فراہم کرنے کے لئے چین کے اشتراک سے منصوبہ شروع کرنے جا رہی ہے لاہور سمیت صوبہ بھر میں واٹر سپلائی کی غیر فعال سکیموں کو فعال کرنے کیلئے اب سی پیک پراجیکٹ کے تحت کام کیا جائے گا، صاف پانی کی سکیمیں سی پیک کے تحت مکمل ہوں گی جس کیلئے سی پیک جوائنٹ ورکنگ گروپ میں باقاعدہ منظوری دے دی گئی ہے۔ اب چین کے تعاون سے صاف پانی کی فراہمی یقینی بنائی جائے گی، سپلائی کی تمام سکیموں کی نگرانی بھی چینی انجینئر کریں گے
چین کی حکومت پنجاب حکومت کو شہریوں تک صاف پانی مہیا کرنے کیلئے 5 ارب روپے کی مالی معاونت فراہم کرے گی۔ لاہور کا ہیلتھ سسٹم آبادی میں مسلسل اضافہ کے بعد ناکافی ہوچکا تھا موجود حکومت نے لاہوز کے تمام ہسپتالوں کو اپ گریڈ کیا زچہ و بچہ کے لئے شہر کے وسط میں 600 بیڈز کا گنگادام مدر چائلڈ ہسپتال تکمیل کےآخری مراحل میں ہے اس کے علاوہ فیروزپور روڈ پر ارفعہ کریم آئی ٹی پارک کے قریب جنرل ہسپتال تعمیر کرنے کی منظوری دی جا چکی ہے جس سے موجودہ ہسپتالوں پر مریضوں کا بوجھ کم ہوگا ۔
وزیر اعلی پنجاب عثمان بزدار کا کہنا ہے کہ لاہور پاکستان کا دل اور معاشی سرگرمیوں کا مرکز ہے اس کی تعمیر و ترقی پاکستان کی ترقی ہے۔ لاہور کے مسائل حل کرنے کے لئے چیف منسٹر اسپیشل پروگرام کا آغاز کیا جا رہا ہے جس کے لئے پنجاب حکومت نے لاہور کے میگا پراجیکٹس کیلئےنئے مالی سال میں مختص100 فیصد بجٹ جاری کردیا ہے۔ جس سے 3نئی سڑکیں تعمیر کی جائیں گی شیرانوالہ فلائی اوورمنصوبے کیلئے مختص ایک ارب کے فنڈز جاری، شاہکام فلائی اوور کیلئے مختص ایک ارب روپے اور گلاب دیوی انڈر پاس کیلئے مختص50کروڑ روپے کے فنڈز جاری کردیئے گئے۔ امیر چوک کالج روڈسےنواز چوک تک مسنگ لنک روڈکیلئے1کروڑ 93لاکھ ، کینال روڈ کے ساتھ بحریہ ٹاؤن تک سٹرکچر پلان روڈ کیلئے5کروڑ، سندرسےمانگا تک کینال روڈکیساتھ سڑک کی تعمیر کیلئے5کروڑ ، امیر چوک سے ایڈن چوک تک سٹرک کی تعمیر و بحالی کیلئے3کروڑ جبکہ اک موریہ پل کیلئےمختص 8 کروڑ روپے جاری کردیئے گئے ہیں اور ان تمام منصوبوں پر کام شروع ہوچکا ہے ۔مضمون نگار ایک فری لانس صحافی، بلاگر اور معروف ماہر تعلیم ہیں۔ سیاسی امور پر بھی عمیق نظر رکھتے ہیں۔ حکومتی اقدامات اور ترقیاتی منصوبوں بارے بہت اچھی اور متناسب رپورٹنگ کرتے ہیں۔ ایک اچھے ایکٹوسٹ کے طور پر سوشل میڈیا پر جانے جاتے ہیں۔ ان کا پرسنل اکاؤنٹ ضرور ملاحظہ فرمائیں۔ آصف گوہر @Educarepak





