Baaghi TV

Tag: ترمیمی بل

  • پیمرا ترمیمی بل واپس،صحافیوں کاقومی اسمبلی کی پریس گیلری سے واک آؤٹ

    پیمرا ترمیمی بل واپس،صحافیوں کاقومی اسمبلی کی پریس گیلری سے واک آؤٹ

    اسلام آباد: حکومت کی جانب سے پیمرا ترمیمی بل واپس لینے کیخلاف صحافیوں نے قومی اسمبلی کی پریس گیلری سے واک آؤٹ کیا۔

    باغی ٹی وی: صحافی بازوؤں پر سیاہ پٹیاں باندھ کر اجلاس کے لئے پریس گیلری پہنچے اور جب قومی اسمبلی کا اجلاس شروع ہوا تو ورکنگ جنرلسٹ نے پریس گیلری سے واک آؤٹ کردیا۔

    یاد رہے کہ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات ونشریات سے وفاقی وزیر اطلاعات کی جانب سے پیمرا ترمیمی بل 2023 واپس لیا گیا تھا۔ بل قومی اسمبلی میں پیش ہونے کے بعد قائمہ کمیٹی سے منظور ہوچکا تھاصحافیوں نے پارلیمنٹ ہاؤس کے گیٹ کے سامنے احتجاج بھی ریکارڈ کروایا۔

    وفاقی وزیر اطلاعات ونشریات مریم اورنگزیب نے پیمرا (ترمیمی) بل 2023 واپس لینے کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ پیمرا کے پرانے سیاہ قانون کو ختم کرنا چاہتے تھے، پہلے دن سے یہی کہا تھا کہ متفقہ طورپرہی بل منظور کرائیں گےسینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات ونشریات کا اجلاس کنوینیر کمیٹی فوزیہ ارشد کی زیر صدارت ہوا۔

    قومی اسمبلی تحلیل کرنے کی سمری بھجوا دی گئی

    وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب نے اجلاس میں بڑے فیصلے کا اعلان کرتے ہوئے پیمرا (ترمیمی) بل 2023 واپس لینے کا اعلان کر دیا تھا مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ پیمرا کے پرانے سیاہ قانون کو ختم کرنا چاہتے تھے، 4 سال اپوزیشن میں رہتے ہوئے میڈیا کے ساتھ کام کیا، مخلصانہ سوچ اور بڑی محنت سے یہ بل تیار کیا تھا۔

    ان کا کہنا تھا کہ بعض شقوں کے حوالے سے سامنے آنے والے تحفظات کا احترام کرتے ہیں، آئینی و جمہوری سوچ پر کوئی سمجھوتہ نہ کبھی کیا ہے اور نہ ہی کبھی کر سکتے ہیں، میڈیا، اظہار رائے اور شہری آزادیوں کے آئینی حق پر کبھی سمجھوتہ نہیں کریں گے، پہلے دن سے یہی کہا تھا کہ متفقہ طور پر ہی بل منظور کرائیں گے۔

    عمران خان کے وکیل نعیم حیدرپنجوتھہ گرفتار ہو گئے

    وفاقی وزیر اطلاعات کا مزید کہنا تھا کہ پیمرا آرڈیننس 2002 پرویز مشرف کا کالا قانون تھا، آرٹیکل 19 کو پیمرا بل میں ڈالنے کا مطلب آزادی اظہار رائے کو یقینی بنانا ہے، بل پر تمام اراکین اور اسٹیک ہولڈرز کی رائے کا احترام کرتے ہیں، بل میں ادھر چھوڑ کر جا رہی ہوں میں اپنا کردار ادا کرونگی بل کو آگے لے کر جانے کی اگلی حکومت جو بھی آئے،کمیٹی ارکان، اور صحافیوں نے وفاقی وزیر اطلاعات کو بل واپس لینے کے فیصلے پر نظر ثانی کرنے کی استدعا کی تھی-

  • صدرمملکت نےمنشیات کنٹرول (ترمیمی) بل کی منظوری دے دی

    صدرمملکت نےمنشیات کنٹرول (ترمیمی) بل کی منظوری دے دی

    اسلام آباد:صدر پاکستان ڈاکٹر عارف علوی نے منشیات کنٹرول ترمیمی بل 2022 کی منظوری دے دی۔اطلاعات کے مطابق صدر مملکت عارف علوی نے منشیات کنٹرول ترمیمی بل 2022 کی منظوری دے دی ہے، جس کے تحت منشیات سے متعلق جرائم میں ملوث مجرموں کو موت یا عمر قید کی سزائیں ہوں گی۔

    پیاز اور ٹماٹر کے 40 ٹرک پاکستان پہنچ گئے

    ترمیمی بل میں سزاؤں کیلئے ہیروئن، مورفین، کوکین، آئس اور دیگر نشہ آور ادویات کی الگ الگ مقدار مقرر کی گئی ہے۔

    بل کے مطابق اِسی جرم میں 15 سے 20 لاکھ روپے جرمانے کے ساتھ عمرقید کی سزا بھی ہو سکتی ہے۔صدر مملکت نے ترمیمی بل کی منظوری آئین کے آرٹیکل 75 کے تحت دی ہے۔صدر مملکت کی منظوری کے بعد یہ بل منشیات کنٹرول (ترمیمی) ایکٹ 2022ء کی شکل اختیار کر گیا ہے۔

    وزیراعظم شہباز شریف نے چارسدہ میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا

    متحدہ عرب امارات کے حکام کا آرمی چیف سے رابطہ،سیلاب زدگان کیلیے امداد بھجوانے کا اعلان

    خیال رہے کہ ہیروئن یا مورفین کی 4 کلو گرام یا زائد مقدار کے جرائم پر 20 سال سے زائد قید اور 10 لاکھ روپے سے زائد جرمانہ ہوگا جبکہ ہیروئن یا مورفین کی 6 کلوگرام یا زائد مقدار کے جرائم پر سزائے موت یا 15 سے 20 لاکھ روپے کے جرمانے کے ساتھ عمر قید کی سزا ہوگی۔

     

    اس کے علاوہ 5 کلو یا زائد کوکین کے جرم میں سزائے موت یا 20 سال سے زائد قید کے ساتھ 25 لاکھ روپے سے زائد جرمانہ ہوگا جبکہ آئس کی 4 کلوگرام یا زائد مقدار کے جرائم پر سزائے موت یا 25 لاکھ روپے سے زائد جرمانے کے ساتھ عمر قید کی سزا ہوگی۔

    واضح رہے کہ جرم کسی اسکول، کالج، یونیورسٹی، یا تعلیمی ادارے کے اندر یا قریب سرزد ہونے پر اس جرم کی زیادہ سے زیادہ سزا ہوگی۔

  • انتخابات ترمیمی بل 2022 سینیٹ میں کثرت رائے سے منظور

    انتخابات ترمیمی بل 2022 سینیٹ میں کثرت رائے سے منظور

    انتخابات ترمیمی بل 2022 سینیٹ میں کثرت رائے سے منظور کر لیا گیا
    اپوزیشن نے شدید احتجاج کیا اور چیئرمین سینیٹ کے ڈائس کا گھیراؤ کرلیا۔ سینیٹ اجلاس میں اپوزیشن ارکان نے ایجنڈے کی کاپیاں پھاڑ دیں۔ بل کی شق وار منظوری دی گئی بل کثرت رائے سے منظور کیا گیا واضح رہے کہ الیکشن ترمیمی بل کو گزشتہ روز قومی اسمبلی سے منظور کیا گیا تھا۔

    چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے کہا کہ انتخابات ترمیمی بل کو کمیٹی کے سپرد کروں یا ابھی پاس کرانا ہے؟ وزیر قانون
    اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ یہ وہ بل ہے جسے سینیٹ کمیٹی نے منظورکیا تھا سمندر پار پاکستانیوں کے ووٹ کا حق واپس نہیں لیا گیا الیکشن کمیشن کوکہا ہے کہ سیکریسی کو مدنظر رکھ کر ووٹ کا حق ڈالنا یقینی بنائیں دونوں ترامیم سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے منظورکی تھیں الیکشن کمیشن نے کہا کہ الیکشن نہیں کرا پائیں گے، الیکشن کمیشن یقینی بنائے کہ سمندر پار پاکستانیوں کا ووٹ پڑے

    پی ٹی آئی سینیٹر شہزاد وسیم نے مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ ہم کسی کو سمندر پار پاکستانیوں کے ووٹ کے حق پر ڈاکہ ڈالنے نہیں دیں گے ہم ای وی ایم پرسمجھوتا نہیں کریں گے اس ملک میں سب سے بڑی غیر ضروری امپورٹڈ چیز یہ امپورٹڈ حکومت خود ہے جس نے 25 تاریخ کو کنٹینرز کا قبرستان اور ملک کو ماڈل ٹاؤن بنا کر حقیقی آذادی کے نظریہ کو روکنے کی ناکام کوشش کی لیکن قوم نے انہیں مسترد کر دیا۔

    سپریم کورٹ نے دیا پی ٹی آئی کو جھٹکا،فواد چودھری کو بولنے سے بھی روک دیا

    عمران خان نے کل اداروں کے خلاف زہر اگلا ہے،وزیراعظم

    عمران خان کے فوج اور اُس کی قیادت پر انتہائی غلط اور بھونڈے الزامات پر ریٹائرڈ فوجی سامنے آ گئے۔

    سیاسی مفادات کے لئے ملک کونقصان نہیں پہنچانا چاہئے

    فوج اور قوم کے درمیان خلیج پیدا کرنا ملک دشمن قوتوں کا ایجنڈا ہے،پرویز الہیٰ

    ای وی ایم ،اوورسیز ووٹنگ کے حوالے سے سابق حکومت کی ترامیم ختم

  • سینیٹ کا اجلاس جاری : 8 نکاتی ایجنڈے میں اسٹیٹ بینک ترمیمی بل بھی شامل:منظورہوجانے کا امکان

    سینیٹ کا اجلاس جاری : 8 نکاتی ایجنڈے میں اسٹیٹ بینک ترمیمی بل بھی شامل:منظورہوجانے کا امکان

    اسلام آباد:سینیٹ کا اجلاس جاری : 8 نکاتی ایجنڈے میں اسٹیٹ بینک ترمیمی بل بھی شامل:منظورہوجانے کا امکان ،اطلاعات کےمطابق چیئرمین صادق سنجرانی کی زیر صدارت سینیٹ کا اجلاس جاری ہے، جس میں آٹھ نکاتی ایجنڈے میں اسٹیٹ بینک ترمیمی بل بھی شامل ہے۔ وزیر خزانہ شوکت ترین بل منظوری کیلئے پیش کریں گے۔

    نائب صدر پیپلز پارٹی و سینیٹر شیری رحمان نے اسٹیٹ بینک بل کے حوالے سے اپنے بیان میں کہا کہ سینیٹ اجلاس کے لئے آدھی رات کو جاری شدہ ایجنڈا حکومت کے چھپے مقاصد کو بیان کرتا ہے، حکومت آئی ایم ایف کو بتانا چاہتی ہے پارلیمنٹ نے اسٹیٹ بینک سے متعلق بل پاس کیا ہے، حکومت قومی بحران کے وقت پاکستان کے خود مختار فیصلے کرنے کی صلاحیت کو بھی چھیننا چاہتی ہے، حکومت اسٹیٹ بینک کی خودمختاری متعلق بل کو بلڈوز کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

    شیری رحمان کا کہنا تھا کہ بڑے منصوبوں میں خود مختار ضمانتیں دینے کی حکومتی صلاحیت کا کیا ہوگا ؟ یہ ہنگامی واجبات کے طور پر درج ہیں، لہذا آئی ایم ایف اب ان پر بھی کنٹرول کر سکتا ہے، اپوزیشن حکومت کے اس فیصلے کے خلاف ہے، آئی ایم ایف نے یہ شرط رکھی ہے مرکزی بینک پاکستان کو کسی بھی بحران میں پیسے نہیں دے گا، یہ قومی ہنگامی حالتوں، یہاں تک کہ جنگ میں بھی مرکزی بینک سے پیسے لینے کی ہماری خود مختار صلاحیت کو متاثر کرے گا، مرکزی بینک سے قرضہ لینے ہر ملک میں بحران کو نمٹنے کے لئے آخری حل ہوتا ہے۔

    سینیٹر شیری رحمان نے مزید کہا کہ یہ قانون مکمل طور پر ناقابل قبول ہے، بل منظور ہونے کی صورت میں اسٹیٹ بینک پاکستان نہیں بلکہ آئی ایم ایف کی زیر نگرانی کام کرے گا، وفاقی حکومت کو اسٹیٹ بینک سے قرضہ لینے کی لئے آئی ایم ایف کی منظوری چاہیے ہوگی، کیا یہ ہے نیا پاکستان جس میں ادارے گروی ہو رہے ہیں، کیا وزیر خزانہ کہتے ہیں کہ اسٹیٹ بینک کو چاہئے کہ کمرشل بینکوں کو وفاقی حکومت کی جانب سے لیے گئے قرضوں پر ڈیفالٹ ہونے کے حوالے سے خبردار کرے ؟ ہم نے ایسا کبھی نہیں دیکھا کہ وزیر خزانہ خود ایسی تنبیہ کر رہے ہو، یہ کیا ہو رہا ہے؟ قرضے آسمان کو چھو رہے ہیں جس کی کوئی مثال نہیں ملتی۔