Baaghi TV

Tag: ترین

  • ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ:سری لنکا نےعرب امارات کو ہراکرسپر12میں جگہ پکی کرلی

    ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ:سری لنکا نےعرب امارات کو ہراکرسپر12میں جگہ پکی کرلی

    گیلونگ:ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ راؤنڈ ون کے چھٹے میچ میں سری لنکا نے یو اے ای کو 79 رنز سے شکست دے دی۔آسٹریلیا میں کھیلئے میچ میں یو اے ای نے ٹاس جیت کر سری لنکا کو پہلے بیٹنگ کی دعوت دی تھی، سری لنکا کی ٹیم 20 اوورز میں 8 وکٹوں کے نقصان پر 152 رنز بناسکی۔

    سری لنکا کے 152 رنز کے جواب میں یو اے ای کی پوری ٹیم 17.1 اوور میں 73 رنز پر آؤٹ ہوگئی۔آج کا میچ جتنا دونوں ٹیموں کیلئے اہم تھا اور اب گروپ اے سے نیدرلینڈز اور سری لنکا سپر 12 میں جانے والی ٹیمیں بن جائیں گی۔

    آج کے اسی میچ میں ٹی20 ورلڈکپ 2022 میں متحدہ عرب امارات کے باولر کارتک میپن سری لنکا کے خلاف پہلی ہیٹرک بناڈالی۔

    گیلونگ میں کھیلے جارہے میچ میں متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے لیگ اسپنر کارتک میپن نے بھانوکا راجا پاکسے، چارتھ اسالنکا اور داسن شاناکا کی وکٹیں لے کر یہ کارنامہ سر انجام دیا۔

    ٹی20 ورلڈکپ کی تاریخ میں سب سے پہلی ہیٹرک کا اعزاز آسٹریلوی فاسٹ بولر بریٹ لی نے کی تھی، انہوں نے 2007 کے پہلے ورلڈکپ میں بنگلہ دیش کے خلاف یہ کارنامہ سرانجام دیا تھا۔

    اس کے علاوہ دیگر بالرز میں آئرش بالر کرٹس کیمفر نے نیدرلینڈز، سری لنکن بالر وینندو ہسرنگا نے جنوبی افریقہ کے خلاف سال 2021 جبکہ افریقی بالر کاگیسو ربادا نے بھی سال 2021 میں ہی انگلینڈ کے خلاف یہ اعزاز اپنے نام کیا تھا۔

    واضح رہے کہ کارتک میپن متحدہ عرب امارات کی جانب سے ٹی20 ورلڈکپ میں اسکور کرنے والے واحد بالر ہیں۔

    یاد رہے کہ اس سے پہلے اسی ٹی20 ورلڈکپ کے چھٹے میچ میں سری لنکا نے متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کو جیت کے لیے 153 رنز کا ہدف دیدیا۔

    گیلونگ میں کھیلے جارہے میچ میں متحدہ عرب امارات نے ٹاس جیت کر پہلے فیلڈنگ کا فیصلہ کیا، سری لنکا نے پہلے کھیلتے ہوئے مقررہ 20 اوورز میں 8 وکٹوں کے نقصان پر 152 رنز اسکور کیے۔

    پاکستان میں مہنگائی، بیروزگاری میں خطرناک حد تک اضافہ:معاملات مزید خراب ہوسکتے…

    سری لنکا کی جانب سے اوپنر پاتھون نسانکا نے 6 چوکوں اور 2 چھکوں کی مدد سے 74 رنز اسکور کیے جبکہ دھننجایا ڈی سلوا نے 33 رنز اسکور کیے۔ دیگر کھلاڑیوں میں کوشل مینڈس 18، بھانوکا راجا پاکسے 5 رنز بناسکے۔

    میری قوم کے بچوں کو اسکولوں میں سیرت النبیﷺ پڑھانے کی ضرورت ہے،عمران خان

    یو اے ای کی جانب سے کارتک میپن سری لنکا کے خلاف ٹی20 ورلڈکپ 2022 کی پہلی ہیٹرک بناتے ہوئے 3، ظہور خان 2 جبکہ آیان افضل نے ایک وکٹ حاصل کی۔

  • مستونگ میں دھماکا، 3 افراد جاں بحق، متعدد زخمی

    مستونگ میں دھماکا، 3 افراد جاں بحق، متعدد زخمی

    مستونگ:بلوچستان کے ضلع مستونگ میں دھماکا ہوا ہے جس کی زد میں آ کر تین افراد جاں بحق جبکہ متعدد زخمی ہوئے ہیں۔

    ذرائع سے ملنے والی اطلاع کے مطابق دھماکے کے نتیجے میں تین افراد جاں بحق جبکہ 6 زخمی ہوئے جن کی حالت تشویشناک ہے۔ زخمیوں کو فوری طور پر طبی امداد کے لیے ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔

    لیویز کے مطابق دھماکے میں دو گاڑیوں کو ریموٹ کنٹرول سے نشانہ بنایا گیا، دھماکا اس وقت ہوا جب قبائلی افراد میت کو دفنا نے کے بعد واپس آرہے تھے.

    دھماکے کے فوری بعد سکیورٹی اہلکاروں نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لیکر سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔

    دوسری طرف مشیر داخلہ بلوچستان ضیاء لانگو نے مستونگ دھماکے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر سے رپورٹ طلب کر لی۔

    مشیر داخلہ نے دہشت گردی کے واقعات میں اضافے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دشمن کوبزدلانہ کارروائیوں سے کوئی مقصد حاصل نہیں ہو سکتا، بلوچستان کی ترقی کی راہ میں رکاوٹ کی ہر سازش کا ڈٹ کے مقابلہ کریں گے۔

  • کینیڈا سمندری طوفان کے شدید حملے کا خطرہ

    کینیڈا سمندری طوفان کے شدید حملے کا خطرہ

    نووا اسکاٹیا:سمندری طوفان فیونا کا رخ کینیڈا کی جانب ہے اور نووا اسکاٹیا صوبے کے لیے ہائی الرٹ وارننگ جاری کردی گئی ہے۔غیرملکی خبرایجنسی کےمطابق سمندری طوفان فیونا برمودا سے آگے بڑھ گیا ہے۔ طوفان کے بعد برمودا میں ہزاروں صارفین بجلی کی فراہمی سے محروم ہوگئے تاہم متاثرہ علاقوں میں کم نقصان ہوا۔

     

    امریکی طوفان مرکز نے بتایا کہ سمندری طوفان فیونا کےباعث 125 میل فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چل رہی ہیں اور جب یہ کینیڈا سے ٹکرائے گا تو شدید نوعیت کے طوفان میں تبدیل ہوجائے گا۔رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ طوفان کے باعث اٹلانٹک کینیڈا اور صوبے کیوبک کے مشرقی علاقے شدید متاثر ہونگے۔

     

    https://twitter.com/ECCC_CHC/status/1573461993272508436?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E1573461993272508436%7Ctwgr%5Ef449ffbda9a9cc49dcc1552a882e08b09e29b692%7Ctwcon%5Es1_&ref_url=https%3A%2F%2Fwww.samaa.tv%2Fnews%2F40007951

    کینیڈا کے وزیراعظم جسٹن ٹروڈو نے سمندری طوفان فیونا کو انتہائی بری خبر قرار دیا اور کہا کہ اس سے خطے میں خاطرخواہ اثرات پڑیں گے۔

     

    یاد رہے کہ 2019 میں بھی ستمبر کے مہینے میں سمندری طوفان ڈورین کینیڈا کے شہر ہیلی فیکس کے ساحل سے ٹکرا گیاتھا ۔کیٹیگری 2 کی شدت والا طوفان ڈورین کینیڈا کی ساحلی پٹی پر موجود ہے جبکہ طوفان کے باعث چلنے والی ہواوں کی رفتار145 کلومیٹر فی گھنٹہ تھی

    ۔کینیڈا کے شہر ہیلی فیکس میں تیز ہواوں اور بارشوں کے باعث درخت جڑ سے اکھڑ گئے اوربجلی کے پول بھی گر گئےتھے ۔تیز ہوا کے باعث ایک کرین زیر تعمیر عمارت پر گرگئی،جبکہ 5 لاکھ سے زیادہ افراد بجلی کی سہولت سے محروم ہوگئےتھے ۔

    سرکاری زمین پر ذاتی سڑکیں، کلب اور سوئمنگ پول بن رہا ہے،ملک کو امراء لوٹ کر کھا گئے،عدالت برہم

    جتنی ناانصافی اسلام آباد میں ہے اتنی شاید ہی کسی اور جگہ ہو،عدالت

    اسلام آباد میں ریاست کا کہیں وجود ہی نہیں،ایلیٹ پر قانون نافذ نہیں ہوتا ،عدالت کے ریمارکس

  • حساس علاقوں سےجہازوں کےحساس پرزوں کاچوری ہونا    لمحہ فکریہ:چیف جسٹس صاحب قومی اثاثوں کوبچالیں

    حساس علاقوں سےجہازوں کےحساس پرزوں کاچوری ہونا لمحہ فکریہ:چیف جسٹس صاحب قومی اثاثوں کوبچالیں

    کراچی :چیف جسٹس صاحب جب حساس علاقوں سے جہازوں کے حساس پرزے چوری ہونے لگیں‌ توپھرملک کااللہ ہی حافظ ہے:جہازوں کے مالکان ، ماہرین اور فضائی عملے نے چیف جسٹس آف پاکستان سے اس اہم مسئلے پرتحقیقات کا مطالبہ کردیا ہے ، ایئرکرافٹ اونرز اینڈ آپریٹرز ایسوسی ایشن نے چیف جسٹس آف پاکستان سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ایئرپورٹ جوکہ ہماری سیکورٹی اورسلامتی کے حوالے سے بہت زیادہ اہمیت رکھتے ہیں جہاں فوجی اورسویلین جہازوں کوبطور امانت روکا جاتا ہےاگریہاں یہ قومی تنصیبات اور یہاں موجود ہوائی جہاز ہی محفوظ نہیں تو باقی کیا بچے گا

     

    ایئرکرافٹ اونرز اینڈ آپریٹرز ایسوسی ایشن نے چیف جسٹس آف پاکستان اور دیگرسیکورٹی اداروں کے سربراہان سے یہ بھی مطالبہ کیا ہے کہ کس قدر چوری ،کرپشن اور سینہ زوری بڑھ گئی ہے کہ سی اے اے کی تحویل میں جہازوں کے پرزے اگرچوری ہونے لگے ہیں تو یہ واقعی ایک لمحہ فکریہ ہے،جس کی فکراس ملک کے ذمہ داران کو کرنی چاہیے ، آج اگرجہازوں کے قیمتی اور حساس پرزے چوری ہونے لگے ہیں تو کل کو تو کوئی بڑا حادثہ ہوسکتا ہے ، پاکستان سول ایوی ایشن جیسے ادارے کی کریڈبلٹی ہی مشکوک ہوگئی جس نے حفاظت کرنی تھی وہ ہی اس باغ کو اجاڑنے لگے ہیں‌،

     

    پاکستان ایئر کرافٹ اونرز اینڈ آپریٹرز ایسوسی ایشن نے اس قومی نقصان پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ جہازوں کے پرزے چوری ہونے کے حوالے سے پاکستان کے مستند میڈیا ذرائع بھی دعویٰ کرچکے ہیں کہ سی اے اے کے ملازمین خود ہی اس باغ کو اجاڑ رہے ہیں تو وہ کیسے یہ گناہ اور غلطی تسلیم کریں گے ،ایسویسی ایشن نے دکھ کا اظہارکرتے ہوئے کہا ہے کہ کراچی میں ایرپورٹ ایریا سے کے کے ایوی ایشن کے جہازوں سے پرزے چوری ہونا سی اے اے کی نا اہلی ہے،

    ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کراچی ایئرپورٹ کے حساس علاقے سے جہازوں کے قیمتی اور حساس پورزے چوری ہونے کے واقعات کی سخت مذمت کرتے ہیں، پاکستان ایئر کرافٹ اونرز اینڈ آپریٹرز ایسوسی ایشن کا کے کے ایوی ایشن کے جہازوں کے پرزے چوری ہونے پر ذمہ داروں کے خلاف ایف آئی آر درج کرائیں گے ،اگرآج اس ملک کے قیمتی اداروں کو تباہ کرنے والوں کا راستہ نہ روکا گیا تو کل کو یہ سب کچھ تباہ کردیں گے

    پاکستان ایئر کرافٹ اونرز اینڈ آپریٹرز ایسوسی ایشن کے ماہرین ، فضائی عملے کے اراکین کا کہنا ہے کہ کے کے ایوی ایشن کے جہازوں کے پرزے چوری ہونے کا معاملہ افسوسناک عمل ہے، کے کے ایوی ایشن نے سیکڑوں پائلٹس اور انجینئرز کو تربیت دی، ایوی ایشن صنعت میں کے کے ایوی ایشن کا الگ مقام تھا، جسے سی اے اے جان بوجھ کر تباہ کردیا، کراچی ایرپورٹ کے جنرل ایوی ایشن کے تمام ایریا کی سیکورٹی سی اے اے کے ذمہ داری ہے، سی اے اے کے سیکورٹی کمپنی کے گارڈز 24 گھٹنے تعینات ہوتے ہیں،

    پاکستان ایئرکرافٹ اونرز اینڈ آپریٹرز ایسوسی ایشن نے افسوس کااظہارکرتے ہوئے کہا ہے کہ جہازوں کے پرزے اور دیگر سامان چوری ہونا سی اے اے کی سیکورٹی پر سوالیہ نشان ہے، سی اے اے حکام نے غلط بلنگ کرکے کے کے ایوی ایشن کو بند کیا، اسکی ذمہ دار سی اے اے ہے، سی اے اے کا ملک میں ایوی ایشن کمپنیوں کو بند کرنے کا طریقہ واردات پرانا ہے، ماضی میں بھی اسی طرح کے غلط چارجر لگا کر کئی ایوی ایشن کمپنیز کو بند کیا جاچکا،سیل کی گئی ایوی ایشن کمپنی کے جہازوں کی سیکورٹی اور حفاظت کا ذمہ دار سی اے اے ہے،کے کے ایوی ایشن کے جہازوں کے پرزے چوری ہونے کی زمہ داری سی اے اے سیکورٹی ہے،کے کے ایوی ایشن سے جہازوں کے پرزے چوری ہونا سیکورٹی کے ناقص انتظامات کا واضح ثبوت ہے،

    پاکستان ایئرکرافٹ اونرز اینڈ آپریٹرز ایسوسی ایشن کے ماہرین ، فضائے عملے کے اراکین نے چیف جسٹس آف پاکستان کواس معاملے کی حساسیت کے بارے میں آگاہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیکورٹی کے ناقص انتظامات سے ایرپورٹ ایریا میں بڑا واقعہ رونما ہوسکا یے،ایسوسی ایشن سی اے اے کے خلاف قانونی چارہ جوئی مین کے کے ایوی ایشن کی مکمل طور مالی معاونت کرے کرے گی،پاکستان ایئرکرافٹ اونرز اینڈ آپریٹرز ایسوسی معاملے پر تمام اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ رابطے میں ہے، ایسوسی ایشن کی قانونی ٹیم اس معاملے کو دیکھ رہی ہے،

    پاکستان ایئرکرافٹ اونرز اینڈ آپریٹرز ایسوسی ایشن نے قومی چوری اور نقصان کےسدباب کے حوالے سے کہا ہے کہ وفاقی حکومت اور چیف جسٹس سے فوری نوٹس لینے کی اپیل کرتے ہیں، سی اے اے کے کے ایوی ایشن کمپنی کے چوری ہونے والے پرزوں اور دیگر اثاثوں کو ہونے والے نقصان کا ازالہ کرے، سی اے اے پر ذمہ داری عاید ہوتی ہے، دنیا بھر میں ریگولیٹر کی زمہ داری ایوی ایشن صنعت کو فروغ دینا ہے،لیکن پاکستان سول ایوی ایشن اتھارٹی ملک میں ایوی ایشن کے صنعت کو تباہ کر رہی ہے،پاکستان سی اے اے کرپشن، بد انتظامی اور نااہلی کے طور جانا جاتا ہے،

    پاکستان ایئر کرافٹ اونرز اینڈ آپریٹرز ایسوسی ایشن نے اداروں کی ناقص کارکردگی کی مثال پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہی وجہ ہے پاکستان سی اے اے کئی آفیشلز اینٹی کرپشن کورٹس میں مقدمات کا سامنا کررہے ہیں،چند برسوں میں سی اے اے نے ملک کی 20 ایوی ایشن کمپنیز کو تباہ کرکے بند کردیا، پاکستان سی اے اے کی وجہ ملکی ایوی ایشن انڈسٹری تاریکی میں ڈوب چکی ہے،

     

    یہ بھی یاد رہے کہ اس اسکینڈل کے منظرعام پرآنے کے بعد سول ایوی ایشن کی طرف سے چوری کی وارداتوں کی تردید کی گئی ہے لیکن اس بات کی وضاحت نہیں کی گئی کہ وہ جو سامان غائب ہوا ہے کیوں ہوا، کس نے کیا اور کیوں کیا، یہ بھی اطلاعات ہیں کہ سول ایوی ایشن کا عملہ اس بڑی واردات سے بچنے کے لیے اب کئی دلائل اورتاویلیں پیش کرکے جان چھڑانے کی کوشش کرے گا

  • پاک فضائیہ کی سیلاب متاثرین کی فلاح و بہبود کے لیے کوششیں جاری

    پاک فضائیہ کی سیلاب متاثرین کی فلاح و بہبود کے لیے کوششیں جاری

    کراچی: پاک فضائیہ خیبرپختونخوا، سندھ، بلوچستان اور جنوبی پنجاب میں سیلاب متاثرین کی بحالی کے عمل میں سرگرم عمل ہے۔پاک فضائیہ کے اہلکار سیلاب زدگان کی فلاح و بہبود، خوراک، رہائش، پینے کے پانی اور طبی امداد کی بروقت فراہمی کے لیے بروقت اقدامات میں مسلسل مصروفِ عمل ہیں۔

    سیلاب متاثرین کو مشکل کی اس گھڑی میں ازحد ضروری ریلیف فراہم کرنے کے لیے پاک فضائیہ کی ایمرجنسی ریسپانس ٹیموں نے گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ضرورت مند خاندانوں میں 23,076 پکے ہوئے کھانے کے پیکٹ، 1103 پانی کی بوتلیں اور 1795 راشن کے پیکٹ تقسیم کیئے، جن میں بنیادی غذائی اجناس شامل ہیں۔ مزید براں مفت خوراک اور رہائش کی فراہمی کے علاوہ پاک فضائیہ کے فیلڈ میڈیکل کیمپوں میں میڈیکل ٹیموں نے 3049 مریضوں کا طبی معائنہ بھی کیا۔

    ترجمان پاک فضائیہ کے مطابق پاک فضائیہ کے سی 130 طیاروں کی 90 اور ایم آئی 17 ہیلی کاپٹرز کی 92 جبکہ اے ڈبلیو 139 ہیلی کاپٹرز کی 54 پروازیں کی گئیں اور ہیلی کاپٹرز کے ذریعے 1521 افراد کو ریسکیو کیا گیا اور ہیلی کاپٹرز کے ذریعے 4800 خیمے، 2 لاکھ 16 ہزار 4 کھانے کے پیکٹ تقسیم کیے گئے۔

    ترجمان نے بتایا کہ پاک فضائیہ کی ٹیموں نے 2584 ٹن راشن، ایک لاکھ 96 ہزار 677 لیٹر پینے کا پانی تقسیم کیا جبکہ پاک فضائیہ کے 19 ٹینٹ شہروں میں 18 ہزار 441 افراد مقیم ہیں، متاثرہ علاقوں میں پاک فضائیہ کے 54 ریلیف کیمپ اور 44 میڈیکل کیمپ کام کررہے ہیں۔

    اس کے علاوہ پاک فضائیہ پی اے ایف سندھ کے نواب شاہ، سکھر، میرپور خاص، تلہار، جیکب آباد، سہون، پرپتھو میں امدادی کاموں میں مصروف ہے جبکہ بلوچستان کے سمنگلی، قلعہ عبداللہ اور قلعہ سیف اللہ ، پنجاب میں راجن پور اور ڈی جی خان میں امدادی کاموں میں مصروف ہیں۔ترجمان کا کہنا تھا کہ پاک فضائیہ گلگت بلتستان، اسکردو، غذر، نلتر، گانچھے اور کے پی کے میں نوشہرہ، چارسدہ، خاصگی، سیدو شریف، شانگلہ، لارام میں توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں۔

    عطیات

    سیلاب سے متاثرین کی بحالی کیلئے اب تک 6855.7 ٹن خوردنی اشیاء اور 1203 ٹن غذائی اشیاء جمع کی جا چکی ہیں، مجموعی طور پر 45 لاکھ 97 ہزار 569 مختلف ادویات جمع کی جا چکی ہیں۔اس کے علاوہ اب تک 6452.3 ٹن خوراک اور 1165.3 ٹن غذائی اشیاء تقسیم کی جا چکی ہیں، اب تک 43 لاکھ 30 ہزار 611 ادویات تقسیم کی جا چکی ہیں۔

    آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کانجو اور سوات کا دورہ کیا

    وزیراعظم شہباز شریف نے چارسدہ میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا

    پاک فضائیہ کی خیبر پختونخوا، سندھ، بلوچستان اور جنوبی پنجاب کے سیلاب سے شدید متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیاں۔

  • سال 2022 میں دنیا کےدس مہنگےترین شہر:ہانگ کانگ نے ہیٹرک کرلی

    سال 2022 میں دنیا کےدس مہنگےترین شہر:ہانگ کانگ نے ہیٹرک کرلی

    لاہور:سال 2022 میں دنیا کے دس مہنگےترین شہروں کی فہرست وائرل:ہانگ کانگ نے ہیٹرک کرلی ،اطلاعات کے مطابق دنیا بھر کی معاشی صورت حال کے تحت دنیا کے اندرمہنگائی اورمہنگے شہروں کی درجہ بندی کرنے والی گلوبل موبلٹی کمپنی ای سی اے انٹرنیشنل نے قیام و طعام کی غرض سے رہنے کے لیے دنیا کے مہنگے ترین شہروں کی اپنی سالانہ فہرست جاری کی ہے اور ایک بار پھر ہانگ کانگ اس فہرست میں سرفہرست آ گیا ہے۔

    گلوبل موبلٹی کمپنی ای سی اے انٹرنیشنل کئی عوامل کی بنیاد پر فہرست کا حساب لگاتی ہے، جس میں دودھ اور کوکنگ آئل جیسے گھریلو سامان کی اوسط قیمت، کرایہ، یوٹیلیٹیز، پبلک ٹرانزٹ اور مقامی کرنسی کی طاقت شامل ہیں۔اس ادارے کی رپورٹ کے مطابق یہ لگاتار تیسرا سال ہے جب ہانگ کانگ نے ای سی اے انڈیکس میں دنیا کا سب سے مہنگا شہر ہونے کے اعزاز کا دعویٰ کیا ہے۔ انڈیکس خاص طور پر ان کی درجہ بندی میں غیر ملکی کارکنوں اور غیر ملکیوں پر توجہ مرکوز کرتا ہے۔

    دنیا کے مہنگے اور سستے ترین شہروں کی فہرست جاری،پاکستان کونسی فہرست میں شامل؟

    ایشیا کو سب سے مہنگا براعظم کہنا ایک درست جواز ہے، جہاں پانچ شہر ہانگ کانگ، ٹوکیو، شنگھائی، گوانگزو اور سیول ٹاپ 10 میں شامل ہیں۔کچھ ریگولیٹرز میں مشرق وسطی ایشیا میں شامل ہے۔ اس صورت میں، تل ابیب — جو چھٹے نمبر پر ہے — بھی ایشیا میں شمار ہوتا ہے اور اسے 10 میں سے چھٹا نمبر ملا ہے

    ایشیا کو مجموعی فہرست میں سب سے تیزی سے ابھرتے ہوئے شہر کا گھر ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہے۔ یہ سری لنکا کا مرکزی شہر کولمبو ہوگا، جس نے 162 سے 149 تک 23 درجے چھلانگ لگا دی۔

    ای سی اے کے ایشیا کے لیے علاقائی ڈائریکٹرلی کوان نے انڈیکس پر مین لینڈ چین کی بڑھتی ہوئی موجودگی کی وجہ بیان کی۔ ان کا ایک اور بیان میں کہنا ہے کہ ، "ہماری درجہ بندی میں سرزمین کے چینی شہروں کی اکثریت میں افراط زر کی شرح اس سے کہیں زیادہ ہے جو ہم مسلسل دیکھ رہے ہیں ، لیکن وہ اب بھی عام طور پر ایشیا کے دیگر مقامات سے کم ہیں۔” "لہذا، ان کی درجہ بندی میں اضافے کی بنیادی وجہ دوسری بڑی کرنسیوں کے مقابلے چینی یوآن کی مسلسل مضبوطی ہے۔”

     

    دنیا کے 139 مہنگے ممالک میں پاکستان آخری نمبر پر ہے،شوکت ترین

    پیرس، جو ماضی میں ای سی اے کی فہرست میں سرفہرست رہا ہے، ٹاپ 30 سے ​​باہر ہو گیا۔ میڈرڈ، روم اور برسلز بھی گر گئے۔


    "یورو زون کے تقریباً ہر بڑے شہر نے اس سال درجہ بندی میں تنزلی دیکھی کیونکہ یورو نے گزشتہ 12 مہینوں میں امریکی ڈالر اور برطانوی پاؤنڈ کے مقابلے بدتر کارکردگی کا مظاہرہ کیا،”

    سیاست اور بین الاقوامی تنازعات جیسے بیرونی عوامل بھی شہروں کی درجہ بندی کرتے وقت شامل کیے جاتے ہیں ۔ یوکرین پر روس کے حملے اور کئی ممالک کی طرف سے اس کے ساتھ لگائی گئی پابندیوں کا مطلب یہ تھا کہ ماسکو 62 ویں نمبر پر اور سینٹ پیٹرزبرگ 147 ویں نمبر پر آ گیا۔

    یورپ کا سب سے مہنگا شہر سوئٹزرلینڈ کا جنیوا ہے جو ہانگ کانگ اور نیویارک شہر کے بعد تیسرے نمبر پر تھا۔ سوئٹزرلینڈ یورو کے بجائے سوئس فرانک استعمال کرتا ہے۔کورونا وائرس وبائی مرض نے یقیناً عالمی سپلائی چینز اور دیگر معاشی عوامل میں اپنا کردار ادا کیا ہے۔

    یہ بھی یاد رہے کہ ECA انٹرنیشنل واحد کمپنی نہیں ہے جو معاشیات کی بنیاد پر دنیا کے شہروں کی درجہ بندی کرتی ہے۔لندن میں مقیم اکانومسٹ انٹیلی جنس یونٹ (EIU) ہر دسمبر میں اپنا عالمی لاگت کا انڈیکس جاری کرتا ہے۔ 2021 میں، تل ابیب نے رہنے کے لیے مہنگی ترین جگہ کا انعام حاصل کیا، جبکہ پیرس اور سنگاپور دوسرے نمبر پر رہے۔

    بہت مہنگے اور قیمتی اقوال

    زیورخ کے بعد ہانگ کانگ پانچویں نمبر پر تھا۔ 2020 میں، ہانگ کانگ، زیورخ اور پیرس سب تقریبا ایک دوسرے کے برابر تھے

    دونوں فہرستیں اپنی درجہ بندی کا تعین کرنے کے لیے روزمرہ کی اشیاء جیسے گروسری اور ایندھن کی قیمتوں کا استعمال کرتی ہیں۔ تاہم، EIU اپنے اعداد و شمار کو امریکی ڈالر سے جوڑتا ہے، اس لیے ایسی معیشتیں جو ایک ہی کام کرتی ہیں — جیسے ہانگ کانگ، ایک کے لیے — ان کی درجہ بندی کا زیادہ امکان ہوتا ہے۔کسی بھی طرح قطع نظر اس کے کہ شہروں کو مختلف اشاریہ جات پرپرکھا گیا ہے، یہ واضح ہے کہ ایشیائی، یورپی اور شمالی امریکہ کے شہر افریقہ اور جنوبی امریکہ میں اپنے جیسے شہروں سے کہیں زیادہ مہنگے ہیں۔

    ایک وقت تھا جب نیویارک ٹاپ ٹین میں جگہ دینے والا واحد شمالی امریکہ کا شہر تھا۔لیکن اب نیویارک دوسرے درجے پرآگیا ہے
    دنیا کے مہنگے ترین شہر
    1. ہانگ کانگ
    2. نیویارک
    3. جنیوا
    4. لندن
    5. ٹوکیو
    6. تل ابیب
    7. زیورخ
    8. شنگھائی
    9. گوانگزو
    10. سیئول

  • برطانوی وزیراعظم کوجرمانہ:پاکستانی نظام عدل کوپیغام:ایک نہیں دوپاکستان؟:غلامی زندہ باد

    برطانوی وزیراعظم کوجرمانہ:پاکستانی نظام عدل کوپیغام:ایک نہیں دوپاکستان؟:غلامی زندہ باد

    لندن:(امین طاہرسے)برطانوی وزیراعظم کوجرمانہ:پاکستان کی عدالت عظمیٰ اوراداروں کے لیے پیغام،اطلاعات کے مطابق وزیر اعظم بورس جانسن اور چانسلر رشی سنک کو لاک ڈاؤن کے دوران پارٹیوں میں شرکت کرنے پرقانون کی خلاف ورزی کرنے پر سخت جرمانہ کرنے کی منظوری دے دی گئی ہے

    میٹروپولیٹن پولیس ڈاؤننگ اسٹریٹ اور وائٹ ہال میں ہونے والے 12 اجتماعات کی تحقیقات کر رہی ہے جس نے مبینہ طور پر کوویڈ کے قوانین کو توڑا ہے۔

    برطانیہ جہاں قانون سب کے لیے ایک ہے وہان برطانوی وزیراعظم کے والد کو بھی سخت جرمانے کی سزا سنائی گئی تھی ورونا ایس او پیز کی خلاف ورزی پر برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن کے والد سٹینلے جانسن کو43 ہزار روپے کا جرمانہ کر دیا گیا۔

     

    برطانوی میڈیا کے مطابق بورس جانسن کے والد سٹینلے جانسن کو بغیر ماسک پہنے خریداری کرتے ہوئے دیکھا گیا تھا۔

    اناسی سالہ سٹینلے جانسن نے چند ماہ قبل بھی سفر کے دوران کورونا ایس او پیز کو مکمل طور پر نظر انداز کیا تھا۔ وزیر اعظم بورس جانسن کے والد نے اپنی غلطی مانتے ہوئے معذرت کی ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ وہ گزشتہ 3 ہفتے انگلینڈ سے باہر گزار کے آئے ہیں، واپسی کے فوراً بعد ان سے نئے قوانین کو سمجھنے میں بھول چوک ہوئی اور وہ خلاف ورزی کے مرتکب ہوئے۔

    اب تک، سرکاری عمارتوں میں کووڈ قانون کی خلاف ورزی پر کل 50 سے زائد جرمانے کیے جا چکے ہیں۔

    یاد رہے کہ وزیر اعظم بورس جانسن کے لیے ایک بڑا دھچکا ثابت ہوا جس میں ایک سینئر معاون نے 100 سے زیادہ ساتھیوں کو 20 مئی 2020 کو ہونے والے پروگرام میں مدعو کیا تھا اور انہیں اپنی شراب ساتھ لانے کی ترغیب دی۔

    یہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا تھا جب حکومت عوام کو کھلے مقامات پر بھی ملاقاتیں نہ کرنے کا حکم دے رہی تھی، اور جنازوں سمیت سماجی میل جول پر سخت پابندیاں عائد تھیں۔

    یہ پارٹی کورونا سے متاثر بورس جانسن کے انتہائی نگہداشت سے باہر آنے کے صرف ایک ماہ بعد منعقد کی گئی تھی، اور کچھ رپورٹس میں کہا گیا تھا کہ وہ اس بات سے واقف تھے کہ اس پارٹی کا انعقاد ان کی واپسی پر ’ویلکم بیک‘ ایونٹ کے طور پر کیا گیا تھا۔

    اس وقت پولیس کورونا قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں پر جرمانے عائد کر رہی تھی اور ان کے پاس بار بار قانون توڑنے یا سنگین خلاف وزریوں میں ملوث مجرمان کے خلاف مقدمہ چلانے کا بھی اختیار تھا۔

     

    دوسری طرف پاکستان کی عدالت عظمی اور دیگرماتحت نظام عدل کے منہ پرطمانچہ ہے جہاں انصاف اور ریلیف صرف طاقتور کے لیے ہے اورسزا غریب اوربے سہارا شخص کےلیے ، اس کی تازہ مثال نومنتخب ہونےوالے وزیراعظم شہبازشریف پر16 ارب کی منی لانڈرنگ کے ثبوت ملنے کے باوجود عدالت عظمیٰ نے سب کچھ معاف اور استثنیٰ دیتے ہوئے معصوم عن الخطا قراردیتے ہوئے یہ ثابت کردیا ہے کہ ایک نہیں دو پاکستان

  • لوگوں کی دبئی میں کمپنیاں،بہت جلد سب کچھ سامنے لانے والے ہیں : شوکت ترین

    لوگوں کی دبئی میں کمپنیاں،بہت جلد سب کچھ سامنے لانے والے ہیں : شوکت ترین

    اسلام آباد: لوگوں کی دبئی میں کمپنیاں،بہت جلد سب کچھ سامنے لانے والے ہیں ،اطلاعات کے مطابق وفاقی وزیر خزنہ شوکت ترین نے کہا ہے کہ چپ کرکے تماشا نہیں دیکھیں گے، تحقیقات کر رہے ہیں، لوگوں نے دبئی اور باقی جگہوں پر کمپنیاں کھولی ہوئی ہیں اور اس کے ذریعے ٹرانسفر پرائسنگ کر رہے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ بہت جلد آنکھیں کھول دینے والے حقائق قوم کے سامنے ہوں گے اور پھرسب کو پتہ چل جائے گا کہ کون کہاں کھیل رہا ہے

    اسلام آباد میں تقریب سے خطاب کے دوران فارن ایکسچینج پر بات کرتے ہوئے شوکت ترین نے کہا کہ پتہ نہیں کیا قدغنیں تھیں کہ ہم نے اپنا کیپٹل اکاؤنٹ ہی کھول دیا جبکہ ہم خود کفیل نہیں تھے۔ 1992 کے فنانس ایکٹ کے تحت آپ کچھ بھی کر سکتےہیں، پھر ہماری فارن ایکسچینج کی کمپنیاں اور بروکرز بھی کافی آزاد ہیں، تو فارن ایکسچینج کے ساتھ اس کو باہر لے جانا اور لے آنا، اس کی کوئی دستاویزات نہیں ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ ہمارے ہاں اوور انوائسنگ اور انڈر انوائسنگ ہورہی ہے، پیٹرولیم اور دیگر مصنوعات میں ہماری ٹرانسفر پرائسنگ ہو رہی ہے، اربوں روپے ادھر کے ادھر ہوجاتےہیں، کئی چیزیں پکڑی جارہی ہیں اور اس حوالے سے ایف آئی اے اچھا کام اور بڑا ذمہ داری والا کام کر رہی ہے۔

    ایف آئی اے کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ یہ بڑا بین باجا نہیں کرتے لیکن اندر ہی اندر چیزوں پر اچھی پیشرفت ہو رہی ہے لیکن ہمیں یہ چیزیں ٹھیک کرنی ہیں اور اس کو آٹومیشن کے تھرو ٹھیک کر سکتے ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ ہم کسٹمز میں سنگل ونڈو لے کر آرہے ہیں اور اب وہاں لینس کا سسٹم بھی آئے گا، جو دوسری جگہوں سے قیمتوں کا موازنہ کرے گا اور دیکھے گا کہ جو انوائس آئی ہے وہ متعلقہ ہے یا نہیں اور اگر متعلقہ نہ ہوئی تو کارروائی کی جائے گی۔

    وزیرخزانہ نے کہا کہ میرے علم میں آیا ہے پیٹرولیم مصنوعات میں ٹرانسفر پرائسنگ ہو رہی ہے، اس پر بھی ہمیں ٹیکنالوجی استعمال کرنی ہوگی۔ ہمارے لیے اوور انوائسنگ اور انڈر انوائسنگ بہت بڑا مسئلہ رہا ہے اور اس میں عجیب چیز ہے کہ ہم نے آج تک نوٹس ہی نہیں کیا، نوٹس تو کیا ہوگا لیکن ہم دوسری طرف دیکھتےہیں، سامان چین سے آرہا ہے اور انوائسنگ دبئی سے ہو رہی ہے، چین کا دبئی سے کیا تعلق ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ اس کا مطلب ہے کہ کوئی نہ کوئی دال میں کالا ہے، یہ تو ایک ضعیف اور اندھے آدمی کو بھی نظر آنی چاہیے، لیکن ہم دہائیوں سے چپ کرکے تماشا دیکھ رہے ہیں۔ اب ہم چپ کرکے یہ تماشا نہیں دیکھیں گے، ہم اس میں تحقیقات کر رہے ہیں، لوگوں نے دبئی اور باقی جگہوں پر کمپنیاں کھولی ہوئی ہیں اور اس کے ذریعے ٹرانسفر پرائسنگ کر رہے ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ ہمارا ہارڈ ارن فارن کرنسی کمپرومائز ہو رہا ہے، یہ ایک چھوٹا سا قدم ہے لیکن ہم نے ہر سطح پر ٹیکنالوجی استعمال کرنا ہے، چاہے یہ ٹیکسیشن ہو یا فارن ایکسچینج ہو۔ ٹیکنالوجی کے ذریعے ہم فرق پیدا کرنے میں کامیاب ہوں گے اور پاکستان میں لوگوں کو جو ٹیکس دینا ہے وہ ادا کریں لیکن اس میں رکاؤٹیں نہیں ہونی چاہیئں۔

    وزیرخزانہ نے کہا کہ جب ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہیں تو انسانی مداخلت ختم کرتے ہیں تو لوگ کم از کم اس کا بہانہ نہیں بنا سکتے ہیں۔ چیئرمین ایف بی آر اور دیگر چیئزمینز کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ وہ کم ازکم اقدامات کر رہے ہیں کیونکہ یہ سب ایک دن میں نہیں ہوسکتا، یہ حکومت ہے جو یہ سب کچھ کر رہی ہے۔

  • آئی ایم ایف کی شرط یا بیورو کریسی کی نااہلی یا پھرشوکت ترین وزیراعظم پربھاری:کچھ سمجھ نہیں آرہا

    آئی ایم ایف کی شرط یا بیورو کریسی کی نااہلی یا پھرشوکت ترین وزیراعظم پربھاری:کچھ سمجھ نہیں آرہا

    کراچی: آئی ایم ایف کی شرط یا بیورو کریسی کی نااہلی یا پھرشوکت ترین وزیراعظم پربھاری:کچھ سمجھ نہیں آرہا:تاجربرادری،اطلاعات کے مطابق کراچی کی تاجر برادری اس وقت سخت پریشان ہے ، تاجروں کا کہنا ہے کہ وہ یہ سمجھ نہیں پار ہے کہ کیا یہ فیصلہ آئی ایم ایف کا جبر ہے یا پھربیوروکریسی کی ناہلی ہے کہ وہ ایک طئے شدہ بات پر عمل دراًمد نہیں کرواسکتے یا پھر شوکت ترین وزیراعظم پر بھاری ہیں کہ وزیراعظم کی یقین دہانی کے باوجود کسی کی رائے کا احترم نہیں کیا گیا

    اس حوالے سے کراچی سمیت ملک بھی کی تاجر برادری سخت پریشان ہے ان کا کہنا ہے کہ عجیب معاملہ ہےکہ حکومت خود ہی قانون اور پالیسیاں بناتی ہے اور خود سرکار نے خود اپنا ہی بنایا قانون توڑ دیا

    اس حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ ملکی تاریخ میں پہلی بار ٹیکس فری ایکسپورٹ پراسیسنگ زون پر ٹیکس لگادیا، تاجری برادری کا کہنا تھا کہ فنانس بل میں ایکسپورٹ پراسیسنگ زون کی درآمدات پر 17 فیصد سیلز ٹیکس عائد کی گئی ، تاجر برادری کایہ بھی کہنا ہے کہ ایسے ہونہیں سکتا کیونکہ وزیراعظم ہمیں یقین دہانئی کروا چکے ہیں ، لیکن سوچتے ہیں کہ پھروزیراعظم مجور ہیں کیا یا پھران کو بے خبر رکھا جارہا ہے

    اس حوالے سے ایکسپورٹرز کا مزید کہنا ہے کہ وزیر خزانہ شوکت ترین اور چیئرمین ایف بی آر سے ملاقات بے نتیجہ رہی, اس کے ساتھ ساتھ کراچی اور سیالکوٹ کے برآمد کنندگان کی مسئلہ کے حل کیلئے وزیراعظم عمران خان سے ملاقات اور وزیراعظم نے ہماری بات کو بڑے غور سے سُنا لیکن وزیرخزانہ شوکت ترین درمیان میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کرتے رہے

    برآمدکنندگان کے مطابق سیلز ٹیکس کا نفاذ ای پی زیڈ ایکٹ 1980 کے قانون کی خلاف ورزی تصور ہوگا۔اُن کا مزید کہنا تھا کہ ایکسپورٹ پر سیلز ٹیکس سے حکومت کو ایک روپے کا بھی ٹیکس ریونیو حاصل نہیں ہوگا۔برآمدکنندہ عرفان اخلاص کے مطابق ای پی زیڈ کی تمام تردرآمدات سو فیصد برآمد کردی جاتی ہیں

    اس حوالے سے ایکسپورٹرز نے مزید کہاکہ ایکسپورٹ پر سیلز ٹیکس قانون کے مطابق ریفنڈ کی شکل میں حکومت کو واپس کرنا ہوتا ہے، ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ایکسپورٹ پر سیلز ٹیکس سے حکومت کو ایک روپے کا بھی ٹیکس ریونیو حاصل نہیں ہوگا,

    ایکسپورٹرز نے اس موقع پر یہ بھی انکشاف کیا کہ بات چیت کے دوران وزیرخزانہ اپنی بات پرڈٹے رہے اور کہا کہ ای پی زیڈ کے صنعتکار پوری درآمدات برآمد نہیں کررہے ہیں,

    اس بارے میں وفاقی وزیر خزانہ شوکت ترین اور چیئرمین ایف بی آر سے ملاقات بے نتیجہ رہی,وزیر خزانہ کا موقف ہے کہ ایکسپورٹرزای پی زیڈ کے صنعتکار پوری درآمدات برآمد نہیں کررہے ہیں, جبکہ ایکسپورٹرز کا کہنا ہے کہ سیلز ٹیکس کا نفاذ ای پی زیڈ ایکٹ 1980 کے قانون کی خلاف ورزی تصور ہوگاای پی زیڈ کی تمام تردرآمدات سو فیصد برآمد کردی جاتی ہیں,

    ایکسپورٹر ایکسپورٹ پر سیلز ٹیکس قانون کے مطابق ریفنڈ کی شکل میں حکومت کو واپس کرنا ہوتا ہےایکسپورٹ پر سیلز ٹیکس سے حکومت کو ایک روپے کا بھی ٹیکس ریونیو حاصل نہیں ہوگا, ای پی زیڈ ایکٹ 1980 کے قانون کے خاتمے سے اب ایکسپورٹ پروسیسنگ زون کی درآمدات پر بھی 17فیصدٹیکس لاگو ہوجائے گا۔

    ایکسپورٹرز کا کہنا ہے کہ اگر ہمارا یہ مسئلہ حل نہ کیا گیا تو پھرآنے والے دنوں میں کوئی متفقہ لائحہ عمل تیار کریں گے اورپھر حکومت کو ٹف ٹائم دیں گے اور دیکھیں کہ کون ہےجو جبر کے ذریعے پاکستان کی ایکسپورٹرزکواپنے جبر کا نشانہ بنائے گا