Baaghi TV

Tag: تزئین و آرائش

  • بانی پاکستان کی ولادت پر مزار کی تزئین و آرائش کا کام جاری

    بانی پاکستان کی ولادت پر مزار کی تزئین و آرائش کا کام جاری

    بابائے قوم قائد اعظم محمد علی جناح کے یوم ولادت کی منابست سے مزار قائد کی تزئین و آرائش اورگنبد اورزینوں کے سنگ مرمرکی مرمت کا کام جاری ہے-

    باغی ٹی وی :بانی پاکستان کا یوم ولادت ہر سال 25 دسمبر کوجوش و خروش سے منایا جاتا ہے تاہم اس حوالے سے مزار قائد پر تزئین و آرائش کا کام جاری ہےطویل و عریض رقبے پر پھیلے بانی پاکستان کے مزار کی دیکھ بھال،اور تزئین وآرائش کا سلسلہ پورے سال جاری رہتا ہے،مگر بابائے قوم کی یوم ولادت 25دسمبر کی تیاریوں کے حوالے سے خاص اقدامات کیے جاتے ہیں پیر کواسی تزئین وآرائش کے دوران پاک چین دوستی کی علامت 80 فٹ طویل فانوس کی صفائی کا کام شروع کیا گیا۔

    نجی خبررساں ادارے ایکسپریس کے مطابق کئی روز سے جاری کاموں کے دوران قبر کے گرد موجود چاندی کی جالیوں اورمرکزی دروازوں کے رنگ روغن اور پودوں کی تراش خراش کا کام پورا ہوگیا ہے، گزشتہ روز پیر کوعین قائد اعظم کی قبر پر نصب پاک چین دوستی کی علامت 80 فٹ طویل فانوس کی صفائی کا کام ہوا-

    فوٹو بشکریہ: ایکسپریس
    مزارقائد کے ریذیڈنٹ انجینئرعلیم شیخ کے مطابق بابائے قوم کے مزارکی آرائش ومرمت کا کام پورے سال جاری رہتا ہے تاہم قومی تہواروں پر اس حوالے سے اہتمام بڑھ جاتا ہے اس سلسلے میں سب سے بڑا اقدام 72 فٹ ڈایا میٹر کے گنبد کی مرمت ہے،کیونکہ مسلسل دھوپ اورسردوگرم موسموں کی وجہ سے گنبد کے جوڑوں کی مرمت اور بعدازاں دھلائی ناگزیر ہے بابائے قوم کی قبر پرنصب دیدہ زیب فانوس جس پر ساڑھے 6 کلوگرام سونے کا پانی چڑھا ہوا ہے اس کی صفائی اورپالش کے کام کو بھی خصوصی فوقیت دی جاتی ہے۔

    علیم شیخ کے مطابق پہلا فانوس سن 1971میں چین کے مسلمانوں کی جانب سے تحفے میں دیا گیا تھا جبکہ حالیہ نصب فانوس جمہوریہ چین کے عوام کی جانب سے سن 2017 میں نصب کیا گیا ہے، بابائے قوم کی قبر کے گرد چاندی کی منقش جالیوں اورگنبد کے چاروں دروازوں پرنصب تانبے اورلکڑی کی دیدہ زیب جالیوں کی پالش اوررنگ وروغن بھی جاری ہے۔

    مزار کے احاطے میں تاحد نگاہ بچھے سفیدماربل کی صفائی،پودوں کی تراش خراش،گھانس کی کٹائی،اورمرکزی دروازوں کی رنگ وروغن کا کام بھی جاری ہے،خصوصی دن کی مناسبت سے مزارقائد کے سبزہ زاراورزینوں کی دونوں جانب متعدد اقسام کے خوشنما نئے پودے بھی لگائے گئے ہیں۔

    4 روز بعد ہونے والی 25دسمبر کوتبدیلی گارڈ کے بعد خصوصی تقریبات کے دوران گورنرووزیراعلیٰ سندھ کے علاوہ دیگر اہم شخصیات بانی پاکستان کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے مزارقائد پرحاضری دیں گے بعدازاں مزارقائد بغیر ٹکٹ کے عام شہریوں کے لیے کھول دیا جائے گا۔

    واضح رہے کہ قائد اعظم کی آخری آرام گاہ کی تعمیر کا فیصلہ 21جنوری1956ء کوکیا گیا تھا۔ مزار کے ڈیزائن کےلیے ایک بین الا قوامی مقابلہ منعقد کروایا گیا جس میں یحییٰ مرچنٹ کے پیش کردہ ڈیزائن کی منظوری دی گئی۔ تعمیراتی کام کا باقاعدہ آغاز8فروری1960ء کو کیا گیا اور31مئی1966ء کو مزار کا بنیادی ڈھانچہ مکمل ہوا۔12جون1970ء کو عمارت کو سنگ مرمر سے آراستہ کرنے کا کام پایہ تکمیل کو پہنچا۔

    دسمبر1970ء میں چینی مسلمانوں کی ایسوسی ایشن کی جانب سے81فٹ لمبا خوبصورت فانوس تحفے میں دیا گیا، جسے مزارِ قائد کے گنبد میں نصب کیا گیا۔ فانوس میں41 طاقتور برقی قمقمے نصب تھے۔2016ء میں46سال کے طویل عرصے میں فانوس پرانا ہوجانے کے پیش نظر چین نےایک اور فانوس کا تحفہ دیا، جس کا وزن2من اور قطر28مربع میٹر ہے جبکہ اس میں48برقی قمقمے اور8.3کلو گرام سونے کا بھی استعمال کیا گیا ہے۔ اس فانوس کو نصب کرنے کےلیے چین سے انجینئروں اور ٹیکنیشنز کی13رکنی ٹیم پاکستان آئی، جس نے فانوس کی تنصیب کا کام مکمل کیا۔

    پرانے فانوس کو مزارِقائد کے احاطے میں ہی بطور یادگار رکھا گیا ہے اس موقع پر چین سے فانوس نصب کرنے کےلیے آنے والے ٹیکنیکل ہیڈ، مسٹر چاؤنگ اور مسٹر ڈیوڈ نے اس بات کا اعتراف کیا کہ قائداعظمؒ ایک عالمی لیڈر تھے، جن کی شخصیت کو چین میں بھی انتہائی عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے مزید یہ کہ مزار قائد پر فانوس کی تنصیب اُن کےلیے نہ صرف ایک یادگار لمحہ تھا بلکہ ایک ایسا اعزاز تھا جسے وہ کبھی فراموش نہیں کرسکیں گے۔

    مزار کی تعمیر پر آنے والے تمام اخراجات، جو1کروڑ48لاکھ روپے تھے، عوام کے چندے اور وفاقی و صوبائی حکومتوں کے عطیات سے پورے کیے گئے۔ مزارِ قائد کی اونچائی سطح سمندر سے91فٹ بلند رکھی گئی ہے، اس کا کُل رقبہ131.58ایکڑ ہے جس پر بعد میں خوبصورت باغات لگائے گئے، راہ داریاں بنائی گئیں اور فوارے و آبشاریں نصب کی گئیں۔15جنوری1971ء کو مزارِ قائد باضابطہ طور پر شہریوں کےلیے کھول دیا گیا جس کے بعد سے عوام کا ایک جم غفیر روزانہ بابائے قوم حضرت قائد اعظم محمد علی جناح ؒ کے مزار پر فاتحہ خوانی کےلیے آتا ہے۔

    1995ء میں مزار کو مزید خوبصورت اور سرسبز بنانے کی منظوری دی گئی اور اس کا نام ’’باغِ قائد اعظم‘‘ رکھ دیا گیا۔ مزار کے احاطے میں لینڈ لائٹس، ٹاپ لائٹس اور زیرِ آب لائٹس کا جال بچھا دیا گیا، جس کے بعد مزار قائد مکمل طور پر ایک جدید باغ بن گیا۔ مزار میں داخل ہونے کے لیے مختلف ناموں سے5 دروازے بنائے گئے ہیں جنہیں بابِ جناح، بابِ قائدین، بابِ تنظیم، بابِ امام اور بابِ اتحاد کا نام دیا گیا۔ مزار کا گنبد کئی میل دور سے دیکھا جا سکتا ہے۔

    تعمیرات اور تزئین و آرائش کے پورے مرحلے میں تقریباً 4لاکھ28ہزار مربع فٹ سنگِ مرمر،4ہزار ٹن سیمنٹ، 565ٹن فولاد،64ہزار فٹ پائپ، 248زیرِ زمیں روشنیاں،69راستوں کی روشنیاں اور چبوترے کے لیے 64فلڈ لائٹس کا استعمال کیا گیا ہے، جس پر33کروڑ روپے لاگت آئی۔ باغ کو مزید خوبصورت بنانے کےلیے36اقسام کے5ہزار درخت،46ہزار749مربع فٹ گھاس اور ڈھائی ہزار بینچ بنوائی گئیں، جس کے سبب آج اسے کراچی کا سب سے پُررونق اور حسین باغ ہونے کا درجہ حاصل ہے۔

    مزار قائد اپنی منفرد عمارت اور اچھوتے طرز تعمیر کی وجہ سے پاکستان کی بہترین عمارتوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ ایک اور خاص بات یہ ہے کہ مزار کی تعمیر میں استعمال ہونے والا تمام سامان ملکی ذرائع سے حاصل کیا گیا ہے اور یہ ہمارے ملکی معماروں اور ہنرمندوں کی شبانہ روز محنت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ مزار کی تعمیر میں قائد کی شخصیت، کردار، مرتبے اور اسلامی فن تعمیر کو خصوصی طور پر مدنظر رکھا گیا ہے۔

    مزار کے ڈیزائنر جناب یحیٰ مرچنٹ نے ڈیزائن میں بہت ساری تشبیہات سے کام لیا ہے۔ انہوں نے خود کہا کہ ’’کراچی ایک ایسا شہر ہے جہاں قائد پیدا ہوئے، زندگی بھر مسلمانانِ ہند کی رہنمائی کے بعد انتقال بھی یہیں کیا،اس مزار کو ڈیزائن کرتے ہوئے میں نے عظیم رہنما کی ذاتی خصوصیات کو بھی پیش نظر رکھا‘‘۔ مزار کے احاطے میں پاکستان کے پہلے وزیر اعظم محترم لیاقت علی خان اورقائدِ محترم کی ہمشیرہ محترمہ فاطمہ جناح بھی مدفون ہیں۔

  • تھانوں کی تزئین و آرائش جاری

    تھانوں کی تزئین و آرائش جاری

    قصور
    ڈی پی او قصور زاہد نواز مروت کی پیشہ وارانہ خدمات کے پیش نظر ضلع بھر میں تھانہ کلچر کی تبدیلی کی طرف گامزن

    تفصیلات کے مطابق ڈی پی او کی ہدایت پر ضلعی پولیس نے اپنی مدد آپ کے تحت تھانوں کی تزئین و آرائش شروع کر دی ہے دو تھانوں اے ڈویژن اور مصطفی آبادکی تزئین و آرائش کا کام مکمل کرکے ماڈل پولیس اسٹیشن بنادیا گیا جبکہ 18 پولیس اسٹیشنوں کی تزئین و آرائش کا کام جاری ہے جنہیں بہت جلد مکمل کرلیا جائے گا پولیس اسٹیشنوں کی تزئین و آرائش کا مقصد عوام کو زیادہ سے زیادہ سہولیات سے آراستہ کرنا اور شہریوں کیلئے آسانیاں پیدا کرنا ہے

  • چھ عادتیں اپنائیں، اپنا گھر ہمیشہ سمٹا پائیں ۔۔۔ شوکت سلفی

    چھ عادتیں اپنائیں، اپنا گھر ہمیشہ سمٹا پائیں ۔۔۔ شوکت سلفی

    گھر اور زندگی کو آرگنائز رکھنا بہت مشکل کام ہے لیکن ناممکن بالکل نہیں ہے۔ زندگی گزارنے کے کچھ طور طریقے ہوتے ہیں کچھ اصول ہوتے ہیں جس پر چل کر ہی انسان انسان کہلاتا ہے۔ اسی طرح گھر میں بھی ترتیب اور اصول بہت ضروری ہے لیکن یہ تب ہی ممکن ہوسکتا ہے جب گھر اور معاملاتِ زندگی کو منظم انداز میں چلایا جائے۔

    گھر ایک ایسی جگہ ہے کہ جس کے بارے میں سوچتے ہی ہمارے ذہن میں سب سے پہلا خیال سکون و راحت کا آتا ہے۔ تھکا ہارا جب انسان گھر لوٹتا ہے تو وہ اپنے گھر کے ہر حصے کو صاف اور نفاست سے سجا دیکھنا چاہتا ہے۔ کمرہ ہو یا واش روم، کچن ہویا ڈرائنگ روم ہر ایک جگہ میں انسان آرام تلاش کرتا ہے۔ الماری میں کپڑے بکھرے رہنا، کمرے میں بے ترتیبی، واش روم کی صفائی نہ ہونا، کچن میں ہر چیز بے ترتیب انداز میں ہونا یہ سب جہاں سستی اور کاہلی کی نشانی ہے وہیں یہ بے ترتیبی انسان کی زندگی پر منفی اثر بھی چھوڑتی ہے۔ ناصرف گھر خوبصورت نظر آنے کے لیے بلکہ ذہنی سکون کیلئے بھی گھر میں صفائی ستھرائی کا خیال رکھنا بےحد اہم ہے کیونکہ اسکا اثر براہِ راست انسان کی شخصیت اور مزاج پر پڑتا ہے۔ ہم آپ کو چند ایسی عادتیں بتاتے ہیں جنھیں اگر آپ اپنا لیں تو گھر کو صاف رکھنا بے حد آسان ہو جائے گا۔

    1۔جو چیز جہاں سے اٹھائیں وہیں رکھیں

    سامان کا بکھرنا اور چیزوں کو اِدھر اُدھر پھیلا دینا گھر کی بے ترتیبی کی سب سے بڑی وجہ ہے۔ کپڑوں کا پلنگ پر بکھرا ہونا، اخبارات کا ٹیبل پر پڑا رہنا، ڈریسنگ ٹیبل پر لپ اسٹک یا پاﺅڈر کھلے پڑے رہنا یہ سب بےقاعدگی کی نشانی ہے۔ الماری میں کپڑے طے کرکے رکھیں۔ روز مرّہ کے کپڑے ایک طرف رکھیں اور دعوتوں، شادیوں کے کپڑوں کو الگ شیلف میں رکھیں۔ ضروری کاغذات کو اِدھر اُدھر پھیلانے کے بجائے الماری کے دراز میں کسی فولڈر میں رکھیں۔ کپڑے، پرس، جیولری یہاں تک کے جوتوں کی بھی جگہوں کو الگ رکھیں۔

    2۔باکسزکا زیادہ سے زیادہ استعمال کریں

    کوشش کیا کریں کہ چیزوں کو رکھنے کے لیے باکس کا استعمال کریں ۔چاہے وہ چارجر ہو یا ائیر فون۔ نیل کٹرسے لے کر ہیئرپن تک کے لیے باکسز بنائیں تاکہ دراز میں بھی چیزیں بکھری نہ پڑی رہیں۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ جب کہیں جانے کی جلدی ہو اور مذکورہ چیز نہ مل رہی ہوتو ڈھونڈنے کے چکر میں پندرہ سے بیس منٹ ضائع ہوجاتے ہیں۔ چیزوں کو باکس کے اندر رکھنا سیکھئے تاکہ کھونے یا گُم جانے کے چکر سے بچا جاسکے۔ باکس پر نام بھی لکھا جا سکتا ہے یا رنگ کے حساب سے چیزوں کو رکھا جا سکتا ہے جیسے نیلے ڈبے میں چوڑیاں ہیں تو پیلے ڈبے میں بال پن۔

    3۔کچن کا سلیب ہمیشہ صاف رکھیں

    کچن گھر کا وہ حصہ ہے جوکہ گھر کی خواتین کے لیے ہر وقت مصروفِ عمل رہنے کی جگہ ہوتی ہے اور اسی سے خواتین کے سگھڑپن کا اندازہ بھی لگایا جاتا ہے۔ کچن کو صاف رکھنا اور کھانا پکاتے وقت چیزوں کو نہ پھیلانا بھی ایک آرٹ ہے جسے ہر عورت کو آنا چاہیئے۔ غیر ضروری برتن نکالنے سے گریز کیا کریں۔ مصالحے کے ڈبے کو ہمیشہ ترتیب سے رکھیں۔سنک سے لے کر اوون تک کی صفائی اہم ہے۔ ہفتے میں ایک بار کیبنٹ اندر سے ضرور صاف کریں۔

    4۔گھر میں بے جا سامان نہ بھریں

    گھر کو صاف اور اچھا رکھنے کیلئے جہاں صفائی اور مینٹیننس ضروری ہے وہیں یہ بھی ضروری ہے کہ بے جا اور غیر ضروری سامان سے پرہیز کیا جائے۔ کبھی کبھی یہ بھی ضروری ہے وہ بھی ضروری ہے کے چکر میں سامان کا انبار جمع ہو جاتا ہے ۔ وہ کچن ہو یا گھر کا کوئی بھی حصہ صرف یہی نہیں اکثر لوگ اپنے گھروں کی چھتوں میں کاٹھ کباڑ کا پہاڑ اکھٹا کرکے رکھتے ہیں۔ گھر کو اچھا، پرسکون اور آرام دہ رکھنے کیلئے یہ بھی ناگزیرہے کہ صرف وہی اشیاء رکھیں جوکہ کام کی ہیں غیر ضروری اور پرانی ہوچکی چیزوں کو رکھنا بالکل بے کار ہے کیونکہ نہ تو اسے استعمال میں آنا ہے اور نہ ہی صحیح ہونا ہے اس سے بہتر ہے کہ اسے نکال کر گھر کو خراب لگنے سے بچالیں ۔

    5۔روزانہ ڈسٹنگ کریں

    گھر کو صاف ستھرا رکھنے کیلئے روزانہ کی جھاڑبونچھ اور ڈسٹنگ بہت ضروری ہے ۔دھول مٹی اور گردوغبار کے جمع ہوجانے سے گھرنا صرف خراب لگتا ہے بلکہ چیزیں خراب ہوجاتی ہیں جیسے قالین یا گھر کا دیگر سامان۔

    6۔چھوٹی موٹی مرمتیں کراتے رہیں

    وہ رنگ ہو یا مرمت ہر چیز حفاظت مانگتی ہے کپڑے بھی اگر پھٹ جائیں تو ہم سی لیتے ہیں اسی طرح گھر کی کوئی چیز خرابی کا شکار ہوجائے تو اسکی مرمت بہت ضروری ہے تاکہ چیزوں کو بُرا لگنے اور خرابی سے بچایا جاسکے۔کوشش کریں کہ تھوڑی بھت توڑ پھوڑ پر ہی مرمت کرالیں ۔ کیونکہ زیادہ دیر لگانے سے بعض اوقات چھوٹا کام بھی بڑا خرچہ کرا دیتا ہے ۔