Baaghi TV

Tag: تشدد

  • رضوانہ کی حالت بہتری کی جانب گامزن تاہم کریٹیکل فیز سے ابھی باہر نہیں آئی

    رضوانہ کی حالت بہتری کی جانب گامزن تاہم کریٹیکل فیز سے ابھی باہر نہیں آئی

    پرنسپل پوسٹ گریجویٹ میڈیکل انسی ٹیوٹ پروفیسر ڈاکٹر محمد الفرید ظفر نے کہا کہ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم اور ڈاکٹروں کی دن رات پیشہ وارانہ محنت کی بدولت 10روز قبل سرگودھا سے انتہائی تشویشناک حالت میں لاہور جنرل ہسپتال میں منتقل کی جانے والی گھریلو تشدد کا شکار زخمی رضوانہ کی صحت میں بہتری آ رہی ہے

    بدھ کے روز مضروبہ کی موجودہ صحت کی تازہ صورتحال بارے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا پرنسپل پروفیسر الفرید ظفر نے بتایا کہ اب رضوانہ کھانا خود مانگ رہی ہے اور نفسیاتی کیفیت بھی دو دن سے ٹھیک ہے۔ سپیشل میڈیکل بورڈ کے سربراہ پروفیسر جودت سلیم ایم ایس ڈاکٹر خالد بن اسلم و دیگر طبی ماہرین بھی موجود تھے۔ ڈاکٹر الفرید ظفر کے مطابق رضوانہ نے گزشتہ رات کہا کہ ”مجھے گھر جانا” ہے۔لڑکی کی حالت پہلے سے بہتر ہے لیکن پھیپھڑوں میں انفیکشن کے باعث سانس میں بعض اوقات دشواری آتی ہے جس سے بعض اوقات حالت تشویشناک ہوجاتی ہے۔

    مزید برآں رضوانہ کے خون میں انفیکشن کے باعث جسم کے اعضاء متاثر ہوئے اور انفیکشن کنٹرول ہونے کے بعد دائیں بازو کی سرجری ممکن ہوگی۔پرنسپل پروفیسر الفرید کا کہنا تھا کہ ہسپتال آنے سے قبل رضوانہ کو میڈیکل کئیر بہتر طریقے سے نہیں ملی جس کی وجہ سے زخم خراب ہوئے اور انفیکشن جسم کے مختلف حصوں میں پھیلا۔ انہوں نے بتایا کہ میڈیکل اسٹاف رضوانہ کی روزانہ دو سے تین مرتبہ ڈریسنگ (مرہم پٹی) تبدیل کرتا ہے اور مضروبہ کے اندرونی اعضاء پھپھڑوں اور دل کے حوالے سے مسائل بھی موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ رضوانہ کے سانس کا لیول ڈراپ ہونے سے تشویشناک حالت بڑھتی ہے۔ ڈاکٹرز زخمی بچی کی دو دفعہ برونکو سکوپی کر چکے ہیں مزید برونکو سکوپی نہیں کر سکتے۔رضوانہ کے بازوؤں کے دو فریکچر ہیں دائیں بازو کی سرجری ہوگی تاہم ایسا تبھی ممکن ہوگا جب رضوانہ کے جسم میں انفیکشن مکمل کنٹرول ہو گا۔اسے خون بھی لگایا جا رہا ہے۔پرنسپل لاہور جنرل ہسپتال کا کہنا تھا کہ ماہر ڈاکٹرز کا میڈیکل بورڈ رضوانہ کا علاج نہایت محنت اور لگن سے کر رہا ہے اگر صحت میں بہتری کا عمل تین چار دن جاری رہا تورضوانہ ریکوری کے فیز میں داخل ہو جائے گی۔

    طالبہ کے ساتھ جنسی تعلق،حمل ہونے پر پرنسپل نے اسقاط حمل کروا دیا

    ویڈیو بنا کر ہراساں کرنے کے ملزم کی درخواست ضمانت پر فیصلہ محفوظ

    ناکے پر کیوں نہیں رکے؟ پولیس اہلکار نے شہری پر گولیاں چلا دیں

    بارہ سالہ بچی کی نازیبا ویڈیو بنانے والا ملزم گرفتار

    واقعہ کا اسلام آباد پولیس نے مقدمہ درج کر لیا

     ابتدائی طور پر بچی کے زخم پرانے ہیں تاہم حتمی فیصلہ میڈیکل بورڈ کی رپورٹ پر ہوگا

    پولیس نے بچی اور اسکے والد کا بیان ریکارڈ کر لیا

    میری اہلیہ سخت مزاج ہے لیکن اس نے مارپیٹ نہیں کی ہے

    وزیراعظم نے کہا ہے کہ بچی کوعلاج کی بہترین سہولیات کی فراہم کی جائیں

    واضح رہے کہ تشدد کا شکار 14 سالہ گھریلو ملازمہ رضوانہ کا تعلق سرگودھا سے ہے تشدد کا واقعہ علاقہ تھانہ ہمک اسلام آباد میں پیش آیا ، بچی کو مضروب حالت میں اس کی والدہ اسلام آباد سے واپس سرگودھا لیکر آئی،

  • تعلیم یافتہ، باوقار خاتون ہوں،ملازمہ پر تشدد نہیں کیا،جج کی اہلیہ کی ضمانت کی درخواست دائر

    تعلیم یافتہ، باوقار خاتون ہوں،ملازمہ پر تشدد نہیں کیا،جج کی اہلیہ کی ضمانت کی درخواست دائر

    ڈسٹر کٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد میں کم سن ملازمہ تشدد کے کیس میں ملزمہ کی ضمانت قبل از گرفتارکی درخواست کی سماعت ہوئی ،

    سول جج کی اہلیہ اورمرکزی ملزمہ خود عدالت میں پیش ہوئیں جبکہ متاثرہ کمسن ملازمہ کی جانب سے جہانگیر جدون عدالت میں پیش ہوئے ۔ جج ڈاکٹر عابدہ سجاد نے استفسار کیا کہ مرکزہ ملزمہ کا شناختی کارڈ کہاں ہے ؟ شناختی کارڈ لائیں تا کہ پہچا ن کر سکوں کہ یہی درخواست گزار ہیں ،سیشن عدالت نے ملزمہ کا اصل شناختی کارڈ عدالت میں جمع کروانے کا حکم جاری کر دیا

    رضوانہ تشدد کیس میں جج کی اہلیہ سومیہ عاصم کی ضمانت منظورکر لی گئی،سول جج عاصم حفیظ کی اہلیہ سومیہ عاصم کی اسلام آباد کہچری سے ایک لاکھ روپے مچلکوں کے عوض 7 اگست تک ایڈیشنل سیشن جج ڈاکٹر عابدہ سجاد نے عبوری ضمانت منظور کر لی

    ملزمہ ضمانت ملنے پر عدالت سے روانہ ہو گئی، ملزمہ سے صحافیوں نے سوالات کئے تا ہم سومیہ عاصم کی جانب سے کسی بھی سوال کا جواب نہ دیا گیا

    ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس ،14 سالہ کم سن بچی پر جج کی اہلیہ کے بدترین تشدد کا معاملہ ،جج کی اہلیہ نے ضمانت قبل از گرفتاری کے لئے اسلام آباد ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس سے رجوع کر لیا ،کیس کی سماعت کونسی عدالت میں ہوگی، ڈیوٹی جج کچھ ہی دیر میں فیصلہ کریں گی ،ملزمہ سومیا عاصم نے ضمانت کے لیے عدالت سے رجوع کرلیا ملزمہ سومیا عاصم نے کہانی من گھڑت قرار دے دی،سومیا عاصم نے عدالت میں دائر درخواست میں کہا کہ رضوانہ اپنے والدین کی مرضی سے میرے گھر میں ملازمہ تھی ، ایف آئی آر میں بیان کی گئی کہانی درست نہیں ، رضوانہ پر کبھی بھی تشدد نہیں کیا، تفتیش میں اپنے موقف کو درست ثابت کروں گی،رضوانہ کی عمر سترہ سال سے زائد ہے، رضوانہ کیساتھ اپنے نو سے بارہ سال کے تین بچوں کی طرح ہمیشہ نرمی سے پیش آتی رہی ہوں ،مبینہ وقوع سے پہلے جب سے رضوانہ میرے پاس کام کررہی ہے کبھی کوئی شکایت نہیں تھی، حقائق کو توڑ مروڑ کر میرے خلاف استعمال کیا جارہا ہے،میں بھی منفی مہم کی متاثرہ ہوں جو میرے اچھی شہرت کے حامل شوہر سول جج کیخلاف چلائی جارہی ہے، اس ذہنی ٹراما کی وجہ سے مجھے شدید مشکلات کا سامنا ہے،تعلیم یافتہ اور باوقار خاتون ہوں بدنیتی کی بنیاد پر کیس میں پھنسایا جارہا ہے، پولیس کے سامنے شامل تفتیش ہونے کو تیار ہوں ،ضمانت قبل از گرفتاری منظور کی جائے

    سول جج کے گھر تشدد کا نشانہ بننے والی رضوانہ جنرل ہسپتال میں زیر علاج ہے،سربراہ میڈیکل بورڈ پروفیسر جودت سلیم کا کہنا ہے کہ رضوانہ کی صحت کل کے مقابلے میں بہتر ہو گئی ہے ، سانس لینے میں جو مشکلات آرہی تھیں اور آکسیجن لگائی گئی اس کی ضرورت اب کم ہو رہی ہے ،رضوانہ کو جن انفکیشن کی وجہ سے مشکلات تھیں اب ان کے رزلٹ میں بہتری آئی ہے ، بچی نے آج ٹھوس غذا کھانے کے لیے مانگی ہے ،رضوانہ نے آج نرم غذا بھی شروع کر دی ہے۔ رضوانہ کو جوسز اور پانی فراہم کیا جا رہا ہے۔ رضوانہ کے ہوش و حواس میں تھوڑی بہتری آئی ہے اور وہ بات چیت کر رہی ہے ،رضوانہ سرجیکل آئی سی یو میں رہے گی،رضوانہ کو سانس لینے میں تکلیف ہے، رضوانہ کو آکیسجن لگائی گئی ہے،آکسیجن کی مقدار کو کم کر دیا ہے،ٹوٹے ہوئے بازوؤں پر فل الحال پلاسٹر لگا دیا ہے،زخموں کی نوعیت جانچنے کے لیے فرانزک والوں سے ٹیسٹ کروا رہے ہیں،

    طالبہ کے ساتھ جنسی تعلق،حمل ہونے پر پرنسپل نے اسقاط حمل کروا دیا

    ویڈیو بنا کر ہراساں کرنے کے ملزم کی درخواست ضمانت پر فیصلہ محفوظ

    ناکے پر کیوں نہیں رکے؟ پولیس اہلکار نے شہری پر گولیاں چلا دیں

    بارہ سالہ بچی کی نازیبا ویڈیو بنانے والا ملزم گرفتار

    واقعہ کا اسلام آباد پولیس نے مقدمہ درج کر لیا

     ابتدائی طور پر بچی کے زخم پرانے ہیں تاہم حتمی فیصلہ میڈیکل بورڈ کی رپورٹ پر ہوگا

    پولیس نے بچی اور اسکے والد کا بیان ریکارڈ کر لیا

    میری اہلیہ سخت مزاج ہے لیکن اس نے مارپیٹ نہیں کی ہے

    وزیراعظم نے کہا ہے کہ بچی کوعلاج کی بہترین سہولیات کی فراہم کی جائیں

    واضح رہے کہ تشدد کا شکار 14 سالہ گھریلو ملازمہ رضوانہ کا تعلق سرگودھا سے ہے تشدد کا واقعہ علاقہ تھانہ ہمک اسلام آباد میں پیش آیا ، بچی کو مضروب حالت میں اس کی والدہ اسلام آباد سے واپس سرگودھا لیکر آئی،

  • اسلام آباد بچی تشدد کیس،مقدمے میں وحشیانہ تشدد کے نئے دفعات شامل

    اسلام آباد بچی تشدد کیس،مقدمے میں وحشیانہ تشدد کے نئے دفعات شامل

    اسلام آباد میں سول جج کی بیوی کی جانب سے گھریلو ملازمہ بچی پر مبینہ تشدد کے مقدمے میں نئی دفعہ شامل کی گئی ہے۔ اسلام آباد میں سول جج عاصم حفیظ کی اہلیہ کی جانب سےگھریلو ملازمہ بچی پر مبینہ تشدد کی ایف آئی آر میں وحشیانہ تشدد کرکے اعضا توڑنے کی دفعہ 328 اے شامل کر لی گئی ہے، اس سے پہلے ایف ائی آر میں لگائی گئی دفعات قابل ضمانت تھیں، دفعہ 328 اے میڈيکل رپورٹ کی روشنی میں لگائی گئی ہے۔
    اس سے پہلے اسلام آباد پولیس نے یہ مقدمہ صرف حبس بے جا میں رکھنے اور جان سے مارنے کی دھمکیاں دینے کی دفعات کے تحت درج کیا تھا، قانونی طور پر کمزور ایف آئی آر کی وجہ سے اسلام آباد کے سول جج عاصم حفیظ کی اہلیہ نے عدالت سے حفاظتی ضمانت حاصل کر لی تھی۔ واضح رہے تشدد کی شکار بچی کا معاملہ 24 جولائی کو سامنے آيا تھا، بچی کی ماں نے جج کی اہلیہ پر تشدد کا الزام لگایا تھا، جب بچی کو اسپتال پہنچایا گیا تو اس کے سر کے زخم میں کيڑے پڑ چکے تھے اور دونوں بازو ٹوٹے ہوئے تھے اور وہ خوف زدہ تھی۔

  • گھریلو ملازمہ پر تشدد،کمسن بچی اور والد کا بیان ریکارڈ

    گھریلو ملازمہ پر تشدد،کمسن بچی اور والد کا بیان ریکارڈ

    گھریلو ملازمہ بچی پر تشدد کا معاملہ،پولیس نے بچی اور اسکے والد کا بیان ریکارڈ کر لیا

    ترجمان اسلام آباد پولیس کے مطابق مضروب بچی اور اس کے والد کا بیان قلمبند کرلیا گیا ہے۔ ملزمہ نے یکم اگست تک ضمانت حاصل کر رکھی ہے۔ اسلام آباد پولیس کو مصدقہ میڈیکل رپورٹ تاحال موصول نہیں ہوئی ہے۔ جرم میں شریک تمام افراد کی چھان بین کی جارہی ہے۔ تمام کارروائی قانون کے مطابق عمل میں لائی جارہی ہے۔ چائلڈ لیبر قانوناً جرم ہے. ایسے کسی بھی واقعہ کا کسی کو علم ہو تو پکار 15 پر پولیس کو اطلاع دیں۔

    متاثرہ بچی کے ملزم کو ضمانت ملنے پر افسوس ہے ، شزا فاطمہ خواجہ
    وزیر اعظم کی معاون خصوصی برائے امور نوجوان شزا فاطمہ خواجہ نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ رضوانہ کو انصاف دلانے میں ناکام ہوئے تو کل ہماری بچیوں کے ساتھ بھی ہوسکتا ہے ، متاثرہ بچی کے ملزم کو ضمانت ملنے پر افسوس ہے ،چاہے وہ کوئی بھی ہو، سیاستدان ہو، یا کوئی بھی، ناقابل برداشت ہے کہ بچی پر اس طرح وحشیانہ تشدد کیا جائے اور پھر ملزم کو ضمانت مل جائے، ہمارا معاشرہ، مزہب کہتا ہے کہ بیٹیاں سانجھی ہوتی ہیں، جنگ میں بھی دشمن کی بیٹیوں کا خیال رکھا جاتا ہے

    دوسری جانب کمسن گھریلو ملازمہ رضوانہ خوف کے مرض کا شکار ہوگئی ہے، رضوانہ ہسپتال میں داخل ہے اور جب کوئی اسکے قریب آتا ہے تو وہ چیختی اور چلاتی ہے کہ مجھے نہ مارو، والدین قریب آتے ہیں تو وہ انکو دیکھ کر بھی مسکرا نہیں پاتی، کمسن بچی کے سر کے زخم میں کیڑے ہیں، سر کا انفکیشن آنکھوں میں اتر گیا ہے، گردے اور جگر بھی متاثر ہوئے ہیں،

    طالبہ کے ساتھ جنسی تعلق،حمل ہونے پر پرنسپل نے اسقاط حمل کروا دیا

    ویڈیو بنا کر ہراساں کرنے کے ملزم کی درخواست ضمانت پر فیصلہ محفوظ

    ناکے پر کیوں نہیں رکے؟ پولیس اہلکار نے شہری پر گولیاں چلا دیں

    بارہ سالہ بچی کی نازیبا ویڈیو بنانے والا ملزم گرفتار

    واقعہ کا اسلام آباد پولیس نے مقدمہ درج کر لیا

     ابتدائی طور پر بچی کے زخم پرانے ہیں تاہم حتمی فیصلہ میڈیکل بورڈ کی رپورٹ پر ہوگا

    واضح رہے کہ تشدد کا شکار 14 سالہ گھریلو ملازمہ رضوانہ کا تعلق سرگودھا سے ہے تشدد کا واقعہ علاقہ تھانہ ہمک اسلام آباد میں پیش آیا ، بچی کو مضروب حالت میں اس کی والدہ اسلام آباد سے واپس سرگودھا لیکر آئی،

  • گھریلو ملازمہ پر تشدد،ملزمہ کو گرفتاری سے قبل ہی ملی ضمانت

    گھریلو ملازمہ پر تشدد،ملزمہ کو گرفتاری سے قبل ہی ملی ضمانت

    لاہور ہائیکورٹ: گھریلو ملازمہ بچی پر تشدد کا معاملہ ،عدالت نے سول جج کی اہلیہ سومیہ عاصم کی حفاظتی ضمانت منظور کرلی

    جسٹس فاروق حیدر نے سومیہ عاصم کی حفاظتی ضمانت کی درخواست پر سماعت کی ،عدالت نے سومیہ عاصم کی یکم اگست تک حفاظتی ضمانت منظور کرلی اور گرفتار کرنے روک دیا ،سومیہ عاصم کیخلاف اسلام آباد کے پولیس اسٹیشن میں مقدمہ درج ہے

    دوسری جانب کمسن گھریلو ملازمہ رضوانہ خوف کے مرض کا شکار ہوگئی ہے، رضوانہ ہسپتال میں داخل ہے اور جب کوئی اسکے قریب آتا ہے تو وہ چیختی اور چلاتی ہے کہ مجھے نہ مارو، والدین قریب آتے ہیں تو وہ انکو دیکھ کر بھی مسکرا نہیں پاتی، کمسن بچی کے سر کے زخم میں کیڑے ہیں، سر کا انفکیشن آنکھوں میں اتر گیا ہے، گردے اور جگر بھی متاثر ہوئے ہیں،

    پرنسپل جنرل ہسپتال کا کہنا ہے کہ سپیشل میڈیکل بورڈ میں پلاسٹک سرجری کا ڈاکٹر بھی شامل کر لیا گیا ہے زخموں کے انفیکشن اور جلد ریکوری کے لئے معیاری ادویات دی جا رہی ہیں روزانہ کی بنیادپر ڈاکٹر ز متاثرہ بچی کا طبی معائنہ جاری رکھیں گے بچی کی جلد صحت یابی کیلئے علاج معالجہ کی بہترین سہولیات و خصوصی نگہداشت جاری رکھی جائے

    طالبہ کے ساتھ جنسی تعلق،حمل ہونے پر پرنسپل نے اسقاط حمل کروا دیا

    ویڈیو بنا کر ہراساں کرنے کے ملزم کی درخواست ضمانت پر فیصلہ محفوظ

    ناکے پر کیوں نہیں رکے؟ پولیس اہلکار نے شہری پر گولیاں چلا دیں

    بارہ سالہ بچی کی نازیبا ویڈیو بنانے والا ملزم گرفتار

    واقعہ کا اسلام آباد پولیس نے مقدمہ درج کر لیا

     ابتدائی طور پر بچی کے زخم پرانے ہیں تاہم حتمی فیصلہ میڈیکل بورڈ کی رپورٹ پر ہوگا

    واضح رہے کہ تشدد کا شکار 14 سالہ گھریلو ملازمہ رضوانہ کا تعلق سرگودھا سے ہے تشدد کا واقعہ علاقہ تھانہ ہمک اسلام آباد میں پیش آیا ، بچی کو مضروب حالت میں اس کی والدہ اسلام آباد سے واپس سرگودھا لیکر آئی،

  • گھریلو ملازمہ پر تشدد،ملزمہ ابھی تک شامل تفتیش نہیں ہوئی

    گھریلو ملازمہ پر تشدد،ملزمہ ابھی تک شامل تفتیش نہیں ہوئی

    سول جج کی اہلیہ کی جانب سے گھریلو ملازمہ پر تشدد کا معاملہ ،وفاقی پولیس کی ٹیم متاثرہ بچی کے والدین سے ملنے لاہور روانہ ہوئی ہے،

    پولیس ٹیم والدین سے کیس کے حوالے سے مزید تفتیش کے سلسلے میں روانہ ہوئی، پولیس کی جانب سے گزشتہ روز سول جج کے آبائی گاؤں کی رہائشگاہ پر بھی چھاپہ مارا گیا،پولیس کی جانب سے اسلام آباد، گوجرانوالہ اور آبائی گاؤں کی رہائش گاہوں کی مانیٹرنگ کا فیصلہ کیا گیا ہے ،تینوں مقامات پر سول کپڑوں میں ملبوس پولیس اہلکار تعینات کر دئیے گئے، پولیس کی جانب سے ملزمہ کے موبائل نمبر کی بھی ٹریسنگ کا فیصلہ کیا گیا ہے،ملزمہ ابھی تک شامل تفتیش نہیں ہوئی،

    سول جج کے گھر تشدد کا نشانہ بننے والی رضوانہ جنرل ہسپتال میں زیر علاج ہے، لاہور جنرل ہسپتال میں گھریلو تشدد کی زیر علاج بچی کی تازہ ترین صحت کی صورتحال بارے اجلاس ہوا.میڈیکل بورڈ کے سربراہ پروفیسر جودت سلیم نے پرنسپل پی جی ایم آئی کو تفصیلات سے آگاہ کیا ،ڈاکٹرز نے بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ بچی کو برین سرجری کی ضرورت نہیں، دماغی سوزش ادویات سے کنٹرول کر لی جائیں گی 15سالہ رضوانہ کے زخموں کی دن میں دو بار ڈریسنگ کی جاتی ہے

    پرنسپل جنرل ہسپتال کا کہنا ہے کہ سپیشل میڈیکل بورڈ میں پلاسٹک سرجری کا ڈاکٹر بھی شامل کر لیا گیا ہے زخموں کے انفیکشن اور جلد ریکوری کے لئے معیاری ادویات دی جا رہی ہیں روزانہ کی بنیادپر ڈاکٹر ز متاثرہ بچی کا طبی معائنہ جاری رکھیں گے بچی کی جلد صحت یابی کیلئے علاج معالجہ کی بہترین سہولیات و خصوصی نگہداشت جاری رکھی جائے

    طالبہ کے ساتھ جنسی تعلق،حمل ہونے پر پرنسپل نے اسقاط حمل کروا دیا

    ویڈیو بنا کر ہراساں کرنے کے ملزم کی درخواست ضمانت پر فیصلہ محفوظ

    ناکے پر کیوں نہیں رکے؟ پولیس اہلکار نے شہری پر گولیاں چلا دیں

    بارہ سالہ بچی کی نازیبا ویڈیو بنانے والا ملزم گرفتار

    واقعہ کا اسلام آباد پولیس نے مقدمہ درج کر لیا

     ابتدائی طور پر بچی کے زخم پرانے ہیں تاہم حتمی فیصلہ میڈیکل بورڈ کی رپورٹ پر ہوگا

    واضح رہے کہ تشدد کا شکار 14 سالہ گھریلوملازمہ رضوانہ کا تعلق سرگودھا سے ہے تشدد کا واقعہ علاقہ تھانہ ہمک اسلام آباد میں پیش آیا ، بچی کو مضروب حالت میں اس کی والدہ اسلام آباد سے واپس سرگودھا لیکر آئی،

  • پاکستان میں تشدد کا ہولناک واقعہ

    پاکستان میں تشدد کا ہولناک واقعہ

    زنیرہ ماہم کی حالیہ ویڈیو نے 14 سالہ لڑکی کے ساتھ ہولناک زیادتی کا پردہ فاش کیا ہے،
    زنیرہ ماہم کی جانب سے شیئر کی گئی ایک حالیہ ویڈیو نے پورے پاکستان میں ہلچل مچا دی ہے۔ جس میں وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں مبینہ طور پر ایک سول جج کی سربراہی میں ایک خاندان کے ہاتھوں 14 سالہ لڑکی پر وحشیانہ تشدد کا انکشاف ہوا ہے۔ ویڈیو میں کم از کم 15 مختلف مقامات پر لڑکی کو تشدد کا نشانہ بنانے کے پریشان کن مناظر دکھائے گئے ہیں۔ یہاں تک کہ تشدد اس کے جنسی اعضاء تک بھی کیا گیا ہے،۔ لڑکی کے سر پر ایک کھلا زخم بتایا جاتا ہے، جس کے اندر کیڑے رینگتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ بعد میں اسے تشدد کرنے والوں نے ایک بس سٹاپ پر چھوڑ دیا اور بالآخر اس کے والدین اسے سرگودھا کے ایک ہسپتال لے گئے، وہاں پر اسکا علاج نہ ہونے کی وجہ سے اسے مزید علاج کے لیے لاہور کے ایک سرکاری ہسپتال میں منتقل کر دیا گیا ہے۔

    حکام نے لڑکی کے لیے روزگار تلاش کرنے کے ذمہ دار فرد کو گرفتار کر لیا ہے۔ لیکن حیران کن طور پر اس واقعے میں مبینہ طور پر ملوث ہونے کے باوجود، پولیس کی جانب سے جج اور ان کی اہلیہ سے تاحال کوئی تحقیقات نہیں کی گئی۔ جج نے کسی بھی غلط کام سے انکار کیا ہے، اس حقیقت کے باوجود کہ متاثرہ لڑکی کو خاندان نے چھ ماہ سے ملازم رکھا تھا۔

    لنک: https://www.youtube.com/watch?v=rcRsOJ2hfz0

    اس افسوسناک واقعے نے ایک بار پھر پاکستانی معاشرے میں پائی جانے والی عدم مساوات کو بے نقاب کر دیا ہے۔ جہاں بااثر افراد اکثر اپنے اعمال کے لیے جوابدہی سے بچ سکتے ہیں۔ جب کہ عام عوام کو معمولی جرائم کے لیے بھی سخت نتائج کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ بدعنوانی اقتدار میں رہنے والوں کے لئے ڈھال بنتی ہے، انہیں انصاف سے بچاتی ہے، اور یہاں تک کہ اگر وہ چاہیں تو ملک چھوڑ دیتے ہیں۔ یہ واضح تضاد ملک کے تمام صوبوں میں قیدیوں کی خطرناک تعداد میں ظاہر ہوتا ہے، جن کو سزا نہیں دی گئی۔ جس کا تناسب سندھ میں 70%، کے پی میں 71%، بلوچستان میں 59%، اور پنجاب میں 55% تک پہنچ گیا ہے – بااثر مجرم سزا سے بچتے رہتے ہیں، اور اکثر بیرون ملک چلے جاتے ہیں

    کسی کی سماجی حیثیت سے قطع نظر، معاشرے میں انصاف اور مساوات کی بالادستی ہونی چاہیے۔ یہ واقعہ ملک میں بدعنوانی، استثنیٰ، اور عام آدمی کے ساتھ غیر منصفانہ سلوک کے مروجہ مسائل سے نمٹنے کے لیے اصلاحات کی فوری ضرورت کو اجاگر کرتا ہے۔ ان مشکلات کو تسلیم کرنے اور ان سے نمٹنے کے ذریعے ہی، پاکستان ایک منصفانہ اور ہمدرد معاشرہ بن سکتا ہے۔ جو اپنے سب سے زیادہ کمزوروں کی حفاظت کرتا ہے۔

  • بچی پر تشدد کا واقعہ،علاج کیلئے 12 رکنی میڈیکل بورڈ تشکیل

    بچی پر تشدد کا واقعہ،علاج کیلئے 12 رکنی میڈیکل بورڈ تشکیل

    گھریلو تشدد کا شکار ہونے والی سرگودھا سے تعلق رکھنے والی 15سالہ رضوانہ لاہور جنرل ہسپتال کے آئی سی یو میں زیر علاج ہے جہاں اُس کے تفصیلی علاج معالجے کیلئے پرنسپل پوسٹ گریجویٹ میڈیکل انسٹی ٹیوٹ و امیر الدین میڈیکل کالج پروفیسر ڈاکٹر سردار محمد الفرید ظفر نے پروفیسر جودت سلیم کی سربراہی میں پروفیسرز/سینئر ڈاکٹرز پر مشتمل 12رکنی علیٰ سطحی میڈیکل بورڈ تشکیل دے دیا ہے جو اس بچی کا طبی معائنہ کرنے کے علاوہ زخموں اور ضربات کا تعین کرے گا اور اس ضمن میں اپنی تفصیلی میڈیکل رپورٹ پیش کرے گا۔

    پرنسپل پروفیسر الفرید ظفر نے خود بھی مضروبہ کی عیادت کی اور اُن کے لواحقین کو یقین دلایا کہ بچی کے علاج معالجے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی جائے گی۔ پرنسپل پی جی ایم آئی کا کہنا تھا کہ انہوں نے رضوانہ کے علاج کیلئے 12رکنی بورڈ قائم کر دیا ہے اور وہ ان تمام معاملات کی خود بھی نگرانی کریں گے تاکہ کم سن بچی کو زیادہ سے زیادہ طبی سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔ پروفیسر الفرید ظفر نے مزید بتایا کہ میڈیکل بورڈ کو ہدایت کی گئی ہے کہ بچی کے طبی معائنے اور اُس کے علاج سے متعلق سفارشات جلد از جلد پیش کی جائیں۔ ایم ایس ڈاکٹر خالد بن اسلم کا کہنا تھا کہ رضوانہ نامی بچی کوڈی ایچ کیو رہبر ہسپتال سرگودھا سے24 جولائی کو ریفر کیا گیا تھا جسے شام 4بجے کے قریب ایمرجنسی میں لایا گیاجبکہ ڈاکٹرز نے فوری طور پر طبی امداد فراہم کی تاکہ اس کی حالت بہتر ہو سکے۔ انہوں نے کہا کہ بچی کے علاج معالجے اور نگہداشت کے لئے طبی عملہ 24گھنٹے ڈیوٹی پر موجود ہے اور اسے تمام طبی سہولیات مفت بہم پہنچائی جا رہی ہیں۔

    پرنسپل پروفیسر الفرید ظفر نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ ابتدائی طور پر بچی کے زخم پرانے ہیں تاہم حتمی فیصلہ میڈیکل بورڈ کی رپورٹ پر ہوگا اور بچی کی جلد صحت یابی کے لئے بہترین سے بہترین ادویات فراہم کی جاتی رہیں گی۔ پرنسپل پی جی ایم آئی کی جانب سے جاری کردہ میڈیکل بورڈ کے نوٹیفکیشن کے مطابق پروفیسر جودت سلیم میڈیکل بورڈ کے کنوینئیر جبکہ پروفیسر طیبہ گل ملک، پروفیسر سید محمد خالد، پروفیسر ندرت سہیل، پروفیسر شہزاد حسین شاہ، ڈاکٹر محمد شبیر احمد، ڈاکٹر غیاث الحسن،ڈاکٹر رضوان فاروق، ڈاکٹر سعدیہ صدیقی، ڈاکٹر جعفر حسین،ڈاکٹر نادیہ اور محمد نعیم میڈیکل بورڈ میں شامل ہیں

    طالبہ کے ساتھ جنسی تعلق،حمل ہونے پر پرنسپل نے اسقاط حمل کروا دیا

    ویڈیو بنا کر ہراساں کرنے کے ملزم کی درخواست ضمانت پر فیصلہ محفوظ

    ناکے پر کیوں نہیں رکے؟ پولیس اہلکار نے شہری پر گولیاں چلا دیں

    بارہ سالہ بچی کی نازیبا ویڈیو بنانے والا ملزم گرفتار

    واقعہ کا اسلام آباد پولیس نے مقدمہ درج کر لیا

    واضح رہے کہ تشدد کا شکار 14 سالہ گھریلوملازمہ رضوانہ کا تعلق سرگودھا سے ہے تشدد کا واقعہ علاقہ تھانہ ہمک اسلام آباد میں پیش آیا ، بچی کو مضروب حالت میں اس کی والدہ اسلام آباد سے واپس سرگودھا لیکر آئی،

  • 14 سالہ گھریلو ملازمہ پر تشدد،سول جج کی اہلیہ کیخلاف مقدمہ درج

    14 سالہ گھریلو ملازمہ پر تشدد،سول جج کی اہلیہ کیخلاف مقدمہ درج

    مبینہ طور پر جوڈیشل افسر اسلام آباد کی اہلیہ نے 14 سالہ گھریلو ملازمہ پر تشدد کیا ہے

    واقعہ کا اسلام آباد پولیس نے مقدمہ درج کر لیا ہے، تھانہ ہمک میں سول جج کی اہلیہ کیخلاف واقعہ کا مقدمہ درج کیا گیا ہے،مقدمہ کمسن بچی کے والد کی مدعیت میں درج کیا گیا ہے،مقدمے میں حبس بے جا میں رکھنے اور تشدد کی دفعات شامل کی گئیں ہیں ،درج ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ 6 ماہ سے 14 سالہ رضوانہ 10 ہزار کے عوض سول جج کے گھر ملازم تھی بچی سے ملاقات کیلئے آنے پر معلوم ہوا کہ وہ حبس بے جا میں بدترین تشدد کا شکار ہے ،سول جج کی اہلیہ کے تشدد سے بچی کا دانت ، ناک بازو اور پسلیاں ٹوٹی ہوئی ہیں سول جج کی اہلیہ نے بچی کو ڈنڈوں ، سوٹوں اور چمچوں سے تشدد کا نشانہ بنایا والدہ کو فون کر کے بلایا گیا اپنی بچی لے جاﺅ کام نہیں کرتی ،چی کو لینے گئی تو شدید زخمی حالت میں تھی ،بچی کا والدہ کا کہنا ہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب اور وزیراعظم میرے ساتھ انصاف کریں

    fir islamabad

    دوسری جانب سرگودھا کی 13سالہ گھریلو ملازمہ پر مبینہ تشدد کا معاملہ ،چئیر پرسن چائلڈ پروٹیکشن بیورو سارہ احمد کی ہدایت پر ٹیم نے متاثرہ بچی اور لواحقین سے ملاقات کی، کمسن گھریلو ملازمہ جنرل ہسپتال لاہور میں زیر علاج ہے۔ ٹیم نے چئیرپرسن سارہ احمد کی جانب سے ہر قسم کے تعاون کی یقین دہانی کروائی کروائی

    متاثرہ لڑکی رضوانہ نے ویڈیو بیان میں تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ اس پر ڈنڈوں اور چمچوں سے تشدد کیا گیا ،میڈیا رپورٹس کے مطابق متاثرہ بچی کا کہنا ہے کہ بازو میں درد کے باعث اس سے کام نہیں ہوتا تھا جس پر اسے ڈنڈوں اورچمچوں سے مارا پیٹا جاتا تھا ،متاثرہ بچی کے والدین کا کہنا ہے کہ 14 سالہ بیٹی کو مختار نامی شخص کے ذریعے 6 ماہ قبل سول جج عاصم حفیظ کے گھر ملازمت کے لیے بھیجا تھا، بیٹی کو سول جج اسلام آباد کی اہلیہ نے شدید تشدد کا نشانہ بنایا بیٹی کے سارے جسم پر تشدد سے زخموں کے نشانات واضح موجود ہیں

    واضح رہے کہ تشدد کا شکار 14 سالہ گھریلوملازمہ رضوانہ کا تعلق سرگودھا سے ہے تشدد کا واقعہ علاقہ تھانہ ہمک اسلام آباد میں پیش آیا ، بچی کو مضروب حالت میں اس کی والدہ اسلام آباد سے واپس سرگودھا لیکر آئی،

    دوسری جانب فیڈرل جوڈیشل اکیڈمی میں تعینات سول جج عاصم حفیظ نے نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بچی رضوانہ ہمارے گھر ملازمہ تھی بچی نے ایک ماہ قبل گملوں سے مٹی کھائی جس کی وجہ سے اس کی اسکن خراب ہو گئی ,ول جج عاصم حفیظ کا کہنا تھا کہ میں نے گوجرانوالہ کے ڈاکٹر سے بچی کی بیماری کی تشخیص کروا کر دوا لگا دی تھی بچی اسکن ٹھیک ہونے کے کچھ دن بعد زخم کو چھیل دیتی تھی مجھے بچی کے سر میں موجود چوٹوں کا علم نہیں ہے کیونکہ بچی سر پر اسکارف باندھتی تھی۔ اہلیہ نے بتایا کہ بچی کام نہیں کرتی تو میں نے کہا اسے اس کے گھر چھوڑ آو میری اہلیہ ڈرائیور کے ہمراہ بچی کو سرگودھا اس کے والدین کے پاس چھوڑ آئی تھیں

    طالبہ کے ساتھ جنسی تعلق،حمل ہونے پر پرنسپل نے اسقاط حمل کروا دیا

    ویڈیو بنا کر ہراساں کرنے کے ملزم کی درخواست ضمانت پر فیصلہ محفوظ

    ناکے پر کیوں نہیں رکے؟ پولیس اہلکار نے شہری پر گولیاں چلا دیں

    بارہ سالہ بچی کی نازیبا ویڈیو بنانے والا ملزم گرفتار

  • کمسن ملازمہ پر تشدد ، ٹانگیں اور بازو توڑ دیئے

    کمسن ملازمہ پر تشدد ، ٹانگیں اور بازو توڑ دیئے

    سرگودھا: مبینہ طور پر جوڈیشل افسر اسلام آباد کی اہلیہ نے14 سالہ گھریلو ملازمہ پر تشدد کیا ہے

    واقعہ کی اطلاع ملنے پر ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر سرگودھا، ایس پی انوسٹی گیشن، اے ایس پی سٹی سرگودھا خود ہسپتال پہنچ گئے، چک 88 شمالی کی 14 سالہ رضوانہ کو اس کے والدین نے مختار نامی شخص کے ذریعے اسلام آباد میں ملازمت دلوائی، مضروب لڑکی کے والدین کے مطابق اس کو جوڈیشل افسر اسلام آباد کی اہلیہ نے زیور چوری کا الزام لگا کر شدید تشدد کا نشانہ بنایا، ہسپتال ذرائع کے مطابق بچی کے سر، چہرے اور جسم پر تشدد سے بنے ہونے زخم اور نشانات موجود ہیں مبینہ طور پر بچی کی تشدد سے حالت غیر ہونے پر جوڈیشل افسر کی اہلیہ نے اس کے والدین کو بلا کر بچی ان کے حوالے کی

    تشدد کا واقعہ علاقہ تھانہ ہمک اسلام آباد میں پیش آیا ، بچی کو مضروب حالت میں اس کی والدہ اسلام آباد سے واپس سرگودھا لیکر آئی، بچی کو DHQ سرگودھا میں ہر ممکن طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے،مزید اچھی طبی سہولیات کے لئے دیگر ہسپتال منتقلی کے لئے ایمبولینس کی سہولت بھی مہیا کر دی گئی ہے،ڈی پی او سرگودھا کی ہدایت پر ایس پی انوسٹی گیشن، اسلام آباد پولیس سے رابطے میں رہ کر قانونی تقاضے پورے کر رہے ہیں،سرگودھا پولیس اس سارے معاملے میں مضروب لڑکی اور اس کے ورثاء کو مکمل قانونی معاونت فراہم کر رہی ہے۔

    طالبہ کے ساتھ جنسی تعلق،حمل ہونے پر پرنسپل نے اسقاط حمل کروا دیا

    ویڈیو بنا کر ہراساں کرنے کے ملزم کی درخواست ضمانت پر فیصلہ محفوظ

    ناکے پر کیوں نہیں رکے؟ پولیس اہلکار نے شہری پر گولیاں چلا دیں

    بارہ سالہ بچی کی نازیبا ویڈیو بنانے والا ملزم گرفتار

    قبل ازیں ایک اور واقعہ میں اقبال ٹاؤن کے علاقے میں 10 سالہ بچی فاطمہ فرحان نامی شخص کے گھر پر تین ماہ سے گھریلو ملازمہ کے طور پر کام کرتی تھی۔ ظالم مالکن اور اسکا شوہر فرحان بچی پر تشدد کرتے تھے۔اطلاع ملنے پر پولیس نے بچی کو بازیاب کر کے تشدد کرنے والے میاں بیوی کو حراست میں لے لیا، متاثرہ بچی فاطمہ کا کہنا تھا کہ مالکن اس پر تشدد کرتی اور والدین سے بات نہیں کرواتی تھی۔پولیس کا کہنا ہے گرفتار ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے