Baaghi TV

Tag: تشدد

  • شہباز گل کے جسم پر تشدد کے نشانات،وزیرداخلہ پنجاب نے نیا انکشاف کر دیا

    شہباز گل کے جسم پر تشدد کے نشانات،وزیرداخلہ پنجاب نے نیا انکشاف کر دیا

    صوبائی وزیر داخلہ کرنل (ر) ہاشم ڈوگر نے راولپنڈی اڈیالہ جیل کا اچانک دورہ کیا.
    جیل ریکارڈ میں پی ٹی آئی رہنما اور غداری کے مقدمہ میں زیر حراست ملزم شہباز گل کے جسم پر زخموں کے غیر معمولی نشانات بارے مزید انکشافات سامنے آئے۔

    وزیر داخلہ پنجاب کرنل ریٹائرڈ ہاشم ڈوگر نے کہا کہ شہباز گل کو جب جوڈیشل ریمانڈ پر اڈیالہ جیل لایا گیا تو جیل عملے نے قواعد و ضوابط کے مطابق شہباز گل کا طبی معائنہ کیا۔ معائنے میں شہباز گل کے جسم پر تشدد کے غیر معمولی نشانات ظاہر ہوئے۔

    وزیر داخلہ پنجاب کا کہنا تھا کہ میڈیکل آفیسر نے ابتدائی معائنہ رپورٹ میں ان نشانات بارے رجسٹر پر اندراج کیا۔ قواعد و ضوابط کے مطابق جیل سپریڈنٹ زخموں کے نشانات بارے سیشن جج اور پولیس کو بتانے کا پابند ہوتا ہے۔اس وقت کے جیل سپریڈنٹ نے تشدد کے نشانات بارے کسی کو مطلع نہ کیا۔ سنگین غفلت پر جیل سپرنٹینڈنٹ اور متعلقہ حکام کے خلاف سخت کاروائی عمل میں لائی جائے گی۔

    وزیر داخلہ پنجاب کرنل ریٹائرڈ ہاشم ڈوگر کے مطابق تحقیقات کی جائیں گی کہ یہ غفلت تھی یاپھرجیل سپرنٹینڈنٹ نے کس کی ایماء پر ایسا کیا۔ جیل انٹری رجسٹر میں درج معلومات نے ہمارے موقف کو ثابت کیا ہے کہ جیل آمد سے قبل شہباز گل پر تشدد کیا گیا.

  • شہباز گل پر کوئی تشدد نہیں ہوا،رانا ثناءاللہ

    شہباز گل پر کوئی تشدد نہیں ہوا،رانا ثناءاللہ

    وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ خان نے کہا کہ سانحہ لسبیلہ کے شہدا کے خلاف پی ٹی آئی نے کمپین کی، شہدا کے لواحقین کے تقدس کو پامال کیا گیا،شہباز گل نے جو کہا وہ دراصل عمران خان او رپی ٹی آئی کا ایجنڈا ہے،بہت سارے سیاستدانوں نے سیاست میں مداخلت پر کہا،کسی سیاستدان نے فوج کو اپنی قیادت کےخلاف نہیں اکسایا،9اگست کو شہبازگل کیخلاف مقدمہ درج کر کے24گھنٹے میں انہیں گرفتار کیاگیا،گرفتاری کے بعد شہباز گل کو جوڈیشل ریمانڈکیلئے پیش کیا گیا ،جب انہیں پیش کیا گیا وہ مسکراتے ہوئے عدالت پیش ہوئے،شہباز گل نے جوڈیشل مجسٹریٹ کے سامنے تشدد کی کوئی بات نہیں کی.

    انہوں نے کہا کہ 11اگست کو طبی معائنہ کیا جس میں کسی تشدد کا ذکر ہے نہ شہباز گل نے کہا،میں نے سب سے تسلی کی ہے کہ اپنے طور پر بھی معلومات لیں،بطور وزیر کہتا ہوں کہ شہباز گل پر پولیس کسٹڈی کے دوران کوئی تشدد نہیں ہوا،17تاریخ کو جب ان کا دوبارہ ریمانڈ دیا گیاتو حالت خراب ہوئی،اس میں تشدد کی بنیاد پر صحت کی خرابی سامنے نہیں آئی،6 دن اڈیالہ جیل ،3دن پولیس کسٹڈی میں رہے،6دن اڈیالہ جیل ،3دن پولیس کسٹڈی میں رہے،ن لیگ بطور جماعت کسی قسم کے تشدد کے خلاف ہے.عمران خان کے خلاف مقدمہ کیلئے وزارت قانون سے رائے لے رہے ہیں.

    ان کا مزید کہنا ہے کہ پچھلے 10 روز سے شہباز گل پر تشدد اور ظلم کے حوالے سے باتیں چل رہی ہیں، ان پرتشدد کی باتیں وہ شخص کر رہا ہے جس کو اپنا کیا یاد نہیں ہے، عمران نیازی کا بیانیہ غیرملکی ایجنڈا ہے، شہباز گل کی نجی ٹی وی سے گفتگو طے شدہ تھی، شہباز گل کا نجی ٹی وی کےساتھ سب کچھ طے تھا کب فون آئے گا، کتنی دیر گفتگو کرنی ہے۔

    وزیر داخلہ نے کہا کہ شہباز گل کی حالت خراب ہونے میں تشدد کی وجہ سامنے نہیں آئی، ڈرامے کو مزید تقویت دینے کے لیے عمران خان جنسی تشدد کا الزام لگا رہے ہیں، پی ٹی آئی شہباز گل کے بیان کا دفاع نہیں کرسکی، فوج کے خلاف مہم سے دھیان ہٹانے کے لیے شہباز گل پر تشدد کا بیانیہ گھڑا گیا۔

    مسلم لیگ ن کے رہنما نے کہا کہ آئی جی، ڈی آئی جی، ایڈیشنل ڈسٹرکٹ جج کو قانون کے مطابق ذمہ داری نبھانے پر دھمکیاں دی جارہی ہیں، عمران خان، آپ نے اپنے تمام مخالفین کے خلاف جھوٹے کیس بنوائے، تب شرم نہیں آئی، جب آپ بشیرمیمن کو بلاکر نواز، شہباز، حمزہ اور مریم نواز کے خلاف مقدمہ بنانے کا کہہ رہے تھے اس دن شرم نہیں آئی۔

    رانا ثناء اللّٰہ کا کہنا ہے کہ عمران خان نے خاتون جج کو نام لے کر دھمکی دی، طیبہ گل کو ڈیرھ ماہ وزیر اعظم ہاؤس میں حبس بےجا میں رکھ کر کیسز ختم کراتے ہوئے شرم نہیں آئی، آپ بتائیں کہ کہاں ٹارچر ہوا ہے؟ سر میں چوٹ لگی یا پاؤں میں چوٹ لگی ہے، دمہ کی بیماری کا ٹارچر سے کیا تعلق ہے۔عمران کان نے کل جو مارچ کیا ان کو سمجھ آگئی ہو گی کہ ان کی طاقت کیا ہے

  • لاہور میں 10 سالہ گھریلو ملازمہ پرمالکان کا تشدد، میاں بیوی گرفتار

    لاہور میں 10 سالہ گھریلو ملازمہ پرمالکان کا تشدد، میاں بیوی گرفتار

    لاہور: 10 سالہ گھریلو ملازمہ پر مالکان کی جانب سے تشدد کے بعد پولیس نے چھاپہ مار کر متاثرہ بچی کو بازیاب کروا لیا۔اطلاعات کے مطابق اقبال ٹاؤن کے علاقے میں 10 سالہ بچی فاطمہ فرحان نامی شخص کے گھر پر تین ماہ سے گھریلو ملازمہ کے طور پر کام کرتی تھی۔ ظالم مالکن اور اسکا شوہر فرحان بچی پر تشدد کرتے تھے۔

    اطلاع ملنے پر پولیس نے بچی کو بازیاب کر کے تشدد کرنے والے میاں بیوی کو حراست میں لے لیا، متاثرہ بچی فاطمہ کا کہنا تھا کہ مالکن اس پر تشدد کرتی اور والدین سے بات نہیں کرواتی تھی۔

    پولیس کا کہنا ہے گرفتار ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔ متاثرہ بچی کا میڈیکل کروانے کے بعد چائلڈ پروٹیکشن بیورو کے حوالے کیا جائے گا۔

    ادھر ایک اور واقعہ میں بہاولپور میں نوجوان کو بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنانے والے ملزم محمد عاشق کو شیخوپورہ سے گرفتار کرلیا گیا۔

    پولیس کے مطابق تشدد کی ویڈیو وائرل ہونے کے بعد ملزم نے یزمان سےفرار ہوکر شیخوپورہ میں پناہ لے رکھی تھے۔ ملزم کو بہاولپور منتقل کرنے کیلیے اقدامات کیے جارہے ہیں۔

    تفتیشی حکام کے مطابق نوجوان کو بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنانے والے ملزم تفتیش جاری ہے،تمام حقائق جلد سامنے آجائیں گے۔

    واضح رہے کہ گزشتہ روز سوشل میڈیا پر ویڈیو وائرل ہوئی تھی جس میں نوجوان کو ایک شخص پر بری طرح تشدد کرتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔

  • شہباز گل پر ایسا تشدد ہوا جو  بتایا جا سکتا اور نہ دکھایا جا سکتا ہے، بابر اعوان

    شہباز گل پر ایسا تشدد ہوا جو بتایا جا سکتا اور نہ دکھایا جا سکتا ہے، بابر اعوان

    شہباز گل پر ایسا تشدد ہوا جو بتایا جا سکتا اور نہ دکھایا جا سکتا ہے، بابر اعوان

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق تحریک انصاف کے رہنما بابر اعوان نے کہا ہے کہ شہباز گل پر ایسا تشدد ہوا جو بتایا جا سکتا اور نہ دکھایا جا سکتا ہے،

    بابر اعوان کا کہنا تھا کہ لوگ بھی چیخ چیخ کر کہہ رہے ہیں کہ تشدد ہوا ہے،آئی جی نے تفتیش کرنے کے لیے ایک اشتہار جاری کیا ہے،اشتہار میں کہا گیا کہ جس کسی کو تشدد کا پتہ ہے وہ آ کر بتائے،پاکستان کے انڈی پینڈنٹ ڈاکٹرز پر مشتمل بورڈ بنایا جائے، بورڈ کا خرچہ ہم برداشت کریں گے،جیل کے میڈیکل افسر نے کہا کہ شہباز گل کو بچپن سے دمہ ہے،سرکاری اسپتال اور سرکاری ڈاکٹرز پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا، شہباز شریف کے بارے میں بھی کمر درد کی رپورٹ دی گئی تھی، نواز شریف کو پلیٹ لیٹس کا مسئلہ بتایا گیا اب وہ مزے کر رہے ہیں،اصل حکومت لندن سے ہو رہی ہے ، عمران خان کے خلاف بیان دینے کے لیے دباؤ ڈالا جا رہا ہے،بابر اعوان نے شہباز گل پر تشدد کی انکوائری سے متعلق اشتہار کو مسترد کر
    دیا اور کہا کہ پولیس نے ٹارچر کیا، وہ خود کیسے کوئی فیصلہ کر سکتے ہیں؟

    بیماری کا بہانا کرکے ملزم شہباز شبیر تفتیش میں رکاوٹ پیدا کرنا چاہتے ہیں، اسلام آباد پولیس
    دوسری جانب اسلام آباد پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم شہباز شبیر کے جسمانی ریمانڈ کا معاملہ ،میڈیکل بورڈ نے ملزم شہباز شبیر کو طبی طور پر صحت مند قرار دے دیا۔ ملزم شہباز شبیر حیلے بہانوں سے خود کو بیمار ظاہر کر رہے ہیں۔اسلام آباد کیپیٹل پولیس تمام تر امور قانون کے مطابق مکمل کر رہی ہے بیماری کا بہانا کرکے ملزم شہباز شبیر تفتیش میں رکاوٹ پیدا کرنا چاہتے ہیں ۔حیلے بہانوں سے قانون کا راستہ نہیں روکا جاسکتا۔

    قبل ازیں اسلام آباد ہائیکورٹ میں شہباز گل کیس میں میڈیکل بورڈ تشکیل دینے کی درخواست پر سماعت ہوئی اسلام آباد ہائیکورٹ نے درخواست قابل سماعت ہونے پر فیصلہ محفوظ کرلیا اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے اسد عمر کی درخواست پر سماعت کی جس سلسلے میں درخواست گزار کی جانب سے بابر اعوان عدالت میں پیش ہوئے دورانِ سماعت جسٹس میاں گل حسن نے استفسار کیا کہ ایک میڈیکل رپورٹ آئی تو کیا میڈیکل بورڈ نہیں بناہے؟ ایک درخواست پر قائم مقام چیف جسٹس نے آئی جی کو نوٹس کیا تھا اور وہ پیش بھی ہوئے اب آپ یہاں ایک اور درخواست میں میڈیکل بورڈ بنانے کی بات کررہے ہیں بابر اعوان نے مؤقف اپنایا کہ ہم غیر جانبدار ڈاکٹرز پرمشتمل اسپیشل میڈیکل بورڈ چاہتے ہیں میڈیکل بورڈ میں شامل کچھ ڈاکٹرز کی بعض بیماریوں میں ایکسپرٹیز ہی نہیں ہیں ڈاکٹرزکوئی بھی ہوں مگر ایک پرائیویٹ میڈیکل بورڈ بنایا جائے جس میں چاروں صوبوں سےڈاکٹرز شامل کیے جائیں عدالت نے کہا کہ اگر ہم اس معاملے کو سیکرٹری داخلہ پر چھوڑ دیں تو بہتر نہیں ہوگا بابر اعوان نے کہا کہ غیر جانبدار پرائیوٹ ڈاکٹرز پر مشتمل میڈیکل بورڈ چاہتے ہیں سرکاری ڈاکٹرز کا نہیں عدالت شہباز گل کی زندگی اور بنیادی حقوق کا تحفظ یقینی بنانے کے لیے اقدامات کرے،عدالت نے شہباز گل کے طبی معائنے کے لیے اسپیشل میڈیکل بورڈ تشکیل دینے کی درخواست پرفیصلہ محفوظ کرلیا

    یاد رہے کہ گزشتہ روز میڈیکل بورڈ نے شہباز گل کو بالکل فٹ قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ ان پر کسی قسم کا تشدد نہیں کیا گیا رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ پی ٹی آئی رہنما تندرست،صحت مند اور مکمل فٹ ہیں۔شہباز گل کسی بھی وقت اسپتال سے ڈسچارج ہوسکتے ہیں۔

    ذرائع کے مطابق شہباز گل کے 10مختلف ٹیسٹ کیے گئے جس میں کورونا ٹیسٹ بھی شامل تھا،ان کے تمام ٹیسٹ کلیئر آئے ہیں اس کے علاوہ پی ٹی آئی رہنماکے 6 مختلف ایکسرے بھی کیے گئے، رپورٹ میں کسی قسم کے تشدد کے شواہد بھی نہیں ملے۔

    ذرائع کے مطابق فٹ قرار دیئے جانے کے بعد بھی اسلام آباد پولیس شہباز گل کو اسپتال سے تھانے منتقل کرنے کا فیصلہ نہیں کر سکی تھی میڈیکل بورڈ کے ڈاکٹرز نے پولیس حکام کو اسپتال میں شہبازگل سے سوال وجواب کرنے سے روکا رکھا تھا ڈاکٹرز کا مؤقف ہے کہ شہباز گل مکمل فٹ ہیں لیکن اسپتال میں ان سے تفتیش نہیں کر سکتے۔

    شہبازگل کے ڈرائیور کے بھائی کی عبوری ضمانت منظور

    سافٹ ویئر اپڈیٹ، میں پاک فوج سے معافی مانگتی ہوں،خاتون کا ویڈیو پیغام

    عمران خان نے ووٹ مانگنے کیلئے ایک صاحب کو بھیجا تھا،مرزا مسرور کی ویڈیو پر تحریک انصاف خاموش

    شہباز گل کی گرفتاری، پی ٹی آئی کے ڈنڈا بردار کارکن بنی گالہ پہنچ گئے

    شہباز گل کی گرفتاری پی ٹی آئی نے عدالت سے رجوع کرنے کا فیصلہ کر لیا

    نعرے ریاست مدینہ کےاورغلامی امریکہ کی واہ شہبازگل باجوہ

  • شہبازگل پر تشدد کس قانون کے تحت اور کس کے حکم پر کیا جا رہا ہے؟ عمران خان

    شہبازگل پر تشدد کس قانون کے تحت اور کس کے حکم پر کیا جا رہا ہے؟ عمران خان

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق تحریک انصاف کے رہنما شہباز گل پر پولیس تشدد کے حوالہ سے اسلام آباد پولیس نے خاموشی توڑ دی ہے

    اسلام آباد پولیس کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ملزم کو عدالت کے حکم پر ڈاکٹرز کے بورڈ کے پاس لے جا کر طبی معائنہ کروایا۔ ڈاکٹرز کی رپورٹ کے مطابق ملزم کے جسم پر تشدد کا کوئی نشان نہیں ہے۔ جیسا کہ تصاویر میں نظر آرہا ہے ملزم بالکل ہشاش بشاش اور جسمانی طور پر فٹ ہے۔ دوران تفتیش ملزم کے حقوق کا مکمل خیال رکھا گیا ہے۔پولیس جسمانی ریمانڈ کے دوران قانون کے مطابق تفتیش کرتی ہے اور کسی قسم کا تشدد نہیں کیا جاتا۔ملزم پر تشدد کے متعلق سوشل میڈیا پر ایک جھوٹا پروپیگینڈا کیا جارہا ہے۔پولیس کی تفتیش تمام حالات و شواہد کو مدنظر رکھ کرکی جارہی ہے۔ تفتیش کو شواہد کی روشنی میں میرٹ پر یکسو کیا جائے گا۔ پولیس ریکارڈ عدالت کی معاونت کے لئے ہوتا ہے جو عوام میں شئیر نہیں کیا جاسکتا۔فرار ملزمان کی گرفتاری کیلئے کوشش کی جاری ہے۔اگر ملزم بے گناہ ہے اور فون میں کوئی مواد موجود نہ ہے تو انہیں پولیس کے ساتھ تعاون کرنا چاہئیے۔ جھوٹی ہمدردی حاصل کرنے کے لیے ملزمان کی جانب سے پراپیگنڈہ کیا جا رہا ہے ۔ پولیس اس کیس سے منسلک تمام افراد کو قانون کے مطابق تفتیش میں شامل کرے گی۔ تفتیش کی تفصیلات پولیس فائل کا حصہ ہیں اور معزز عدالت کے سامنے پیش کی جائیں گی۔ تفتیش کے دوران بے شمار انکشافات سامنے آئے ہیں۔ جن لوگوں کا کردار تفتیش کے دوران سامنے آئے گا ان کو بھی شامل تفتیش کیا جاسکتا ہے۔ پراپیگنڈہ مہم اسلام آباد کیپیٹل پولیس کے تشخص کو متاثر کرنے کی کوشش ہے۔ عوام سے گزارش ہے کہ پراپیگنڈہ پر کان نہ دھریں۔

    قبل ازیں تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ شہبازگل پر تشدد کس قانون کے تحت اور کس کے حکم پر کیا جا رہا ہے؟عمران خان کا کہنا تھا کہ اگر شہباز گل نے کوئی قانون توڑا تو اس کی منصفانہ سماعت کی جائے امپورٹڈ حکومت کو بچانے کے لیے آئین اور قوانین کی دھجیاں اڑائی جا رہی ہیں، عدلیہ کو شہبازگل پر تشدد کا نوٹس لینا چاہیے ،شہباز گل کے ڈرائیور کی اہلیہ کی گرفتاری بھی غیرقانونی ہے،ڈرائیور کی اہلیہ کو اس لیے گرفتار کیا گیا کیونکہ اس کا شوہر شہباز گل کے لیے کام کرتا تھا، خوف کا ماحول بنایا جا رہا ہے،

    واضح رہے کہ شہباز گل کو آج عدالت پیش کیا گیا تھا، شہباز گل کو عدالت نے جوڈیشیل ریمانڈ پر جیل بھجوا دیا ہے، شہباز گل کو تین روز قبل گرفتار کیا گیا تھا، شہباز گل کے خلاف اداروں کیخلاف بیان بازی اور عوام کو اداروں کیخلاف اکسانے پر بغاوت کا مقدمہ درج کیا گیا ہے

    آج عدالت میں سماعت ہوئی تو شہباز گل نے اپنی قمیض عدالت میں اٹھا لی، ملزم شہباز گل نے کہا کہ وفاقی کابینہ کا رکن رہا ہوں مجھے سونے نہیں دیا جاتا جب کہ اگر میں سونے کی کوشش کرتا ہوں تو مجھے جگا دیا جاتا ہے، ملزم نے الزام عائد کیا کہ: جعلی میڈیکل رپورٹ بنا لی گئی جبکہ مجھے تھانہ کوہسار بھی نہیں رکھا گیا ہے، اور مجھ پر تشدد کیا جاتا ہے حالانکہ میں اپنی فوج کے بارے میں ایسا سوچ بھی نہیں سکتا جس قسم کا الزام عائد کیا جارہا ہے.دوران حراست مجھ پر تشدد کیا جارہاہے نشانات موجود ہیں فزیکل چیک اپ نہیں کیا گیا وکلا سے ملنے نہیں دیا جا رہا ، ساری ساری رات مجھے جگایا جاتا ہے سوتا ہوں تو جگا دیا جاتا ہے،شہباز گل نے عدالت کو قمیض ہٹا کر پیٹھ دکھا دی

    واضح رہے کہ شہباز گل نے دوران تحقیقات بتایا تھا کہ اس نے اپنا موبائل اپنے ڈرائیور کو گرفتاری کے وقت دے دیا تھا،رات کو پولیس نے شہباز گل کے‌ ڈرائیور کی گرفتاری کے لئے چھاپہ مارا تھا ڈرائیور کے خلاف تھانہ آبپارہ میں مقدمہ درج کیا گیا ہے درج ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ ملزم شہباز گل نے دوران تحقیقات بتایا کہ میرا ملکیتی موبائل جس میں اس مقدمہ کے حوالہ سے کافی سارا مواد موجود ہے گرفتاری کے وقت وہ موبائل اسسٹنٹ ،ڈرائیور اظہار کو دے دیا تھا جو کہ ابھی بھی اس کے پاس ہے جو آجکل اپنے سسرال میں مقیم ہے

    عمران خان کے فوج اور اُس کی قیادت پر انتہائی غلط اور بھونڈے الزامات پر ریٹائرڈ فوجی سامنے آ گئے۔

    القادر یونیورسٹی کا زمین پر تاحال کوئی وجود نہیں،خواجہ آصف کا قومی اسمبلی میں انکشاف

    سیاسی مفادات کے لئے ملک کونقصان نہیں پہنچانا چاہئے

    سافٹ ویئر اپڈیٹ، میں پاک فوج سے معافی مانگتی ہوں،خاتون کا ویڈیو پیغام

    عمران خان نے ووٹ مانگنے کیلئے ایک صاحب کو بھیجا تھا،مرزا مسرور کی ویڈیو پر تحریک انصاف خاموش

    شہباز گل کی گرفتاری، پی ٹی آئی کے ڈنڈا بردار کارکن بنی گالہ پہنچ گئے

    شہباز گل کی گرفتاری پی ٹی آئی نے عدالت سے رجوع کرنے کا فیصلہ کر لیا

    نعرے ریاست مدینہ کےاورغلامی امریکہ کی واہ شہبازگل باجوہ

  • خاتون کو برہنہ کر کے کیا گیا ڈنڈوں سے تشدد، ویڈیو وائرل

    خاتون کو برہنہ کر کے کیا گیا ڈنڈوں سے تشدد، ویڈیو وائرل

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق خاتون کو برہنہ کر کے ڈنڈوں سے مارنے کی ویڈیو وائرل ہونے کے بعد اپوزیشن جماعت نے حکومت پر کڑی تنقید کی ہے

    واقعہ بھارت کا ہے،بھارتی ریاست مدھیہ پردیش کے علاقے رائے پوریا کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی ہے جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ خاتون کو ڈنڈوں کے ساتھ مارا جا رہا ہے، بھارتی میڈیا کے مطابق اسی دوران خاتون کے کپڑے بھی پھاڑ دیئے جاتے ہیں، خاتون برہنہ ہو جاتی ہے، اس سارے ہجوم میں موجود ایک شخص خاتون کو بچانے کی کوشش کرتا ہے میڈیا رپورٹس کے مطابق خاتون کو بچانے کی کوشش کرنے والا اسکا شوہر ہے، خاتون پر تشدد کس لئے کیا گیا اس کی وجوہات سامنے نہیں آ سکیں البتہ ویڈیو کسی نے بنا کر سوشل میڈیا پر وائرل کر دی ہے،

    خاتون کو برہنہ کر کے ڈنڈوں کے ساتھ تشدد کی ویڈیو وائرل ہونے پر کانگریس نے رد عمل دیا اور کہا ہے کہ مدھیہ پردیش میں جو ہو رہا ہے وہ مودی سرکار کے لئے شرم کا مقام ہے، لا اینڈ آرڈر کی صورتحال انتہائی خراب ہو چکی ہے، خاتون کو ڈنڈوں سے پیٹا گیا کسی قسم کی کوئی کاروائی نہیں ہوئی،ہر طرف لاقانونیت کا راج ہے

    مدھیہ پردیش میں پہلے بھی ایسے واقعات پیش آ چکے ہیں جہاں سر عام خواتین پر تشدد کیا جاتا ہے، اور اس کی ویڈیو بنا کر وائرل کر دی جاتی ہے، مارچ میں بھی لڑکیوں کے ساتھ لڑکوں نے چھیڑ خانی کی، تشدد کیا اور ویڈیو وائرل کر دی تھی ،مدھیہ پردیش میں خواتین کے خلاف جرائم میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو کی رپورٹ کے مطابق جنوری 2021 سے فروری 2022 تک ریاست مدھیہ پردیش میں 10 ہزار 66 لڑکیوں کو اغوا کیا گیا

    قصور کے بعد تلہ گنگ میں جنسی سیکنڈل. امام مسجد کی مدرسہ پڑھنے والی بچیوں کی ساتھ زیادتی

    سوشل میڈیا چیٹ سے روکنے پر بیوی نے کیا خلع کا دعویٰ دائر، شوہر نے بھی لگایا گھناؤنا الزام

    سابق اہلیہ کی غیراخلاقی تصاویر سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کرنے والے ملزم پر کب ہو گی فردجرم عائد؟

    ‏سوشل میڈیا پرغلط خبریں پھیلانا اورانکو بلاتصدیق فارورڈ کرنا جرم ہے، آصف اقبال سائبر ونگ ایف آئی اے

    سوشل میڈیا پر جعلی آئی ڈیز کے ذریعے لڑکی بن کر لوگوں کو پھنسانے والا گرفتار

  • بنی گالا،پی ٹی آئی کارکنوں کا صحافیوں اور کیمرہ مین پر تشدد،ایف آئی آر درج

    بنی گالا،پی ٹی آئی کارکنوں کا صحافیوں اور کیمرہ مین پر تشدد،ایف آئی آر درج

    پی ٹی آئی چیئرمین اور سابق وزیراعظم عمران خان کی رہائش گاہ بنی گالہ کے باہر صحافیوں اور کمیرہ مینوں سے بدتمیزی اور تشدد کرنے والے پی ٹی آٸی کارکنوں کے خلاف ایف آٸی آر درج کر دی گئی.

    صحافیوں اور کیمرہ مینوں پر تسد کرنے کی ایف آئی آر تھانہ بنی گاکا میں درج کی گئی ہے،ایف آئی آر میں 506 ت پ اور427 ت پ کی دفعات لگائی گئی ہیں.ایف آئی آر نجی ٹی وی چینل کے کیمرہ مین واجد مغل کی مدیت میں درج کی گئی ہے، واجد مغل نے ایف آئی آر میں بتایا کہ بنی گالا پریس کانفرنس کور کرنے کیلئے دفیر کی جانب سے آیا تھا .سینیٹر فیصل چوہدری کے ساتھ پی ٹی آئی کا رکنوں کا جتھہ آیا اور کوریج کے دوران خلل ڈالنے کی کوشش کی انہیں منع کیا تو سوچے سمجھے منصوبے کے تحت پی ٹی آئی کارکنوں نے مجھ پر حملہ کر دیا اور تشدد کا نشانہ بنایا.

    ایف ائی آی میں مزید کہا گیا کہ پی ٹی آئی کارکنوں نے موقع پر موجود تامم صحافیوں کے ساتھ نازیبا زبان استعمال کی،واجد مغل نے کہا کہ پی ٹی آئی کارکنوں کے تشدد کی وجہ سے میرا کیمرہ بھی ہاتھ سے گر گیا اور ٹوٹ گیا ،تمام تر واقعی پی ٹی آئی رہنما فیصل چوہدری قریب کھٹر ہو کر دیکھتے رہے. واقعہ کے تمام تر ویڈیو ثبوت موجود ہیں اور یہ واقعہ تمام چینلز پر براہ راست نشر کیا گیا .واجد مغل نے ایف آئی آر کیلئے درخواست میں مزید کہا کہ مجھے سنگین نتائج کی دھمکیاں دی گئی ہیں،اس واقعہ کا مقدمہ درج کیا جائے اور قانون کے مطابق کارروائی کی جائے.

    بنی گالا کے باہر پی ٹی آئی کارکن نے کیمرہ مین کو تھپڑ مار دیا

    پاکستان تحریک انصاف کے کارکنوں نے چیئرمین عمران خان کی رہائش گاہ بنی گالا کے باہر صحافیوں کے ساتھ بد تمیزی کی اور تشدد کا نشانہ بنایا۔پی ٹی آئی رہنما فیصل جاوید کی میڈیا ٹاک کے دوران پی ٹی آئی کے تشدد پسند کارکن نے نجی ٹی وی چینل کے کیمرہ مین کو تھپڑ مار دیا۔ پی ٹی آئی کارکنوں نے کیمرہ مین حضرات سے دھکم پیل کی اورنا زیبا زبان استعمال کی۔ پی ٹی آئی کارکن نے نجی چینل کا کیمرہ گرا دیا جس سے کیمرے کو نقصان پہنچا.

    راولپنڈی اسلام آباد یونین آف جرنلسٹس نے پاکستان تحریک انصاف کے کارکنوں کی طرف سے صحافیوں کے ساتھ بد تمیزی اور تشدد کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے. آر آئی یو جے کے صدر عابد عباسی ،جنرل سیکرٹری طارق علی ورک ،فنانس سیکرٹری کاشان اکمل گل اور مجلس عاملہ کے اراکین نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کے کارکنوں کی جانب سے ویڈیو جرنلسٹس واجد،ارسلان بلوچ،مدثر جاوید اور دیگر صحافیوں پر تشدد کیا گیا ہے جس کو کسی طور پر برداشت نہیں کیا جا سکتا ،پی ٹی آئی اپنے کارکنان کی تربیت کرے اور چیئرمین تحریک انصاف عمران خان ایسے عناصر کے خلاف کاروائی عمل میں لائیں جو ان کی پارٹی کی بدنامی کا باعث بن رہے ہیں.

    انہوں نے کہا کہ صحافی اپنے فرائض احسن طریقے سے انجام دیتے ہیں فرائض کی ادائیگی کے دوران اس طرح کے واقعات کو کسی طور پر برداشت نہیں کیا جا سکتا انہوں نے وفاقی وزیر داخلہ اور آئی جی اسلام آباد سے مطالبہ کیا ہے کہ صحافیوں پر تشدد کرنے والوں کے خلاف فوری کارروائی عمل لائی جائے تاکہ آئندہ کوئی صحافیوں پر تشدد نہ کرے اگر صحافیوں پر تشدد کرنے والوں کے خلاف کاروائی نہ کی گئی تو آر آئی یو جے جلد آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کرے گی

  • ہاؤسنگ سوسائٹی کے نجی سیکیورٹی گارڈ کے بہیمانہ تشدد  سے خاتون بے ہوش،ویڈیو وائرل

    ہاؤسنگ سوسائٹی کے نجی سیکیورٹی گارڈ کے بہیمانہ تشدد سے خاتون بے ہوش،ویڈیو وائرل

    کراچی کے علاقے گلستان جوہر میں ہاؤسنگ سوسائٹی کے نجی سکیورٹی گارڈ کے بہیمانہ تشدد سے خاتون بے ہوش ہو گئی۔

    باغی ٹی وی: تفصیلات کے مطابق تھانہ شارع فیصل کے علاقے راشد منہاس روڈ گلستان جوہر بلاک 17 میں ہاؤسنگ سوسائٹی نعمان گرینڈ سٹی میں نجی سکیورٹی گارڈ نے خاتون کو بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں خاتون زمین پر گر کر بے ہوش ہو گئی۔

    خاتون کا آپریشن کرتے بیہوشی کی حالت میں ڈاکٹر نے کیا گھناؤنا کام، ویڈیو وائرل

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر ٹوئٹر پر وائرل وڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ نجی کمپنی کا سیکیورٹی گارڈ پہلے ایک خاتون سے بات کر رہاہے، اسی دوران گارڈ مشتعل ہوگیا اور اس نے خاتون کو زور دار تھپڑ دے مارا، جس سے خاتون زمین پر گر گئی خاتون نے اٹھنے کی کوشش کی تو گارڈ نے زمین پر گری خاتون کے چہرے پر لات بھی ماری جس سے خاتون بے ہوش ہو گئی-


    واقعے کے وقت اپارٹمنٹ کے مرکزی گیٹ پر مبینہ طور پر یونین کے ذمے دار بھی موجود تھے جو خاتون کی مدد کرنے کی بجائے وہاں سے کھسک دیئے-

    لاہور:گونگی بہری لڑکی سےمبینہ زیادتی

    لوگوں کا کہنا ہے کہ مذکورہ اپارٹمنٹ میں لوگوں پر تشدد معمول بن چکا ہے اور اپارٹمنٹ کے رہائشی یونین کے عہدیداروں سے بہت زیادہ خوفزدہ ہو چکے ہیں جبکہ اپارٹمنٹ کی بالائی منزل کے متعدد فلیٹ ایسے بھی ہیں، جن پر مبینہ طور پر قبضہ کیا گیا ہے ۔

    اس حوالےسے پولیس کا کہنا ہے کہ متاثرہ خاتون نے شاہراہ فیصل تھانے سے رجوع کیا تھا خاتون کا رہائشی عمارت کی یونین سے جھگڑا چل رہا تھا پولیس کے مطابق متاثرہ خاتون نے سیکیورٹی گارڈ کے خلاف مقدمہ درج کرانے سے انکار کر دیا ۔

    کراچی: پولیس افسران بھی ڈاکوؤں کے نشانے پر، اسسٹنٹ کمشنر کو اسلحے کے زور پر لُوٹ لیا گیا

  • بھارتی حکومت مسلمانوں کی نسل کشی میں  مصروف عمل ہے— عبدالحفیظ چنیوٹی

    بھارتی حکومت مسلمانوں کی نسل کشی میں مصروف عمل ہے— عبدالحفیظ چنیوٹی

    بدقسمتی سے اس وقت بھارت میں جہاں ایک طرف ہندتوا نظریات کا پرچار زد عام ہے وہیں دوسری طرف اسلاموفوبیا کی بڑھتی ہوئی لہر بھی تشویش ناک ہے- بھارت میں مقدس گائے،حجاب، لو جہاد اور گھر واپسی کے نام پر ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت مسلمانوں کے گرد گھیرا تنگ کیا جا رہا ہے-

    موجودہ بھارت میں عوامی سطح پر مسلمانوں کے خلاف نفرت اور اشتعال انگیزی پر مبنی گفتگو کو فروغ دیا جا رہا ہے- مسلمانوں کے خلاف منفی پروپیگنڈا، غلط معلومات اور فیک نیوز کی بنیاد پر ہتھیاروں سے لیس جتھوں کو مسلمانوں پر تشدد اور قتل عام کیلئے اکسایا جاتا ہے- عام سیاسی اور مذہبی اجتماعات کے علاوہ مختلف ڈیجیٹل پلیٹ فارمز جیسا کہ وٹس ایپ، فیس بک، ٹوئٹر وغیرہ پر ویڈیوز اور میسیجز کی صورت میں نفرت انگیز مواد کی بھر مار ہے-

    نفرت انگیز تقاریر اور گفتگو کی سب سے بڑی حالیہ مثال 17 تا 19 دسمبر 2021ء کو ہونے والے ہری دوار شہر میں ہندو انتہا پسندوں کے ایک اجتماع دھرم سنسد میں ہندو انتہا پسندوں کی جانب سے مسلمانوں کے قتل عام پر ابھارنے کی ہے-

    بلکہ ایک انتہا پسند ہندو خاتون رہنما نے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے مسلم دشمنی اور مذہبی منافرت و تعصب کا ثبوت دیتے ہوئے یہاں تک کہا کہ:

    ’’چندسو ہندو اگر مذہب کے سپاہی بن کر 20 کروڑ مسلمانوں کو ہلاک کر دیں تو وہ فاتح بن کر ابھریں گے- اس خاتون رہنما نے اپنی تقریر میں واضح کیا کہ ایسا کرنے سے ہندو مت کی اصل شکل ’’سناتن دھرم‘‘ کو تحفظ حاصل ہو گا‘‘-

    مزید تقاریر میں یہ بھی کہا گیا کہ اگر 20لاکھ مسلمانوں کا قتل عام کردیا جائے تو بقیہ مسلمان بے چوں و چرا ’ہندو راشٹر‘ تسلیم کر لیں گے- مسلسل 3 دن اس اجتماع میں کھلے عام مسلمانوں کے قتل عام کیلئے تقاریر کی جاتی رہیں لیکن کسی نے کوئی ایکشن نہیں لیا جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ سب کچھ ہندتوا سرکار کی مرضی سے ہورہا تھا-

    ان اعلانات کے بعد مسلمانوں کے خلاف تشدد اور انتہا پسندی نے مزید شدت اختیار کی جس کی سب سے خوفناک مثال جہانگیرپوری میں ہنومان جینتی کے دن پرتشدد ہجوم کو ان جگہوں سے گزرنے دیا گیا جہاں زیادہ تر مسلمان رہتے ہیں- ہاتھوں میں تلوار، دیگر تیز دھار دار ہتھیاروں، پستول لہراتے ہوئے اور مسلمانوں کو گالی دیتے ہوئے اس پرتشدد ہجوم نے نماز کے وقت مسجد کے سامنے ہنگامہ برپا کیا-

    یہ بات دنیا سے ڈھکی چھپی نہیں کہ 2014 ءکے بعد جب سے بی جے پی برسرِ اقتدار آئی ہے تب سے مسلم مخالف جذبات میں بھی شدت دیکھنے کو ملی ہے-

    2014ء کے بعد 2019ء میں دوبارہ نریندر مودی کا وزیر اعظم منتخب ہونا اور اسی طرح 2017ء کے بعد 2022ء میں بھارت کی سب سے بڑی ریاست اتر پردیش میں ہندو انتہا پسند اور کٹر مسلم مخالف یوگی آدتیہ ناتھ

    (جس کو مرکز میں مودی کے متبادل کے طور پر دیکھا جا رہا ہے)

    کے دوبارہ وزیر اعلیٰ بننے سے واضح ہوتا ہے بھارت مکمل طور ہندو راشٹر بننے کی جانب گامزن ہے- حالیہ 5 میں سے 4 ریاستوں اترپردیش، اتراکھنڈ، منی پور اور گوا میں بھارتیہ جنتا پارٹی اقتدار میں واپس آگئی ہے- عام طور پر یہی تاثر اور خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اس فتح سے مسلمانوں کے حالات مزید بدتر ہونگے-

    بھارت میں ریاستی انتخابات سے قبل یہ تاثر زد عام تھا کہ اگر مخصوص قسم کا زعفرانی رنگ کا لباس پہننے والے یوگی آدتیہ ناتھ خصوصاً اتر پردیش میں دوبارہ اقتدار میں آتے ہیں تو مسلمانوں سمیت دیگر اقلیتوں کے خلاف مبینہ ظلم و تشدد کا سلسلہ تیز ہو جائے گا- اگر ان کے پچھلے پانچ سالہ مسلم مخالف اقدامات کا ذکر کریں تو ان میں گائے کے ذبیحہ پر پابندی، لو جہاد، گھر واپسی اور بین المذاہب شادیوں پر پابندی نمایاں ہے- ان کے 5 سالہ دورِ اقتدار میں مسلمانوں پر مشتعل ہجوم کے ہاتھوں تشدد اور ان کے خلاف نفرت بھری تقاریر سر عام ہوتی رہی ہیں- مغل دور کا تعمیر شدہ تاج محل اور بابری مسجد سے نفرت یوگی آدتیہ ناتھ کی مسلم مخالف جذبات کی ایک چھوٹی سی مثال ہے-

    نریندرا مودی کی مرکزی حکومت کے مسلم مخالف سینکڑوں واقعات میڈیا میں رپورٹ ہو چکے ہیں- جن میں نمایاں مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کے بعد غیر قانونی اور غیر انسانی کرفیو کا نفاذ اور شہریت ترمیمی قانون کے تحت 30 لاکھ مسلمانوں کی بے دخلی کی راہیں ہموار کرنا شامل ہیں-

    یہ حقیقت ہے کہ آج نفرت اور انتہا پسندانہ سوچ کی وجہ سے بھارتی معاشرہ تقسیم ہوچکا ہے- سخت گیر ہندو آئے روز عوامی جلسوں میں مسلمانوں کا سیاسی، سماجی، معاشرتی اور معاشی سطح پر بائیکاٹ کا اعلان کر رہے ہیں-سوشل میڈیا پر موجود ویڈیوز میں واضح طور پر سنا جا سکتا ہے کہ ایک مجمع عام سے عہد لیا جا رہا ہے کہ :

    ’’ہم آج سے عہد کرتے ہیں کہ ہم مسلمانوں کی دکانوں سے کسی قسم کا کپڑا، جوتا اور دیگر سامان نہیں خریدیں گے اور نہ ہی انہیں کسی قسم کا سامان فروخت کریں گے‘‘-

    بھارت میں سوچی سمجھی سازش کے تحت ایک بیانیہ ’’ہندو خطرے میں ہیں‘‘ کو فروغ دے کر مسلمانوں سمیت دیگر اقلیتوں کے گرد گھیرا تنگ ہو چکا ہے- اس بیانیے پر کئی سوالات اٹھتے ہیں جن میں ایک سوال یہ قابل غور ہے کہ 15 فیصد والی اقلیت سے اکثریت کو کیا خطرات لاحق ہو سکتے ہیں؟ اسی بیانیہ کو فروغ دے کر بھارت میں اسلاموفوبیا کے واقعات تیزی سے بڑھ رہے ہیں- حالیہ دنوں میں بھارت کی 9 ریاستوں میں مسلم مخالف تشدد کے واقعات میں تیزی آئی ہے-یہ ریاستیں مدھیہ پردیش، گجرات، نئی دہلی، گوا، راجستھان، جھارکھنڈ، کرناٹک، مغربی بنگال، مہاراشٹر اور بہار ہیں- حال ہی میں ریاست کرناٹک کے سکولوں میں حجاب پہننے کو ایک سنگین مسئلے کے طور پر سامنے لایا گیا ہے-سکولوں میں حجاب کے مد مقابل ہندو طلبہ نے گلے میں کیسرانی رومال ڈالے ہوئے تھے-

    ان واقعات کا مقصد مذہبی منافرت کو فروغ دینا تھا جو اسلاموفوبیا کا منہ بولتا ثبوت ہے-اس کے علاوہ بی بی سی کی ایک ویڈیو رپورٹ میں واضح دیکھا جا سکتا ہے کہ پولیس مسلمانوں کی حفاظت کی بجائے انتہا پسندوں کا ساتھ دیتے ہوئے حملے کر رہی ہے-

    بھارت میں مسلمانوں کے مذہبی مقامات اور شعائر کی سرِ عام بے حرمتی کی جاتی ہے-اس کے علاوہ بھارت میں مسلمانوں کو کورونا وائرس کے پھیلاؤ کا ذمہ دار ٹھہرانا بھی اسلاموفوبیا کے مکروہ رجحان کی عکاسی کرتا ہے-بھارت میں بڑھتا ہوا اسلاموفوبیا اور نفرت انگیزی مسلمانوں کی نسل کشی کی مترادف ہے- پاکستان نے ہمیشہ اس بڑھتی ہوئی مذہبی منافرت اور اشتعال انگیزی کے خلاف اپنی آواز بلند کی ہے- حالیہ اسلام آباد اعلامیہ میں او آئی سی نے بھی بھارت کے ان اسلامو فوبک اقدامات کی بھر پور مذمت کرتے ہوئے کہا تھا کہ:

    ’’ہم بھارت میں مسلمانوں کے خلاف امتیازی سلوک اور عدم برداشت کی منظم اور وسیع پالیسی کی مذمت کرتے ہیں جس کی وجہ سے وہ سیاسی، معاشی اور سماجی پسماندگی کا شکار ہوئے ہیں- ہم حجاب کو نشانہ بنانے والے امتیازی قوانین اور پالیسیوں سے ظاہر ہونے والے ہندوستان میں مسلم تشخص پر سب سے زیادہ نقصان دہ حملوں سے بہت پریشان ہیں-ہم ہندوستان سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ ایسے امتیازی قوانین کو فوری طور پر منسوخ کرے، ہندوستانی مسلمانوں کے حقوق کو یقینی بنائے اور ان کی مذہبی آزادیوں کا تحفظ کرے‘‘-

    حالیہ کچھ دنوں میں سیکولر بھارت میں مسلمانوں کے خلاف نفرت کی ایک نئی لہر دیکھنے کو ملی ہے- مسلمانوں کے مذہبی مقامات اور آثارِ قدیمہ کو گرانے کے بعد ان کے کاروباروں کو ختم کرنے کے ساتھ ساتھ تجاوزات کے نام پر بلڈوزر سیاست کے ذریعے گھروں کو مسمار کیا جا رہا ہے-

    یہ بات عیاں ہے کہ متنازع شہریت کے ان قوانین سے نہ صرف مسلمانوں میں خوف بڑھا ہے بلکہ اس کے عملی اقدامات بھی سامنے آئے ہیں- مثلاً سرکاری حکام کا شہریت ثابت کرنے کے لئے مسلمانوں کو تنگ کرنا، غیر قانونی گرفتاریاں، پر تشدد واقعات میں اضافہ اور گھروں کو مسمار کرنا شامل ہے-

    5 اگست 2019ء کو ظالم بھارتی سرکار نے عالمی قوانین، دو طرفہ معاہدوں اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے برعکس غیر قانونی اقدامات کرتے ہوئے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کرنے کے ساتھ کشمیریوں پر غیر انسانی سلوک کرتے ہوئے شدید لاک ڈاؤن لگا کر انہیں کھلی جیل میں بند کر دیا-اس کے علاوہ بھارت کی طرف سے مقبوضہ جموں و کشمیر میں آبادی کا تناسب تبدیل کرنے کے لئے 30 سے 40 لاکھ غیر کشمیریوں کو وادی کا ڈومیسائل جاری کردیا گیا – اس دوران کرونا وائرس کی عالمی وبا کی مشکلات میں بھی بھارت نے کشمیریوں کو جیلوں میں بند کرنے، انٹرنیٹ بند کرنا، جعلی اِنکاونٹر، عورتوں اور بچوں پر ظلم و تشدد ختم نہ ہونے والا سلسلہ شروع کر رکھا ہوا ہے- 10 لاکھ بھارتی فوج کی موجودگی میں کشمیریوں پریہ غیر انسانی محاصرہ 1000 دنوں سے تجاوز کر چکا ہے-

    کشمیر میڈیا سروس کی رپورٹ کے مطابق سال 2021ء میں قابض بھارتی فوج نے 210 کشمیریوں کو شہید کیا جن میں 65 افراد کو جعلی ان کاؤنٹر میں شہید کیا گیا- اس دوران 44 معصوم بچے یتیم اور 16 خواتین بیوہ ہوئیں اور بھارتی فوج نے 67 عمارتوں کو مسمار بھی کیا- اس عرصے میں بھارتی فوج نے 2716 کشمیریوں کو گرفتار اور 487 افراد کو زخمی کیا- رپورٹ کے مطابق بھارتی فوج نے صرف دسمبر 2021ء میں 31 افراد کو شہید کیا-

    کچھ عرصہ قبل کشمیری حریت لیڈر سید علی گیلانی کی وفات پر بھارت نے غیر انسانی رویہ اختیار کیا جس کی وجہ سے ان کی تدفین سخت سیکورٹی حصار میں کی گئی اور اہل خانہ کو جنازے میں بھی شامل نہیں ہونے دیا گیا- ماہِ رمضان المبارک میں بھی بھارتی فوج کے کشمیریوں پر مظالم جاری رہے حتیٰ کہ عید الفطر کے موقع پر مسلمانوں کے اجتماعات پر پابندی عائد کردی گئی-

    بی جے پی اور آر ایس ایس کے اقتدار میں آئے روز مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں پر بڑھتے ہوئے مظالم کو لکھنے کیلئے الفاظ کم پڑ جائیں، اس تحریر میں اس بات کا جائزہ پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ کس طرح بھارت میں مختلف غیر انسانی اقدامات سے 220 ملین مسلم آبادی کا نسلی صفایا اور قتلِ عام کیا جارہا ہے-یہ عمل صرف مسلمانوں تک محدود نہیں ہے بلکہ ہندو راشٹر کے قیام کےلئے دیگر اقلیتیں بھی ہندتوا سوچ اور مذموم عزائم کے نشانے پر ہیں جس سے یہ نتیجہ نکالا جاسکتا ہے کہ بھارت تاریخ میں انسانیت کے سب سے بڑے دشمن کے طور پر یادرکھا جائے گا-

    پوری دنیا خاص کر بھارت میں اسلاموفوبیا خوفناک شکل اختیار کرچکا ہے جس کی ہر قیمت پر روک تھام کیلئے عالمی برادری کو اپنا غیر جانبدارانہ کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے- ہمیں یہ یاد رکھنا چاہیے کہ خصوصاً اقوام متحدہ اور انصاف کے عالمی اداروں نے اگر بھارت میں مسلمانوں پر ظلم و تشدد کے تیزی سے بڑھتے ہوئے واقعات سے مزید غفلت برتی اور بھارت کے ظالمانہ اقدامات کا ایکشن نہ لیا تو اس ظلم کے نتائج پوری انسانیت کو بھگتنا پڑیں گے-

  • فریج سے چیزیں کیوں کھائیں،گھریلو ملازموں پر تشدد، ایک کی موت، ایک شدید زخمی

    فریج سے چیزیں کیوں کھائیں،گھریلو ملازموں پر تشدد، ایک کی موت، ایک شدید زخمی

    لاہور کے علاقے ڈیفنس میں تشدد سے ایک کم سن گھریلو ملازم جاں بحق، دوسرا زخمی ہو گیا

    پولیس کے مطابق دونون بھائی ایک سال سے ڈیفنس کے رہائشی کے گھر کام کر رہے تھے جاں بحق بچے کی عمر 12 اور زخمی ہونے والے بچے کی عمر6 سال تھی،دونوں بچوں کی حالت غیر ہونے پر ملزمان انہیں نجی اسپتال لے کر گئے اسپتال کے عملے نے بچوں کی حالت دیکھ کر پولیس کو اطلاع دی دونوں بھائیوں پر تشدد کے الزام میں گھر کے سربراہ، 2خواتین سمیت 5 افراد گرفتارکرلئے گئے ہیں گرفتار ہونے والوں میں گھر کا سربراہ، اس کی بیوی،بہو اور بیٹے شامل ہیں ،مقتول کامران کی لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے بھجوا دیا گیا ہے،

    ملزمان نے پولیس کو بیان دیا کہ ملزمان نے بچوں کو فریج سے اشیا کھانے پر تشدد کا نشانہ بنایا،سی پی او نے واقعہ کا نوٹس لے لیا اور ایس پی کینٹ سے رپورٹ طلب کر لی،سی سی پی او لاہور کا کہنا ہے کہ بچوں پر تشدد قابل برداشت نہیں،سخت کاروائی کرینگے،پولیس نے ملزم نصر اللہ، محمود الحسن اور ملزمہ شازیہ بی بی کو گرفتار کر لیا ہے،پولیس کی مدعیت میں گھر کے پانچ افراد کے خلاف قتل اور دیگر دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے

    بہاولپور کا رہائشی کامران اپنے بھائی رمضان کے ساتھ ڈیفنس میں گھریلو ملازمت کرتا تھا،اہل خانہ کے بہیمانہ تشدد سے کامران جان کی بازی ہار گیا،مقتول کامران کے بھائی رضوان کا میڈیکل بھی کروایا جا رہا ہے،

    وزیر اعلی پنجاب حمزہ شہباز شریف نے ڈیفنس میں کمسن گھریلو ملازمین پر تشدد کے واقعہ کا نوٹس لے لیا.وزیر اعلی پنجاب حمزہ شہباز نے انسپکٹر جنرل پولیس سے رپورٹ طلب کر لی اور کہا کہ تشدد کے ذمہ داروں کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی کی جائے۔ زخمی بچے کو علاج معالجے کی بہترین سہولتیں فراہم کی جائیں۔ معمولی واقعہ پر معصوم بچے کی جان لینا انتہائی افسوسناک اور ناقابل برداشت ہے- کیس کے حوالے سے انصاف کے تمام تقاضے پورے کئے جائیں۔ وزیر اعلی حمزہ شہباز نے جاں بحق بچے کے لواحقین سے دلی ہمدردی و اظہار افسوس کیا اور انصاف کی فراہمی کی یقین دہانی کروائی

    واضح رہے کہ گھریلو ملازمین پر تشدد عام ہوتا جا رہا ہے، کم سن بچوں کو والدین ملازمت کے لئے چھوڑ جاتے ہیں اور پھر ان پر بے جا تشدد کیا جاتا ہے، حکومت کو چائلڈ پالیسی پر عمل کروانے کی ضرورت ہے، بچوں سے اجرت کروانے والوں کے خلاف کاروائی ہونی چاہئے تا کہ ایسے سانحات سے بچا جا سکے

    دس برس تک سگی بیٹی سے مسلسل جنسی زیادتی کرنیوالے سفاک باپ کو عدالت نے سنائی سزا

    شادی شدہ خاتون کے ساتھ اجتماعی زیادتی کے بعد ملزمان نے ویڈیو وائرل کر دی

    وفاقی دارالحکومت میں ملزم عثمان مرزا کا نوجوان جوڑے پر بہیمانہ تشدد،لڑکی کے کپڑے بھی اتروا دیئے، ویڈیو وائرل

    نوجوان جوڑے پر تشدد کرنیوالے ملزم عثمان مرزا کے بارے میں اہم انکشافات

    لڑکی کو برہنہ کرنیوالے ملزم عثمان مرزا کو پولیس نے عدالت پیش کر دیا

    کیا فائدہ قانون کا، مفتی کو نامرد کیا گیا نہ عثمان مرزا کو،ٹویٹر پر صارفین کی رائے