گرفتار ملزمان نے4ماہ قبل دوران ڈکیتی 32سالہ خاتون کو زیادتی کا نشانہ بنایا تھاجبکہ ملزمان ڈکیتی کے متعددمقدمات میں بھی ملوث ہیں۔
لاہور انویسٹی گیشن پولیس صدر ڈویژن نے کارروائی کرتے ہوئے دوران ہاؤس رابری گن پوائنٹ پر خاتون کو زیادتی کا نشانہ بنانے والے 3ملزمان گرفتارکر لیا ہے۔ ان خیالات کا اظہار ایس پی انویسٹی گیشن صدر محمد عیسیٰ خان نے آج اپنے دفتر میں الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ اُنہوں نے کہا کہ ایس ڈی پی او رائیونڈمحمد حسیب کی سربراہی میں انچارج انویسٹی گیشن رائیونڈ سٹی عدنان مسعود اور دیگر اہلکاروں پر مشتمل پولیس ٹیم نے کارروائی کرتے ہوئے مختلف معلومات سمیت جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے دوران ہاؤس رابری گن پوائنٹ پر خاتون کو زیادتی کا نشانہ بنانے والے 3ملزمان وقاص عرف وقاصی، وقار اور ابرارکو گرفتار کر لیا ہے۔ محمد عیسیٰ خان نے بتایا کہ درندہ صفت ملزمان نے تقریباً 4ماہ قبل 32سالہ خاتون کو زیادتی کا نشانہ بنایا تھا۔ ملزمان دوران واردات طلائی زیورات، نقدی اور دیگر قیمتی اشیاء بھی لوٹ کر لے گئے تھے۔ ایس پی انویسٹی گیشن صدر نے کہا گرفتار ملزمان کے خلاف لاہور شہرکے مختلف تھانوں میں ڈکیتی کے متعددمقدمات ٹریس ہوئے ہیں۔ انویسٹی گیشن پولیس ٹیم نے مختلف معلومات سمیت جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے ملزمان کو گرفتار کیا۔ایس پی انویسٹی گیشن صدر محمد عیسیٰ خان نے کہا کہ جرائم پیشہ عناصر کے خلاف بھر پور کارروائیاں جاری رہیں گی۔
ملتان : "پاکستان سفارتی ذرائع سے بھارتی مکروہ اقدامات اور تشدد کو بے نقاب کر رہا ہے۔ کرپشن کو روکنا عمران خان کی ترجیحات میں سے ہے۔ کرپشن کے ذمہ دار افراد کیخلاف بلا امتیاز کارروائی کی جا رہی ہے۔ ہم ہر اس ادارے کے ساتھ تعاون کر رہے ہیں جو کرپٹ عناصر کیخلاف کارروائی کرے گا۔ اسامہ بن لادن کی جانب سے نواز شریف کی جو مالی معاونت کی گئی یہ ریکارڈ پر ہے۔ ملکی سلامتی کے معاملات پر تبصرہ نہیں کرنا چاہوں گا”۔ شاہ محمود قریشی
اوکاڑہ(علی حسین) اوکاڑہ کے نواحی علاقے صدرگوگیرہ پولیس تھانہ میں ڈکیتی کے مقدمے کی بابت لائے گئے ملزم تصور کو پولیس نے انسانیت سوز تشدد کا نشانہ بنا ڈالا۔ تصور کے ورثاء نے باغی ٹی وی کو بتایا ہے کہ تصور کو دس روز قبل تھانہ گوگیرہ کی پولیس نے پکڑا اور اسے وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنایا جسکی وجہ سے وہ شدید زخمی ہوگیا۔ مضروب کی نازک حالت کی بنا پر اسے لاہور کے ایک ہسپتال میں ریفر کیا گیا جہاں وہ دس روز زیر علاج رہنے کے بعد زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گیا۔ متوفی کے ورثاء نے اوکاڑہ فیصل آباد روڈ بلاک کرکے احتجاج ریکارڈ کرایا ہے۔ ڈی پی او اوکاڑہ عمرسعید ملک نے واقعہ کا فوری نوٹس لیتے ہوئے تھانہ گوگیرہ کے ایس ایچ او کا فی الفور تبادلہ کردیا ہے۔ باغی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے عمرسعید ملک نے کہا ہے کہ واقعہ کی شفاف تحقیقات کی جائیں گی اور واقعے کے حقیقی محرک کو قرار واقعی سزا دی جائیگی۔
اوکاڑہ(علی حسین) تھانہ گوگیرہ کی حدود میں چند بااثر افراد نے ایک نوجوان کو درخت سے باندھ کر تشدد کا نشانہ بنایا۔ ملزمان نوجوان کو برہنہ کرکے کئی دیر تک تشدد کا نشانہ بناتے رہے۔ گوگیرہ پولیس نے وقوعہ کے مرکزی ملزم لیاقت کو گرفتار کرکے مقدمہ درج کرلیا ہے۔ ڈی پی او اوکاڑہ عمرسعیدملک نے واقعہ کا نوٹس لیتے ہوئے کہا ہے کہ ملزمان کو سخت سزا دلوائی جائیگی۔
اوکاڑہ(علی حسین) موضع لشاریاں میں بیس مسلح افراد نے محنت کش جعفر علی کے مکان پر قبضہ کرنیکی کوشش کی۔ مزاحمت پر گھریلو سامان اٹھا کر گلی میں پھینک دیا۔ جعفر علی کی دو بیٹیوں اور بیوی حلیمہ پر تشدد کیا۔ داماد عمران اور بھانجے رفیق کو اغواء کرکے ایک ڈیرے پر لے گئے ۔ دیہاتیوں کے آنے پر انہیں چھوڑ کر فرار ہو گئے۔ پولیس نے ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے۔
اوکاڑہ(علی حسین) اوکاڑہ کے نواحی علاقے تھانہ شاہبھور کی حدود میں پولیس پارٹی نے چوری کے کبوتر بازیاب کروائے جس پر علاقہ مکینوں نے پولیس پارٹی پر دھاوا بول دیا اور پولیس پارٹی کو تشدد کا نشانہ بنا ڈالا۔
اوکاڑہ(علی حسین) گاؤں واں محبت کی میں دیرینہ مخالفت کی بنا پر مخالفین نے عطاء محمد ، اسکی بہن کوثر بی بی اور اسکی والدہ کو گھر میں داخل ہوکر ڈنڈے سوٹے مار کر شدید زخمی کردیا۔ پولیس مصروف کاروائی ہے ۔
اوکاڑہ(علی حسین) گزشتہ دنوں حجرہ شاہ مقیم تھانہ کے ایس ایچ او انجم ضیاء پر صبا نامی خاتون نے تشدد کا الزام لگایا تھا۔ جس کی بنا پر تھانہ حجرہ شاہ مقیم کے ایس ایچ او انجم ضیاء کے خلاف محکمانہ انکوائری کا آغاز کیا گیا۔ انکوائری کے لیے ایس پی انویسٹیگیشن شمس الحق درانی کی سربراہی میں ایک کمیٹی تشکیل دی گئی۔ انجم ضیاء کے خلاف ڈی پی او اوکاڑہ نے نوٹس بھی لیا۔ تاہم مجسٹریٹ اول کے سامنے صبا نامی خاتون اپنے موقف سے مکر گئی اور کہا کہ میں نے ایس ایچ او انجم ضیاء کے خلاف تشدد کا بیان کسی کے دباؤ میں آکر دیا تھا۔ انجم ضیاء بے قصور ہیں ۔
یہ کوئی وقتی مشاہدے کی باتیں نہیں بلکہ پچھلے دس گیارہ سالوں سے مسلسل سفر میں رہتے ہوئے ، پاکستان کے شہروں اور صوبوں میں گھومتے پھرتے جہاں اور بہت ساری چیزوں کا مشاہدہ اور تجربہ حاصل ہوا وہاں پولیس کے رویوں اور طریقہ کار کو بھی جانچنے اور پرکھنے کا بھی موقع ملتا رہا. ویسے بھی مسافر (ٹورسٹ) اور پولیس کا واسطہ اکثر ہی رہتا ہے. کے پی کے، پنجاب، سندھ اور حتیٰ کے بلوچستان کی پولیس کے ساتھ بھی گپ شپ بھی رہی اور واسطہ بھی پڑتا رہا ہے. جہاں بہت سارے تجربے پولیس کے برے رویے کے ہیں وہیں کافی تجربات پولیس کی بہترین مہمان نوازی اور مشفقانہ رویہ روا رکھنے کے بھی ہیں. ایسا نہیں ہے کہ پولیس کا سارا محکمہ ہی گندا ہے، کرپٹ ہے یا ظالم ہے ہمارے بہت سے دوست احباب اور رشتہ دار بھی اس محکمے میں ہیں اسی طرح ہم دیکھتے ہیں کہ ان گنت نیک نیت، ایماندار اور فرض شناس لوگ اس محکمے میں ایسے بھی ہیں جن کی وجہ سے پولیس کے محکمے کی عزت برقرار ہے. افواج پاکستان کی طرح پولیس کے شہداء کی بھی ایک لمبی لسٹ ہے جو وطن عزیز اور اس کے شہریوں کی جان و مال کی حفاظت کی خاطر اپنی جانوں کے نذرانے پیش کرگئے. لیکن جو بات مسلمہ ہے وہ یہی ہے کہ اس محکمے میں بیشتر اندھیر نگری اور چوپٹ راج ہے، کرپشن اور ظلم کا دور دورہ ہے.جہاں ایس ایچ او اپنے علاقے کا بے تاج بادشاہ ہوتا ہے اور اس کے اشاروں پر لوگوں کی قسمتیں بن اور بگڑ رہی ہوتی ہیں وہیں ناکے پر کھڑا کانسٹیبل بھی چنگیز خان سے کم نہیں ہوتا جو چاہے تو چوری کے سامان سے بھری گاڑی کو گزرنے دے اور چاہے تو معمولی موٹر سائیکل سوار کو اپنی چائے پانی کے لیے خوار کرتا رہے اور تھانے میں بیٹھا محرر بھی کسی بنیئے سے مقابلہ کر رہا ہوتا ہے جب وہ ایف آئی آر درج کرنے کے لیے بھاؤ تاؤ کر رہا ہوتا ہے. یہ بات بطور لطیفہ بیان کی جاتی ہے مگر یہ انتہائی تکلیف دہ سچ ہے کہ دوسرے ممالک کے میں لوگوں کو پولیس کو دیکھ کر تحفظ کا احساس ہوتا ہے مگر وطن عزیز میں پولیس کو دیکھ کر آپ کو لٹ جانے کا احساس ہوتا ہے. آپ روڈ پر سفر کر رہے ہیں آپ کی جیب میں آپ کا لائسنس، گاڑی کے کاغذات، شناختی کارڈ غرض کے سب کچھ موجود ہے اور آپ تمام روڈ سیفٹی قوانین کو بھی فالو کر رہے ہیں لیکن جب آپ کی نظر سامنے لگے ناکے پر موجود پولیس کے سپاہیوں پر پڑتی ہے تو بندہ غیر ارادی طور پر دل ہی دل میں دعائیں پڑھنا شروع ہوجاتا ہے کہ یا اللہ آج بچا لے ان سے. اگر آپ طاقتور ہیں کسی اونچی پوسٹ پر ہیں تو یہی پولیس آپ کی محافظ ہوتی ہے اور آپ غریب ہیں اور عام سے شہری ہیں تو اس پولیس سے جان چھڑوانا ناممکن اور عذاب بنا ہوتا ہے. میرے پاس بیسیوں نہیں سینکڑوں مثالیں ہیں بلکہ تجربات ہیں کہ پولیس کے پاس شہریوں کو تنگ کرنے کے کتنے اور کون کونسے حربے ہوتے ہیں. ہمارے ملک میں کتنے ہی مجبور اور بے کس شہری ہیں جن کو پولیس کے ظلم اور تشدد نے کرپٹ اور مجرم بنا دیا ہے. کتنے ہی ایسے لوگ ہیں جو پولیس کی عدم توجہی اور ظالم کی پشت پناہی کی وجہ سے قانون کو اپنے ہاتھ میں لیتے ہیں اور معاشرے میں دہشت گرد اور ڈاکو کا خطاب پاتے ہیں. سانحہ ساہیوال، صلاح الدین کیس اور ان جیسے ناجانے کتنے کیس ہیں جو پولیس کی غنڈہ گردی اور ظلم کی عملی مثالیں ہیں. کوئی کتنا بھی کرپٹ کیوں نہ ہو، مجرم کیوں نہ ہو اس کے جرائم کی سزاء و جزا دینے کے لیے ا ملک میں ایک پورا عدالتی نظام موجود ہے تو پھر پولیس کو یہ جرات کیسے پیدا ہوتی ہے کہ وہ جعلی پولیس مقابلوں اور دوران تفتیش ماورائے عدالت قتل کرتے پھریں ؟؟؟ یہ کونسے قاعدے اور قانون میں ہے کہ پولیس مجرم سے اقبال جرم کروانے کے لیے اس پر غیر انسانی تشدد کرے؟ پاکستانی پولیس ایسا کیوں سمجھتی غریب کے جسمانی ریمانڈ کا مطلب اس کی چمڑی ادھیڑ دینا ہوتا ہے؟؟
یہ ساری باتیں تقاضہ کرتی ہیں کہ اب وقت آن پہنچا ہے کہ نظام پولیس میں اصلاحات کی جائیں اور اس پورے نظام کو از سر نو ترتیب دیا جائے اور انسانی ہمدردی اور انسانی مدد کی بنیاد پر پولیس کے محکمے کو کھڑا کیا جائے اور ایسی پولیس معاشرے میں کھڑی کہ جائے جس کو جرم سے نفرت ہو نہ کہ انسانیت سے اور جس کو دیکھ ہی معاشرے کو تحفظ کا احساس ہو.
ایک ماں کا لخت جگر دو شہداء کا بھائی ا ذہنی معذور صلاح الدین پولیس گردی سے قتل ہو گیا الزام کیا تھا اے ٹی ایم مشین توڑنا حالانکہ اس ملک میں لوگ قرآن کے احکامات کھلے عام توڑ رہے ہیں پولیس نے گرفتار کیا مارا پیٹا تفتیش کی وہی تفتیش کہ جس کے سنتے ہی پورا جسم لرز جاتا ہے اسی تفتیش کی بدلت صلاح الدین زندگی کی بازی ہار گیا مگر کیا ہوگا SHO, Si یاں اگر بہت زیادہ سختی کریں تو سرکل کا DSP معطل ہوگا انکوائری لگے گی اور یہ لوگ کچھ دنوں کیلئے پورے پروٹول کیساتھ جیل جائینگے
لوگ اور میڈیا چند دن شور مچائینگے پھر سب اپنے اپنے کاموں میں مشغول ہو جائینگے اور اسی سناٹے مین معزز پولیس اہلکاران بحال ہو جائینگے اور پھر سے کسی نئی صلاح الدین کو تخت مشق بنائینگے اور ایسا 73 سالوں سے ہو رہا ہے
جناب عزت مآب تخان صاحب اگر پولیس گردی روکنی ہے تو پھر معطل نہیں قتل کرو ان کا قتل کیونکہ قرآن میں رب رحمن نے اپنے نبی محمد ذیشان صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے بتلایا ہے قتل کا بدلہ قتل ہے
فرض کریں اگر ان پولیس اہلکاران کو صلاح الدین کے بھائی یاں کوئی اور رشتہ دار قتل کر دیں تو وہ بھی معطل ہی ہونگیں؟ نہیں بلکہ پولیس مقابلے میں مار دئیے جائینگے
خان صاحب تبدیلی کہاں سے آئے گی معطل کرنے سے نہیں آئے گی بلکہ آسمانی احکامات کی روشنی میں فیصلے کرنے سے آئیگی کل روز قیامت آپ کا گریبان ہوگا اور صلاح الدین کا ہاتھ کیونکہ آپ نے ریاست مدینہ بنانے کا وعدہ کیا تھا اور ایک سال سے اوپر ہو گیا آپ کو وزیراعظم یعنی خلیفتہ المسلیمین بنے ہوئے اور اس سال کے اندر کتنے ماورائے آئین و عدالت پولیس کے ہاتھوں قتل ہوئے ان سب کا حساب اللہ آپ سے لے گا کیونکہ آپ وقت کے حاکم ہیں ریاست مدینہ ثانی بنانے کے دعوے دار ہیں تبدیلی کا نعرہ لگا کر میدان میں آئے ہیں.