Baaghi TV

Tag: تشدد

  • رضوانہ کے والدین کہتے ہیں اگر انصاف نہ ملا تو ہم احتجاج کریں گے،وکیل

    رضوانہ کے والدین کہتے ہیں اگر انصاف نہ ملا تو ہم احتجاج کریں گے،وکیل

    رضوانہ تشدد کیس کی ملزمہ کے ریمانڈ میں عدالت نے توسیع کر دی ہے.

    ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس اسلام آباد نے رضوانہ تشدد کیس میں ملزمہ سومیاعاصم کے جوڈیشل ریمانڈ میں توسیع کر دی، ملزمہ کے جوڈیشل ریمانڈ میں 14دنوں کی مزید توسیع کی گئی ،

    رضوانہ تشدد کیس میں فیصل جٹ ایڈوکیٹ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ 14 روز کا جوڈیشل ریمانڈ آج مکمل ہوا ،ملزمہ صومیہ کا ابھی تک انتظار کر رہے ہیں ،خیرپور میں بھی ایسا ہی واقعہ پیش آیا ،رضوانہ کی سرجری ہوئی اس کی پنڈلی سے گوشت لیکر چہرے کی سرجری کی گئی ،بچی کی حالت ایسی ہے جیسے کوئی ڈھانچہ ہوتا ہے ،پوری قوم سے درخواست ہے کہ بیٹی رضوانہ کے لیے دعا کریں رضوانہ کے والدین کہتے ہیں اگر انصاف نہ ملا تو ہم احتجاج کریں گے ،جے آئی ٹی میں جتنی دفعہ ہمیں بلایا گیا ہم پیش ہوئے سابقہ سول جج صاحب ابھی تک جے آئی ٹی میں پیش نہیں ہوئے کوئی بھی جے آئی ٹی سے بالاتر نہیں ہے ،ہمیں جے آئی ٹی پر مکمل اعتماد ہے

    قبل ازیں چیئرپرسن نیلوفر بختیار نے ٹیم کےہمراہ لاہورکے ہسپتال میں رضوانہ کی خیریت دریافت کی.اس موقع پر پرنسپل پی جی ایم آئی ڈاکٹر فرید ظفر نے بچی کی صحت پر تفصیلی بریفنگ دی.کمیشن نے بچی کی والدہ کو مکمل قانونی مدد کا یقین دلایا اور امید ظاہر کی کہ بچی کو انصاف ضرور ملے گا

    واضح رہے کہ عاصم حفیظ کی اہلیہ سومیہ عاصم پر گھریلو ملازمہ پر تشدد کا مقدمہ زیرسماعت ہے بچی لاہور کے جنرل اسپتال میں زیر علاج ہے جہاں اس کے سر کے گہرے زخم کا علاج اور دیگر شدید چوٹوں کے باعث پلاسٹک سرجری کی جارہی ہے، اس دوران سرجری کے لئے بچی کو معیاری کریمیں لگائی جارہی ہیں،پلاسٹک سرجری کے سیشنز ڈاکٹر رومانہ کی سربراہی میں ٹیم کر رہی ہے جب کہ متاثرہ بچی کی پٹیاں 24 سے 48 گھنٹے بعد تبدیل کی جاتی ہیں،ڈیڑھ ماہ تک رضوانہ کے زخموں کی بھرائی کا عمل جاری رہےگا اور بچی کی پلاسٹک سرجری کی رپورٹ نگراں وزیر صحت ڈاکٹر جاوید اکرم کو پیش بھی کی جائے گی

    جج عاصم حفیظ بار بار طلبی کے باوجود جے آئی ٹی کے سامنے پیش نہیں ہوئے

     اسد شاہ کی بیوی حنا شاہ کے بہت مظالم برداشت کئے،

    13 سالہ گھریلو ملازمہ عندلیب فاطمہ تشدد کیس کی سماعت

    راجہ پرویز اشرف نے بچوں پر تشدد کے بڑھتے ہوئے رجحان پر اظہار تشویش کیا

  • رضوانہ تشدد کیس، جج عاصم حفیظ کی پانچ بار طلبی،پیش نہ ہوئے

    رضوانہ تشدد کیس، جج عاصم حفیظ کی پانچ بار طلبی،پیش نہ ہوئے

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق رضوانہ تشدد کیس میں جج عاصم حفیظ بار بار طلبی کے باوجود جے آئی ٹی کے سامنے پیش نہیں ہوئے

    کمسن گھریلو ملازمہ رضوانہ تشدد کیس میں جے آئی ٹی نے سول جج عاصم حفیظ کو تحقیقات کے لئے طلب کیا تھا، جے آئی ٹی پانچ بار طلب کر چکی مگر عاصم حفیظ پیش ہونے کا نام نہیں لے رہے، عاصم حفیظ کا کہنا ہے کہ جب تک ہائیکورٹ کا تحریری حکم نامہ نہیں ملے گا جے آئی ٹی کے سامنے تحقیقات کے لئے پیش نہیں ہوں گا،

    عاصم حفیظ کو لاہور ہائیکورٹ او ایس ڈی بنا چکی ہے، جس کے بعد انہیں طلب کیا گیا تھا، تا ہم وہ نہیں پیش ہو رہے،جے آئی ٹی کو بھی ملزمہ کے شوہر سے بطور جج کوشامل کرنا مشکل تھا ،جے آئی ٹی کی جانب سے جج کو شامل تفتیش کرنے کیلئے لاہور ہائی کورٹ سے رجوع بھی کیا گیا تھا،جے آئی ٹی متاثرہ بچی کے والدین اور ملزمہ کا بیان ریکارڈ کر چکی ہے

    واضح رہے کہ عاصم حفیظ کی اہلیہ سومیہ عاصم پر گھریلو ملازمہ پر تشدد کا مقدمہ زیرسماعت ہے بچی لاہور کے جنرل اسپتال میں زیر علاج ہے جہاں اس کے سر کے گہرے زخم کا علاج اور دیگر شدید چوٹوں کے باعث پلاسٹک سرجری کی جارہی ہے، اس دوران سرجری کے لئے بچی کو معیاری کریمیں لگائی جارہی ہیں،پلاسٹک سرجری کے سیشنز ڈاکٹر رومانہ کی سربراہی میں ٹیم کر رہی ہے جب کہ متاثرہ بچی کی پٹیاں 24 سے 48 گھنٹے بعد تبدیل کی جاتی ہیں،ڈیڑھ ماہ تک رضوانہ کے زخموں کی بھرائی کا عمل جاری رہےگا اور بچی کی پلاسٹک سرجری کی رپورٹ نگراں وزیر صحت ڈاکٹر جاوید اکرم کو پیش بھی کی جائے گی۔

    عمران خان پربجلیاں، بشری بیگم کہاں جاتی؟عمران کےاکاونٹ میں کتنا مال،مبشر لقمان کا چیلنج

    اینکر پرسن مبشر لقمان اوورسیز پاکستانیوں کی آواز بننے کے لئے میدان میں آ گئے

     شہبا ز شریف نے جب تک حکومت چلانی اب مولانا نے نخرے ہی دکھانے ہیں

    بشریٰ بی بی پھنس گئی،بلاوا آ گیا، معافی مشکل

    ہوشیار۔! آدھی رات 3 بڑی خبریں آگئی

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    لوٹوں کے سبب مجھے "استحکام پاکستان پارٹی” سے کوئی اُمید نہیں. مبشر لقمان

    لوگ لندن اور امریکہ سے پرتگال کیوں بھاگ رہے ہیں،مبشر لقمان کی پرتگال سے خصوصی ویڈیو

  • 2 بچوں کے باپ کوآشنا کے ساتھ بجلی کے کھمبے سے باندھ کر سرعام تشدد

    2 بچوں کے باپ کوآشنا کے ساتھ بجلی کے کھمبے سے باندھ کر سرعام تشدد

    بھارت میں 2 بچوں کے باپ کو مبینہ طور پر غیر ازدواجی تعلق کی بنا پر آشنا کے ساتھ بجلی کے کھمبے سے باندھ کر سرعام تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے۔

    باغی ٹی وی: بھارتی میڈیا کے مطابق تریپورہ کے ٹاؤن بیلونیا میں2 بچوں کے باپ اور 20 سالہ لڑکی کو غیر ازدواجی تعلقات رکھنے کے الزام میں سرعام تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔

    سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیو میں مرد اور ایک لڑکی کو بجلی کے کھمبے سے بندھے دیکھا جاسکتا ہے جبکہ ادھیڑ عمر خاتون کھمبے سے بندھی لڑکی کے بال کھینچ کھینچ کر اسے مارتے دیکھی گئی بھارتی شخص اور اس کی آشنا کو سرعام ایک بزرگ کی جانب سے بھی بے عزت کیا گیا آس پاس موجود لوگ واقعے دیکھتے رہے لیکن کسی نے جوڑے کی مدد نہیں کی۔

    سابق پرنسپل سیکرٹری اعظم خان کے بیان کے بعد پی ٹی آئی رہنماؤں کی گرفتاریاں

    میڈیا رپورٹس کے مطابق واقعے کی اطلاع پولیس کو دی گئی جس کے بعد پولیس نےموقع پر پہنچ کر متاثرین کو بچالیا دوسری جانب متاثرہ مرد اور لڑکی کی جانب سے کسی قسم کی شکایت درج نہیں کرائی گئی البتہ پولیس نے واقعے کا مقدمہ درج کرکے علاقہ مکینوں کیخلاف تفتیش شروع کردی ہے۔

    اسسٹنٹ انسپکٹر جنرل (لاء اینڈ آرڈر) جیوتشمان داس چودھری نے بتایا کہ پولیس نے اس شخص کو زخمی حالت میں پایا اور عورت کو برقی کھمبے سے بندھا ہوا پایا جب وہ بیلونیا کے ایشان چندر نگر گاؤں کی منڈا بستی پہنچےانہوں نے دونوں کو بچایا اور خاتون کو بیلونیا اسٹیشن لے گئےاس شخص اور اس کی بیوی کے دو بچے ہیں۔

    خدا گواہ ہے،میں نے آفیشل سیکرٹس اور پاکستان آرمی ترمیمی بل 2023 پر دستخط نہیں …

    قبل ازیں 2020 میں، مغربی تریپورہ ضلع میں ایک 45 سالہ خاتون پر اسی طرح پانچ خواتین نے ان میں سے ایک کے شوہر کے ساتھ مبینہ طور پر تعلقات رکھنے کے الزام میں حملہ کیا۔ حملہ آوروں کو بعد میں گرفتار کر لیا گیا۔

  • مجھ پر کتے چھوڑے جاتے تھے،عندلیب فاطمہ کا بیان آ گیا

    مجھ پر کتے چھوڑے جاتے تھے،عندلیب فاطمہ کا بیان آ گیا

    اسلام آباد جی سیکٹر 15 میں تیرہ سالہ عندلیب فاطمہ پر تشدد کا معاملہ ، ملزمہ زیتون عرف ثمرا کے ہاتھوں تشدد کاشکار عندلیب فاطمہ کا ویڈیو بیان سامنے آیا ہے،

    متاثرہ بچی عندلیب فاطمہ کی ٹانگوں پر جلنے کے نشانات ظاہر ہیں،عندلیب فاطمہ کا کہنا ہے کہ میں کام کرتی تھی، مجھ پر ظلم کیا جاتا تھا، جسم پر گرم چمچ لگا کر جلایا جاتا تھا،مالکن کے بچے ہینگر سے مارتےتھے، مجھ پر 2 بار کتوں کو بھی چھوڑا گیا تھا،میں ڈری ہوئی تھی، کسی کو کچھ نہیں کہہ سکتی تھی، جب ماموں نے بدتمیزی کی تو مالکن کو بتایا لیکن انہوں نے الٹا مجھے مارا میں ڈری ہوئی تھی اس لئے کسی کو کچھ نہیں کہہ سکتی تھی

    تھانہ ترنول میں تشدد کا شکار بچی کی والدہ کی جانب سے درج مقدمے میں نامزد ملزمہ نے 50 ہزار روپے کے مچلکوں کے عوض عدالت سے ضمانت لے رکھی ہے جس کے باعث ملزمہ کو ضمانت پر رہا کیا جا چکا ہے

    درج مقدمے میں کہا گیا ہے کہ میری بیٹی ایک ماہ نو دن سے کام کر رہی تھی ملنے آئی تو وہ روپڑی، اسکے منہ ، سر اور جسم کے باقی حصوں پر زخم تھے،بیٹی نے بتایا باجی زیتوں عرف ثمرہ روز مارتی ہیں،رابطہ نہ ہونے کی وجہ سے میں بیٹی کو ملنے آئی تھی کیونکہ مالکن بیٹی سے بات نہیں کرواتی تھی،ثمرہ نے مجھے بھی کمرے میں بند کر دیا اور کہا کہ میں تمہیں مزہ چکھاتی ہوں، میں نے باجی کے پاؤں پکڑے کہ ہمیں جانے دو، تو بغیر تنخواہ کے ہمیں گھر سے دھکے دے کر نکال دیا،اور دھمکیاں بھی دیں، درج ایف آئی آر میں مزید کہا گیا کہ ثمرہ تعویذ کا کام کرتی ہے،وہ میری بیٹی کو کہتی ہے کہ چوہے اور گوشت کو جلاؤ، اور اسی چمچ سے میری بیٹی کو مارتی تھی،جسم پر گرم چمچ لگاتی تھی، ہینگر سے مارتی تھی،باجی نے کمرے میں بند کر کے میری ویڈیو بھی بنائی،جس میں یہ بولنے کا کہا گیا تھا کہ اعجاز کے لئے میری مرضی کا بیان دو

    سینئر صحافی و اینکر سلیم صافی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ ہم زندہ قوم نہیں رہے بلکہ نفسا نفسی کی شکارانسانوں کی شکل میں درندوں کا ہجوم بن گئے ہیں ۔وجہ یہ ہے کہ علما اور مصلحین دعوت و اصلاح کاکام چھوڑ رسیاست میں لگ گئے ہیں۔استاد کوہم کماحقہ معاوضہ اور عزت نہیں دے رہے ہیں۔جبکہ میڈیا خبر دینے کی بجائے خواہشات کو بڑھااور جذبات کوبھڑکا رہا ہے۔

  • بال پکڑ کرمیرا سردیوار کے ساتھ مارا جاتا تھا،رضوانہ نے بیان ریکارڈ کروادیا

    بال پکڑ کرمیرا سردیوار کے ساتھ مارا جاتا تھا،رضوانہ نے بیان ریکارڈ کروادیا

    کمسن گھریلو ملازمہ رضوانہ پر تشدد کا معاملہ، بچی نے اسلام آباد پولیس کو بیان ریکارڈ کروا دیا

    اسلام آباد پولیس حکام نے کمسن بچی رضوانہ کا ہسپتال میں ہی بیان ریکارڈ کیا، رضوانہ نے اپنے اوپر ہونے والے تشدد کی ساری آب بیتی سنا دی، رضوانہ نے تفتیشی حکام کو بتایا کہ جج کی اہلیہ سومیہ عاصم مجھ پر روزانہ تشدد کرتی تھیں، مجھے ڈنڈوں، لوہے کی سلاخوں سمیت دیگر چیزوں سے مارا جاتا تھا، جج کی اہلیہ مجھے لاتیں، ٹھڈے بھی مارتی تھی، میرے بال پکڑ کر میرا سر دیوار کے ساتھ مارا جاتا تھا، کمرے میں بند کر دیا جاتا اور کھانا بھی نہیں دیا جاتا، جج جب گھر والوں کے ساتھ باہر جاتے تو مجھے ایک ایک ہفتہ گھر میں بند رکھا جاتا،جج کی اہلیہ تشدد بارے گھر والوں سے ذکر نہ کرنے کا کہتیں اور دھمکاتیں،میرے زخموں کی مرہم پٹی بھی نہیں کراتے تھے،

    دوسری جانب وفاقی پولیس نے سول جج عاصم حفیظ کو بیان ریکارڈ کروانے کیلے دوبارہ طلب کر لیا ،پولیس جے آئی ٹی کو جج کو شامل تفتیش کرنے کی رکاوٹ بھی دور ہو گئی جے آئی ٹی کو بھی ملزمہ کے شوہر سے بطور جج کوشامل کرنا مشکل تھا ،جے آئی ٹی کی جانب سے جج کو شامل تفتیش کرنے کیلئے لاہور ہائی کورٹ سے رجوع بھی کیا گیا تھا،جے آئی ٹی متاثرہ بچی کے والدین اور ملزمہ کا بیان ریکارڈ کر چکی ہے

    علاوہ ازیں چیئر پرسن چائلڈ پروٹیکشن بیورو پنجاب سارہ احمد نے کہا کہ تشدد کا شکار کمسن گھریلو ملازمہ رضوانہ کو صحتیابی کے بعد چائلڈ پروٹیکشن بیورو میں رکھا جائے گا کیونکہ وہ اپنے والدین کے ساتھ محفوظ نہیں اور اس کو دوبارہ ملازمت پر رکھوا دیاجائے گا۔ وہ رضوانہ تشدد کیس سے متعلق کارروائی اورملک بھر میں بڑھتے ہوئے چائلڈ لیبر کے کیسز سے متعلق پریس کانفرنس کر رہی تھیں۔ چئیرپرسن سارہ احمد کے ہمراہ معروف اداکارہ اور چائلڈ رائٹس ایکٹیویسٹ نادیہ جمیل اور سسٹینبل سوشل ڈویلپمنٹ آرگنائزیشن کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر کوثر عباس بھی موجود تھے۔ سارہ احمد نے کہا کہ آج کی پریس کانفرنس کا مقصد تشدد کا شکار کمسن گھریلو ملازمہ رضوانہ اور فاطمہ کے لیے انصاف کا مطالبہ ہے۔ رضوانہ پر تشدد کے بعد سندھ میں معصوم بچی پر تشدد کا ایک اور واقعہ پیش آگیا جو کہ افسوسناک اور قابل مذمت ہے کمسن بچیوں رضوانہ اور فاطمہ سمیت تمام گھریلو ملازمین پر تشدد کی بھرپور مذمت کرتے ہیں۔ رضوانہ پر جتنا تشدد ہوا، اتنا تشدد کسی اور بچے پر نہیں دیکھا۔ اس کی تعلیم رہائش اور دیگر تمام ضروریات چائلڈ پروٹیکشن بیورو کی جانب سے پوری کی جائیں گی۔

    سارہ احمد نے کہا کہ جب تک ملزمان کو سخت سے سخت سزا نہیں ملیگی تب تک ایسے کیسز کی روک تھام ممکن نہیں۔جب تک تمام ادارے اس پر سنجیدگی سے کام نہیں کرتے تب تک ایسے کیسز ہوتے رہے گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایسے کیسز میں ابھی تک مجرموں کو سزائیں نہیں ملی اور ایسے کیسز کے الگ سے کورٹ ہونے چاہئیں۔ہمارے قوانین میں سزائیں کم ہیں اس لیے سزائیں بڑھانے کی ضرورت ہے۔ چیئرپرسن نے کہا کہ ہم نے سوشل بائیکاٹ آف چائلڈ ایمپلائز کی مہم شروع کی جس میں لوگوں کو کہا گیا کہ وہ ایسے لوگوں سے ملنا چھوڑ دیں جنھوں نے بچوں کو ملازمت پر رکھا ہوا ہے۔ کمسن گھریلو ملازمین کو تشدد اور ظلم سے بچانے کیلئے تمام سٹیک ہولڈرز کو مل کر سنجیدہ کوششیں کرنا ہوں گی۔ چائلڈ پروٹیکشن بیورو تشدد اور ظلم کا شکار گھریلو ملازمین کو تحفظ فراہم کر رہا ہے۔ ہم نے چیف جسٹس آف پاکستان سے رضوانہ تشدد کیس میں سو موٹو لینے کی درخواست کی ہے۔ چئیرپرسن سارہ احمد نے کہا کہ گھریلو ملازمین کو موثر قانون سازی کے ذریعے تشدد سے بچایا جا سکتا ہے۔ چائلڈ پروٹیکشن بیورو کی جانب سے تشدد کا شکار بچوں کو تعلیم کے ذریعے معاشرے کا مفید شہری بنایا جا رہا ہے۔ میری سب سے درخواست ہے کہ چائلڈ لیبر کے خاتمے اور بچوں کے تحفظ میں ہمارا ساتھ دیں۔ تشدد کا شکار گھریلو ملازمین کے بارے میں چائلڈ ہیلپ لائن 1121پر اطلاع دیں

    دوسری جانب اسلام آباد پولیس بھی رضوانہ تشدد کیس کی مختلف پہلوؤں سے تفتیش کررہی ہے، اسلام آباد پولیس کی جانب سے بچی کو ملازمت پررکھوانے والے ٹھیکیدار کو شامل تفتیش کیا گیا ہے، رضوانہ کو ابتدائی طبی امداد دینے والے ڈاکٹر نے پولیس کو بیان دینے سے معذرت کرلی ، اسلام آباد پولیس کی تفتیشی ٹیم کے رکن پنجاب کے شہر سرگودھا میں بھی موجود ہیں جہاں رضوانہ کا گھر ہے، لاہور جہاں رضوانہ زیر علاج ہے وہاں بھی تفتیشی ٹیم کے رکن موجود ہیں،

    طالبہ کے ساتھ جنسی تعلق،حمل ہونے پر پرنسپل نے اسقاط حمل کروا دیا

    ویڈیو بنا کر ہراساں کرنے کے ملزم کی درخواست ضمانت پر فیصلہ محفوظ

    ناکے پر کیوں نہیں رکے؟ پولیس اہلکار نے شہری پر گولیاں چلا دیں

    بارہ سالہ بچی کی نازیبا ویڈیو بنانے والا ملزم گرفتار

    واقعہ کا اسلام آباد پولیس نے مقدمہ درج کر لیا

     ابتدائی طور پر بچی کے زخم پرانے ہیں تاہم حتمی فیصلہ میڈیکل بورڈ کی رپورٹ پر ہوگا

    پولیس نے بچی اور اسکے والد کا بیان ریکارڈ کر لیا

    میری اہلیہ سخت مزاج ہے لیکن اس نے مارپیٹ نہیں کی ہے

    وزیراعظم نے کہا ہے کہ بچی کوعلاج کی بہترین سہولیات کی فراہم کی جائیں

    واضح رہے کہ تشدد کا شکار 14 سالہ گھریلو ملازمہ رضوانہ کا تعلق سرگودھا سے ہے تشدد کا واقعہ علاقہ تھانہ ہمک اسلام آباد میں پیش آیا ، بچی کو مضروب حالت میں اس کی والدہ اسلام آباد سے واپس سرگودھا لیکر آئی،

  • اسد شاہ کی ایک اور سابقہ ملازمہ سامنے آ گئی،بولی،کام کم،تشدد زیادہ کیا جاتا تھا

    اسد شاہ کی ایک اور سابقہ ملازمہ سامنے آ گئی،بولی،کام کم،تشدد زیادہ کیا جاتا تھا

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سندھ کے علاقے رانی پور میں کمسن بچی کی تڑپتے ہوئے موت ہوئی، ویڈیو وائرل ہونے کے بعد مقدمہ درج کیا گیا اور ملزم کو گرفتار کیا گیا، اب اسی ملزم اسد شاہ کے ہاں ایک اور سابق ملازمہ نے بھی دعویٰ کیا ہے کہ اسے بھی تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے،

    اجالا نامی لڑکی نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ اسد شاہ کے گھر میں کام کرتی تھی، اس نے اسد شاہ کی بیوی حنا شاہ کے بہت مظالم برداشت کئے، حنا شاہ بہت تشدد کرتی تھی، اگر کوئی غلطی ہو جاتی تو دیگر ملازموں سے تشدد کرواتی تھی،اجالا کی ویڈیو سامنے آئی جس میں وہ کہتی ہیں کہ ایک روز فائل گم ہو گئی تو حنا شاہ نے خود مجھے ڈنڈے سے مارا، جب کوئی غلطی ہوتی تو پانی ابال کر پلایا جاتا اور بچہ ہوا کھانا دیا جاتا جبکہ صرف چار ہزار روپے ماہانہ تنخواہ دی جاتی تھی،

    سابقہ ملازمہ اجالا نے اپنی ویڈیو میں کہا کہ اس نے حنا شاہ کے مظالم سے تنگ آ کر کئی بار خودکشی کرنے کا بھی سوچا تھا ایک دن وہ موقع پا کر حویلی سے بھاگ کر اپنے رشتے داروں گھر گئی اور وہاں پناہ لی جبکہ اس کے رشتہ دار اسے حویلی واپس جانے کا کہتے رہے لیکن میں نے کہا کہ میں مرجاؤں گی لیکن واپس حویلی نہیں جاؤنگی

    واضح رہے کہ تشدد سے مرنے والی بچی کی والدہ نے ابتدائی بیان میں کہا تھا کہ بچی کی موت طبعی ہے، جس کی وجہ سے پولیس نے بچی کا پوسٹ مارٹم نہیں کروایا، بچی کے جسم پر تشدد کی ویڈیو سامنے آئیں تو پولیس کے اعلیٰ حکام نے واقعہ کا نوٹس لیا،اسکے بعد سی سی ٹی وی فوٹیج بھی سامنے آ گئی،

    پولیس کی جانب سے بچی کا علاج کرنے والے ڈاکٹر سے بھی تفتیش کی جارہی ہے نجی ہسپتال کے ڈاکٹرعبد الفتاح میمن نے پولیس کو بتایا کہ گیسٹرو میں مبتلا بچی کو لایا گیا تھا انہوں نے صرف متاثرہ بچی کا علاج کیا جبکہ ایس ایس پی خیرپور روحیل کھوسو کا کہنا ہے کہ مرکزی ملزم کو گرفتار کرلیا جیسے ہی مزید شہادتیں ملیں گی مزید کارروائی بھی عمل میں لائی جائے گی جبکہ بچی کے پوسٹ مارٹم کیلئے عدالت سے رجوع کیا جائے گا۔

    نوشہرو فیروز کے رہائش ندیم علی کی بیٹی کے جسم پر تشدد کے نشانات کی ویڈیو وائرل ہوئی تھی جس میں واضح دیکھا جا سکتا ہے کہ بچی کے جسم پر تشدد کے نشانات ہیں

    عمران خان پربجلیاں، بشری بیگم کہاں جاتی؟عمران کےاکاونٹ میں کتنا مال،مبشر لقمان کا چیلنج

    اینکر پرسن مبشر لقمان اوورسیز پاکستانیوں کی آواز بننے کے لئے میدان میں آ گئے

     شہبا ز شریف نے جب تک حکومت چلانی اب مولانا نے نخرے ہی دکھانے ہیں

    بشریٰ بی بی پھنس گئی،بلاوا آ گیا، معافی مشکل

    ہوشیار۔! آدھی رات 3 بڑی خبریں آگئی

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    لوٹوں کے سبب مجھے "استحکام پاکستان پارٹی” سے کوئی اُمید نہیں. مبشر لقمان

    لوگ لندن اور امریکہ سے پرتگال کیوں بھاگ رہے ہیں،مبشر لقمان کی پرتگال سے خصوصی ویڈیو

    13 سالہ گھریلو ملازمہ عندلیب فاطمہ تشدد کیس کی سماعت

  • راجہ پرویز اشرف کا بچوں پر تشدد کے بڑھتے ہوئے رجحان پر اظہار تشویش

    راجہ پرویز اشرف کا بچوں پر تشدد کے بڑھتے ہوئے رجحان پر اظہار تشویش

    اسپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف نے بچوں پر تشدد کے بڑھتے ہوئے رجحان پر اظہار تشویش کیا ہے

    راجہ پرویز اشرف نے رانی پور میں معصوم بچی کی ہلاکت کے واقعہ کا نوٹس لیا اور کہا کہ بچی کی ہلاکت پر دل انتہائی رنجیدہ ہے قومی اسمبلی نے پچھلے 16 ماہ میں بچوں کے حقوق و تحفظ کے لیے بیشتر اہم اقدامات کیے ہیں بچے ہمارا مستقبل ہیں، بچوں کا تحفظ ہماری اجتماعی ذمہ داری ہے، بچوں سے مشقت لینے کے رجحان کی ہر سطح پر بھرپور حوصلہ شکنی کی جانی چاہیے ، قانون نافذ کرنے والے ادارے اس طرز عمل کو سنجیدگی سے لیں اور ان کی روک تھام کے لیے بروقت اور مناسب اقدامات اٹھائیں،

    واضح رہے کہ پاکستان میں کمسن گھریلو ملازمین پر تشدد کے کئی واقعات سامنے آ چکے ہیں، سول جج کی اہلیہ والا کیس ابھی تک چل رہا ہے، کہ اسلام آباد میں ایک اور گھر میں گھریلو ملازمہ کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا ، اسکے بعد رانی پور میں واقعہ پیش آیا، سفاک شخص نے 10 سالہ بچی کو مبینہ طور پرتشدد کا نشانہ بنایا گیا اور اسے تڑپتا ہوا فرش پر چھوڑ دیا، بچی کی موت ہو گئی ،واقعہ کی سی سی ٹی فوٹیج سامنے آئی ہے جس میں کمسن بچی کو فرش پر تڑپتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے، پولیس نے واقعہ کا مقدمہ درج کر لیا ہے،بچی کی والدہ کی مدعیت میں پولیس نے دو افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا، واقعہ پر ایس ایس پی خیر پور کا کہنا ہے کہ مقدمے میں نامزد اسد شاہ اور اسکی اپلیہ کو نامزد کیا گیا ہے، اسد شاہ کو حراست میں لے لیا ہے خاتون کی گرفتاری کے لئے ٹیمیں تشکیل دے دی ہیں،

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    لوٹوں کے سبب مجھے "استحکام پاکستان پارٹی” سے کوئی اُمید نہیں. مبشر لقمان

    لوگ لندن اور امریکہ سے پرتگال کیوں بھاگ رہے ہیں،مبشر لقمان کی پرتگال سے خصوصی ویڈیو

    13 سالہ گھریلو ملازمہ عندلیب فاطمہ تشدد کیس کی سماعت

  • بیڈ روم میں گھس کرحملہ کیا گیا،سابق رکن اسمبلی کی بیوہ کی درخواست پر مقدمہ

    بیڈ روم میں گھس کرحملہ کیا گیا،سابق رکن اسمبلی کی بیوہ کی درخواست پر مقدمہ

    اسلام آباد بلوچستان ہاؤس میں سابق رکن قومی اسمبلی عطا قریشی کی اہلیہ پر حملہ ہوا ہے

    حملے کا مقدمہ سابق وزیر بلوچستان حاجی طورخان اور ان کے چار ساتھیوں کے خلاف درج کیا گیا ہے، تھانہ سیکریٹریٹ پولیس نے واقع کی تحقیقات شروع کردیں، درج مقدمہ میں کہا گیا ہے کہ میں پیپلز پارٹی پنجاب کونسل کی ممبر ہوں، سابق رکن اسمبلی کی بیوہ اپنے بیٹے سمیت کمرہ نمبر 202 میں رہتی ہوں، گزشتہ روز 5 افراد زبردستی ہمارے گھر میں داخل ہوئے، ملزمان نے میرے بیٹے اور مجھے تشدد کا نشانہ بنایا،قتل کی دھمکیاں دیں ،میرا پہلے بھی ایک بیٹا قتل ہوچکا یے ،جو افراد میرے کمرے میں داخل ہوئے ان میں حاجی طور خان بلوچستان کا سابق وزیر بتایا گیا ہے، اسکے ساتھ چار افراد تھے جنہوں نے ہمیں ہراساں کیا، بیٹے کو تشدد کا نشانہ بنایا،میں نے روکا تو ملزمان نے میرے بیٹے کو تھپڑ مارے، مجھے بھی تشدد کا نشانہ بنایا گیا،میرا دوپٹہ کھینچ لیا گیا،میں دل کی مریضہ ہوں، ملزمان کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے،

    قبل ازیں زاہدہ عطا قریشی نے بلوچستان ہاؤس میں خود پر ہونے والے حملے کے بارے میں نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں پریس کانفرنس کی اور کہا کہ وہ علاج کے سلسلے میں بلوچستان ہاؤس میں رہ رہی ہیں، ان پر اور ان کے بیٹے پر سابق صوبائی وزیر طوراتمان خیل نے ساتھیوں کے ہمراہ بیڈ روم میں گھس کر حملہ کیا، طور اتمان خیل اور ان کے ساتھیوں نےگولیاں مارنے کی دھمکیاں دیں، چادر اور چار دیواری کا تقدس پامال کیا گیا میرا ایک جوان بیٹا پہلے بھی قتل کیا جاچکا ہے، نگران وزیراعظم، چیف جسٹس اور چیئرمین پیپلز پارٹی ہمارے تحفظ کے لیے اقدامات اٹھائیں

    نگران وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ نے جڑانوالہ واقعہ کا نوٹس لیا ہے

     وزیراعظم انوارالحق کاکڑ سے سعودی سفیر نواف بن سعید المالکی نے ملاقات کی

     نامزد دو افراد کو پولیس نے گرفتار کیا ہے

    سکھر کے سینئر صحافی جان محمد مہر کو گولیاں مار دی گئی ہیں،

    شہری کی بھینسیں اورطلائی زیورات لے جانیکا الزام 

    police case

  • رانی پور،گھریلو ملازمہ قتل کیس، دو بیٹیوں کو بچانے کیلئے طبعی موت کا بیان دیا، والدہ

    رانی پور،گھریلو ملازمہ قتل کیس، دو بیٹیوں کو بچانے کیلئے طبعی موت کا بیان دیا، والدہ

    سندھ کے علاقے رانی پور میں افسوسناک واقعہ پیش آیا ہے، سفاک شخص نے 10 سالہ بچی کو مبینہ طور پرتشدد کا نشانہ بنایا گیا اور اسے تڑپتا ہوا فرش پر چھوڑ دیا، بچی کی موت ہو گئی

    واقعہ کی سی سی ٹی فوٹیج سامنے آئی ہے جس میں کمسن بچی کو فرش پر تڑپتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے، پولیس نے واقعہ کا مقدمہ درج کر لیا ہے،بچی کی والدہ کی مدعیت میں پولیس نے دو افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا، واقعہ پر ایس ایس پی خیر پور کا کہنا ہے کہ مقدمے میں نامزد اسد شاہ اور اسکی اپلیہ کو نامزد کیا گیا ہے، اسد شاہ کو حراست میں لے لیا ہے خاتون کی گرفتاری کے لئے ٹیمیں تشکیل دے دی ہیں،

    گھریلو ملازمہ قتل کیس، ملزم جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے
    ملزم اسد شاہ کو آج عدالت پیش کیا گیا،دوران سمات پولیس نے ملزم کا 15 روزہ جسمانی ریمانڈ مانگا، عدالت نے پولیس کی استدعا مسترد کرتے ہوئے ملزم کا 4 روز کا جسمانی ریمانڈ دے دیا،4 دن کے بعد ملزم کو دوبارہ عدالت میں پیش کیا جائے گا پولیس نے بچی پر تشدد کے الزام میں گرفتار ملزم پیر اسد شاہ کو ریمانڈ ملنے کے بعد ہنگورجہ تھانے منتقل کردیا، کیس کی سماعت سماعت جوڈیشل مجسٹریٹ سوبھو ڈیرو نے کی، دوران سماعت ملزم اسد شاہ نے عدالت میں بیان دیتے ہوئے کہا کہ وائرل کی گئی ویڈیوزمیری حویلی کی نہیں بچی پر تشدد نہیں کیا میری اپنی حویلی کی جو ویڈیوز تھیں وہ میں نے خود پولیس کو فراہم کیں ہماری حویلی میں بچیاں کام کاج کرتی ہیں مرید اپنی خوشی سے بچیاں کام پر لگاتے ہیں،

    دوسری جانب آج عدالت سے اجازت ملنے کے بعد مقتول بچی فاطمہ کی قبر کشائی کی جائے گی اور فاطمہ کی لاش کا پوسٹ مارٹم کیا جائے گا،

    بچی کی والدہ کا کہنا ہے کہ اسکی تین بیٹیاں حویلی میں ملازم تھیں، ایک بیٹی کی موت کے بعد اس نے اپنی دوسری دو بیٹیوں کو بچانے کے لئے طبعی موت کا بیان دیا تھا، بچی کی والدہ نے بیٹی کی موت کا ذمہ دار اسد شاہ کو قرار دیا،

    درج مقدمے کے مطابق بچی گزشتہ نو ماہ سے ملازمہ تھی، بیٹی نے بتایا دونوں ملزمان کام زیادہ لیتے ہیں تنخواہ بھی نہیں دیتے فون پر بچی کے بیمار ہونے کی اطلاع دی بعد میں انتقال کا بتایا گیا۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق گرفتار ملزم کو تھانے میں پروٹوکول دیا جا رہا ہے۔ ڈاکٹر نے بچی کو بغیر دیکھے بیان دیا۔ ابتدائی رپورٹ دینے والے ڈاکٹر کو بھی گرفتار کرلیا گیا ہے، ایس ایچ او کو معطل کیا گیا ہے اسکے بعد بھی ملزم کو تھانے میں پروٹوکول دیا جا رہا ہے،

    واضح رہے کہ تشدد سے مرنے والی بچی کی والدہ نے ابتدائی بیان میں کہا تھا کہ بچی کی موت طبعی ہے، جس کی وجہ سے پولیس نے بچی کا پوسٹ مارٹم نہیں کروایا، بچی کے جسم پر تشدد کی ویڈیو سامنے آئیں تو پولیس کے اعلیٰ حکام نے واقعہ کا نوٹس لیا،اسکے بعد سی سی ٹی وی فوٹیج بھی سامنے آ گئی،

    پولیس کی جانب سے بچی کا علاج کرنے والے ڈاکٹر سے بھی تفتیش کی جارہی ہے نجی ہسپتال کے ڈاکٹرعبد الفتاح میمن نے پولیس کو بتایا کہ گیسٹرو میں مبتلا بچی کو لایا گیا تھا انہوں نے صرف متاثرہ بچی کا علاج کیا جبکہ ایس ایس پی خیرپور روحیل کھوسو کا کہنا ہے کہ مرکزی ملزم کو گرفتار کرلیا جیسے ہی مزید شہادتیں ملیں گی مزید کارروائی بھی عمل میں لائی جائے گی جبکہ بچی کے پوسٹ مارٹم کیلئے عدالت سے رجوع کیا جائے گا۔

    نوشہرو فیروز کے رہائش ندیم علی کی بیٹی کے جسم پر تشدد کے نشانات کی ویڈیو وائرل ہوئی تھی جس میں واضح دیکھا جا سکتا ہے کہ بچی کے جسم پر تشدد کے نشانات ہیں

    عمران خان پربجلیاں، بشری بیگم کہاں جاتی؟عمران کےاکاونٹ میں کتنا مال،مبشر لقمان کا چیلنج

    اینکر پرسن مبشر لقمان اوورسیز پاکستانیوں کی آواز بننے کے لئے میدان میں آ گئے

     شہبا ز شریف نے جب تک حکومت چلانی اب مولانا نے نخرے ہی دکھانے ہیں

    بشریٰ بی بی پھنس گئی،بلاوا آ گیا، معافی مشکل

    ہوشیار۔! آدھی رات 3 بڑی خبریں آگئی

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    لوٹوں کے سبب مجھے "استحکام پاکستان پارٹی” سے کوئی اُمید نہیں. مبشر لقمان

    لوگ لندن اور امریکہ سے پرتگال کیوں بھاگ رہے ہیں،مبشر لقمان کی پرتگال سے خصوصی ویڈیو

    13 سالہ گھریلو ملازمہ عندلیب فاطمہ تشدد کیس کی سماعت

  • گھریلوملازمہ رضوانہ کی پہلی پلاسٹک سرجری

    گھریلوملازمہ رضوانہ کی پہلی پلاسٹک سرجری

    پرنسپل پوسٹ گریجویٹ میڈیکل انسٹی ٹیوٹ پروفیسر الفرید ظفر نے کہا ہے کہ لاہور جنرل ہسپتال میں زیرعلاج تشددکا شکارگھریلوملازمہ رضوانہ کی پہلی پلاسٹک سرجری کردی گئی ہے اور رضوانہ کے دونوں گالوں اورآنکھ کے زخم کی گرافٹنگ ہوئی ہے۔

    انہوں نے کہا کہ نگران وزیر اعلیٰ محسن نقوی کی ہدایت پر متاثرہ لڑکی کو بہترین طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں اور راؤنڈ دی کلاک ڈاکٹرز و نرسز اس کی نگہداشت پر مامور ہیں۔ پروفیسر الفرید ظفر کا کہنا تھا کہ زخموں کی صفائی اور گرافٹنگ ایک مشکل عمل ہے اوررضوانہ کی صحت بارے صوبائی وزیر صحت کو روزانہ کی بنیاد پر آگاہ کرتے ہیں۔میڈیکل بورڈ کے سربراہ پروفیسر جودت سلیم نے کہا کہ رضوانہ کے سراورکمرکے زخم صاف کرکے پٹی کی گئی ہے اور پلیٹ لیٹس اور خون کی مقدار بہتر ہو چکی ہے

    بارہ سالہ بچی کی نازیبا ویڈیو بنانے والا ملزم گرفتار

    واقعہ کا اسلام آباد پولیس نے مقدمہ درج کر لیا

     ابتدائی طور پر بچی کے زخم پرانے ہیں تاہم حتمی فیصلہ میڈیکل بورڈ کی رپورٹ پر ہوگا

    پولیس نے بچی اور اسکے والد کا بیان ریکارڈ کر لیا

    میری اہلیہ سخت مزاج ہے لیکن اس نے مارپیٹ نہیں کی ہے

    وزیراعظم نے کہا ہے کہ بچی کوعلاج کی بہترین سہولیات کی فراہم کی جائیں

    واضح رہے کہ تشدد کا شکار 14 سالہ گھریلو ملازمہ رضوانہ کا تعلق سرگودھا سے ہے تشدد کا واقعہ علاقہ تھانہ ہمک اسلام آباد میں پیش آیا ، بچی کو مضروب حالت میں اس کی والدہ اسلام آباد سے واپس سرگودھا لیکر آئی،