Baaghi TV

Tag: تعلقات

  • امریکا ہمیں ایسی صورتحال میں نہ دھکیلے جہاں ہمیں مشکل انتخاب کرنا پڑے،خواجہ آصف

    امریکا ہمیں ایسی صورتحال میں نہ دھکیلے جہاں ہمیں مشکل انتخاب کرنا پڑے،خواجہ آصف

    اسلام آباد: وزیر دفاع خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ امریکا کو ہمیں ایسی صورتحال میں نہیں دھکیلنا چاہیے جہاں ہمیں مشکل انتخاب کرنے پڑیں۔

    وزیر دفاع خواجہ آصف نے امریکی جریدےکو انٹرویو دیتے ہوئےکہا کہ بعض اوقات ہمارے لیے بڑی عالمی طاقتوں سے تعلقات میں توازن رکھنا مشکل ہو جاتا ہے، امریکا کو ہمیں ایسی صورتحال میں نہیں دھکیلنا چاہیے جہاں ہمیں مشکل انتخاب کرنے پڑیں اگر تعلقات اچھے نہیں ہیں تو ہم ان کےساتھ اپنے تعلقات کو بہتر بنانا چاہیں گے ہم امن کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں، پاکستان امریکہ کے ساتھ اپنے تعلقات کو بہت اہمیت دیتا ہے، ہم چاہتے ہیں کہ یہ تعلقات مزید فروغ پائیں۔

    پنجاب کی نگران حکومت آج بجٹ پیش کرے گی

    انہوں نے کہا کہ بھارت 1.3 بلین سے زیادہ لوگوں کی ایک بہت بڑی مارکیٹ ہےدنیا میں ہر جگہ، دوسری بڑی معیشتوں کو انہیں شراکت داروں کے طور پر رکھنے کی ضرورت ہوگی۔ لیکن پاکستان ایک بہت بڑی معیشت نہیں ہےبلکہ ایک کمزور معیشت ہے ہمارے پاس صرف ایک جغرافیائی محل وقوع ہے، جو اسٹریٹجک ہے، جو اپنی طرف متوجہ کرتا ہے، میں کہوں گا، تمام اچھی چیزیں نہیں، یہ بعض اوقات کچھ ایسی چیزوں کو اپنی طرف متوجہ کرتی ہے جو واقعی ہمیں مزید کمزور بنا دیتی ہیں-

    خواجہ آصف کا کہنا تھا ہم امریکا سے تعلقات کو اہمیت دیتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ یہ رشتہ پھلے پھولے،امریکا کے ساتھ شراکت داری کو اہمیت دیتے ہیں جبکہ چین کے ساتھ ہمارے 6 دہائیوں پر مشتمل دیرینہ تعلقات ہیں پاکستانی مفادات کو ٹھیس نہ پہنچانے والی امریکا بھارت شراکت داری سے ہمیں کوئی مسئلہ نہیں ہے ہماری چین، افغانستان، ایران اور بھارت کے ساتھ مشترکہ سرحدیں ہیں، ہم ان ممالک سے اچھے تعلقات کے خواہاں ہیں۔

    وزیر اعظم شہباز شریف 22 جون کو پیرس پہنچیں گے

    نئی دہلی میں موجودہ حکومت کو "ہندو قوم پرست” قرار دیتے ہوئے آصف نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کے اقتدار میں آنے کے بعد سے علاقائی سیاست کی طرف ہندوستانی نقطہ نظر مکمل طور پر بدل گیا ہے سیکولر نظریہ، جس پر بھارت نے 1947 سے عمل کیا، جب سے برصغیر تقسیم ہوا اور ہم آزاد ہوئے، مودی کی سیاست کی وجہ سے اسے ترک کر دیا گیا۔”

    واضح رہے کہ چند روز قبل وزیر مملکت برائے خارجہ امور حنا ربانی کھر نے بھی ایک بیان میں کہا تھا کہ پاکستان کو امریکا یا چین میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنے کا نہ کہا جائے، واشنگٹن اور بیجنگ کے درمیان بڑھتی ہوئی دشمنی میں پاکستان کسی ایک فریق کو چُننے کی خواہش نہیں رکھتا امریکا چین تنازع کے اثرات کے بارے میں پاکستان فکرمند ہے، دنیا کو دو بلاکوں میں تقسیم کرنے کے تصور سے ہمیں خطرہ ہے، دنیا کو مزید تقسیم کرنے والی کوئی بھی چیز قابل تشویش ہے۔

    امریکی وزیر خارجہ کی چینی ہم منصب سےطویل ملاقات

  • چین پاکستان تعلقات رواں سال بہت سی آزمائشوں سے گزرے:چینی وزارت خارجہ

    چین پاکستان تعلقات رواں سال بہت سی آزمائشوں سے گزرے:چینی وزارت خارجہ

    اسلام آباد:چینی وزارت خارجہ کے شعبہ ایشیائی امور کے ڈائریکٹر جنرل لیو جن سونگ نے اسلام آباد انسٹی ٹیوٹ فار اسٹریٹجک اسٹڈیز اور چائنا انسٹی ٹیوٹ آف کنٹیمپریری انٹرنیشنل ریلیشنز کی طرف سے منعقدہ دوسرے “چین پاکستان تھنک ٹینک فورم” میں شرکت کی اور تقریر کی۔

    جمعہ کے روز چینی میڈ یا کے مطا بق انہوں نے کہا کہ اس سال چین پاکستان تعلقات بہت سی آزمائشوں سے گزرے اور چین پاک دوستی مزید مضبوط ہوئی۔ ان کا کہنا تھا کہ تین چیزوں نے مجھے سب سے زیادہ متاثر کیا۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ چین نے پاکستان کو سیلاب سے بچانے کی ہر ممکن کوشش کی ہے۔ اس سال جون سے پاکستان دہائیوں میں بدترین سیلاب کا شکار ہوا ہے جس میں ایک ہزار سے زائد افراد ہلاک اور 33 ملین سے زائد متاثر ہوئے ہیں۔ چینی عوام پاکستانی عوام کے لیے ہمدردی محسوس کرتے ہیں اور بہت پریشان ہیں۔ پاکستانی عوام کی امداد کے لیے چین نے ہنگامی طور پر امدادی سازوسامان اور مالی امداد فراہم کی۔مجھے یقین ہے کہ پاکستانی بھائی اس آفت پر قابو پا کر اپنے گھروں کو دوبارہ تعمیر کر سکیں گے۔

    دوسری بات یہ ہے کہ چین پاک اقتصادی راہداری پاکستان کی معاشی ترقی اور سماجی استحکام کے لیے ایک مضبوط سہارا بن رہی ہے۔ اب سی پیک کا منصوبہ اعلیٰ معیار کی ترقی کے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔ پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف سی پیک کی تعمیر کو بہت اہمیت دیتے ہیں اور انہوں نے دو دفعہ گوادر پورٹ کا معائنہ کیا اور وہاں چینی کاروباری اداروں کے ساتھ سیمپوزیم کا انعقاد کیا اور موقع پر ہی چینی کاروباری اداروں کے مطالبات کا جواب دیا۔

    تیسری چیز چین کے بنیادی مفادات جیسے تائیوان اور سنکیانگ سے متعلق معاملات پر پاکستان کی چین کی مضبوط حمایت ہے۔کووڈ-19 کی وبا، یوکرین کے بحران اور کچھ ترقی یافتہ ممالک کی مالیاتی پالیسیوں کے اثرات کی وجہ سے “پانچ سیکیورٹی” کے مسائل جیسے کہ خوراک ،توانائی،مالیات، پیداوار اور سپلائی چین کی سلامتی، اور ماحولیاتی سلامتی تیزی سے نمایاں ہو گئے ہیں۔ اس تناظر میں چین اور پاکستان کو چاروں موسموں کے اسٹریٹجک شراکت داروں کے طور پر، مندرجہ ذیل کام کرنے کی ضرورت ہے۔ سب سے پہلے دونوں ممالک کو یکجہتی، تعاون اور باہمی تعاون کو مضبوط کرنا چاہئیے۔دوسرا یہ ہے کہ سی پیک کی اعلیٰ معیار کی مشترکہ تعمیر کو فروغ دیا جانا چاہئیے۔ تیسرا یہ ہے کہ گلوبل ڈویلپمنٹ انیشیٹو اور گلوبل سیکورٹی انیشیٹو کو لاگو کرنے میں پیش قدمی کرنی چاہیے۔

    ایک اور اطلاع کے مطابق، پاکستان کی وزارت خارجہ کے چائنا ڈیپارٹمنٹ کے قائم مقام ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر بلال احمد نے 5 ستمبر کو چین کے صوبہ سی چھوان کے شہر لوڈنگ میں آنے والے زلزلے کے متاثرین سے تعزیت کا اظہار کیا۔ انہوں نے چین پاکستان تعلقات کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستان چینی صدر شی جن پھنگ کے تجویز کردہ گلوبل ڈویلپمنٹ انیشیٹو اور گلوبل سیکورٹی انیشیٹو کو سراہتا ہے۔ تصادم سے کسی بھی ملک کو فائدہ نہیں ہوگا اور تعاون اور ترقی وقت کا مرکزی دھارا ہے۔ پاکستان “دی بیلٹ اینڈ روڈ” خصوصاً چین پاک اقتصادی راہداری کی اعلیٰ معیار کی تعمیر کو فروغ دینے کے لیے چین کے ساتھ مل کر کوشش کرنے کے لیے تیار ہے تاکہ علاقائی امن و استحکام کے لیے مثبت کردار ادا کیا جاسکے۔

  • قطر کے ساتھ تعلقات اپ گریڈ کرنا چاہتے ہیں،شہباز شریف

    قطر کے ساتھ تعلقات اپ گریڈ کرنا چاہتے ہیں،شہباز شریف

    وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے دوحہ میں "پاکستان قطر تجارت اور سرمایہ کاری راؤنڈ ٹیبل 2022” کے موقع پر ممتاز قطری اور پاکستانی تاجر رہنماؤں سے بات چیت کی۔ قطر فنانشل سینٹر (QFC)، پاکستان بزنس کونسل قطر، اور دوحہ میں پاکستانی سفارت خانے نے مشترکہ طور پر گول میز کانفرنس کا اہتمام کیا۔ ایچ ای علی بن احمد الکواری، قطر کے وزیر خزانہ؛ ایچ ای سلطان بن راشد، انڈر سیکرٹری وزارت تجارت و صنعت قطر؛ اور یوسف الخطر جیدا، سی ای او، قطر فنانشل کنٹر نے بھی اس تقریب میں شرکت کی۔

    کانفرنس میں قطر کے سرکردہ کاروباری اور کارپوریٹ ایگزیکٹوز کے ساتھ ساتھ دوحہ, قطر میں مقیم پاکستانی تاجر برادری کی بڑی تعداد نے بھی شرکت کی۔


    اپنے خطاب میں وزیراعظم نے پاکستان اور قطر کے درمیان باہمی احترام، اعتماد اور حمایت پر مبنی تعلقات کی خصوصی نوعیت پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے قطر کو ایک قابل اعتماد پارٹنر قرار دیا جس کی حمایت کو انہوں نے خلوص دل سے سراہا. وزیر اعظم نے ملک میں کاروبار اور سرمایہ کاری کے لیے دوستانہ ماحول فراہم کرنے کے لیے اپنی حکومت کے پختہ عزم کو اجاگر کیا۔ وزیراعظم نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان کو بے پناہ قدرتی اور انسانی وسائل سے نوازا گیا ہے اور پاکستان کے جغرافیائی محل وقوع نے اسے خطے کا اولین تجارتی، توانائی اور ٹرانسپورٹ کوریڈور بننے کے قابل بنایا ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ اس منفرد فائدے نے پاکستان کو وعدوں اور مواقع سے بھرپور مارکیٹ بنا دیا ہے ۔ وزیر اعظم نے اس بات پر زور دیا کہ ایک بڑی صارف منڈی ہونے کے باعث پاکستان میں غذائی تحفظ، توانائی سمیت قابل تجدید ذرائع، زراعت اور لائیو سٹاک، انفارمیشن ٹیکنالوجی، مہمان نوازی اور سیاحت کے شعبوں میں سرمایہ کاروں کے لیے پرکشش کاروباری مواقع فراہم موجود ہیں۔
    وزیراعظم نے قطری سرمایہ کاروں کو پاکستان میں اپنے قدم بڑھانے کے لیے حکومت کی جانب سے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی۔ انہوں نے پاکستانی اور قطری تاجروں کے ساتھ گول میز کانفرنس کے انعقاد میں منتظمین کی کاوشوں کو سراہا۔

    قبل ازیں قطر میں پاکستان کے سفیر نے اپنے خطاب میں اس اعتماد کا اظہار کیا کہ وزیراعظم کا دورہ دوطرفہ تجارت، سرمایہ کاری اور اقتصادی تعلقات میں خاطر خواہ اضافہ کا باعث بنے گا۔ گول میز کے دوران، ایک معزز پینل نے دو طرفہ تجارتی اور اقتصادی تعلقات کو بڑھانے پر تبادلہ خیال کیا۔ پینل ڈسکشن میں بنیادی طور پر تعاون کے نئے شعبوں کو تلاش کرنے پر توجہ مرکوز کی گئی تاکہ دونوں ممالک میں کاروباری روابط مزید مضبوط قائم ہوں۔ پینلسٹس میں سید نوید قمر، وزیر تجارت؛ محترمہ حنا ربانی کھر، وزیر مملکت برائے خارجہ امور؛ محترمہ الانود بن حمد الثانی، QFC کی چیف بزنس آفیسر؛ محسن مجتبیٰ، اعزازی سرمایہ کاری کونسلر؛ اور پاکستان بزنس کونسل کے صدر ڈاکٹر جاوید اقبال شامل تھے

    اس سے پہلے وزیراعظم محمد شہبازشریف سے دوحہ میں قطر انویسٹمنٹ اتھارٹی (کیو آئی اے) کے وفدنے ملاقات کی.
    قطر انویسٹمنٹ اتھارٹی دنیا کے سب سے بڑے خو دمختار دولت فنڈز میں سے ایک ہے۔ H.E منصور بن ابراہیم المحمود، CEO، اور H.E. شیخ فیصل تھانی الثانی، چیف انویسٹمنٹ آفیسر آف افریقہ اور ایشیا پیسیفک ریجنز نے قطر انویسٹمنٹ اتھارٹی کی نمائندگی کی۔ دو روزہ سرکاری دورے پر دوحہ پہنچنے کے فوراً بعد وزیراعظم کی یہ پہلی مصروفیت تھی۔

    وزیراعظم کے ہمراہ کابینہ کے اہم ارکان اور اعلیٰ حکام بھی تھے۔ عزت مآب امیر کی وژنری قیادت میں قطر کی تیز رفتار اقتصادی ترقی کو سراہتے ہوئے وزیراعظم نے اس بات کا اعادہ کیا کہ پاکستان قطر کے ساتھ اپنے تعلقات کو انتہائی اہمیت دیتا ہے اور دونوں ممالک کے درمیان روایتی طور پر بہترین سیاسی تعلقات کو ایک جامع اقتصادی شراکت داری میں اپ گریڈ(upgrade) کرنا چاہتا ہے۔

    وزیراعظم نے دوطرفہ اقتصادی اور سرمایہ کاری کی مصروفیات خاص طور پر قابل تجدید توانائی بشمول شمسی اور ہوا سے بجلی کی پیداوار، ہوا بازی، سمندری، صنعتی اور بنیادی ڈھانچے کی ترقی اور مہمان نوازی کے شعبوں میں تعاون کو مزید بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا.

    وزیراعظم نے پاکستان کے منفرد جغرافیائی اور آبادیاتی فوائد کو اجاگر کیا۔ پاکستان کی لبرل اور کاروبار دوست سرمایہ کاری کی پالیسیوں کو اجاگر کرتے ہوئے وزیراعظم نے قطرکو پاکستان کے توانائی، ہوا بازی، زراعت اور لائیو سٹاک، میری ٹائم، سیاحت اور hospitality کے شعبوں میں سرمایہ کاری کی دعوت دی۔ انہوں نے قطری سرمایہ کاروں پر بھی زور دیا کہ وہ علاقائی روابط اور باہمی خوشحالی کو فروغ دینے کے لیے چین پاکستان اقتصادی راہداری کے ذریعے پیش کیے گئے مواقع تلاش کریں۔ وزیر اعظم نے شفاف اور تیز رفتار عمل کے ذریعے QIA کو مکمل سہولت فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی۔

    تقریب کے ایک حصے کے طور پر، متعلقہ وزارتوں کی جانب سے متعدد پریزنٹیشنز پیش کی گئیں جن میں غذائی تحفظ، توانائی، میری ٹائم، ہوا بازی، hospitality اورسیاحت کے شعبوں میں غیر ملکی سرمایہ کاری کے امکانات کو اجاگر کیا گیا۔

    وزیراعظم نے پاکستان میں سرمایہ کاری میں کیو آئی اے کی دلچسپی کو سراہا۔ اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ دونوں اطراف کے نامزد فوکل پرسنز سرمایہ کاری کے لیے اہم تجاویز پر قریبی مشاورت کریں گے۔ وزیراعظم نے H.E منصور بن ابراہیم المحمود اورH.E شیخ فیصل تھانوی الثانی کو پاکستان کا دورہ کرنے کی دعوت دی تاکہ دورہءِ قطرسے پیدا ہونے والی پیش رفت کو آگے بڑھایا جا سکے۔ پاکستان کو ایک ترجیحی ملک قرار دیتے ہوئے، کیو آئی اے کے وفد نے پاکستان میں سرمایہ کاری کے مواقع کو فعال طور پر تلاش کرنے کے لیے کیو آئی اے کی گہری دلچسپی اور تیاری کا اظہار کیا۔

  • امریکا نے روسی اثاثےضبط کیےتو واشنگٹن سے تعلقات منقطع کرلیں گے:روس کا انتباہ

    امریکا نے روسی اثاثےضبط کیےتو واشنگٹن سے تعلقات منقطع کرلیں گے:روس کا انتباہ

    ماسکو:روسی وزارت خارجہ نے امریکا کوخبردار کیاہے کہ امریکا کی جانب سے روسی اثاثے ضبط کیے جانے کی صورت میں واشنگٹن کے ساتھ ماسکو کے دوطرفہ تعلقات مکمل طور پر تباہ ہو جائیں گے غیر ملکی نشریاتی ادارے کے مطابق روس کے مغربی ممالک کے ساتھ تعلقات اس وقت سے بہت زیادہ خراب ہو گئے ہیں جب سے ماسکو نے 24 فروری کو ہزاروں فوجی یوکرین میں بھیجے اوراسے خصوصی فوجی آپریشن قراردیا

     

    بھارت چین کے سرحدی تنازع پرایک دوسرے پرالزامات، اپنے فوجیوں کو قابو میں رکھے، چین…

    ماسکو: روس نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ اس کے اور امریکہ کے درمیان تعلقات’خطرناک ٹکراؤ کے مقام‘ پر پہنچ گیا ہے اورواشنگٹن اس پر مستقل نظامی دباؤ بنانے کی کوشش کررہا ہے۔ روسی وزارت خارجہ کے کالجیم کی میٹنگ کے بعد بدھ کو اس کی جانب سے ایک بیان میں کہا گیا کہ امریکہ کی حرکتوں کے سبب حالیہ برسوں میں روس اور امریکہ کے مابین تعلقات خراب ہورہے ہیں۔ روس پرامریکہ اوراس کے ساتھی ممالک نظامی دباؤ بنارہے ہیں، جو کافی حد تک نظریاتی عوامل سے متاثرہیں۔

    بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ امریکہ کا رخ بین الاقوامی قانون کی سراسرخلاف ورزی کرتا ہے اوراس کی سخت مخالفت کی جائے گی۔ روس اپنے جائز مفادات برقرار رکھے گا۔ وزارت کے مطابق جینیوا میں روسی صدر ولادیمیر پوتن اوران کے امریکی ہم منصب جو بائڈن کے درمیان جون میں ہوئی چوٹی کانفرنس سے یہ پتہ چلا کہ دونوں ممالک کے درمیان اسٹریٹجک استحکام، موسمیاتی تبدیلی، سائبر سیکورٹی اور علاقائی تنازعات کے حل جیسے شعبوں میں تعمیری بات چیت کو دوبارہ زندہ کرنے کے مواقع تھے۔

    روس کے اس اقدام کے جواب میں مغربی ممالک نے ماسکو پر ایسی معاشی، مالی اور سفارتی پابندیاں عائد کیں جن کی ماضی میں مثال نہیں ملتی ان پابندیوں میں روس کے تقریباً سونے اور زرمبادلہ کے نصف ذخائر کو منجمد کرنا بھی شامل ہے جن مالیت 24 فروری سے قبل 640 ارب ڈالر کے قریب تھی. یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کے سربراہ جوزپ بوریل سمیت اہم مغربی حکام مستقبل میں یوکرین کی تعمیر نو کے لیے فنڈز فراہم کرنے کے لیے منجمد اثاثوں کو ضبط کرنے کی تجویز دے چکے ہیں

    جو بائیڈن انتظامیہ کے مطابق امریکا اور اس کے یورپی اتحادی روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کے ساتھ تعلقات رکھنے والے دولت مند افراد کے 30 ارب ڈالر کے اثاثے بھی منجمد کرچکے ہیں، ان منجمد کیے گئے اثاثوں میں ان روسی افراد کی کشتیاں، ہیلی کاپٹر، گھر، پلازے اور قیمتی تخلیقی اشیا شامل ہیں . جولائی میں سرکاری وکیل نے کہا تھا کہ یوکرین میں جاری ماسکو کے اقدامات کے جواب میں دباﺅ ڈالنے کے لیے امریکی محکمہ انصاف کانگریس سے روسی امرا کے اثاثوں کو ضبط کرنے کے لیے مزید وسیع اختیار طلب کر رہا ہے الیگزینڈر ڈارچیف نے کہا کہ روس نے امریکا کو متنبہ کر دیا ہے کہ اگر روس کو دہشت گردی کی سرپرستی کرنے والی ریاست قرار دیا گیا تو دونوں ممالک کے سفارتی تعلقات بری طرح متاثر ہوں گے اور پھر یہ تعلقات ٹوٹ بھی سکتے ہیں.

    یوکرین کی صورت حال سے متعلق اظہار خیال کرتے ہوئے الیگزینڈر ڈارچیف نے کہا کہ کیف پر امریکی اثر و رسوخ اس حد تک بڑھ گیا ہے کہ امریکا تنازع میں براہ راست فریق بنتا جا رہا ہے رپورٹ میں الیگزینڈر ڈارچیف نے تصدیق کی کہ امریکا کی قید میں موجود روسی شہری وکٹر باﺅٹ اور روس میں زیر حراست امریکی باسکٹ بال اسٹار برٹنی گرائنر اور سابق فوجی پال وہیلان سے متعلق ماسکو اور روس کے درمیان قیدیوں کے تبادلے کے مذاکرات میں بات چیت کی جا رہی ہے.

  • امریکہ سےتعلقات کو فروغ دینا چاہتے ہیں،حمزہ شہباز،تیار ہیں،امریکی قونصل جنرل

    امریکہ سےتعلقات کو فروغ دینا چاہتے ہیں،حمزہ شہباز،تیار ہیں،امریکی قونصل جنرل

    وزیراعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز شریف سے امریکہ کے قونصل جنرل ولیم کے میکانیول(Mr.William K. Makaneole) نے ملاقات کی.امریکی قونصل جنرل ولیم کے میکانیول نے پنجاب کی وزارت اعلیٰ کا منصب سنبھالنے پر حمزہ شہباز کو مبارکباد دی، ولیم کے میکانیول کا حمزہ شہباز کے لئے نیک خواہشات کا اظہارکیا.

    وزیراعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز شریف سے امریکہ کے قونصل جنرل ولیم کی ملاقات میں باہمی دلچسپی کے امور، دو طرفہ تعلقات کے فروغ اور مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے پر تبادلہ خیال کیا گیا.اس موقع پرحمزہ شہباز کا کہنا تھا کہ پاکستان اور امریکہ کے درمیان تعلقات کثیر الجہت نوعیت ہیں۔ زراعت، ماحولیات، واٹر شارٹیج اور دیگر شعبوں میں دوطرفہ تعلقات کو فروغ دینا چاہتے ہیں۔ بلاشبہ اس وقت معاشی اوردیگرچیلنجز درپیش ہیں لیکن ہمارا عزم ان چیلنجز سے بلند ہے۔

    امریکی قونصل جنرل ولیم کے میکانیول نے کہا کہ امریکہ پاکستان کے ساتھ اپنے تعلقات کو بہت اہمیت دیتا ہے – پنجاب حکومت کے ساتھ مختلف شعبوں میں تعاون کو مزید فروغ دیں گے-ملاقات کے موقع پرچیف سیکرٹری، پرنسپل سیکرٹری وزیر اعلی،چیئرمین پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ، لیگل ایڈوائزر علی رضا اور متعلقہ حکام و عہدیداران بھی موجود تھے.

    قبل ازیں وزیر اعلی پنجاب حمزہ شہباز شریف صوبے میں تعلیم وصحت کی سہولتوں اور کریمنل جسٹس سسٹم کو بہتر بنانے کے لیے بھی سرگرم عمل ہیں،وزیر اعلی حمزہ شہباز کی زیرصدارت اعلی سطح کا اجلاس منعقد ہوا، ڈلیوری ایسوسی ایٹس کے چئیرمین سر مائیکل باربر اور برطانوی ہائی کمشنر ڈاکٹر کرسچن ٹرنر نے وڈیو لنک کے ذریعے اجلاس میں شرکت کی.

    پنجاب حکومت اور سر مائیکل باربر نے پارنٹر شپ بحال کرنے پر اتفاق کیا. سر مائیکل باربر تعلیم، صحت اور کریمنل جسٹس سسٹم میں اصلاحات کے لیے ایک بار پھر پنجاب حکومت سے تعاون کریں گے .مشترکہ ٹیم آئندہ کا لائحہ عمل کے لئے سفارشات تیار کرے گی،جامع روڈمیپ تیار کرکے تیزی سے آگے بڑھا جائے گا

    سر مائیکل باربر کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم شہباز شریف کے دور وزارت اعلی میں تعلیم اور صحت کے شعبوں میں بے پناہ کام ہوا۔پنجاب حکومت کی اب بھی ہر ممکن معاونت کرینگے.

    وزیراعلی پنجاب حمزہ شہباز نے کہا کہ سر مائیکل باربر کے ساتھ مل کر اپنجاب کے عوام کو تعلیم اور صحت کی معیاری سہولتیں فراہم کریں گے۔ سر مائیکل باربر کے تجربے سے استفادہ کرکے تعلیم اور صحت کے شعبوں میں انقلابی اصلاحات کرنا چاہتے ہیں۔ شارٹ، میڈیم اور لانگ ٹرم روڈمیپ کے ذریعے پلان آف ایکشن مرتب کیا جائے گا۔

    حمزہ شہباز نے کہا کہ سر مائیکل باربر نے وزیر اعظم شہباز شریف کے دور وزارت اعلی میں تعلیم اور صحت کے شعبوں میں شاندار اصلاحات متعارف کرائیں۔ اب بھی سر مائیکل باربر کے تجربے سے فائدہ اٹھائیں گے اور عوام کی زندگیوں میں آسانیاں لائیں گے۔وزیر اعلی پنجاب حمزہ شہباز نے سر مائیکل باربر کی مسلم لیگ ن کے سابق دور میں تعلیم اور صحت کی سہولتوں کی بہتری کے لئے گراں قدر خدمات کو سراہا .برطانوی ہائی کمشنر ڈاکٹر کرسچن ٹرنرنےپنجاب حکومت کے ساتھ ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی.

  • ایران کےساتھ تعلقات  نئی بلندیوں پر لےجانا ترجیح ہے،بلاول بھٹو

    ایران کےساتھ تعلقات نئی بلندیوں پر لےجانا ترجیح ہے،بلاول بھٹو

    وزیر خارجہ بلاول بھٹو نے ایرانی ہم منصب کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ایرانی ہم منصب سے اسلاموفوبیا کے معاملے پر بات ہوئی ہے۔بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ ایرانی ہم منصب سے ملاقات میں سرحدی امور اور زائرین کی سہولتوں کے لئے بات چیت کی۔

    بلاول بھٹو نے کہا کہ دونوں ممالک کے عوام کیلئے اقتصادی مواقع کو فروغ دیں گے، ایران سے توانائی سے متعلق معاملات پر بھی بات چیت ہوئی۔ ایران سے مقبوضہ کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی خلاف ورزی کا معاملہ اٹھایا ہے۔

    وزیر خارجہ نے بتایا کہ ایرانی ہم منصب سے بات چیت میں کہا کہ بھارت میں حالیہ اسلاموفوبیا کے واقعات کی عالمی دنیا کو مذمت کرنا ہوگی۔

    بلاول بھٹونے کہا کہ پاکستان اور ایران کے درمیان تاریخی تعلقات ہیں۔ ایران کے ساتھ تعلقات کو مزید بہتر کرنا اور نئی بلندیوں پر لےجانا ہماری ترجیح ہے۔

  • بیٹی کے ساتھ ناجائز تعلقات استوار کرنیوالا سفاک درندہ گرفتار

    بیٹی کے ساتھ ناجائز تعلقات استوار کرنیوالا سفاک درندہ گرفتار

    بیٹی کے ساتھ ناجائز تعلقات استوار کرنیوالا سفاک درندہ گرفتار

    عمرزئی پولیس نے کامیاب کاروائی کی اور بیٹی کے ساتھ ناجائز تعلقات استوار کرنے والا ملزم گرفتار کر لیا ہے

    بیٹی کے ساتھ گزشتہ ایک سال سے جنسی تعلقات استوار کرنے والے ملزم ذاکر اللہ کو گرفتار کر لیا جن کی بیوی گزشتہ سال سے فالج کی مریضہ ہے ۔ بیٹی نے رپورٹ درج کرتے ہوئے بتایا کہ کئی بار مجھ سے زیادتی کی کوشش کی ہے لیکن شرم کے باعث کسی کو بتا نہیں سکتی تھی ۔پولیس نے رپورٹ درج کی اور ملزم کو پابندسل سلاسل کرکے مزید حقائق سامنے آنے کیلئے تفتیش شروع کر دی ۔

    ایک اور واقعہ میں محمد خان ولد یحیٰ خان تھانہ عمرزئی میں رپورٹ کرتا ہے کہ میڈیسن لینے کی غرض سے میں نے موٹر سائیکل دکان کے سامنے کھڑا کیا ۔ 15منٹ بعد واپس آیا تو موٹر سائیکل موجود نہ پایا ۔ واقعہ کا نوٹس لیتے ہوئے ڈی پی او چارسدہ آصف بہادر خان نے ڈی ایس پی تنگی محمد اسحاق خان اور ایچ ایس او تھانہ عمرزئی کاشف خان کو ملزمان کی گرفتاری کا ٹاسک حوالہ کیا،جس پر ایس ایچ او عمرزئی کاشف خان نے کاروائی کرتے ہوئےملزم ظوت علی کو گرفتار کر لیا جن کے قبضے سے تین چوری کے موٹر سائیکل برآمد کئے گئے

    قبل ازیں تھانہ رسالپور پولیس نے پبلک ٹرانسپورٹ میں منشیات سمگل کرنے کی کوشش نا کام بنادی۔خاتون کے سینڈل جبکہ مرد کے چپلوں سے منشیات برآمد کر لی،شاکر خان انچارج چوکی بارہ بانڈہ کو باوثوق ذرائع سے اطلاع ملی کہ ایک مرد و عورت پبلک ٹرانسپورٹ میں منشیات سمگل کر رہے ہیں۔جس پر لیڈی کانسٹیبل کے ہمراہ رشکئی انٹر چینج کے قریب ناکہ بندی کی۔دوران چیکنگ ایک کوسٹر کو روک کر مرد کی تلاشی لیکر مرد کے چپلوں سے ہیروئن کر لی گئی۔ملزم کیساتھ موجود خاتوںکی تلاشی بذریعہ لیڈی کانسٹیبل لیکر خاتون کے سینڈل سے بھی ہیروئن برآمد کر لی گئی۔وزن کرنے پر ہیروئن ٹوٹل 1.2 کلو گرام نکلی۔دونوں ملزمان محمد حنیف ولد محمد صادق ساکن ایبٹ آباد اور نسرین زوجہ مشتاق ساکن مظفر گڑھ کو موقع پر گرفتار کرکے تھانہ رسالپور منتقل کر دیا گیا۔دونوں کیخلاف منشیات سمگل کرنے کے جرم میں مقدمہ درج کرکے مزید تفتیش جاری ہے۔

    نوجوان نسل کو منشیات سے روکنا کس کا کام ، وفاقی وزیر ہوا بازی میدان میں آ گئے

    بھارت، آندھرا پردیش کے سابق اسپیکرشیو پرساد کی خودکشی

    بھارتی فوجی خاتون کو شادی کا جھانسہ دے کر 14 برس تک عزت لوٹتا رہا،مقدمہ درج

    بیس ہزار کے عوض خاتون نے ایک ماہ کی بیٹی کو فروخت کیا تو اس کے ساتھ کیا ہوا؟

    بھارتی پولیس اہلکاروں کی غیر ملکی خاتون سے 5 ماہ تک زیادتی

    ایک ہزار سے زائد خواتین، ایک سال میں چار چار بار حاملہ، خبر نے تہلکہ مچا دیا

    ایک برس میں 10 ہزار سے زائد کسانوں نے کس ملک میں خودکشی کی؟

    کالج میں مجرا، لڑکی ہوش برقرار نہ رکھ سکی پرنسپل سے لپٹ گئی ،ویڈیو وائرل،کالج سیل

    ایک اور یونیورسٹی تقریب میں لڑکے کی جانب سے لڑکی کا لباس پہن کر ڈانس کی ویڈیو وائرل

    سب انسپکٹر کے بھائی کی شادی،اوباش نوجوانوں کا اسلحہ اٹھا کر بھنگڑا،ویڈیو وائرل

    گھر سے خاتون کی نعش برآمد،بھائی نے بہن کو گولی مار دی،پولیس

  • شرم و حیا ۔۔۔ عبدالحفيظ چنیوٹی

    شرم و حیا ۔۔۔ عبدالحفيظ چنیوٹی

    اک گانے کے بول ہیں

    ملاؤ نا یوں نگاہ ہم سے
    ہو نا جائے کوئی گناہ ہم

    مطلب یہ تو مان لیا گیا ان بے حیائی کو عام کرنے والوں نے کہ نگاہ ملے گی تو گناہ ہونے کے چانس بڑھ جاتے ہیں، اور یہی نگاہ ملانے اور بے حیائی اور عزتوں کا جنازہ کیلئے بے پناہ محنت کی گئی اور اب بھی جاری ہے، موویز، گانوں، لباس کے چناؤ، بے پردہ ہو کر نکلنا، مردوں کے بے حیا ہوجانے کی صورت، اور ہر اک حربہ استعمال کیا جا رہا ہے کہ نوجوان نسل کو بے حیا کر کے دین اسلام سے دور کر دیا جائے، کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ جب حیا ختم ہوجائے تو پھر انسان جو مرضی کرتا پھرے،
    اک اور اہم بات ان گانوں کے اشعار پر غور کرنا جو حقیقت سے بالکل دور اور افسانوی شاعری پر مبنی ہونگے، جس کا اصل زندگی سے کوئی واسطہ نہیں، بلکہ یہ جتنے محرم رشتے ہونگے ان سے متنفر اور باغی کرنے، خاندانی نظام کو توڑنے پر مبنی، اور خیالی دنیا میں جانے کا ساماں کرنے پر مشتمل ہونگے، اور ایسا انسان غیر ذمہ دار، رشتوں کی اہمیت کو پس پشت ڈالنے والا ہوگا، اپنے خیر خواہوں کو اپنا دشمن سمجھنے والا ہوگا۔ اس کے علاوہ بھی بہت سے مسائل کا شکار ہوگا۔

    اب رستے کا انتخاب کرنا اس شخص پر ہے جو یہ تحریر پڑھ کر ان الفاظوں کی گہرائی کو سمجھ رہا ہے۔
    کہ وہ کس رستے کا انتخاب کرتا ہے۔