Baaghi TV

Tag: تعلیمی اداروں

  • خیبر پختونخوا کے تعلیمی اداروں میں اسٹڈی ٹور، پکنک پر پابندی

    خیبر پختونخوا کے تعلیمی اداروں میں اسٹڈی ٹور، پکنک پر پابندی

    خیبر پختونخوا کے تعلیمی اداروں میں اسٹڈی ٹوور اور پکنک پر پابندی کر دی گئی۔

    باغی ٹی وی کے مطابق ڈائریکٹوریٹ آف ایلیمنٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن خیبر پختونخوا کی جانب سے اعلامیہ جاری کر دیا گیا، جس کے مطابق محکمہ تعلیم خیبر پختونخوا نے تعلیمی اداروں میں ہر قسم کے اسٹڈی ٹور اور پکنک پر پابندی عائد کی گئی ہے۔محکمہ تعلیم کے افسران، پرائمری، مڈل، ہائی اور ہائیر سیکنڈری اسکولوں کے سربراہان کو عملدرآمد کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

    اس سے قبل خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ علی امین گنڈا پور نے اس اسٹیڈیم کا نام تبدیل کرکے "عمران خان کرکٹ اسٹیڈیم” رکھنے کی منظوری دے دی ہے۔ یہ فیصلہ شاہی باغ میں واقع اس اسٹیڈیم کے حوالے سے لیا گیا، جس کے بعد اب خیبرپختونخوا کی کابینہ آج (جمعہ) کو اس فیصلے کی باضابطہ منظوری دے گی۔اس نام کی تبدیلی کے معاملے پر اب کئی حلقوں کی جانب سے سخت ردعمل سامنے آیا ہے۔ ارباب نیاز کے صاحبزادے، ارباب شہزاد، جو سابق چیف سیکریٹری خیبرپختونخوا اور سابق مشیر عمران خان بھی رہ چکے ہیں، اس فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام ایک ناکام کوشش ہے جس کے ذریعے دادا کے نام کو تبدیل کر کے عمران خان کو خوش کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

    کرم میں کشیدہ صورتحال کے پیش نظر انتظامی افسران کے تبادلے

    عوام پاکستان سوچ اور فکر کی جماعت ہے،شاہد خاقان عباسی

    کراچی: خونی ڈمپر و ٹینکر مافیا کے خلاف جماعت اسلامی کا احتجاج

    ڈی جی آئی ایس پی آر کی لمز یونیورسٹی کےطلباء کے ساتھ نشست

    نرگس فخری کی بوائے فرینڈ کیساتھ خاموشی سے شادی ؟تصاویر وائرل

  • تعلیمی اداروں میں منشیات سپلائی کرنیوالا ملزم گرفتار

    تعلیمی اداروں میں منشیات سپلائی کرنیوالا ملزم گرفتار

    اینٹی نارکوٹکس فورس نے منشیات سپلائی کے خلاف تعلیمی اداروں اور ملک کے مختلف شہروں میں 10 کارروائیوں کے دوران 9 ملزمان کو گرفتار کر کے ان کے قبضے سی1231 کلو گرام منشیات برآمد کر لی۔

    ترجمان اے این ایف کے مطابق برآمد شدہ منشیات کی مالیت 22 کروڑ بتائی گئی ہے۔اے این ایف کے ترجمان کے مطابق کراچی میں کورنگی روڈ پر موٹر سائیکل سوار سے 250 گرام ہیروئن برآمد ہوئی۔گرفتار ملزم نے کراچی کے تعلیمی اداروں کے طلباء کو منشیات فروخت کرنے کا اعتراف کیا ہے۔لاہور انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر بحرین جانے والے مسافر کے پیٹ سی40 ہیروئن سے بھرے کیپسول برآمد کر لیے گئے۔ایم ون انٹرچینج اسلام آباد کے قریب گاڑی میں چھپائی گئی 8.4 کلو چرس برآمد کر کے ملزم کو گرفتار کر لیا گیا۔ڈسکہ چوک سیالکوٹ کیقریب ملزم کے قبضے سے 3 کلو ہیروئن، 2 کلو آئس، 1.2 کلو چرس برآمد کر لی گئی۔اٹک میں بھی برہان ٹول پلازہ کے قریب ملزم کے قبضے سے 700 کلو چرس برآمد کی گئی۔ ترجمان اے این ایف کے مطابق گرفتار ملزمان کے خلاف انسدادِ منشیات ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کر کے تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔

    پیپلزپارٹی کا حکومتی پالیسیوں کی کھل کر مخالفت کرنے کا فیصلہ

    کرم کے کشیدہ علاقوں میں کرفیو نافذ

    وزیر اعلیٰ پنجاب اسکالرشپ پروگرام 100 ارب تک بڑھانے کا اعلان

    کراچی انٹر بورڈ کا اسکروٹنی فیس میں 50 فیصد رعایت کا اعلان

  • اے این ایف کا تعلیمی اداروں کے اطراف کریک ڈاؤن ، خاتون سمیت 6 ملزمان گرفتار

    اے این ایف کا تعلیمی اداروں کے اطراف کریک ڈاؤن ، خاتون سمیت 6 ملزمان گرفتار

    اے این ایف نے تعلیمی اداروں کے اطراف میں منشیات فروشی اور منشیات اسمگلنگ کے خلاف جاری کریک ڈاؤن میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 6 کارروائیوں میں خاتون سمیت 6 ملزمان گرفتارکر لئے۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اے این ایف ترجمان کنے بتایا کہ ان کارروائیوں میں 72 لاکھ روپے سے زائد مالیت کی 14 کلوگرام منشیات برآمد کی گئیں۔کھنہ پل اسلام آباد کے قریب خاتون سمیت 2 ملزمان کے قبضے سے ایک کلوگرام آئس برآمدکی گئی ۔ کراچی کے علاقےمہران ٹاؤن میں ملزم سے 150 گرام چرس اور 50 گرام آئس برآمد کی گئی ۔ توغی روڈ کوئٹہ کے قریب ملزم سے 200 ایکسٹیسی گولیاں اور 150 گرام آئس برآمد کی گئی ۔ ترجمان نے بتایا کہ گرفتار ملزمان نے تعلیمی اداروں کے طلباء کو منشیات فروخت کرنے کا اعتراف کیا ہے ۔

    ترجمان نے کہا کہ منشیات سے پاک تعلیمی اداروں کا قیام اے این ایف کی اولین ترجیح ہے، تعلیمی اداروں کے طلباء کو منشیات فروشی میں ملوث آخری ملزم کی گرفتاری تک آپریشن جاری رہے گا۔ دیگر کارروائیوں میں موٹروے انٹر چینج چکری کے قریب ٹرک کے خفیہ خانوں سے 10 کلوگرام آئس برآمدکی گئی۔ ترکئی ٹول پلازہ جہلم کے قریب مسافر وین میں سوار ملزم سے 260 گرام آئس برآمدکی گئی ۔پاک افغان بارڈر طورخم کے قریب چھپائی گئی ایک کلو 478 گرام آئس برآمد کی گئی ۔ ترجمان نے بتایا کہ گرفتار ملزمان کے خلاف انسداد منشیات ایکٹ کے تحت مقدمات درج کر کے تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔

    بابراعظم نے کپتانی کیوں چھوڑی اندرونی کہانی سامنے آگئی

  • اس وقت تعلیمی اداروں کو کھولنے کا رسک نہیں لے سکتے-وزیر تعلیم و محنت سندھ

    اس وقت تعلیمی اداروں کو کھولنے کا رسک نہیں لے سکتے-وزیر تعلیم و محنت سندھ

    وزیر تعلیم و محنت سندھ سعید غنی نے کہا ہے کہ اس وقت تعلیمی اداروں کو کھولنے کا رسک نہیں لے سکتے۔ہم اس بات سے بخوبی آگاہ ہیں کہ فیسوں کی ادائیگی نہ ہونے سے نجی تعلیمی ادارے شدید مالی بحران سے دوچار ہیں۔پہلی سے آٹھویں جماعت تک کے بچوں کو اگلے درجات میں ترقی دے دی گئی ہے جبکہ نویں تا بارہویں کے طلبہ و طالبات کو پرموٹ تو کردیا گیا ہے البتہ اس سلسلے میں قانون میں ترامیم کی جانی ہے،جس پر کام کیا جارہا ہے۔ہم اس وقت تعلیمی اداروں کو کھولنے کے حوالے سے کوئی حتمی تاریخ دینے کی پوزیشن میں نہیں ہیں البتہ اس حوالے سے محکمہ تعلیم کی اسٹیرنگ کمیٹی کے اجلاس میں حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔

    ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعہ کے روز اپنے دفتر میں کیتھولک ایجوکیشن بورڈ آف کراچی کے وائس چیئرمین فادر صالح ڈائیگو کی قیادت میں آنے والے وفد سے ملاقات کے دوران کیا۔اس موقع پر رکن سندھ اسمبلی نوید انتھونی بھی موجود تھے،جبکہ وفد میں انتھونی ڈی سلوا، شمیم خورشیف، افضل جیکب، لینی ڈائس، مس ریٹا چارلس اور دیگر شامل تھے۔ اس موقع پر فادر صالح ڈائیگو نے وزیر تعلیم کو کرونا وائرس کے بعد کی صورتحال میں تعلیم کے حوالے سے ان کے کئے جانے والے اقدامات کو سراہا۔انہوں نے کہا کہ ہم سب بھی یہی چاہتے ہیں کہ زیادہ سے زیادہ لوگ اس وائرس میں مبتلا نہ ہوں اور اس کے لئے اب یہ ضروری ہے کہ سماجی دوری کو بنائے رکھا جائے۔

    فادر صالح نے کہا کہ کیتھولک ایجوکیشن بورڈ آف کراچی کے زیر انتظام چلنے والی اسکولز تمام حکومتی ہدایات پر عمل پیرا ہے۔انہوں نے کہا کہ تعلیمی اداروں کی اس وائرس کے باعث بندش سے بورڈ کے زیر انتظام چلنے والے ادارے بھی مالی بحران کا شکار ہیں اس لئے سندھ یا وفاقی حکومت اس حوالے سے ان تعلیمی اداروں کی ناصرف مالی مدد کرے بلکہ ان تعلیمی اداروں میں زیر تعلیم طلبہ و طالبات کے والدین کو فیسوں کی ادائیگی کے لئے زور دے.

    فادر صالح نے کہا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ اس وقت تعلیمی اداروں کو کھولنے سے بچوں میں اس وائرس کے پھیلنے کے خدشات ہیں لیکن اگر اس طرح کی ایس او پیز بنائی جائیں کہ ہر کلاس روزانہ کی بجائے کم از کم ہفتہ میں دو بار دنوں کی تقسیم سے کھولی جاسکیں کیونکہ جب تک فزیکلی بچہ تعلیمی ادارے میں نہیں آئے گا والدین فیسوں کی ادائیگی میں سنجیدہ نہیں ہوں گے۔ اس موقع پر وزیر تعلیم سندھ سعید غنی نے کہا کہ ہم اس بات سے بخوبی آگاہ ہیں کہ فیسوں کی ادائیگی نہ ہونے سے نجی تعلیمی ادارے شدید مالی بحران سے دوچار ہیں اور اسی لیئے ہم نے والدین سے متعدد بار استدعا کی ہے کہ وہ بچوں کی فیس لازمی جمع کروائیں۔سعید غنی نے کہا کہ ہم اس وقت تعلیمی اداروں کو کھولنے کا رسک نہیں لے سکتے۔اگر اسکول انتظامیہ نے ایس او پیز پر عملدرآمد بھی کرلیا تو بچے اسکول وین میں ہی آتے ہیں وہاں ایس او پیز پر کوئی عملدرآمد نہیں ہوسکے گا۔ انہوں نے کہا کہ نجی تعلیمی اداروں کو بلا سود قرضے اور ان کی مالی معاونت کی پوزیشن میں سندھ حکومت نہیں ہے البتہ وفاق چاہے تو ایسا کرسکتی ہے۔

    سعید غنی نے مزید کہا کہ پہلی سے آٹھویں جماعت تک کے بچوں کو اگلے درجات میں ترقی دے دی گئی ہے جبکہ نویں تا بارہویں کے طلبہ و طالبات کو پرموٹ تو کردیا گیا ہے البتہ اس سلسلے میں قانون میں ترامیم کی جانی ہے،جس پر کام کیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم اس وقت تعلیمی اداروں کو کھولنے کے حوالے سے کوئی حتمی تاریخ دینے کی پوزیشن میں نہیں ہیں اس حوالے سے محکمہ تعلیم کی اسٹیرنگ کمیٹی کا اجلاس بلا کر نئے تعلیمی سال سمیت دیگر امور پر مشاورت کرکے اعلان کیا جائے گا۔سعید غنی نے کہا کہ نویں سے بارہویں جماعت تک کے بچوں کے حوالے فارمولے کو حتمی شکل دے دی گئی ہے، جلد اس حوالے سے سب کو آگاہ کردیا جائے گا۔