گوجرہ،باغی ٹی وی (نامہ نگار) غیرقانونی دکانوں کی تعمیرکے دوران تاریخی مندرکی چھت گرگئی
تفصیل کے مطابق گوجرہ میں غیرقانونی دکانوں کی تعمیر کے دوران تاریخی مندر کی چھت گرنے سے ایک خاتون اور بچہ زخمی ہوگیا۔رپورٹ کے مطابق تقسیم ہند سے قبل کے تاریخی مندر کے عقب میں غیر قانونی دکانوں کی تعمیر جاری تھی کہ مندرکی چھت گرگئی۔چھت گرنے سے مندرمیں غیر قانونی طور ہر رہائش پذیر خاندان کی خاتون اورکمسن بچہ زخمی ہوگیا۔اہل علاقہ کے مطابق خطرناک قراردی گئی مندرکی عمارت کے احاطے میں محکمہ اوقاف نے دکانیں بنالی ہیں، آج ایک اور دکان کی تعمیر کے دوران عمارت کی چھت گر گئی۔ڈپٹی کمشنر نے واقعےکا نوٹس لیتے ہوئے رپورٹ طلب کرلی ہے۔
Tag: تعمیر

گوجرہ: دکانوں کی تعمیرکے دوران مندرکی چھت گرگئی

بیت الاسلام ویلفیئر ٹرسٹ مسمار گھروں کی تعمیر کیلئے سیمنٹ، اینٹ اور دیگر ضروری سامان فراہم کرے گا،پرویز الہیٰ
وزیراعلیٰ پنجاب چودھری پرویز الٰہی سے بیت الاسلام ٹرسٹ کے وفد نے چیئرمین مولانا عبدالستار کی سربراہی میں ملاقات کی.ملاقات میں سیلاب متاثرین کی بحالی و آبادکاری اور گھروں کی تعمیر و مرمت کیلئے مشترکہ لائحہ عمل پر اتفاق کیا گیا.
وزیراعلیٰ پنجاب چودھری پرویز الٰہی نے کہا کہ بیت الاسلام ویلفیئر ٹرسٹ متاثرین سیلاب کی خدمت میں پیش پیش ہے، بیت الاسلام ٹرسٹ سیلاب زدہ علاقوں میں مسمار گھروں کی تعمیر کیلئے سیمنٹ، اینٹ اور دیگر ضروری سامان فراہم کرے گا، متاثرہ علاقوں میں وبائی امراض کی روک تھام کیلئے خصوصی میڈیکل ٹیمیں تشکیل دی ہیں۔
چودھری پرویز الٰہی کا کہنا تھا کہ بیت الاسلام ٹرسٹ کی جانب سے متاثرین کیلئے طبی سہولتوں کی فراہمی کے تعاون کا خیرمقدم کریں گے، پنجاب حکومت اور بیت الاسلام ٹرسٹ کے درمیان اشتراک کار کیلئے مشترکہ کمیٹی قائم کر دی گئی.کمیٹی میں مولانا عبدالستار، میاں محمد احسن، حافظ عمار یاسر، ڈی جی ریسکیو 1122 ڈاکٹرضوان نصیر، ڈی جی پی ڈی ایم اے، حذیفہ رفیق اور سلمان حامد شامل ہوں گے.
چودھری پرویز الٰہی کا کہنا تھا کہ کمیٹی سیلاب متاثرین کی بحالی و آبادکاری اور گھروں کی تعمیر و مرمت کیلئے جامع پلان مرتب کرے گی، سیلاب متاثرین کے روزگار کا فی الفور بندوبست کیا جائے گا، اس ضمن میں بیت الاسلام ٹرسٹ کے ماڈل سے استفادہ کریں گے، سیلاب متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیوں کے حوالے سے بیت الاسلام ٹرسٹ سے مل کر کام جاری رکھیں گے۔
چودھری پرویز الٰہی نے کہا کہ ٹرسٹ کے تعاون سے سیلاب زدگان کیلئے دسترخوان اور ان کے بچوں کیلئے تعلیمی مراکز قائم کئے جائیں گے، سیلاب زدہ علاقوں میں بیت الاسلام ٹرسٹ میٹرنٹی کیئر کنٹینر کلینک قائم کرے گا، انتظامیہ اور بیت الاسلام ٹرسٹ کے تعاون سے متاثرہ علاقوں میں اجناس، ادویات اور خیمے بھی فراہم کئے جائیں گے، متاثرین کے روزگار کی بحالی کیلئے قرض حسنہ دیا جائے گا۔
چودھری پرویز الٰہی کا کہنا تھا کہ بیت الاسلام ٹرسٹ اور انڈس ہسپتال سے تعاون کو مزید فروغ دیں گے، امداد کا صحیح حق داروں تک پہنچنا بے حد ضروری ہے، سیلاب زدہ علاقوں کے متاثرہ لوگو ں کی بحالی کیلئے خدمت کا جذبہ قابل تحسین ہے، ڈی جی ریسکیو 1122 ڈاکٹر رضوان نصیر نے متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیوں پر تفصیلی بریفنگ دی.
بیت الاسلام ٹرسٹ کی کارکردگی اور پراجیکٹس کے بارے میں تفصیلی بریفنگ بھی دی گئی
وفد میں چیئرمین مولانا عبدالستار، میاں محمد احسن، چیف کوآرڈینیٹر حذیفہ رفیق، ڈائریکٹر پلاننگ فراز فرید، عزیز الرحمن، سلمان حامد اور محمد رقیب شامل تھے،راسخ الٰہی، ایم پی اے حافظ عمار یاسر، سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو، سابق صدر بینک آف پنجاب ہمیش خان، ڈی جی ریسکیو 1122 ڈاکٹر رضوان نصیر، ڈی جی پی ڈی ایم اے اور متعلقہ حکام بھی اس موقع پر موجو دتھے.
عرب امارات میں اب عمارتیں بغیراجازت کے نہیں بن پائیں گی:بڑافیصلہ ہوگیا
دبئی: عرب امارات میں عمارتوں کی تعمیرومرمت کے حکومت کی طرف سے کچھ اصول وضوابط طئے کیئے گئے ہیں، اس حوالے سے دبئی سے میڈیا ذرائع کا کہنا ہے کہ دبئی بلڈنگ پرمٹ ڈویلپمنٹ کمیٹی نے عمارتوں کے اجازت ناموں کے لیے ایک ایساالیکٹرانک پلیٹ فارم مکمل کر لیا ہے جس میں دبئی میں لائسنس جاری کرنے والے تمام اداروں کےبلڈنگ پرمٹ کی خدمات شامل ہیں۔جس کےلیے بہت جلد عملدرآمد شروع ہوجائے گا
اس حوالے سے حکومت کی طرف سے جاری اطلاعات میں کہا گیا ہے کہ یہ پلیٹ فارم مشاورت فراہم کرنے والے دفاتر اور معاہدہ کرنے والی کمپنیوں کو ممتاز خدمات فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔ دبئی بلڈنگ پرمٹ ڈویلپمنٹ کمیٹی نائب صدر، وزیر اعظم اور دبئی کے حکمران عزت مآب شیخ محمد بن راشد آل مکتوم نے تشکیل دی تھی اور اس کا مقصد عمارتوں کے اجازت ناموں کے شعبے میں ممتاز خدمات فراہم کرکے اس کی تکمیل میں تیزی لا کر صارفین کے اطمینان کی سطح کو بڑھانا ہے۔
اس کی صدارت دبئی میونسپلٹی میں انجینئرنگ اور پلاننگ سیکٹر کے سی ای او کرتے ہیں جس میں سرکاری اداروں کے ارکان لائسنسنگ کے عمل میں حصہ لیتے ہیں۔ یونیفائیڈ پلیٹ فارم کی خصوصیت یہ ہے کہ وہ تمام لائسنسنگ ایجنسیوں کے ساتھ بلڈنگ پرمٹ لین دین کو ایک سسٹم کے ذریعے اور ڈیجیٹل شناخت کا استعمال کرتے ہوئے ایک متحد اندراج کے ذریعے کرنے کی صلاحیت رکھتا ہےجس سے کنسلٹنٹس اور کنٹریکٹرز کے وقت اور محنت کی بچت ہوتی ہے۔
اس ونڈو میں دبئی میونسپلٹی، دبئی ڈیولپمنٹ اتھارٹی اور دبئی انٹیگریٹڈ اکنامک زونز اتھارٹی کی بلڈنگ لائسنسنگ سروسز شامل ہیں۔یہ دبئی میونسپلٹی کے دبئی انجینئرنگ کوالیفیکیشن سسٹم کے ساتھ الیکٹرانک طور پر منسلک ہے۔ سنگل ونڈو میں درخواست دینے کے تقاضے حال ہی میں شروع کیے گئے دبئی بلڈنگ کوڈ کے مطابق ہیں۔ یہ بلڈنگ انفارمیشن ماڈلنگ، GIS، اور بلیو پرنٹس کی خودکار آڈیٹنگ کے ساتھ مربوط ہے۔
یونیفائیڈ پلیٹ فارم میں عمارت کے اجازت نامے کے عمل کو سپورٹ کرنے والے تمام اداروں کے ساتھ ساتھ سول ڈیفنس، RTA، DEWA، اور ٹیلی کمیونیکیشن کمپنیوں (Etisalat/Du) کو جوڑنے کے لیے ایک الیکٹرانک لنک فراہم کیا گیا ہے۔
دوسری طرف دبئی میونسپلٹی نے عالمی مسابقت کی ضروریات کے مطابق پرمٹ بنانے کے اقدامات کو کم کرنے اور ان کو مربوط کرنے پر کام کیا ہے۔ اس نے درخواست کے عمل کو یکجا کرکے دستاویزات کو کم اور لین دین کاطریقہ کار آسان کیا ہے۔
تعمیراتی عمل کو تین اہم مراحل تک مختصر کر دیا گیا جن میں بلڈنگ پرمٹ کے لیے درخواست، اکھٹےمعائنے اور خدمات کی تکمیل اور فراہمی شامل ہیں۔

اخوت منصوبے کے تحت سال کے آخر تک 16000 گھروں کی تعمیر مکمل، وزیر اعظم ک زیر صدارت اجلاس
وزیرِ اعظم عمران خان کی زیر صدارت نیشنل کوارڈینیشن کمیٹی برائے ہاؤسنگ ، کنسٹرکشن و ڈویلپمنٹ کا ہفتہ وار اجلاس ہوا۔ اجلاس میں ملک میں جاری تعمیراتی سرگرمیوں اور مختلف منصوبوں کی منظوریوں کے عمل میں پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔ کم آمدنی والے افراد کے لئے حکومت کی جانب سے سماجی تنظیم اخوت کے ذریعے معاونت فراہم کرنے کے حوالے سے اجلاس کو بتایا گیا کہ حکومت کی جانب سے اخوت کو پانچ ارب روپے فراہم کیے گئے تھے۔ اس منصوبے کی کامیابی کو مد نظر رکھتے ہوئے حکومت نے اخوت کو مزید پانچ ارب روپے فراہم کرنے کا فیصلہ کیا۔ تاہم اخوت کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ رواں مالی سال کے لئے ان کو مزیددو ارب روپے درکار ہیں جو کہ حکومت کی جانب سے فراہم کر دیے جائیں گے
اجلاس کو بتایا گیا کہ اخوت منصوبے کے تحت اس سال کے آخر تک 16000 گھروں کی تعمیر مکمل ہو جائے گی۔
چیف سیکرٹری سندھ کی جانب سے تعمیراتی منصوبوں کی منظوریوں کے حوالے سے اجلاس کو بریفنگ آباد کے نمائندے کی جانب سے وزیرِ اعظم کو بتایا گیا کہ سندھ میں کم و بیش 258منصوبے منظوریوں کے منتظر ہیں ۔ آباد کی جانب سے وزیرِ اعظم سے درخواست کی گئئ کہ وفاقی حکومت زیر التوا منصوبوں کی منظوریوں کے عمل کو تیز کروانے کے حوالے سے معاونت فراہم کرے
وزیرِ اعظم نے چیف سیکرٹری سندھ کو ہدایت کی کہ زیر التوا منظوریوں کے عمل کو تیز کیا جائے۔
وزیرِ اعظم نے کہا کہ تعمیراتی سرگرمیوں کے فروغ سے نہ صرف معاشی عمل تیز ہوگا بلکہ صوبے کی عوام کو نوکریوں اور روزگار کے مواقع میسر آئیں گے۔ لہذا اس پر خصوصی توجہ دی جائے۔
وزیرِ اعظم کو مختلف ڈویلپمنٹ اتھارٹیز کی جانب منظور شدہ سوسائٹیوں کی تمام تر تفصیل آن لائن فراہم کرنے کے حوالے سے اب تک کی پیش رفت پر بھی بریفنگ
وزیرِ اعظم نے اس امر پر ضرور دیا کہ منظور شدہ ڈویلپمنٹ اتھارٹیز منظور شدہ ہاؤسنگ سوسائیٹیز و تعمیراتی منصوبوں کی تمام تر تفصیلات کی آن لائن اور ویب سائٹس پر فراہمی کو یقینی بنائیں تاکہ عوام الناس اور خصوصا بیرون ملک مقیم پاکستانیوں جو کہ ان منصوبوں میں سرمایہ کاری کرتے ہیں ان کو کسی بھی دھوکے یا فراڈ سے بچایا جا سکے۔ چئیرمین سی ڈی اے کی جانب سے وفاقی دارالحکومت میں ون ونڈو آپریشن، اراضیوں کے حوالے سے تمام معاملات کو ڈیجیٹل کیے جانے اور تعمیراتی منصوبوں کی منظوریوں کے حوالے سے بریفنگ دی
چئیرمین سی ڈی اے کی جانب سے بتایا گیا کہ ون ونڈو آپریشن کی آٹومیشن کے حوالے سے کیس ٹریکنگ اینڈ منیجمنٹ سسٹم تشکیل دیا جا چکا ہے اس کے ساتھ ساتھ جائیدادوں کے انتقال اور تصدیق کے عمل کو بھی ڈیجیٹل کیا جا رہا ہے۔ جائیدادوں و املاک کی خرید اری کے حوالے سے سی ڈی اے کی جانب سے آن لائن پیمنٹ کا نظام متعارف کرایا جا چکا ہے۔ یکم جنوری سے اب تک 403تعمیراتی منصوبوں کی منظوری دی جا چکی ہے جس کے تحت سی ڈی اے کو 735.5 ملین روپوں کی آمدنی ہوئی۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ آمدنی کے علاوہ ان منظور شدہ منصوبوں پر کام کا اجرا ہونے سے اربوں روپوں کی معاشی سرگرمی پیدا ہوگی۔ وزیرِ اعظم کو وفاقی دارالحکومت میں جاری مختلف تعمیراتی منصوبوں پر عملی پیش رفت پر بھی بریفنگ دی۔
وزیرِ اعظم نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ملکی معیشت کے استحکام اور کورونا وبا کے اثرات سے بحالی کے لئے تعمیراتی شعبے کا فروغ کلیدی اہمیت کا حامل ہے۔ وزیرِ اعظم نے تمام چیف سیکرٹری صاحبان کو ہدایت کی کہ منظوریوں کے عمل پر مسلسل نظر رکھی جائے تاکہ یہ عمل کسی بھی قسم کی تاخیر کا شکار نہ ہو وزیرِ اعظم نے ہدایت کی کہ نئی سوسائٹیوں اور تعمیراتی منصوبوں کے ساتھ ساتھ موجودہ غیر منظور شدہ یا غیر قانونی ہاؤسنگ سوسائٹیوں کے حوالے سے بھی مستقبل کا لائحہ عمل تشکیل دیا جائے۔
لاہور جنرل ہسپتال کے ملازمین کی رہائشی کالونی کی تعمیر کے لیے سرکاری اراضی کی فراہمی
پی جی ایم آئی و امیر الدین میڈیکل کالج کو زمین دینے کیلئے پنجاب حکومت سے رپورٹ طلب کی گئی ۔
ایم این اے ڈاکٹر سیمی بخاری نے وزیر اعظم عمران خان سے ملاقات کی، طبی اداروں کی مشکلات سے آگاہ کیا
میڈیکل سٹوڈنٹس کے ہاسٹلز، جنرل ہسپتال ملازمین کی رہائشی کالونی کیلئے سرکاری اراضی کی نشاندہی کرنے کے احکامات جاری۔
وزیر اعظم پاکستان نے امیر الدین میڈیکل کالج و پوسٹ گریجویٹ میڈیکل انسٹی ٹیوٹ کے کیمپس،میڈیکل سٹوڈنٹس کے لئے ہاسٹلز اور لاہور جنرل ہسپتال کے ملازمین کی رہائشی کالونی کی تعمیر کے لیے سرکاری اراضی کی فراہمی کی نشاندہی کے لئے رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر سیمی بخاری کی درخواست پر صوبائی حکومت سے رپورٹ طلب کر لی۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ ممبر قومی اسمبلی ڈاکٹر سیمی بخاری نے پرنسپل پی جی ایم آئی پروفیسر ڈاکٹر سردار محمد الفرید ظفر کی دعوت پر لاہور جنرل ہسپتال کا دورہ کیا تھا جہاں ان کے علم میں یہ دیرینہ مسئلہ لایا گیا تھا اور انہوں نے اس کے حل کی یقین دہانی کروائی تھی۔ واضح رہے کہ ایم این اے ڈاکٹر سیمی بخاری نے وزیر اعظم پاکستان عمران خان سے ملاقات کے دوران دونوں طبی اداروں کی بلڈنگ، طلباء و طالبات کے ہاسٹل اور ملازمین کی رہائشی کالونی کیلئے زمین فراہم کرنے کی استدعا کی تھی۔ وزیر اعظم سیکرٹریٹ کی طرف سے جاری ہونے والے اس مراسلے میں واضح کیا گیا ہے کہ پنجاب حکومت اس ضمن میں ہونے والی پیش رفت سے آگاہ کرے اور اس مسئلے کے حل کے لئے جلد از جلد کاروائی عمل میں لائی جائے۔
پرنسپل پروفیسر الفرید ظفر نے ڈاکٹر سیمی بخاری کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ پوسٹ گریجویٹ میڈیکل انسٹی ٹیوٹ واحد ادارہ ہے جہاں پاکستان کے علاوہ دیگر ملکوں سے بھی ڈاکٹرز سپیشلائزیشن کے لئے آتے ہیں اور اس ادارے کے فارغ التحصیل ڈاکٹرز دنیا بھر میں وطن عزیز کا نام روشن کرتے ہیں۔انہوں نے مزید بتایا کہ 2012میں امیر الدین میڈیکل کالج قائم ہوا دونوں میڈیکل اداروں کی عمارت، گریجویٹ و انڈر گریجویٹ میڈیکل سٹوڈنٹس کیلئے ہاسٹلز اور ایل جی ایچ ملازمین کی رہائشی کالونی نہ ہونے کے باعث خاصی مشکلات درپیش ہیں جس کا ازالہ کرنے کے لئے ایم این اے ڈاکٹر سیمی بخاری کی نشاندہی پر وزیر اعظم سیکرٹریٹ سے چیف سیکرٹری پنجاب کو مراسلہ بھجوا دیا گیا ہے۔انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ کسی التوا کے بغیر اس معاملے کے حل کی عملی کوششیں کی جائیں گی جو پی جی ایم آئی،امیر الدین میڈیکل کالج اور لاہور جنرل ہسپتال کے لئے خوش آئند امر ہوگا.
سڑک کی کنکریت کیساتھ تعمیر جاری
قصور
رائیونڈ قصور روڈ پر مین سٹاپوں پر کنکریت و سریئے سے سڑک مرمت کا کام جاری ،لوگوں کی پوری سڑک کو کنکریت سے تیار کرنے کی درخواستتفصیلات کے مطابق قصور رائیونڈ روڈ کے مین سٹاپوں پر کنکریت و لوہے کے ساتھ سڑک تعمیر کا کام جاری ہے جو کہ ایک بہت بڑی کاوش ہے کیونکہ اس سڑک پر ٹریفک انتہائی زیادہ ہے جس کے باعث تارکول کی سڑک جلد خراب ہو جاتی تھی خاص کر ان سٹاپس پر جہاں نکاسی آب بھی نہیں ہے اس لئے اب کنکریت و سریئے کیساتھ 9 انچ اونچائی والی مضبوط سڑک تعمیر کی جارہی ہے جس پر عوام نے نیک تمناؤں کا اظہار کیا ہے اور ساتھ ہی یہ مطالبہ بھی کیا ہے کہ سارے قصور رائیونڈ روڈ کو اسی کنکریٹ سے تیار کیا جائے تاکہ بار بار سڑک کی ٹوٹ پھوٹ سے عوام کو مشکلات نا ہو
واضع رہے کہ چند ماہ قبل ہی اس سارے روڈ پر بجری و تارکول سے پر کئے جانے والے گڑھے دوبارہ نمودار ہو چکے ہیں جس سے آئے روز حادثات ہوتے رہتے ہیںرپورٹ غنی محمود قصوری

اہم سڑک ٹوٹ پھوٹ کا شکار
قصور
کوٹ رادھا کشن سے چھانگا مانگا سڑک کی ابتر حالت لوگوں کا نام نہاد عوامی نمائندوں سے سڑک نئی تعمیر کروانے کی اپیل
تفصیلات کے مطابق کوٹ رادھا کشن سے چھانگا مانگا جانے کے لئے سڑک شدید ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو چکی ہے اور اس مین سڑک پر روزانہ ہزاروں کی تعداد میں چھوٹی بڑی گاڑیاں گزرتی ہیں کیونکہ رائے ونڈ اور لاہور جانے کے لیے بھی عوام کو یہی سڑک میسر ہے جس کی بدولت ہزاروں کی تعداد میں روزانہ سفر کرنے والے مسافروں کو اس مین سڑک سے بہت سی مشکلات کا سامنا ہے
لوگوں نے ڈی سی قصور سے نوٹس لے کر اس سڑک کو جلد سے جلد تعمیر کروانے کا مطالبہ کیا ہے
اوکاڑہ تا چک جھمرہ ون وے سڑک کی تعمیر کے لیے سروے شروع
اوکاڑہ(علی حسین) اوکاڑہ تا چک جھمرہ براستہ نول پلاٹ دو رویہ سڑک کی تعمیر کے لیے سروے شروع کردیا گیا ہے. سروے ٹیم کے مطابق چھ ماہ تک کام شروع کردیا جائے گا. اوکاڑہ فیصل آباد روڈ کے مسافروں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی. باغی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کئی افراد نے اس سڑک کی تعمیر شروع کرنے پر نیک خیالات کا اظہار کیا ہے.

سپیشل تعمیر کا دعوی ایک بار پھر
قصور پی ٹی آئی قیادت شہریوں کو تسلیاں دینے میں مصروف پچھلے سال کی طرح ایک مرتبہ پھر رائیونڈ قصور روڈ کی تعمیر کا دعوی کر دیا
تفصیلات کے مطابق پی ٹی آئی قصور کی قیادت عوام کو تسلیاں دینے میں مصروف پچھلے سال بھی راءو داور حیات خان ٹکٹ ہولڈر پی ٹی آئی کی طرف سے قصور رائیونڈ روڈ کو ڈبل کرنے کا دعوی کیا گیا تھا اور اب بھی پی ٹی آئی کارکنان نے سردار راشد طفیل خان اور راءو داور حیات خان کی طرف سے منسوب قصور رائیونڈ روڈ پر جگہ جگہ بینرز چھپوا کر لگائے گئے ہیں جس میں قصور رائیونڈ روڈ کی سپیشل تعمیر کیلئے 4 کروڑ 20 لاکھ روپیہ فنڈ منظور ہونے کا دعوی کیا گیا ہے مگر یہ بات وضع نہیں کی گئی کہ سپیشل تعمیر سے مراد سڑک مرمت ہے یاں پھر روڈ ڈبل کرنا ہے
لوگوں نے کہا کہ بات وضع کی جائے کہ سڑک مرمت کی جائے گی یاں ڈبل روڈ بنایا جائے اور حتمی تاریخ بتائی جائے کہ کام کب شروع ہوگا ورنہ جب سے پی ٹی آئی گورنمنٹ بنی ہے تب سے دعوی تو سن رہے ہیں مگر کام ہوتا نہیں
ملک ترقی کیسے کر سکتا ہے…. فیصل ندیم
کیا آپ کو یہ بات مذاق نہیں لگتی کہ ہم ایٹم بم بنا چکے ہیں طیارے بنا رہے ہیں ٹینک بنا رہے ہیں دنیا کا بہترین میزائل سسٹم بھی ہم نے ہی تخلیق کیا ہے کل ہم دفاعی ضروریات پوری کرنے کیلئے دنیا کے محتاج تھے آج ہم دنیا کو یہ چیزیں برآمد کررہے ہیں اگر ہم یہ سب کرسکتے ہیں تو سب کچھ کرسکتے ہیں ۔۔۔۔۔
ایک ایسا ملک جو ہمیشہ درآمدی بل کے خسارہ کا شکار رہتا ہے وہ کیسے ترقی کرسکتا ہے اگر اس کے ہر بازار کی ہر دکان کی ہر الماری غیر ملکی مصنوعات سے بھری ہوگی گاڑیاں بسیں ہیوی ٹرک تو بڑی شے ہے بچوں کیلئے بنایا گیا پلاسٹک کا کھلونا بھی ہم کسی اور ملک سے درآمد کررہے ہوتے ہیں ۔۔۔۔۔ق
ایسا نہیں ہے کہ ہم میں صلاحیت نہیں ہے اگر صلاحیت نہ ہوتی تو دفاعی سازوسامان کے ساتھ دنیا کے بہترین سرجیکل آئٹمز ، اسپورٹس کا بہترین سامان ، معیاری الیکٹریکل اپلائنسز اور بہترین سینیٹری آئٹمز ہم نہ بنا رہے ہوتے ۔۔۔۔۔
اس پوری کیفیت کی سب سے بڑی ذمہ دار ہمیشہ سے ہماری حکومتیں رہی ہیں جو صنعتکار کو اپنی صنعت چلانے کیلئے بہتر سہولیات اور ماحول دینے میں ناکام رہی ہیں چھوٹے چھوٹے اجازت ناموں کیلئے لمبے اور تھکا دینے والے طریقہ کار اور ہر منظوری پر رشوت کا بھاری بھرکم بوجھ کبھی بھی صنعتی ترقی کے فروغ کو سبب نہیں ہوسکتا مہنگی بجلی مہنگی گیس اور سازگار ماحول کی غیر موجودگی میں درآمدات کوگھٹا کر برآمدات بڑھانا مشکل نہیں ناممکن ہے ۔۔۔۔بھاری بھرکم بیرونی و اندرونی قرضہ ،بجٹ خسارہ ، گردشی قرضہ جات ہمیشہ ہر حکومت کا مسئلہ رہے ہیں بدقسمتی سے ہر آنے والی حکومت نے اپنی سیاست اور ووٹ بنک کو تحفظ دینے کیلئے حقیقی مسائل حل کرنے کے بجائے ان کے شارٹ ٹرم حل کی جانب توجہ کی ہے نتیجتاً ہر آنے والی حکومت میں ہم مسائل کے حل کے بجائے مسائل کی دلدل میں مزید دھنستے چلے گئے ہیں ۔۔۔۔۔
ان مسائل کے حل کا ایک ہی طریقہ ہے درآمدی اشیاء کی آمد کے طریقہ کار کو مشکل سے مشکل تر بنایا جائے غیرملکی اشیاء پر ڈیوٹیوں میں اضافہ کیا جائے جبکہ ملکی صنعت کو سازگار ماحول سستی بجلی سستی گیس فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ بیرون ملک موجود سفارتخانوں کو استعمال کرتے ہوئے اس کیلئے نئی منڈیاں تلاش کی جائیں ( یہ بھی ایک المیہ ہے کہ بیرون ممالک پاکستان کی نمائندگی کیلئے بننے والے سفارتخانوں میں تقرریاں سیاسی رشوت کے طور پر کی جاتی ہیں نتیجتاً سفارتخانے عیاشی کے اڈے کے طور پر تو استعمال ہوتے ہیں پاکستان کی نمائندگی کیلئے نہیں ) ۔۔۔۔
ملکی صنعت کی ترقی کیلئے ضروری ہے کہ اس کیلئے خام مال کی فراہمی کو نہایت آسان اور سہل بنایا جائے ضرورت پڑنے پر حکومت ان اشیاء پر سبسڈی بھی فراہم کرے تاکہ صنعتکار کی دلچسپی بڑھائی جائے سکے پاکستان میں کارخانے لگانے والے ہر بیرونی سرمایہ کار کو ضروری سہولیات فوری اور آسانی کے ساتھ فراہم کرنے کے ساتھ انہیں پابند کیا جائے کہ وہ ٹیکنالوجی بھی ٹرانسفر کریں گے ٹیکنالوجی کے حصول کے بغیر اغیار کی محتاجی کا خاتمہ ممکن نہیں ہے ۔۔۔۔۔جان لیجئے حکومتیں عوامی تعاون کے بغیر کبھی کامیاب نہیں ہوسکتی اس لیے عوامی سطح پر شعور کی بیداری کی مہم چلانا ضروری ہے ہر دکان ہر مارکیٹ میں میڈ ان پاکستان اشیاء کو نمایاں کرکے رکھنا ضروری ہے عوام کو سمجھانا ضروری ہے کہ آپ کے شوق کی تکمیل یا چند روپوں کی بچت ملک و قوم کی بہت بڑی تباہی کا سبب ہے اس لئے میڈ ان پاکستان اشیاء کا انتخاب کیجئے تاکہ ہم غیرملکی قرضہ جات سے نجات حاصل کرکے غیروں کے تسلط سے حقیقی آزادی حاصل کرسکیں ۔۔۔۔
ململ شعور کے ساتھ ہم یہ سمجھتے ہیں تمام کاموں سے پہلے یہ کام ضروری ہے پورا زور لگا کر اپنی عوام کو میڈ ان پاکستان پر لانا چاہئے پاکستان کیلئے پاکستانیوں کیلئے اپنے لئے اپنے بچوں کے بہتر مستقبل کیلئے ضروری ہے پاکستانی میڈ ان پاکستان اشیاء کا استعمال کریں ۔۔۔۔
اس مقصد کے حصول کیلئے نصاب تعلیم میں باقاعدہ مضامین شامل کئے جائیں جن میں طلبہ کو اس مسئلہ کی حساسیت سمجھائی جاسکے اور وہ عملی میدان میں اترنے کے بعد خود غرضی کا شکار ہوکر غیروں کے آلۂ کار بننے کے بجائے محب وطن اور مفید شہری بن سکیں ۔۔۔۔
علماء اور مساجد کے خطیب حضرات اس مسئلہ میں بہت زیادہ معاونت کرسکتے ہیں ان کی باقاعدہ ورکشاپس کروائی جائیں تاکہ وہ میڈ ان پاکستان کو ایک قومی و ملی مسئلہ سمجھ کر اپنے متعلقین کو قائل کرسکیں ۔۔۔۔
میڈیا ( پرنٹ الیکٹرانک سوشل ) کو عوامی شعور کی بیداری کیلئے بھرپور طور پر استعمال کیا جائے تاکہ عام پاکستانی جان سکے کہ اس کا حقیقی نفع نقصان کہاں پر ہے ۔۔۔۔۔امید ہے جذبہ حب الوطنی سے سرشار ہوکر لکھی گئی اس تحریر کو آپ تحریک بنا کر آگے چلائیں گے پاکستان اللہ کا انعام ہے اس انعام کی قدر اسی طرح ممکن ہے کہ اسے ہر طرح سے غیر ملکی تسلط سے آزاد کروایا جائے
پاکستان زندہ باد
پاکستانی قوم پائندہ باد









