Baaghi TV

Tag: تعیناتی

  • وفاقی بیوروکریسی میں تقرر و تبادلے ،نوٹیفکیشن  جاری

    وفاقی بیوروکریسی میں تقرر و تبادلے ،نوٹیفکیشن جاری

    اسلام آ باد : وفاقی بیوروکریسی میں تقرر و تبادلے کر دیئے گئے جن کا نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے۔

    پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس گریڈ 19 کے افسرذیشان جاوید کی خدمات بلوچستان حکومت کے سپرد کر دی گئیں وہ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن میں او ایس ڈی تھے، وومن میڈیکل آفیسر نواز شریف ٹیچنگ ہسپتا ل لاہور ڈاکٹر فرخندہ بِسمل کو تبدیل کر کے ڈیپوٹیشن پر 3 سال کیلئے لیڈی میڈیکل آفیسر پاکستان مِنٹ لاہور تعینات کیا گیا جبکہ ای این ٹی کنسلٹنٹ، ٹی ایچ کیو ہاسپٹل، کلر سیداں، راولپنڈی ڈاکٹر زیمل شاہان کو تبدیل کر کے 3 سال کیلئے ڈیپوٹیشن پر ای این ٹی سپیشلسٹ نرم اسپتال اسلام آباد تعینات کیا گیا ، پمز اسپتال اسلام آباد میں تعینات محکمہ صحت بلوچستان حکومت کی فارمسسٹ راحیلہ غفار کی ڈیپوٹیشن پر تعیناتی کی مدت میں 2 سال کا اضافہ کیا گیا جو کہ 9 جنوری 2024 سے شمار ہو گا۔

  • ‏نئے آئی جی اسلام آباد کی تعیناتی کا معاملہ ، سینئر افسران جونیئر افسر کے ماتحت کام کرنے سے گریزاں

    ‏نئے آئی جی اسلام آباد کی تعیناتی کا معاملہ ، سینئر افسران جونیئر افسر کے ماتحت کام کرنے سے گریزاں

    اسلام آباد:‏نئے آئی جی اسلام آباد کی تعیناتی کا معاملہ تنازعات کا شکار، جونیئر افسر کی بطور آئی جی اسلام آباد تعیناتی حکومت کے گلے پڑ گئی –

    باغی ٹی وی : ذرائع کے مطابق سابق آئی جی اکبر ناصر نے عہدے کا چارج چھوڑ دیا لیکن نئے تعینات ہونے والے آئی جی تاحال جوائننگ نہ دے سکے،نئے تعینات ہونے والے علی ناصر رضوی نے بطور ڈی آئی جی آپریشنز لاہور عہدے بھی کا چارج نہ چھوڑا، جونیئر آفیسر کی بطور آئی جی اسلام آباد تعیناتی سے اسلام آباد پولیس کے سئنئیر افسران تذبذب کا شکار ہیں-

    ذرائع کے مطابق ڈی آئی جی سیف سٹی خرم جانباز اور ڈی آئی جی ہیڈ کوارٹرز حسن رضا خان نئے آئی جی سے ایک سال سنئیر ہیں،ڈی آئی جی سیکورٹی محمد اویس نئے تعینات ہونے والے آئی جی اسلام آباد سے دو سال سنئیر ہیں، نئے تعینات ہونے والے آئی جی اسلام آباد کا تعلق پولیس سروس کے 31 ویں کامن سے ہے، ڈی آئی جی سیف سٹی اور ڈی آئی جی ہیڈکوارٹرز کا تعلق 30 ویں کامن سے ہے-

    بوم سپر سونک کے تجرباتی طیارے کی پہلی آزمائشی پرواز مکمل

    ذرائع کے مطابق ڈی آئی جی سیکورٹی ملک اویس کا تعلق پولیس سروس کے 29ویں کامن سے ہے، تینوں سینئر افسران جونیئر افسر کے ماتحت کام کرنے سے گریزاں ہیں تینوں افسران کی جانب سے رخصت کی درخواست دیئے جانے کا امکان ہے حکومت کی جانب سے تعیناتی کے بعد کی صورتحال سے نمٹنے کے لیے متبادل سنئیر افسر کے نام پر بھی غور شروع ک دیا یا ہے-

    وزیر تعلیم کا بوٹی مافیا کے خلا ف ایکشن، چیئرمین لاہور بورڈ معطل

    اسلام آباد ائیرپورٹ پر پی آئی اے کے طیارے سے پرندہ ٹکرا نے سے …

  • انٹیلی جنس ایجنسیز ججز کی تعیناتی کو کیسے کنٹرول کرسکتے ہیں،سپریم کورٹ

    انٹیلی جنس ایجنسیز ججز کی تعیناتی کو کیسے کنٹرول کرسکتے ہیں،سپریم کورٹ

    اسلام آباد: سپریم کورٹ میں ایڈیشنل جج تعینات نہ کرنے کے کیس کی سماعت ہوئی-

    باغی ٹی وی : چیف جسٹس عمرعطا بندیال کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ نے طارق آفریدی کو پشاورہاٸیکورٹ کا ایڈیشنل جج تعینات نہ کرنے کی درخواست پر سماعت کی۔

    پریکٹس اینڈ‌پروسیجر بل کیس:موجودہ کیس آئینی ترامیم کا نہیں ہےججز پر الزام لگے تو ٹرائل …

    درخواست گزارکے وکیل حامد خان نے مؤقف اپنایا کہ جوڈیشل کمیشن نے طارق آفریدی کو پشاور ہاٸیکورٹ کا ایڈیشنل جج تعینات کرنے کی سفارش کی لیکن ججز تقرر بارے پارلیمانی کمیٹی نے نامزدگی انٹیلی جنس ایجنسیز کی رپورٹ پر مسترد کی، انٹیلی جنس رپورٹ کے مطابق طارق آفریدی کی ساکھ اچھی نہیں۔

    جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیئے کہ انٹیلی جنس ایجنسیز ججز کی تعیناتی کو کیسے کنٹرول کرسکتے ہیں، پارلیمانی کمیٹی نے پیشہ وارانہ صلاحیت کی بجائے انٹیلی جنس رپورٹ کی روشنی میں فیصلہ کیا، اس عمل سے عدلیہ کہ آزادی پر اثر پڑے گا،چیف جسٹس عمرعطا بندیال نے کہا کہ عدالت معاملے کی قانونی حیثیت کا جاٸزہ لے گی، کیا پارلیمانی کمیٹی جوڈیشل کمیشن کی سفارشات کو مسترد کرسکتی ہے؟ اٹارنی جنرل کو عدالت کی معاونت کے لیے بلا لیتے ہیں۔

    عمران خان کے خلاف 121 مقدمات: تفتیشی آفیسر کو پابند نہیں کیا جا سکتا کہ …

    سپریم کورٹ نے آٸندہ سماعت پر اٹارنی جنرل کوعدالتی معاونت کے لیے طلب کرتے ہوے کیس کی مزید سماعت ایک ماہ تک ملتوی کردی۔

    واضح رہے کہ سپریم کورٹ کے وکیل طارق آفریدی کو جوڈیشل کمیشن آف پاکستان نے 2 جولائی 2019 کو پشاور ہائی کورٹ کا ایڈیشنل جج مقرر کرنے کی سفارش کی تھی لیکن پارلیمانی کمیٹی نےاس سفارش کومسترد کردیا تھاپارلیمانی کمیٹی نے 8 جولائی 2019 کے فیصلے میں کہا تھا کہ طارق آفریدی کی ہائی کورٹ کے جج کی حیثیت سے تقرری آئین پاکستان کی شقوں سے مطابقت نہیں رکھتی، لہٰذا اسے کالعدم قرار دیا جاتا ہے۔

    خاتون جج دھکمی کیس: دلائل نہیں دیں گے تو اپیل خارج کردیں گے،عدالت

    پارلیمانی کمیٹی نے ان کی نامزدگی مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ انٹیلی ایجنسیوں کی رپورٹ کے مطابق ان کے مالی معاملات درست نہیں، وہ پیشہ ورانہ طور پر اہل نہیں اور انہوں نے قانون و ضوابط کی خلاف ورزیاں کی ہیں۔

    دوسری جانب دو دن قبل ہی مسلم لیگ (ن) کے حمایت یافتہ طارق آفریدی پشاور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر منتخب ہوئے ہیں۔

    میرپور خاص:سی آئی اے پولیس کی ٹنڈو جان محمد میں منشیات فروشوں کیخلاف کارروائی،4گرفتار

  • چیئرمین نیب کی تعیناتی کیلئے چیف جسٹس سے مشاورت کیلئے دائر درخواست مسترد

    چیئرمین نیب کی تعیناتی کیلئے چیف جسٹس سے مشاورت کیلئے دائر درخواست مسترد

    اسلام آباد : چیئرمین نیب کی تعیناتی کیلئے چیف جسٹس اطہرمن اللہ سے مشاورت کیلئے دائر درخواست ناقابل سماعت قرار دیتے ہوئے مسترد کر دی گئی-

    باغی ٹی وی : چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ جسٹس اطہر من اللّٰہ نے نیب چیئرمین کی تعیناتی کیلئے چیف جسٹس پاکستان سے مشاورت کے لیے شہری محمد فہد کی جانب سے دائر درخواست پر سماعت کی۔

    گستاخانہ بیانات: آل پاکستان انجمن تاجران نے بھارتی مصنوعات کے بائیکاٹ کا اعلان کر…

    درخواست میں میں درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ چیئرمین نیب کی تعیناتی کے معاملے پر سپریم کورٹ کے فیصلے پر عمل درآمد نہیں ہوا، قومی اسمبلی میں قائد ایوان اور قائد حزب اختلاف کی مشاورت سے چیئرمین نیب کا تقرر ہوتا ہے۔

    درخواست گزار نے کہا کہ 2001 میں بھی سپریم کورٹ نے سیکشن 6 میں ترمیم کرکے چیف جسٹس کی مشاورت کا کہا، 20 سال گزرنے کے باوجود نیب آرڈیننس میں چیئرمین نیب کی تعیناتی سے متعلق شق میں ترمیم نہ کی جا سکی-

    درخواست میں اپیل کی گئی کہ وزارت قانون کو چیئرمین نیب کی تعیناتی کے طریقہ کار میں ترمیم کی ہدایت کی جائے اور چیف جسٹس پاکستان کی مشاورت کے بغیر نئے چیئرمین نیب کی تعیناتی سے روکا جائے۔

    درخواست پر چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیئےکہ چیئرمین نیب کی تعیناتی پارلیمنٹ کا اختیار ہے اور یہ عدالت پارلیمنٹ کوہدایات نہیں دے سکتی اس فیصلے میں سپریم کورٹ کی صرف آبزرویشن تھی، سپریم کورٹ کے جس فیصلے کا آپ نے حوالہ دیا اس کے بعد کافی فیصلے آچکے۔

  • سرکاری نیوز ایجنسی اے پی پی میں بھرتیوں کا ریکارڈ طلب

    سرکاری نیوز ایجنسی اے پی پی میں بھرتیوں کا ریکارڈ طلب

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے سرکاری نیوز ایجنسی اے پی پی میں بھرتیوں کا ریکارڈ طلب کرلیا

    عدالت نے سیکرٹری اطلاعات، ایم ڈی اے پی پی کو نوٹس جاری کردیا ،جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ 10 جنوری تک اے پی پی میں بھرتیوں کا ریکارڈ پیش کیا جائے، حسنین حیدر تھہیم ایڈوکیٹ وکیل درخواست گزار نے کہا کہ میرا موکل بھرتی کے معیار پر پورا اترتا،غیر متعلقہ افراد کو بھرتی کیا جارہا ہے،اے پی پی میں خلاف ضابطہ بھرتی کرکے تھرڈ پارٹی حق بنایا جارہا ہے، جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ غیر قانونی کام غیر قانونی ہوتا ہے چاہے جو بھی کرلیا جائے، وکیل درخواست گزار حسنین حیدر ایڈوکیٹ نے عدالت میں کہا کہ کچھ امیدواروں کے پاس متعلقہ ڈگری ہے نہ ہی تجربہ،اے پی پی کو ٹیسٹ ریکارڈ اور انٹرویو کی وڈیو ریکارڈنگ پیش کرنے کے احکامات جاری کیے جائیں، اے پی پی کو سپریم کورٹ کے احکامات پر من و عن عملدرآمد کے احکامات جاری کیے جائیں

    دوسری جانب ‏سپریم کورٹ میں سیکڈ ایمپلائز ایکٹ 2010 کالعدم قرار دینے سے متعلق کیس‏ کی سماعت ہوئی،16ہزار سے زائد برطرف ملازمین اور وفاقی حکومت کی نظرثانی اپیلوں پر سماعت‏ ہوئی .جسٹس منصور علی شاہ‏ نے کہا کہ 11سال بعد ایکٹ بنا کے ہزاروں لوگوں کو بحال کیا گیا،وکیل ایس این جی پی ایل‏ نے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے موجود ہیں جن میں ملازمین کو بحال کیا گیا،جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ کچھ ملازمیں کو بحال کر کے دوسروں کا استحصال کیا گیا،وکیل وسیم سجاد نے کہا کہ کسی کا استحصال نہیں ہوا حکومت تبدیل ہوئی تو نئی نے بحال کیا،جسٹس منصور علی شاہ‏ نے کہا کہ آپ کیس کو دوسری طرف لے جارہے ہیں،جسٹس عمر عطاء بندیال نے کہا کہ کیا سوئی گیس ملازمین ٹیسٹ اور انٹرویو دےکر بھرتی ہوئے تھے؟ وکیل نے کہا کہ واک-ان انٹرویوز کے ذریعے بھرتیاں ہوئی تھیں،

    جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ختم شدہ کنٹریکٹ گیارہ سال بعد کیسے بحال ہوگئے؟ جن کے کنٹریکٹ بحال ہوئے انہوں نے کیا کارنامہ انجام دیا تھا؟ کیا تمام ملازمین دہشتگردی کی کارروائی میں زخمی ہوئے تھے؟ وکیل نے کہا کہ پارلیمنٹ کے فیصلے کے تحت ملازمین کو بحال کیا گیا،پارلیمان اس نتیجہ پر پہنچی تھی کہ ملازمین کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا گیا ہے،جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ سیاسی انتقام کا نشانہ بنانے کے شواہد کہاں ہیں؟ صرف انہی لوگوں کو کیوں بحال کیا گیا یہ سمجھائیں، ملازمت کے اہل تو بہت سے اور بھی ہوں گے جن کی جگہ یہ بحال ہوئے، وکیل نے کہا کہ عدالت پارلیمنٹ میں ہونے والی بحث منگوا کر جائزہ لے لے، اس عمر میں ملازمین کہاں جائیں گے؟ جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ سوئی گیس میں پنشن کتنا عرصہ ملازمت کے بعد ملتی ہے؟ وکیل نے کہا کہ حکومت نے غلطی کی ہے تو سزا ملازمین کو نہ دی جائے، جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ کیا تعیناتی کالعدم ہونے کے دس سال بعد پنشن مل سکتی ہے؟

    ایڈووکیٹ وسیم سجاد کے دلائل مکمل ہوئے تو کے پی محکمہ تعلیم کے وکیل افتخار گیلانی کے دلائل شروع ہوئے، جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ سپریم کورٹ کسی کو برطرف کر دے تو پارلیمنٹ کی قانون سازی سے کسی مخصوص فرد کو بحال نہیں کیا جا سکتا ،وکیل اعتزاز احسن نے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے میں ایکٹ کو صحیح سے پرکھا نہیں گیا، ایک عبوری حکومت نے آکر متعدد ملازمین کو فارغ کیا،جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ یہ نہیں کہہ رہا کہ ایک جماعت کے بھرتی کیے گئے ملازمین برطرف کیے جائیں،پارلیمنٹ نے لوگوں کے ایک مخصوص گروہ کو قانون سازی کر کے فائدہ کیوں پہنچایا؟ وکیل افتخار گیلانی نے کہا کہ سپریم کورٹ خود کہہ چکی کہ پارلیمنٹ کی قانون سازی کو کالعدم قرار نہیں دے سکتے،قانون سازوں کی بصیرت کو کوئی چیلنج نہیں کر سکتا، سپریم کورٹ اپنے فیصلےپر نظر ثانی کرے،جسٹس سجاد علی شاہ نے کہا کہ ملازمین کی بحالی کا قانون کس طرح آئین کے مطابق ہے؟ قانون آئین کے مطابق ہونے پر آپ نے ایک دلیل بھی نہیں دی، اعتزاز احسن نے کہا کہ آئی بی افسران سول سرونٹ ہیں ان پر عدالتی فیصلہ لاگو نہیں ہوتا،سال 1996 میں نگران حکومت نے آئی بی ملازمین کو برطرف کیا تھا نگران حکومت کو ملازمین کی برطرفی کا اختیار نہیں ہے، جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ نگران حکومت والے معاملے پر سپریم کورٹ 2000 میں فیصلہ دے چکی ہے، فیصلے کے 21 سال بعد کسی اور نظرثانی کیس میں مقدمہ دوبارہ نہیں کھول سکتے، وکیل آئی بی اعتزاز احسن نے کہا کہ سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں ملازمین بحالی کے قانون کی غلط تشریح کی،کیس کی مزید سماعت کل 11:30 تک ملتوی کر دی گئی

    راہ چلتی طالبات کو ہراساں اور آوازیں کسنے والا اوباش گرفتار

  • ڈی پی او اوکاڑہ نے دو ایس ایچ تبدیل کردیے

    ڈی پی او اوکاڑہ نے دو ایس ایچ تبدیل کردیے

    اوکاڑہ(علی حسین مرزا) ڈی پی او اوکاڑہ عمرسعیدملک نے ضلع اوکاڑہ میں دو ایس ایچ او تبدیل کردیے ہیں۔ ملک محمد ارشد کو ایس ایچ او تھانہ صدرگوگیرہ اور اللہ دتہ کو ایس ایچ او تھانہ راوی تعینات کردیا گیا ہے۔ انسپکٹر شیخ محمد اعجاز کو ایس ایچ او گوگیرہ سے تبدیل کرکے لائن حاضر کردیا گیا ہے۔