Baaghi TV

Tag: تفتیش

  • چینی شہریوں پر حملہ، تفتیش کے لیے جے آئی ٹی تشکیل

    چینی شہریوں پر حملہ، تفتیش کے لیے جے آئی ٹی تشکیل

    کراچی ایئرپورٹ پر چینی شہریوں پر حملے میں ملوث ملزمان سے تفتیش کے لیے جے آئی ٹی تشکیل دی گئی ہے۔

    باغی ٹی وی کے مطابق اس جے آئی ٹی میں گرفتار ملزمان محمد جاوید اور گل نساء سے تفتیش کی جائے گی۔محکمہ داخلہ سندھ نے جے آئی ٹی کے قیام کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔نوٹیفیکیشن کے مطابق ڈی آئی جی سی ٹی ڈی کو جے آئی ٹی کا چیئرمین مقرر کیا گیا ہے، اور اس میں تینوں حساس اداروں اور رینجرز کے افسران شامل ہوں گے۔ اسپیشل برانچ، کراچی پولیس، اور ایف آئی اے کے افسران بھی اس جے آئی ٹی کا حصہ ہیں۔جے آئی ٹی کو کسی بھی تحقیقاتی ادارے سے مدد حاصل کرنے کی اجازت ہوگی۔ ملزمان سے تفتیش کے بعد رپورٹ محکمہ داخلہ کو پیش کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

    سڑکوں ،موٹرویز کی بندش کیخلاف درخواست نمٹا دی گئی

    بشریٰ بی بی کی سیاسی انٹری نئی نہیں،عمران خان کی بہن پھٹ پڑی

    بشریٰ بی بی کی سیاسی انٹری نئی نہیں،عمران خان کی بہن پھٹ پڑی

    پشاورمیں رواں برس قتل واقدام قتل کے واقعات میں اضافہ

  • یاسمین راشد کے مزید جسمانی ریمانڈ کی استدعا مسترد

    یاسمین راشد کے مزید جسمانی ریمانڈ کی استدعا مسترد

    گلبرگ میں عسکری ٹاور پر حملہ اور جلاؤ گھیراؤ کا مقدمہ ،تحریک انصاف کی رہنما ڈاکٹر یاسمین راشد کے مزید جسمانی ریمانڈ کی استدعا مسترد کر دی گئی،

    عدالت نے ڈاکٹر یاسمین راشد کو چودہ روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجنے کا حکم دے دیا ،ڈاکٹر یاسمین راشد کو انسداد دہشت گردی عدالت میں پیش کیا گیا ،انسداد دہشت گردی عدالت کی ایڈمن جج عبہر گل خان نے سماعت کی ،تفتیشی افسر نے عدالت میں کہا کہ ڈاکٹر یاسمین راشد گلبرگ عسکری ٹاور حملہ کیس میں ملوث ہے،تفتیش کیلئے ڈاکٹر یاسمین راشد کا جسمانی ریمانڈ دیا جائے،عدالت نے یاسمین راشد کو جوڈیشل ریمانڈ پر عدالت بھجوا دیا ، عدالت نے یاسمین راشد کو چودہ دن کے بعد دوبارہ پیش کرنے کی ہدایت کر دی،

    دوسری جانب تحریک انصاف کے رہنما اعجاز چودھری کے جوڈیشل ریمانڈ میں 14روز کی توسیع کا حکم دے دیا گیا،

    دوسری جانب پنجاب فرانزک ایجنسی نے ڈاکٹر یاسمین راشد کی رپورٹ جاری کر دی جس کے مطابق یاسمین راشد کی جناح ہاوس پر حملے کے وقت موجودگی ثابت ہوگئی، حملے کے وقت کی 3 آڈیوز اور ویڈیوز ڈاکٹر یاسمین راشد کی ہی ہیں فوٹوگرامیٹک ٹیسٹ میں یاسمین راشد کی جناح ہاوس میں موجودگی پائی گئی، یاسمین راشد نے ایک ویڈیو کلپ میں ہجوم کو کور کمانڈر ہاؤس کی طرف جانے کا کہا اور دوسری ویڈیو میں یاسمین راشد نے ہجوم کو کور کمانڈر ہاؤس کے اندر نہ جانے کا کہا۔ تاہم خیال رہے کہ لاہور کی انسداد دہشت گردی عدالت نے پاکستان تحریک انصاف کی رہنما ڈاکٹر یاسمین راشد کو جناح ہاؤس حملہ کیس سے بری کر دیا تھا

    کرونا لاک ڈاؤن، گھر میں فاقے، ماں نے 5 بچوں کو تالاب میں پھینک دیا،سب کی ہوئی موت

    دس برس تک سگی بیٹی سے مسلسل جنسی زیادتی کرنیوالے سفاک باپ کو عدالت نے سنائی سزا

    شادی شدہ خاتون کے ساتھ اجتماعی زیادتی کے بعد ملزمان نے ویڈیو وائرل کر دی

    وفاقی دارالحکومت میں ملزم عثمان مرزا کا نوجوان جوڑے پر بہیمانہ تشدد،لڑکی کے کپڑے بھی اتروا دیئے، ویڈیو وائرل

    نوجوان جوڑے پر تشدد کرنیوالے ملزم عثمان مرزا کے بارے میں اہم انکشافات

  • اگر آپ نے تفتیش جوائن کی ہوتی تو ہم آج ہی 8 کیسز کو سن لیتے،عدالت

    اگر آپ نے تفتیش جوائن کی ہوتی تو ہم آج ہی 8 کیسز کو سن لیتے،عدالت

    انسداد دہشتگردی عدالت اسلام آباد ،چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کے خلاف 8 مقدمات میں ضمانت کی درخواست پر سماعت ہوئی،

    وکیل سلمان صفدر ،بیرسٹر گوہر عدالت کے روبرو پیش ہوئے، کیس کی سماعت انسداد دہشتگردی عدالت کے جج راجہ جواد غباس حسن نے کی، عدالت نے استفسار کیا کہ آپ شامل تفتیش ہوئے ،وکیل نے کہا کہ ایک کیس ختم کرتے ہیں تین مزید ایف آئی آر درج کر لی جاتی ہیں،عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر آپ نے تفتیش جوائن کی ہوتی تو ہم آج ہی 8 کیسز کو سن لیتے ،وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ میں آج تیاری کے ساتھ آیا ہوں کہتے ہیں تو میں دلائل دے دیتا ہوں،یہ مقدمات درج کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ تفتیش جوائن کریں ایسا نہیں ہو سکتا ،ہائیکورٹ میں بھی کہا کہ ویڈیو لنک کے زریعے شامل تفتیش ہونے کو تیار ہیں ،سیکیورٹی کی بنیاد پر تفتیشی ٹیم کو کہا کہ آکے شامل تفتیش کر لیں،

    عدالت نے استفسار کیا کہ جے آئی ٹی سے کون ہے،ان کی جانب سے کیا کہا گیا تھا،پراسیکیوٹر عدنان نے کہا کہ جے آئی ٹی کی جانب سے پولیس لائن آنے کا کہا گیا تھا،عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ دونوں فریقین نے اپنے اپنے پوائنٹ دیے ہیں، کوئی لچک نہیں دکھا رہا،تفتیشی افسر اپنے اصولوں پر شامل تفتیش جوائن کروانا چاہتے ہیں،پراسیکیوٹر عدنان نے کہا کہ قانون کے مطابق سابق وزیراعظم نے شامل تفتیش ہونا ہے،عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ قانونی نقاط دیھا دیں ہم قانون کے تابع ہیں،

    اے ٹی سی جج نے استفسار کیا کہ پولیس نے سوال نامہ کیا سابق وزیراعظم کو مہیا کیا ہے؟ چار تفتیشی افسر موجود ہیں، ان کی حد تک تو معاملہ نپٹا لیتے ہیں،سابق وزیراعظم اور تفتیشی افسر بیان دے دیں کہ کتنے بجے شامل تفتیش ہونا،جے آئی ٹی لاہور بیٹھتی ہے، اسلام آباد میں موجود نہیں، وکیل نے کہا کہ سابق وزیراعظم کو شامل تفتیش کرلیں، فیصلہ کل کے لیے محفوظ کرلیں،اے ٹی سی جج نے استفسار کیا کہ جے آئی ٹی سے کون آیا ہے؟ پراسیکوٹر سے استفسار کیا کہ جے آئی ٹی کا ریکارڈ موجود ہے آپ کے پاس؟ جے آئی ٹی موجود نہیں، جے آئی ٹی نے کرنا کیا ہے؟ وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ پولیس کو سابق وزیراعظم کی گرفتاری ہی کیوں چاہیے، عدالت نے کہا کہ دونوں نے مسئلہ بنایاہوا ہے، ایک بندہ کہتا ہے میرے پاس آؤ، دوسرا کہتا ہے میرے پاس آؤ، جس میں چاہتے ہیں اس میں زمان پارک میں بھی جا کر تفتیش کرلی جاتی ہے، پراسیکوٹر عدنان علی نے کہا کہ سابق وزیراعظم کی صوابدید پر تو شاملِ تفتیش نہیں ہونا نا،سابق وزیراعظم کے عمل سے ظاہر ہورہا شاملِ تفتیش نہیں ہونا چاہتے، وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ سابق وزیراعظم آج شاملِ تفتیش ہو کر ہی واپس جائیں گے،اے ٹی سی جج نے کہا کہ پولیس لائینز جوڈیشل کمپلیکس سے دس منٹ کی دوری پر ہے، عدالت نے عمران خان کے وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ واپس جاتے ہوئے پولیس لائینز میں جا کر شاملِ تفتیش ہو جائیں، وکیل نعیم پنجوتھا نے کہا کہ
    جوڈیشل کمپلیکس بہترین جگہ ہے شاملِ تفتیش ہونے کے لیے ،سیکیورٹی خدشات کے باعث پولیس لائینز میں شاملِ تفتیش ہونا ممکن نہیں،

    اے ٹی سی جج نے استفسار کیا کہ تحریری جواب ریکارڈ پر کیوں نہیں لے رہے؟ کیس لگاہوا ہے، جے آئی ٹی کو عدالت آنا نہیں چاہئے کیا، پراسیکیوٹر نے کہا کہ سابق وزیراعظم شامل تفتیش ہونا نہیں چاہتے،عدالت نے کہا کہ سابق وزیراعظم تو آ رہے، جے آئی ٹی موجود نہیں، آپ کہہ رہے شامل تفتیش نہیں ہونا چاہ رہے،جے آئی ٹی کو بلا لیتے ہیں، وکیل گوہرعلی نے کہا کہ 150 سے زائد مقدمات درج ہیں، ایک ساتھ کیسے شاملِ تفتیش ہوں،عدالت نے کہا کہ کیا عدالت نے کہا ہے کہ فلاں جگہ شامل تفتیش ہوجائیں؟ وکیل گوہرعلی خان نے کہا کہ عدالت نے نہیں کہاکہ مخصوص جگہ ہی شامل تفتیش ہونا ہے،وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ چیئرمین پی ٹی آئی سابق وزیراعظم ہیں، جان کو خطرہ ہے،اے ٹی سی جج نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ قتل کے ملزم آتے ہیں، زندگی تو سب کی اہم ہے، وکیل سلمان صفدرنے کہا کہ سابق وزیراعظم کے آنے پر حکومت کے لاکھوں روپے لگتے ہیں، روزمرہ کی بنیاد پر سابق وزیراعظم کے خلاف مقدمات درج ہورہے، مدعی بھی یہی، غصہ بھی انہیں، تفتیش بھی پولیس نے ہی کرنی، چند دن قبل رات 10 بجے تک اسلام آباد ہائیکورٹ میں سابق وزیراعظم کو بٹھائے رکھا، اے ٹی سی جج نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ایک جانب جوڈیشل کمپلیکس ہے، دوسری جانب پولیس لائینز ہیں،پراسیکیوٹر نے کہا کہ سابق وزیراعظم پر ہم مقدمات نہیں کررہے، یہ اپنے اوپر خود کروا رہے ہیں جوڈیشل کمپلیکس پیشیوں پر گاڑیاں جلا رہے ہیں،وکیل گوہرعلی خان نے کہا کہ کمرہ عدالت میں ہی شاملِ تفتیش ہونے کو تیار ہیں، پراسیکیوشن کا مقصد چیئرمین پی ٹی آئی کو گرفتار کرنا ہے، اے ٹی سی جج نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جے آئی ٹی کا جواب اب تک ہمارے پاس موجود نہیں، اے ٹی سی جج نے چیرمین پی ٹی آئی کے آنے تک سماعت میں وقفہ کردیا

    قبل ازیں سابق وزیراعظم کے وکیل نعیم پنجوتھا اور علی اعجاز بٹر عدالت پیش ہوئے وکیل نے کہا کہ سابق وزیراعظم کے وکیل سلمان صفدر ایک گھنٹے تک آرہے ہیں،سابق وزیراعظم لاہور سے اسلام آباد آ رہے، سابق وزیراعظم کے ایک اور کیس میں سلمان صفدر اس وقت کچہری میں مصروف ہیں،سابق وزیراعظم کے خلاف آج 18 کیسز ہیں، اے ٹی سی جج نے ہدایت کی کہ آپ لوگ اپنی مینجمنٹ کے حساب سے عدالت پیش ہو جائیں، کیا چیرمین پی ٹی آئی شامل تفتیش ہوئے؟ وکیل نے کہا کہ تحریری جواب جمع کروا دیاہے جو وصول بھی کرلیا گیا ہے، اےٹی سی نے زاتی حیثیت میں شاملِ تفتیش کے حوالے سے قانونی نکات پر معاونت طلب کرلی انسدادِ دہشت گردی عدالت کے جج راجہ جوادعباس نے سماعت میں وقفہ کردیا

    واضح رہے کہ عمران خان اسلام آباد میں مختلف مقدمات میں پیش ہوں گے،9 ضمانتیں جوڈیشل کمپلیکس لگی ہوئی ہیں ،8 پہلے والی عبوری ضمانتیں اور ایک نئی دائر کی گئی، 2 عبوری ضمانتیں چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ کے پاس لگی ہوئی ہیں،ہائی کورٹ میں نئی 6 عبوریں ضمانتیں دائر کی جائیں گی ،1 کوئٹہ والی ایف آئی آر حفاظتی ضمانت دائر ہو گئی ہے اور 1 توشہ خانہ معاملہ پر نئی درج ہونے والی ایف آئی آر جس میں کل لاہور ہائی کورٹ سے حفاظتی ضمانت لی تھی اس میں عبوری ضمانت اسلام آباد ہائی کورٹ میں دائر کی ہے اور نیب کی طرف سے آج کے لیے عمران خان کو پیش ہونے کا نوٹس موصول ہوا تھا جس میں عمران خان نیب بھی پیش ہونگے

    قیام پاکستان سے اب تک توشہ خانہ کے تحائف کی تفصیلات کا ریکارڈ عدالت میں پیش

    نیب ٹیم توشہ خانہ کی گھڑی کی تحقیقات کے لئے یو اے ای پہنچ گئی، 

    وفاقی دارالحکومت میں ملزم عثمان مرزا کا نوجوان جوڑے پر بہیمانہ تشدد،لڑکی کے کپڑے بھی اتروا دیئے

    بزدار کے حلقے میں فی میل نرسنگ سٹاف کو افسران کی جانب سے بستر گرم کی فرمائشیں،تہلکہ خیز انکشافات

  • ارشد شریف قتل کیس میں فیصل واؤڈا اورعمران خان سے بھی تفتیش کی جائے گی:وزیر داخلہ

    ارشد شریف قتل کیس میں فیصل واؤڈا اورعمران خان سے بھی تفتیش کی جائے گی:وزیر داخلہ

    اسلام آباد: وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ ارشد شریف قتل کیس میں فیصل واؤڈا ، عمران خان اور مراد سعید سے بھی تفتیش کی جائے گی۔ فیصل واؤڈا کی پریس کانفرنس پر ردعمل دیتے ہوئے رانا ثنا اللہ نے کہا کہ فیصل واؤڈا کے بعد کسی اور شہادت کی ضرورت نہیں ہے، اُن کی باتوں کو سنجیدہ لینا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ فیصل واؤڈا کی بات کو پیش نظر رکھیں تو ارشد شریف معاملے کے سارے ناتے بانے عمران خان کی طرف جاتے ہیں۔

     

     

     

     

    رانا ثنا اللہ نے کہا کہ فیصل واوڈا نے ایس فیملی کو بے نقاب کر دیا، کینیا کے فارم ہاؤس کا تعلق ایس فیملی سے بنایا جا رہا ہے، جن کا دبئی میں کاروبار ہے۔ وفاقی وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ ارشد شریف کے قتل کی تحقیقات کرنے والا کمیشن فیصل واؤڈا سے تفتیش شروع کرے جبکہ عمران خان اور مراد سعید سے بھی تفتیش کی جائے گی، فیصل واؤڈا کی بات کئی جگہوں پر بہت اہم ہے۔

     

     

     

     

    یاد رہے کہ کچھ دیر پہلے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے تحریک انصاف کے رہنما فیصل واوڈا کا کہنا ہےکہ ارشد شریف کی موت قتل ہے، جس کی سازش پاکستان میں ہوئی ہے، اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے فیصل واوڈا کا کہنا تھا کہ ارشد شریف کو سازشیوں نے ڈرایا اور مجبورکیا کہ ملک سے چلے جاؤ، دبئی سے ارشد شریف کو زبردستی نکالے جانےکی بات درست نہیں ہے، میرے خیال سے ارشد شریف کی موت کوئی حادثہ نہیں تھا، میرے خیال میں ارشدکو گاڑی کے اندر سے مارا گیا، انہیں صرف دو گولیاں لگیں،

     

     

     

    فیصل واوڈا نے انکشاف کرتے ہوئے کہا کہ ارشد شریف کو سینے اور سر پر جو دو گولیاں لگیں، وہ لانگ رینج سے نہیں چلائی گئیں، جو دو گولیاں لگیں، وہ قریب سے چلائی گئیں۔ میں آخری دن تک ارشد شریف سے رابطے میں تھا، موبائل فون کے فارنزک کے لیے تیار ہوں، ارشد شریف کو پاکستان میں کہیں سے کوئی خطرہ نہیں تھا، ارشد شریف کا اسٹیبلشمنٹ کے س

    اتھ پازیٹو تعلق تھا، میں نے ویڈیو بنا کر نام دے دیے ہیں، ویڈیو میں جن لوگوں کے نام بتائے، مجھے کچھ ہوا تو وہ لوگ بھی نہیں بچیں گے۔ رہنما تحریک انصاف کا کہنا تھا کہ ارشد شریف کی موت قتل ہے، جس کی سازش پاکستان میں ہوئی ہے، ارشد شریف کا نہ موبائل ملےگا، نہ لیپ ٹاپ ملےگا، شواہد مٹا دیےگئے ہیں، کہا گیا کہ ارشد شریف لندن چلا گیا، لیکن وہ لندن نہیں گیا،

     

     

     

     

    ارشد شریف کے لیےکینیا کے انتخاب کے پیچھے وہ لوگ ہیں، جو ملک توڑنا چاہتے ہیں، اگر میرا چیئرمین کچھ بتائے تو میں 99 فیصد یقین کروں گا، ویسے ہی ارشد کو جو شخص کچھ بتا رہا تھا، وہ اس پر یقین کر رہا تھا۔ فیصل واوڈا بتا رہے تھے کہ ارشد شریف کو جو مقاصد بتائےگئے ان کے پیچھے سازش تھی، پاکستان کے خلاف سازش کرنے والے پاکستان میں موجود ہیں اور انٹرنیشنلی کنکٹڈ ہیں، لانگ مارچ کے بیانیےکی آڑ میں سازش رچائی جارہی ہے، کئی لاشیں مارچ کی آڑ میں آنے والے دنوں میں گرنے والی ہیں، عوام ہرچیز پر لبیک کہیں لیکن کسی اور کے لیے بے گناہ موت نہ مریں، پر امن احتجاج کی آڑ میں بہت سارا خون بہتا دیکھ رہا ہوں۔

    غیر ملکی خاتون کے سامنے 21 سالہ نوجوان نے پینٹ اتاری اور……خاتون نے کیا قدم اٹھایا؟

    بیوی طلاق لینے عدالت پہنچ گئی، کہا شادی کو تین سال ہو گئے، شوہر نہیں کرتا یہ "کام”

    50 ہزار میں بچہ فروخت کرنے والی ماں گرفتار

  • لاہور ہائیکورٹ نے شواہد سے متعلق قانونی نکتہ طے کردیا

    لاہور ہائیکورٹ نے شواہد سے متعلق قانونی نکتہ طے کردیا

    لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس طارق سلیم شیخ نے شواہد سے متعلق قانونی نکتہ طے کردیا

    لاہور ہائیکورٹ نے کہا کہ نئے شواہد نہ ہو تو دفعہ 164کا بیان دوبارہ ریکارڈ نہیں ہوسکتا،اغوا کیس میں مدعی کا سیکشن 164 کے تحت اعترافی بیان دوبارہ ریکارڈ نہ کرنے کی درخواست مسترد کر دی گئی،مدعی کا اعترافی بیان دوبارہ ریکارڈ کرنے کی درخواست مسترد کرنے کا 7 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کر دیا گیا،عدالت نے 164کا اعترافی بیان دوبارہ ریکارڈ نہ کرنے کا جوڈیشل مجسٹریٹ کا فیصلہ درست قرار دے دیا

    عدالت نے تحریری فیصلہ میں کہا کہ جوڈیشل مجسٹریٹ نے درست نشاندہی کی کہ تکنیکی طور پر بیان دوبارہ ریکارڈ نہیں ہوسکتا دوسری بار بیان کرانے کےلیے مناسب جواز ہونا چاہیے جو موجود ہ کیس میں نہیں ہے در خواست گزار مجسٹریٹ کے فیصلے میں کوئی غیر قانونی عنصر ثابت کرنے میں ناکام رہے ،جب تک تفتیش نہ ہوجائے سیکشن 164 کے تحت ریکارڈ کیے گئے بیان کو سچ نہیں مان سکتے سیکشن 164 کے تحت بیان ریکارڈ کرتے ملزمان کا ہونا ضروری ہے ملزمان کو حق حاصل ہے کہ وہ بیان پر جرح کرسکیں تفتیش افسر نے درخواست گزار کو بازیاب کراو کہ بیان ریکارڈ کیا اور عدالت پیش کیا ملزمان کی موجودگی میں درخواست گزار کا اعترافی بیان ریکارڈ کیا گیا

    درخواست گزار نے دوبارہ اعترافی بیان ریکارڈ کرانے کی درخواست دی جومسترد ہوئی خاتون کے جوڈیشل مجسٹریٹ کے فیصلے کے خلاف درخواست دی گئی تھی

    ایک برس میں 10 ہزار سے زائد کسانوں نے کس ملک میں خودکشی کی؟

    کالج میں مجرا، لڑکی ہوش برقرار نہ رکھ سکی پرنسپل سے لپٹ گئی ،ویڈیو وائرل،کالج سیل

    ایک اور یونیورسٹی تقریب میں لڑکے کی جانب سے لڑکی کا لباس پہن کر ڈانس کی ویڈیو وائرل

    سب انسپکٹر کے بھائی کی شادی،اوباش نوجوانوں کا اسلحہ اٹھا کر بھنگڑا،ویڈیو وائرل

    گھر سے خاتون کی نعش برآمد،بھائی نے بہن کو گولی مار دی،پولیس

    بیٹی کے ساتھ ناجائز تعلقات استوار کرنیوالا سفاک درندہ گرفتار

    سکول میں گھس کر خاتون ٹیچر سمیت دیگر کے ساتھ گھناؤنا کام کرنیوالا ملزم گرفتار

  • دیپالپور میں 8 روز قبل اغوا ہونیوالی خاتون وکیل بازیاب، اغواکاروں کے خلاف مقدمہ درج

    دیپالپور میں 8 روز قبل اغوا ہونیوالی خاتون وکیل بازیاب، اغواکاروں کے خلاف مقدمہ درج

    اوکاڑہ(علی حسین) دیپالپور میں آٹھ روز قبل اغواء ہونے والی خاتون ایڈووکیٹ بازیاب ہوگئی۔ تفصیلات کے مطابق معروف وکیل ارشاد نسرین ایڈوکیٹ کو 15 اگست دیپالپور سے اغواء کیا گیا تھا۔ ارشاد نسرین ایڈوکیٹ کے بقول انکے مختلف لوگوں سے پیشہ وارانہ تنازعات چل رہے تھے۔ اغواکار 8 روز بعد مغویہ کو میلسی وہاڑی کی حدود میں چھوڑ کرفرار ہوگئے۔ مغویہ اپنے گھر واپس پہنچ چکی ہیں۔ پولیس نے مغویہ کے بیٹے کی مدعیت میں نامعلوم اغواکاروں کے خلاف مقدمہ درج کرلیا ہے۔ پولیس اصل حقائق تک پہنچنے کے لیے مصروف تفتیش ہے۔

  • اوکاڑہ: تھانہ ستگھرہ کی حدود میں ایک شخص پر فائرنگ

    اوکاڑہ: تھانہ ستگھرہ کی حدود میں ایک شخص پر فائرنگ

    اوکاڑہ(علی حسین) اوکاڑہ کے قریب تھانہ ستگھرہ کی حدود میں ایک موٹر سائیکل سوار پر نامعلوم افراد نے فائرنگ کرکے زخمی کردیا۔ تنویر ولد منظور موٹر سائیکل پر 28/2R جارہا تھا۔ نامعلوم موٹر سائیکل مسلح افراد فائرنگ کرکے زخمی دیا۔ زخمی ہونیوالے شخص کا تعلق 19/1R سے ہے۔ پولیس مصروف تفتیش ہے۔

  • "صلاح الدین کا مبینہ قتل ریاست کے سر پر ہے” محمد عبداللہ

    "صلاح الدین کا مبینہ قتل ریاست کے سر پر ہے” محمد عبداللہ

    عمران خان صاحب آپ نے سانحہ ساہیوال پر کہا کہ میں بیرون ملک سے واپس آکر اس معاملے کو منطقی انجام تک پہنچاؤں گا اگر آپ واپس آچکے تو آپ کو خبر ہو کہ اب اک اور بے گناہ اور معصوم نوجوان صلاح الدین ان پولیس والوں کی درندگی کی بھینٹ چڑھ گیا. ہنسنے مسکرانے والا صلاح الدین جو خود تو چلا گیا لیکن اس نظام پولیس پر ایک ایسا زناٹے دار تھپڑ رسید کرگیا جو شاید اس کی موت کی ہی وجہ بن گیا. چہرے پر بچوں کی سی معصومیت لیے بھولے لہجے میں اپنے تفتیشی افسران سے کہنے لگا کہ جان کی امان پاؤں تو اک بات عرض کروں. اذن سوال ملنے پر جو بولا تو اس نظام پولیس اور درندگی کو عیاں کرگیا کہنے لگا کہ آپ نے انسانوں کو مارنا کہاں سے سیکھ لیا. اور پھر مبینہ طور پر جان کی امان نہ مل سکی اور سفید ریش بوڑھے باپ کو صلاح الدین کی میت ہی ملی جس پر مبینہ طور پر غیر انسانی تشدد کے آثار واضح ہیں. پولیس کی زیر حراست یہ موت پورے نظام پولیس اور ریاست کے سر پر ہے. اس مبینہ قتل کی ذمہ دار ریاست پاکستان ہے، یہ نظام تفتیش اور نظام پولیس ہے جو نہ جانے کتنی ماؤں کے لعل کھاگیا، کتنی بیویوں کے سہاگ اجڑ گئے، کتنی بہنیں اپنے بھائیوں کی راہ تکتی رہ گئیں اور کتنے ہی باپ اپنے بڑھاپے کے سہارے کی تلاش میں در در کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہوئے.
    عمران خان صاحب، جناب قمر جاوید باجوہ صاحب، چیف جسٹس آف پاکستان آصف سعید کھوسہ صاحب، چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی صاحب، اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر صاحب ، عثمان بزدار صاحب، آئی جی پنجاب پولیس، مکمل پارلمینٹ، تمام قومی اداروں کے سربراہان صلاح الدین کا مبینہ قتل یہ ریاست پاکستان پر ہے آپ سب کے سر ہے اور پوری قوم کے سر پر ہے. آخر کب تک اس قوم کے بیٹے تفتیش کی اس درندگی کی بھینٹ چڑھتے رہیں گے. پولیس کے سپاہی اور افسران کب تک ترقیوں کے چکر میں بے گناہوں کو بہیمانہ طریقے سے قتل کرتے رہیں گے؟ ذہنی معذور صلاح الدین کا خون رائیگاں نہیں جانا چاہیے..
    اپنے دوستوں سے جو معصوم صلاح الدین کو ملک چوروں اور ڈکیتوں سے ملا رہے ہیں یا موازنہ کر رہے ہیں چھوٹا اور بڑا چور کہہ کر میں ان سے گزارش کرتا ہوں صلاح الدین چور نہیں تھا. وہ تو اس کیفیت میں تھا جس میں شریعت اسلامی بھی فرائض تک میں درگزر کرجاتی ہے. خدارا صلاح الدین کو چور کہہ کر اس کے والدین اور ورثاء کے دلوں پر چھریاں نہ چلائیں جو صلاح الدین سے پہلے ہی دو جواں سال بیٹے اس دھرتی کے لیے قربان کرچکے ہیں.

    Muhammad Abdullah