Baaghi TV

Tag: تقسیم

  • امدادی رقوم سیلاب سے متاثرہ تمام صوبوں میں منصفانہ تقسیم کی جائیں گی،ڈاکٹر ثانیہ نشتر

    امدادی رقوم سیلاب سے متاثرہ تمام صوبوں میں منصفانہ تقسیم کی جائیں گی،ڈاکٹر ثانیہ نشتر

    چیئر پرسن پنجاب احساس پروگرام ڈاکٹر ثانیہ نشتر کی زیر صدارت سیلاب زدگان کی بحالی کیلئے امدادی کارروائیوں کے حوالے سے اجلاس منعقد ہوا.بنک آف پنجاب کے صدر ظفر مسعود، ڈی جی آپریشنز پی آئی ٹی بی فاروق یوسف، سی ای او پنجاب سوشل پروٹیکشن اتھارٹی توصیف کھٹانہ اور دیگر نے اجلاس میں شرکت کی۔

    کیا سیلاب متاثرین میں امدادی رقم کی تقسیم شفافیت سے ہورہی؟

    اجلاس میں تحریک انصاف کی جانب سے جمع کی گئی امدادی رقوم کی تقسیم کیلئے سیلاب زدگان کی رجسٹریشن کے طریقہ کار پر تبادلہ خیال کیا گیا۔رجسٹریشن کے بعد امدادی رقوم کی فراہمی کے حوالے سے میکانزم پر بھی گفتگو ہوئی۔

    چیئرپرسن احساس پروگرام ڈاکٹر ثانیہ نے کہا کہ بنک آف خیبر اور بنک آف پنجاب کے تعاون سے امدادی رقوم متاثرین میں تقسیم کی جائیں گی، ضرورت پڑنے پر دیگر بنکوں کو بھی اس پروگرم کا حصہ بنایا جا سکتا ہے، شفافیت کو یقینی بنانے کیلئے شناختی کارڈ نمبر اور بائیو میٹرک تصدیق لازم ہو گی.

    ایک گھنٹے میں اربوں جمع تو 4 سالہ دور حکومت میں 25 ارب ڈالر قرضہ کیوں لیا؟، اداکارہ عفت عمر

     

    ڈاکٹر ثانیہ کا کہنا تھا کہ ویب پورٹل، ایس ایم ایس اور رجسٹریشن سنٹرز کے ذریعے متاثرین کی رجسٹریشن کی جائے گی۔ سرکاری خدمت مراکرز، اراضی سنٹرز، ڈپٹی کمشنر آفسز کے ذریعے امدادی رقم تقسیم کی جائے گی۔ چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے سیلاب سے متاثرہ بہن، بھائیوں کیلئے عطیات جمع کرنے کی مہم شروع کی، چند گھنٹوں کی ٹیلی تھون سے عمران خان نے 5 ارب سے زائد کے عطیات جمع کئے، ان عطیات کو مستحقین تک پہنچانے کی ذمہ داری میری زیر نگرانی ایک کمیٹی کو سونپی گئی ہے.

    سیلاب متاثرین کو پینے کا صاف پانی میسر نہیں لیکن امیر شاہ جیلانی مینرل واٹر سے جوتے صاف کررہے

     

    ڈاکٹر ثانیہ نے کہا کہ شفافیت، غیر جانبداری اور شفافیت کے اصولوں کی بنیاد پر یہ کمیٹی اپنی ذمہ داری پوری کرے گی، تحریک انصاف کی جانب سے جمع کی گئی امدادی رقوم وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی شراکت سے متاثرین میں تقسیم کی جائیں گی، امداد کی تقسیم میں سیاسی مداخلت اور اقرباء پروری کا کوئی عنصر نہیں ہوگا، عمران خان کی ہدایت پر سیلاب سے متاثرہ تمام صوبوں میں امدادی رقوم کی منصفانہ تقسیم کا طریقہ کار اپنایا جارہا ہے.

  • شہباز گل کا بیان ،تحریک انصاف تقسیم ہو گئی،کارروائی کا مطالبہ

    شہباز گل کا بیان ،تحریک انصاف تقسیم ہو گئی،کارروائی کا مطالبہ

    پاکستان تحریک انصاف کے رہنما شہباز گل کی گرفتاری کے بعد پی ٹی آئی رہنما شہباز گل کیے خلاف کارروائی کا مطالبہ کر رہے ہیں. چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کے چیف آف سٹاف شہباز گل کے بیان پر تحریک انصاف تقسیم ہو گئی ہے.

    پی ٹی آئی کے رہنما اور رکن قومی اسمبلی علی امین خان کا کہنا ہے کہ چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نےکہا تھا کہ پاکستان کو ان سے زیادہ پاک فوج کی ضرورت ہے۔ یہ ایک حقیقی لیڈر کا بیان ہے.

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنے بیان میں علی امین خان نے کہا کہ ملکی دفاع کے لئے پوری قوم اپنی فوج کیساتھ ہے۔ اب شہباز گل نے اگر کوئی بیان دیا بھی ہے جس پہ اعتراض ہےتو ان کے خلاف پرتشدد گرفتاری کی بجائےقانون کے مطابق کارروائی ہونی چاہیئے تھی۔

    دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے مرکزی رہنما اسد عمر نے کہا ہے کہ شہباز گل کی گرفتاری حکومت کی بڑھتی پریشانی کی عکاس ہے۔سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر جاری بیان میں اسد عمر نے کہا کہ ایک جھوٹا بیانیہ بنا کر پاکستان کی سب سے بڑی سیاسی جماعت اور دفاعی اداروں کے درمیان خلیج پیدا نہیں کی جاسکتی ہے۔

    انہوں نے کہا کہ حکومت کے فسطائی ہتھکنڈے انشاءاللّٰہ ناکام ہوں گے۔ایک اور پیغام میں پی ٹی آئی رہنما نے کہا کہ بند کمروں میں کیے گئے خفیہ فیصلے جن کی قیمت عوام کو دینی پڑتی ہے، وہ کسی صورت قبول نہیں۔اُن کا کہنا تھا کہ ہم پہلے ایسے فیصلوں کی بحیثیت قوم بہت بھاری قیمت ادا کر چکے ہیں۔

  • یاسمین راشد اسلام پورہ بازارپہنچ گئیں،عزاداروں کو سبیل تقسیم کی

    یاسمین راشد اسلام پورہ بازارپہنچ گئیں،عزاداروں کو سبیل تقسیم کی

    صوبائی وزیرصحت ڈاکٹریاسمین راشد اسلام پورہ بازارپہنچ گئیں۔ڈاکٹریاسمین راشدنے خودعزاداروں کو سبیل تقسیم کی۔اس موقع پر جہانگیرخان، جاویداکرام ٹونی، عبدالغفورپپو اورمعظم بیگ موجودتھے۔

    صوبائی وزیرصحت ڈاکٹریاسمین راشد نے کہا کہ حضرت امام حسین کے فلسفہ شہادت کواپنی زندگیوں میں اپنانے کی ضرورت ہے۔ حضرت امام حسین کی شہادت سے ہمیں باطل کے سامنے حق کیلئے ڈٹ جانے کاسبق ملتاہے۔ حضرت امام حسین کی زندگی ہمارے لئے مشعل راہ ہے۔ حضرت امام حسین نے عظیم قربانی پیش کرکے شریعت محمدی صلی اللہ علیہ وآل وسلم کوبچالیا۔تحریک انصاف فلسفہ حسین کے مطابق باطل کے سامنے آوازحق بلندکرنے کاجذبہ رکھتی ہے۔

    قبل ازیں وزیراعلی پنجاب چوہدری پرویز الہی کی ہدایت پرصوبائی وزیر صحت ڈاکٹریاسمین راشد نے ننکانہ صاحب کا دورہ کیا، صوبائی وزیر صحت ڈاکٹریاسمین راشدنے ننکانہ صاحب کے ڈپٹی کمشنر دفترمیں امن و امان کے اجلاس کی صدارت کی اور مرکزی جلوس کادورہ کیا۔اجلاس میں سابق وفاقی وزیربرگیڈئیر(ر)سیداعجازشاہ،ڈپٹی کمشنر احمرنائیک،ڈی پی او ودیگرمتعلقہ اداروں کے افسران نے شرکت کی۔ ڈپٹی کمشنر اور ڈی پی اوننکانہ صاحب نے اجلاس کے دوران صوبائی وزیر صحت ڈاکٹریاسمین راشدکو10محرم الحرام کے سلسلہ میں ضلع میں امن ومان بارے بریفنگ دی۔ڈاکٹریاسمین راشدنے ڈی ایچ کیوہسپتال ننکانہ صاحب کا بھی دورہ کرکے مریضوں کی عیادت کی اور طبی سہولیات کاجائزہ لیا۔

    صوبائی وزیر صحت ڈاکٹریاسمین راشد نے کہا کہ وزیر اعلی پنجاب چوہدری پرویزالہی کی ہدایت پر ننکانہ صاحب میں محرم الحرام کے حوالہ سے انتظامات کا جائزہ لیاہے۔ ننکانہ صاحب میں محرام الحرام کے سلسلہ میں حفاظتی انتظامات تسلی بخش ہیں۔ حضرت امام حسین ؑنے حق کی سربلندی کی خاطر اپنی اور اپنے خانوادہ کی عظیم قربانیاں پیش کیں۔ حضرت امام حسینؑ نے رہتی دنیاتک یزیدکانام و نشان مٹادیا۔

    ڈاکٹریاسمین راشد۔کا کہنا تھا کہ حضرت امام حسین ؑ نے باطل کے مقابلے میں حق پرڈٹ جانے کا سبق دیا۔ڈی ایچ کیو ہسپتال ننکانہ صاحب میں مریضوں کے علاج معالجہ کیلئے طبی سہولیات مزیدبہترکریں گے۔ پنجاب میں نئے اور بڑے23ہسپتال بنائے جارہے ہیں۔

  • چودھری پرویز الٰہی راجن پورپہنچ گئے، سیلاب متاثرین سے ملاقات،مالی امداد کے چیک تقسیم کیے

    چودھری پرویز الٰہی راجن پورپہنچ گئے، سیلاب متاثرین سے ملاقات،مالی امداد کے چیک تقسیم کیے

    وزیراعلیٰ پنجاب چودھری پرویز الٰہی جنوبی پنجاب کے شہر راجن پورپہنچ گئے،وزیر اعلیٰ پرویزالٰہی کی راجن پور کے سیلاب سے متاثرہ علاقے شاہ پورآمد پروزیراعلیٰ نے ریسکیو آپریشن سنٹر شاہ پور کا دورہ کیا،وزیر اعلیٰ چودھری پرویزالٰہی نے سیلاب متاثرین سے ملاقات کی.چودھری پرویزالٰہی نے سیلاب متاثرہ علاقے میں امدادی سرگرمیوں کا جائزہ لیا.

    پنجاب، خیبرپختونخوا، کراچی سمیت مختلف علاقوں میں بارش کا امکان

    وزیراعلیٰ چودھری پرویزالٰہی نے سیلاب سے جاں بحق ہونے والے افراد کے لواحقین میں مالی امداد کے چیک تقسیم کیے، اس موقع پر وزیراعلیٰ پنجاب چودھری پرویز الٰہی نے کہا کہ پنجاب حکومت سیلاب سے متاثرہ افراد کے ساتھ کھڑی ہے، متاثرہ افراد کی جلد بحالی ہماری پہلی ترجیح ہے، مصیبت میں گھرے بہن بھائیوں کو تنہا نہیں چھوڑیں گے۔

     

    پاک فوج نے اپنا 2 روز کا راشن سیلاب متاثرین کو عطیہ کرنیکا اعلان کر دیا

     

    چودھری پرویز الٰہی کا کہنا تھا کہ سیلاب کے باعث جن لوگوں کے پیارے دنیا سے چلے گئے ان کے دکھ میں برابر کے شریک ہیں، حکومت نے میڈیکل کیمپس بھی قائم کیے ہیں جہاں سیلاب متاثرین کو وبائی امراض سے بچاؤ کی ویکسین لگائی جارہی ہے، جاں بحق افراد کے لواحقین کو 8،8لاکھ روپے کی مالی امداد دی جارہی ہے، مالی امداد کسی کی جان کانعم البدل نہیں، آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ حکومت سیلاب متاثرین کی مدد کیلئے ہر ممکن اقدام جاری رکھے گی۔ نصراللہ دریشک، حسنین بہادر دریشک،محسن لغاری،فاروق امان اللہ دریشک،اویس خان دریشک،کمشنر ڈیرہ غازی خان،آر پی او ڈیرہ غازی خان اور متعلقہ حکام بھی وزیراعلیٰ کے ہمراہ تھے.

    وزیر اعلیٰ چوھدری پرویز الہی کو شاہپور واٹر ریلیف کیمپ میں سیلاب زدگان اور امدادی کارروائیوں سے متعلق بریفننگ دی گئی.وزیراعلی کو بتایا گیا کہ ڈی جی خان اور راجنپور کے سیلاب زدہ علاقوں میں 21 فلڈ ریلیف کیمپس قائم کئے گئے ہیں جبکہ ڈی جی خان اور راجنپور کے 236 مواضعات متاثر ہوئے،141869 ایکڑ پر فصلوں کو نقصان پہنچا ،10394 گھروں کو جزوی اور مکمل نقصان پہنچا جبکہ
    ڈی جی خان اور راجنپور میں 433542 ایکٹر رقبہ زیر آب آیا.119886 افراد سیلاب سے متاثر ہوئے،
    سیلاب زدگان کو تین وقت کھانا، صحت سہولیات ،پانی، جانوروں کے لئے چارہ اور دیگر سہولتیں دی جارہی ہیں.

    چوہدری پرویز الہیٰ کو بتایا گیا کہ سیلابی پانی سے 2703 افراد کو ریسکیو کیا گیا، وزیراعلی نے بروقت امدادی کارروائیاں کرنے پر کمشنر ڈی جی خان اور ان کی ٹیم کی کاوشوں کو سراہا.چوھدری پرویز الہٰی
    نے ہدایت کی کہ راجن پور اور دیگر سیلاب متاثرین کی مدد میں کوئی کسر نہیں رہنی چاہیئے،عوام کے جان ومال کی حفاظت کے لئے تما م تر وسائل بروئے کار لائے جائیں.

  • احساس ایمرجنسی کیش پروگرام کے پہلےفیزمیں 15 ملین خاندانوں کو 180 ارب روپے تقسیم

    احساس ایمرجنسی کیش پروگرام کے پہلےفیزمیں 15 ملین خاندانوں کو 180 ارب روپے تقسیم

    ایوان بالاء کی قائمہ کمیٹی برائے تخفیف غربت و سماجی تحفظ کااجلاس چیئرمین کمیٹی سینیٹر نصیب اللہ بازئی کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوا۔ قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں احساس ایمرجنسی کیش پروگرام کے بجٹ، صوبہ اور ضلع وار نقد رقوم کی تقسیم اور مستقبل کے پروگرام، سینیٹر مشتاق احمد خان کے پاکستان پوورٹی ایلیوی ایشن فنڈ(Pakistan Poverty Alleviation Fund) کی کارکردگی کے حوالے سے 12 نومبر 2021کو سینیٹ اجلاس میں اٹھائے گئے عوامی اہمیت کے معاملے کے علاوہ رقیہ بی بی کی بسپ (BISP ) سے مالی امدادکی عدم فراہمی کے حوالے سے عوامی عرضداشت کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا۔
    پیپلز بس سروس کے نئے روٹ کے آغاز کا اعلان

    قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں چیئرمین و اراکین کمیٹی نے ورکنگ پیپر کی تاخیر سے فراہمی پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ہدایت کی کہ آئندہ اجلاس میں ورکنگ پیپر رولز کے مطابق 48 گھنٹے پہلے فراہم کیے جائیں تاکہ اراکین کمیٹی ان کا جائزہ لے کر معاملات پر بحث کر سکیں۔

    قائمہ کمیٹی کو سیکرٹری وزارت غربت میں کمی وسماجی تحفظ اور سیکرٹری بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام نے احساس ایمرجنسی کیش پروگرام کے بجٹ، صوبہ اور ضلع وار نقد رقوم کی تقسیم اور مستقبل کے پروگرام کے بارے تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے بتایاکہ ایمرجنسی کیش پروگرام کا پہلا مرحلہ اپریل سے ستمبر2020 کو منعقد ہوا تھا جس کیلئے 16.9 ملین مالی معاونت حاصل کرنے والے خاندانوں کی شناخت کی گئی تھی اور اس کیلئے 203 ارب روپے کابجٹ مختص کیا گیا تھا۔

     

    یو ایس ایڈ، پاکستان میں ویکسی نیشن کیلئے20ملین ڈالرفراہم کریگا،عبدالقادر پٹیل

     

    ایک خاندان کو 12 ہزار روپے ایمرجنسی کیش امداد فراہم کرنی تھی۔ اس پروگرام کے تحت 15 ملین خاندانوں کو 180 ارب روپے تقسیم کیے گئے۔نادرا سے بائیومیٹرک تصدیق کے بعد لوگوں کو امداد فراہم کی گئی اور اس کیلئے سرکاری عمارتوں میں صوبائی حکومتوں اور ضلعی انتظامیہ کی مدد سے امدادی کارروائی عمل میں لائی گئی۔امداد کیلئے دو بینکوں سے مدد حاصل کی گئی اور پوائنٹ آف سیل پر بائیو میٹرک کی ڈوائس بھی فراہم کی گئی تاکہ لو گ آسانی سے امداد حاصل کر سکیں۔

     

    ادویات کی مصنوعی قلت پیدا کرنے والوں سے آہنی ہاتھوں سے نمٹنے کا فیصلہ

     

    کمیٹی کو بتایا گیا کہ وہ افراد جن کے فنگر پرنٹس کے مسائل تھے انہیں بینکوں سے امداد فراہم کی گئی۔ایمرجنسی کیش پروگرام فیز II- کے تحت 4 ملین لوگوں کو ٹارگٹ کیا گیا جس کیلئے 48 ارب روپے مختص کیے گئے۔فیز II- کے تحت31.75 ارب روپے 2.53 ملین خاندانوں میں تقسیم کیے گئے۔اس کا طریقہ کار بھی فیزI- کی طرح تھا اور پی ایم ٹی سکور 29.01 سے37 والوں کو اہل قرار دیا گیا تھا۔ یہ پروگرام اپریل 2022 میں ختم کیا گیا۔ قائمہ کمیٹی کو بتایا گیا کہ کرونا وباکی وجہ سے لوگوں کو بے شمار روزگار کے مسائل تھے مارکیٹیں بند کر دی گئی تھیں جس کی وجہ سے لوگوں کی مالی حالت انتہائی خراب ہو گئی تھی۔

    حکومت کے احسن اقدام کی وجہ سے بے شمار لوگوں کو ریلیف ملا۔اراکین کمیٹی نے ایجنٹوں کے ذریعے خواتین کو پورے پیسے نہ ملنے کے معاملات بھی اٹھائے جس پر سیکرٹری بسپ نے کمیٹی کو آگاہ کیا کہ پولیس اور ایف آئی اے کے ساتھ مل کر کارروائی عمل میں لائی گئی اور لوگوں کو پیسے بھی واپس دلوائے۔ انہوں نے کہاکہ امداد کا کام پوسٹ آفس سے شروع ہوا تھا وہاں سے بھی یہ شکایات ملی تھیں پھر ٹیکنالوجی کی طرف گئے اور اب بائیومیٹرک پر آ گئے ہیں اس میں مسائل کی وجہ سے اب ایک نئے میکنزم کی طرف جا رہے ہیں جس سے لوگوں کو بغیر مسائل کے آسانی سے امداد میسر ہو سکے گئی۔

    کمیٹی کو بتایا گیا کہ وہ لوگ جو سروے میں شامل نہیں ہو سکے وہ نادرا میں قائم دفاتر میں اپنی رجسٹریشن کرائی شامل کر لئے جائیں گے۔سینیٹر ڈاکٹر ثانیہ نشتر نے کہا کہ احساس راشن رعائت پروگرام کیلئے دن رات محنت کر کے 12 ملین غریب ترین لوگوں کو ٹارگٹ کیا گیا تھا جن کو کریانہ اور فیول کیلئے بھی سبسڈی فراہم کی جا سکتی تھی۔ اس پروگرام کا ڈیٹا مرتب کرنے کیلئے دن رات میٹنگز کر کے سروے مکمل کرایا تھا اس کی پیش رفت بارے آگاہ کریں جس پر کمیٹی کو آگاہ کیا گیا کہ اس پروگرام کے تحت صوبہ پنجاب اور کے پی کے میں کام ہوا تھا مگرصوبہ خیبر پختونخوا نے پروگرام کے نام کی وجہ سے اس کو واپس لے لیا۔ جس پر چیئرمین و اراکین کمیٹی نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ کچھ معاملات ایسے ہوتے ہیں جو سیاسی وابستگی سے بالاتر ہو کر سرانجام دینے چاہیں اور اس ایسے معاملات کے حوالے سے تمام سیاسی جماعتوں کی یکساں پالیسی اور موقف ہونا چاہیے یہ غریب خاندانوں کی مالی، معاشی اور معاشرتی مسائل کے متعلق ہے۔ہم سب کو مل کر اس پر کام کرنا چاہیے۔

    سینیٹر مشتاق احمد خان نے کہاکہ ڈاکٹر ثانیہ نشتر نے جو کام کیے تھے وہ لائق تحسین ہیں اس معاملے کو ایوان بالاء کے اجلاس میں اٹھایا جائے۔چیئرمین کمیٹی سینیٹر نصیب اللہ بازئی چیئرمین سینیٹ کے ساتھ یہ معاملہ اٹھائیں اور ان سے اجازت لے کر صوبائی حکومت اور متعلقہ وزیرکے ساتھ مشاورت کر کے معاملے کو آگے بڑھائیں۔چیئر مین کمیٹی نے کہا کہ یہ معاملہ غریب عوام سے متعلق ہے اور ملک میں جس قدر مہنگائی ہو چکی ہے غریب عوام کے مسائل سن کر خوف طاری ہو جاتا ہے لوگوں کو ریلیف فراہم کر کے ان کی زندگیاں آسان بنائی جائیں۔

    سینیٹر مشتاق احمد خان کے ایجنڈے کے حوالے سے سینیٹر مشتاق احمد خان نے کہاکہ چونکہ ورکنگ پیپر آج صبح ملے ہیں انہیں پڑھ نہیں سکا تو معاملے پر بات نہیں ہو سکتی بہتر یہی ہے کہ آئندہ اجلاس تک یہ ایجنڈا موخر کیا جائے اور ورکنگ پیپر کی بروقت فراہمی یقینی بنائی جائے۔

    رقیہ بی بی کی عوامی عرضداشت کے حوالے سے کمیٹی کو بتایا گیاکہ کہ انہیں امداد فراہم کی گئی مگر آخری سروے کے مطابق ان کا پی ایم ٹی سکور 42.51 ہے جس کے تحت رقیہ کو اگلی مالی امداد نہیں دی گئی البتہ وسیلہ تعلیم پروگرام کے تحت انہیں 7 ہزار روپے کی امداد فراہم کر دی گئی ہے۔سینیٹر ڈاکٹر ثانیہ نشتر نے کہاکہ یونیورسٹیوں میں طلبہ کو وظائف کیلئے امداد کی تقسیم کے حوالے سے آئندہ اجلاس میں تفصیلی بریفنگ فراہم کی جائے۔

    قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں سینیٹرز سیمی ایزدی، کیشو بائی، مولوی فیض محمد، ڈاکٹر ثانیہ نشتر، مشتاق احمد خان کے علاوہ سیکرٹری وزارت تخفیف غربت و سماجی تحفظ،ایڈیشنل سیکرٹری وزارت تخفیف غربت وسماجی تحفظ،سیکرٹری بسپ اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔

  • پانی کی منصفانہ تقسیم:سندھ حکومت کا رینجرز کی خدمات حاصل کرنےکا فیصلہ

    پانی کی منصفانہ تقسیم:سندھ حکومت کا رینجرز کی خدمات حاصل کرنےکا فیصلہ

    کراچی:پانی کی غیر منصفانہ تقسیم روکنے کےلیے سندھ حکومت کا رینجرز کی خدمات حاصل کرنےکا فیصلہ:سندھ حکومت کی جانب پانی کی غیر منصفانہ تقسیم کی روک تھام کے لئے رینجرز کی خدمات حاصل کرنے کا فیصلہ کرلیا گیا ہے۔

    سندھ حکومت نے سندھ کے تقریباً تمام پانی کے کینالوں پر پانی کی منصفانہ تقسیم کے لئے رینجرز کی خدمات حاصل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔سندھ حکومت کی ہدایات پر سندھ کے محکمہ داخلہ نے ڈی جی رینجرز سندھ سے سندھ کے مختلف پانی کینالز پر رینجرز کی تعیناتی کے لئے خط لکھ دیا۔

    خط میں بتایا گیا ہے کہ صوبے اور ملک بھر میں پانی کی شدید کمی کے سبب صوبے بھر میں پانی کی منصفانہ تقسیم کے لئے اریگیشن ایکٹ 1979 کی شق 27 سی کے تحت بندوبست کیا گیا۔روٹیشن پالیسی پر عمل درآمد کی کوشش کے دوران صوبے کے مختلف کینالز پر محکمہ آبپاشی کے عملے، ضلعی انتظامیہ اور پولیس پر پانی چوروں کی جانب سے حملے کئے گئے ہیں۔

    صورتحال سے نمٹنے کے لئے ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ آبپاشی حکام نے رینجرز کی تعیناتی کی گزارش کی ہے، تاکہ پانی کی منصفانہ تقسیم میں رکاوٹ نہ آ سکے۔

    خط میں سندھ کے پھلیلی کینال، اکرم واھ، گونی کینال ڈویژن، روھڑی کینال سرکل، نصیر واھ، ھالا واھ، داد ڈویژن، کے بی فیڈر سمیت تقریباً تمام پانی کی کینالز پر رینجرز کی تعیناتی کا کہا گیا ہے۔اس سے قبل سندھ حکومت کی گزارش پر مئی کے پہلے ھفتے میں تھر ڈویژن کے جمرائو اور مٹھرائو کینالز پر رینجرز تعینات ہو چکی ہے۔

  • صوبائی وزیرصحت ڈاکٹریاسمین راشدکا  صحت کارڈز کی تقسیم پراظہارخیال

    صوبائی وزیرصحت ڈاکٹریاسمین راشدکا صحت کارڈز کی تقسیم پراظہارخیال

    صوبائی وزیر صحت ڈاکٹریاسمین راشدکی زیرصدارت صحت سہولت کارڈزکے حوالہ سے اہم اجلاس ہوا اس
    اجلاس میں چیف سیکرٹری پنجاب،چیئرمین پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ عبداللہ خان سنبل،سیکرٹری فنانس افتخار ساہو،سیکرٹری محکمہ سپیشلائزہیلتھ کئیراینڈ میڈیکل ایجوکیشن برسٹرنبیل اعوان،ایڈیشنل سیکرٹری ڈاکٹرآصف طفیل،ایم ڈی پنجاب ہیلتھ انشی ایٹو مینجمنٹ کمپنی ڈاکٹر علی رزاق ودیگرافسران نے شرکت کی۔صوبائی وزیر صحت ڈاکٹریاسمین راشدنے اجلاس کے دوارن ڈی جی خان اور ساہیوال ڈویژنزکے تمام خاندانوں میں صحت سہولت کارڈزکی تقسیم کے حوالہ سے اقدامات کا جائزہ لیا۔سیکرٹری فنانس افتخار ساہونے وزیر صحت اور چیف سیکرٹری پنجاب کو ڈی جی خان اور ساہیوال ڈویژنز میں صحت سہولت کارڈزکی تقسیم کے حوالہ سے اقدامات کی تفصیلات پیش کیں۔
    صوبائی وزیرصحت ڈاکٹریاسمین راشدکا اظہارخیال یہ تھا کہ رواں سال کے مالی بجٹ کے اختتام تک ڈی جی خان اور ساہیوال ڈویژنزکے تمام خاندانوں میں صحت سہولت کارڈز تقسیم کردئیے جائیں گے۔اب تک دونوں ڈویژنزمیں 42فیصدصحت سہولت کارڈزتقسیم کئے جاچکے ہیں۔دسمبر2021تک پنجاب کے تمام 2کروڑ93لاکھ خاندانوں میں صحت سہولت کارڈزتقسیم کردئیے جائیں گے۔صحت سہولت کارڈزکے حامل خاندان 7لاکھ 20ہزارروپے تک کے مفت علاج کی سہولت حاصل کرسکیں گے۔ پنجاب کے تمام خاندانوں میں صحت سہولت کارڈزکی فراہمی وزیر اعظم عمران خان کے ویژن کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ہم عوام کا پیسہ عوام پر خرچ کرنے پر یقین رکھتے ہیں۔ڈی جی خان اور ساہیوال ڈویژنزکے تمام خاندانوں میں صحت سہولت کارڈزکی تقسیم کیلئے ہوم ورک مکمل ہوچکاہے۔وزیراعلی پنجاب سردارعثمان بزدارصوبہ بھرمیں صحت سہولت کارڈزکی تقسیم کی براہ راست مانیٹرنگ کررہے ہیں۔صحت سہولت کارڈزکے ذریعے پنجاب کی عوام کیلئے صحت کے شعبہ میں بے پناہ آسانیاں پیداہونگی۔ پاکستانی عوام کو صحت اور تعلیم کے شعبہ جات میں سہولت دیناوزیر اعظم کے ویژن کے عین مطابق ہے۔صحت سہولت کارڈزکے حامل خاندان سرکاری ہسپتالوں کے علاوہ اِم پینل کئے گئے 300سے زائدنجی ہسپتالوں سے بھی 7لاکھ20ہزارروپے تک کے مفت علاج کی سہولت حاصل کرسکیں گے۔صحت سہولت کارڈزکے ذریعے علاج کروانے والے خاندان وزیر اعظم عمران خان اور وزیر اعلی پنجاب سردارعثمان بزدارکو کروڑوں دعائیں دے رے ہیں۔

  • ضمنی الیکشن  سیکیورٹی فول پروف، PK 63 کو سرکل ،سیکٹرز اور سب سیکٹرز میں تقسیم دی

    ضمنی الیکشن سیکیورٹی فول پروف، PK 63 کو سرکل ،سیکٹرز اور سب سیکٹرز میں تقسیم دی

    نوشہرہ:-ڈسٹرکٹ پولیس افیسر کیپٹن(R)نجم الحسنین کا ضمنی الیکشن کے حوالے سے پولیس افسران کو تفصیلی بریفنگ اور ہدایات دی گئی۔ ضمنی الیکشن میں سیکیورٹی کو فول پروف بنانے کیلئے PK 63 کو سرکل ،سیکٹرز اور سب سیکٹرز میں تقسیم کیا گیا۔102 پولنگ اسٹیشنز کو انتہائی حساس ،حساس اور نارمل کے کٹیگرز میں تقسیم کرکے سیکیورٹی کے انتظامات کئے گئے ہیں۔ضمنی الیکشن میں پولیس کے 1748 جوان ڈیوٹی پر تیعنات کئے گئے ہیں۔اسکے علاوہ فرنٹئیر کور کی بھی مدد لی جا رہی ہے۔
    الیکشن کے دوران الیکشن کیمشن آف پاکستان کے جاری کردہ احکامات پر من وعن عمل درآمد کو یقینی بنائیں۔
    اپنی تمام تر صلاحیتوں کو بروئے کار لاکر ضمنی الیکشن کو پرامن بنانے میں اپنا پورا کردار ادا کریں۔