Baaghi TV

Tag: تلاش منزل

  • بچوں کی شادیاں والدین کی پسند سے ہوں یا بچوں کی پسند سے؟؟؟ تحریر محمد عبداللہ

    بچوں کی شادیاں والدین کی پسند سے ہوں یا بچوں کی پسند سے؟؟؟ تحریر محمد عبداللہ

    شادی فقط معاہدہ یا وقتی تعلق نہیں ہوتا کہ بنا سوچے سمجھے اور اس کے جملہ مضمرات پر غور وفکر کیے بغیر فیصلہ کردیا جائے لیکن یہ ہمارے معاشرے کا المیہ ہے کہ اتنے بڑے فیصلے کرتے ہوئے بچوں کی پسند و ناپسند کو مدنظر نہیں رکھا جاتا، ذات برادریوں، رشتہ داری کو قائم رکھنے، زمین و جائداد اور مال و دولت کے لالچ کے لیے بچوں کے رشتے کر دیے جاتے ہیں. اس میں زیادہ ایشو بیٹیوں کے ساتھ بنتا ہے کہ وہ بےچاری والدین کو فیصلے کو چیلنج کرنا تو درکنار اس پر بات بھی کریں تو بےحیا اور نافرمان کے لقب مل جاتے. لاڈ پیار سے پالی بیٹیوں کو جب بچپن اور لڑکپن میں کھلی آزادی دی جاتی ہے لیکن جب بات آتی ہے اس کی ساری زندگی گزارنے کی تو وہی جاہلیت والی سوچ اپنائی جاتی اور فیصلہ ٹھونسا جاتا جس کو بیٹیاں اپنی باپ کی چادر اور پگڑی کو داغ سے بچانے کے لیے چاروناچار قبول تو کرلیتی ہیں مگر اندر ہی اندر ختم ہوتی رہتی ہیں اور جو تھوڑی خود سر ہوں اور والدین کے لاڈ و پیار اور دی گئی آزادی کو برتنا جانتی ہوں وہ پھر چور دروازوں کو ڈھونڈتی ہیں اور وہ دروازے پھر گناہوں کی وادیوں میں کھلتے ہیں. بعینہ لڑکوں کے ساتھ بھی یہ ایشو ہوتا کہ والدین ذات برادری، جائداد اور رشتہ داری کے چکر میں ان کا رشتہ کردیتے ہیں جس پر لڑکے راضی نہیں ہوتے اگر وہ اس رشتے سے انکار کریں تو ان کو جائداد سے عاق کیے جانے کی دھمکیاں دی جاتی ہیں جس پر وہ بھی چاروناچار والدین کا فیصلہ مان تو لیتے مگر گھر سے زیادہ توجہ باہر رہتی ہے جوکہ گھروں اور معاشروں میں بگاڑ کا باعث بنتی ہے اور پھر جس پھوپھی اور ماسی کے ساتھ تعلق کو برقرار رکھنے کے رشتہ کیا گیا تھا اسی کے ساتھ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے تعلق ٹوٹ جاتا ہے اور پھر ہمارے ہاں ایک نہیں دو دو تین تین گھر اجڑتے ہیں کہ وٹہ سٹہ کا سسٹم جو رائج ہوتا ہے.

    یہ صرف ہماری ذاتی ضدیں اور رسم و رواج ہیں جن کا اسلام کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے اسلام مرد و عورت دونوں کو اپنی پسند اور ناپسند کا حق دیتا ہے مرد کو تو اس حد تک آزادی دی کہ اس کے نکاح کے لیے ولی کی اجازت کی بھی شرط نہیں ہے جبکہ عورت پر نکاح کے لیے ولی کی اجازت کی شرط تو ہے لیکن ولی کو بیٹی یا بہن پر زبردستی کی اجازت ہرگز نہیں ہے اس پر عورت کو حق دیا جاتا ہے اپنی پسند اور ناپسند کے مطابق جیون ساتھی کو چننے کا اس پر ہمیں اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلوں کی مثالیں بھی ملتی ہیں. یہی وجہ ہے کہ اس اسٹیج پر آکر نوجوان باغی ہوکر یا تو خفیہ گناہ کے راستے ڈھونڈتے ہیں یا پھر کورٹ میرج کی صورت نکاح کو ترجیح دیتے جس کو ہمارے علماء حضرات متنازع قرار دیتے ہیں.
    بہرحال یہ ہمارے معاشرے کا المیہ ہے اور بڑا حساس موضوع اور ایشو ہے جو گھروں، خاندانوں اور معاشروں میں بگاڑ کا باعث بنتا ہے اس میں زیادہ کردار ہمارے علماء اور والدین کا بنتا ہے کہ وہ اس کی اصلاح کریں سب سے پہلے بچوں کی تربیت اس نہج کی ہونی چاہیے کہ حلال اور حرام کی تمیز اور ان کو اختیار یا رجیکٹ کرنا آتا ہو پھر بچوں کی مستقبل کی زندگی کے فیصلے کرتے ہوئے ان کی رائے ضرور لیں کیوں زندگی انہوں نے گزارنی ہے …

    Muhammad Abdullah
    Muhammad Abdullah
  • "ربیع الاول ماہ مبارک ولادت مصطفیٰ کا آغاز اور امت محمد صلی اللہ علیہ وسلم” تحریر: محمد عبداللہ

    بلاشبہ اس کائنات کی سب سے بڑی خوشی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی بطور ایک پیغمبر اور نبی کے آمد کی ہے اور اللہ کے کرم کی انتہا کے اللہ نے ہم ایسے گناہگاروں کو شرف امت محمد صلی اللہ علیہ وسلم بحشا ہے. تو آئیے نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش کی تاریخوں پر جھگڑنے اور فتوؤں کی پٹاریاں کھولنے کی بجائے "لَقَدْ مَنَّ اللَّهُ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ إِذْ بَعَثَ فِيهِمْ رَسُولًا مِّنْ أَنفُسِهِمْ يَتْلُو عَلَيْهِمْ آيَاتِهِ وَيُزَكِّيهِمْ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ وَإِن كَانُوا مِن قَبْلُ لَفِي ضَلَالٍ مُّبِينٍ” مالک ارض و سماء کے اس احسان عظیم کا حق ادا کرنے کی کوشش کریں اور بعثت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے عظیم مقصد "ھُوَالَّذِیْٓ اَرْسَلَ رَسُوْلَہٗ بِالْھُدٰی وَدِیْنِ الْحَقِّ لِیُظْھِرَہٗ عَلَی الدِّیْنِ کُلِّہٖ” کی تکمیل میں جت جائیے.خود ساختہ عقائد و نظریات اور اعمال اور ان کی بنیاد پر اس بابرکت ماہ میں دنگا و فساد کی بجائے حقیقی سیرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر عمل پیرا بھی ہوا جائے اور اسی کا پرچار بھی کیا جائے کیونکہ وہی اسوہ تو کامیابی کی کنجی ہے کہ "لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ لِّمَن كَانَ يَرْجُو اللَّهَ وَالْيَوْمَ الآخِرَ وَذَكَرَ اللَّهَ كَثِيرًا”.
    بعثت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے عالی شان مقصد کو سمجھا اور سمجھایا جائے اور قیامت کے دن اور مابعد قیامت کی زندگی میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کو پانے کی تگ و دو کی جائے کہ دنیا وما فیھا کا سب سے بڑا غم بھی رحلت مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم تھا کہ صحابہ و اہل بیت کے دل پھٹے جاتے تھے یہ خبر نہیں تھی بلکہ اک قیامت تھی جو نہ صرف مدینہ بلکہ دنیا بھر کے مسلمانوں پر ٹوٹی تھی کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس دنیا سے رخصت ہوگئے ہیں، فاروق اعظم صدمے کی تاب نہ لاتے ہوئے تلوار نکالے کھڑے تھے جو کہے گا کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم رحلت فرما گئے ہیں میں اس کا سر قلم کردوں گا. اس سانحہ جانکاہ کے بعد نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دیوانوں کے آنسو خشک نہ ہوتے تھے اور کوئی بھی اس خبر کو ماننے کو تیار نہیں تھا یہاں تک کہ صدیق اعظم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے یار غار ابوبکر رضی اللہ عنہ تشریف لائے اور لوگوں سے اس انداز میں مخاطب ہوئے میں "جو بھی محمد ﷺ کی عبادت کرتا تھا تو اسے معلوم ہونا چاہیے کہ آپ ﷺ اس دنیا فانی سے رخصت ہوچکے ہیں اور جو اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتا تھا تو (اس کا معبود) اللہ ہمیشہ زندہ رہنے والا ہے اور اس کو کبھی موت نہیں آئے گی اللہ تعالیٰ نے خود فرمایا ہے "وَمَا مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِن قَبْلِهِ الرُّسُلُ ۚ أَفَإِن مَّاتَ أَوْ قُتِلَ انقَلَبْتُمْ عَلَىٰ أَعْقَابِكُمْ ۚ وَمَن يَنقَلِبْ عَلَىٰ عَقِبَيْهِ فَلَن يَضُرَّ اللَّهَ شَيْئًا ۗ وَسَيَجْزِي اللَّهُ الشَّاكِرِينَ”
    "اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم صرف رسول ہیں ‘ ان سے پہلے اور رسول گزر چکے ہیں اگر وہ فوت ہوجائیں یا شہید ہوجائیں تو کیا تم اپنی ایڑیوں پر پھر جاؤ گے تو جو اپنی ایڑیوں پر پھرجائے گا سو وہ اللہ کا کچھ نقصان نہی کرے گا اور عنقریب اللہ کا شکر کرنے والوں کو جزا دے گا”
    .ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا "اللہ کی قسم ! ایسا محسوس ہوا کہ جیسے پہلے سے لوگوں کو معلوم ہی نہیں تھا کہ اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی ہے اور جب ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اس کی تلاوت کی تو سب نے ان سے یہ آیت سیکھی اب یہ حال تھا کہ جو بھی سنتا تھا وہی اس کی تلاوت کرنے لگ جاتا تھا”
    ہائے کاش اس امت محمد میں آج کوئی فقیہ،کوئی مفتی، کوئی عالم، کوئی حاکم، کوئی استاد کردار صدیقی ادا کرنے والا ہو اس پور پور بکھری امت کو مجتمع کردے اور راہ مستقیم سے بھٹکی امت کو راہ جنت پر گامزن کردے کہ ربیع الاول کے مہینے میں یہ امت نبی ذیشان صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت پاسعادت کی تاریخوں پر باہم دست و گریباں ہونے اور پیدائش و بعثت مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی خوشی منانے اور غم آقائے دو جہاں پر کفر و اسلام کے فتوے بانٹنے والی اس امت کو یکجان کرکے مقصد بعثت مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی تکمیل میں مصروف عمل کرا دے.
    محمد عبداللہ کے مزید بلاگز پڑھیں

    Muhammad Abdullah
    Muhammad Abdullah
  • "مسیحاؤں کی غنڈہ گردی اور حکومت کی بے بسی” تحریر: محمد عبداللہ

    جی یہ قوم کے مسیحا ہیں جو گزشتہ ایک مہینے سے قوم کو عذاب میں ڈالے ہوئے ہیں. ہر دوسرے روز سرکاری اسپتالوں کا عملہ بشمول نرسز، خاکروب سڑکیں بلاک کرکے جبکہ ڈاکٹرز آرام سے پرائیویٹ کلینکس میں بیٹھے پیسے چھاپ رہے ہوتے ہیں.ایم ٹی آئی ایکٹ کی نامنظوری اور دیگر چند مطالبات کی منظوری کے لیے ہڑتال کے نام پر سرکاری اسپتالوں کی او پی ڈیز اور یہاں تک کہ ایمرجنسی تک کو بند کرکے خود پرائیویٹ کلینکس میں جا بیٹھتے ہیں اور سرکاری اسپتالوں کا عملہ سڑکوں پر آبیٹھتا ہے. ایک طرف تو ان اسپتالوں میں دور دراز سے آئے ہوئے ہزاروں غریب افراد جو پرائیویٹ علاج افورڈ نہیں کرسکتے وہ بے چارے رل رہے ہوتے ہیں، ڈاکٹرز اور عملے کی منتیں کر رہے ہوتے ہیں جبکہ قوم کے یہ مسیحا فرعون کے لہجے میں رعونت بھری نگاہ ڈال کر گاڑی میں جا بیٹھتے ہیں.
    پولیس کے نظام میں اصلاحات کیوں ضروری ہیں؟ ؟؟ محمد عبداللہ
    ابھی کچھ دن قبل ہی ساہیوال سے ہمارے دوست کہ جن کے والد صاحب لاہور جناح اسپتال میں ایمرجنسی میں وارڈ میں تھے مگر کوئی ڈاکٹر ان کو پوچھنے تک نہ آیا اور وہ ایمرجنسی وارڈ ہی میں اپنی جان ہار گئے. یہ ایک کہانی نہیں ایسی سینکڑوں کہانیاں ہیں کبھی اقتدار کی غلام گردشوں میں بیٹھے لوگ کبھی اپنی اونچی مسندوں سے نیچے اتریں اور آکر دیکھیں کہ کیسے ان کی رعایا صحت و انصاف کے لیے اسپتالوں اور کچہریوں میں رل رہی ہے اور باقی ماندہ سڑکیں بند ہونے اور قوم کے ان مسیحاؤں کی بدمعاشی سے سڑکوں پر لمبی لائنوں میں کھڑی ہے. دور دراز سے محنت مزدوری اور دیگر ضروریات کے لیے لاہور آنے والے اور شہر کے اندر ہی سے کام کاج کے سلسلے میں سفر کرنے والے لوگ جب روزانہ کی بنیاد پر یوں سڑکوں پر ہی خوار ہوتے رہیں گے تو خاک کاروبار ہوگا اور ملکی معیشت چلے گی.

    عورت اور اسلامی معاشرہ ….. محمد عبداللہ
    جس غریب کی ان احتجاجوں کی وجہ سے دیہاڑی نہ لگ سکے اس کا چولہا کیسے جلے گا؟ کیا قوم کے ان مسیحاؤں کو یہ احساس ہے کہ ان کی آئے دن ہڑتالیں کتنے گھروں کے چولہے بجھا دیتی ہیں اور کتنے مجبور اور بے کس باپوں کو بھوک سے بلکتے بچوں کو دیکھنے کی تاب نہ لاتے ہوئے خودکشیوں پر مجبور کردیتی ہیں. کیا ہمارے حکمرانوں کو احساس ہے کہ ان کی گورنس میں کیسے یہ مٹھی بھر طبقہ پورے معاشرے اور قوم کو عذاب میں ڈالے ہوئے ہے؟
    کیوں یہ ہر دوسرے دن سڑکوں پر آن موجود ہوتے ہیں اور ملک و قوم کو عذاب میں مبتلا کردیتے ہیں، سرکاری اسپتالوں میں علاج معالجے کی سہولیات کی بندش سے غربت کی چکی میں پستے مریضوں کے لیے سامان مرگ کررہے ہیں. قوم ان مسیحاؤں کی غنڈہ گردی پر حکمرانوں سے سراپا سوال ہیں کہ ان ریاست ان کو کنٹرول کرنے میں ناکام کیوں ہے؟

    کیا اس لیے تقدیر نے چنوائے تھے تنکے ….. محمد عبداللہ

    محمد عبداللہ کے دیگر مضامین پڑھیے اور انکے بارے میں جانیے

    Muhammad Abdullah
    Muhammad Abdullah
  • مقبوضہ کشمیر میں مسلسل کرفیو سے بیرون ممالک کشمیریوں کی زندگی کیسے اجیرن ہوگئی ہے!!! تحریر: محمد عبداللہ

    مقبوضہ کشمیر میں مسلسل کرفیو سے بیرون ممالک کشمیریوں کی زندگی کیسے اجیرن ہوگئی ہے!!! تحریر: محمد عبداللہ

    مقبوضہ کشمیر میں جہاں کرفیو کے باون دنوں سے وادی کے لوگوں کی زندگی اجیرن ہوئی ہے، غذائی اشیاء کی شدید قلت ہے، شیر خوار بچوں کے لیے دودھ بھی میسر نہیں ہے، مواصلات کے سبھی ذرائع پر سخت قسم کی پابندیاں عائد ہیں جس کی وجہ سے بھارتی مسلح افواج کی بربریت اور کرفیو میں جاں بلب کشمیریوں کے نقصانات کا تخمینہ لگانا ناممکن سا ہوا پڑا ہے وہیں ایک بڑا مسئلہ اور نقصان ان کشمیری طلباء کا ہے جو وادی سے باہر مختلف ممالک میں زیر تعلیم ہیں.

    مزید پڑھیں کیا سوشل میڈیا پوسٹس اور ٹویٹر ٹرینڈز سے کشمیر آزاد ہوجائے گا؟؟؟ تحریر: محمد عبداللہ

    پچھلے تقریباً دو ماہ سے ان میں سے کسی کا بھی اپنے گھر والوں سے کسی قسم کا رابطہ نہیں ہے. ان کے پاس بجٹ پہلے ہی محدود ہوتا ہے وہ ختم ہوچکا ہے اور وہ فاقوں پر مجبور ہیں لیکن اس سے بڑا مسئلہ شدید قسم کی ذہنی اذیت ہے کہ کوئی اندازہ اور علم نہیں ہے کہ ان کے گھر والے کس کیفیت میں ہیں، زندہ بھی ہیں یا نہیں اور حالیہ آنے والے زلزلہ کے بعد تو دکھ کی یہ کیفیت مزید بڑھ گئی کہ اپنے والدین و بہن بھائیوں کی خیریت دریافت کرنا چاہتے ہیں مگر مواصلات، میڈیا، سوشل میڈیا غرض کے سبھی ذرائع کے بلیک آؤٹ کی وجہ سے وہ اس عمل سے قاصر ہیں.

    مزید پڑھیں مسئلہ کشمیر فقط زمین کے ٹکڑے کی لڑائی یا کچھ اور؟ ؟؟ محمد عبداللہ

    کشمیری خواتین کی سب سے بڑی جماعت دختران ملت کی سربراہ آسیہ اندرانی کے بیٹے احمد بن قاسم کا کہنا تھا "زلزلے کے بعد آپ اپنے گھر والوں کی خیریت دریافت کرنے کے لیے بے ساختہ فون اٹھاتے ہیں اور نمبر ڈائل کرتے ہیں مگر آپ بھول جاتے ہیں کہ کشمیر میں کرفیو ہے اور ہر قسم کی مواصلات پر پابندی ہے” اسی طرح آسیہ اندرابی ہی کے بھانجے اور کشمیر یوتھ الائنس کے صدر ڈاکٹر مجاہد گیلانی کا کہنا تھا "کہ پہلے تو ہماری خالہ کی خیریت دریافت ہوجاتی تھی مگر اب کرفیو اور مواصلات پر پابندی کی بدولت ہم کچھ بھی جاننے سے قاصر ہیں”. پاکستان کی مختلف یونیورسٹیز میں پڑھنے والے بے شمار کشمیری طلباء نے اپنی یہی کیفیت بتائی کہ وہ اپنے گھر والوں کی خیریت دریافت کرنے کو بے تاب ہیں مگر کوئی ذریعہ نہیں ہے. ان کا مزید کہنا تھا کہ ہمارے گھر والوں نے اخراجات کے لیے کرفیو سے قبل جو رقم بھجوائی تھی وہ ختم ہوچکی ہے اور اب ہم فاقوں پر مجبور ہیں. ہزاروں کشمیری طلباء دنیا کے مختلف ممالک میں زیر تعلیم ہیں اور ہزاروں ایسے ہیں جو بسلسلہ روزگار بیرون ملک مقیم ہیں ان سب کی کیفیت یہی ہے کہ وہ اپنے گھر والوں سے رابطہ نہ ہونے کے باعث شدید قسم کی ذہنی اور قلبی اذیت کا شکار ہیں. کچھ دن قبل پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی سے سعودیہ میں مقیم ایک کشمیری نوجوان نے فریاد کی تھی کہ میرا اپنے گھر والوں سے کوئی رابطہ نہیں ہے اور میں ان کے بارے میں شدید پریشانی کا شکار ہوں. یہ ایک مثال تھی مگر کتنے ہی ہزاروں کشمیری طلباء اور مزدور جو بیرون ملک مقیم ہیں ایسے بھی ہیں جو اس ڈر سے میڈیا یا سوشل میڈیا پر آکر اپنی پریشانی اور کیفیت بیان نہیں کررہے کہ کہیں ان کے اس عمل کی وجہ سے ان کے گھر والوں پر کوئی آفت نہ آن پڑے. بھارت کی جانب سے باون دنوں کا مسلسل کرفیو اور ذرائع مواصلات پر پابندی وہ شدید قسم کی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے جس کا شکار بےچارے کشمیری ہو رہے ہیں ایسے میں انسانی حقوق کی تنظیموں اور اقوام متحدہ کو اپنا کردار ادا کرنا چاہیے اور بھارت پر زور دینا چاہیے کہ وہ کشمیر میں کرفیو کو ختم کرے اور ذرائع مواصلات پر عائد پابندیاں ہٹائے تاکہ بیرون ملک مقیم کشمیری اپنے پیاروں سے رابطہ کرکے ان کی خیریت دریافت کرسکیں.

    مصنف کے بارے مزید جانیے

    Muhammad Abdullah
    Muhammad Abdullah
  • پولیس کے نظام میں اصلاحات کیوں ضروری ہیں؟ ؟؟  محمد عبداللہ

    پولیس کے نظام میں اصلاحات کیوں ضروری ہیں؟ ؟؟ محمد عبداللہ

    یہ کوئی وقتی مشاہدے کی باتیں نہیں بلکہ پچھلے دس گیارہ سالوں سے مسلسل سفر میں رہتے ہوئے ، پاکستان کے شہروں اور صوبوں میں گھومتے پھرتے جہاں اور بہت ساری چیزوں کا مشاہدہ اور تجربہ حاصل ہوا وہاں پولیس کے رویوں اور طریقہ کار کو بھی جانچنے اور پرکھنے کا بھی موقع ملتا رہا. ویسے بھی مسافر (ٹورسٹ) اور پولیس کا واسطہ اکثر ہی رہتا ہے. کے پی کے، پنجاب، سندھ اور حتیٰ کے بلوچستان کی پولیس کے ساتھ بھی گپ شپ بھی رہی اور واسطہ بھی پڑتا رہا ہے. جہاں بہت سارے تجربے پولیس کے برے رویے کے ہیں وہیں کافی تجربات پولیس کی بہترین مہمان نوازی اور مشفقانہ رویہ روا رکھنے کے بھی ہیں. ایسا نہیں ہے کہ پولیس کا سارا محکمہ ہی گندا ہے، کرپٹ ہے یا ظالم ہے ہمارے بہت سے دوست احباب اور رشتہ دار بھی اس محکمے میں ہیں اسی طرح ہم دیکھتے ہیں کہ ان گنت نیک نیت، ایماندار اور فرض شناس لوگ اس محکمے میں ایسے بھی ہیں جن کی وجہ سے پولیس کے محکمے کی عزت برقرار ہے. افواج پاکستان کی طرح پولیس کے شہداء کی بھی ایک لمبی لسٹ ہے جو وطن عزیز اور اس کے شہریوں کی جان و مال کی حفاظت کی خاطر اپنی جانوں کے نذرانے پیش کرگئے. لیکن جو بات مسلمہ ہے وہ یہی ہے کہ اس محکمے میں بیشتر اندھیر نگری اور چوپٹ راج ہے، کرپشن اور ظلم کا دور دورہ ہے.جہاں ایس ایچ او اپنے علاقے کا بے تاج بادشاہ ہوتا ہے اور اس کے اشاروں پر لوگوں کی قسمتیں بن اور بگڑ رہی ہوتی ہیں وہیں ناکے پر کھڑا کانسٹیبل بھی چنگیز خان سے کم نہیں ہوتا جو چاہے تو چوری کے سامان سے بھری گاڑی کو گزرنے دے اور چاہے تو معمولی موٹر سائیکل سوار کو اپنی چائے پانی کے لیے خوار کرتا رہے اور تھانے میں بیٹھا محرر بھی کسی بنیئے سے مقابلہ کر رہا ہوتا ہے جب وہ ایف آئی آر درج کرنے کے لیے بھاؤ تاؤ کر رہا ہوتا ہے. یہ بات بطور لطیفہ بیان کی جاتی ہے مگر یہ انتہائی تکلیف دہ سچ ہے کہ دوسرے ممالک کے میں لوگوں کو پولیس کو دیکھ کر تحفظ کا احساس ہوتا ہے مگر وطن عزیز میں پولیس کو دیکھ کر آپ کو لٹ جانے کا احساس ہوتا ہے. آپ روڈ پر سفر کر رہے ہیں آپ کی جیب میں آپ کا لائسنس، گاڑی کے کاغذات، شناختی کارڈ غرض کے سب کچھ موجود ہے اور آپ تمام روڈ سیفٹی قوانین کو بھی فالو کر رہے ہیں لیکن جب آپ کی نظر سامنے لگے ناکے پر موجود پولیس کے سپاہیوں پر پڑتی ہے تو بندہ غیر ارادی طور پر دل ہی دل میں دعائیں پڑھنا شروع ہوجاتا ہے کہ یا اللہ آج بچا لے ان سے. اگر آپ طاقتور ہیں کسی اونچی پوسٹ پر ہیں تو یہی پولیس آپ کی محافظ ہوتی ہے اور آپ غریب ہیں اور عام سے شہری ہیں تو اس پولیس سے جان چھڑوانا ناممکن اور عذاب بنا ہوتا ہے. میرے پاس بیسیوں نہیں سینکڑوں مثالیں ہیں بلکہ تجربات ہیں کہ پولیس کے پاس شہریوں کو تنگ کرنے کے کتنے اور کون کونسے حربے ہوتے ہیں. ہمارے ملک میں کتنے ہی مجبور اور بے کس شہری ہیں جن کو پولیس کے ظلم اور تشدد نے کرپٹ اور مجرم بنا دیا ہے. کتنے ہی ایسے لوگ ہیں جو پولیس کی عدم توجہی اور ظالم کی پشت پناہی کی وجہ سے قانون کو اپنے ہاتھ میں لیتے ہیں اور معاشرے میں دہشت گرد اور ڈاکو کا خطاب پاتے ہیں. سانحہ ساہیوال، صلاح الدین کیس اور ان جیسے ناجانے کتنے کیس ہیں جو پولیس کی غنڈہ گردی اور ظلم کی عملی مثالیں ہیں. کوئی کتنا بھی کرپٹ کیوں نہ ہو، مجرم کیوں نہ ہو اس کے جرائم کی سزاء و جزا دینے کے لیے ا ملک میں ایک پورا عدالتی نظام موجود ہے تو پھر پولیس کو یہ جرات کیسے پیدا ہوتی ہے کہ وہ جعلی پولیس مقابلوں اور دوران تفتیش ماورائے عدالت قتل کرتے پھریں ؟؟؟ یہ کونسے قاعدے اور قانون میں ہے کہ پولیس مجرم سے اقبال جرم کروانے کے لیے اس پر غیر انسانی تشدد کرے؟ پاکستانی پولیس ایسا کیوں سمجھتی غریب کے جسمانی ریمانڈ کا مطلب اس کی چمڑی ادھیڑ دینا ہوتا ہے؟؟

    "صلاح الدین کا مبینہ قتل ریاست کے سر پر ہے” محمد عبداللہ

    یہ ساری باتیں تقاضہ کرتی ہیں کہ اب وقت آن پہنچا ہے کہ نظام پولیس میں اصلاحات کی جائیں اور اس پورے نظام کو از سر نو ترتیب دیا جائے اور انسانی ہمدردی اور انسانی مدد کی بنیاد پر پولیس کے محکمے کو کھڑا کیا جائے اور ایسی پولیس معاشرے میں کھڑی کہ جائے جس کو جرم سے نفرت ہو نہ کہ انسانیت سے اور جس کو دیکھ ہی معاشرے کو تحفظ کا احساس ہو.

    Muhammad Abdullah
    Muhammad Abdullah
  • بھارت اور متحدہ عرب امارات کا گٹھ جوڑ وجہ کیا ہے؟؟؟؟  محمد عبداللہ

    بھارت اور متحدہ عرب امارات کا گٹھ جوڑ وجہ کیا ہے؟؟؟؟ محمد عبداللہ

    سب سے پہلی بات کہ دنیا مفادات پر چلتی ہے وہ اسلامی ممالک ہوں یا اہل کفار کے ممالک سبھی تعلقات قائم کرتے وقت اپنے اپنے قومی مفادات کو ہی مقدم رکھتے ہیں. ایسا نہیں ہے کہ ہم.نے کبھی قومی مفادات کو ملی مفادات پر ترجیح نہ دی ہو. ماضی میں بے شمار مثالیں آپ کو ملیں گی جس سے اندازہ ہوگا کہ پاکستان نے بھی بارہا قومی مفادات کی وجہ سے ملی مفادات کو ٹھیس پہنچائی، اگرچہ پاکستان کا رویہ اور عام پاکستان کے جذبات باقی اسلامی ممالک کی وجہ سے امت کے درد میں زیادہ دلگیر ہوجاتا ہے. جدید نیشن اسٹیٹس میں خارجہ پالیسی کا یہی اصول ہے کہ فقط اپنے ہی قومی مفادات کو ترجیح دو. ایسے میں ہمیں بھی سینہ فراخ کرنا پڑے گا کہ جن اسلامی ممالک کے تجارتی مفادات دوسرے ممالک سے وابستہ ہیں ان سے وہ تعلقات قائم کرسکیں. (گزشتہ بلاگ میں ہی ہم نے ذکر کیا تھا) ہم کوئی بین الاقوامی منڈی نہیں ہیں، ہم بائیس کروڑ ہیں جبکہ بھارت 1.339 بلین آبادی والا ملک ہے جو انڈسٹری اور ٹیکنالوجی میں پاکستان سے بہت آگے ہے. ایسے میں عرب یا دیگر ممالک کا پاکستان کی نسبت بھارت کے ساتھ تجارتی معاہدوں کا حجم بہت زیادہ ہوگا تو وہ خیال بھی اسی کا رکھیں گے جہاں ان کے پیسے زیادہ لگے ہونگے.
    مزید پڑھیں مسئلہ کشمیر فقط زمین کے ٹکڑے کی لڑائی یا کچھ اور؟؟؟ تحریر: محمد عبداللہ

    دوسری بات جو بہت اہم بھی ہے اور جو سمجھ میں آنے والی بھی ہے کہ کہیں ایسا تو نہیں کہ سی پیک اور بالخصوص پاکستان کی عظیم بندرگاہ گوادر کے آپریشنل ہوجانے سے جہاں بھارتی اور ایرانی بندگاہوں کو خطرات لاحق ہونا شروع ہوگئے تھے وہیں یہ پشین گوئیاں شروع ہوچکی تھیں کہ گوادر کے آپریشنل ہوتے ہی دوبئی کی رونقیں اجڑ جائیں گی اور اگر ایسا ہوجاتا ہے تو متحدہ عرب امارات کی ساری شان و شوکت، رعب و دبدبہ اور شامیں ماند پڑجائیں گی. کیونکہ گوادر تجارتی مرکز بن جائے گا. کیونکہ اسی گوادر اور سے ملحقہ سی پیک سے ہی چین، وسط ایشیائی ریاستوں اور روس تک کی امیدیں وابستہ ہیں اور چین کا تو دارومدار ہی اس سی پیک پر ہے.ساری دنیا جانتی ہے کہ درآمدات و برآمدات کے حوالے سے چین اور روس دنیا میں کیا مقام رکھتے ہیں.اسی طرح وسط ایشیائی ریاستیں بھی کسی سے کم نہیں ہیں مگر کسی طرف کا رستہ نہ ہونے کی وجہ سے وہ ریاستیں ایک عرصہ سے اگنور ہوتی چلی آ رہی تھیں اب اگر ان سب کو گوادر کی شکل میں تجارتی سنٹر ملتا ہے تو باقی تجارتی مراکز کی حیثیت اس کے سامنے بہت کم ہوجائے گی، گزشتہ دنوں ایران اور بھارت کے گٹھ جوڑ کا مقصد بھی یہی تھا کہ چاہ بہار کی رونقیں جاتی نظر آرہی تھیں. کچھ ماہ قبل کی بات ہے کراچی میں آئل وغیرہ سے وابستہ پاکستانی تاجروں کی ایک مجلس میں بیٹھے تھے تو وہاں پر بات چلی تو ان سب کا کہنا تھا کہ دوبئی کی نسبت اگر گوادر سے سلسلہ شروع ہوجاتا ہے تو پھر دوبئی کی ساری دکانداری ختم ہوجاتی ہے. سی پیک اور گوادر کا وہ پلان جس کو پاکستان اور چین نے گیم چینجر پلان کہا تھا کہیں ایسا تو نہیں کہ اس گیم چینجر سے متاثر ہونے والے سبھی ممالک نے گٹھ جوڑ کرلیا ہو اور ان سب کے پیچھے شیاطین کا مائی باپ امریکہ ہو کیونکہ چین و روس کی ترقی سے زیادہ مسئلہ امریکہ کو ہی ہوسکتا ہے. امریکہ افغانستان سے نکلنے کے لیے پاکستان کا محتاج ہے اور کہیں ایسا تو نہیں کہ اس نے بندوق مودی کے کندھے پر رکھی ہو کیونکہ یہی پاکستان کا مشکل ترین وقت تھا جس میں پاکستان کو قابو کرنا آسان تھا وگرنہ پاکستان ان ممالک کی پہنچ سے بہت آگے جانکلتا.

    مزید پڑھیں کیا بھارت کشمیر کو آزاد کرکے پاکستان کی بقاء ممکن بنائے گا؟؟؟ محمد عبداللہ
    اس خدشے کو تقویت کچھ اس طرح بھی ملتی ہے کہ پاکستان کو ایک طرف ایف اے ٹی ایف اور آئی ایم ایف کے چنگل میں ڈال کر، دوسری طرف پاکستان کو کشمیر ایشو اور مشرقی بارڈر پر مسلسل الجھا کر سی پیک اور گوادر کی تکمیل میں رکاوٹیں کھڑی کی گئی ہیں جس کا نتیجہ ہے کہ ان منصوبوں پر کام ایک حساب سے عملاً رک چکا ہے اور فی الوقت جو کچھ ہو رہا ہے وہ فقط کاغذوں کی حد تک ہو رہا ہے. کیونکہ ساری دنیا کو پتا ہے کہ پاکستان کشمیر کو نہیں چھوڑ سکتا کہ کشمیر بھی پاکستان کی بقاء کا مسئلہ ہے. کڑی سے کڑی ملائیں تو مقبوضہ وادی اور لداخ پر بھارتی شکنجے کی مضبوطی سے بھی یہ بات سمجھ آتی ہے کہ بھارت ایک طرف تو پاکستان کو پانی سے محروم کرنا چاہتا ہے اور دوسری سی پیک پر اثر انداز ہونا چاہتا ہے. اس کے لیے وہ متحدہ عرب امارات کی طرف التفات اور دیگر سبھی حربے استعمال کرے گا لہذا اب پاکستان کو اپنی ترجیحات واضح کرنا ہونگی اور اپنے قدم بڑے سوچ سمجھ کر اٹھانا ہونگے کہ کوئی چھوٹی سی غلطی بھی بڑا نقصان پہنچا سکتی ہے.

    Muhammad Abdullah
  • ہم انگریزی کیوں بولتے ہیں — محمد عبداللہ

    ہم انگریزی کیوں بولتے ہیں — محمد عبداللہ

    گزشتہ شب سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئیٹر پر ایک دوست نے سوال کیا ہوا تھا کہ ہم انگلش کیوں بولتے ہیں. یہ ایشو صرف میرا اور آپ کا نہیں ہے بلکہ تقریباً سارے پاکستان کا ہی مسئلہ ہے کہ ہماری کوشش ہوتی ہے کہ مختلف فورمز پر، مہمانوں اور اجنبی لوگوں کے سامنے، کالج و یونیورسٹی میں، میڈیا و سوشل میڈیا پر ہم انگریزی بول پائیں تاکہ سننے والوں پر رعب پڑ جائے کہ اس کو انگریزی آتی ہے. کچھ ہمارے جیسے انگریزی کے سفید پوش تو ایسے بھی ہوتے بلکہ اکثر ہی ایسے ہوتے کہ جن کو انگریزی تو بولنی نہیں آتی لیکن ہماری بھی کوشش بھی یہی ہوتی ہے کہ دوران گفتگو کوئی نہ کوئی لفظ انگریزی کا ضرور بولیں یہ اور بات ہے کہ لب و لہجہ مقامی ہوتا ہے اور سننے والے پر وہ تاثر نہیں پڑتا جو ہمیں مطلوب ہوتا ہے شرمندگی سی مقدر بنتی ہے.

    مزے کی بات یہ ہے کہ ہماری سوسائٹی کا رویہ بھی بڑا منافرت سموئے ہوئے ہوتا ہے کہ جب کوئی غیر ملکی اپنے لب و لہجے میں ہماری قومی زبان بولنے کی کوشش کرے اور اکثر الفاظ کی ادائیگی غلط ہی کرتا ہے تو ہم سبھی بڑے خوش ہوتے ہیں لیکن جب کوئی اپنا ہی دیسی بندہ مقامی لب و لہجے میں انگریزی بولنے کی کوشش کرے تو سبھی اس پر ہنسنا شروع ہوجاتے ہیں اس کا مذاق اڑایا جاتا ہے. بہرحال ہم بات کرتے ہیں کہ ہم انگریزی کو اپنی قومی یا مقامی زبانوں پر ترجیح کیوں دیتے ہیں.

    ‏‎سب سے پہلی بات کیونکہ من حیث القوم ہم احساس کمتری کا شکار ہیں کہ شاید انگریزی ہی واحد معیار ہے اپنے آپ کو پڑھا لکھا اور مہذب دکھانے کا تو دہرے تہرے ہوکر بولنی انگریزی ہی ہے.

    دوسری بات موجودہ ایام میں چونکہ دنیا میں ڈنکا امریکہ اور یورپین ممالک کا بجتا ہے اور وہ سپر پاور سمجھے جاتے ہیں تو انہی کی کرنسی اور زبان اک معیار سمجھی جاتی ہے جب ان کی برتری ختم ہوجائے گی تو یہ کرنسی و زبان کا برتر ہونا بھی ‏‎ختم ہوجائے گا.

    یہ کوئی نئی بات نہیں ہے. کولڈ وار سے قبل اور کولڈ وار کے دوران، دوسرے لفظوں میں افغان جہاد سے قبل دنیا میں روسی کرنسی کا دور چلتا تھا بچے بچے کو پتا تھا کہ روس کی کرنسی کا نام روبل ہے. مگر جب افغان جہاد میں روس کو شکست ہوئی اور وہ ٹکڑوں میں بٹا تو آج دنیا کو روبل کا نام بھی یاد نہیں ہے. اسی طرح جب دنیا سے امریکہ و یورپ کی شکل میں سامراجیت کا خاتمہ ہوگا تو ان کی ثقافت، زبان، کرنسی وغیرہ کا بھی دنیا سے خاتمہ ہوجائے گا.

    کیونکہ سادہ سی بات ہے کہ جو دنیا میں برتر ہوتا ہے نظام بھی اسی کے چلتے ہیں وہ نظام چاہے معاشی ہوں، لسانی، عسکری یا علمی. ہم لاکھ نعرے ماریں امریکہ لیکن امریکہ ایک سپر پاور ہے تو ‏‎چونکہ ہم ذہنی طور پر اس کی برتری کو قبول کرچکے ہیں اگرچہ ہم ظاہری طور پر نعرہ تو لگاتے ہیں امریکہ و برطانیہ کی برتری ختم کرنے کالیکن ہمارے دل اس میں ہمارا ساتھ نہیں دیتے کیونکہ ہمیں اس بات کا یقین نہیں آتا کہ دنیا سے سامراجیت کا بھی خاتمہ ہوسکتا ہے اور نہ ہی ہم اس کی کوئی واضح پلاننگ نہیں رکھتے ہیں نہ سائنس و ٹیکنالوجی کے میدان میں اور نہ عسکریت و معیشت کے میدان میں. نتیجہ اس کا یہی ہےکہ ہم ان کے نظاموں کو اپنانے میں مجبور ہیں اور آہستہ آہستہ اس مقام پر پہنچ جاتے ہیں کہ ہم ان کے نظاموں اور ان کی ثقافتوں کو اپنانے میں کوئی قباحت محسوس نہیں کرتے ہیں.

  • کیا بھارت کشمیر کو آزاد کرکے پاکستان کی بقاء ممکن بنائے گا؟؟؟  محمد عبداللہ

    کیا بھارت کشمیر کو آزاد کرکے پاکستان کی بقاء ممکن بنائے گا؟؟؟ محمد عبداللہ

    بانی پاکستان محمد علی جناح نے کشمیر کو شہ رگ پاکستان کہا تھا یہ کوئی جذباتی بات یا سیاسی بیان نہیں تھا بلکہ اس زیرک انسان کی نگاہ بھانپ چکی تھی کشمیر پاکستان کے لیے کیا حیثیت رکھتا ہے. آپ اگر نقشہ وغیرہ پڑھنے میں دلچسپی رکھتے ہیں تو آپ دیکھیں گے کہ پاکستان میں آنے والے سبھی دریاؤں کا منبع کشمیر ہی ہے.سوائے ان دو دریا ؤں ستلج(بیاس+بیاس) اور راوی کے جو بھارتی علاقے سے پاکستان میں داخل ہوتے ہیں لیکن سندھ طاس معاہدے کی وجہ سے ان کے پانی پر بھارت کا حق ہے اور بھارت مختلف مقامات پر ان دریاؤں پر ڈیم بنا چکا ہے. اسی لیے سوائے سیلابی کیفیت کے آپ کو وہ دونوں دریا پاکستان میں خشک دکھائی دیتے ہیں.
    جنگ مسئلے کا حل ہے یا نہیں؟؟؟ محمد عبداللہ
    جبکہ چناب جو ہماچل سے نکل کر جموں و کشمیر سے ہوتا ہوں سیالکوٹ میں مرالہ کے مقام پر دریائے توی سے مل کر پاکستان میں پانی لاتا ہے جو پاکستان کے بیشتر حصے کی زرعی ضروریات کو پورا کرتا ہے. ہیڈ مرالہ کے مقام سے اس سے دو نہریں نکلتی ہیں اپر اور لوئر چناب جن میں سے ایک آگے جاکر بمبانوالہ میں دو حصوں میں تقسیم ہوجاتی ہے ان میں سے ایک جس کو بی آربی کہا جاتا ہے وہ لاہور کو بھی پانی پہنچاتی ہے اور راوی کے نیچے سے گزرت ہوئے آگے دیپالپور نہر میں شامل ہوجاتی ہے. راوی اور ستلج دونوں کے خشک ہوجانے کی وجہ سے اس سارے مشرقی پنجاب کے علاقے کو پانی چناب سے نکلنے والی اس نہر سے ہی بہم پہنچایا جاتا ہے.
    ریاست پاکستان کا بیانیہ …. محمد عبداللہ
    اسی طرح دریائے جہلم پیر پنجال کے ویری ناگ چشمے سے نکل کر سری نگر ڈل جھیل سے ہوتا ہوا چکوٹھی کے مقام پر مظفر آباد آزاد کشمیر میں داخل ہوتا ہے جہاں مظفرآباد میں اس میں دریائے نیلم شامل ہوتا ہے، وادی کاغان میں دریائے کنہار ان میں شامل ہوتا ہے جبکہ آزاد کشمیر کے علاقے میرپور، منگلا سے کچھ پیچھے دریائے پونچھ بھی ان کے ساتھ مل جاتا ہے اور یہ منگلا میں مقام پر ڈیم میں گرتے ہیں منگلہ ڈیم پاکستان کی بجلی کی بہت بڑی ضرورت کو پورا کرتا ہے وہاں ڈیم سے دریائے جہلم پنجاب کے علاقے جہلم سے گزر کر آگے بڑھتا ہے اور تریموں کے مقام پر دریائے پنجاب سے مل جاتا ہے اور دونوں دریا آگے بڑھتے ہوئے پنجند کی طرف بڑھتے ہیں.
    سوشل میڈیا پر بھارت کا راج پاکستانی بے یارو مددگار — محمد عبداللہ
    آپ نقشے پر مزید اوپر کی طرف جائیں تو آپ کو دریائے سندھ نظر آتا ہے جو تبت کے علاقے مانسرور سے نکل کر لداخ سے گزرتا ہوا گلگت بلتستان سے پاکستان میں داخل ہوتا ہے اور کے پی کے سے ہوتا ہوا تربیلا کے مقام پر ڈیم میں داخل ہوتا ہے تربیلا ڈیم پاکستان کی بجلی کی ضروریات پوری کرنے میں نمایاں کردار ادا کرتا ہے اسی دریا سے نکلنے والی تھل کینال نے جنوبی پنجاب کے بنجر صحرائی علاقے کو سرسبز اور شاداب بنا دیا ہے . یہاں سے دریائے سندھ آگے پنجاب کے مختلف علاقوں کو سیراب کرتا ہوا آگے بڑھتا ہے اور کوٹ مٹھن کے قریب پنجنند کے مقام پر دریائے چناب و جہلم اور دریائے ستلج و راوی دریائے سندھ میں گرتے ہیں اور یہاں سے آگے یہ دریا سندھ کے مختلف علاقوں سے گزرتا ہوا زرعی اور پینے کے پانی کی ضروریات کو پورا کرتا ہوا ٹھٹھہ کے مقام پر بحیرہ عرب میں گرتا ہے.
    کیا اس لیے تقدیر نے چنوائے تھے تنکے ….. محمد عبداللہ
    دریاؤں کی اس ساری بحث کا ماحاصل یہ ہے کہ سندھ طاس معاہدے کی بدولت بھارت آپ کے دریاؤں بیاس، ستلج، راوی کے پانی کو پہلے ہی ہڑپ کرچکا ہے صرف کشمیر سے آنے والے دریا باقی تھے جو پاکستان میں پانی لا رہے تھے لیکن کشمیر کے مکمل طور بھارت میں چلے جانے کے بعد آپ مکمل طور پر بھارت کے مختاج اور زیر اثر ہوجائیں گے کیونکہ پانی ہی زندگی ہے آپ کا زرعی ملک ہے جس کی ستر فیصد معیشت کا انحصار زراعت پر ہے تو آپ کی زمینیں بنجر ہوجائیں گی اور آپ کی بوند بوند کو ترسیں گے لیکن آپ کو پینے کے لیے بھی پانی نہیں ملے گا. (ہم نے کچھ عرصہ سندھ کیں گزارا ہے ہم جانتے ہیں ٹیل میں رہنے والے لوگ پانی کے لیے کتنا ترستے ہیں اور بعض اوقات پینے کے پانی کی بھی قلت ہوجاتی ہے.)
    بلوچستان بھی پاکستان ہے… محمد عبداللہ
    اگرچہ بھارت نے ان دریاؤں پر جن کے پانی پر پاکستان کا حق ہے ان پر بھی مقبوضہ کشمیر کیں چونسٹھ کے قریب چھوٹے بڑے ڈیم تعمیر کرلیے ہوئے اور مزید یہ کہ ٹنلز کے ذریعے ان دریاؤں کا پانی چوری کرکے دور دراز راجستھان میں لے جاکر ا کو سیراب کر رہا ہے. کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت ختم ہونے کے بعد اس سارے پانی اور دریاؤں پر مکمل طور پر بھارت کا کنٹرول ہوگا اور وہ جب چاہے جیسے چاہے اس کو استعمال کرے گا. جب ضرورت ہوگی تو پانی روک لیا جائے گا اور جب بارشوں اور سیلاب کا سیزن ہوگا تو بھارت پاکستان میں ضرورت سے زیادہ پانی بھیج کر آپ کو تباہ و برباد کرے گا جس کا وہ ماضی میں تجربہ بھی کرچکا ہے جس کو دنیا بھر کے ماہرین واٹر بم کا نام دے رہے ہیں.
    بھارت کو کتے نے نہیں کاٹا کہ وہ آپ کو محض ٹرینیں اور بسیں روک دینے سے کشمیر دے کر کشمیر آزاد کردے اور آپ کو آزادی سے زندگی گزارنے کا موقع دے دے. جو لوگ اس خوش فہمی میں ہیں کہ فقط سیاسی اور سفارتی حربوں سے کشمیر مل جائے گا تو وہ لوگ بہت بڑی بھول میں ہیں اک کشمیر کی وجہ سے بھارت پاکستان کو مکمل طور کنٹرول کرسکتا ہے جبکہ اسی کشمیر کی ہی وجہ سے بھارت امریکہ کے ساتھ مل کر نہ صرف چین کو ڈسٹرب کرسکتے ہیں کہ بلکہ گیمر چینجر پلان سی پیک کی گیم بھی الٹائی جاسکتی ہے.یہ وہ مرحلہ ہوگا جس پر پاکستان کے لیے سارے راستے مسدود ہوجائیں گے.
    اس لیے پاکستان کو چاہیے کہ وہ کشمیر کے مسئلہ پر سنجیدہ ہوجائے. جلد یا بدیر آپ کو کشمیر کی صورت میں پاکستان کی بقاء کے لیے بھارت سے دو دو ہاتھ کرنا پڑیں گے، کوئی فیصلہ کن قدم اٹھانا پڑے گا وہ آپ آج اٹھاتے ہیں یا سب کچھ گنوا کر اٹھاتے ہیں فیصلہ
    آپ کے ہاتھ میں ہے.

    Muhammad Abdullah

  • جنگ مسئلے کا حل ہے یا نہیں؟؟؟ محمد عبداللہ

    جنگ مسئلے کا حل ہے یا نہیں؟؟؟ محمد عبداللہ

    اگر جنگ کسی مسئلے کا حل نہ ہوتی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ بدو و احد میں نہ نکلتے، نہ صحابہ شہید ہوتے نہ نبی مکرم کے دندان مبارک شہید ہوتے، نہ مرحب شیر خدا کے ہاتھوں زیر ہوتا نہ مکہ و حنین فتح ہوتے، اگر جنگ کسی مسئلے کا حل نہ ہوتی تو روم و فارس ابو عبیدہ اور خالد ابن ولید کے پاؤں تلے نہ روندے جاتے، اگر جنگ کسی مسئلے کا حل نہ ہوتی تو ابن قاسم سندھ میں، ابن نصیر اندلس میں اور ابن باہلی چائنہ میں اپنے گھوڑوں کا نہ دوڑا رہے ہوتے. اسلام کی تو تاریخ ہی جنگوں سے عبارت ہے ہاں یہ جنگ ظلم و فساد نہیں پھیلاتی بلکہ اسلام نے اس کو جہاد کا نام دیا ہے جو انسانوں کو ظلم و ستم سے بچاتا ہے، جو فتنہ و فساد سے بچاتا ہے، جو بندوں کو بندوں ہی کی بندگی سے نکال کر ایک رب کے سامنے جھکاتا ہے، جو دنیا سے فتنے اور ظلم کا خاتمہ کرتا ہے. اسلامی تعلیمات تو بھری پڑی جہاد کے احکامات سے اگر جہاد پر مشتمل قرانی آیات کو جمع کیا جائے تو سوا آٹھ پارے بنتے جن میں اللہ اپنے بندوں کو جہاد اور حکمت کا اک اک گر سکھاتا، کہیں اللہ جہاد کی تیاری کا حکم دیتا تو کہیں انٹیلیجنس کے درس دیتا، کہیں بین الاقوامی تعلقات سکھاتا تو کہیں حملے اور دفاع کے طریقے تو آج کا مسلمان کیسے کہہ سکتا ہے کہ جنگ کسی مئلے کا حل نہیں ہے؟؟ آپ پاکستان کی کسی بھی چھاؤنی میں چلے جائیں آپ کو جہادی آیات کے کتبے دور سے نظر آئیں گے جن کو پڑھ اور سمجھ کر نوجوانوں کے دلوں میں جذبہ جہاد اور شوق شہادت مچل اٹھتا ہے. آپ پڑھو ذرا قران کو کہ اللہ اپنے بندوں سے مخاطب ہوکر واضح طور پر فرماتا ہے ” وما لکم لا تقاتلون….. الخ” تمہیں کیا ہوگیا ہے تم اللہ کے رستے میں ان کمزور عورتوں، مردوں، بچوں اور بوڑھوں کی مدد کے لیے جہاد نہیں کرتے جو رو رو کر اللہ سے فریادیں کرتے ہیں کہ اللہ ہمیں اس ظلم کی بستی سے نکال لے کہ یہاں کے رہنے والے ہم پر ظلم کرتے ہیں” آج اہل کشمیر اس حالت میں اللہ کے سامنے فریادی ہیں اور مدد کے لیے تمہاری طرف دیکھ رہے ہیں تو تم کہتے ہو کہ جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں ہے. پوچھو کیوں جی تو کہیں گے کہ پاکستان کی معاشی و سیاسی حالت متحمل نہیں ہے جنگ تو تبوک میں مدینہ والوں کی معاشی حالت پڑھو ذرا خشک سالی کے پکی فصلیں کھیتوں میں چھوڑ کر جا رہے ہیں، ابوبکر رض کے دور خلافت کے اوائل میں پڑھو ذرا لشکر اسامہ بن زید کی روانگی کے قصے کہ سازشیں، فتنے عروج پر تھے مگر جو لشکر نبی نے روانہ کرنا چاہا تھا اس کو اولین ترجیح پر رکھا. آج تمہارے معاشی و سیاسی مسئلے بڑے ہوگئے ہیں امت مسلمہ کے قتل عام سے؟ ؟
    ہاں جنگ کی خواہش نہیں کرنی چاہیے مگر جب جنگ مسلط کردی جائے تو پھر جنگ سے بھاگنا فقط جنگ سے بھاگنا نہیں ہوتا بلکہ اللہ کی رحمتوں سے اللہ کے عذاب اور نافرمانی کی طرف بھاگنا ہوتا ہے.

    Muhammad Abdullah
  • سوشل میڈیا ایکٹوسٹس کا دفتر خارجہ کے نام کھلا خط … محمد عبداللہ

    سوشل میڈیا ایکٹوسٹس کا دفتر خارجہ کے نام کھلا خط … محمد عبداللہ

    گزشتہ روز ایک سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے دفتر خارجہ کے ترجمان ڈاکٹر محمد فیصل اور چیئرمین کشمیر کمیٹی سید فخر امام کا کہنا تھا نوجوان طبقہ کشمیر ایشو کو سوشل میڈیا پر اجاگر کریں اور کشمیری عوام پر ہونے والے بھارتی مظالم کا پردہ چاک کیا جائے. سب سے پہلے تو اس بات پر خوشی کا اظہار کیا جائے یا افسوس کہ بالآخر پاکستان کے آفیشلز کو مسئلہ کشمیر میں سوشل میڈیا کے کردار کی اہمیت کا اندازہ ہی ہوگیا اگرچہ بہت تاخیر کے ساتھ ہی ہوا.
    جناب عزت مآب ڈاکٹر محمد فیصل صاحب ترجمان دفتر خارجہ پاکستان!
    بڑی خوشی ہوئی کہ آپ نے کشمیر میں انڈین مظالم اور کشمیر کی آزادی کے حوالے سے نوجوانوں سے مدد مانگی کہ سوشل میڈیا پر نوجوان طبقہ کشمیر ایشو کو اجاگر کرے. آپ کا کہنا تھا کہ کشمیر میں ایک لاکھ شہادتیں ہوچکی ہیں تو ہمیں اس ایشو کو اجاگر کرنے کے لیے سوشل میڈیا کے پلیٹ فارمز کو استعمال کریں.

    سوشل میڈیا پر بھارت کا راج پاکستانی بے یارو مددگار — محمد عبداللہ

    جناب عالی! آپ کے اس بیان کو سن کر ہمیں خوشی بھی ہوئی اور آپ کی سادگی پر ہنسی بھی آئی کہ گزشتہ دس بارہ سالوں سے پاکستان کے سوشل میڈیا ایکٹوسٹس کشمیر کا مقدمہ سوشل میڈیا پر لڑتے رہے. ان دس بارہ سالوں میں کشمیر ایشو، نظریہ پاکستان یا بھارت کے ہندو توا پر کام کرنے والے پاکستانی سوشل میڈیا ایکٹوسٹس میں شاید ہی کوئی ہو جس کے بیسیوں، سینکڑوں سوشل میڈیا اکاؤنٹس ان سوشل میڈیا سائٹس کی انتظامیہ کی طرف انڈین دباؤ میں آکر بلاک نہ کیے گئے ہوں. ہم تب سے چیخ چلا رہے ہیں کہ پاکستانی حکومت اس میں اپنا کردار ادا کرے اگر بھارت دھونس اور دباؤ ڈال کر اپنے مطالبات منظور کروا سکتا تو پاکستان کیوں نہیں؟ میں کتنے ہی فعال ترین ایکٹوسٹس کو جانتا ہوں جو کشمیر ایشو کو سوشل میڈیا پر زندہ رکھے ہوئے تھے مگر اکاؤنٹس کی مسلسل بندش کے سلسلوں اور پاکستانی انتظامیہ کی بے حسی سے تنگ آکر کچھ تو سوشل میڈیا کا استعمال ہی چھوڑ گئے اور کچھ نے دیگر مصروفیات ڈھونڈ لیں. تب پاکستان کی انتظامیہ میں سے کسی کے کان پر جوں تک نہ رینگی کہ ہم بہت بڑا نقصان کر رہے ہیں ان ایکٹوسٹس کی مدد نہ کرکے، رہی سہی کسر کشمیر ایشو کے لیے اپنی ساری زندگی تیاگ دینے والے رہنماؤں اور جماعتوں پر لگنے والی پابندیوں اور ان پر لگنے والے دہشت گردی کی دفعات نے پوری کردی اب کوئی کشمیر کا نام سنتے ہی ہاتھ کانوں پر لگاتا ہے کہ نہ بابا میں دہشت گردی کا پرچہ نہیں کٹوانا ، کشمیر کا نام لینا ہی دہشت گردی بنا دی گئی ہے. کسی سے کہہ دو کہ آؤ کشمیر کے حوالے سے سوشل میڈیا پر کچھ بات کرلیں تو وہ صاف انکار کرتا کہ بڑی مشکل سے میرے اکاؤنٹ کی کچھ "ریچ” بنی ہے آپ کیوں بلاک کروانا چاہتے ہیں. ہمارے کتنے ہی بڑے بڑے پیجز اور اکاؤنٹس کہ جن کی رسائی لاکھوں میں نہیں کروڑوں میں تھی وہ پاکستان انتظامیہ کی بے حسی اور بھارتی غنڈہ کردی کی نذر ہوکر بلاک کردیئے گئے. اب جب آپ لوگوں کو نظر آیا کہ اپنے ٹوٹے پھوٹے موبائلوں اور سستے پیکجز سے کشمیر پر کام کرنے والے غائب ہوگئے اور کشمیر کا نام بھی سوشل میڈیا سے ختم ہوتا جا رہا ہے تو آپ نے نوجوانوں سے مدد مانگنا شروع کردی کہ آئیں اس فیلڈ میں کام کریں تو عالی جناب نوجوان تو برسوں سے اس فیلڈ میں موجود تھے مگر ان کو اس فیلڈ میں کس نے بے یارو مددگار چھوڑ کر ان کو اس میدان سے منہ پھیرلینے پر مجبور کیا؟؟؟

    مسئلہ کشمیر اجاگر کرنے کیلئے میڈیا اور سوشل میڈیا کو استعمال کیا جائے، فخر امام، ڈاکٹر محمد فیصل

    جناب عالی ڈاکٹر فیصل صاحب! اب آپ ہی ہمیں بتائیے کہ ہم سوشل میڈیا پر کشمیر ایشو کو کیسے اجاگر کریں، کیسے سوشل میڈیا پر بین الاقوامی رائے عامہ کو ہموار کریں کہ بھارت پوری طرح سے اس فیلڈ میں چھایا ہوا ہے اور کسی بھی پاکستانی اکاؤنٹ یا پیج کو کشمیر پر بات کرنے کے جرم میں بلاک کردیا جاتا ہے تو ایسے میں تھوڑی سی مزید رہنمائی کردیں کہ کیسے اجاگر ہوگا یہ مسئلہ کشمیر؟ ؟؟

    Muhammad Abdullah