Baaghi TV

Tag: تماشا

  • پنجاب میں شرمناک تماشا جاری ہے، سراج الحق

    پنجاب میں شرمناک تماشا جاری ہے، سراج الحق

    امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے کہا ہے کہ ملک کے سب سے بڑے صوبے پنجاب میں شرمناک تماشا جاری ہے۔ حکمران جماعتوں کے درمیان جاری چپلقش کا انجام خطرناک ہو گا۔ مرکزی اور صوبائی حکومتوں نے عوام کو سینڈ وچ بنایا ہوا ہے۔ ظالم اشرافیہ کو عوام کی فکر نہیں، مہنگائی کی وجہ سے لوگوں کا سانس لینا دشوار ہو گیا۔ مزدور، کاشتکار رُل گئے، تعلیم غریب کے بچے کی پہنچ سے دور،عام آدمی کے لیے علاج کرانا ناممکن ہو چکا۔ گھمبیر حالات میں حکمران جماعتیں مسلسل گالم گلوچ کی سیاست کو ہی پروان چڑھا رہی ہیں۔ اپنے رویے درست کرنے اور عوام کو ریلیف دینے کی بجائے، تینوں بڑی سیاسی جماعتوں میں مفادا ت کی جنگ جاری ہے۔

    قوم اب ان حکمرانوں سے تنگ آ چکی، ملک کو بحرانوں سے نکالنے کا واحد راستہ اسلامی انقلاب ہے۔ جماعت اسلامی قوم کو دعوت دیتی ہے کہ اسلامی نظام کے لیے ہمارے دست و بازو بنیں۔ اس وقت تمام سیاسی جماعتیں کہیں نہ کہیں حکومت میں ہیں، صرف جماعت اسلامی ہی حقیقی اپوزیشن کا کردار ادا کر رہی ہے۔ قرآن و سنت کے نظام اور آئین و قانون کی بالادستی کے لیے جدوجہد جاری رہے گی۔ حکمرانوں کی لڑائی کی وجہ سے قوم شدید پولرائزیشن کا شکار ہے، قومی میڈیا تعمیری کردار ادا کرے۔ سیاسی جماعتوں کے ورکرز اور کارکنان سوشل میڈیا پر ایک دوسرے کے خلاف ایسی زبان استعمال کر رہے ہیں جس کی کسی بھی مہذب معاشرے میں اجازت نہیں دی جا سکتی۔ جماعت اسلامی کا سوشل میڈیا اور کارکنان معاشرے میں اسلامی شعائر کی ترویج، نظریہ پاکستان کے فروغ اور قوم میں اتحاد و اتفاق کے لیے بھرپور کردار ادا کریں۔

    سراج الحق منصورہ میں میڈیا کے ذمہ داران کے اجلاس سے خطاب کررہے تھے۔ سیکرٹری جنرل امیر العظیم،سیکرٹری اطلاعات قیصر شریف اور دیگر بھی اس موقع پر موجود تھے۔
    سراج الحق نے کہا کہ وفاق اور صوبوں نے جو بجٹ پیش کیے ہیں اس سے صرف مراعات یافتہ طبقہ کو مزید مراعات ملیں گی یا سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں معمولی اضافہ ہوا ہے۔بجٹ میں عام شہری کے حصے میں معاشی تباہی کے علاوہ کوئی چیز نہیں ہے۔ حکمران جماعتوں نے مل کر ملک کو عملی طور پر آئی ایم ایف کے حوالے کر دیا ہے۔ غلط معاشی پالیسیوں کی وجہ سے قومی خزانے میں سرکاری ملازمین کو تنخواہ دینے کے پیسے نہیں ہیں۔ اتحادی حکومت نے پٹرول کی قیمت میں 60روپے فی لٹر اضافہ کر کے بھی بس نہیں کی اور قیمتوں کو مزید بڑھانے کی تیاریاں ہو رہی ہیں۔

    حالات اسی طرح رہے تو پٹرول 260روپے فی لٹر تک پہنچ جائے گا۔ بجلی کے ٹیرف میں 9روپے فی یونٹ اورگیس کی قیمتوں میں 45فیصد اضافہ کر دیا گیا۔ مہنگائی کی وجہ سے لوگوں کا گھروں سے نکلنا دشوار ہو گیا۔ ملک کے طول و عرض میں 12گھنٹے سے زائد لوڈشیڈنگ جاری، بجلی پیدا کرنے کے کارخانوں کو فیول دستیاب نہیں ہے۔ زرمبادلہ کے ذخائر صرف 9.2ارب ڈالر ہیں۔ گزشتہ 10ماہ میں برآمدات 30ارب ڈالر جب کہ درآمدات کا حجم 75ارب ڈالر تک پہنچ گیا۔ حکومت کو خسارہ کم کرنے کے لیے کم از کم 12ارب ڈالر چاہییں۔ حکمران ابھی سے ہی منی بجٹ کی باتیں کر رہے ہیں۔

    امیر جماعت نے کہا کہ سودی معیشت، کرپشن مسائل کی جڑ ہیں۔ مافیاز نے ملک کو یرغمال بنایا ہوا ہے۔ حکومت کو کہا تھا کہ بجٹ میں سودی معیشت سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لیے اقدامات اٹھائے جائیں، مگر حکمرانوں نے آئی ایم ایف کی ڈکٹیشن پر بجٹ تیار کیا اور اللہ اور اس کے رسولؐ سے جنگ جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔

    جماعت اسلامی ان حالات میں خاموش نہیں بیٹھ سکتی۔ چوکوں چوراہوں میں عوام کا مقدمہ لڑا جائے گا، ملک کو اسلامی فلاحی ریاست بنانے کے لیے جدوجہد جاری رہے گی۔قوم آزمائے ہوئے لوگوں کو مسترد کرے اور جماعت اسلامی کو خدمت کا موقع دے۔ لوگوں کو جان لینا چاہیے کہ ظالموں کا ساتھ دینا ظالم میں شراکت کے مترادف ہے۔ 75برسوں سے عوام کی گردنوں پر سوار جاگیرداروں، وڈیروں اور کرپٹ سرمایہ داروں کو گھر بھیجنا ضروری ہے اور اسی سے ہی ملک کی کشتی گرداب سے نکل پائے گی۔

  • بجٹ کیلئے اسمبلی آیا مگر آج بھی تماشا چل رہا ہے،حمزہ شہباز

    بجٹ کیلئے اسمبلی آیا مگر آج بھی تماشا چل رہا ہے،حمزہ شہباز

    وزیراعلی پنجاب حمزہ شہباز نے کہا کہ 12 کروڑ کے صوبے کا بجٹ آپ نے جام کیا ہے، ہماری نیت صاف ہے، 3 ماہ سے ان کا سامنا کررہا ہوں .رات گئے تک بیٹھوں گا، عوام دیکھیں گے یہ شخص تماشا کررہا ہے، یہ وہی اسپیکر ہے جس کے اپنے خلاف عدم اعتماد ہے.

    پنجاب اسمبلی کے باہر میڈیا نمائیندوں سے گفتگو کرتے ہوئے حمزہ شہباز نے کہا کہ یہ روز آئین اور قانون کی پامالی کر تا ہے،بجٹ پاس ہوگا اللہ کو منظور ہوا تو،آپ کو کسی کی شکل پسند نہیں، پرانا دکھ اور غصہ ہےتو کیوں آئین کو پامال کر رہے ہیں،عوام کو بتائوں گا تین ماہ میں پنجاب میں جو آئین و قانون کاُ تماشا لگایا.

    حمزہ شہباز کا کہنا تھا کہ تین مہینوں کا تماشا پہلے کبھی نہیں دیکھا کبھی اجلاس بلایا تو چند منٹ میں ختم کر دیا جاتاہے،راجہ ایندر پرویز الہی بنے ہوئے ہیں،آئین و قانون پاسداری کرتے ہوئے ڈپٹی سپیکر نے وزارت اعلی کا انتخاب کیا،ٹوٹے ہوئے بازو کا تماشا لگایا گیا ،میرئ ذات کا معاملہ نہیں عوام کا معاملہ ہے،لوگ مہنگائی کے شکار ہیں اور انہیں آئی جی اور چیف سیکرٹری کی پڑی ہوئی ہے

    حمزہ شہباز نے کہا کہ میری انا عوام سے زیادہ نہیں لیکن انہوں نے بازاری زبان استعمال کی ، رات بارہ بجے گھرگیا، کھیل تماشا کرنے تو نہیں آیا، کلرکوں اور مزدوروں کےلئے اچھی خبر لے کر آیا مگر بنی گالہ اور سپیکر پرویز الہی کی انا کی تسکین نہیں ہو رہی.

    حمزہ شہبازکا کہنا تھا کہ فرح گوگی کا نام لیا جاتاہے تو تکلیف ہوتی ہے ریاست مدینہ میں توشہ خانہ سے گھڑیاں بیچی جاتی ہیں ، عوام کو بتانا چاہتا ہوکہ انا نہیں ہے عوام کی بہتری کےلئے انا بھی نچھاور کر دوں گا.

    ہم کہتے ہیں بجٹ پیش کرنے دو مگر وہ کہتے آئی جی کو پیش کرو، انہیں اب عوام کی عدالت میں پیش کروں گا، ڈر کر کہتا ہوں دو ماہ کی کابینہ نے آٹے پردو سو ارب روپے کی سبسڈی دی ، تماشا بند ہوناچاہئے، آئین و قانون کا تماشا بند ہونا چاہئیے،اب تماشا نہیں چلے گا، بجٹ بھی پاس ہوگا اور کامیاب بھی ہوں گے،اگر کسی کی شکل پسند نہیں تو آئیُن و قانون کی پامالی تو نہُ کریں.

    اوزیراعلی نے مزید کہا کہ آج بھی آیا ہوں ، بیٹھوں گا مگر تماشا آج بھی جاری ہے، یہ وہی سپیکر ہے جس پر عدم اعتماد ہے ، اب عوامُ دشمنی کررہے ہیں، آپشن نہیں بتائوں گا نیت صاف ہے، تین ماہ سے آئینی بحرانوں کا سامنا کررہاہوں، پہلی جولائی سے ٹی ایچ کیو ڈی ایچ کیو میں مفت ادویات دوںُگا ،بجٹ بھی پیش ہوگا آئینی کھلواڑ کا بھی بندوبست کروں گا.

  • اوکاڑہ: ایک شخص کی دس بھینسیں نہر میں ڈوب کر ہلاک

    اوکاڑہ: ایک شخص کی دس بھینسیں نہر میں ڈوب کر ہلاک

    اوکاڑہ(علی حسین) ایک شخص کی 10 بھینسیں لوئر باری دوآب میں ڈوب گئیں جبکہ 9 بھینسوں کو بچا لیا گیا۔ اوکاڑہ کینٹ گیمبر کے قریب نہر لوئرباری دوآب میں 55 فائیو ایل کا ایک رہائشی محمد ارشد اپنی 19 بھینسوں کو نہر کے کنارے نہلا رہا تھا کہ اچانک بھینسیں نہر کے گہرے پانی میں اتر گئیں اور توازن کھو بیٹھیں جسکی وجہ سے نہر کا تیز پانی بھینسوں کو بہا لے گیا جبکہ نو عدد بھینسوں کو بمشکل بچایا گیا۔ بھینسوں کا مالک محمد ارشد لوگوں کو مدد کے لیے دہائی دیتا رہا لیکن کسی نے مدد نہیں کی بلکہ موقع پر موجود لوگ اس سارے واقعے کی ویڈیوز بناتے رہے۔