Baaghi TV

Tag: تنخواہ

  • انٹرویو میں پوچھے جانے والے سوال،آپ کی تنخواہ کتنی ہونی چاہیے؟کا بل گیٹس نے بہترین جواب  بتادیا

    انٹرویو میں پوچھے جانے والے سوال،آپ کی تنخواہ کتنی ہونی چاہیے؟کا بل گیٹس نے بہترین جواب بتادیا

    دنیا بھر میں نوکری کے انٹرویوز کے دوران سب سے مشکل اور ناپسندیدہ سوال سمجھا جاتا ہے کہ ’آپ کی تنخواہ کتنی ہونی چاہیے؟ مائیکرو سافٹ کے بانی بل گیٹس نے اس سوال کا منفرد اور بہترین جواب بتا دیا ہے-

    امریکی بزنس ویب سائٹ بزنس انسائیڈر کے مطابق ایک انٹرویو میں جب گیٹس سے پوچھا گیا کہ وہ اس سوال کا جواب کیسے دیں گے تو انہوں نے کہا کہ میں امید کرتا ہوں کہ کمپنی مجھے اچھا پیکیج دے گی تاکہ میں رسک لے سکوں، مجھے کمپنی کے مستقبل پر اعتماد ہے اس لیے میں فوری نقد رقم سے زیادہ اسٹاک آپشنز کو ترجیح دوں گا، مجھے معلوم ہے دیگر کمپنیاں زیادہ دیتی ہیں لیکن مجھے منصفانہ رویہ اور آپشنز زیادہ اہم لگتے ہیں۔

    ماہرین کے مطابق،بل گیٹس کا یہ سادہ سا جواب ان کے وژن اور مستقبل بینی کو ظاہر کرتا ہے یہی حکمتِ عملی ان کی دولت کا اہم سبب بھی بنی کیونکہ ان کی بیشتر دولت مائیکروسافٹ کے شیئرز سے بنی، بل گیٹس کا جواب نہ صرف خود اعتمادی اور حوصلے کی علامت ہے بلکہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ وہ کمپنی کے ساتھ طویل المدتی وابستگی چاہتے ہیں۔ یہ جواب شفافیت، اعتماد اور کمپنی کے مستقبل پر یقین کو اجاگر کرتا ہے۔

    سگی بیٹی سے زیادتی کا الزام : 12 سال سے جیل میں قید والد بری
    انٹرویو میں بل گیٹس نے اعتراف کیا کہ وہ کبھی بھی سیلز یا مارکیٹنگ کے شعبے میں کامیاب نہیں ہو سکتے کہا میں فطری طور پر سیلز یا مارکیٹنگ کا ماہر نہیں ہوں، میری دلچسپی ہمیشہ پروڈکٹ بنانے اور اس کی تعریف پر مرکوز رہی ہے۔

    جنوبی کوریا: اسکولوں میں موبائل فونز اور ڈیجیٹل ڈیوائسز کے استعمال پر پابندی

  • تنخواہ نہ ملنے پر شہری نےاحتجاجا دفتر کے باہر فٹ پاتھ کو ہی گھر بنا لیا

    تنخواہ نہ ملنے پر شہری نےاحتجاجا دفتر کے باہر فٹ پاتھ کو ہی گھر بنا لیا

    پونا بھارتی کمپنی ٹاٹا کنسلٹنسی سروسز (ٹی سی ایس) کے ایک ملازم نے تنخواہ نہ ملنے پر بوراحتجاج،دفتر کے باہر سڑک پرڈیرا ڈال دیا جس کی تصویر سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی۔

    بھارتی میڈیا کا کہنا ہے کہ مذکورہ ملازم کا نام سوربھ مور ہے، جو دعویٰ کرتا ہے کہ کئی ماہ سے اس کی تنخواہ جاری نہیں کی گئی، تصویر میں سوربھ مور کے ساتھ ہی ایک ہاتھ سے لکھی گئی تحریر بھی نظر آتی ہے جس میں لکھا ہے کہ میں نے ایچ آر کو اطلاع دے دی ہے کہ میرے پاس پیسے نہیں ہیں، اس لیے مجھے فٹ پاتھ پر کمپنی کے باہر رہنا اور سونا پڑے گا۔‘

    سوربھ مور نے بتایا کہ وہ 29 جولائی 2025 کو ڈیوٹی پر واپس آیا تو اسے اطلاع ملی کہ اس کا ایمپلائی آئی ڈی اور کمپنی کے سسٹمز میں رسائی معطل کر دی گئی ہے، ایچ آر کی جانب سے تنخواہ جلد جاری کرنے کا وعدہ کیا گیا تھا، مگر اب تک کوئی ادائیگی نہیں کی گئی۔

    ایران میں 5.7 شدت کا زلزلہ

    اس معاملے پر کمپنی نے بھارتی میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ ملازم سے رابطے میں ہیں اور مسئلے کو حل کرنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں کمپنی کے ترجمان کا کہنا تھا کہ مذکورہ ملازم کی تنخواہ غیر حاضری کی بنیاد پر معطل کی گئی تھی، جو کمپنی کی اندرونی پالیسی کے مطابق ہے، فی الوقت ملازم کے لیے رہائش کا بندوبست کر دیا گیا ہے اور یقین دہانی کرائی کہ وہ معاملے کو منصفانہ اور تعمیری طریقے سے حل کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔

    مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے 6 سال، آج یوم استحصال منایا جارہا ہے

  • پنشن اسکیم بحالی مطالبہ؛ حکومت کیخلاف مہم جوئی تیز

    پنشن اسکیم بحالی مطالبہ؛ حکومت کیخلاف مہم جوئی تیز

    پرانی پنشن اسکیم کی بحالی کا مطالبہ کرتے ہوئےمرکزی اور ریاستی حکومتوں کے کئی لاکھ ملازمین نے دارالحکومت کے رام لیلا میدان میں مظاہرہ کیا جبکہ دی ٹیلی گراف کی رپورٹ کے مطابق اتر پردیش کے اٹاوہ سے یہاں پہنچے ٹیچر لیڈرسنیل باجپئی نےکہا کہ انڈمان اور لداخ سمیت ملک بھر سے 8 سے 10 لاکھ ملازمین جمع ہوئے تھے۔

    تاہم مرکزی اور ریاستی سرکاری ملازمین کی تنظیم نیشنل موومنٹ فار اولڈ پنشن اسکیم ے احتجاجی مظاہرے کی کال دی تھی اور این ایم او پی ایس مرکز اور زیادہ تر ریاستوں کے ذریعے نئی پنشن اسکیم (این پی ایس) کے آغاز کے بعد بھرتی کیے گئے ملازمین کے لیے پرانی پنشن اسکیم (او پی ایس) کی بحالی کے لی بھارت میں ملک گیر تحریک کی قیادت کر رہا ہے۔

    پرانی پنشن اسکیم ایک ملازم کو ان کی آخری تنخواہ کے 50 فیصد کے برابر پنشن کا حقدار بناتی ہے 2004 میں مرکز کی طرف سے متعارف کرائی گئی اور زیادہ تر ریاستوں کے ذریعے اپنائی گئی نئی پنشن اسکیم میں ایک ملازم کو اپنی پنشن کے لیے سرکار کے مساوی شراکت کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس اسکیم میں شراکت کی سب سے زیادہ شرح پربھی حتمی پنشن پرانی پنشن اسکیم کے مقابلے میں بہت کم ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    وزیراعلیٰ محسن نقوی کی شہید ہارون الرشیدکی والدہ، اہلیہ، بچوں اوربھائیوں سے ملاقات
    36گھنٹوں میں پاکستان میں زلزلہ، خطرناک پیشین گوئی،مریم نواز کی جلسی ناکام

    مذہبی ہم آہنگی کے فروغ کیلیے اسلامی نظریاتی کونسل کو مزید متحرک ہونا ہو گا،وزیراعظم
    نومبر یا مارچ میں الیکشن کرایا جائے ، مولانا عبدالواسع
    امریکی ڈالر کے مقابلے روپیہ کی قدر میں مزید بہتری
    واضح رہے کہ این ایم او پی ایس کے رکن باجپائی نے کہا کہ مرکز کے ریلوے، دفاع اور ڈاک کے محکموں اور ریاستی حکومت کے تمام محکموں کے ملازمین نے اس میں حصہ لیا اور انہوں نے کہا کسان لیڈر راکیش ٹکیت اور اپوزیشن لیڈر جیسے کانگریس کے ادت راج، عام آدمی پارٹی سے سنجے سنگھ اور سماج وادی پارٹی کے کلدیپ یادو سمیت کئی لیڈروں نے احتجاج میں حصہ لیا۔

    جبکہ باجپئی نے کہا کہ میٹنگ میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ این ایم او پی ایس اگلے چند دنوں تک حکومت کے جواب کا انتظار کرے گی اور ان کا کہنا تھا کہ اگر کوئی مثبت جواب نہیں ملتا ہے، تواین ایم او پی ایس تمام ریاستوں میں بی جے پی کے خلاف مہم چلائے گی اور لوگوں سے کہے گی کہ وہ 2024 کے عام انتخابات میں پارٹی کو ووٹ نہ دیں۔

  • نگران وزیر تجارت کا سرکاری مراعات نہ لینے کا اعلان

    نگران وزیر تجارت کا سرکاری مراعات نہ لینے کا اعلان

    نگران وزیر تجارت ڈاکٹر گوہر اعجاز نے سرکاری مراعات نہ لینے کا اعلان کردیا
    نگران وزیر تجارت ڈاکٹر گوہر اعجاز کا کہنا تھا کہ آج پہلے ہی روز سے، میں نے رضاکارانہ طور پر قوم کی خدمت کرنے کا پختہ عہد کیا ہے, میں پورے دور میں کوئی تنخواہ، معاوضہ، سرکاری سہولت یا مراعات قبول نہیں کروں گا, میں ذاتی طور پر کسی بھی ایڈوائزری یا خدمت کے لیے اٹھنے والے اخراجات کو خود برداشت کرونگا,میرا مقصد بغیر کسی ذاتی مالی فائدے کے قوم کی ترقی اور خوشحالی ہے,

    معروف صنعتکار اور فلاحی خدمت گار، گوہر اعجاز نے نگران وفاقی وزیر تجارت کے طور پر ذمہ داریاں سنبھال لیں۔گوہر اعجاز کو کامرس ڈویژن اور صنعت کے اہم کاموں اور ذمہ داریوں کے بارے میں ایک جامع بریفنگ دی گئی، وزیر تجارت گوہر اعجاز نے ملکی ایکسپورٹ کو 80 ارب ڈالر تک بڑھانے کا عزم کیا،

    نگراں وفاقی وزیر ریلوے کپیٹین ریٹائر ڈ شاہداشرف تارڑ نے حلف لینے کے بعد وزارت ریلوے کا چارج سنبھال لیا ۔وزارت ریلوے کے سینئر افسران نے وفاقی وزیر کا استقبال کیا۔ وفاقی سیکرٹری ریلویز سید مظہر علی شاہ نے ریلوے کے انتظامی اور آپر یشنل معاملات پر یفنگ دی۔

    معروف فنکار، فلم پروڈیوسر اور ہدایت کار، جمال شاہ نے عبوری حکومت میں حلف اٹھانے کے بعد عہدے کا چارج سنبھال لیا۔وفاقی وزیر برائے قومی ورثہ و ثقافت نے ذمہ داریاں سنبھالنے کے بعد قومی ورثہ و ثقافت کا دورہ کیا، وزارت میں سیکرٹری فارینہ مظہر اور قومی ورثہ و ثقافت ڈویژن کے دیگر افسران سے ملاقات کی وفاقی سیکرٹری نے جمال شاہ کو بریفنگ دی اور انہیں ہیریٹیج اینڈ کلچر ڈویژن کے کام کے بارے میں آگاہ کیا۔

    احمد عرفان اسلم نے نگراں وفاقی وزیر برائے قانون و انصاف پاکستان کا چارج سنبھال لیا وزارت قانون کے حکام نے نئے تعینات ہونے والے وزیر قانون کا استقبال کیا۔

    نگران وزیر خارجہ جلیل عباس جیلانی نے اپنے عہدہ کا چارج سنبھال لیا ،سابق سیکرٹری خارجہ جلیل عباس جیلانی سفارتکاری کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں نگران وزیر خارجہ امریکہ، یورپی یونین، بیلجئم، لگزمبرگ اور آسٹریلیا میں سفیر رہ چکے

    نگراں وفاقی وزیر توانائی محمد علی نے عہدے کا چارج سنبھال لیا۔ نگراں وفاقی وزیر کو پاور ڈویژن میں بریفنگ دی گئی،نگراں وفاقی وزیر کے لیے بریفنگ میں سیکریٹری پاور اور دیگر اعلیٰ افسر شریک تھے

    پولیس افسر و اہلکاروں کو حبس بے جا میں رکھنے کے واقعے کا مقدمہ درج

    جڑانوالہ واقعہ انتہائی افسوسناک ہے

     مسیحی قائدین کے پاس معافی مانگنے آئے ہیں،

    نگران وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ نے جڑانوالہ واقعہ کا نوٹس لیا ہے

    توہین رسالت کی مجرمہ خاتون کو سزائے موت سنا دی گئی

    نگران وزیراعظم سے نامزد نگران وزیراعلی بلوچستان کی ملاقات
  • پنجاب کے سرکاری ملازمین کی موجیں، تنخواہ بڑھانے کا نوٹفکیشن جاری

    پنجاب کے سرکاری ملازمین کی موجیں، تنخواہ بڑھانے کا نوٹفکیشن جاری

    پنجاب حکومت نے سرکاری ملازمین کی بنیادی تنخواہ میں 30 فیصد اضافے کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا

    نوٹیفکیشن وزیراعظم کی جانب سے نگران وزیراعلیٰ پنجاب کو فون کے بعد جاری کیا گیا،پنجاب حکومت نے سرکاری ریٹائرڈ ملازمین کی پنشن میں %5 اضافے کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے، نوٹفکیشن کے مطابق تنخواہوں کی مد دیا جانے والا اضافہ ایڈ ہاک ہو گا۔ تنخواہوں میں اضافے کا اطلاق یکم جولائی سے ہو گا ،

    تنخواہوں میں اضافے کا اعلان وزیراعلی پنجاب نے بجٹ میں کیا سرکاری ملازمین نے تنخواہوں میں اضافے کو مسترد کر رکھا ہے سرکاری ملازمین بنیادی تنخواہ میں 30 فی صد اضافے کے خلاف 5 دن تک ہڑتال کی ، نوٹفکیشن جاری نہ ہونے کی صور ت میں پنجاب کے سرکاری ملازمین نے دوبارہ احتجاج کی دھمکی تھی،

    وزیراعظم میاں محمد شہباز شریف نے نگران وزیراعلی پنجاب محسن نقوی کو فون کیا ہے ،وزیراعظم شہباز شریف نے نگران وزیراعلی پنجاب محسن نقوی سے پنجاب کے سرکاری ملازمین کی تنخواہیں اور پنشن کے بارے میں گفتگو کی، پنجاب کے سرکاری ملازمین کی تنخواہ اور پینشنرز کی پینشن وفاق کے برابر کرنے پر گفتگو کی گئی، وزیراعلی پنجاب نے تنخواہوں کے معاملے کو دوبارہ کابینہ میں لے جانے کی یقین دہانی کروائی،

    واضح رہے کہ پنجاب کے سرکاری ملازمین نے سول سیکرٹریٹ کے باہر پانچ دن تک دھرنا دیا تھا، وزیراعظم کے مشیر ملک احمد خان کی یقین دہانی پر ملازمین نے دھرنا ختم کیا تھا، احتجاج میں خواتین بھی شریک تھیں پانچ دن تک سول سیکرٹریٹ کے اطراف کی سڑکیں بند رہی تھیں،مظاہرین کا کہنا تھا کہ مہنگائی کے اس عالم میں موجودہ تنخواہ پر گزارہ نہیں، اساتذہ، لیڈی ہیلتھ ورکرز، اور مختلف محکموں کے ملازمین 5 روز سے سول سیکرٹریٹ کے سامنے ڈیرے ڈالے ہوئے ہیں ،انکا کہنا ہے کہ پنجاب حکومت وفاقی کی طرز پر رننگ تنخواہوں میں اضافہ کرے، پنشن میں 5 فیصد اضافہ کیا جبکہ وفاق نے ساڑھے سترہ فی صد کیا لیو انکیشمنٹ کا نوٹیفکیشن واپس لیا جائے،

    جماعت اسلامی نے سرکاری ملازمین کے مطالبات کی حمایت کر دی

    تمباکو پر ہیلتھ لیوی ٹیکس – ایک جائزہ ،تحریر: راجہ ارشد

    ہیلتھ لیوی ،تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی

    ویسے تو ہیلتھ لیوی کی منظوری 2019جون میں ہوچکی ہے

    تمباکو جیسی مصنوعات صحت کی خرابی اور پیداواری نقصان کا سبب بنتی ہیں

    ” ہیلتھ لیوی کے نفاذ میں تاخیر کیوں” تحریر: افشین

    شفقت کی "شفقت” لڑکیوں کے لیے سگریٹ مہنگا۔۔۔۔ نوجوان کس حال میں؟

    دوسری جانب سرکاری ملازمین کا کہنا ہے کہ احتجاج ختم کیے چارروز گزر گئے لیکن حکومت کی جانب سے ابھی تک تنخواہوں میں اضافے کا نوٹیفکیشن جاری نہیں ہوا، صدر بورڈ آف ریونیو یونین جہانگیر بھٹی کا کہنا ہے کہ مشیر وزیر اعظم ملک احمد خان کی یقین دہانی پر احتجاج ختم کیا لیکن سیکرٹری خزانہ پنجاب مجاہد شیر دل نے تنخواہوں میں اضافے کا نوٹیفکشن جاری نہیں کیا اگر نوٹیفکیشن جاری نہ ہوا تو دوبارہ پنجاب سول سیکرٹریٹ کے باہر آجائیں گےمطالبات نہ مانے گئے تو دوبارہ پنجاب بھر میں احتجاج کریں گے

    notifi

  • چندریان تھری کو سفر پر روانہ کرنیوالے ملازمین کئی ماہ کی تنخواہوں سے محروم

    چندریان تھری کو سفر پر روانہ کرنیوالے ملازمین کئی ماہ کی تنخواہوں سے محروم

    بھارت نے خلائی مشن چندریان تھری چاند کے سفر پر روانہ کر دیا، اس کی وجہ سے بھارت میں ایک طرف خوشی کا ماحول ہے کامیابی پر بھارتی فخر کر رہے ہیں تو دوسری جانب اس مشن کو کامیاب بنانے والے پریشان ہیں کیونکہ انہیں کئی ماہ کی تنخواہ نہیں ملی

    چندریان تھری کی لانچنگ ہو چکی، اسکے لانچنگ پیڈ سمیت کئی اہم سامان کی مینو فیکچرنگ کرنیوالی کمپنی کے انجنینر، افسروں اور اہلکاروں کو کئی ماہ کی تنخواہ نہیں مل سکی، چندریان کے تمام بڑے سیٹلائٹس کے لئے لانچنگ پیڈ بنانیوالی کمپنی کا نام ایچ ای سی، ہے،یہ کمپنی بھارتی وزارت صنعت کے ماتحت کام کرتی ہے،دو تین برسوں میں سنگین بحرانوں کا شکار رہی ہے، ایچ ای سی میں تین ہزار سے زائد انجینئر اور اہلکار کام کر رہے ہیں، کمپنی کے کئی ملازمین کو ابھی تک 17 ماہ کی تنخواہ نہیں ملی،کئی بار ملازمین نے احتجاج بھی کیا، لیکن ،چندریان تھری کے لئے کمپنی کو نہ صرف مکمل اداییگیاں ہوئیں اور پوری ہوئیں،

    ایچ ای سے کے انجینئر اور ملازمین نے چندریان تھری کی لانچنگ پر خوشی منائی، کیک کاٹا تا ہم وہ پریشان بھی تھے کیونکہ انکے گھروں کے چولہے کئی ماہ سے بجھ رہے، وہ کام تو کر رہے لیکن تنخواہیں نہیں مل پا رہیں،باغی ٹی وی کو موصولہ میڈیا رپورٹس کے مطابق ایچ ای سی کے پاس ورک آرڈر کی کمی نہیں لیکن وقت پر کام نہ ملنے کی وجہ سے کمپنی بحران کا شکار ہوئی اور مسلسل خسارے میں جا رہی ہے، ایچ ای سی نے وزارت سےایک ہزار کروڑ مانگے تھے تا کہ خسارہ ختم کیا جا سکے لیکن وزارت نے انکار کر دیا، اور کہا کہ ایچ ای سی کو چاہئے کہ خود کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرے،جن ملازمین کو تنخواہیں نہیں ملیں ان میں سے کئی ملازمت چھوڑ چکے ہیں تو ان میں سے کئی کام کے بعد اپنے علاقے میں جا کر سبزی یا فروٹ کی ریڑھی لگاتے ہیں جس کی وجہ سے انکا گھر چل رہا ہے، ایچ ای سی 1963 میں شروع کی گئی تھی اسوقت اس میں 22 ہزار ملازمین تھے تا ہم اب صرف 3400 رہ گئے ہیں پھر بھی کمپنی تںخواہین نہیں دے پا رہی،

    دوسری جانب چندریان تھری کی لانچنگ میں شامل سائنسدان ریتو کریدھال کو چندریان تھری کے لانچنگ کے بعد راکٹ لیڈی اور راکٹ وومین کہہ کر مخطاب کر رہے ہیں، ریتو کریدھا کا تعلق لکھنو سے ہے، انہیں بچپن سے ہی آسمان سے دلچپسی تھی، دوران تعلیم وقت ملتا تو وہ باہر بیٹھ کو آسمان کو دیکھتی رہتیں، ریتو کریدھال کی قیادت میں چندریان تھری نے اپنے سفر کا آغاز کیا،ریتو کو اسکے سکول کے استاد اور کلاس فیلو کامیابی پر مبارکباد دے رہے ہیں ،اور اسی کارکردگی پر فخر کر رہے ہیں،

    ریتو نے اپنی ابتدائی تعلیم لکھنو کے مقامی پرائیوٹ سکول میں حاصل کی، ریتو کے استاد کہتے ہیں کہ وہ کوئی معمولی لڑکی نہیں تھی، دوران تعلیم ہی اس نے اپنا ہدف مقرر کر لیا تھا اور بتا دیا تھا، وہ کہتی تھی کہ ایک دن آسمان کا سینیہ چیر کر رہوں گی، آج اس نے سب کر دکھایا،

    خلائی ایجادات؛ بھارت بمقابلہ پاکستان

     اسلامی شرعی احکامات کا مذاق اڑانے پر عمران نیازی کے خلاف راولپنڈی میں ریلی نکالی

    ویڈیو آ نہیں رہی، ویڈیو آ چکی ہے،کپتان کا حجرہ، مرشد کی خوشگوار گھڑیاں

    بھارت کا خلائی مشن چندریان تھری چاند کے سفر پر روانہ ہ

  • وزیر خزانہ سے قائم مقام برطانوی ہائی کمشنر کی ملاقات

    وزیر خزانہ سے قائم مقام برطانوی ہائی کمشنر کی ملاقات

    وزیر خزانہ اسحاق ڈار سے قائم مقام برطانوی ہائی کمشنر اینڈریو ڈیگلیش کی ملاقات ہوئی ہے،

    ملاقات میں معاون خصوصی طارق باجوہ، سپیشل سیکرٹری خزانہ اور فنانس ڈویژن کے دیگر سینئر افسران نے شرکت کی ،وزیر خزانہ نے برطانوی قائمقام کمشنر کو ملک کی مجموعی اقتصادی صورتحال سے آگاہ کیا ،اسحاق ڈار نے موجودہ حکومت کی معاشی پالیسیوں پر بھی روشنی ڈالی ،پاکستان سمیت دنیا کی موجودہ میکرو اکنامک صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا، وزیر خزانہ نے آئی ایم ایف پروگرام بحالی پر بھی بات چیت کی،

    برطانوی قائمقام ہائی کمشنر نے موجودہ حکومت کی معاشی پالیسیوں کو سراہا اور پاکستانی کے اقتصادی بحران کو کم کرنے کے لیے ہر ممکن تعاون کی پیشکش کی،وزیر خزانہ نے برطانوی قائم مقام ہائی کمشنر کے تعاون کی پیشکش پر اظہار تشکر کیا

    فردوس عاشق نے اپنے حلقہ انتخاب میں کیا کارنامہ سرانجام دیا، تہلکہ خیز انکشاف

    مشیر نہیں بلکہ جہنم میں تھی، فردوس عاشق اعوان کی ایک بار پھر گندی گالیاں

    شوکت خانم کے فنڈز سے نجی ہاؤسنگ پروجیکٹ میں سرمایہ کاری کی گئی، عمران خان کا اعتراف

    فردوس عاشق کالہجہ تلخ تھا،مگرسرکاری ملازم صاحبہ کا ڈیوٹی سےچلےجانا،تکبر،انااورافسرشاہی نہیں تواورکیاہے

    دوسری جانب اسحاق ڈار نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم سے مشاورت کی ہے، سرکاری ملازمین کو عیدالفطر سے پہلے اس ماہ کی تنخواہ دینے کا فیصلہ کیا ہے، ماہانہ پنشن کی ادائیگی بھی عیدالفطر سے پہلے کرنے کا فیصلہ کیا ہے، سیکرٹری خزانہ کو فوری انتظامات کرنے کی ہدایت کر دی گئی ہے

  • وفاقی کابینہ کے ارکان نے ایک ماہ کی تنخواہ سیلاب متاثرین کے لیے عطیہ کردی

    وفاقی کابینہ کے ارکان نے ایک ماہ کی تنخواہ سیلاب متاثرین کے لیے عطیہ کردی

    وفاقی کابینہ کے ارکان نے ایک ماہ کی تنخواہ سیلاب متاثرین کے لیے عطیہ کردی۔

    کابینہ کے تمام ارکان کی ایک ماہ کی تنخواہ وزیراعظم فلڈ ریلیف فنڈ میں جمع ہوگی۔دوسری طرف وزیراعظم شہباز شریف کی اپیل پر بین الاقوامی تنظیموں اور مالی اداروں نے سیلاب متاثرین کے لئے 50 کروڑ ڈالر سے زائد امداد کا اعلان کیا ہے۔

    کوئٹہ سے پشاور جانے والے ریلوے ٹریک کا پل گرگیا

    ورلڈ بینک کے کنٹری ڈائریکٹر نے وزیراعظم کو 35 کروڑ ڈالر کی فوری امداد سے آگاہ کیا۔
    ورلڈ فوڈ پروگرام نے سیلاب متاثرین کیلئے11 کروڑ ڈالر کی امداد کا اعلان کیا ہے۔ جبکہ ایشین ڈیولپمنٹ بینک نے 2 کروڑ ڈالر امداد کا اعلان کیا۔ یو کے ایڈ نے 15 لاکھ پاؤنڈ کی فوری امداد کا اعلان کیا۔اعلامیہ کے مطابق یوکے ایڈ نے سیلاب متاثرین سے متعلق منصوبوں کیلئے 3 کروڑ 80 لاکھ پاؤنڈ کا بھی اعلان کیا ہے۔

    پاک فضائیہ نے سیلاب متاثرہ علاقوں میں 12375 پاؤنڈ امدادی سامان تقسیم کر دیا

     

    قبل ازیں وفاقی وزیر شیری رحمان نے کہا ہے کہ ملک بھر میں آنے والی شدید بارشوں اور سیلاب کے باعث جاں بحق افراد کی تعداد 913 تک پہنچ گئی ہے۔ اب وقت آگیا ہے کہ عطیہ دہندگان اور دنیا ہماری مدد کریں۔دریائے سندھ میں پانی کا بہائو 2010 کے سپر فلڈ سے زیادہ ہے، 30 ملین متاثرین شیلٹرز کے بغیر ہیں۔

    وفاقی وزیر برائے ماحولیاتی تبدیلی سینیٹر شیری رحمان کی طرف سے جاری کردہ بیان میں بتایا گیا ہے کہ بارشوں اور سیلاب کی تباہ کاریوں میں 9 سو سے زائد افراد جاں بحق ہوچکے ہیں، ملک کا کوئی حصہ نہیں جو بارشوں اور سیلاب کی زد میں نہ ہو، افسوس ہے خیبر پختونخوا اور پنجاب میں سیلاب زدگان کی مدد کے بجائے عمران خان نے ہری پور میں جلسہ کیا۔

     

    مصیبت کی اس گھڑی میں ہر سیلاب زدہ فرد تک پہنچنا ہے۔ آرمی چیف

    شیری رحمان نے کہا کہ بارشوں اور سیلاب سے کل شام تک 913 لوگ جاں بحق ہوگئے، سندھ میں 169 ، کے پی میں 169 اور پنجاب میں 164 لوگ جاں بحق ہوئے، عمران خان کے پی اور پنجاب میں سیلاب زدگان کی جان و مال بچانے کے بجائے اپنی سیاست بچانے میں لگے ہوئے، کیا عمران خان کو پورے ملک میں سیلاب نظر نہیں آ رہا؟

    سینٹر شیری رحمان نے میڈیا سے گزارش کرتے ہوئے کہا کہ وہ سیلاب زدگان کی حالت زار کو اجاگر کرنے، بچاو اور امدادی سرگرمیوں اور مون سون کی بارشوں سے ہونے والے نقصانات کو اجاگر کرنے پر توجہ مرکوز کرے تاکہ متعلقہ سٹیک ہولڈرز کو عوامی تعاون کے ساتھ ایک مربوط ردعمل سے آگاہ کیا جا سکے۔

    انہوں نے کہا کہ اگست کے مہینے میں ملک میں مجموعی طور پر 166 ملی میٹر بارش ہوئی جو کہ معمول سے 241 فیصد زیادہ ہے جبکہ ملک کے جنوبی حصے بالخصوص سندھ میں رواں سیزن کی معمول کی اوسط سے 784 فیصد زیادہ بارشیں ہوئیں جو کہ تشویشناک ہے۔ یہ چونکا دینے والے اعدادوشمار محکمہ موسمیات کی جانب سے مرتب کیے گئے ہیں، شدید بارشوں نے متاثرہ صوبوں کے مختلف سیلاب زدہ علاقوں میں پلوں اور مواصلاتی ڈھانچے کو بہا دیا۔

    انہوں نے زور دیا کہ دریائے سندھ میں پانی کا بہائو 2010 کے سپر فلڈ سے زیادہ ہے، یہ مون سون کی بارشوں کے آٹھواں سلسلہ ہے جہاں جنوبی پاکستان میں شدید اور زیادہ بارشیں ہوئی ہیں جس کی وجہ سے سندھ کے 23 اضلاع کو آفت زدہ علاقے قرار دیا گیا ہے۔

    وفاقی وزیر نے بتایا کہ ملک میں قومی ایمرجنسی کا اعلان کیا گیا ہے، ملک میں سیلابی صورتحال کی وجہ سے وزیر خارجہ اور وزیر اعظم نے بیرون ملک سرکاری دورے ملتوی کر دیے ہیں۔ مسلح افواج اور نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) صوبائی حکومتوں کے ساتھ مل کر امدادی سرگرمیوں میں سرگرم ہیں۔

  • کیا وزیراعظم کےاعلان کے بعد مزدور طبقہ کومقرر کردہ اجرت پوری مل رہی؟

    کیا وزیراعظم کےاعلان کے بعد مزدور طبقہ کومقرر کردہ اجرت پوری مل رہی؟

    اقتدار سنبھالنے کے بعد وزیراعظم شہباز شریف نے قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے مزدوروں کی اجرت پچیس ہزار کرنے کا اعلان کیا تھا جس کی حقیقت جاننے کیلئے باغی ٹی وی نے ایک مزدور ملک کالو سے بات کی تو انہوں نے بتایا کہ: ہر نئی حکومت مزدوروں کی اجرت بڑھانے کا دعوی تو کرتی ہے مگر کیا مقرر کردہ اجرت مزدور کو پوری ملتی بھی ہے یا نہیں اس بات کو چیک نہیں کیا جاتا جو انتہائی افسوس ناک امر ہے۔

    ملک کالو مزید بتاتے ہیں کہ: آپ خود اندازہ لگا لیں ہمیں پانچ سے چھ سو روپے دیہاڑی ملتی ہے جو چھ سو روپے کے حساب سے لگ بھگ پندرہ ہزار ماہانہ بنتی ہےکیونکہ جمعتہ المبارک کی چار چھٹیاں آجاتی ہیں، وہ بھی ان مزدوروں کیلئے جو دیہاڑی دار طبقہ ہے مطلب تازی دیہاڑی کرتے ہیں جو کبھی لگتی ہے اور کبھی خالی ہاتھ گھر واپس آنا پڑتا ہے جبکہ آٹا، دال، گھی اور چینی کی قیمتیں دیکھیں تو آسمان کو چھو رہی ہیں۔ اور اگر کسی غریب کا مکان اپنا نہ ہو تو چھوٹے سے چھوٹے گھر کا کرایہ بھی دس ہزار سے کم نہیں ہے لہذا اب ایسے میں جب مہنگائی کم ہونے کے بجائے دن بدن بڑھتی جارہی ہے ایک غریب مزدور دو ہزار امداد میں اشیاء خوردونوش، بجلی، گیس بل یا لکڑی کا خرچہ سمیت مکان کا کرایہ کیسے پورا کرے گا۔

    گفتگو کے آخر میں ملک کالو نے ایک لمبی آہ بھری اور بھیگی آنکھوں  کے ساتھ دیکھتے ہوئے سوالیہ نظروں سے کہا کہ؛ صاحب! آپ بتاو اب ایسے میں مجھ جیسا ایک غریب آدمی اپنے بچوں کو تعلیم کیسے دے سکتا ہے؟ اور صاف ظاہر ہے معاشی بدحالی کے سبب مختلف غریب خاندان بچوں کو کام پر محض اس لیے بھیجتے ہیں تاکہ دو وقت کی روٹی کے پیسے کما کر عزت سے اپنا پیٹ پال سکیں اور گھریلو نظام چلا سکیں۔

    محمد جواد تقریبا پانچ سال تک ایک پرائیویٹ ٹیلی کام کمپنی میں ملازمت کرتے رہے تاہم انہیں اپنے حقوق کی بات یعنی تنخواہ بڑھانے کا کہنے پر کمپنی سے نکال دیا گیا انہوں نے بتایا: مجھے ایک ٹیلی کام کمپنی میں پانچ سال قبل 2018 کی شروعات میں بڑی مشکل سے ماہانہ چودہ ہزار روپے پر ملازمت ملی چونکہ میں بے روزگار تھا اور ان دنوں گھر کے معاشی حالات بھی بدتر تھے تو میں نے ملازمت اختیار کرلی جس میں میرا کام ریٹیلر سیل آفیسر کا تھا اور صبح آٹھ بجے مجھے روزانہ دفتر پہنچنا پڑتا جہاں میں آٹھ گھنٹے سے نو گھنٹے کام کرتا تھا جبکہ شام چار سے پانچ بجے چھٹی کرنے کے بعد بھی میں اس کمپنی کا دن رات پابند تھا چونکہ مجھے کمپنی کی طرف سے ایک سم دی گئی تھی جس سے میں نے کمپنی کے مستقل صارفین کو رقم لوڈ کرنی ہوتی تھی اور اسکے بعد وصولی بھی میرے ذمہ تھی۔ اور یہ کام صرف دفتر اوقات میں نہیں ہوتا تھا بلکہ چاہے اتوار کی چھٹی کا دن ہی کیوں نہ ہو مجھے موبائل فون پر کمپنی کو کام کرکے دینا ہوتا تھا۔

    محمد جواد مزید بتاتے ہیں کہ: ایک دن لیبر کورٹ والوں نے چھاپہ مارنا تھا تو کمپنی منیجر نے فورا اللصبح مجھے بلاکر پورے اسٹاف کو پیغام بھجوایا کہ آپ لوگوں نے ان سے چودہ ہزار ماہانہ تنخواہ کا ذکر نہیں کرنا اور چونکہ ہم مجبور تھے تو ہمیں مجبورا حکومت کی طرف سے اس وقت کی مقرر کردہ تنخواہ پر دستخط کروا لیئے گئے۔ اسکے بعد میں نے اپنے منیجر سے کہا کہ اب آپ لوگ ہم سے حکومت کی مقرر کردہ ماہانہ اجرت پر دستخط کروا رہے جبکہ دے چودہ ہزار روپے رہے تو چلو اگر آپ وہ مقرر کردہ اجرت نہیں دیتے تو کم از کم کچھ تو ہماری تنخواہ بڑھا دو جسکے بعد انہوں نے کہا اگر کام کرنا ہے تو اسی تنخواہ پر کرو ورنہ آپ جاسکتے ہو۔ 

    جواد کے مطابق: "جب دوسری بار لیبر کورٹ والے آئے تو میں اور میرے ایک ساتھی وقار نے انہیں سب بتادیا جس پر کمپنی منیجر ہم پر بھڑک اٹھے اور ہمیں فارغ کردیا جبکہ لیبر کورٹ کے ساتھ بھی شائد انہوں نے کوئی مک مکا کرلیا یا رشوت دی وہ بھی چائے پی کر چلے گئے۔ ہم نے پہلے تو سوچا کہ دوبارہ لیبر کورٹ جائیں مگر پھر خیال آیا کہ جب ان کو موقع پر بتانے پر فائدہ کے بجائے نقصان ہوا تو پھر بعد میں کونسا فائدہ ہوگا۔ بالآخر میرے دوست وقار نے معذرت کرکے دوبارہ کام ماہانہ نو ہزار روپے اجرت پر شروع کردیا کیونکہ وہ انتہائی غریب گھر سے تھا اور اس کا کوئی اور ذرائع آمدن بھی نہ تھا مجھے معذرت سے انکار پر دوبارہ ملازمت پر نہیں رکھا گیا۔”

    یہ تو مزدور طبقہ سے تعلق رکھنے والے صرف دو آدمیوں کی کہانی ہے نہ جانے ایسے سینکڑوں مزدور نجی کمپنیوں، ہوٹلوں وغیرہ میں کس قدر ذلیل و خوار ہورہے ہونگے۔ میری ذاتی رائے میں اس ذلت کی اصل میں دو وجوہات ہیں ایک حکومتی سطح پر برتی جانے والی کوتاہی یا نظراندازی اور دوسرا پاکستان میں مزدور یونین کا متحرک نہ ہونا ہے۔ نمبر ایک بات یہ کہ اگر حکومت مزدور طبقہ بارے واقعی سنجیدہ ہے تو اسے سب سے پہلے ایسے نئے قوانین ناصرف بنانے بلکہ ان پر عملدرآمد کرانے کی سخت ضرورت ہے جن کے تحت عام مزدور کی داد رسی ہوسکے اور دوسری بات یہ کہ مزدوروں کو بھی چاہئے کہ وہ اپنی لیبر یونین بنائیں جو ان کے حقوق کا تحفظ یقینی بنائے اور ان کے حق کیلئے سرمایہ دار طبقہ اور اشرافیہ پر ڈباو ڈالے تاکہ وہ کسی مزدور کا حق نہ مار سکیں۔

    چند ماہ قبل کی خبر ہے کہ راولپنڈی تھانہ صدر بیرونی میں ایک والد نے پرچہ درج کرایا جسکے مطابق: ان کے بیٹے محمد ذیشان جو مستری تھا کو ٹھیکیدار دیان خان نے اجرت مانگنے پر دوران کام تیسری منزلہ بلڈنگ پر ڈنڈے سے مارنا شروع کردیا جس کے سبب وہ خوف سے نیچے گر کر بے ہوش ہوگیا بعدازاں انہیں اسپتال داخل کیا گیا تاہم وہ جاں بر نہ ہوسکا اور اسپتال میں ہی دم توڑ گیا تھا۔

  • ایئر پورٹ سیکیورٹی فورس کی تنخواہوں میں 15 فیصد اضافے کا فیصلہ

    ایئر پورٹ سیکیورٹی فورس کی تنخواہوں میں 15 فیصد اضافے کا فیصلہ

    حکومت نے ایئر پورٹ سیکیورٹی فورس کی تنخواہوں میں 15 فیصد اضافے کا فیصلہ کر لیا۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق اس حوالے سے وزیر داخلہ شیخ رشید کا کہنا ہے کہ ایئر پورٹ سیکیورٹی فورسز کی تنخواہوں میں 15 فیصد اضافے کا فیصلہ کیا ہے وزیر اعظم نے اے ایس ایف کی تنخواہوں میں اضافے کی منظور ی دی ہے جس کا اطلاق یکم مارچ 2022سے ہو گا۔

    وزیراعظم کا ایف سی اہلکاروں کی تنخوا ہ میں 15 فیصد اضافے کا اعلان

    یاد رہے کہ چند روز قبل وفاقی حکومت نے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں بھی اضافے کا اعلان کیا تھا اس ضمن میں وزارت خزانہ کی جانب سے جاری نوٹی فکیشن میں کہا گیا تھا ایک سے 19 اسکیل تک کے ملازمین کو 15 فیصد الاونس دیا جائے گا ساتھ ہی نوٹی فکیشن میں صوبو ں کو بھی ملازمین کیلئے الاونس کا اعلان کرنے کی سفارش کی گئی۔

    علاوہ ازیں وزیراعظم کا ایف سی اہلکاروں کی تنخوا ہ میں 15 فیصد اضافے کا اعلان کیا تھا وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں جو مظاہرہ پاک فوج نے کیا دنیا میں مثال نہیں ملتی –

    ملکی معاشی ترقی کیلئے صنعتی شعبے کی ترقی نہایت ضروری ہے،وزیراعظم

    وزیراعظم عمران خان نے ایف سی اہلکاروں کی تنخوا ہ میں 15 فیصد اضافے کا اعلان کرتے ہوئے مزید کہا تھا کہ پاک افواج نے ملک کو دہشت گردوں سے محفوظ رکھا میری فوج کے جوانوں اور ہیروز جنہوں نے دہشت گردوں کا مقابلہ کیا اور باقی فیملز کی جانیں بچائیں جن کی طرف دہشت گرد جارہے تھے میں آپ کی اس بہادری پر آپ سب کو خاص طور پر آج خراج تحسین پیش کرتا ہوں

    آرمی چیف کا دورہ بیلجئیم،افغانستان کی موجودہ صورتحال پر تبادلہ خیال