Baaghi TV

Tag: توانائی

  • باکو سے سستی ایل این جی واقعی سستی ہے؟

    باکو سے سستی ایل این جی واقعی سستی ہے؟

    باکو سے سستی ایل این جی واقعی سستی ہے؟

    آذربائیجان اگلے ماہ پاکستان کو ایل این جی کی سپلائی شروع کرنے والا ہے، یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ یہ "سستی” قیمت پر ہوگی تاہم، "سستے” کی اصطلاح گمراہ کن ہو سکتی ہے۔ پاکستان میں پالیسی ساز ملکی توانائی کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے ایل این جی کی طرف آ رہے ہیں

    صاف ستھرے اور زیادہ سستی توانائی کے ذرائع کے لیے "پل فیول” کے طور پر اپنی شہرت کے باوجود، ایل این جی نے نادانستہ طور پر پاکستان کو زیادہ گندے اور زیادہ آلودگی پھیلانے والے ایندھن پر انحصار کرنے پر مجبور کر دیا ہے جب قدرتی گیس کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ۔ مثال کے طور پر، قیمتوں میں اضافے کے دوران، پاکستان میں سیمنٹ فیکٹریوں نے افغانستان سے کوئلہ خریدنے کا سہارا لیا، جس سے آلودگی کی سطح بڑھ گئی (بلومبرگ، 2022)۔

    ایل این جی پر بڑھتا ہوا انحصار نہ صرف ایندھن کی قیمت میں اضافہ کر رہا ہے بلکہ غیر ملکی کرنسی کے ذخائر کو بھی دبا رہا ہے۔ ایل این جی درآمد کرنے سے پہلے گیس کی تقسیم کار کمپنیوں کی بیلنس شیٹس قابل انتظام تھیں۔ تاہم، ایل این جی کا بڑھتا ہوا استعمال، جو نہ صرف مہنگا ہے بلکہ اہم لائن لاسز کا باعث بھی بنتا ہے، جس کے نتیجے میں گیس کے لیے بے حساب (UFG) کی وجہ سے کافی مالی بوجھ پڑتا ہے۔

    ان چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے، پاکستان کو "سستے” نرخوں پر درآمدی ایل این جی پر انحصار کرنے کی بجائے گھریلو گیس کی پیداوار کو ترجیح دینی چاہیے۔ بنیادی مسئلہ پیداوار میں ہے، اور ایک مہنگا متبادل درآمد کرنے سے بیلنس شیٹ میں مزید تناؤ آئے گا، جس سے توانائی کا شعبہ غیر پائیدار ہو جائے گا۔

    کیا ایل این جی پر زیادہ انحصار کم کرنا ممکن ہے؟ ہاں، توانائی پیدا کرنے کے متبادل ذرائع جیسے ہائیڈروجن اور بائیو گیس کو تلاش کریں۔ دوسرا، توانائی کی طلب کا تجزیہ کریں اور مختلف شعبوں کے لیے مناسب سپلائی کا تعین کریں۔ ایسی ٹرانسمیشن لائنوں میں ایل این جی کا استعمال کریں جو لائن لاسز کا کم سے کم شکار ہوں۔ تیسرا، نقصانات کو کم کرنے کے لیے تقسیم کے نظام میں اصلاحات کریں ان مقاصد کو حاصل کرنے کے لیے پورے نظام کو اپ گریڈ کرنے کی ضرورت ہے۔

    اعظم سواتی کو بلوچستان سے مقدموں میں رہائی ملنے کے بعد انہیں سندھ پولیس نے گرفتار کر لیا ہ

    عدالت نے اعظم سواتی کو مزید مقدمات میں گرفتار کرنے سے روک دیا

    گائے لان میں کیوں گئی؟ اعظم سواتی نے 12 سالہ بچے کو ماں باپ بہن سمیت گرفتار کروا دیا تھا

    پتا چل گیا۔! سواتی اوقات سے باہر کیوں ؟ اعظم سواتی کے کالے کرتوت، ثبوت حاظر ہیں۔

  • تاجروں نے رات 8 بجے بازار بند کرنے کے حکومتی فیصلے کو مسترد کردیا

    تاجروں نے رات 8 بجے بازار بند کرنے کے حکومتی فیصلے کو مسترد کردیا

    اسلام آباد: آل پاکستان انجمن تاجران نے حکومت کی جانب سے 8 بجے دکانیں بند کرنے کے فیصلے کو مسترد کردیا۔ذرائع کے مطابق حکومت کے فیصلے کو مسترد کرنے کا اعلان صدر آل پاکستان انجمن تاجران اجمل بلوچ نے کیا، انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت اس فیصلے کو فوری طور پر واپس لے۔

    اجمل بلوچ کا کہنا تھا کہ حکومت نے 8 ماہ میں ملک کا بیڑا غرق کر دیا ہے، ملک کو دیوالیہ کرنے سے پہلے حکومت تاجروں کو دیوالیہ کرنے لگی ہے۔صدر آل پاکستان انجمن تاجران کا کہنا تھا کہ تاجر شام 6 بجے سے رات 8 بجے تک سب سے زیادہ مہنگی بجلی خریدتا ہے ایسی صورتحال میں 8 بجے دکانیں بند کرنے سے فائدہ نہیں نقصان ہوگا۔

    صدر اجمل بلوچ نے تنبیہ کی کہ اگر حکومت نے فیصلہ واپس نہ لیا تو تاجر برادری احتجاج کرنے پر مجبور ہوگی۔

    یاد رہے کہ اس سے پہلے حکومت نے توانائی کی بچت کے لیے مختلف اقدامات کا اعلان کیا ہے، جس کے مطابق بازار 8 بجے اور شادی ہال 10 بجے بند کرنے کے علاوہ دیگر کئی اہم فیصلے کیے گئے ہیں۔

    سندھ میں آج سے کاروبار رات 8 بجے تک کھلے رہیں گئے

    وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے قمر زمان کائرہ اور مریم اورنگزیب کے ساتھ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ کفایت شعاری کی پالیسی دی جا رہی ہے، اس سلسلے میں کمیٹی تشکیل دی گئی ہے، جس میں سیکرٹری پاور، وزیر دفاع سمیت 10 وزرا شامل ہیں۔ وزیر دفاع نے بتایا کہ سرکاری اداروں میں 20 فیصد افرادی قوت گھر سے کام کرے تو 56 ارب روپے کی بچت ہوگی۔

    پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ شادی ہالوں کے اوقات رات 10 بجے تک ہوں گے جب کہ ریستوران اور مارکیٹیں رات 8 بجے بند کر دی جائیں گی۔ ان اقدامات سے 62 ارب روپے کی بچت ہوگی۔ پرانے پنکھے 120 سے 130 واٹ بجلی استعمال کرتے ہیں جب کہ نئے پنکھے تقریباً 40 سے 60 واٹ بجلی استعمال کرتے ہیں۔ان پنکھوں کے استعمال سے 15 ارب روپے کی بچت ہو سکتی ہے۔

    کراچی کے تاجروں کا آج سے رات 8 بجے تک کاروبار کھولنے کا اعلان

    انہوں نے کہا کہ ایل ای ڈی بلب کے استعمال سے 23 ارب روپے کی بچت ہوگی۔ گھروں میں پنکھے اور ائرکنڈیشنڈ کے استعمال میں بچت سے 8 سے 9 ہزار میگاواٹ بجلی بچائی جا سکتی ہے۔ کپیسٹی پیمنٹس کی مد میں 28 ارب ماہانہ بچت ہوگی۔ گیس فراہم کرنے والی کمپنیاں گیزر کے لیے بچت کے آلات فراہم کریں گی، جس سے 92 ارب روپے سالانہ کی بچت ہوگی۔

    خواجہ آصف نے کہا کہ متبادل اسٹریٹ لائٹس جلانے سے 4 ارب روپے کی بچت ہوگی۔ ای بائیکس متعارف کروائی جارہی ہیں، محدود مدت کے اندر یہ موٹر سائیکلیں مارکیٹ میں آ جائیں گی۔ امپورٹ شروع ہو چکی ہے، موٹر سائیکل کمپنیوں کے ساتھ اس حوالے سے بات چیت جاری ہے۔ ای بائیکس آنے سے 86 ارب روپے کی بچت ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ ان اقدامات کے لیے عوامی آگاہی مہم بھی چلائی جائے گی۔

  • ریستوران اورمارکیٹیں رات آٹھ بجے بند،62 بلین روپے کی بچت ہوگی،وفاقی وزراء

    ریستوران اورمارکیٹیں رات آٹھ بجے بند،62 بلین روپے کی بچت ہوگی،وفاقی وزراء

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ وزیراعظم نے وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری کے بیان کی توثیق کی ہے،

    پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ وزیر خارجہ نے پاکستان کے عوام کی ترجمانی کی،پوری قوم وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری کو خراج تحسین پیش کرتی ہے،قوم اس بیانیہ کے ساتھ کھڑی ہے،توشہ خانہ طویل کہانی ہے، اس میں مزید چیزیں سامنے آئیں گی، کفایت شعاری کی پالیسی دی جا رہی ہے،کفایت شعاری کے حوالے سے کمیٹی میں سیکریٹری پاور، وزیر دفاع سمیت دیگر وزراءاس میں شامل ہیں،چار سیکریٹری اور دس وزراء اس کمیٹی میں شامل ہیں، سرکاری اداروں میں 20 فیصد افرادی قوت گھر سے کام کرے تو 56 ارب روپے کی بچت ہوگی،شادیوں کے اوقات رات 10 بجے تک ہوں گے، ریستوران اور مارکیٹیں رات آٹھ بجے بند کر دی جائیں گی ،اس سے 62 بلین روپے کی بچت ہوگی،پرانے پنکھے 120 سے 130 واٹ بجلی استعمال کرتے ہیں، نئے پنکھے تقریباً ن40 سے 60 واٹ بجلی استعمال کرتے ہیں، ان پنکھوں کے استعمال سے 15 ارب روپے کی بچت ہوگی،ایل ای ڈی بلبوں کے استعمال سے 23 ارب روپے کی بچت ہوگی، گھروں میں پنکھے اور ایئر کنڈیشنڈ کے استعمال میں بچت سے 8 سے 9 ہزار میگاواٹ بجلی بچائی جا سکتی ہے، کپیسٹی پے منٹس کی مد میں 28 ارب بلین ماہانہ بچت ہوگی، گیس فراہم کرنے والی کمپنیاں گیزر کیلئے بچت کے آلات فراہم کریں گی،اس سے 92 ارب روپے سالانہ کی بچت ہوگی، متبادل اسٹریٹ لائٹس جلانے سے چار ارب روپے کی بچت ہوگی،ای بائیکس متعارف کروائے جا رہے ہیں، محدود مدت کے اندر یہ موٹر سائیکلیں مارکیٹ میں آ جائیں گی، ای بائیکس کی امپورٹ شروع ہو چکی ہے، موٹر سائیکل کمپنیوں کے ساتھ اس حوالے سے بات چیت جاری ہے،ای بائیکس آنے سے 86 ارب روپے کی بچت ہوگی،

    وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ دو روز میں چاروں صوبوں کو مختلف امور پر آگاہ کریں گے،پاکستان واحد ملک ہے جہاں رات گئے تک مارکیٹیں کھلی ہوتی ہیں،صبح ہمارے ہاں 12ایک بجے مارکیٹیں کھلتی ہیں،ہم دن کی روشنی سے زیادہ سے زیادہ فائدہ نہیں اٹھاتے،ملک اس وقت سنگین معاشی مشکلات سے دوچار ہے،ہمیں اپنے وسائل میں رہنا ہے تو ہمیں چادر دیکھ کر پاوں پھیلانا ہوگا، رات ایک بجے یا 2بجے مارکیٹیں بند کرنے کا عمل سمجھ نہیں آتی اس سارے معاملے میں کابینہ میں تفصیلی سے بحث ہوئی ہے،ہم پر آپشن اور چوائس کے دروازے بند ہوچکے ہیں،ہمارے پاس کوئی آپشن نہیں ہے، کابینہ اور عہدیداروں کے حوالے سے کلچر بدلنا چاہیے، باقی ملکوں میں صدر اور وزیراعظم کے علاوہ کوئی گاڑی پر قومی جھنڈا نہیں لگاتے یہاں رات کے اندھیرے میں بھی گاڑی سے جھنڈے نہیں اتارتے،

    وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ 69 فیصد پانی زراعت میں استعمال ہوتا ہے، فلڈ ایری گیشن کو زرعی مقاصد کے لئے استعمال کیا جائے گا،واٹر ہارویسٹنگ بھی ہوگی، بارش کے پانی کو ضیاع سے بچانے کے لئے اقدامات اٹھائے جائیں گے، صوبوں کو اس پالیسی اور پروگرام کے بارے میں آگاہ کریں گے، یہ قومی پروگرام ہے، ہم چاہتے ہیں اسے اتفاق رائے سے شروع کیا جائے دن کی روشنی کو زیادہ استعمال کرنے کے لئے ہمیں اقدامات اٹھانا ہوں گے، دفاتر کے اندر بے تحاشہ لائٹس استعمال ہو رہی ہوتی ہیں، اس میں ہمیں بچت کرنا ہوگی،مختلف ذرائع سے توانائی کی بچت کر کے اربوں روپے بچائے جا سکتے ہیں، جمعرات تک کفایت شعاری پالیسی کو حتمی شکل دے دی جائے گی،ہمیں اپنے وسائل میں رہنا ہوگا، چھ سات ماہ سے اس پر کام چل رہا تھا، چاروں صوبوں سے مشاورت کے بعد یہ حتمی شکل اختیار کرلے گی، کفایت شعاری ہمارے قومی کلچر کا حصہ بنے گی،اس سے معاشی مشکلات بھی ختم ہوں گی،عوام کی فیملی لائف پر بھی مثبت اثرات مرتب ہوں گے،

    وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف کا مزید کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی کی حکومت ہے، خیبر پختونخوا میں سی ٹی ڈی کا کوئی اسٹریکچر نہیں ہے، تھانے کے اندر33دہشتگرد موجود تھے ،فوج نے معاملات ٹھیک کیے، دہشتگردی ختم کرنے میں امریکا نے کوئی قربانی نہیں دی ،دہشتگردی کیخلاف جنگ اور بھارت کیخلاف معاملات ہم نے خود نمٹانے ہیں،

    وزیراعظم کے مشیر قمر زمان کائرہ کا کہنا تھا کہ بلاول بھٹو زرداری نے پاکستان کے عوام کی امنگوں کے مطابق کشمیری عوام سمیت ہندوستان کے اندر بسنے والے مسلمانوں اور اقلیتوں کا مقدمہ دنیا کے سامنے رکھا ہے، دنیا میں سب سے زیادہ دہشت گردی سے نقصان پاکستان کا ہوا ہے، ہم انسانیت کا مقدمہ آگے رکھ کر لڑتے رہیں گے، ہمیں اپنے وزیر خارجہ پر فخر ہے، پوری قوم ان کے ساتھ کھڑی ہے،ملک کے اندر بحران ہے، عمران خان ہر روز پاکستان کی اکانومی پر حملہ کرتے ہیں،
    حکومت اپنے اوقات کار میں تبدیلی کرنا چاہ رہی ہے،ہم گیس، تیل سمیت دیگر اشیاءدرآمد کر رہے ہیں،حکومت نے کفایت شعاری کے حوالے سے جو اقدامات اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے، بنیادی طور پر اس کا مقصد پاکستان کے عوام کی مشکلات کم کرنا ہے، گیزر میں بچت کا آلہ استعمال کرنے سے گیس کم استعمال ہوگی، گیس کی بچت سے گیس کم درآمد ہوگی اس سے پاکستان کے سرمایہ میں بھی بچت ہوگی، کفایت شعاری کے حوالے سے ہماری تجاویز ہیں،آج ہمارا درآمدی بل 26 سے 28 ارب ڈالر ہے،اگر اس میں اسی طرح اضافہ ہوتا رہا تو ہمارے لئے مشکل حالات پیدا ہوں گے،ہم لوگوں کو بتا رہے ہیں کہ یہ اقدامات اٹھانا ناگزیر ہیں، ہم صوبائی حکومتوں اور جماعتوں سمیت ٹریڈ آرگنائزیشنز سے توقع کرتے ہیں کہ وہ ہماری ان تجاویز کو پاکستان کی بقاءاور بچت کا راستہ دیکھ کر ہمارا ساتھ دیں

    عمران خان کو آرمی چیف سے کیا چاہئے؟ مبشر لقمان نے بھانڈا پھوڑ دیا

    عمران خان سے ڈیل کی حقیقت سامنے آ گئی

    عمران خان کو آرمی چیف سے کیا چاہئے؟ مبشر لقمان نے بھانڈا پھوڑ دیا

    عمران ریاض کو واقعی خطرہ ہے ؟ عارف علوی شہباز شریف پر بم گرانے والے ہیں

    الیکشن کیلیے تیار،تحریک انصاف کا مستقبل تاریک،حافظ سعد رضوی کا مبشر لقمان کوتہلکہ خیز انٹرویو

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    تحریک انصاف میں پھوٹ پڑ گئی، فرح گوگی کی کرپشن کی فیکٹریاں بحال

    عمران خان، تمہارے لئے میں اکیلا ہی کافی ہوں، مبشر لقمان

  • یورپ میں توانائی بحران:سردیوں میں ٹھٹھرکر    مرجائیں گے:یورپی عوام دہائی دینے لگی

    یورپ میں توانائی بحران:سردیوں میں ٹھٹھرکر مرجائیں گے:یورپی عوام دہائی دینے لگی

    برلن :یورپ میں توانائی بحران:سردیوں میں ٹھٹھرکرمرجائیں گے:یورپی عوام دہائی دینے لگی ،اطلاعات کے مطابق یورپ کو اس وقت توانائی کے بحران کا سامنا ہے کیونکہ یوکرین میں روسی فوجی کارروائی کے دوران گیس اور بجلی کی قیمتیں بے مثال سطح پر پہنچ گئی ہیں۔

    یوروپی حکومتیں روز بروز بگڑتی ہوئی صورتحال پر خطرہ محسوس کرتی ہیں جس کے نتیجے میں اس موسم سرما میں بڑے پیمانے پر مصائب کا سامنا کرنا پڑے گا۔روس اور یوکرین کے درمیان جاری جنگ کے ساتھ ساتھ کئی حصوں میں خشک سالی اور بڑھتے ہوئے درجہ حرارت نے بھی براعظم میں بحران کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔

    واشنگٹن ڈی سی میں امریکن یونیورسٹی میں ترقیاتی سیاست کی پروفیسر نومی حسین کہتی ہیں، "حکومتیں جو بھی راستہ منتخب کریں، آنے والا موسم سرما سماجی بدامنی سے دوچار ہونے والا ہے۔”

    برطانیہ کے ایک رہائشی فلپ کیٹلی نے شکایت کی، "زندگی گزارنے کی لاگت میں اضافہ ہوا ہے اور پھر بھی آپ سے توقع کی جاتی ہے کہ آپ اس رقم پر زندہ رہیں گے جب کوئی بحران نہیں تھا… میں یا تو گرم کر سکتا ہوں یا کھا سکتا ہوں۔” .

    دریں اثنا، توانائی کی قلت کے خوف نے صارفین کو لکڑی کی طرف راغب کیا ہے اور وہ سردیوں سے پہلے لکڑی کو ذخیرہ کرنے پر مجبور ہیں۔

    فرانس میں، توانائی کی قیمتوں میں 28.5 فیصد اضافے کے ساتھ، حالت اس قدر خراب ہے کہ لوگ آئندہ موسم سرما کے لیے خود کو تیار کرنے کے لیے لکڑیاں جلانے والے چمنی استعمال کرنے کے لیے لکڑیاں جمع کر رہے ہیں۔ اس سے لکڑی کی مانگ میں بھی اضافہ ہوا ہے۔

    اطلاعات کے مطابق بجلی کی قیمتوں میں نئی ​​کساد بازاری ریکارڈ کی جائے گی اور یہ 1750 یورو فی میگا واٹ گھنٹے تک پہنچ جائے گی۔
    جرمنی میں، بجلی کا سال آگے کا معاہدہ 995 یورو ($995) فی میگا واٹ گھنٹے تک پہنچ گیا جبکہ فرانسیسی مساوی 1,100 یورو سے آگے بڑھ گیا۔

    ملک کا دریائے رائن جو یورپ کے نقل و حمل کے نظام میں اہم کردار ادا کرتا ہے، بھی اس بحران میں حصہ ڈال رہا ہے، کیونکہ خشک سالی کی وجہ سے پانی کی سطح ریکارڈ حد تک کم ہو گئی ہے جس کی وجہ سے جہازوں کو پوری طرح سے دریا میں جانے کی اجازت نہیں ہے۔

    دوسری جانب برطانیہ میں ٹرانسپورٹ، شپنگ اور پوسٹل انڈسٹریز میں گزشتہ ہفتوں کے دوران بڑے پیمانے پر ہڑتالیں دیکھنے میں آئی ہیں، کیونکہ مزدوروں نے اجرتوں میں اضافے کا مطالبہ کیا تھا کیونکہ وہ بڑھتے ہوئے اخراجات سے نمٹنے کے قابل نہیں ہیں۔

    یورپ اب بھی سنگین صورتحال سے نمٹنے کے طریقے تلاش کر رہا ہے۔ یہ گیس کے استعمال کو کم کرنے کے اقدامات کو بھی نافذ کر رہا ہے اور ایک متبادل ذریعہ کے طور پر، جوہری توانائی پر بھی توجہ دینا شروع کر دی ہے۔

  • وزیراعظم جلد شمسی توانائی پالیسی کا اعلان کریں گے،خرم دستگیر

    وزیراعظم جلد شمسی توانائی پالیسی کا اعلان کریں گے،خرم دستگیر

    وفاقی وزیر برائے توانائی (پاور ڈویژن) انجنیئر خرم دستگیر خان نے کہا ہے کہ وزیراعظم محمد شہباز شریف جلد شمسی توانائی پالیسی کا اعلان کریں گے، ملک میں تقریباً 1980 میگاواٹ اضافی بجلی اگلے موسم گرما میں دستیاب ہوگی اور بجلی کی نئی پیداواری صلاحیت درآمدی تیل پر نہیں ہوگی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ہفتہ کو حیدرآباد میں حیسکو پاور ونگ کالونی کے کانفرنس ہال میں ایک اہم پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔

    وفاقی وزیر نے کہا کہ پورے ملک میں 200 یا اس سے کم یونٹ استعمال کرنے والے صارفین کو بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی جانب سے تصحیح شدہ نئے بل جاری کئے جائیں گے، گھریلو صارفین کے لئے بجلی کے بل جمع کرانے کی آخری تاریخ کی میعاد 06 ستمبر تک بڑھا دی گئی ہے۔ میری یہاں موجودگی کا مقصد حیسکو اور سیپکو ریجنز میں سیلاب زدگان کے حوالے سے درپیش مسائل کو حل کرنا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ سندھ میں انتہائی غیر معمولی بارشیں ہوئی ہیں کہیں اوسط سے چار گنا اور بعض مقامات پر سات گنا زیادہ بارشیں ہوئی ہیں، اس کا اثر ہماری بجلی کی سپلائی کرنے والی کمپنیوں پر بھی پڑا ہے، گرڈ اسٹیشنز ڈوبے ہوئے ہیں، کہیں کھمبے پانی میں گر گئے ہیں، کچھ مقامات پر حفاظتی اقدامات کے طور پر بھی بجلی کی سپلائی منقطع کی جاتی ہے۔

    وفاقی وزیر نے حیسکو اور سیپکو کے چیفس کو ہدایات دیں کہ جہاں بھی نکاسی آب کے مسائل درپیش ہیں وہاں کسی قسم کی لوڈشیڈنگ نہ کی جائے اور 24 گھنٹے بجلی فراہم کی جائے تاکہ نکاسی آب کا مسئلہ ترجیحی طور پر حل ہوسکے۔انہوں نے کہا کہ پورے ملک میں بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کو ہدایت کردی گئی تھی کہ بارشوں کے دوران حتی الامکان بجلی کی فراہمی جاری رہنی چاہیئے اس حوالے سے حیسکو اور سیپکو نے محنت کی اور لوگوں نے بھی محسوس کیا ہوگا کیونکہ پہلے بارش کی پہلی بوند پڑتے ہی بجلی غائب ہوجاتی تھی، لیکن اس مرتبہ ایسا نہیں ہوا۔

    انہوں نے کہا کہ ابھی بھی چیلینجز درپیش ہیں، صوبے کے تمام اضلاع سے تفصیلی رپورٹ حاصل کر رہا ہوں۔ انہوں نے بتایا کہ حیسکو کے تین اہم گرڈ اسٹیشنز بارش کی وجہ سے بند ہوگئے تھے جن میں نوابشاہ ون، دوڑاور جھرک گرڈ اسٹیشن شامل ہیں، نوابشاہ کے چار فیڈرز کو متبادل گرڈ اسٹیشنز سے منسلک کرکے چلادیا گیا ہے، جھرک گرڈ اسٹیشن کو بھی لو لوڈ پر چلادیا گیا ہے، بحالی کا کام جاری ہے، جن گرڈ اسٹیشنز میں پانی جمع ہوا ہے وہاں سے پانی کی نکاسی کا کام بھی کیا جارہا ہے۔

    وفاقی وزیر نے کہا کہ پورے ملک میں بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کے کارکنان ہمارے اور آپ کے لئے بارش میں اپنی جانوں کو خطرے میں ڈال کر کام کرتے ہیں ان کو سلام پیش کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سیلاب کا چیلنج ابھی ختم نہیں ہوا، شمال سے ایک نیا ریلا دریائے کابل اور کنہار سے آرہا ہے جو کے پی سے گذرتا ہوا ملک کے جنوبی علاقوں میں بھی آئے گا، آنے والے چند ہفتے ایمرجنسی کے ہیں جس میں پوری کوشش کی جارہی ہے کہ بجلی کے محکمے کے سربراہان، سینئر افسران اور عملہ پوری ذمہ داری سے خدمات انجام دیں اور کسی قسم کی کوئی کوتاہی نہ ہو۔

    انہوں نے کہا کہ ہمارا اصل مقصد ان کمپنیوں کی کارکردگی کو بہتر بنانا ہے لیکن فی الحال سیلاب کی صورتحال اور بلوں کی تصحیح کے معاملے پر ہماری پوری توجہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ کوئی ایک پارٹی نہیں بلکہ وسیع البنیاد جمہوری حکومت میں شامل دس کی دس پارٹیاں ریلیف کے کام میں مصروف عمل ہیں، ہم سب اکٹھے ہیں اور بلا تفریق سیلاب متاثرین کو ریسکیو کریں گے، ان کو ریلیف بھی پہنچائیں گے اور بحالی کا کام بھی جاری رہے گا۔ صحافیوں کے سوالوں کے جواب میں انہوں نے کہا کہ بجلی کے بلوں میں ریلیف کے معاملے میں ملکی سطح پر غور و فکر کیا جارہا ہے، دس روز میں تفصیلی بحث کے بعد ریلیف کے سلسلے میں جو فیصلہ کیا جائے گا وزیراعظم اس کا اعلان کریں گے۔

    انہوں نے کہا کہ متاثرین کو دوسرے طریقے سے بھی ریلیف دیا جارہا ہے اور بی آئی ایس پی کے تحت ہر خاندان کو 25 ہزار روپے کی مالی امداد کی فراہمی کی جارہی ہے، سیلاب کے دوران جو افراد جاں بحق ہوئے ہیں ان کے ورثا کے لئے فی کس 10 لاکھ روپے امدادی چیکس دینے کا عمل بھی شروع ہوگیا ہے۔ حیسکو کی کارکردگی ایک علیحدہ سوال ہے، خراب ٹرانسفارمرز کی تبدیلی کا معاملہ بھی ایک چیلنج ہے ان مسائل کو بھی حل کیا جائے گا۔

    انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کی سابقہ حکومت کے دور میں لوڈشیڈنگ کافی حد تک کم ہوگئی تھی۔ بجلی کے حوالے سے ملک میں دو قسم کی صورتحال ہے، ایک تو وہ فیڈرز ہیں جہاں بلوں کی ریکوری 80 فیصد سے زیادہ ہے اور لائن لاسز 20 فیصد سے کم ہیں ، جہاں ریکوری اچھی ہے وہاں لوڈشیڈنگ کا دورانیہ کم ہوتا ہے جبکہ زیادہ لائن لاسز والے علاقوں میں لوڈشیڈنگ کا دورانیہ زیادہ ہوجاتا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ موسم گرما کے دوران ملک میں بجلی کی طلب 25 ہزار میگاواٹ کے قریب متوقع تھی لیکن یہ طلب 30 ہزار میگاواٹ سے زیادہ ہوگئی۔ پچھلے چار سال یہ پروپیگنڈہ کیا گیا کہ ملک میں بجلی وافر مقدار میں دستیاب ہے مگر ملک کے اندر بجلی وافر مقدار میں موجود نہیں۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ فرنیس آئل پر پرانی ٹیکنالوجی کے ذریعے جو بجلی تیار کی جاتی ہے وہ اس طرح ہے جیسے حکومت اور عوام اپنا خون جلا رہی ہے، ہمارے پاس بجلی پیدا کرنے کی موثر صلاحیت 25 ہزار میگاواٹ تک کی ہے اس سے زائد بجلی بناتے ہیں تو ہمیں تیل سے بنانی پڑتی ہے جس سے پھر فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ جیسے معاملات پیدا ہوتے ہیں۔

    ہماری کوشش ہے کہ اگلے موسم گرما سے قبل جو زیر تکمیل پلانٹس جن میں تھر میں 1320 میگاواٹ کا شنگھائی الیکٹرک اور 330 میگاواٹ کے دو منصوبے وہاں موجود ہیں، سے تقریباً 1980 میگاواٹ اضافی بجلی اگلے موسم گرما میں دستیاب ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم محمد شہباز شریف جلد شمسی توانائی پالیسی کا بھی اعلان کریں گے، اگلے موسم گرما میں ہمارے پاس ان ذرائع سے ہزاروں میگاواٹ بجلی دستیاب ہوگی اس سے یہ فائدہ ہوگا کہ سولر سے سستی بجلی بنانے کے دوران دن کے وقت ہم ایندھن پر پلانٹس کو کم سے کم چلائیں تاکہ بجلی کی لاگت کم کرکے عوام کے بجلی کے بل بھی کم کئے جاسکیں۔

    انہوں نے کہا کہ بجلی کی نئی پیداواری صلاحیت درآمدی تیل پر نہیں ہوگی اور مستقبل میں جتنی بھی بجلی کی پیداواری صلاحیت ہوگی وہ تھر کول، ہائیڈل ذرائع، پن بجلی، شمسی اور نیوکلیئر ذرائع سے حاصل کی جائے گی جس سے ملک کے صارفین کو بجلی کی لگاتار اور سستی فراہمی یقینی ہوسکے گی۔

    حیسکو اور سیپکو کو حکومت سندھ کے حوالے کرنے کے بارے میں ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے حکومت سندھ سے بات چیت چل رہی ہے۔ اٹھارہویں ترمیم کے بعد صوبائی حکومتیں بھی بجلی کی ڈسٹری بیوشن کے عمل میں شامل ہوسکتی ہیں۔ اس موقع پر چیف ایگزیکیوٹو آفیسر حیسکو نور احمد سومرو، مسلم لیگ (ن) کی سینئر رہنما شاہ محمد شاہ، سابقہ سینیٹر نہال ہاشمی اور دیگر بھی ان کے ہمراہ تھے

  • یورپ میں توانائی کا بحران انتہا کو پہنچ گیا،ایندھن خریدنے کے لیے لمبی لمبی قطاریں لگی ہیں‌

    یورپ میں توانائی کا بحران انتہا کو پہنچ گیا،ایندھن خریدنے کے لیے لمبی لمبی قطاریں لگی ہیں‌

    یورپ میں انرجی کے بحران میں روز بروز شدت آتی جا رہی ہے جس کی وجہ سے قیمتیں آسمان تک جا پہنچیں، سردیوں کےلئے ایندھن خریدنے کے لئے لوگ تین دن سے جنگل میں لائنوں میں کھڑے ہیں۔

    یورپ میں گیس اور انرجی کا بحران شروع ہو گیا ہے، مشرقی یورپ کے ملک مالڈووا میں سستا ایندھن خریدنے کی امید میں لوگ تین دن سے لائن بنا کر جنگل میں کھڑے ہیں۔

    شہریوں نے کچھ اس طرح اپنی صورتحال بتائی کہ:

    ’’ تین دن ہوئے گئے ہیں اور تین سو لوگ یہاں لائنوں میں کھڑے ہیں۔ صبح کو اہلکار آتے ہیں اورہمیں دیکھ کر مذاق اڑاتے ہیں، حتی ہمارے پاس حمل و نقل کا کوئی ذریعہ بھی نہیں ہے، ہمارے پاس سوار ہونے کی بھی کوئی چیز نہیں ہے۔

    یہاں ہم بغیر پانی اور غذا کے بھوکے کھڑے ہیں۔ ہم سب کو امید تھی کہ سستا ایندھن خریدیں گے لیکن یہاں صرف تین مکعب میٹر ایندھن فروخت کر رہے ہیں اور وہ خریدنا بھی ناممکن ہے کیونکہ اس کی قیمت بالکل سستی نہیں ہے۔‘

    دوسری طرف یورپ میں توانائی بحران، سوٹزر لینڈ نے عوام کو موم بتیاں تیار رکھنے کا مشورہ دے دیا،شدید گرمی اور توانائی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں سے بے حال یورپ، توانائی کے استعمال میں بچت اور روسی قدرتی گیس پر انحصار میں کمی کی کوششوں میں ہے۔

    اسپین میں ائیر کنڈیشنر کے محدود استعمال کے اصول نافذالعمل کر دئیے گئے ہیں۔ عوامی آمد و رفت کے دفاتر اور کاروباری مراکز میں ائیر کنڈیشنر کا درجہ 27 سے کم نہیں کیا جائے گا اور مذکورہ مقامات پر دروازوں کو بند رکھنا ضروری ہو گا۔

     

     

    موسم سرما میں ہیٹروں کو 19 درجے سے زیادہ پر نہیں چلایا جا سکے گا۔ہسپتالوں، اسکولوں اور بیوٹی پارلروں کو ان پابندیوں سے معاف رکھا جائے گا۔ ریستورانوں میں ائیر کنڈیشنر 25 درجے پر چلائے جا سکیں گے۔

    یونان اور اٹلی میں گذشتہ ماہ سرکاری عمارتوں میں ائیر کنڈیشنر کے استعمال میں پابندیاں نافذ کر دی گئی تھیں اور ائیر کنڈیشنروں کا 27 سے کم درجے پر استعمال ممنوع قرار دے دیا گیا تھا۔

    فرانس میں ائیر کنڈیشنر والے کاروباری مراکز کے لئے دروازے بند رکھنے کی پابندی کا اطلاق کر دیا گیا اور پابندی پر عمل نہ کرنے والے کاروباری مراکز کے لئے 750 یورو جرمانے کا اعلان کیا گیا تھا۔

    جرمنی نے بھی ہینوور میں ہسپتالوں اور اسکولوں کے علاوہ سرکاری عمارتوں میں ائیر کنڈیشنروں کا استعمال ممنوع قرار دے دیا تھا۔

    سوٹزر لینڈ میں موسم سرما میں لوڈ شیڈنگ کی وارننگ جاری کی گئی اور وفاقی الیکٹرک کمیشن نے عوام کو سردیوں کے لئے موم بتیاں اور جلانے کی لکڑی ذخیرہ کرنے کا مشورہ دیا ہے۔

  • رات کولائٹیں بند کرکےسویا کریں:ملک میں توانائی کا شدید بحران آرہا ہے:فرانسیسی صدر

    رات کولائٹیں بند کرکےسویا کریں:ملک میں توانائی کا شدید بحران آرہا ہے:فرانسیسی صدر

    پیرس:رات کولائٹیں بند کرکے سویا کریں:ملک میں توانائی کا شدید بحران آرہا ہے:فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے فرانس میں لوگوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ رات کے وقت پبلک لائٹس بند کرنے کے لیے تیار رہیں،کیونکہ مُلک میں توانائی کا شدید بحران آچکا ہے

    فرانسیسی شہریوں کو اس توانائی بحران سے خبردار کرتے ہوئے فرانسیسی صدر میکرون نے کہا کہ روس کے یوکرین پر حملے اور مغربی ریاستوں کی پابندیوں کی وجہ سے توانائی اور دیگر اشیا کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔

    میکرون نے کہا کہ یوکرائن کی جنگ کا کوئی خاتمہ نظر نہیں آرہا ہے، فرانسیسیوں کو اپنے اخراجات کوکم سے کم کرنے کے لیے تیار رہنا چاہیے

    فرانسیسی صدر نے جمعرات کو فرانس کی قومی تعطیل، باسٹیل ڈے کے موقع پر ایک ٹیلی ویژن انٹرویو میں عوام کومخاطب کرتے ہوئے کہا کہ یوکرین کے ساتھ یہ جنگ جاری رہے گی جس کے مستقبل میں گھمبیراثرات مرتب ہوکررہیں گے

    عوام سے مخاطب ہوتے ہوئے فرانسیسی صدر میکرون نے کہا کہ "روس توانائی کا استعمال کر رہا ہے، جیسا کہ وہ خوراک کو جنگ کے ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہا ہے،” میکرون نے مزید کہا، "ہمیں خود کو اس منظر نامے کے لیے تیار کرنا چاہیے جہاں ہمیں روسی گیس کے بغیر جانا ہے۔”

    دوسری طرف کریملن نے ان بیانات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ماسکو گیس یا تیل کو "سیاسی دباؤ کے ہتھیار” کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔

    فرانسیسی صدر نے عوام سے مخاطب ہوتے ہوئے کہاکہ حکومت توانائی کے تحفظ کے لیے ایک "سوبریٹی پلان” تیار کرے گی، جس کا آغاز رات کے وقت پبلک لائٹس کو بند کرنے سے ہو گا

    صدر نے کہا کہ فرانس گیس کے ذرائع کو متنوع بنانے کے لیے کوشاں رہے گا، موجودہ بحران سے نمٹنے کے لیے آف شور ونڈ فارمز کی طرف تیزی سے تبدیلی اور یورپی سرحد پار توانائی کے تعاون پر زور دیا۔

    میکرون کے انتہائی دائیں اور بائیں بازو کے سیاسی مخالفین نے یورپی یونین کی پابندیوں کو فرانسیسی صارفین کی قوت خرید کو کم کرنے کا ذمہ دار ٹھہرایا ہے ، اس موقع پر فرانس کے صدر نے انٹرویو کے دوران یوکرین کی طرف پالیسی میں تبدیلی کا کوئی اشارہ نہیں دیا۔

    میکرون نے کہا کہ ہم شام کی جنگ بھی جیت نہ پائے اب یوکرین کا محاذ کھل گیا ہے، آنے والے دنوں میں جنگ بندی کے آثار بہت کم دکھائی دیتے ہیں ، اس لیے احتیاطی تدابیرلازم ہیں‌

  • توانائی کی بچت کیلئے سرکاری عمارتوں کو سولر انرجی پر منتقل کرنے کا فیصلہ

    توانائی کی بچت کیلئے سرکاری عمارتوں کو سولر انرجی پر منتقل کرنے کا فیصلہ

    اسلام آباد:حکومت نے توانائی کی بچت کے لئے سرکاری عمارتوں کو سولر انرجی پر منتقل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔شاہد خاقان عباسی کی سربراہی میں حکومت کی انرجی ٹاسک فورس کا اجلاس ہوا جس میں وزیر توانائی خرم دستگیر اور وزیر مملکت برائے پانی و توانائی مصدق ملک اور وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب سمیت دیگر ارکان نے شرکت کی۔

    اجلاس کے دوران ایندھن کی بچت کے لئے سرکاری عمارتوں کو سولر انرجی پر منتقل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ، متعلقہ اداروں کو سرکاری عمارتوں کی شمسی توانائی پر منتقلی کیلئے فزیبلٹی رپورٹ بنانے کی ہدایت کی گئی۔

    اجلاس کے دوران ٹاسک فورس نے سولر انرجی کی پیداوار بڑھانے کے لئے مختلف اقدامات کا جائزہ لیا، اس سلسلے میں چھوٹے صارفین کو سولر انرجی پر منتقلی کیلئے سبسڈی اور رعایتی قرضے دینے پر غور کیا گیا۔اجلاس کے بعد مریم اورنگزیب نے میڈیا کو بتایا کہ گزشتہ برس سولر سے بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت 600 میگاواٹ رہی، جلد 4 سے 5 ہزار میگاواٹ کے منصوبوں پر کام شروع ہوگا۔

    مریم اورنگزیب نے کہا کہ عمارتوں کو شمسی توانائی پر منتقل کرنے کے لئے سولر پینلز کو فروغ دینے کی ضرورت ہے، سولر پینلز کے استعمال سے اضافی بجلی گرڈ اسٹیشنز کو فروخت بھی کی جا سکے گی، جہاں بجلی پر سبسڈی دی جا رہی ہے، وہاں بھی سولر پلانٹس لگائے جائیں گے۔

    وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ گھروں میں سولر پینلز سے عام بجلی کے استعمال میں بچت اور لائن لاسز بھی کم ہوں گے، سولر انرجی کے کاروبار پر مراعات دی جائیں گی، اجارہ داری قائم نہیں ہونے دیں گے، ٹاسک فورس سفارشات مرتب کر کے وزیراعظم شہباز شریف کو پیش کرے گی۔

  • دنیا ہنگامہ خیزی اور تبدیلی کے نئے دور میں داخل ہو رہی ہے: چین

    دنیا ہنگامہ خیزی اور تبدیلی کے نئے دور میں داخل ہو رہی ہے: چین

    بیجنگ :چین کے ریاستی کونسلر اور وزیر خارجہ وانگ ای نے بیجنگ میں “شنگھائی تعاون تنظیم: تاریخ، موجودہ صورتحال اور امکانات” گول میز کانفرنس میں بذریعہ ویڈیو شرکت کی اور تقریر کی۔جمعرات کے روز چینی میڈ یا کے مطا بق وانگ ای نے اس بات پر زور دیا کہ دنیا ہنگامہ خیزی اور تبدیلی کے نئے دور میں داخل ہو رہی ہے۔چین شنگھائی اسپرٹ کو بھرپور طریقے سے فروغ دینے اور مشترکہ مستقبل کے ساتھ شنگھائی تعاون تنظیم(ایس سی او) کی قریبی برادری کی تعمیر کو فروغ دینے کے لیے شنگھائی تعاون تنظیم کے رکن ممالک کے ساتھ کام کرنے کے لیے تیار ہے۔

    تنظیم کی ترقی کے بارے میں وانگ ای نے یہ تجاویز پیش کیں کہ تنظیم کے اتحاد اور تعاون کو مضبوط کریں، خطرات اور چیلنجوں سے نمٹیں، ایک مضبوط حفاظتی باڑ بنائیں، لوگوں کی فلاح و بہبود کو بہتر بنائیں ،باہمی فائدہ مند تعاون کو آگے بڑھائیں، بہتر زندگی کے لیے خطے کے لوگوں کی امنگوں کا مؤثر طریقے سے جواب دیں اور انصاف کو برقرار رکھیں اور عالمی طرز حکمرانی کو بہتر بنائیں۔

    چینی وزارت دفاع کے ترجمان ٹین کھہ فی نے ایک پریس کانفرنس میں کہا ہے کہ حال ہی میں، ریاستی کونسلر اور وزیر دفاع وی فنگ حہ نے شنگری لا ڈائیلاگ کے دوران امریکی وزیر دفاع لوئیڈ آسٹن کے ساتھ بات چیت کی۔

    جمعرات کے روز چینی میڈ یا کے مطا بق دونوں فریقوں کا خیال ہے کہ دونوں فوجوں کو دونوں سربراہان مملکت کے درمیان طے پانے والے اہم اتفاق رائے پر عمل درآمد کرنا چاہیے،

    اعلیٰ سطحی اسٹریٹجک مواصلات کو برقرار رکھنا چاہیے، دونوں فریقوں کے درمیان اسٹریٹجک باہمی اعتماد کو بڑھانا چاہیے، اور تنازعات اور اختلافات کا انتظام کرنا چاہیے۔ اس وقت دونوں فوجوں کے درمیان تعلقات ایک اہم موڑ پر ہیں، ہم امریکی فریق پر زور دیتے ہیں کہ وہ سرد جنگ کی زیرو سم ذہنیت کو ترک کرے، اور دونوں فوجوں کے تعلقات کی صحت مند اور مستحکم ترقی کے لیے سازگار حالات پیدا کرنے کے لیے ٹھوس اقدامات کرے۔

    چینی وزارت خارجہ کے ترجمان چاؤ لی جیان نے کہا ہے کہ چین پاکستان اقتصادی راہداری میں پن بجلی کے پہلے منصوبے کو مکمل طور پر کمرشل آپریشن میں ڈال دیا گیا ہے۔ترجمان کا کہنا تھاکہ اس سلسلے میں کام جاری ہے تاکہ توانائی بحران پرجلد سے جلد قابوپالیا جائے

    جمعرات کے روز چینی میڈ یا کے مطا بق تر جمان نے رسمی پریس کانفرنس میں کہا کہ اس سے نہ صرف پاکستان میں بجلی کی کمی کے مسئلے کو مؤثر طریقے سے حل کیا جائے گا بلکہ پاکستان کے توانائی کے ڈھانچے کو مزید بہتر بنایا جائے گا۔

    پاکستان میں توانائی کی تعمیر اور اقتصادی و سماجی ترقی کو فروغ دینے کے ساتھ ساتھ یہ منصوبہ عالمی کاربن نیوٹرل اہداف کے حصول میں بھی مدد دے گا اور عالمی موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے نیا کردار ادا کرے گا۔

  • جاپان: ریکارڈ توڑ گرمی کی لہر،بجلی کا سنگین بحران

    جاپان: ریکارڈ توڑ گرمی کی لہر،بجلی کا سنگین بحران

    ٹوکیو:توانائی کا بحرانی عالمی صورتحال اختیارکرگیا ہے اور یہ بھی پشین گوئی کی جارہی ہے کہ یہ بحران ابھی مزید بڑھے گا جس کی صورت میں عالمی سطح پرایک بہت ہیجانی کی کیفیت پیدا ہوجائے گی،ترقی پزیرممالک میں تویہ تصورتھاکہ بجلی کی لوڈشیڈنگ ہوسکتی ہے لیکن جاپان جیسے ملک کے بارے میں سوچنا احمقانہ تصورکیاجاتا تھا کہ یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ جاپان میں بھی لوڈشیڈنگ یا بجلی کا بحران ہومگراب یہ سب کچھ ہورہا ہے ، جاپان کو اس وقت جون کی ریکارڈ توڑ ’بدترین‘ گرمی کی لہر کا سامنا ہے جہاں بجلی کے بحران نے صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ کچھ مینوفیکچررز نے بجلی کی بچت کے لیے پیداوار کو کم کرنے کے منصوبوں کا اعلان کیا ہے

    گرمی کی لہر کے پانچویں دن ٹوکیو کے قریبی علاقوں میں 40 سینٹی گریڈ کے درجہ حرارت کی پیش گوئی کی گئی تھی۔

    جاپان کے محکمہ موسمیات نے پیش گوئی کی ہے کہ دارالحکومت ٹوکیو کا درجہ حرارت 5 جولائی تک 30 سینٹی گریڈ سے نیچے نہیں آئے گا۔ صنعت کی وزارت کے ایک اہلکار نے صحافیوں کو بتایا کہ ’بجلی کی طلب اور رسد کی صورت حال گزشتہ تین دنوں میں (رواں ہفتے کے) سنگین ہو سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹوکیو اور اس کے قریبی علاقوں میں بدھ کی دوپہر کے اوائل میں بجلی کی طلب گزشتہ چند سالوں کے موسم گرما کی بلند ترین سطح کے برابر ہو سکتی ہے

    نیشنل گرڈ مانیٹر کے مطابق منصوبہ بند بجلی کی سپلائی میں پہلے سے ہی وہ سب کچھ شامل کر لیا گیا ہے جو بدھ تک اضافی اقدامات کے طور پر کیا جا سکتا ہے۔

    آرگنائزیشن فار کراس ریجنل کوآرڈینیشن آف ٹرانسمیشن آپریٹرز (او سی سی ٹی او) کے مطابق دوپہر تخمینے نے ظاہر کیا ہے کہ ٹوکیو کے علاقے کے لیے بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت کا ریزرو تناسب شام ساڑھے چار اور پانچ بجے کے درمیان 2.6 فیصد تک گر سکتا ہے۔ جاپان کے وزیراعظم فومیو کیشیدا نے گروپ آف سیون کے سربراہی اجلاس کے بعد ایک نیوز کانفرنس میں کہا کہ وہ جاپان میں بجلی کی وافر فراہمی کو محفوظ بنانے کے لیے اپنی پوری کوشش کریں گے۔

    دریں اثنا، پاور کمپنیاں تھرمل پاور پلانٹس کو دوبارہ شروع کرنے کی تیاری کر رہی ہیں جو بن کر دیے گئے تھے جبکہ ری ایکٹرز کو دوبارہ فعال کرنے سمیت متبادل توانائی کے ذرائع کے اضافی استعمال کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔