Baaghi TV

Tag: تونسہ شریف

  • تونسہ : بچوں میں ایچ آئی وی کے پھیلاؤ میں خوفناک اضافہ،سرنجیں ایک سے زیادہ بار استعمال کیے جانے کا انکشاف

    تونسہ : بچوں میں ایچ آئی وی کے پھیلاؤ میں خوفناک اضافہ،سرنجیں ایک سے زیادہ بار استعمال کیے جانے کا انکشاف

    تونسہ میں بچوں میں ایچ آئی وی وبا کے پھیلاؤ سے جڑے ہسپتال میں خفیہ فلمنگ کے ذریعے سرنجیں ایک سے زیادہ بار استعمال کیے جانے کا انکشاف سامنے آ یا ہے-

    بی بی سی آئی کی تحقیق کے مطابق نومبر 2024 سے اکتوبر 2025 کے درمیان تونسہ میں 331 بچوں میں ایچ آئی وی پازیٹیو کی تصدیق ہوئی ، 2024 کے اواخر میں جب ایک نجی کلینک کے ڈاکٹر نے تونسہ کے تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال کو ایچ آئی وی کے پھیلاؤ سے جوڑا تو مقامی حکام نے سخت کریک ڈاؤن کا اعلان کرتے ہوئے مارچ 2025 میں ہسپتال کے میڈیکل سپریٹنڈنٹ کو معطل کر دیا، لیکن بی بی سی آئی کی حالیہ تحقیقات سے معلوم ہوتا ہے کہ کئی ماہ بعد بھی استعمال شدہ انجیکشن لگائے جانے کا خطرناک رجحان جاری ہے۔

    رپورٹ کے مطابق 2025 کے اواخر میں تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال تونسہ میں 32 گھنٹوں کی خفیہ فلمنگ کے دوران دیکھا گیا کہ دس مختلف مواقع پر استعمال شدوں سرنجوں میں دوائی بھری گئی، جس سے ممکنہ طور پر انجیکشنز میں موجود دوا خراب ہوئی ہو گی ان میں سے چار مواقع پر اسی دوائی کی بوتل سے ایک مختلف یا دوسرے بچے کو دوا دی گئی یہ تو نہیں جانتے کہ اُن میں سے کوئی بچہ ایچ آئی وی پازیٹیو تھا یا نہیں لیکن اس طرح سے دوبارہ استعمال واضح طور پر وائرل ٹرانسمیشن کا خطرہ رکھتا ہے۔

    ڈاکٹر الطاف احمد پاکستان کے ممتاز کنسلٹنٹ مائیکروبائیولوجسٹ اور انفیکشس ڈیزیز کے ماہر نے خفیہ فوٹیج دیکھتے ہوئے کہا کہ اگر انھوں نے ٹیکے کی سوئی بدل کر نئی بھی لگا دی ہے تو ٹیکے کے پچھلے حصے، جسے ہم سرنج باڈی کہتے ہیں، میں وائرس ہو سکتا ہے جو نئی سوئی کے ذریعے ٹرانسفر ہو سکتا ہے۔‘

    ہسپتال کی دیواروں پر محفوظ انجیکشن لگانے کے طریقہ کار کی تصاویر والے پوسٹرز کے باوجود ہم نے سٹاف، بشمول ایک ڈاکٹر، کو 66 مرتبہ صاف دستانے پہنے بغیر مریضوں کو ٹیکا لگاتے ہوئے فلمایا اور ایک دوسرے ماہر نے بی بی سی آئی کو بتایا کہ یہ پاکستان میں مجموعی طور پر انفیکشن کنٹرول ٹریننگ کی کمزور یوں کو ظاہر کرتا ہے۔

    بی بی سی آئی رپورٹ میں کہا گیا کہ ایک نرس کو بھی دیکھا جو میڈیکل ویسٹ باکس یعنی طبی فضلے سے بھرے ڈبے میں بنا صاف دستانے پہنے ہاتھ پھیر رہی تھیں ڈاکٹر احمد کہتے ہیں کہ ’وہ دوائی انجیکٹ کرنے کے ہر اصول کی خلاف ورزی کر رہی ہیں۔‘

    تاہم جب یہی انڈر کور فوٹیج تونسہ کے تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال کے نئے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر قاسم بزدار کو دکھائی تو انھوں نے اسے درست ماننے سے انکار کر دیا انھوں نے دعویٰ کیا کہ یہ فوٹیج یا تو ان کی تعیناتی سے پہلے بنی یا پھر یہ فوٹیج ’سٹیج بھی ہو سکتی ہے،انھوں نے اصرار کیا کہ ان کا ہسپتال بچوں کے لیے محفوظ ہے۔

    ڈاکٹر گل قیصرانی ایک مقامی نجی کلینک میں کام کرتے ہیں ڈاکٹر قیصرانی نے سب سے پہلے 2024 کے اواخر میں یہ دیکھا کہ اُن کے کلینک میں آنے والے ایسے بچوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے جو ایچ آئی وی پازیٹیو ہیں۔

    رپورٹ کے مطابق ان کا کہنا ہے کہ انھوں نے جن بچوں میں یہ تشخیص کی ان میں سے 65 سے 70 کا علاج تونسہ تحصیل ہیڈ کوارٹرز ہسپتال میں ہوا تھا ایک بچی کی والدہ کے مطابق اُن کی بیٹی کو اُسی سرنج سے ٹیکا لگایا گیا جس سے اُس کی ایک اور کزن کو بھی لگایا گیا تھا اورجو ایچ آئی وی پازیٹیو ہے، اور پھر وہی سرنج کئی اور بچوں پر بھی استعمال ہوئی ایک بچے کے والد کے مطابق جب انھوں نے استعمال شدہ سرنج لگانے پر احتجاج کیا تو نرسز نے ان کا احتجاج نظرانداز کر دیا۔

    بی بی سی آئی نے پنجاب ایڈز سکریننگ پروگرام، نجی کلینکس اور پولیس کی جانب سے لیک ہونے والے اعداد و شمار کی مدد سے ایسے 331 بچوں کی شناخت کی جو تونسہ میں نومبر 2024 سے اکتوبر 2025 کے درمیان ایچ آئی وی پازیٹیو ہوئے 97 بچوں میں سے صرف چار کی مائیں ایچ آئی وی پازیٹیو تھیں اس سے یہ عندیہ ملتا ہے کہ ان میں سے بہت کم بچوں کو اپنی والدہ سے یہ مرض لگا، یعنی ماں سے بچے میں مرض کی ٹرانسمیشن ہوئی-

    صوبائی ایڈز سکریننگ پروگرام کے اعدادوشمار کے مطابق 331 بچوں میں سے نصف کو استعمال شدہ سوئی کی وجہ سے ایچ آئی وی لگا۔ باقی کے بارے میں ان اعداد و شمار میں نہیں بتایا گیا کہ انھیں ایچ آئی وی کیسے ہوا ہو گامارچ 2025 میں پنجاب حکومت نے 106 کیسوں کا حوالہ دیتے ہوئے ہسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر طیب فاروق چانڈیو کو معطل کر دیا تاہم معطلی کی تین ماہ کے اندر ہی وہ تونسہ کی مضافات میں ایک دیہی ہیلتھ سینٹر میں بطور سینیئر میڈیکل افسر ایک بار پھر بچوں کا علاج کر رہے تھے-

  • آئی جی پنجاب کی ڈی جی خان آمد ،  شہید ہیڈ کانسٹیبل کی نماز جنازہ میں شرکت ، اعلی سطحی اجلاس کی صدارت

    آئی جی پنجاب کی ڈی جی خان آمد ، شہید ہیڈ کانسٹیبل کی نماز جنازہ میں شرکت ، اعلی سطحی اجلاس کی صدارت

    لاہور / ڈیرہ غازی خان(باغی ٹی وی)آئی جی پنجاب کی ڈی جی خان آمد ، شہید ہیڈ کانسٹیبل کی نماز جنازہ میں شرکت ، اعلی سطحی اجلاس کی صدارت
    تفصیلات کے مطابق انسپکٹر جنرل پولیس پنجاب عامر ذوالفقار خان نے کہا ہے کہ پولس ٹیموں پر حملوں میں ملوث دہشت گرد و سماج دشمن عناصر کے خلاف زیرو ٹالرینس کے تحت کریک ڈاؤن میں تیزی لائی جائے اور دہشت گردوں کے ساتھ ساتھ انکے سہولت کاروں کو بھی کیفر کردار تک پہنچایا جائے ۔ آئی جی پنجاب نے ہدایت کی کہ بارڈر ایریا میں موجود پولیس چیک پوسٹوں پر نفری کی تعداد کو بڑھایا جائے ، جدید وسائل کے ساتھ ماہر سنائپرز کو بھی تعینات کیا جائے۔ آئی جی پنجاب نے ڈی آئی جی ایڈمن اینڈ اسٹیبلشمنٹ جنوبی پنجاب محمد سلیم کو چوبیس گھنٹوں کے اندر تونسہ شریف واقعہ کی تفصیلی انکوائری رپورٹ سی پی او بھجوانے کا حکم دیا ۔ انہوں نے کہا کہ واقعہ کی تمام پہلوؤں سے انکوائری کرتے ہوئے غفلت کے مرتکب ذمہ داروں کے خلاف کارروائی میں تاخیر نہ کی جائے ۔ آئی جی پنجاب نے ہدایت کی کہ ایڈیشنل آئی جی جنوبی پنجاب کچہ سمیت دیگر حساس علاقوں میں پولیس آپریشنز کی خود نگرانی کریں جبکہ سرچ اور کومبنگ آپریشنز کی رپورٹس روزانہ کی بنیاد پر باقاعدگی سے سنٹرل پولیس آفس بھجوائی جائیں ۔ آئی جی پنجاب نے کہا کہ کچے کے علاقے میں قانون کی رِٹ کو مزید مضبوط کرنے کیلئے منظم کریمنل گینگز کے خلاف بھرپور آپریشن کئے جائیں ۔ پولیس ٹیمیں حساس علاقوں میں پٹرولنگ بڑھائیں جبکہ سپروائزری افسران آپریشنز کی خود نگرانی کریں ۔ عامر ذوالفقار خان نے ہدایت کہ کہ سماج دشمن عناصر کے خلاف آپریشن کیلئے پولیس ٹیموں کو پہلے سے زیادہ وسائل ، جدید اسلحہ اور نفری فراہم کی جائے گی ۔ آئی جی پنجاب نے کہا کہ مجرمان کی نقل و حرکت ختم کرنے کیلئے سندھ اور بلوچستان پولیس سے کوارڈی نیشن اور انفارمیشن شئیرنگ کو مزید بہتر بنایا جائے ۔ یہ ہدایات انہوں نے آج آر پی او آفس ڈی جی خان میں اعلی سطحی اجلاس کی صدارت کے دوران جاری کیں ۔ آئی جی پنجاب کو تونسہ شریف میں پولیس چوکی پر دہشت گرد حملے کی ابتدائی تحقیقات بارے آگاہ کیا گیا۔ اجلاس میں ایڈیشنل آئی جیز جنوبی پنجاب ، سپیشل برانچ ، سی ٹی ڈی ، آر پی او ڈی جی خان ، ڈی آئی جی آپریشنز پنجاب ، ڈی پی او ڈی جی خان سمیت دیگر افسران نے شرکت کی ۔

    قبل ازیں آئی جی پنجاب نے پولیس لائنز ڈی جی خان میں شہید ہیڈ کانسٹیبل مظہر اقبال کی نماز جنازہ میں شرکت کی ۔ آئی جی پنجاب نے شہید کے جسدِ خاکی پر پھول چڑھائے اور درجات کی بلندی کیلئے فاتحہ خوانی کی ۔آئی جی پنجاب نے شہید کی لازوال قربانی کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ دوران ڈیوٹی جام شہادت نوش کرنے والے افسران و اہلکار محکمہ کے ماتھے کا جھومر اور قوم کے ہیرو ہیں جن کے اہل خانہ کی بہترین ویلفئیر کا خاص خیال رکھا جائے گا ۔ آئی جی پنجاب عامر ذوالفقار خان نے شہید کے ورثاء سے ملاقات کی ۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گرد عناصر اس طرح کی کاروائیوں سے ہمارے حوصلے پست نہیں کرسکتے ۔ پنجاب پولیس کے شہید بیٹے کا خون کسی صورت رائیگاں نہیں جائے گا ۔ عامر ذوالفقار خان نے کہا کہ عوام الناس کی جان و مال کی حفاظت کے لیے کسی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے نماز جنازہ میں پولیس افسران و اہلکاران ، میڈیا نمائندگان، وکلاء، سیاسی وسماجی شخصیات سمیت شہریوں کی کثیر تعداد نے شرکت کی ۔ نماز جنازہ کے بعد شہید کے جسد خاکی کو آبائی گاؤں روانہ کیا گیا جہاں انہیں مکمل سرکاری اعزاز کے ساتھ سپرد خاک کیا جائے گا گزشتہ روز پنجاب خیبر پختونخواہ کے بارڈر پر واقع پولیس پکٹ پر نامعلوم مجرمان کی فائرنگ سے ہیڈ کانسٹیبل مظہر اقبال نے جام شہادت نوش کیا تھا ۔ شہید ہیڈ کانسٹیبل مظہر اقبال نے سوگواران میں والدین، بیوی اور دو بچے چھوڑے ہیں ۔

    مزید برآں آئی جی پنجاب عامر ذوالفقار خان نے نشتر ہسپتال ملتان کا دورہ کیا اور تونسہ شریف پولیس چوکی پر حملہ میں زخمی پولیس اہلکار محمد رمضان کی عیادت کی۔ آئی جی پنجاب نے ڈاکٹرز سے زخمی اہلکار محمد رمضان کی صحت بارے دریافت کیا ۔ آئی جی پنجاب کی زخمی اہلکار کی جلد صحت یابی کیلئے بہترین طبی سہولیات کی فراہمی کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ زخمی اہلکار محمد رمضان کو بہترین نگہداشت اور ہر ممکن سپورٹ فراہم کی جائے ۔ اس موقع پر ایڈیشنل آئی جیز سپیشل برانچ ، سی ٹی ڈی ، ڈی آئی جی آپریشنز پنجاب اور سی پی او ملتان سمیت دیگر افسران بھی موجود تھے ۔

  • ڈیرہ غازی خان میں آئندہ چوبیس گھنٹوں کے دوران مزید سیلابی ریلوں کا خطرہ

    ڈیرہ غازی خان میں آئندہ چوبیس گھنٹوں کے دوران مزید سیلابی ریلوں کا خطرہ

    ڈیرہ غازی خان میں آئندہ چوبیس گھنٹوں کے دوران مزید سیلابی ریلوں کا خطرہ ہے-

    باغی ٹی وی : – ڈیرہ غازی خان اور تونسہ شریف میں بارشوں اور سیلاب نے تباہی مچادی ہےڈیرہ غازی خان میں کوہ سلیمان پر موسلادھار بارشوں سے بستی لتڑہ کا حفاظتی بند ٹوٹ گیا برساتی نالے مٹھوان کا سیلابی ریلا حفاظتی بند بہا کر لےگیا سیلابی ریلا بستی لتڑہ کی شہری آبادی میں داخل ہو گیا متاثرہ علاقوں سے لوگوں کی محفوظ مقامات پر نقل مکانی شروع ہو گئی۔

    ملک بھرکے مختلف علاقوں میں سیلابی صورت حال سے ہزاروں متاثرین بے گھر

    آئندہ دو سے تین روز کے دوران تونسہ شریف اورکوہ سلیمان کے سلسلہ میں طوفانی بارشوں کا امکان ہے جس سے ضلع بھر کے برساتی ندی نالوں میں شدید طغیانی آسکتی ہےضلع بھر میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے تمام اداروں کے اہلکاروں کی چھٹیاں منسوخ کر دی گئی ہیں، مزید کشتیاں تونسہ منگوالی گئی ہیں۔

    برساتی ندی نالوں سے ملحقہ آبادیوں کے مکینوں نے نقل مکانی شروع کردی، بیشتر خاندان محفوظ مقامات پر منتقل ہو گئے۔ بیشتر خاندان سڑکیں اور رابطہ پل بہہ جانے کی وجہ سے پیدل اور اونٹوں کے ذریعے ضروری سامان سمیت محفوظ مقامات پر منتقل ہوئے ہیں۔

    وادی نیلم میں کلاؤڈ برسٹ سے تباہی، 5 مکانات اور 3 بجلی گھر شدید متاثر،5 افراد…

    سیلاب نے تونسہ شریف میں تباہی مچا دی ہے متعدد بستیاں سیلابی پانی میں ڈوب گئیں۔ سیلابی ریلے میں سب سے زیادہ نقصان تونسہ شریف کے مغرب میں آباد تاریخی قصبے “منگڑوٹھہ” میں ہوا سینکڑوں مکانات اور مال مویشی سیلابی پانی کے ساتھ بہہ گئے-

    اسسٹنٹ کمشنر تونسہ کے مطابق فلڈ ریلیف کیمپوں میں متاثرین کو تین وقت کھانا اور رہائش دی جا رہی ہے، تاہم کئی متاثرین کا کہنا ہے کہ وہ کھلے آسمان تلے حکومتی امداد کے منتظر ہیں ۔

    کراچی کے مختلف علاقوں میں بارش کا سلسلہ جاری