Baaghi TV

Tag: توہین الیکشن

  • علی امین گنڈا پور کے خلاف توہین الیکشن کمیشن کیس کی سماعت ملتوی

    علی امین گنڈا پور کے خلاف توہین الیکشن کمیشن کیس کی سماعت ملتوی

    مظفرآباد: وزیر اعلی کے پی کے علی امین گنڈا پور کے خلاف توہین الیکشن کمیشن آزادکشمیر کیس کی سماعت ہوئی

    علی امین گنڈا پور کے خلاف کمیشن پورا ہونے تک سماعت روکنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا گیا ،وزیراعلی کے پی کے کی جانب سے وکلا پینل نے سماعت روکنے کی درخواست دی تھی، پٹشنر اور ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل کی جانب سے درخواست خارج کرنے کی استدعا کی گئی.

    نوٹ، اس خبر کو اپڈیٹ کیا جا رہا ہے

  • توہین الیکشن کمیشن کیس، علی امین گنڈا پور کو حاضر کرنےکا حکم

    توہین الیکشن کمیشن کیس، علی امین گنڈا پور کو حاضر کرنےکا حکم

    مظفرآباد توہین الیکشن کمیشن کیس میں الیکشن ٹربیونل نے علی امین گنڈا پور کو حاضر کرنے کا حکم دیدیا

    علی امین گنڈا پور کے وکیل کی جانب سے حاضری سے استثنیٰ دینے کی درخواست دی گئی،الیکشن کمیشن آزادکشمیر نے علی امین گنڈا پور کو 11 مارچ حاضر کرنے کا حکم دے دیا ،حاضر نہ ہونے پر الیکشن ٹربیونل کی جانب سے سخت کاروائی کا عندیہ دیا گیا ہے،الیکشن کمیشن آزاد کشمیر کی جانب سے 11 مارچ کو علی امین گنڈا پور پر فرد جرم عائد کیے جانے کا امکان ہے،علی امین گنڈا پور کے وکیل کی جانب سے اختیار سماعت پر دی جانے والی درخواست پر فیصلہ 11 مارچ کو کیا جائے گا ،الیکشن کمیشن نے مقدمہ کی سماعت کیمپ آفس اسلام آباد میں کی

  • ہر پوسٹر پر  عمران خان کی تصاویر ، بلّا اہم نہیں، لوگ  عمران خان کو جانتے ہیں،ممبر الیکشن کمیشن

    ہر پوسٹر پر عمران خان کی تصاویر ، بلّا اہم نہیں، لوگ عمران خان کو جانتے ہیں،ممبر الیکشن کمیشن

    بانی پی ٹی آئی عمران خان کے خلاف توہین الیکشن کمیشن اور الیکشن کمشنر کیس کی سماعت انتخابات کے بعد تک ملتوی کر دی گئی

    عمران خان اور فواد چوہدری کے خلاف توہین الیکشن کمیشن اور الیکشن کمشنر کیس کی سماعت ہوئی،ممبر الیکشن کمیشن سندھ نثار درانی کی سربراہی میں چار رکنی بینچ نے سماعت کی،وکیل شعیب شاہین اور فیصل چوہدری الیکشن کمیشن میں پیش ہوئے،وکیل شعیب شاہین نے کہا کہ میں آپ کے حکم کے مطابق حاضری لگانے آ گیا ہوں، میری درخواست ہے کہ سماعت ملتوی کر دی جائے،لاء ونگ نے کہا کہ گواہان کے بیانات اور شواہد ریکارڈ ہونے ہیں،وکیل شعیب شاہین نے کہا کہ 8 فروری کے بعد سماعت رکھ لیں، انتخابات تک کمیشن بھی مصروف ہے، تاثر جا رہا ہے کہ الیکشن کمیشن ایک جماعت کے خلاف ہے، ممبر الیکشن کمیشن خیبر پختون خوا نے کہا کہ ہم پارٹی نہیں ہیں،

    وکیل شعیب شاہین نے کہا کہ مختلف جگہوں پر دفعہ 144 لگا دی ہے، جلسے جلوس نہیں کرنے دیے جا رہے، تحریک انصاف کا انتخابی نشان بھی چھین لیا گیا،ممبر الیکشن کمیشن خیبر پختون خوا نے کہا کہ بلّے کے بغیر بھی الیکشن لڑا جا سکتا ہے، وکیل شعیب شاہین نے کہا کہ عوام کو یہ بات کیسے سمجھائیں،ممبر الیکشن کمیشن کے پی نے کہا کہ شعیب صاحب آپ کے ہر پوسٹر پر عمران خان کی تصاویر لگی ہیں، بلّا اہم نہیں، لوگ عمران خان کو جانتے ہیں،وکیل شعیب شاہین نے کہا کہ الیکشن کمیشن کی نگرانی میں دوبارہ انٹرا پارٹی الیکشن کرانے کو تیار ہیں، نشان لے کر پانچ سال کے لیے پارٹی تحلیل کردی گئی، الیکشن کمیشن گواہوں کے بیانات 15 فروری کے بعد قلم بند کرے،ممبر اکرام اللّٰہ خان نے کہا کہ ایک سال سے زائد ہو گیا کیس میں التواء پر التواء ہو رہا ہے، وکیل شعیب شاہین کی درخواست پر سماعت 20 فروری تک ملتوی کر دی گئی

    صحافی حافظ طاہر خیلیل کا توہین الیکشن کمیشن میں عمران خان کے خلاف سلطانی گواہ بننے سے صاف انکار
    سینئر صحافی حافظ طاہر خیلیل نے توہین الیکشن کمیشن میں عمران خان کے خلاف سلطانی گواہ بننے سے صاف انکار کر دیا،حافظ طاہر خلیل کا کہنا تھا کہ میں اس کیس متعلق کچھ نہیں جانتا ،مجھے کسی وضاحت کی ضرورت نہیں،میں اس بات کا تصور بھی نہیں کرسکتا کہ کسی سیاستدان کے خلاف گواہ بنوں،صحافی جو سوچتا ہے وہ لکھ دیتا ہے،ہم کسی عدالت میں جانے کے روادار نہیں ہیں،میں نے اخبار میں مضمون لکھا اور میں اس کے ساتھ کھڑا ہوں،میں نے ماضی میں بھی ممتاز بھٹو کے خلاف گواہ بننے کی بجائے استعفی دینا مناسب سمجھا تھا،میں پوچھوں گا کہ میری مرضی کے بغیر الیکشن کمیشن نے نام کیوں استعمال کیا،میں نے گزشتہ سماعت پر بھی واضح کیا تھا کہ سوائے ارٹیکل کی وضاحت کے کوئی گواہی نہیں دوں گا،توہین الیکشن و کمشنر کیس میں بطور گواہ سینئر صحافی طاہر خلیل کا نام بطور گواہ سامنے آیا تھا

  • جس طرح جیل میں ملزم (عمران خان)  نے برتاؤ کیا ہم نے وہ بھی برداشت کیا،ممبر الیکشن کمیشن

    جس طرح جیل میں ملزم (عمران خان) نے برتاؤ کیا ہم نے وہ بھی برداشت کیا،ممبر الیکشن کمیشن

    بانی چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کے خلاف توہین الیکشن کمیشن و الیکشن کمشنر کیس کی سماعت ہوئی

    ممبر سندھ کی سربراہی میں چار رکنی کمیشن نے سماعت کی، شعیب شاہین نے کہا کہ ہمیں تو سماعت کا معلوم ہی نہیں، کوئی نوٹس نہیں ملا۔ ہمیں تو معلوم ہی نہیں تھا کہ کمیشن نے جیل ٹرائل نہیں کرنا،سماعت کمیشن میں ہونے کا نہیں پتا تھا۔ ممبر کمیشن نے کہا کہ جیل میں گزشتہ سماعت میں تاریخ کا اعلان کیا گیا تھا۔ شعیب شاہین نے کہا کہ یہ زیادتی ہے، ہمیں لیول پلئینگ فیلڈ بھی نہیں مل رہی۔ ہمارے خلاف توہین الیکشن کمیشن کی بھی کارروائی کی جا رہی ہے۔ ممبر بلوچستان نے کہا کہ آپ ہمیں گالیاں نکالیں تو ہم آگے سے کچھ نہ کریں؟شعیب شاہین نے کہا کہ سپریم کورٹ کے خلاف پی ڈی ایم جماعتیں کیا کچھ نہیں بولیں انہیں تو کسی نے نہیں بلایا۔ رحیم یار خان میں ہمارے 150 لوگوں کے خلاف پرچے کاٹ دییے گئے۔ ممبر بلوچستان نے کہا کہ تو آپ کیوں حملے کرتے ہیں انتخابی عملہ پر۔ شعیب شاہین نے کہا کہ عوام آپ کی طرف دیکھ رہے ہیں۔ممبر سندھ نے کہا کہ جس طرح جیل میں ملزم نے برتاؤ کیا ہم نے وہ بھی برداشت کیا۔

    وکیل شعیب شاہین نے کہا کہ اس کیس کو ملتوی کر دیں، آپ ہم سے تنقید کا حق بھی چھین رہے ہیں، بلّے کا نشان بھی چھین لیا، اب الیکشن کے دنوں میں ہمارے لیڈر پر توہین الیکشن کمیشن کی سزا ہو جائے گی،ممبر الیکشن کمیشن نے کہا کہ ہم نے چھینا نہیں، آپ کو دیا نہیں تھا، اس کیس کو دو سال ہو گئے ہیں، اس وقت آپ کی حکومت تھی،شعیب شاہین نے کہا کہ اللہ کرے فیصلہ آئین اور قانون کے مطابق ہو، ہمارے اندر لاوا پکا ہوا ہے، ہم اس کا اظہار نہ کریں،ممبر الیکشن کمیشن نے کہا کہ رحیم یار خان میں آپ کے وکلاء نے حملہ کیا تنقید ہونی چاہیے گالی تو نہیں ہونی چاہیے، یہ کیسز 2021 سے پڑے ہیں، آپ نے کیس کو اتنا طول دے دیا جیل میں جو ہوا اس پر ہم خاموش رہے جیسے ملزم نے جیل میں کیا ایسا ہم نے پہلے نہیں دیکھا، ہم بہت کچھ کر سکتے تھے،الیکشن کمیشن نے کیسز کی سماعت 24 جنوری تک ملتوی کر دی

    واضح رہے کہ گزشتہ سماعت پر اڈیالہ جیل میں الیکشن کمیشن نے توہینِ الیکشن کمیشن کیس میں عمران خان اور فواد چوہدری پر فردِ جرم عائد کر دی تھی،

    چارج شیٹ کے مطابق عمران خان اور فواد چوہدری نے 2022ء میں الیکشن کمیشن کے خلاف منصوبہ بندی سے تضحیک آمیز مہم کا سلسلہ شروع کیا ملزمان نے ایک نہیں متعدد بار الیکشن کمیشن اور سربراہ کے خلاف متعصبانہ اور تضحیک آمیز زبان استعمال کی، ملزمان نے 12جولائی 2022ء کو بھکر میں عوامی جلسے کے دوران الیکشن کمیشن کے خلاف غیر پارلیمانی زبان استعمال کی ملزمان نے 18جولائی اور 27 جولائی کو عوامی جلسوں میں الیکشن کمیشن اور سربراہ پر من گھڑت الزامات عائد کیے،ملزمان نے 4 اگست اور 10 اگست 2022ء کو الیکشن کمیشن کو اسکینڈلائز کیا، عمران خان اور فواد چوہدری نے جلسوں میں آئینی ادارے کو تضحیک کا نشانہ بنایا ،مطلوبہ شواہد، ویڈیوز اور دستاویزات کے مطابق ملزمان کے خلاف ٹرائل شروع کیا جائے ملزمان نے الیکشن ایکٹ کے تحت الیکشن کمیشن آف پاکستان کی توہین کی سپریم کورٹ کی آبزرویشن کے تحت الیکشن کمیشن ملزمان کے خلاف کارروائی کا مجاز ہے.

    واضح رہے کہ الیکشن کمیشن نے 19 اگست کو عمران خان، اسد عمر اور فواد چوہدری کو نوٹسز جاری کیے تھے۔ ترجمان الیکشن کمیشن کا کہنا تھا کہ سیاسی رہنماؤں نے مختلف جلسوں، پریس کانفرنسز اور انٹرویوز کے دوران الیکشن کمیشن اور چیف الیکشن کمشنر پر الزمات عائد کیے تھے

    توہین الیکشن کمیشن میں جیل ٹرائل کے خلاف بانی پی ٹی آئی عمران خان کی درخواست

    الیکشن کمیشن نے فیصلے میں کہا کہ کیس کا ٹرائل اڈیالہ جیل میں ہوگا

     وزارت داخٰلہ اجازت دے گی چیئرمین پی ٹی آئی کیس کی جیل میں سماعت کرلیں،

     ہم چیئرمین پی ٹی آئی پر فردجرم عائد کردیں گے دفاع میں جو پیش کرنا چاییں آپ کی مرضی

  • سپریم کورٹ، تحریک انصاف کی الیکشن کمیشن کیخلاف توہین عدالت درخواست  پیر تک ملتوی

    سپریم کورٹ، تحریک انصاف کی الیکشن کمیشن کیخلاف توہین عدالت درخواست پیر تک ملتوی

    پی ٹی آئی کی لیول پلیئنگ فیلڈ میں الیکشن کمیشن کیخلاف توہین عدالت کی درخواست پر سماعت ہوئی

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسٰی،جسٹس محمد علی مظہر اور جسٹس مسرت ہلالی سماعت کر رہے ہیں،پی ٹی آئی کے وکیل سردار لطیف کھوسہ اور شعیب شاہین عدالت کے سامنے پیش ہو گئے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسی نے لطیف کھوسہ کے نام کیساتھ سردار لکھنے پر اظہار برہمی کیا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے سردار لطیف کھوسہ سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ سردار،نواب اور پیر جیسے الفاظ اب لکھنا بند کر دیں،1976 کے بعد سے سرداری نظام ختم ہوچکا ہے،یا تو پاکستان کا آئین چلائیں یا پھر سرداری نظام،آئین پاکستان کیساتھ اب مذاق کرنا بند کر دیں،لطیف کھوسہ نے کہا کہ میرے شناختی کارڈ پر سردار لکھا اس لیے عدالت میں بھی سردار لکھا گیا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ سردار اور نوابوں کو چھوڑ دیں اب غلامی سے نکل آئیں،سردار لکھ کر اپنا رتبہ بڑا کرنے کی کوشش نہ کیا کریں،سرداری نظام ختم ہو چکا ہے یہ سردار نواب عدالت میں نہیں چلے گا ،آپ کی حکومت نے ہی سرداری نظام ختم کرنے کا قانون بنایا آپ کے بیٹے بھی سردار ہو گئے ہیں ،لطیف کھوسہ نے کہا کہ مجھے پریکٹس کرتے ہوئے 55 سال ہوگئے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ یہ باتیں نہ کریں ناں،

    لطیف کھوسہ نے دلائل کا آغاز کر دیا ،سپریم کورٹ میں کہا کہ لیول پلینگ فلیڈ صحت مندانہ مقابلے کے لیے ضروری ہے،جسٹس محمد علی مظہرنے کہا کہ کیا آپ نے سپریم کورٹ کے حکم پر الیکشن کمیشن سے رجوع کیا؟ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ کی اب درخواست کیا ہے؟جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ یہ توہین عدالت کی درخواست ہے کوئی نیا کیس نہیں،مرکزی کیس 22 دسمبر کو نمٹایا جا چکا،آپ نے درخواست میں بہت سارے توہین عدالت کرنے والوں کے نام شامل کر لیے،الیکشن کمیشن نے کیا توہین عدالت کی؟کیا الیکشن کمیشن نے آپ کے بارے کوئی فیصلہ دیا یا صوبائی الیکشن کمیشن کو احکامات دیے؟ یہ توہین عدالت کا کیس ہے کوئی نئی درخواست نہیں،الیکشن کمیشن نے جو توہین کی آپ کے مطابق وہ بتائیں، آپ کو آرڈر کیا دیا؟لطیف کھوسہ نے کہا کہ ہمیں الیکشن کمیشن نے کچھ آرڈر نہیں دیا،جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ آپ نے اتنے لوگوں کو اس میں فریق بنایا،آپ بتائیں کس نے کیا توہین کی ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ ہمیں بتائیں آپ ہم سے چاہتے کیا ہیں،اب آپ تقریر نہ شروع کر دیجیے گا،آئینی اور قانونی بات بتائیں ہر کوئی یہاں آ کر سیاسی بیان شروع کر دیتا ہے،آئی جی اور چیف سیکریٹریز کا الیکشن کمیشن سے کیا تعلق ہے، لطیف کھوسہ نے کہا کہ ہمارے امیدواروں کی راہ میں رکاوٹ ڈالی گئی،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ثبوت کیا ہیں ہمیں کچھ دکھائیں،لطیف کھوسہ نے کہا کہ میں نے ساری تفصیل درخواست میں لگائی ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ توہین عدالت کیس میں آپ صرف الیکشن کمیشن کو فریق بنا سکتے تھے،آئی جی اور چیف سیکریٹریز کو نوٹس بھیجا وہ کہیں گے ہمارا تعلق نہیں،آپ انفرادی طور پر لوگوں کے خلاف کاروائی چاہتے ہیں تو الگ درخواست دائر کریں،کسی کے کاغذات نامزدگی مسترد ہوئے ہیں تو اپیل دائر کریں،لطیف کھوسہ نے کہا کہ ہمیں اپیل دائر کرنے کے لیے آراو آرڈرز کی نقل تک نہیں دے رہے،جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ آپ کے کتنے امیدواروں کے کاغذات نامزدگی منظور ہوئے،آپ نے لکھا سارا ڈیٹا سوشل میڈیا سے لیا؟ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ جس کے بھی کاغذات نامزدگی مسترد ہوئے وہ اپیل کرے گا بات ختم، لطیف کھوسہ نے کہا کہ 3 دن تک آرڈر کی کاپی نہیں ملی،اپیل کہاں کریں،جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ آپ نے لوگوں کے نام کی جگہ میجر فیملی لکھا ہوا،لطیف کھوسہ نے کہا کہ میجر طاہر صادق کا ذکر ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ چاہتے ہیں ہم الیکشن کمیشن کا کام کریں،آراو کے فیصلے کی کاپی نہیں ملتی تو کاپی کے بغیر ٹرابیونل میں درخواست دیں،ہم کیسے دوسرے فریق کو سنیں بغیر آپ کی اپیل منظور کر لیں،ہم کیسے کہہ دیں کہ فلاں پارٹی کے کاغذات منظور کریں اور فلاں کے مسترد؟آپ بتائیں ہم کیا آڈر پاس کریں،عدالتیں الیکشن کیلئے ہر سیاسی جماعت کے پیچھے کھڑی ہیں،آپ ٹربیونل میں اپیلیں دائر کریں اس کے بعد ہمارے پاس آئیں تو سن لیں گے،

    عدالت نے استفسار کیا کہ ٹربیونل میں اپیل دائر کرنے کا وقت کب تک ہے، ڈی جی لا الیکشن کمیشن نے کہا کہ آج آخری دن ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کھوسہ صاحب ٹربیونل جائیں پھر یہاں کیا کر رہے ہیں،لطیف کھوسہ نے کہا کہ ہماری شکایت پر الیکشن کمیشن نے تمام صوبوں کے آئی جیز کو ہدایات دیں اور وہ اس کیس سے متعلق ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ کی شکایات کی کاپی کہاں ہے،لطیف کھوسہ نے کہا کہ میں نے شکایات کی کاپی ساتھ نہیں لگائی،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ پھر الیکشن گزر جائیں گے تو کاپی لگا لیجیے گا،آپ ہر بات کے جواب میں سیاسی جواب دے رہے ہیں، یہ قانون کی عدالت ہے،آپ اپنی درخواست میں توہین عدالت کے مرتکب ہونے کا الزام آئی جی پر لگا رہے ہیں،انتخابات آئی جی،چیف سیکیریٹریز یا سپریم کورٹ نے کرانے ہیں؟ہر ہائیکورٹ میں الیکشن ٹریبونل بن چکے وہاں جائیں، بارہا کہہ چکے کہ عدالتیں جمہوریت اور انتخابات کے لیے ہر سیاسی جماعت کے پیچھے کھڑی ہیں،وکیل لطیف کھوسہ نے کہا کہ آپ مجھے بھی سن لیں میں 55 سال سے وکالت کر رہا ہوں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ کے 22 دسمبر کے حکم پر 26 دسمبر کو مفصل عملدرآمد رپورٹ جمع کرائی ہے،لطیف کھوسہ نے کہا کہ الیکشن کمیشن کی رپورٹ دیکھنے کے لیے کل تک کا وقت دے دیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ہم کیا روز آپ کے کیس سنتے رہیں گے،عدالت کوئی اور کام نا کرے؟اکھاڑا نہیں یہ عدالت ہے، لطیف کھوسہ نے کہا کہ آپ صوبائی الیکشن کمیشن کا خط بھی تو دیکھیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیی نے کہا کہ صوبائی الیکشن کمیشن نے خط 24 دسمبر کو لکھا جبکہ الیکشن کمیشن نے عملدرآمد رپورٹ 26 کو جمع کرائی،الیکشن کمیشن نے 26 دسمبر کے بعد کچھ کیا ہو تو بتائیں،لطیف کھوسہ نے کہا کہ آپ ویڈیو لگانے کی اجازت دیں، پوری دنیا نے میڈیا پر دیکھا جو پی ٹی آئی کے ساتھ ہوا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ میں نے نہیں دیکھا کیونکہ میں میڈیا نہیں دیکھتا،لطیف کھوسہ نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے ہماری شکایت پر صرف صوبوں کو ایک خط لکھ دیا،کیا الیکشن کمیشن صرف ایک خط لکھ کر ذمہ داریوں سے مبرا ہو گیا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ توہین عدالت کے سکوپ تک رہیں،یہ بتائیں ہمارے 22 دسمبر کے حکمنامہ پر کہاں عملدرآمد نہیں ہوا،الیکشن کمیشن نے تو 26 دسمبر کو عملدرامد رپورٹ ہمیں بھیج دی،

    سردار لطیف کھوسہ نے سماعت کل تک ملتوی کرنے کی استدعا کی، جس پر چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ہم روز آپ کیلئے نہیں بیٹھ سکتے،آپ کو عملدرآمد رپورٹ مل گئی اس پر جواب دے دیں،لطیف کھوسہ نے کہا کہ میں زیادہ وقت آپ کا ضائع نہیں کروں گا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ وقت ضائع کریں ہم رات تک بیٹھیں ہیں،لطیف کھوسہ نے کہا کہ میڈیا میں سب کچھ آچکا ہے دنیا نے سب کچھ دیکھا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ میں تو میڈیا دیکھتا ہی نہیں،لطیف کھوسہ نے کہا کہ صرف کاسمیٹک عملدرآمد نہیں آپ بنیادی حقوق کے محافظ ہیں آپ نے شفاف الیکشن یقینی بنانے ہیں،میں ہائیکورٹ یا دیگر عدالتوں میں جا کر وقت ضائع نہیں کر سکتا جب سپریم کورٹ نے پہلے ہی انتخابات سے متعلق حکم دے رکھا ہے،عدالت لیول پلیئنگ فیلڈ کی فراہمی یقینی بنائے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ہمیں اپنی وہ شکایات دکھا دیں جو الیکشن کمیشن میں دائر کیں،جسٹس محمد علی مظہر نے ڈی جی لا الیکشن کمیشن سے سوال کیا کہ کیا آپ ان کو لیول پلئینگ فیلڈ فراہم نہیں کر رہے؟ ڈی جی الیکشن کمیشن نے کہا کہ بالکل کر رہے ہیں، ان کی 30 شکایات موصول ہوئیں جن کو الیکشن کمیشن نے حل کیا،لطیف کھوسہ نے کہا کہ ہزاروں کے حساب سے درخواستیں ہیں اور الیکشن کمیشن 30 شکایات کی بات کر رہا ہے،جو کچھ ہو رہا ہے یہ کبھی ملکی تاریخ میں نہیں ہوا،ملک میں بدترین صورتحال پر کوئی آنکھیں کیسے بند کر سکتا ہے؟چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ نے پچھلی بار بھی دھاندلی کا الزام عائد کیا تھا سپریم کورٹ کا ٹائم ضائع کیا پھر ایک بھی الزام ثابت نہیں ہوا،چیف الیکشن کمشنر ہم نے تو نہیں لگایا ہے آپ نے لگایا ہے،

    پی ٹی آئی کی درخواست پر چیف سیکریٹری پنجاب اور آئی جی کو نوٹس جاری
    چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسی نے آج کی سماعت کا تحریری حکمنامہ لکھوانا شروع کر دیا،عدالت نے آئی جی پنجاب ، چیف سیکرٹری پنجاب ایڈوکیٹ جنرل پنجاب سے جواب طلب کر لیا،عدالت نے آئی جی پنجاب ، چیف سیکرٹری پنجاب ایڈوکیٹ جنرل پنجاب کو نوٹس جاری کر دیے،سپریم کورٹ نے لیول پلینگ فیلڈ کی درخواست پر سماعت پیر تک ملتوی کر دی،

    قبل ازیں سپریم کورٹ ،پی ٹی آئی کو لیول پلیئنگ فیلڈ فراہمی کیلئے دائر توہین عدالت کی درخواست،پی ٹی آئی وکلاء نے اضافی دستاویزات سپریم کورٹ میں جمع کروا دیں،پی ٹی آئی کے 668 ٹاپ لیڈرز کے کاغذات مسترد ہونے کے حوالے سے عدالت کو آگاہ کردیا گیا،اضافی دستاویزات میں کہا گیا کہ 2000 کے قریب حمایت یافتہ اور سیکنڈ فیز کے رہنماؤں کے کاغذات نامزدگی مسترد کئے گئے،پی ٹی آئی رہنماوں کے کاغذات نامزدگی چھیننے کے 56 واقعات پیش آئے،پی ٹی آئی کے تجویز کنندہ اور تائید کنندگان کو گرفتار کیا گیا،

    واضح رہے کہ لیول پلیئنگ فیلڈ کے احکامات پرعملدرآمد نہ ہونے پر تحریک انصاف نے سپریم کورٹ میں توہین عدالت کی درخواست دائرکررکھی ہے،تحریک انصاف کی جانب سے سپریم کورٹ میں‌ دائر درخواست میں استدعا کی گئی کہ سپریم کورٹ 22 دسمبرکے احکامات پرعملدرآمد یقینی بنائے، پی ٹی آئی امیدواروں اوررہنماؤں کوگرفتاریوں اورحراساں کرنے سے بھی روکا جائے.

    گزشتہ دنوں سپریم کورٹ نے تحریک انصاف کی لیول پلیئنگ فیلڈ سے متعلق شکایت پر الیکشن کمیشن اور حکومت کو فوری ازالے کی ہدایت کرتے ہوئے قراردیا تھا کہ بظاہر پی ٹی آئی کا لیول پلئنگ فیلڈ نہ ملنے کا الزام درست ہے، عدالتی فیصلے میں کہا گیا تھا کہ منصفانہ انتخابات منتخب حکومت کو قانونی حیثیت فراہم کرتے ہیں، شفاف انتخابات جمہوری عمل پر عوام کا اعتماد برقرار رکھتے ہیں، انتخابات جبری کی بجائے عوام کی رضا کے حقیقی عکاس ہونے چاہییں، آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کا انعقاد نتائج سے زیادہ اہم ہے الیکشن کمیشن جمہوری عمل میں میں اہم کردار ادا کرتا ہے، الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے انتخابات کو بدعنوانی سے بچائے، آئین کے آرٹیکل 220 کے تحت تمام ایگزیکٹو اتھارٹیز الیکشن کمیشن کی معاونت کے پابند ہیں۔

    تمام امیدواران کو الیکشن کا برابر موقع ملنا چاہئے

    عام انتخابات کے دن قریب آئے تو تحریک انصاف کی مشکلات میں اضافہ 

     این اے 15سے نوازشریف کے کاغذات نامزدگی منظور

    نواز شریف پر مقدر کی دیوی مہربان،راستہ صاف،الیکشن،عمران خان اور مخبریاں

  • توہین الیکشن کمیشن، عمران خان،فواد چودھری پر فردجرم کی کاروائی ایک بار پھر مؤخر

    توہین الیکشن کمیشن، عمران خان،فواد چودھری پر فردجرم کی کاروائی ایک بار پھر مؤخر

    توہین الیکشن کمیشن کیس کی سماعت بغیر کارروائی 3 جنوری تک ملتوی کر دی گئی،

    عمران خان اور فواد چوہدری پر فردجرم عائد نہ ہو سکی،فواد چودھری کے وکیل فیصل فرید چودھری عدالت پیش ہوئے،بانی پی ٹی آئی کے وکیل شعیب شاہین کاغذات نامزدگی کی سکروٹنی کے باعث پیش نہ ہو سکے ،الیکشن کمیشن نے توہین کیس میں سماعت بغیر کاروائی ملتوی کردی ،توہین الیکشن کمیشن کیس کی سماعت تین جنوری تک ملتوی کر دی گئی،

    فواد چوہدری کے بھائی فیصل چوہدری نے میڈیا سے گفتگو میں بتایا کہ عمران خان کا کہنا تھا کہ پارٹی کو ٹارگٹ کیا جارہا ہے کیس کا ریکارڈ اور آرڈر شیٹ موجود نہیں ہے فواد چوہدری کے تجویز کنندہ اور تائید کنندہ کو دھمکایا جارہا ہےسکروٹنی کے عمل میں بھی مشکلات کا سامنا ہے توہین الیکشن کمیشن کے اوپن ٹرائل کا بھی مطالبہ کیا گیا الیکشن کمیشن جا کر بھی اپنی معروضات پیش کریں گے فواد چوہدری کے جہلم کے دو حلقوں سے کاغذاتِ نامزدگی جمع کروائے گئے ہیں، سماعت ہے بعد الیکشن کمیشن کا لاؤ لشکر اڈیالہ جیل سے واپس روانہ ہو گیا

    توہین الیکشن کمیشن میں جیل ٹرائل کے خلاف بانی پی ٹی آئی عمران خان کی درخواست

    الیکشن کمیشن نے فیصلے میں کہا کہ کیس کا ٹرائل اڈیالہ جیل میں ہوگا

     وزارت داخٰلہ اجازت دے گی چیئرمین پی ٹی آئی کیس کی جیل میں سماعت کرلیں،

     ہم چیئرمین پی ٹی آئی پر فردجرم عائد کردیں گے دفاع میں جو پیش کرنا چاییں آپ کی مرضی

  • توہین الیکشن کمیشن کیس، عمران خان،فواد پر فرد جرم ایک بار پھر مؤخر

    توہین الیکشن کمیشن کیس، عمران خان،فواد پر فرد جرم ایک بار پھر مؤخر

    توہین الیکشن کمیشن کیس، بانی پی ٹی آئی اور فواد چوہدری پر فردجرم ایک بار پھر مؤخر کر دی گئی

    توہین الیکشن کمیشن کیس کی سماعت 27 دسمبر تک ملتوی کر دی گئی،فواد چوہدری کی جانب سے توہین الیکشن کمیشن کیس میں اوپن ٹرائل کی استدعا کی گئی ،فواد چودھری نے کہا کہ ہمیں کیس سے متعلق کاپیاں فراہم نہیں کی گئی نہ ہماری دستاویزات اندر آنے دی گئیں، دستاویزات کے بغیر نہیں بتا سکتا کہ مجھ پر کیا کیا الزامات ہیں،

    بانی چیئرمین پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی پر فرد جرم عائد نہ ہو سکی ،ممبر الیکشن کمیشن نثار درانی نے توہین الیکشن کمیشن کیس کی سماعت کی ،الیکشن کمیشن کے ممبران شاہ محمود جتوئی، بابر حیسن بھروانہ اور جسٹس ریٹائرڈ اکرام اللہ بھی عدالت میں موجود تھے، کیس کی سماعت اڈیالہ جیل میں ہوئی.

    توہین الیکشن کمیشن میں جیل ٹرائل کے خلاف بانی پی ٹی آئی عمران خان کی درخواست

    الیکشن کمیشن نے فیصلے میں کہا کہ کیس کا ٹرائل اڈیالہ جیل میں ہوگا

     وزارت داخٰلہ اجازت دے گی چیئرمین پی ٹی آئی کیس کی جیل میں سماعت کرلیں،

     ہم چیئرمین پی ٹی آئی پر فردجرم عائد کردیں گے دفاع میں جو پیش کرنا چاییں آپ کی مرضی

  • توہین الیکشن کمیشن،اڈیالہ جیل میں اگلی سماعت ہونے کا امکان

    توہین الیکشن کمیشن،اڈیالہ جیل میں اگلی سماعت ہونے کا امکان

    چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کے خلاف توہین الیکشن کمیشن و چیف الیکشن کمشنر کیسز کی سماعت ہوئی

    معاون وکیل نے الیکشن کمیشن سے استدعا کی کہ چیئرمین پی ٹی آئی کے وکیل غیر حاضر، تھوڑی دیر میں پہنچیں گے،ممبر الیکشن کمیشن نثار درانی نے کہا کہ کیا چیئرمین پی ٹی آئی کے وکیل نے آنا ہے؟ ہم نے حلقہ بندیوں کی بھی سماعت کرنی ہے، اگر چیئرمین پی ٹی آئی کو سیکورٹی خدشات ہیں تو سماعت جیل میں نوٹیفائی کرسکتے ہیں؟ سیکرٹری داخلہ نے کہا کہ اگر الیکشن کمیشن حکام جیل جانا چاہتے ہیں تو نوٹیفائی کرسکتے ہیں، وزارت داخٰلہ اجازت دے گی چیئرمین پی ٹی آئی کیس کی جیل میں سماعت کرلیں، ممبر الیکشن کمیشن نے کہا کہ کیا قانون الیکشن کمیشن کو جیل میں سماعت کرنے کی اجازت دیتا ہے؟سیکرٹری داخلہ نے کہا کہ چیئرمین پی ٹی آئی کیس کی جیل میں سماعت پر وزارت قانون سے رائے لے لیتا ہوں،

    پی ٹی آئی وکیل شعیب شاہین کمیشن میں پیش ہوئے اور کہا کہ چیئرمین پی ٹی آئی کے ساتھ ایک بار ملاقات کی اجازت ملی، ملاقات کے دوران کاغذ پینسل تک لیکر جانے کی اجازت نہیں ہوتی ، کمیشن مناسب آرڈر دے ، ممبر سندھ نثار درانی نے کہا کہ ہم خود ہی اڈیالہ جیل چلے جاتے ہیں ، جب ہم جائیں گے آپکو تمام سہولیات مل جائیں گی،وکیل شعیب شاہین نے کہا کہ ہمیں جلسے کی اجازت نہیں دی جا رہی، لیول پلینگ فیلڈ‌بھی نہیں دی جا رہی،تحریری طور پر بھی کمیشن کو آگاہ کیا ہے،

    فوادچوہدری کے وکیل نے مؤقف پیش کیا کہ سابق وفاقی وزیر جوڈیشل کسٹڈی میں ہیں،ممبر سندھ نثار درانی نے استفسار کیا کہ فوادچوہدری کس جیل میں ہیں؟فواد چوہدری کے وکیل نے کہا کہ وہ اڈیالہ جیل میں قید ہیں،ممبر سندھ نثار درانی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ٹھیک ہے اس پرآرڈرکردیتے ہیں، اسد عمر کی جانب سے کوئی بھی الیکشن کمیشن میں پیش نہیں ہوا۔صائمہ جنجوعہ نے بتایا کہ اسد عمرکے وکیل نےالتوا کی درخواست کی ہے، الیکشن کمیشن نے کیسز کی سماعت 6 دسمبرتک ملتوی کردی.

    فوج اور قوم کے درمیان خلیج پیدا کرنا ملک دشمن قوتوں کا ایجنڈا ہے،پرویز الہیٰ

    سپریم کورٹ نے دیا پی ٹی آئی کو جھٹکا،فواد چودھری کو بولنے سے بھی روک دیا

    بیانیہ پٹ گیا، عمران خان کا پول کھلنے والا ہے ،آئی ایم ایف ڈیل، انجام کیا ہو گا؟

    عمران خان معافی مانگنے جج زیبا چودھری کی عدالت پہنچ گئے

  • وزارت داخلہ اگر ایک شخص کو سیکیورٹی نہیں دے سکتا تو الیکشن کیسے  کرائیں گے؟الیکشن کمیشن

    وزارت داخلہ اگر ایک شخص کو سیکیورٹی نہیں دے سکتا تو الیکشن کیسے کرائیں گے؟الیکشن کمیشن

    اسلام آباد: چیف الیکشن کمشنر اور الیکشن کمیشن کے خلاف توہین آمیز ریمارکس کا معاملہ،فواد چوہدری اور اسد عمر اپنے وکلا کے ہمراہ الیکشن کمیشن پہنچ گیے

    الیکشن کمیشن میں پی ٹی آئی چیئرمین ، اسد عمر اور فواد چوہدری توہین الیکشن کمیشن کا کیس،نثار درانی کی سربراہی میں چار رکنی بنچ نے کیس کی سماعت کی ،پی ٹی آئی چیئرمین کے وکیل شعیب شاہین الیکشن کمیشن میں پیش ہوئے،فواد چوہدری اور اسد عمر الیکشن کمیشن میں پیش ہوئے، وکیل پی ٹی آئی نے کہا کہ آج الیکشن کمیشن کی اصل توہین ہوئی ہے،اے آئی جی آپریشن پنجاب نے کہا کہ پی ٹی آئی چیئرمین کی زندگی کو خطرات لاحق ہیں وہ خود بھی اظہار کر چکے ہیں، ممبر سندھ نثار درانی نے کہا کہ پی ٹی آئی چیئرمین جو کہتے آپ کو یقین ہے صحیح کررہے ہیں،

    اے آئی جی آپریشن نے پی ٹی آئی چیئرمین سے متعلق رپورٹ الیکشن کمیشن میں جمع کرادی، وزارت داخلہ نے تجویز دی کہ الیکشن کمیشن اڈیالہ جیل جا کر کیس کی سماعت کرے،جس پر الیکشن کمیشن نے سیکرٹری وزارت داخلہ کو طلب کرلیا،الیکشن کمیشن نے کہا کہ وزارت داخلہ اگر ایک شخص کو سیکیورٹی نہیں دے سکتا تو الیکشن کیسے کرائیں گے؟ وزارت داخلہ کیسے ہمیں حکم دے سکتا ہے

    اے آئی پنجاب آپریشن نے کہا کہ پنڈی گنجان آبادی پر مشتمل ہے خطرات سے خالی نہیں،عمران خان اور عام آدمی میں بہت فرق ہے الیکشن کمیشن نے کہا کہ پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان سے آپ لکھوا کے لے آئیں کہ میں معذرت کرتا ہوں

    الیکشن کمیشن نے چیئرمین پی ٹی آئی کے 24اکتوبر کے لیے پروڈکشن آرڈر جاری کررکھے ہیں ،الیکشن کمیشن نے فواد چوہدری کو بھی 24 اکتوبر کو پیش ہونے کا حکم دیا تھا

    فوج اور قوم کے درمیان خلیج پیدا کرنا ملک دشمن قوتوں کا ایجنڈا ہے،پرویز الہیٰ

    سپریم کورٹ نے دیا پی ٹی آئی کو جھٹکا،فواد چودھری کو بولنے سے بھی روک دیا

    بیانیہ پٹ گیا، عمران خان کا پول کھلنے والا ہے ،آئی ایم ایف ڈیل، انجام کیا ہو گا؟

    عمران خان معافی مانگنے جج زیبا چودھری کی عدالت پہنچ گئے

  • توہین الیکشن کمیشن کیس، ہم چیئرمین پی ٹی آئی پر فردجرم عائد کردیں گے،الیکشن کمیشن

    توہین الیکشن کمیشن کیس، ہم چیئرمین پی ٹی آئی پر فردجرم عائد کردیں گے،الیکشن کمیشن

    چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کے خلاف توہین الیکشن کمیشن اور چیف الیکشن کمشنر کیس کی سماعت ہوئی

    وکیل عمران خان نے کہا کہ چیئرمین پی ٹی آئی جیل میں ہیں پروڈکشن آرڈر جاری کریں تاکہ وہ پیش ہوں،ممبر الیکشن کمیشن نے کہا کہ ہم چیئرمین پی ٹی آئی پر فردجرم عائد کردیں گے دفاع میں جو پیش کرنا چاییں آپ کی مرضی ہے،ممبر نثار درانی نے کہا کہ چیئرمین پی ٹی آئی پہلے الیکشن کمیشن آتے نہیں تھے اب کہا جارہا کہ جیل سے پیش کرنے کا حکم دیں، ممبرالیکشن کمیشن اکرام اللہ نے کہا کہ آپ یہ تو نہیں چاہتے کہ الیکشن کمیشن ان کے پاس چلا جائے؟چیئرمین پی ٹی آئی کے خلاف توہین الیکشن کمیشن کیس کی سماعت 24 اکتوبر تک ملتوی کر دی گئی

    دوسری جانب توہین الیکشن کمیشن کیس ،فواد چوہدری کے وکیل الیکشن کمیشن میں پیش ہوئے اور کہا کہ فواد چوہدری بیمار ہیں اس لیے نہیں آئے، ممبر اکرام اللہ نے کہا کہ آپ نے رویہ اپنا لیا ہے کہ یہاں پیش نہیں ہوتے،ممبر نثار درانی نے کہا کہ اس پر ہم مناسب آرڈر جاری کرینگے ،اسد عمر الیکشن کمیشن میں پیش ہوئے، ممبر نثار درانی نے کہا کہ آپ کے وکیل انور منصور تو یہاں پر پیش نہیں ہوتے، اسد عمر نے کہا کہ میں آج یہاں خود پیش ہوا ہوں،سماعت چوبیس اکتوبر تک ملتوی کردیں، اس وقت فواد چوہدری کی طبیعت بھی بہتر ہوجائے گی،ممبر نثار درانی نے کہا کہ چوبیس اکتوبر تک فواد چوہدری کی طبیعت ٹھیک ہو جائے گی ،اس بہانے آپ کی ان سے ملاقات بھی ہوجائے گی،اسد عمر اور فواد چوہدری کیس کی سماعت چوبیس اکتوبر تک ملتوی کر دی گئی،

    فوج اور قوم کے درمیان خلیج پیدا کرنا ملک دشمن قوتوں کا ایجنڈا ہے،پرویز الہیٰ

    سپریم کورٹ نے دیا پی ٹی آئی کو جھٹکا،فواد چودھری کو بولنے سے بھی روک دیا

    بیانیہ پٹ گیا، عمران خان کا پول کھلنے والا ہے ،آئی ایم ایف ڈیل، انجام کیا ہو گا؟

    عمران خان معافی مانگنے جج زیبا چودھری کی عدالت پہنچ گئے

    الیکشن کمیشن پیشی کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے اسد عمر کا کہنا تھا کہ چیئرمین پی ٹی آئی کے پروڈکشن آرڈرجاری ابھی نہیں ہوئے، جس طرح ہمیں بلایا جاتا ہے ویسے چیئرمین پی ٹی آئی کوبھی موقع ملنا چاہیے،چیئرمین پی ٹی آئی کویہاں بلائیں تاکہ وہ بھی اپنا نقطہ نظرپیش کریں ،