Baaghi TV

Tag: توہین عدالت

  • ملک کا نظام عدالتوں ،پارلیمنٹ کے ہاتھ سے نکل کر کہیں اور جا چکا،عدالت

    ملک کا نظام عدالتوں ،پارلیمنٹ کے ہاتھ سے نکل کر کہیں اور جا چکا،عدالت

    عدالتی حکم کے باوجود عمران خان سے ملاقات کی اجازت نہ دینے پر توہین عدالت کیس کی سماعت ہوئی،

    راولپنڈی پولیس کے حکام اور درخواست گزار علی اعجاز بٹر اسلام آباد ہائی کورٹ پہنچ گئے ۔ راولپنڈی پولیس کے آر پی او اور جیل سپرنٹینڈنٹ عدالت میں پیش ہوئے،ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے کہا کہ عدالتی حکم کے باوجود بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نا کرانے پر توہین عدالت کیس،غیر مشروط معافی چاہتے ہیں ، سپریڈنٹ اڈیالہ جیل کی جانب سے بیان حلفی عدالت میں پیش کر دیا گیا ،سپریڈنٹ اڈیالہ جیل عبد الغفور انجم عدالت کے سامنے پیش ہوئے،ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے کہا کہ عدالتی حکم کے حوالے سے پولیس کو آگاہ نہیں کیا گیا تھا ، ہم سوچ بھی نہیں عدالتی احکامات کی خلاف ورزی کریں ، عدالت نے کہا کہ ان کے بیان حلفی کے مطابق دو بجے وہ اڈیالہ جیل کے گیٹ پر تھے چار بجے تک وہ موجود رہے ،جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان نے کہا کہ بچے بچے کو معلوم تھا کورٹ نے آرڈر کیا تھا آپ کہہ رہے ہیں ہمیں یہ آرڈر معلوم ہی نہیں ،ریجنل پولیس افسر راولپنڈی اور سپریٹنڈنٹ اڈیالہ جیل بتا دیں کہ آپکو پی ٹی آئی رہنماؤں کی عمران خان سے ملاقات روکنے کا کس نے کہا تھا تو کارروائی آپکے نہیں بلکہ اُن کے خلاف کروں گا ورنہ مجھے آپکے خلاف کارروائی کرنی پڑے گی،

    شعیب شاہین نے کہا کہ ہم گیٹ کے اندر موجود تھے اس کی ویڈیوز موجود ہیں ،اپوزیشن لیڈر کو گھسیٹتے ہوئے لیکر جاتے ہیں ،کوئی اور بندے نہیں تھے وہ صرف 5 بندے ہی موجود تھے

    عدالتی احکامات کے باوجود اڈیالہ جیل جانے سے روکنے کی عمر ایوب کی درخواست پر سماعت کے دوران شعیب شاہین نے کہا کہ عدالتی احکامات کے باوجود چار چار گھنٹے مجھے اڈیالہ جیل کے گیٹ پر بیٹھایا جاتا ہے ، جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان نے کہا کہ شعیب صاحب غصہ ان پر نکال رہے ہیں غصہ کسی اور پر نکالیں ،

    عدالتی حکم کے باوجود عمران خان سے ملاقات کی اجازت نہ دینے پر توہین عدالت کیس کی سماعت ،عدالت نے سپریڈنٹ اڈیالہ جیل اور آر پی او راولپنڈی کی غیر مشروط معافی منظور کر لی،اسلام آباد ہائیکورٹ نے توہین عدالت کی کاروائی شروع نا کرنے کا فیصلہ کر لیا،اسلام آباد ہائیکورٹ نے آر پی او راولپنڈی اور سپریٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کی معافی قبول کر لی عدالت نے کہا کہ آپکو یہ آخری بار موقع دیا جا رہا ہے،عدالت نے ہدایات کے ساتھ توہین عدالت کی درخواست نمٹا دی

    شعیب شاہین نے کہا کہ ہمارے ملک کا نظام ہی ایسا ہے ، جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان نے کہا کہ شعیب صاحب ملک کا نظام ایک یا دو عدالتوں سے ٹھیک نہیں ہو گا،آپ کے ملک کا نظام عدالتوں کے ہاتھ سے نکل کر پارلیمنٹ کے ہاتھ سے نکل کر کہیں اور جا چکا ہے ،

    بشری بی بی کے شریعت ختم کرنے کےالزام،جنرل باجوہ کا ردعمل

    بشری بی بی کا شریعت ختم کرنے کا الزام، دوست اسلامی ملک پر خودکش حملہ ہے،عظمیٰ بخاری

    24 نومبر حتمی ، سب نکلیں،بشری بی بی کا برقع میں خطاب

    بشریٰ کے پاس پارٹی عہدہ نہیں، بیرسٹر سیف،بیان قابل مذمت ہے،اسحاق ڈار

  • سپریم کورٹ،اراکین الیکشن کمیشن کیخلاف توہین عدالت درخواست دائر

    سپریم کورٹ،اراکین الیکشن کمیشن کیخلاف توہین عدالت درخواست دائر

    سپریم کورٹ ،الیکشن کمیشن کے تمام اراکین کمیشن کیخلاف توہینِ عدالت کی درخواست سپریم کورٹ میں دائر کر دی گئی

    سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ بارہ جولائی کو مخصوص نسشتوں متعلق فل کورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد نہ کرنے پر توہین عدالت کی کارروائی کی جائے،سپریم کورٹ میں درخواست پی ٹی آئی رہنما کنول شوذب کی جانب سے دائر کی گئی،مخصوص نشستوں کے کیس میں توہین عدالت کی درخواست سلمان اکرم راجہ نے دائر کی درخواست میں الیکشن کمیشن کے ممبران کو فریق بنایا گیا.درخواست میں کہا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن کو فوری فیصلے پر عملدرآمد کا حکم دیا جائے، کمیشن ممبران کیخلاف توہین عدالت کی کارروائی کی جائے،

    مخصوص نشستیں،سپیکر کے خط کے بعد الیکشن کمیشن نے کی رائے طلب

    مخصوص نشستوں کا فیصلہ،سلمان اکرم راجا نے ججز کی سہولتکاری بے نقاب کر دی

    الیکشن کمیشن جلد از جلد مخصوص نشستوں کا اعلان کرے،بیرسٹر گوہر

    سپریم کورٹ، مخصوص نشستوں کے کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری

    اکثریتی ججز کی وضاحت، چیف جسٹس کا بڑا فیصلہ،جواب مانگ لیا

    آئینی ترامیم، اسپیکر قومی اسمبلی کی حکومت و اپوزیشن کو مصالحت کی پیشکش

    سپریم کورٹ فیصلے پر عمل کیا جائے،اسپیکر کے پی اسمبلی کا خط

    قومی اسمبلی،تحریک انصاف کا ایک بھی رکن نہیں،پارٹی پوزیشن جاری

  • پیسے پکڑ کر ججز کو گالیاں اور ان کے خلاف پراپیگنڈہ کیا جاتا ہے،چیف جسٹس

    پیسے پکڑ کر ججز کو گالیاں اور ان کے خلاف پراپیگنڈہ کیا جاتا ہے،چیف جسٹس

    سپریم کورٹ، مارگلہ ہلز نیشنل پارک اور چئیرمن وائلڈ لائف بورڈ سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسی نےسیکرٹری کابینہ کامران علی افضل پر شدید برہمی کا اظہار کیا اور کہا کہ کیوں نہ آپ پر فرد جرم عائد کریں، سچ بتائیں چئیرمن وائلڈ لائف بورڈ کے نوٹی فیکیشن کے پیچھے کون ہے؟ کس کے کہنے پر نوٹی فیکیشن جاری ہوا، سیکرٹری کابینہ نے کہا کہ میرے علم میں نہیں،چئیرمن وائلڈ لائف کی تبدیلی کے احکامات وزیر اعظم نے جاری کئے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ سیکرٹری کابینہ نے الزام وزیر اعظم پر لگا دیا ہے، سیکرٹری کابینہ نے بھائی کو بچانے کیلئے الزام وزیر اعظم پر عائد کردیا ہے،سیکرٹری کابینہ نے وزیر اعظم کو بس کے نیچے دھکا دیدیا ہے، مارگلہ ہلز سے متعلق حکم کے بعد سپریم کورٹ کیخلاف پروپیگنڈہ شروع ہوگیا، فریقین کی رضامندی سے حکم جاری ہوا پھر پروپیگنڈہ کون کر رہا ہے، آپ کے بھائی لقمان علی افضل کدھر ہیں، سیکرٹری کابینہ نے کہا کہ نہیں معلوم وہ کدھر ہیں،

    2018 میں بھی مارگلہ ہلز کا کیس چلا،لوگوں کے لمبے ہاتھوں کی وجہ سے پھر یہ کیس دبا دیا گیا،چیف جسٹس
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیی نے کہا کہ پروپیگنڈہ وار سپریم کورٹ کیخلاف کیوں چل رہی ہے، اسلام آباد میں کئی جگہوں پر ہاوسنگ سوسائٹی کےاشتہارات لگے ہیں،وکیل نجی ہاؤسنگ نے کہا کہ ہماری سوسائٹی خیبر پختونخوا میں ہے،ہماری سوسائٹی کے درجنوں اشتہارات اسلام آباد میں لگے ہیں، سی ڈی اے کے افسر نے رابطہ کرکے سوسائٹی کے مالک سے سپانسر مانگا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ سی ڈی اے کے کس افسر نے رابطہ کیا،وکیل نے کہا کہ یہ مجھے نہیں معلوم ،چیف جسٹس قاضی فائز عیسٰیٰ نے کہا کہ مارگلہ ہلز میں آپ سوسائیٹی کیسے بنا رہے ہیں،وکیل نے کہا کہ میرے موکل کی اپنی ملکیتی اراضی ہے اس پر منصوبہ شروع کیا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ملکیتی دستاویزات کدھر ہے،وکیل نے کہا کہ ملکیتی دستاویزات میرے موکل کے پاس ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ شاہ صاحب اپنے موکل کو بلالیں،2018 میں بھی مارگلہ ہلز کا کیس چلا،لوگوں کے لمبے ہاتھوں کی وجہ سے پھر یہ کیس دبا دیا گیا،مارگلہ ہلز کے معاملہ پر وزارت داخلہ وزارت کابینہ وزارت موسمیاتی تبدیلی اور سی ڈی اے ملوث ہیں،

    آپ کے موکل نے اپنے ایڈریس میں جی ایچ کیو کیوں لکھا،تاثر دے رہا کہ ہاوسنگ منصوبہ فوج کا ہے،چیف جسٹس
    وکیل شاہ خاور نے کہا کہ میرا موکل ڈیڑھ گھنٹے میں سپریم کورٹ میں پہنچ جائینگے،میرا موکل صوابی سے نکل آیا ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ کے موکل کا نام کیا ہے، وکیل نے کہا کہ میرے موکل کا نام صدیق انور ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ موکل کا پورا نام بتائیں، وکیل نے کہا کہ موکل کا پورا نام کیپٹن صدیق انور ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کیا آپ کے موکل کو بھی توہین عدالت کو نوٹس جاری کریں،آپ کے موکل نے اپنے ایڈریس میں جی ایچ کیو کیوں لکھا،آپ کے موکل نے نام کیساتھ ریٹائرڈ بھی نہیں لکھا،کیا آپ کا موکل تاثر دے رہا ہے کہ ہاوسنگ منصوبہ فوج کا ہے،اس ملک میں ہر ایک کا اپنا ایجنڈا ہے،ساری حکومت آج عدالت میں کھڑی ہے لیکن معلوم کچھ نہیں، اٹارنی جنرل نے کہا کہ نیشنل پارک کو مجموعی طور پر بچانا ہے، خوبصورتی ساری مارگلہ ہلز کی ہے،

    ملک اب لینڈ مافیا کے حوالے ہے، چیف جسٹس
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ملک اب لینڈ مافیا کے حوالے ہے، سپریم کورٹ پر سب سے پہلے ہم نے انگلی اٹھائی،10,10 سال سے خلاف قانون بیٹھنے والوں کو واپس بھیجا، ڈیپوٹیشن والوں کو واپس کرنے پر بھی شور مچا،کہا گیا کہ چیف جسٹس نے یہ کردیا وہ کردیا،ذاتی حملہ کرا لو، گالی گلوچ کرا لو بس،میں آزادی اظہار رائے ہر یقین رکھتا ہوں،آج تک کسی کے خلاف کارروائی نہیں کی،سیکریٹری کابینہ نے سچ نہ بولا تو نتائج بھگتیں گے، زندگی میں کبھی ایک پلاٹ نہیں لیا جو خریدا اپنی کمائی سے خریدا،ایک کیمرہ پکڑو اور ہوگیا یوٹیوب چینل شروع،ہر بندہ یہاں ایک ایجنڈے پر چل رہا ہے،چیف جسٹس کو جان سے مارنے کی دھمکیاں دینی ہوں تو آزادی اظہار رائے آجاتی ہے،ہمارے پاس کوئی میڈیا ٹیم نہیں جو دفاع کر سکے،

    عوام کے190ملین پاؤنڈزکسی اورکو دے دیئے گئے،ایک توچوری پھرحکومت بھی اس چوری پرپردہ ڈال دیتی ہے،چیف جسٹس
    چیف جسٹس قاضی فائزعیسی کی طر ف سے 190 ملین پاؤنڈزکیس کا تذکرہ بھی کیا گیا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ عوام کے190ملین پاؤنڈزکسی اورکو دے دیئے گئے،ایک توچوری کروپھرحکومت بھی اس چوری پرپردہ ڈال دیتی ہے،ان 190 ملین پاؤنڈزوالوں سے کوئی کیوں نہیں پوچھتا،اس وقت کی حکومت نےبرطانیہ سے ملنے والے پیسے طاقتورشخص کو دے دیئے،برطانوی حکومت نےپیسے واپس بھجوائے مگراسی چوری کرنے والے شخص کوواپس کردیئے گئے،شکرہے کہ بیرون ممالک کی ایسی ایجنسیاں ہیں جوفعال ہیں،ججزکوگالیاں دینے کیلئے کرایہ کے بندے رکھ لیتے ہیں،اگرہمت ہے توہمارے سامنے آکربولیں ہم جواب دیں گے

    پلاننگ اور ہاؤسنگ کا وزارت داخلہ سے کیا تعلق ہے،ایسا ہی ہے توپارلیمنٹ بند کر دیں، چیف جسٹس
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اٹارنی جنرل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ وائلڈ لائف بورڈ کو وزاردت داخلہ کے ماتحت کیوں کیا گیا،اٹارنی جنرل نے کہا کہ وزارت داخلہ کی جانب سے وزیر اعظم ہاؤس کو درخواست آئی کہ وائلڈ لائف بورڈ کو وزارت داخلہ کے ماتحت کردیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ یہ تصوراتی بات لگتی ہے وزارت ہاؤسنگ سی ڈی اے کے ماتحت ہے یہ بات سمجھ بھی آتی ہے،پلاننگ اور ہاؤسنگ کا وزارت داخلہ سے کیا تعلق ہے،ہم تو کہہ رہے ہیں سی ڈی اے کو بھی وزارت داخلہ سے نکال دیں،اگر ایسی بات ہے تو وزارت تعلیم کو وزارت ریلویز میں ڈال دیں،کیوں نہ وزارت داخلہ کو نوٹس کریں سارا گند ہی ختم ہو جائے گا،پارلیمان کس لیے ہوتا ہے پارلیمان میں ایسے موضوعات پر بحث کیوں نہیں ہوتی،اگر ایسا ہے تو پارلیمنٹ کو بند کردیں ،اٹارنی جنرل نے کہا کہ یہ معاملہ پارلیمنٹ کا نہیں آرٹیکل 99 کے تحت رولز آف بزنس بنتے ہیں جس سے معاملات چلائے جاتے ہیں،

    جرمنی ،فرانس،امریکہ،بھارت سمیت کہیں بھی ایسا نہیں ہوتا جیسا پاکستان میں ہو رہا ،چیف جسٹس
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ وزیراعظم پارلیمنٹ میں کھڑے ہو کر بات تو کر سکتے ہیں،کوئی طاقتور آیا ہو گا اور اس نے کہا ہو گا سی ڈی اے کو میری وزارت داخلہ کے ماتحت کردیں پلاٹس وغیرہ کے بھی معاملات ہوتے ہیں، ،جسٹس نعیم اختر افغان نے چیئرمین سی ڈی اے سے استفسار کیا کہ آپ کی کیا رائے ہے،کیا سی ڈی اے کو وزارت داخلہ کے ماتحت رہنا چاہیے،چیئرمین سی ڈی اے نے کہا کہ سی ڈی اے کو وزارت داخلہ سے عملدرآمد کرنے کیلئےپاور مل جاتی ہے،پولیس اور انتظامیہ بھی وزارت داخلہ کے ماتحت ہے،چیف جسٹس قاضی فائزعیسیٰ نے چیئرمین سی ڈی اے سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ کیا آپ کی طبعیت ٹھیک ہے،آپ اتنے اہل نہیں ہیں کہ اپنے فیصلوں پر عملدرآمد کروا سکیں ،اگر ایسی بات ہے تو ایف بی آر کو بھی وزارت داخلہ کے ماتحت کردیں،پھر ٹیکس نہ دینے والوں کو پولیس پکڑ لے گی،جرمنی ،فرانس،امریکہ،بھارت سمیت کہیں بھی ایسا نہیں ہوتا جیسا پاکستان میں ہو رہا ہے،اٹارنی جنرل نے کہا کہ رولز آف بزنس کے تحت فیڈرل گورنمنٹ ڈویژنز کو وقت کے ساتھ ساتھ تبدیل کرتی رہتی ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اٹارنی جنرل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ کیا وزارت داخلہ وزیر اعظم آفس سے بھی زیادہ طاقتور ہے،

    سیکرٹری کابینہ نے وزیر اعظم پر الزام لگایا، بیان واپس نہ لیا یا بات سچ نہ ہوئی تو نتائج بھگتنا ہونگے،چیف جسٹس
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ سیکرٹری کابینہ نے وزیر اعظم پر الزام لگایا،سیکرٹری کابینہ نے بیان واپس نہ لیا یا بات سچ نہ ہوئی تو نتائج بھگتنا ہونگے،طاقتور شخصیات نے اپنی مرضی سے کام کروائے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ اسلام آباد کی سب سے قیمتی جگہ کونسی ہے،اٹارنی جنرل نے کہا کہ قیمتی جگہ شاید ون کانسٹیٹیوشن ایونیو ہوگی،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ بلڈنگ کی بات نہیں کر رہے جگہ کا پوچھ رہا ہوں،اسلام آباد میں سب سے مہنگی جگہ ای سیکٹر ہے،آپکو پتا ہے ای سیکٹر کس نے بنوایا تھا،اٹارنی جنرل نے کہا کہ مجھے اس بارے علم نہیں،وکیل عمر گیلانی نے کہا کہ اسلام آباد کا ای سیکٹر ضیا الحق کے دور میں بنوایا گیا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ جی بالکل ضیا الحق کے حکم پر ای سیکٹر بنایا گیا، مارگلہ ہلز کے سامنے ہونے کی وجہ سے ای سیکٹر سب سے مہنگا ہے،چاوپر سے حکم آیا ضیا الحق کا تو کسی نے آگے سے اعتراض نہیں کیا ہوگا،

    لقمان افضل عدالت نہیں آئے؟ کسی یوٹیوب کو انٹرویو دے رہے ہوں گے،چیف جسٹس
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ہم نے مارگلہ میں کمرشل سرگرمیاں روکنے کا کہا نوٹیفکیشن نکلنے لگے، یہاں کہا جاتا ہے مارگلہ میں پودے لگا رہے ہیں،کوئی آدھے دماغ والا آدمی بھی ایسی بات نہیں بولے گا، جنگل میں پودوں کی افزائش خود ہوا کرتی ہے، چیف جسٹس نےضیا دور میں پولن کا باعث بننے والے درختوں کی شجرکاری کا بھی حوالہ دیا اور کہا کہ چار دہائی پہلے ایک صاحب آئے اور پیپر میلبری لگاتے رہے، کسی ایکسپرٹ سے پوچھا بھی نہیں کیا ہو گا،مونال کے مالک نے سپریم کورٹ کیخلاف پراپیگنڈا شروع کر دیا، کہتے ہیں ملازمین بے روزگار ہو جائیں گے،اپنے کسی اور ریستوران میں انہیں ملازمت دے دیں،لقمان افضل عدالت نہیں آئے؟ کسی یوٹیوب کو انٹرویو دے رہے ہوں گے،

    سات ہزار کی تنخواہ پر آپ نے 35 کروڑ کی زمین کیسے خریدی؟چیف جسٹس کا پائن سٹی کے مالک سے استفسار
    ڈی جی گلیات اور پائن سٹی کے مالک کیپٹن رصدیق انور پیش ہو گئے ، ڈی جی گلیات نے عدالت میں کہا کہ ہم نے پائن سٹی کوتعمیرات سے روکا یہ اسٹے لے آئے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے صدیق انور سے استفسار کیا کہ آپ وہاں کیاں بنانا چاہتے ہیں؟ کیپٹن ر صدیق انور نے کہا کہ مجھے معاف کر دیں میں کچھ نہیں بناؤں گا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ کیا اب بھی فوج میں ہیں؟ نام کیساتھ ریٹائرڈ کیوں نہیں لکھا؟ کیپٹن ر صدیق انور نے کہا کہ میں 1999 میں ریٹائرڈ ہو گیا تھا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ پائن سٹی کے ساتھ آپکا ایڈریس جی ایچ کیو کا کیوں ہے؟ کیپٹن ر صدیق انور نے کہا کہ جب یہ رجسٹرڈ کروایا تب ایڈریس یہی تھا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کیا آپ سروس میں ہوتے ہوئے بزنس کر سکتے تھے؟جب آپ ریٹائرڈ ہوئے آپ کی تنخواہ کیا تھی؟ کیپٹن ر صدیق انور نے کہا کہ اس وقت کم تنخواہیں تھیں میری سات ہزار روپے تھی، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ سات ہزار کی تنخواہ پر آپ نے 35 کروڑ کی زمین کیسے خریدی؟ کیپٹن ر صدیق انور نے کہا کہ میں نے گاؤں کی زمین بیچی تھی، میں نے پھر یہ زمین نواب آف خان پور سے خریدی، مارگلہ پہاڑ بھی نواب آف خان پور کے تھے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کیایہ اللہ کے نہیں؟ کیپٹن ر صدیق انور نے کہاکہ اللہ نے ہی انہیں دیئے تھے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ فوجی ہیں کس طرح کی بات کر رہے ہیں؟آپ مارگلہ کو تباہ کر رہے ہیں، کیپٹن ر صدیق انور نے کہا کہ میں تو مارگلہ کو بنا رہا ہوں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ بنا قدرت نے دیا ہے آپ اسے چھوڑ دیں، کیپٹن ر صدیق انور نے کہا کہ چھوڑ دیتا ہوں، میں صرف نیچر ایڈونچر پارک بنانا چاہتا تھا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ پائن سٹی نام سے تو لگتا ہے یہ رہائشی منصوبہ ہے، کیپٹن ر صدیق انور نے کہا کہ میں نے اس نام سے نقصان اٹھایا ہے سوچتا ہوں نام بدل دوں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ نام نہیں کام ہی بدل دیں، یہاں تعمیرات نہیں ہو سکتیں، کیپٹن ر صدیق انور نے کہا کہ میں نے وہاں نئے درخت بھی لگائے ہیں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ وہ آپ کا صدقہ جاریہ رہے گا ثواب آپ کو ملے گا،نیشنل پارک میں تعمیرات نہیں ہو سکتیں ہمارا فیصلہ ہے، کیپٹن ر صدیق انور نے کہا کہ میں نیشنل پارک میں نہیں ہوں یہ میری ملکیتی زمین ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ ملکیت رکھیں مگر اس پر تعمیرات نہیں کر سکتے، خاور شاہ ایڈوکیٹ نے کہا کہ اپنی زمین پر قانونی کاروبار ہو سکتا ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ کا اپنا پلاٹ بھی ہو سی ڈی اے باونڈری وال کے اندر ایک حد تک آپ کو تعمیرات نہیں کرنے دیتا،

    محسن نقوی کو بڑا جھٹکا،وائلڈ لائف کوموسمیاتی تبدیلی سے وزارت داخلہ کے سپرد کرنے کا نوٹیفکیشن واپس
    سپریم کورٹ نے سیکرٹری کابینہ اور سیکرٹری موسمیاتی تبدیلی کیخلاف توہین عدالت کی کارروائی ختم کردی، اٹارنی جنرل کو تحریری جواب جمع کرانے کی ہدایت کر دی حکومت نے وائلڈ لائف منیجمنٹ بورڈ کو موسمیاتی تبدیلی کی وزارت سے وزارت داخلہ کے سپرد کرنے کا نوٹیفکیشن واپس لے لیا،عدالت نے کہا کہ مونال ریسٹورنٹ کے مالک لقمان علی افضل نے سپریم کورٹ کیخلاف مہم چلائی کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے ذریعے ملازمین بے روزگار ہو گئے، بادی النظر میں لقمان علی افضل کا عدلیہ مخالف مہم چلانا توہین عدالت ہے، لقمان علی افضل کو توہین عدالت کا نوٹس جاری کر دیا گیا،

    مونال کے مالک لقمان علی افضل کو توہین عدالت کا نوٹس جاری

    سپریم کورٹ، مونال ریسٹورینٹ توہین عدالت کیس میں چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے اہم ریمارکس سامنے آئے ہیں،سپریم کورٹ کے مقدمات کو کور کرنے والی خاتون صحافی مریم نواز خان نے ایکس پر چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے ریمارکس پوسٹ کئے ہیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ 190 ملین پاونڈز عوام کا چوری ہو جائے کوئی خبر نہیں چلتی مگر پیسے پکڑ کر ججز کو گالیاں دینے اور ان کے خلاف پراپیگنڈہ کیا جاتا ہے،

    موبائل پکڑو اور ہو گیا یوٹیوب چینل شروع،ہمارے پاس کوئی میڈیا ٹیم نہیں ہے جو ہمارا دفاع کر سکے،چیف جسٹس
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسی نے مونال ریسٹورنٹ توہین عدالت کیس میں 190 ملین پاونڈز اور ملک ریاض کا نام لیے بغیر تذکرہ کیا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسی نے کہا 190 ملین پاونڈ حکومت اسی شخص کو دے دے جس نے لوٹے تو کوئی خبر نہیں چلتی لیکن پیسے دے کر اخبارات خرید کر پراپیگنڈہ کیا جا رہا ہے، آج کل بس موبائل پکڑو اور ہو گیا یوٹیوب چینل شروع،ہمارے پاس کوئی میڈیا ٹیم نہیں ہے جو ہمارا دفاع کر سکے ، دس دس سال سے بیٹھے ڈیپوٹیشن پر ملازمین کو واپس بھیجا تو یہ دو نمبر کے لوگ کہتے ہیں چیف جسٹس نے پتا نہیں کیا کر دیا ،

    چیف جسٹس کو جان سے مارنے کی دھمکیاں دینی ہوں تو آزادی اظہار رائے آجاتی ہے،چیف جسٹس
    مونال ریسٹورنٹ توہین عدالت کیس میں چیف جسٹس قاضی فائز عیسی نے کہاایک کیمرہ پکڑو اور ہوگیا یوٹیوب چینل شروع،ہر بندہ یہاں ایک ایجنڈے پر چل رہا ہے،چیف جسٹس کو جان سے مارنے کی دھمکیاں دینی ہوں تو آزادی اظہار رائے آجاتی ہے،زندگی میں کبھی ایک پلاٹ نہیں لیا جو خریدا اپنی کمائی سے خریدا،

    واضح رہے کہ سپریم کورٹ کے حکم پر اسلام آباد میں مارگلہ کی پہاڑیوں پر واقع ہوٹل مونال 11 ستمبر 2024 کو بند ہونے جا رہا ہے، ہوٹل انتظامیہ نے باقاعدہ اعلان کر دیا،مونال انتظامیہ کی جانب سے کہا گیا ہے کہ ہم 11 ستمبر 2024 سے مونال کو بند کر رہے ہیں،سپریم کورٹ کے حکم پر مونال کو بند کیا جا رہا ہے،مونال انتظامیہ نے ریسٹورنٹ کوبند کرنے کا اعلان کرتے ہوئے اپنے تمام چاہنے والوں کا شکریہ ادا کیا ہے،مونال انتظامیہ کا کہنا تھا کہ آپ کے اعتماد کے لیے اور ہمیں اپنی بہترین صلاحیتوں کے مطابق آپ کی خدمت کرنے کا موقع فراہم کرنے، ہمیں پہچان، تعریف اور آپ کے دل میں جگہ دینے کے لیے آپ کا بہت شکریہ،2006 کے بعد سے مونال کے لیے پاکستان اور اس کے خوبصورت لوگوں کی ایک مثبت انداز میں خدمت اور نمائش کرنا بے حد خوشی کی بات ہے، یہ سفر ہم سے وابستہ ٹیم کے لیے کامیابی کی کہانیوں اور جذبات سے بھرا ہوا تھا لیکن اب الوداع کہنے کا وقت ہے، جوکہ واقعی بہت مشکل ہے۔

    مونال ریسٹورینٹ سیل کرنے کا اسلام آباد ہائیکورٹ کا حکم معطل

    مونال ریسٹورنٹ کو کھولنے کی استدعا سپریم کورٹ نے کی مسترد

    مونال ریسٹورنٹ کو سیل کھولنے کی استدعا پر سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ

    مونال کی بندش کیخلاف انٹراکورٹ اپیل،کیا پھر دارالحکومت کو پنجاب کے حوالے کر دیں؟ عدالت

    مارگلہ کے پہاڑوں پر قبضہ،درختوں کی کٹائی جاری ،ادارے بنے خاموش تماشائی

    سپریم کورٹ کا مارگلہ ہلز میں مونال ریسٹورنٹ کے حوالہ سے بڑا حکم

    مارگلہ ہلز ، درختوں کی غیرقانونی کٹائی ،وزارت موسمیاتی تبدیلی کا بھی ایکشن

    مارگلہ ہلز،درختوں کی کٹائی پرتحقیقاتی کمیٹی قائم،پاک فوج بھی کمیٹی کا حصہ

  • اظہر مشوانی کے بھائیوں کی بازیابی کیس،توہین عدالت کی کاروائی کا عندیہ

    اظہر مشوانی کے بھائیوں کی بازیابی کیس،توہین عدالت کی کاروائی کا عندیہ

    اسلام آباد ہائیکورٹ: اظہر مشوانی کے دو لاپتہ بھائیوں کی بازیابی کیلئے دائر درخواست پر سماعت ہوئی

    جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے اظہر مشوانی کے والد کی درخواست پر سماعت کی،اظہر مشوانی کے بھائی پروفیسر مظہر الحسن اور پروفیسر ظہور الحسن چھ جون سے لاپتہ ہیں ،دونوں لاپتہ بھائیوں کے والد کی طرف سے وکیل بابر اعوان عدالت کے سامنے پیش ہوئے. اسسٹنٹ اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ وزارت دفاع اور وزارت داخلہ کی رپورٹ پہلے ہی فائل ہو چکی ،

    عدالت نے سیکریٹری دفاع ، سیکرٹری داخلہ ، آئی جی اسلام آباد کوذاتی حیثیت میں طلب کر لیا،ڈی جی ایف آئی اے کو بھی عدالت نے ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا، عدالت میں جمع کروائی گئی سیکورٹی اداروں کی رپورٹ میں کہا گیا کہ دونوں بھائیوں کے حوالے سے کچھ معلوم نہیں ،

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب برہم ہو گئےاور ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اب میں تمام فریقین کے خلاف توہین عدالت کی کاروائی شروع کروں گا ،عدالت نے کیس کی سماعت 15 اگست تک ملتوی کر دی،

    اظہر مشوانی کے بھائیوں کی عدم بازیابی ، ہائیکورٹ نے توہین عدالت کی کاروائی شروع کرنے کا فیصلہ کر لیا،عدالت نے سیکرٹری دفاع ، داخلہ ، آئی جی اسلام آباد ، ڈی جی ایف آئی اے 15 اگست کو طلب کر لیا، عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جواب دیں کیوں نا توہین عدالت کی کاروائی شروع کی جائے ،

  • پولیس افسران کو توہین عدالت کے شوکاز نوٹسز کے خلاف انٹرا کورٹ اپیل خارج

    پولیس افسران کو توہین عدالت کے شوکاز نوٹسز کے خلاف انٹرا کورٹ اپیل خارج

    لاہور ہائیکورٹ، اے ٹی سی جج سرگودھا کو ہراساں کرنے کا معاملہ ، پولیس افسران کو توہین عدالت کے شوکاز نوٹسز کے خلاف انٹرا کورٹ اپیل خارج کر دی گئی
    جسٹس اسجد جاوید گھرال اور جسٹس علی ضیا باجوہ پر مشتمل بینچ نے فیصلہ سنایا ،ڈی پی او سرگودھا نے چیف جسٹس ملک شہزاد احمد خان کے فیصلے کیخلاف انٹرا کورٹ اپیل دائر کی گئی تھی ،چیف جسٹس ملک شہزاد احمد خان نے ڈی پی او، ریجنل آفیسر سی ٹی ڈی سمیت دیگر کو توہین عدالت کے شوکاز نوٹسز جاری کیے تھے

    گزشتہ سماعت پر ڈی پی او سرگودھا ،ریجنل آفیسر سی ٹی ڈی اورایس ایچ او نے غیر مشروط معافی مانگ لی تھی،،عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہاتھا کہ غیر مشروط معافی منظور کرنی ہے یا توہین عدالت کی کارروائی کرنی ہے فیصلہ کریں گے

    فیصلے سے ثابت ہوا کہ لاڈلہ ازم آج تک برقرار ہے ، شرجیل انعام میمن

    سپریم کورٹ فیصلے کے بعد پی ٹی آئی کا چیف الیکشن کمشنر کیخلاف کاروائی کا مطالبہ

    سپریم کورٹ،مخصوص نشستیں،پشاور ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار

    سپریم کورٹ،مخصوص نشستیں، سنی اتحاد کونسل کی درخواست پر فیصلہ محفوظ

    کچھ ججز دانا ہوں گے، میں اتنا دانا نہیں، پاکستان کو ایک بار آئین کے راستے پر چلنے دیں، چیف جسٹس

    نشان نہ ملنے پر کسی امیدوار کا کیسے کسی پارٹی سے تعلق ٹوٹ سکتا؟ چیف جسٹس

    انتخابات بارے کیا کیا شکایات تھیں الیکشن کمیشن مکمل ریکارڈ دے، جسٹس اطہر من اللہ

    سنی اتحادکونسل کی مخصوص نشستوں سے متعلق اپیل پر سماعت 24 جون تک ملتوی

    سپریم کورٹ، سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشستیں نہ ملنے کیخلاف کیس کی سماعت ملتوی

    مخصوص نشستوں پر سپریم کورٹ کا فیصلہ،ملک ایک اور آئینی بحران سے دوچار

    حکومت کو کوئی خطرہ نہیں،معاملہ تشریح سے آگے نکل گیا،وفاقی وزیر قانون

    سپریم کورٹ کا فیصلہ، سیاسی جماعتوں کا ردعمل،پی ٹی آئی خوش،حکومتی اتحاد پریشان

  • لاہور ہائیکورٹ،جج کو ہراساں کرنے کا کیس،پولیس افسران نے معافی مانگ لی

    لاہور ہائیکورٹ،جج کو ہراساں کرنے کا کیس،پولیس افسران نے معافی مانگ لی

    لاہور ہائیکورٹ ،اے ٹی سی سرگودھا کے جج کو ہراساں کرنے سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی

    پولیس افسران کی جانب سے تحریری جواب لاہور ہائیکورٹ میں جمع کرا دیاگیا ،وکیل نے کہا کہ وزیر اعظم ملک سے باہر تھے عدالتی حکم پر ایک دو ہفتے میں عمل کریں گے، ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا ہک اٹارنی جنرل نے کہا بیان دے دیں کہ عدالتی حکم پر عمل ہو گا، جسٹس شاہد کریم نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ دو معاملات ہیں، ایک رٹ ہے دوسرا توہین عدالت،توہین عدالت کے معاملے کا کیا کرنا ہے ؟عدالتی معاون حنا حفیظ عدالت کی معاونت کریں گی ، عدالتی معاون نے کہا کہ توہین عدالت کی کارروائی ہو سکتی ہے عدالت کے پاس اختیار ہے، عدالت نے کہا کہ جن پولیس افسران کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی ہے وہ جواب جمع کرائیں،

    ڈی پی او سرگودھا ،ریجنل آفیسر سی ٹی ڈی اورایس ایچ او نے غیر مشروط معافی مانگ لی ،عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ غیر مشروط معافی منظور کرنی ہے یا توہین عدالت کی کارروائی کرنی ہے فیصلہ کریں گے، لاہور ہائیکورٹ نے کارروائی اگست کے دوسرے ہفتے تک ملتوی کر دی

    عمران خان نے آخری کارڈ کھیل دیا،نواز شریف بھی سرگرم

    موجودہ بجٹ معیشت، عوام ،ملک کے لئے تباہ کن ثابت ہوگا،شاہد خاقان عباسی

    شاہد خاقان عباسی کچھ بڑا کریں گے؟ن لیگ کی آخری حکومت

    پی ٹی آئی کی ڈیجیٹل دہشت گردی کا سیاہ جال،بیرون ملک سے مالی معاونت

    جسٹس ملک شہزاد نے چیف جسٹس سے چھٹیاں مانگ لیں

    اگر کارروائی نہیں ہو رہی تو ایک شخص داد رسی کیلئے کیا کرے؟چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ

    عمران خان کیخلاف درخواست دینے پر جی ٹی وی نے رپورٹر کو معطل کردیا

    سوال کرنا جرم بن گیا، صحافی محسن بلال کو نوکری سے "فارغ” کروا دیا گیا

    صوبائی کابینہ نے بانی پی ٹی آئی کے خلاف شواہد کے تحت کارروائی کی اجازت دی

    توشہ خانہ،نئی پالیسی کے تحت تحائف کون لے سکتا؟قائمہ کمیٹی میں تفصیلات پیش

    باسکن رابنز پاکستان کو اربوں روپے جرمانے اور منی لانڈرنگ کی تحقیقات کا سامنا

    اگلے دو مہینے بہت اہم،کچھ بڑا ہونیوالا؟عمران خان کی پہنچ بہت دور تک

    اڈیالہ جیل میں قید عمران خان نے بالآخر گھٹنے ٹیک دیئے

    جعلی ڈگری،جسٹس طارق جہانگیری کے خلاف ریفرنس دائر

    "بھولے بابا” کا عام آدمی سے خود ساختہ بابا بننے کا سفر ،اربوں کے اثاثے

    اصلی ولن آئی ایم ایف یا حکومت،بے حس اشرافیہ نے عوام پر بجلی گرا دی

  • پی ٹی آئی کو جلسے کی اجازت نہ ملنے پر توہین عدالت کی درخواست خارج

    پی ٹی آئی کو جلسے کی اجازت نہ ملنے پر توہین عدالت کی درخواست خارج

    اسلام آبادہائیکورٹ،پی ٹی آئی جلسے کا این اوسی معطلی سے متعلق توہینِ عدالت کیس کی سماعت ہوئی

    اسلام آبادہائیکورٹ نے توہین عدالت کی درخواست خارج کردی، پی ٹی آئی وکیل شعیب شاہین نے عدالت میں کہا کہ پولیس نے ڈپٹی کمشنر دفتر سے عامر مغل کو گرفتار کیا، عامر مغل کو اٹھانے کے پورے دن تک کوئی مقدمہ درج نہیں کیا گیا،جسٹس بابر ستار نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ مقدمہ ہے تو متعلقہ فورم پر جائیں، یہ توہینِ عدالت تو نہیں بنتی،

    وکیل شعیب شاہین نے اسلام آباد ہائیکورٹ کا تحریری آرڈر پڑھ کرسنایا اور کہا کہ ضلعی انتظامیہ نے 4 جولائی کو اسلام آباد ہائیکورٹ میں نوٹیفکیشن پیش کیا، ڈپٹی کمشنر نے جلسے کی پچھلی رات ڈیڑھ بجے مجھے جلسہ معطلی کا نوٹیفکیشن بھیجا، ہم پھر آج ہی رٹ پٹیشن دائر کرینگے، یہ لوگ بدنیتی کر رہے ہیں اور ہمیں کچھ نہیں کرنے دے رہے، جسٹس بابر ستار نے ریمارکس دیتے ہوئے کہاکہ دِلوں کاحال اللہ جانتا ہے، ہم نے تو قانون کے مطابق فیصلے کرنے ہیں،ڈپٹی کمشنر نے ایک آرڈر کیا چیف کمشنر نے اسے ختم کر دیا، آپ چیف کمشنر کے آرڈر کے خلاف درخواست دائر کریں، سیاسی معاملہ طریقہ کار کو تبدیل تو نہیں کر دے گا،

    عمران خان نے آخری کارڈ کھیل دیا،نواز شریف بھی سرگرم

    موجودہ بجٹ معیشت، عوام ،ملک کے لئے تباہ کن ثابت ہوگا،شاہد خاقان عباسی

    شاہد خاقان عباسی کچھ بڑا کریں گے؟ن لیگ کی آخری حکومت

    پی ٹی آئی کی ڈیجیٹل دہشت گردی کا سیاہ جال،بیرون ملک سے مالی معاونت

    جسٹس ملک شہزاد نے چیف جسٹس سے چھٹیاں مانگ لیں

    اگر کارروائی نہیں ہو رہی تو ایک شخص داد رسی کیلئے کیا کرے؟چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ

    عمران خان کیخلاف درخواست دینے پر جی ٹی وی نے رپورٹر کو معطل کردیا

    سوال کرنا جرم بن گیا، صحافی محسن بلال کو نوکری سے "فارغ” کروا دیا گیا

    صوبائی کابینہ نے بانی پی ٹی آئی کے خلاف شواہد کے تحت کارروائی کی اجازت دی

    توشہ خانہ،نئی پالیسی کے تحت تحائف کون لے سکتا؟قائمہ کمیٹی میں تفصیلات پیش

    باسکن رابنز پاکستان کو اربوں روپے جرمانے اور منی لانڈرنگ کی تحقیقات کا سامنا

    اگلے دو مہینے بہت اہم،کچھ بڑا ہونیوالا؟عمران خان کی پہنچ بہت دور تک

    اڈیالہ جیل میں قید عمران خان نے بالآخر گھٹنے ٹیک دیئے

    جعلی ڈگری،جسٹس طارق جہانگیری کے خلاف ریفرنس دائر

    "بھولے بابا” کا عام آدمی سے خود ساختہ بابا بننے کا سفر ،اربوں کے اثاثے

    اصلی ولن آئی ایم ایف یا حکومت،بے حس اشرافیہ نے عوام پر بجلی گرا دی

  • سپریم کورٹ،فیصل واوڈا،مصطفیٰ کمال کی پریس کانفرنس،تحریری حکمنامہ جاری

    سپریم کورٹ،فیصل واوڈا،مصطفیٰ کمال کی پریس کانفرنس،تحریری حکمنامہ جاری

    فیصل واوڈا اور مصطفیٰ کمال کی پریس کانفرنس، سپریم کورٹ نے کیس کی سماعت کا تحریری حکمنامہ جاری کر دیا ہے

    سپریم کورٹ نے 34 ٹی وی چینلز کو شوکاز نوٹس جاری کر دیئے ہیں، سپریم کورٹ نے دو ہفتوں میں ٹی وی چینل مالکان کے دستخط کے ساتھ جواب طلب کیا ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ، جسٹس عقیل عباسی اور جسٹس نعیم افغان نے تحریری حکمنامہ جاری کیا، جس میں کہا گیا کہ ” شوکاز نوٹس پیمرا کے ذریعے بھیجا جائے اور چینلز 2ہفتوں میں شوکاز نوٹس کا جواب جمع کروائیں، شوکاز نوٹس کا جواب آپریشنل ہیڈ اور چینل مالکان یا شیئر ہولڈر کے دستخط کے ساتھ ہوں”۔

    سپریم کورٹ کے تحریری حکم نامے میں مزیدکہا گیا کہ وکیل صفائی فیصل صدیقی کے مطابق ابتدائی جواب جمع کروا دیا، چینلز کے جواب پر دستخط کسی چینل مالک کے نہیں بلکہ وکیل فیصل صدیقی کے ہیں، تمام چینلز کی جانب سے دلائل کم و بیش ایک ہی طرح کے ہیں،بادی النظر میں چینلز کا جواب اطمینان بخش نہیں۔

    فیصل واوڈا نے توہین عدالت کیس میں سپریم کورٹ سے غیر مشروط معافی مانگ لی۔

    بحریہ ٹاؤن،چوری کا الزام،گھریلو ملازمین کو برہنہ کر کے تشدد،الٹا بھی لٹکایا گیا

    بحریہ ٹاؤن کے ہسپتال میں شہریوں کو اغوا کر کے گردے نکالے جانے لگے

    سماعت سے محروم بچوں کے لئے بڑی خوشخبری

    ایبٹ آباد میں "ہم جنس پرستی کلب” کے قیام کے لیے درخواست

    ہنی ٹریپ،لڑکی نے دوستوں کی مدد سے نوجوان کیا اغوا

    بچ کر رہنا،لڑکی اور اشتہاریوں کی مدد سے پنجاب پولیس نے ہنی ٹریپ گینگ بنا لیا

    طالبات کو نقاب کی اجازت نہیں،لڑکے جینز نہیں پہن سکتے،کالج انتظامیہ کیخلاف احتجاج

    امجد بخاری کی "شادی شدہ” افراد کی صف میں شمولیت

    مجھے مسلم لیگ ن کے حوالے سے نہ بلایا جائے میں صرف مسلمان ہوں،کیپٹن ر صفدر

    سپریم کورٹ،توہین عدالت کیس میں فیصل واوڈا،مصطفیٰ کمال کی معافی تسلیم
    کیس کی سماعت ہوئی تھی تو دوران سماعت چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا تھا کہ کیا وکیل ٹی وی چینلز کی جانب سے جواب پر دستخط کر سکتا ہے؟جسٹس عقیل عباسی نے ریمارکس دیئے کہ چینلز کے کنڈکٹ پر آپ کی کیا رائے ہے؟اٹارنی جنرل روسٹرم پرآگئے اور کہا کہ اپنی رائے دینے میں محتاط رہوں گا کیونکہ کارروائی آگے بڑھی تو مجھے پراسیکیوٹر بننا ہوگا۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ پھر ایسی بات نہ کریں جس سے کیس متاثر ہو،جتنا بڑا آدمی ہوتا ہے اسکی ذمہ داری بھی اتنی ہی ہوتی ہے، چینلز کا موقف ہے کہ پریس کانفرنس نشر کرنا بدنیتی پر مبنی نہیں تھا۔وقفے کے بعد سماعت دوبارہ شروع ہوئی تو سپریم کورٹ نے فیصل واوڈا اور مصطفیٰ کمال کی غیر مشروط معافی تسلیم کر لی،چیف جسٹس نےریمارکس دیئے کہ آئین کے آرٹیکل 66 میں آپ پارلیمنٹ میں کھڑے ہوکر بات کرسکتے ہیں،آپ لوگوں کی غیر مشروط معافی قبول کرتے ہیں،آئندہ اس معاملے میں ذرا احتیاط کیجئے گا۔سپریم کورٹ نے فیصل واوڈا اور مصطفیٰ کمال کی غیر مشروط معافی قبول کرتے ہوئے توہین عدالت کا نوٹس واپس لے لیا،وکیل فروغ نسیم نے کہا کہ مصطفی ٰکمال نے غیر مشروط معافی مانگی ہے، مصطفیٰ کمال اب پریس کانفرنس پر بھی ندامت کا اظہار کر چکے ہیں ،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے فیصل واوڈا سے استفسار کیا کہ کیا آپ نے بھی معافی مانگی ہے ،فیصل واوڈا نے کہا کہ جی میں نے بھی معافی مانگی ہے،

  • گالم گلوچ چلانا کیا آزادی اظہار میں آتا ہے، چیف جسٹس

    گالم گلوچ چلانا کیا آزادی اظہار میں آتا ہے، چیف جسٹس

    سپریم کورٹ، فیصل واوڈا اور مصطفیٰ کمال کے خلاف کیس کی سماعت ہوئی

    چیف جسٹس قاضی فائزعیسیٰ کی سربراہی میں 3رکنی بنچ نے کیس کی سماعت کی،سینیٹرفیصل واوڈااور مصطفی کمال ذاتی حیثیت میں سپریم کورٹ میں پیش ہوئے،بیرسٹرفروغ نسیم نے عدالت میں کہا کہ مصطفیٰ کمال نےغیرمشروط معافی مانگی اب پریس کانفرنس میں بھی ندامت کا اظہار کرچکے ہیں،فیصل واوڈا عدالت پیش ہوئے تو چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ کے وکیل نہیں آئے؟کیا آپ نے بھی معافی مانگی ہے، فیصل واوڈا نے کہا کہ جی میں نے بھی معافی مانگی ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ کے کلائنٹس کہاں ہیں؟ وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ 26 چینل کی جانب سے میں ہوں،چیف جسٹس قاضٰی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ کے کسی کلائنٹ نے ابھی تک کوئی جواب جمع نہیں کروایا،آپ نے عدالتی حکم پر عمل نہیں کیا، وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ تمام چینلز کے نمائندگان عدالت میں موجود ہیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ چینلز کی جانب سے جواب جمع نہیں کرایا گیا، وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ تحریری جواب جمع کروا چکا ہوں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ جواب پر دستخط وکیل کے ہیں چینلز کے نہیں،توہین عدالت کیس میں دستخط چینلز کے ہونا لازمی ہیں، وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ شوکاز نوٹس ہوتا تو جواب چینلز کے دستخط سے جمع ہوتا،میڈیا اداروں کو شوکاز نوٹسز نہیں تھے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کیا آپ میڈیا اداروں کو شوکاز کروانا چاہتے ہیں ؟جسٹس عقیل عباسی نے کہا کہ کم از کم میڈیا اداروں کے کسی ذمہ دار افسر کا دستخط شدہ جواب جمع ہونا چاہیے تھا ،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ جو باتیں کر رہے ہیں وہ کہاں سے کر رہے ہیں؟ پیمرا سے یا کسی بین الاقوامی کنونشن سے دکھائیں،وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ حقائق اور سچ میں فرق ہوتا ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ یہ میں آج آپ سے نئی بات سیکھوں گا، وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ میں کہاں آپ کو کچھ بھی سکھا سکتا ہوں،سچ کا تناظر وسیع ہوتا ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ ہمارے سامنے کھڑے ہیں یہ حقیقت ہے یا سچ؟بال کی کھال اتارنے جیسی بات کر رہے ہیں، صدیقی صاحب وکیل نے اپنے کلائنٹ کا مفاد دیکھنا ہوتاہے،

    کس قانون میں لکھا ہے آپ نے پریس کانفرس لائیو ہی دکھانا تھی،سارا دھندا پیسے کا ہے ایمان ،نیت ،اخلاق و تہذیب کا نہیں،چیف جسٹس
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے وکیل فیصل صدیقی سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ کیا آپ کو آئین پسند نہیں؟ میں سمجھا آپ آئین سے بات کا آغاز کریں گے،کوئی کسی کو چور ڈاکو کہے اور میڈیا کہے ہم نے صرف رپورٹنگ کی ہے کیا یہ درست ہے؟کیا ایسے آزاد میڈیا کی اجازت ہونی چاہیے یا نہیں؟ آزادی صحافت اور آزادی اظہار رائے دو الگ الگ چیزیں ہیں،گالم گلوچ چلانا کیا آزادی اظہار میں آتا ہے، کیا آئین میں صحافت کی کچھ حدود ہیں یا نہیں، ایک وکیل دوسرے کو جھوٹا اور چور کہے تو میڈیا بغیر تصدیق چلا دیتا ہے، کیا توہین آمیز مواد چلانا توہین عدالت نہیں،کس قانون میں لکھا ہے آپ نے پریس کانفرس لائیو ہی دکھانا تھی،سارا دھندا پیسے کا ہے ایمان ،نیت ،اخلاق و تہذیب کا نہیں، ایسا بھی نہیں ہوا کہ ایک بار غلط بات آنے پر پریس کانفرنس کوکاٹ دیا ہو، اب فریڈم آف ایکسپریشن کے تحت بتائیں اس پریس کانفرنس سے کتنے پیسے کمائے، وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ میں کلائنٹس سے ہدایات لے لیتا ہوں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ہم ایک ایک سے بلا کر پوچھ لیتے ہیں،

    ڈائریکٹر نیوز جیوٹی وی رانا جوادروسٹرم پر آگئے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ آپ نے کتنی بار وہ پریس کانفرنس چلائی کتنے پیسے بنائے؟رانا جواد نے کہا کہ گیارہ بارہ بلیٹن میں وہ پریس کانفرنس چلی،پیسوں کا نہیں پتہ میں صرف ایڈیٹوریل دیکھتا ہوں فنانس نہیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ پریس کانفرنس کرنے والے کہہ رہے ہیں ان سے غلطی ہو گئی،آپ مگر کہہ رہے ہیں کہ آپ کا فرض ہے یہ دکھائیں گے، جسٹس عقیل عباسی نے کہا کہ کوئی بھی شخص آکر کہہ دے میں عوام کا نمائندہ ہوں آپ اسے نشر کریں گے؟

    آپ ہمارے ساتھ گیمز کھیلیں گے تو آپ کو موقع نہیں دیں گے، ہم بھی پھرسختی سے پیش آئیں گے،چیف جسٹس
    وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ فریڈم آف پریس کی وضاحت 200سال سے کرنے کی کوشش ہو رہی ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ 200سال سے کیوں؟ 1400سال سے کیوں شروع نہیں کرتے،آپ کو 1400سال پسند نہیں؟ 200سال کا ذکر اس لئے کر رہے ہیں کہ تب امریکا آزاد ہوا؟ وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ میں 200 سال کی بات اس لئے کر رہا ہوں کہ ماڈرن آئین کی ابتدا تب ہوئی، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ بسم اللہ الرحمٰن الرحیم سے آغاز ہو رہا ہے آئین کا،اس میں کہاں ماڈرن ایج کا ذکر ہے؟ آپ نے بطور ٹی وی چینلز ان کی گفتگو پھیلائی آپ ان پر تہمت اب لگا رہے ہیں توہین کی خود کہتے ہیں کچھ نہیں کیا،باہر کے ممالک میں تو پریس کانفرنس لائیو نہیں دکھائی جاتی، وہاں پریس کانفرنس سن لی جاتی ہے پھر کچھ چیزیں کاٹ لیتے ہیں، اب آپ امریکا کی مثال نہیں دیں گے، آپ نے خود مان لیا توہین ہوئی ہے پھر آپ کو نوٹس کر دیتے ہیں، یہ تو اب آپ کے اعتراف پر توہین عدالت کی کارروائی ہو گی، وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ مجھے آپ پر پورا اعتبار ہے آپ جو بھی فیصلہ کریں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ ہمیں سرٹیفکیٹ نہ دیں، کیا یہ آئینی دلیل ہے کہ آپ پر پورا اعتبار ہے؟ وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ عدالت چاہتی ہے کہ چینلز کے دستخط سے جواب دیں تو دے دوں گا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ ہمارے ساتھ گیمز کھیلیں گے تو آپ کو موقع نہیں دیں گے، ہم بھی پھر آپ کے ساتھ سختی سے پیش آئیں گے،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ میں تو خود توہین عدالت کی کارروائی پر یقین نہیں رکھتا، ایک ساتھی جج نے کمرہ عدالت میں بات کر دی تھی اس لیے کارروائی شروع کرنا پڑی، ٹی وی چینلز کی جانب سے آپ کا جواب جارحانہ ہے، آپ جواب میں پریس کانفرنس کو توہین کہہ کر اسے نشر کرنا اپنا حق بھی کہہ رہے ہیں، یہ فساد فی الارض کی بات ہے اور اب ہمارا فرض ہے کہ کچھ کریں،

    فیصلے سے پہلے تنقید شروع کر دیں تو کیا کریں، کچھ ایسے ہیں جنہیں لگتا ہے انہیں جج کی کرسی پر ہونا چاہیے، چیف جسٹس
    جسٹس نعیم اختر افغان نے کہا کہ عام لوگوں کے ذہن پر میڈیا کا بہت اثر ہوتا ہے، آپ نے پریس کانفرنس چلائی پھر بار بار ٹکرز چلے،ہ ٹی وی چینلز پر ان لوگوں کو بٹھایا جاتا ہے جنہیں قانون کا کچھ علم نہیں ہوتا،تبصرے لوگ ایسے کرتے ہیں جیسے سولہ سو فیصلے لکھ چکے ہیں،اگر کوئی میکنزم نہیں ہے تو بنا لیں۔ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ تو چاہتے ہیں تماشا بنے ورنہ آپ کا کام کیسے چلے گا، عدالتی معاون حافظ عرفات کی جانب سے غیبت، بدگمانی اور فاسق کی خبر کی ممانعت میں قرآنی آیات کا حوالہ دیا گیا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ہمیں کوئی شوق نہیں کسی کیخلاف توہین عدالت کی کارروائی کریں،کیا کریں مگر معاشرہ تباہ ہو رہا ہے،میڈیا کی آزادی سے متعلق ہم بہت محتاط ہیں، کورٹ رپورٹنگ کرنے والے معاشرے میں ایک کام کر رہے ہیں جا کر بتاتے ہیں یہ ہو رہا ہے،اب وہ فیصلے سے پہلے تنقید شروع کر دیں تو کیا کریں، کچھ ایسے ہیں جنہیں لگتا ہے انہیں جج کی کرسی پر ہونا چاہیے،

    سپریم کورٹ،توہین عدالت کیس میں فیصل واوڈا،مصطفیٰ کمال کی معافی تسلیم
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ کیا وکیل ٹی وی چینلز کی جانب سے جواب پر دستخط کر سکتا ہے؟جسٹس عقیل عباسی نے ریمارکس دیئے کہ چینلز کے کنڈکٹ پر آپ کی کیا رائے ہے؟اٹارنی جنرل روسٹرم پرآگئے اور کہا کہ اپنی رائے دینے میں محتاط رہوں گا کیونکہ کارروائی آگے بڑھی تو مجھے پراسیکیوٹر بننا ہوگا۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ پھر ایسی بات نہ کریں جس سے کیس متاثر ہو،جتنا بڑا آدمی ہوتا ہے اسکی ذمہ داری بھی اتنی ہی ہوتی ہے، چینلز کا موقف ہے کہ پریس کانفرنس نشر کرنا بدنیتی پر مبنی نہیں تھا۔وقفے کے بعد سماعت دوبارہ شروع ہوئی تو سپریم کورٹ نے فیصل واوڈا اور مصطفیٰ کمال کی غیر مشروط معافی تسلیم کر لی،چیف جسٹس نےریمارکس دیئے کہ آئین کے آرٹیکل 66 میں آپ پارلیمنٹ میں کھڑے ہوکر بات کرسکتے ہیں،آپ لوگوں کی غیر مشروط معافی قبول کرتے ہیں،آئندہ اس معاملے میں ذرا احتیاط کیجئے گا۔سپریم کورٹ نے فیصل واوڈا اور مصطفیٰ کمال کی غیر مشروط معافی قبول کرتے ہوئے توہین عدالت کا نوٹس واپس لے لیا،وکیل فروغ نسیم نے کہا کہ مصطفی ٰکمال نے غیر مشروط معافی مانگی ہے، مصطفیٰ کمال اب پریس کانفرنس پر بھی ندامت کا اظہار کر چکے ہیں ،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے فیصل واوڈا سے استفسار کیا کہ کیا آپ نے بھی معافی مانگی ہے ،فیصل واوڈا نے کہا کہ جی میں نے بھی معافی مانگی ہے،

    سپریم کورٹ نے حکمنامہ میں کہا کہ فیصل واوڈا اور مصطفیٰ کمال کو جاری شوکاز واپس لیا جاتا ہے، توقع ہے دونوں رہنما اپنے جمع کرائے گئے جواب پر قائم رہیں گے، اگر دوبارہ کچھ ایسا ہوا تو صرف معافی قابل قبول نہیں ہو گی،

    سپریم کورٹ، ٹی وی چینلز کو نوٹس جاری،،ٹی وی چینلز خود کو پارلیمان سے بھی بڑا سمجھتے ہیں ؟ چیف جسٹس
    سپریم کورٹ نےتمام میڈیا چینلز کو توہین عدالت کے نوٹس جاری کرنے کا فیصلہ کیا، عدالت نے ٹی وی چینلز کو شوکاز نوٹس جاری کر دیے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ چینلز کا موقف درست ہے تو ڈٹ کر کھڑے رہیں،ٹی وی چینلز خود کو پارلیمان سے بھی بڑا سمجھتے ہیں ؟ میڈیا چینلز کے وکیل نے کہا لائیو پریس کانفرنس دکھانا انکا حق اور ڈیوٹی ہے،توہین عدالت کا قانون واضح ہے،تمام میڈیا چینلز کے جوابات ایک جیسے ہیں،26 چینلز نے وکیل کے ذریعے جواب جمع کرایا،میڈیا چینلز نے جواب پر دستخط نہیں کیے، ٹی وی چینلز شوکاز نوٹس پر دستخط شدہ جواب جمع کرائیں،ٹی وی چینلز براڈ کاسٹ سے پیسہ کماتے ہیں،ٹی وی چینلز جواب کیساتھ اشتہارات سے کمائی گئی رقم کا ریکارڈ جمع کرائیں،جوابات پر ٹی وی چینلز کے مالکان اور چیف ایگزیکٹو کے دستخط ہونے چاہیں،

    فیصل واوڈا نے توہین عدالت کیس میں سپریم کورٹ سے غیر مشروط معافی مانگ لی۔

    واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے سینیٹر فیصل واوڈا اور مصطفیٰ کمال کو عدلیہ مخالف بیان دینے پر توہین عدالت کا نوٹس جاری کیا تھا،سینیٹر فیصل واوڈا نے پریس کانفرنس کر کے اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججز کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا، فیصل واوڈا کا کہنا تھا کہ اداروں کی دخل اندازی کے ثبوت دیں!میرے خط کا جواب کیوں نہیں دیا؟کیا آپ انصاف کررہے ہیں؟ جج دوہری شہریت کے ساتھ کیسے بیٹھے ہوئے ہیں؟ میری ماں کے لیے سوشل میڈیا پر بیان بازی ہو رہی تھی اس وقت بھی نوٹس لیا جاتا، کل پنجاب میں بچی کو زیادتی کے بعد قتل کیا گیا اس پر بھی نوٹس لیا جاتا، جسٹس بابر ستار کو ایک سال بعد باتیں یاد آرہی ہیں، اب الزامات کے شواہد بھی دینا پڑیں گے، مداخلت کے شواہد لے آئیں ہم آپ کیساتھ کھڑے ہیں، بتایا جائے کس نے آپکے کام میں مداخلت کی،ججز کو شفاف اور الزامات سے دور ہونا چاہیئے، قانون بنانے والے دہری شہریت نہیں رکھ سکتے تو جج کیسے رکھ سکتے ہیں

    بحریہ ٹاؤن،چوری کا الزام،گھریلو ملازمین کو برہنہ کر کے تشدد،الٹا بھی لٹکایا گیا

    بحریہ ٹاؤن کے ہسپتال میں شہریوں کو اغوا کر کے گردے نکالے جانے لگے

    سماعت سے محروم بچوں کے لئے بڑی خوشخبری

    ایبٹ آباد میں "ہم جنس پرستی کلب” کے قیام کے لیے درخواست

    ہنی ٹریپ،لڑکی نے دوستوں کی مدد سے نوجوان کیا اغوا

    بچ کر رہنا،لڑکی اور اشتہاریوں کی مدد سے پنجاب پولیس نے ہنی ٹریپ گینگ بنا لیا

    طالبات کو نقاب کی اجازت نہیں،لڑکے جینز نہیں پہن سکتے،کالج انتظامیہ کیخلاف احتجاج

    امجد بخاری کی "شادی شدہ” افراد کی صف میں شمولیت

    مجھے مسلم لیگ ن کے حوالے سے نہ بلایا جائے میں صرف مسلمان ہوں،کیپٹن ر صفدر

  • اسلام آباد ہائیکورٹ،جسٹس طارق محمود جہانگیری پر مشتمل اسلام آباد کا الیکشن ٹربیونل بحال

    اسلام آباد ہائیکورٹ،جسٹس طارق محمود جہانگیری پر مشتمل اسلام آباد کا الیکشن ٹربیونل بحال

    اسلام آباد ہائی کورٹ،الیکشن ایکٹ ترمیمی آرڈیننس کے خلاف پی ٹی آئی امیدواروں کی درخواستوں پر کیس کی سماعت ہوئی

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کیس کی سماعت کی،ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے تیاری کے لیے وقت دینے کی استدعا کر دی، جس پر اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق برہم ہو گئے، ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پانچ منٹ وقت لے لیں ، کیا پانچ منٹ سے بھی وقت کم کردوں؟ آپ اس آرڈیننس کا کیسے دفاع کریں گے؟ کون سا آسمان گرنے لگا تھا کہ قائم مقام صدر سے رات و رات آرڈیننس جاری کروا دیا،پارلیمنٹ کو ختم کردیتے ہیں،اور آرڈیننس کے زریعے حکومت چلواتے ہیں ، آپ لوگوں نے آرڈیننس کی فیکٹری لگا رکھی ہے، ایک واہ فیکٹری ہے اور دوسری آرڈیننس فیکٹری ، وہ اسلحہ بنانے ہیں آپ آرڈیننس بناتے ہیں ،

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے الیکشن کمیشن کا ٹریبیونل تبدیلی کا نوٹیفکیشن معطل کر دیا،جسٹس طارق محمود جہانگیری پر مشتمل اسلام آباد کا الیکشن ٹربیونل بحال کر دیا گیا،

    اسلام آباد ہائیکورٹ،انجم عقیل خان کو توہینِ عدالت کا شوکاز نوٹس جاری
    دوسری جانب اسلام آباد ہائیکورٹ نے انجم عقیل خان کو توہینِ عدالت کا شوکاز نوٹس جاری کر دیا، انجم عقیل عدالت میں سوری ، سوری کرتے رہے، جج کے تعصب پر اپنے الفاظ پر شرمندگی اور معذرت کا اظہار کیا،عدالتی زبان قرار دیا تو اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے جھاڑ پلا دی کہا کہ آپ نے بیان حلفی بھی لگایا ہوا ہے کہ جو درخواست میں لکھا وہ درست ہے،آپ انگریزی پڑھ سکتے ہیں؟ پڑھیں،آپ نےاقرباء پروری لکھا ہے آپ نے یہ الزام کیوں لگایا؟انجم عقیل کے ساتھ کھڑے وکیل کےلقمےپر چیف جسٹس عامر فاروق سخت برہم ہو گئے،کہا میں نے ذاتی طور پر طلب کیا ہے تو انہیں خود بات کرنے دیں،انجم عقیل خان نے کہا کہ میرے لیے سارے جج بہت قابلِ احترام ہیں،میری غلطی ہے میں معذرت کرتا ہوں، عدالت نے حکم دیا کہ انجم عقیل خان ہر سماعت پر حاضری یقینی بنائیں ، عدالت نے کیس کی سماعت 9 جولائی تک ملتوی کر دی

    آپ جواب دیں ورنہ اجلاس میں نہیں جا سکیں گے،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق کا انجم عقیل خان سے مکالمہ
    دوران سماعت انجم عقیل خان نے کہا کہ میرے لیے سارے جج بہت قابلِ احترام ہیں، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ یہ بات ابھی نہیں کر رہے، آپ نے جو الزامات لگائے اس متعلق بتائیں، انجم عقیل خان نے کہا کہ میری غلطی ہے میں معذرت کرتا ہوں، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ یہ بتائیں کہ جج صاحب نے کہاں تعصب ظاہر کیا جہاں آپکو لگا یہ انصاف نہیں کرینگے؟ انجم عقیل خان نے کہا کہ میں معذرت چاہتا ہوں، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے آپکی درخواست پر ساری کارروائی کی، آپ بتا تو دیں،آپ سوری سوری کر رہے ہیں، یہ بتائیں Bias کیا ہوتا ہے؟ انجم عقیل خان نے کہا کہ یہ لیگل لینگویج ہے،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ یہ لیگل لینگویج نہیں ہے، یہ سادہ انگریزی ہے، جج صاحب متعصب تھے کیونکہ انہوں نے آپکی سفارش نہیں مانی؟ انجم عقیل خان نے کہا کہ نہیں، ہم نے سفارش کی ہی نہیں، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ اچھا، یہ مجھے نہیں پتہ سفارش کی ہے یا نہیں، آپ پارلیمنٹیرین ہیں، آپ قانون بنائیں گے، آپ نے پوری اکانومی چلانی ہے، آپ وہاں جا کر بھی کہیں گے کہ مجھے اکانومی کا نہیں معلوم؟ انجم عقیل خان نے کہا کہ لیگل گراؤنڈز پر میرے وکیل عدالت کو بتائیں گے، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ وکیل اپنے سے تو نہیں کرتا، آپ نے کہا تو انہوں نے درخواست دی ہو گی نا، مجھے تو کوئی جلدی نہیں، آپ جواب دیں ورنہ اجلاس میں نہیں جا سکیں گے، آپ سے آخری بار پوچھ رہا ہوں بتائیں ورنہ آپ اپنا نقصان کرینگے، ہم سب اپنے اعمال کے ذمہ دار ہیں آپکو جواب دینا ہو گا،

    پی ٹی آئی والے کم ازکم علما کے قدموں میں تو بیٹھ گئے،کیپٹن ر صفدر

    پی ٹی آئی ،جے یو آئی قیادت کی ملاقات، پیپلز پارٹی، ن لیگ کا ردعمل

    "عین”سے عمران،تحریک انصاف میں ابھی بھی "عین” کی مقبولیت جاری

    جماعت اسلامی کا تحریک انصاف سے اتحاد سے انکار

    جہانگیر ترین پارٹی عہدے سے مستعفی،سیاست چھوڑنے کا اعلان

    انتخابات میں ناکامی، سراج الحق جماعت اسلامی کے عہدے سے مستعفی

    میں آپکے لیڈر کے کرتوت جانتا ہوں،ہم نے ملک جادو ٹونے پر نہیں چلانا، عون چودھری

    مولانا نے کشتیاں جلا دیں، واپسی ناممکن،مبشر لقمان کو کیا بتایا؟ کہانی بے نقاب