اسلام آباد ہائیکورٹ نے توہین مذہب کے مقدمے میں 21 ماہ سے قید ملزم عاصم اللہ کی ضمانت منظور کرلی۔
اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس بابر ستار نے ملزم کی ضمانت منظور کرتے ہوئے رہائی کے احکامات جاری کیے، ملزم عاصم اللہ کی جانب سے وکیل آصف علی تمبولی عدالت میں پیش ہوئے،وکیل نے عدالت کے روبرو مؤقف اپنایا کہ 30 اکتوبر 2023 سے موکل گرفتار ہے، ابھی تک انویسٹی گیشن مکمل نہیں ہو رہی۔
جسٹس بابر ستار نے کہا کہ تقریباً 2 سال سے ایک شہری قید ہے، ابھی تک تفتیش مکمل کیوں نہیں ہوئی؟،ایف آئی اے کی جانب سے بتایا گیا کہ عاصم اللہ ایک واٹس ایپ گروپ میں ایڈ تھا جہاں سے ایسا مواد آتا ہے، ہم نے سِم کو ٹریس کر کے 2023 میں عاصم اللہ کو گرفتار کیا۔
جسٹس بابر ستار نے استفسار کیا کہ استعمال کردہ سِم کس کے نام پر ہے؟، جس پر ایف آئی اے حکام نے جواب دیا کہ ہم یہ معلوم نہیں کرسکے کہ سم کس کے نام پر ہے،بعدازاں،عدالت نے ملزم کی ضمانت منظور کرتے ہوئے ملزم عاصم اللّٰہ کو رہا کرنے کا حکم دے دیا۔
ڈاکٹر شاہنواز قتل کیس میں مرکزی ملزمان احمد شاہانی اور محبوب ساند کی درخواست ضمانت مسترد ہوگئی۔
باغی ٹی وی کے مطابق ڈاکٹر شاہنواز کی لاش جلانے کے مقدمے میں انسداد دہشت گردی کی عدالت میرپورخاص نے گرفتار تینوں ملزمان کی درخواست پر محفوظ فیصلہ سنادیا۔عدالت نے تینوں ملزمان کی درخواست ضمانت پر محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے دو مرکزی گرفتار ملزمان احمد شاہانی اور محبوب ساند کی درخواست ضمانت مسترد کردی گئی جبکہ ایک ملزم نوید پنہور کی کم عمری کے باعث درخواست ضمانت منظور کرلی۔دو مرکزی ملزمان کی درخواست ضمانت مسترد اور ایک ملزم کی کم عمری کے باعث درخواست ضمانت منظور کرلی گئی۔ڈاکٹر شاہنواز کی لاش جلانے کے مقدمے کی سماعت پر تینوں ملزمان کو انسداد دہشت گردی کی عدالت میں میں پیش کیا گیا۔مقدمے میں 18 ملزمان نامزد ہیں جن میں سے ایک ملزم کا انتقال ہوچکا ہے جبکہ 16 ملزمان گرفتار ہیں۔ ملزمان پر تدفین رکوانے اور لاش چھین کر جلانے کا مقدمہ درج کیا گیا۔واضح رہے کہ ڈاکٹر شاہنواز کے خلاف 18 ستمبر کو عمر کوٹ میں توہین مذہب کا مقدمہ درج ہوا تھا اور انہیں 19 ستمبر کو جعلی پولیس مقابلے میں قتل کردیا گیا۔
میر پور خاص میں توہینِ مذہب کے الزام میں مارے گئے ڈاکٹر شاہنواز کے قتل کیس میں گرفتار مزید 9 ملزمان کو انسدادِ دہشت گردی کی عدالت میں پیش کر دیا گیا۔عدالت نے اس قتل کیس میں ملزمان کو 4 روزہ ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر دیا۔
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق میرپور خاص کے سندھڑی تھانے میں پولیس افسران کے خلاف درج قتل و دہشت گردی کی ایف آئی آر کی بھی مزید تفصیلات سامنے آ گئیں۔توہینِ مذہب کے الزام میں مارے گئے ڈاکٹر شاہنواز کے قتل کے مقدمے میں عمر کوٹ کے عمر جان سرہندی، احمدشاہانی، ریاض پنہور کو بھی نامزد کیا گیا ہے۔ایف آئی آر کے مطابق ڈاکٹر شاہنواز کو تشدد کے بعد قتل کیا گیا، ان کی لاش پر صرف گولیوں کے ہی نہیں بلکہ کندھے، ہاتھ اور ٹانگوں پر تشدد کے نشانات بھی موجود ہیں۔
ورثاء کی 19 رکنی وکلاء کی ٹیم کے سربراہ بیرسٹر اسد اللّٰہ راشدی نے اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا ہے کہ نئے ایکٹ کے مطابق پولیس حراست میں قتل کا معاملہ ایف آئی اے کے پاس جائے گا۔
انہوں نے بتایا ہے کہ مقامی پولیس کا اس معاملے سے کوئی تعلق نہیں ہو گا۔بیرسٹر اسد اللّٰہ راشدی نے کہا کہ پولیس مقابلے کی ایف آئی آر اور پوسٹ مارٹم رپورٹ میں بڑے تضادات ہیں، پوسٹ مارٹم رپورٹ بنانے والے بھی انکوائری کی زد میں آئیں گے، قتل پر جشن منانے اور سوشل میڈیا پر اکسانے والے بھی جوابدہ ہوں گے۔یاد رہے کہ گزشتہ روز ڈاکٹر شاہنواز کے برادر نسبتی کی مدعیت میں سندھڑی تھانے میں مقدمہ درج کیا گیا تھا۔
کوئٹہ میں تھانے میں بند ملزم کو پولیس اہلکار نے گولی مار کر ہلاک کرنے کے بعد خود کر سرینڈر کردیا۔
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ کی پولیس کے ایک سینیئر اہلکار کے مطابق توہین رسالت کے الزام میں زیرِ حراست ایک ملزم کو ایک پولیس اہلکار نے فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا ہے۔ملزم عبدالعلی کو گزشتہ روز سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہونے کے بعد خروٹ آباد تھانے کی پولیس کی جانب سے حراست میں لیا گیا تھا اور ان کے خلاف تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 295 سی کے تحت مقدمہ درج تھا۔ویڈیو وائرل ہونے کے بعد خروٹ آباد پولیس سٹیشن کے باہر لوگوں کی بڑی تعداد جمع ہو گئی تھی اور یہ ہجوم ملزم کو ان کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا تھا۔کوئٹہ پولیس کے ایک سینیئر افسر نےبتایا کہ ’خروٹ آباد پولیس سٹیشن مظاہرین کی بڑی تعداد کی موجودگی کی وجہ سے غیرمحفوظ تھا اس لیے ملزم کو کینٹ پولیس سٹیشن منتقل کر دیا گیا تھا۔‘
پولیس اہلکار کے مطابق کینٹ تھانے میں ہی ایک پولیس اہلکار نے فائرنگ کر کے ملزم عبدالعلی کو ہلاک کیا ہے۔‘خروٹ آباد پولیس سٹیشن کے ایک سینیئر اہلکار کا کہنا ہے کہ عبدالعلی پر گولی چلانے والے پولیس اہلکار کو گرفتار کر لیا گیا ہے جس سے تفتیش کی عمل جاری ہے۔پولیس کے مطابق عبدالعلی کی لاش کو سول ہسپتال منتقل کرنے کی بجائے متعلقہ پولیس سرجن کو پوسٹ مارٹم کے لیے ایک محفوظ مقام پر بلا لیا گیا ہے۔
خیال رہے کہ یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ جب پاکستان میں توہین مذہب کے معاملے میں ملزم کے خلاف قانون ہاتھ میں لیا گیا ہو۔ رواں برس جون میں خیبر پختونخوا کے ضلع سوات کے علاقے مدین میں توہین قرآن کے الزام میں سیالکوٹ سے تعلق رکھنے والے سیاح کو مشتعل ہجوم نے پولیس کی حراست سے زبردستی نکال کر قتل کر دیا تھا۔
عبدالعلی کے خلاف توہینِ مذہب کے الزام کی وجہ بننے والی مبینہ ویڈیو ایک چلتی گاڑی میں ریکارڈ کی گئی تھی اور اس کے مواد کی آزادانہ ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔ملزم کے خلاف درج ایف آئی آر کے مطابق گاڑی عبدالعلی خود چلا رہے تھے اور اس دوران گاڑی میں سوار ایک شخص ان سے تحریک انصاف کے ایک رہنما کی گرفتاری پر ان کا ردِعمل پوچھتا ہے۔اس گرفتاری پر شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے وہ کہتے ہیں کہ ’اب لوگوں کو ہر علاقے میں سرکاری اہلکاروں کے خلاف کھڑا ہونا چاہیے اور ان سے پوچھنا چاہیے کہ وہ حالات کو کس جانب لے جا رہے ہیں۔‘ایف آئی آر کے مطابق ملزم نے اسی گفتگو کے دوران مذہبی اعتبار سے ’نازیبا‘ الفاظ کا استعمال کیا تھا۔ویڈیو وائرل ہونے کے بعد بدھ کو لوگوں کی ایک بڑی تعداد کوئٹہ میں جبل نورالقرآن کے قریب مغربی بائی پاس پر جمع ہو گئی تھی۔
لوگوں نے مغربی بائی پاس اور اسپنی روڈ پر ٹائر جلا کر ٹریفک کے لیے بند کر دی تھی اور وہ ملزم کی گرفتاری اور اسے سزا دینے کا مطالبہ بھی کر رہے تھے۔تاہم ملزم کی گرفتاری کے بعد بھی مظاہرین منتشر نہیں ہوئے بلکہ خروٹ آباد پولیس سٹیشن کے باہر جمع ہو گئے تھے اور وہ پولیس سے ملزم کی حوالگی کا مطالبہ کر رہے تھے۔ایس پی صدر پولیس شوکت مہمند کے مطابق ’ہجوم کی جانب سے یہ غیر قانونی مطالبہ کیا جاتا رہا کہ ملزم کو ان کے حوالے کیا جائے۔‘ انھوں نے ہجوم کے مطالبے کو بلاجواز قرار دیتے ہوئے کہا کہ نہ صرف ملزم کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا بلکہ اسے گرفتار بھی کیا گیا۔بدھ کی شام ہجوم کی جانب سے تھانے پر پتھراؤ کیا گیا اور مشتعل افراد نے تھانے کے مرکزی دروازے کو توڑ کر تھانے کی حدود میں داخل ہونے کی بھی کوشش کی تھی جس پر ہجوم کو منتشر کرنے کے لیے پولیس کی جانب سے آنسو گیس کی شیلنگ کی گئی۔مظاہرین کی جانب سے تھانے کا گھیراؤ اور اس پر پتھراؤ کا سلسلہ رات دیر تک جاری رہا اور اسی دوران ملزم کو کینٹ تھانہ منتقل کر دیا گیا تھا۔
سوات، توہین مذہب کیس، پولیس نے قانون ہاتھ میں لینے والے مرکزی ملزم کو گرفتار کر لیا ہے
مدین میں مشتعل افراد کی جانب سے توہین مذہب کے الزام میں ایک شخص کو زندہ جلانے اور تھانے پر حملےکی تحقیقات میں مطلوب اہم ملزم گرفتار کیا ہے، ہوٹل میں ٹھہرے شخص پر توہین مذہب کا الزام لگا کر اسے زندہ جلا دیا گیا تھا اور تھانے کوبھی آگ لگا دی گئی تھی، پولیس نے واقعہ کے دو مقدمے درج کئے تھے، اب پولیس نے مرکزی ملزم کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے.
ڈی پی او سوات زاہد اللہ خان کا کہنا ہے کہ قرآن پاک کی مبینہ بے حرمتی کے الزام میں علاقہ مکینوں نے شہری پر تشدد کیا اور اسے برہنہ کرکے سڑکوں پر گھسیٹا اور جب مدین پولیس نے ملزم کو گرفتار کرکے تھانے منتقل کیا تو مشتعل ہجوم نے تھانے کو بھی آگ لگا دی اور توڑ پھوڑ کی تھی جب کہ مشتعل افراد ملزم کو تھانے سے نکال کر لے گئے تھے، ایس پی انویسٹی گیشن بادشاہ حضرت کا کہنا تھا کہ” مدین واقعہ میں تھانے کو نقصان پہنچا جبکہ کئی گاڑیوں کو بھی جلایا گیا ہے تاہم اب پولیس نے مدین میں جلاؤگھیراؤ ، تھانے پر حملےکی تحقیقات میں مطلوب اہم ملزم کوگرفتار کرلیا ہے جسے سوات کی انسداد دہشتگردی عدالت میں پیش کیا جائےگا”۔
سوات میں ہنگامہ آرائی اور جلاؤ گھیراؤ کے مقدمے میں مزید 10 مشتبہ افرادبھی گرفتار ہیں، مقدمے میں گرفتار 23 میں سے 21 افرادکو آج عدالت میں پیش کیا جائے گا،واقعہ کے 2 مقدمات پولیس کی مدعیت میں درج ہیں، ایک ایف آئی آر مبینہ توہین کے مرتکب شخص کے خلاف جبکہ دوسری حملہ آوروں کے خلاف درج ہے
پولیس کے مطابق گرفتار ہونے والے مرکزی ملزم نے قانون ہاتھ میں لینے کے بعد ویڈیو بیان بھی دیا تھا، ملزم کا ویڈیو بیان سوشل میڈیا پر وائرل ہوا تھا
توہین مذہب کے مبینہ ملزم کو ہم نے عاق کر دیا تھا، والدہ کا بیان
دوسری جانب توہینِ مذہب کرنے پر مشتعل ہجوم کے ہاتھوں مدین(سوات) میں جانبحق ہونے والے سلیمان کا تعلق سیالکوٹ سے ہے اس کی والدہ کا کہنا ہے کے میں نے اپنے بیٹے کو ڈیڑھ برس قبل عاق کر دیا تھا، سلیمان بیرون ملک محنت مزدوری کرتا تھا، – 2022 کو سلیمان جب بیرون ملک سے واپس آیا تو والدہ اور دیگر گھر والوں سے لڑنا، جھگڑنا اس کا معمول تھا، – 2022 میں والدہ اور بھائی کو جان سے مارنے کی کوشش پر والدہ کی مدعیت میں تھانہ سول لائن میں مقدمہ درج ہوا – ڈیڈھ سال قبل ہم نے نا فرمانی اور غلط عادات کی وجہ سے بیٹے کو اخبار میں اشتہار دے کر عاق کر دیا تھا، سلیمان کی والدہ کا کہنا ہے نا فرمان بیٹے کے کسی بھی عمل کے ذمہ دار نہیں ہیں،
سوات واقعہ،وفاقی ادارے کی رپورٹ آ گئی،پولیس حراست میں ملزم نے توہین مذہب سے انکار کیا تھا
علاوہ ازیں سوات میں توہین مذہب کے واقعہ کے حوالہ سے وفاقی ادارے کی رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ پولیس کی جانب سے ملزم کو تھانے منتقل کرنا غلطی تھی، ایس ایچ او نے حکام سے رہنمائی حاصل نہیں کی، نہ ہی ملزم کو محفوظ مقام پر منتقل کیا۔ ہجوم کے وقت اعلیٰ پولیس افسران یا سیاسی رہنماؤں کی غیر موجودگی بھی نقصان کا باعث بنی،پولیس کی حراست میں ملزم نے توہین مذہب سے انکار کیا تھا، پولیس اور ہجوم کے درمیان تصادم میں پانچ پولیس اہلکاروں سمیت 16 افراد زخمی ہوئے تھے،جلاؤ گھیراؤ کے دوران تھانہ میں پولیس وین، 2 موٹر سائیکلیں اور 5 گاڑیاں بھی جلائی گئیں واقعے میں ڈی ایس پی آفس اور ایس ایچ او کوارٹر کو بھی نقصان پہنچا۔
سوات کے علاقے مدین میں توہین مذہب کے الزام میں ایک شخص کے قتل اور پولیس اسٹیشن جلانے کے واقعات کا مقدمہ درج کر لیا گیا ہے
پولیس نے توہین مذہب کا الگ مقدمہ بھی درج کیا ہے،پولیس حکام کے مطابق دومقدمے درج کر کے تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے،
واضح رہے کہ سوات میں توہین مذہب کے الزام پر علاقہ مکینوں نے شہری کو آگ لگادی۔مدین کے علاقے میں لوگوں نے مبینہ ملزم کو تشدد کانشانہ بنایا۔ پولیس نے ملزم کو گرفتار کیا تو لوگوں نے تھانےکو بھی آگ لگادی اور ملزم کو تھانے سے نکال کر اسے جلا ڈالا۔پولیس کے اعلیٰ حکام کا کہنا ہے کہ تشدد اور جلائے جانے کے باعث ملزم ہلاک ہوگیا جبکہ مشتعل مظاہرین کے حملے میں 8 پولیس اہلکار زخمی ہوئے۔
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور نے مدین سوات میں پیش آنے والے ناخوشگوار واقعے کا نوٹس لے لیا ہے۔وزیراعلیٰ نے انسپکٹر جنرل پولیس سے ٹیلیفونک رابطہ کرکے واقعے کی رپورٹ طلب کرلی اور صورتحال کو کنٹرول کرنے کےلیے ہنگامی اقدامات کی ہدایت کی تھی،
سوات واقعہ پر مذہبی و سیاسی رہنماؤں کا کہنا تھا کہ قانون ہاتھ میں کسی کو نہیں لینا چاہئے، اگر کسی نے جرم کیا ہے تو اسکے خلاف قانونی کاروائی ہونی چاہئے.
سوات واقعہ،ہم دین کا نام استعمال کر کے اسلام، قانون، آئین ،ریاست کو پیروں تلے روندتے ہیں، احسن اقبال
وفاقی وزیر، ن لیگی رہنما احسن اقبال نے ایوان میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ اس ایوان کو سوات واقعہ کا نوٹس لینا چاہیے کیونکہ ہمارا معاشرہ ایک ایسی تباہی کے کنارے پہنچ چکا ہے جہاں پر سٹریٹ جسٹس،جتھہ کلچرکے ذریعے ہم دین کے نام کو استعمال کر کے قانون اور ریاست کے تمام بنیادی اصولوں کواپنے پیروں تلے روند رہے ہیں، آج پوری دنیا میں پاکستان کی جگ ہنسائی ہو رہی ہے، ہمارا ہمسایہ ملک بھی ہمارا مذاق اڑا رہا ہے، ان واقعات کا ایک تسلسل ہے، سیالکوٹ، جڑانوالہ، سرگودھا میں اسی قسم کے واقعات ہوئے، میں ذاتی مثال دینا چاہتا ہوںمجھے اللہ نے زندگی دی،جب ایک جنونی نے حملہ کیا، گولی آج بھی میرے جسم میں موجود ہے، معاشرہ تباہی کے کنارے پر پہنچا،ہم دین کا نام استعمال کر کے اسلام، قانون، آئین ،ریاست کو پیروں تلے روندتے ہیں، اسلام تو کافر کی لاش کی حرمت کا بھی حکم دیتا ہے،یہاں دیکھیں لوگوں کو زندہ مار کر لاشوں کو جلا کر کس طرح دنیا کے سامنے پیش کر رہے ہیں،جنگ میں بھی ایسا نہیں ہوتا، ہم نے نوٹس نہ لیا تو یہ انارکی ہمیں جلا دے دی، ہم کہاں کھڑے ہیں، اسرائیل نے ظلم کا بازار گرم کر رکھا لیکن ہم بے بس ہیں،ہم دین کو استعمال کر رہے ہیں، علما کرام کا فرض ہے کہ اس کا نوٹس لیں، اس ایوان کی ایک خصوصی کمیٹی بنائی جائے جو واقعات کے محرکات کا جائزہ لے کر ایک لائحہ عمل دے.
توہین مذہب کے مبینہ ملزم کو ہم نے عاق کر دیا تھا، والدہ کا بیان
دوسری جانب توہینِ مذہب کرنے پر مشتعل ہجوم کے ہاتھوں مدین(سوات) میں جانبحق ہونے والے سلیمان کا تعلق سیالکوٹ سے ہے اس کی والدہ کا کہنا ہے کے میں نے اپنے بیٹے کو ڈیڑھ برس قبل عاق کر دیا تھا، سلیمان بیرون ملک محنت مزدوری کرتا تھا، – 2022 کو سلیمان جب بیرون ملک سے واپس آیا تو والدہ اور دیگر گھر والوں سے لڑنا، جھگڑنا اس کا معمول تھا، – 2022 میں والدہ اور بھائی کو جان سے مارنے کی کوشش پر والدہ کی مدعیت میں تھانہ سول لائن میں مقدمہ درج ہوا – ڈیڈھ سال قبل ہم نے نا فرمانی اور غلط عادات کی وجہ سے بیٹے کو اخبار میں اشتہار دے کر عاق کر دیا تھا، سلیمان کی والدہ کا کہنا ہے نا فرمان بیٹے کے کسی بھی عمل کے ذمہ دار نہیں ہیں،
سوات واقعہ،وفاقی ادارے کی رپورٹ آ گئی،پولیس حراست میں ملزم نے توہین مذہب سے انکار کیا تھا
علاوہ ازیں سوات میں توہین مذہب کے واقعہ کے حوالہ سے وفاقی ادارے کی رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ پولیس کی جانب سے ملزم کو تھانے منتقل کرنا غلطی تھی، ایس ایچ او نے حکام سے رہنمائی حاصل نہیں کی، نہ ہی ملزم کو محفوظ مقام پر منتقل کیا۔ ہجوم کے وقت اعلیٰ پولیس افسران یا سیاسی رہنماؤں کی غیر موجودگی بھی نقصان کا باعث بنی،پولیس کی حراست میں ملزم نے توہین مذہب سے انکار کیا تھا، پولیس اور ہجوم کے درمیان تصادم میں پانچ پولیس اہلکاروں سمیت 16 افراد زخمی ہوئے تھے،جلاؤ گھیراؤ کے دوران تھانہ میں پولیس وین، 2 موٹر سائیکلیں اور 5 گاڑیاں بھی جلائی گئیں واقعے میں ڈی ایس پی آفس اور ایس ایچ او کوارٹر کو بھی نقصان پہنچا۔
سرگودھا کی مجاہد کالونی میں مبینہ طور پر قرآن پاک کی بیحرمتی پر حالات کشیدہ ہو گئے،شہریوں نے اقلیتی برادری سے تعلق رکھنے والے افراد کے گھر اور فیکٹری جلا دی
مجاہد کالونی میں سلطان نامی شخص کے گھر کی دیوار کے پاس بوسیدہ قرآن مجید کے اوراق کا باکس نصب تھا،شہریوں کا کہنا ہے کہ سلطان کے والد نوید مسیح نے اس باکس سے قرآن مجید کے بوسیدہ اوراق نکالے اور انکو گلی میں رکھ کر مبینہ طور پر آگ لگادی عوام نے جب یہ دیکھا تو اشتعال میں آ گئے اور سلطان کے گھر کا رخ کر لیا، گھر میں توڑ پھوڑ کی، آگ لگائی،مشتعل عوام نے سلطان کی جوتوں کی فیکٹری کو بھی آگ لگا دی، پولیس کو 15 پر اطلاع دی گئی اور پولیس کے اعلیٰ حکام موقع پر پہنچ گئے
مشتعل افراد نے گھر میں بنے جوتوں کے کارخانے کو بھی جلا دیا
پولیس کے پہنچنے سے قبل عوام نے سلطان کے والد نوید کو بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنایا، پولیس نے نوید کو زخمی حالت میں ایمبولینس میں نوید کومشتعل ہجوم سے نکالا اور ہسپتال منتقل کر دیا، اس موقع پر مشتعل ہجوم کی طرف سے ایمبولینس پر بھی پتھراؤ کیا گیا،سرگودھا کے آر پی او ، ڈی پی او ، ڈپٹی کمشنر سمیت تمام اعلی حکام موقع پر موجود ہیں اور حالات ابھی تک کشیدہ ہیں،مشتعل افراد نے گھر میں بنے جوتوں کے کارخانے کو بھی جلا دیا،آر پی او شارق کمال صدیقی کا کہنا ہے کہ واقعے میں ملوث ملزمان کو حراست میں لے لیا گیا ہے، واقعےکی تفتیش کی جارہی ہے، امن و امان خراب کرنے والوں سے سختی سے نمٹا جائے گا
واقعہ پر سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ایکصارف ،سوشل میڈیا ایکٹوسٹ سید عدنان بادشاہ کہتے ہیں کہ سرگودھا مجاہد کالونی میں قرآن پاک کی مبینہ بےحر متی پر مسیحی بستی میں حالات کشیدہ ۔۔۔ خدا کے لئے اسلام کو بدنام نہ کریں، اگر خدا نہ خواستہ ایسا کوئی واقعہ ہوا بھی ہے تو ملزمان کو قانون کے حوالہ کریں۔ خود عدالت لگا کر فیصلے نہ کریں، اسلام ہمیں عدالت لگانے کا حکم نہیں دیتا ۔ بلکہ ایسے واقعات کی مکمل چھان بین کے بعد سزا کی اجازت صرف عدالت کو دیتا ہے۔
سرگودھا مجاہد کالونی میں قرآن پاک کی مبینہ بےحر متی پر مسیحی بستی میں حالات کشیدہ ۔۔۔ خدا کے لئے اسلام کو بدنام نہ کریں، اگر خدا نہ خواستہ ایسا کوئی واقعہ ہوا بھی ہے تو ملزمان کو قانون کے حوالہ کریں۔ خود عدالت لگا کر فیصلے نہ کریں، اسلام ہمیں عدالت لگانے کا حکم نہیں دیتا ۔ بلکہ… pic.twitter.com/yFPzJj8KYu
سرگودھا کی مسیحی برادری کا موقف سامنے آیا ہے،مسیحی برادری کا کہنا ہے کہ جڑانوالہ واقعہ کے ملزموں کو سزا مل جاتی تو آج یہ واقعہ نہ ہوتا، جس نے الزام لگایا اسکو فوری پکڑا جائے، مسیحی خاندان جو کہ امیر تھا تو ان کے کاروبار کو ختم کرنے کے لیے قرآن شریف کی توہین کا الزام لگایا گیا کر مسیحی خاندان کے جوتے کے کارخانے کو جلا دیا گیا ،ایسے واقعات کی روک تھام کے لئے سنجیدگی سے سوچنے کی ضرورت ہے، ہم چیف جسٹس ،آرمی چیف سے مطالبہ کرتے ہیں کہ ہمیں انصاف دلائیں جولوگ بھی ملوث ہیں انکو کٹہرے میں کھڑا کیا جائے،
سرگودھا میں قرآن پاک کی مبینہ بے حرمتی کے بعد ہنگامہ آرائی، وزیراعلیٰ کا نوٹس
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے سرگودھا کے علاقے گِل والا مجاہد کالونی میں مبینہ طور پر قرآن پاک کی بے حرمتی کا سخت نوٹس لے لیا، وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے آئی جی پنجاب کو فوری طور پر سرگودھا پہنچنے کی ہدایت کر دی، ریجنل پولیس افسر (آر پی او) شارق کمال صدیقی امن کمیٹی کے ہمراہ مجاہد کالونی میں موجود ہیں۔ایچ آر سی پی نے مجاہد کالونی کی صورتِ حال پر تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ پنجاب پولیس اور ضلعی انتظامیہ امن کی بحالی، مسیحی آبادی کے تحفظ اور ملزمان کے خلاف کارروائی کرے،
پتھراؤ کرنے والے افراد کو حراست میں لیا گیا ہے، پولیس
پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ تین سے چار گھنٹوں کی مسلسل کوششوں کے بعد صورتِ حال پر قابو پالیا ہے جب کہ متعدد مظاہرین کو حراست میں لے لیا ہے،سرگودھا کے ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر ڈاکٹر اسد اعجاز کے مطابق مختلف اطراف سے پتھراؤ کرنے والے افراد کو حراست میں لے گیا ہے اور علاقے میں سرچ آپریشن جاری ہے،اس وقت صورتِ حال قابو میں ہے۔ اشتعال پھیلانے والوں کو سی سی ٹی وی فوٹیج کی مدد سے شناخت کے بعد گرفتار کیا جائے گا۔
نگران وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ نے جڑانوالہ واقعہ کا نوٹس لیا ہے
نگران وزیراعظم انوارالحق کاکڑ کا کہنا ہے کہ فیصل آباد سے موصول ہونے والی خبروں پر دل انتہائی رنجیدہ ہے، اقلیتوں کو نشانہ بنانے والوں کے خلاف سخت کاروائی کی جائے گی،ان واقعات میں ملوث شرپسند عناصر کو گرفتار کرکے انہیں قرار واقعی سزا دی جائے، حکومتِ پاکستان اپنی اقلیتوں سے شانہ بشانہ کھڑی ہے،
I am gutted by the visuals coming out of Jaranwala,#Faisalabad. Stern action would be taken against those who violate law and target minorities. All law enforcement has been asked to apprehend culprits and bring them to justice. Rest assured that the government of Pakistan stands… https://t.co/GHWUGA1NNq
پنجاب کے شہر جڑانوالہ میں افسوسناک واقعہ پیش آیا ہے، جڑانوالہ میں مبینہ طور پر قرآن پاک کی بے حرمتی کے بعد مشتعل افراد نے چرچ کو آگ لگا دی، چرچ کی عمارت سے صلیب اتار کر پھینک دی،
جڑانوالہ کرسچن بستی میں قرآن پاک کے اوراق کی بے حرمتی پر عوام سراپا احتجاج ہیں، عوام نے سینما چوک روڈ کو بلاک کر دیا ۔عوام میں غم وغصہ کی لہر، عوام سڑکوں پر نکل آئی۔ مبینہ طور پر اوراق کی بے حرمتی کرنے والوں میں مسیحی برادری کے دو افراد شامل ہیں ۔ایس پی بلال سلہری کی طرف سے پولیس کی بھاری نفری کے ہمراہ موقع پر پہنچ گئے۔ شہر بھر میں ہنگاموں کو روکنے کے لئے سیکورٹی کو ہائی الرٹ کر دیا گیا۔
ایس پی بلال سلہری پولیس کی بھاری نفری کے ساتھ موقع پر پہنچ گئے پولیس نے بستی عیسائوں کے تمام راستوں کو بلاک کر دیا ہے – بستی عیسائیوں کے راستوں کے باہر لوگ سخت نعرے بازی کر رہے ہیں۔سینما چوک میں ایس پی بلال سلہری نے مفتی محمد یونس رضوی کے ساتھ لوگوں کے ہجوم سے خطاب کرتے ہوئے پر امن رہنے کی اپیل کی انہوں نے یقین دلایا کہ ایک گھنٹہ کے اندر اندر ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کر لیا جائے گا اور ملزمان کی گرفتاری کے لئے ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں مگر لوگوں کی شدید نعرے بازی جاری ہے انہوں نے اس واقعہ میں ملوث ملزم کو پھانسی دینے کا مطالبہ کیا ہے
پولیس نے واقعہ کا مقدمہ درج کر لیا ہے، مشتعل مظاہرین نے چرچ کو آگ لگا دی ہے،پولیس نے توہینِ مذہب کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کر لیا,درج مقدمہ میں کہا گیا ہے کہ محمد افضل، نورحسین، محمد توحید نے بتایا کہ راجہ عامر، راکی مسیح،نے قرآن پاک کی بے حرمتی کی،مسلمانوں کے خلاف توہین آمیز باتیں کیں
مشتعل افراد نے اسسٹنٹ کمشنر کے دفتر میں بھی توڑ پھوڑ کی۔ علاقے میں آباد مسیحی برادری کے افراد گھر بار چھوڑ کر چلے گئے ہیں۔
تحصیل جڑانوالہ میں امن وامان کی صورتحال کے پیش نظر رینجر طلب کرلی گئی ہے،اسسٹنٹ کمشنر نے ایڈیشنل سیکریٹری انٹرنل سکیورٹی کو خط میں لکھا ہے کہ پولیس کی کوششوں کے باوجود امن و امان کی نازک اور مخدوش ہے۔ رینجر کی دو کمپنیاں کچھ دیر میں جڑانوالہ پہنچ رہی ہیں۔
ایس ایچ او تھانہ سٹی نے اعلیٰ حکام کو رپورٹ ارسال کی جس میں کہا گیا ہے کہ راجہ ولد سلیم اور راکی ولد سلیم نے گستاخی کی، مقدمہ درج کر لیا گیا ہے، یہ لوگ گھر سے چلے گئے ہیں گرفتاری کے لئے ٹیمیں تشکیل دے دی گئی ہیں
جڑانوالہ میں توہین قرآن کے الزام میں چرچ کو لُوٹ کر بائبلوں کو ایک جگہ جمع کر کہ آگ لگا دی گئی
اینکر عاصمہ شیرازی کہتی ہیں کہ پاکستان میں اقلیتوں کے خلاف واقعات بڑھتے نظر آتے ہیں جن کی روک تھام کے لئے ریاست کو اقدامات کرنا ہوں گے۔اس وقت بھی جڑانوالہ میں اس وقت حالات کشیدہ ہونے کی اطلاعات ہیں انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے ادارے فوری حرکت میں اور مسیحی برادری کو تحفظ فراہم کریں۔
پاکستان میں اقلیتوں کے خلاف واقعات بڑھتے نظر آتے ہیں جن کی روک تھام کے لئے ریاست کو اقدامات کرنا ہوں گے۔اس وقت بھی جڑانوالہ میں اس وقت حالات کشیدہ ہونے کی اطلاعات ہیں انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے ادارے فوری حرکت میں اور مسیحی برادری کو تحفظ فراہم کریں۔۔۔
جڑانوالہ میں جو کچھ ہوا، افسوسناک،مجرموں کے خلاف کارروائی کی جائے۔شہباز شریف
ن لیگ کے صدر ، سابق وزیراعظم شہباز شریف نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ جڑانوالہ میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ افسوسناک اور پریشان کن ہے۔ کسی بھی مذہب میں تشدد کی کوئی جگہ نہیں۔ تمام مذہبی مقامات، کتابیں اور شخصیات مقدس ہیں اور ہمارے اعلیٰ ترین احترام کے مستحق ہیں۔ میں حکومت سے مطالبہ کرتا ہوں کہ مجرموں کے خلاف کارروائی کی جائے۔ میں تمام مکاتب فکر کے علمائے کرام، مشائخ اور مذہبی سکالرز سے بھی اپیل کرتا ہوں کہ وہ آگے آئیں اور قابل مذمت اقدامات کی مذمت کریں۔ ایسے پاگل پن کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ پاکستان تمام مذہبی اقلیتوں کا ہے۔
What is happening in Jaranwala is sad and disturbing. There is no place for violence in any religion. All religious places, Books and personages are sacred and deserve our highest level of respect. I urge the government to take action against the culprits. I also appeal to Ulama,…
9 مئی کے مجرموں کو سزا مل گئی ہوتی تو جڑانوالہ جیسے سانحے نہ ہوتے ،مریم اورنگزیب
سابق وفاقی وزیر، ن لیگ کی ترجمان مریم اورنگزیب نے جڑانوالہ میں چرچ بے حرمتی، مسیحیوں کے گھر جلانے کے واقعے کی شدید مذمت کی اور ملوث افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا، اور کہا کہ پوری قوم کے لئے یہ واقعہ باعث افسوس، قابل مذمت اور باعث ندامت ہے پنجاب حکومت واقعے کا فوری نوٹس لے کر قانون ہاتھ میں لینے والوں کو قانون کی گرفت میں لائے مقامی آبادی کو تحفظ دیاجائے، جلائے جانے والے چرچ اور گھروں کی بحالی یقینی بنائی جائے ،قیام پاکستان اور دفاع پاکستان میں مسیحی برادری نے اہم کردار ادا کیا، قومی پرچم میں سفید رنگ اقلیتوں کی نمائندگی کرتا ہے سانحہ 9 مئی کے مجرموں، منصوبہ سازوں اور سہولت کاروں کو سزا مل گئی ہوتی تو جڑانوالہ جیسے سانحے نہ ہوتے ،9 مئی کو مساجد، سکول، ایمبولینسز، جناح ہاؤس سمیت سرکاری عمارتوں کو جلایا گیا، شہدا، قومی یادگاروں کی بے حرمتی کی گئی جس ملک میں 9 مئی جیسے سیاہ واقعات کرنے والوں کی پزیرائی کی جائے، ان کے مجرمانہ فعل کی تاویلیں گھڑی جائیں اور خیرمقدمی جملے کہے جائیں، وہاں شرپسندوں اور فسادیوں کا بے قابو ہونا فطری ہے آج ملک میں نفرتوں کی آگ بھڑکانے اور لگوانے والے کردار عمران خان کے لئے سوچنے کا دن ہے کہ اس نے معاشرے میں جو زہر گھولا تھا، وہ کیا تباہی لا رہا ہے بطور مسلمان اور پاکستانی مسیحی برادری سے معذرت اور یک جہتی کا اظہار کرتے ہیں یہ واقعات قومی ندامت اور شرمندگی کا باعث بنتے ہیں، عالمی سطح پر پاکستان کے امیج کو داغدار کرتے ہیں کسی شہری کے کسی حق یا کسی قانون کی خلاف ورزی ہو تو قانون کا راستہ اپنانا لازم ہوتا ہے ہر کوئی قانون ہاتھ میں لے گا تو معاشرہ جنگل بن جائے گا جڑانوالہ اور 9 مئی کے واقعات پورے معاشرے کے لئے لمحہ فکریہ ہیں
جڑانوالہ ، قیام امن کے لئے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں،بلاول
پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے فیصل آباد کی تحصیل جڑانوالہ میں قیام امن کی ناقص صورت حال پر اظہار تشویش کیا ہے اور کہا ہے کہ جڑانوالہ میں مذہبی کشیدگی پر قابو پانے اور قیام امن کے لئے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں، پاکستان پیپلزپارٹی مذہبی ہم آہنگی اور تمام عقیدوں سے تعلق رکھنے والے افراد کے تحفظ کی علمبردار ہے، جڑانوالہ سے موصول ہونے والی اشتعال سے متعلق خبریں پریشان کُن ہیں، انتظامیہ جڑانوالہ میں امن و امان کی صورت حال کو برقرار رکھنے کے لئے مؤثر کردار ادا کرے،
فیصل آباد جڑانوالہ واقعہ کی FIR درج کر لی گی
تحریک انصاف کا جڑانوالہ میں پیش آنے والے واقعات پر نہایت تشویش اور افسوس کا اظہار
جڑانوالہ میں مسیحی عبادت گاہ پر حملے اورعلاقے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تدارک کا معاملہ ، تحریک انصاف کی جانب سے جڑانوالہ میں پیش آنے والے واقعات پر نہایت تشویش اور افسوس کا اظہار کیا گیا ہے، ترجمان تحریک انصاف کا کہنا ہے کہ نہایت حساس نوعیت کے معاملے پر ریاستی و حکومتی مشینری کی مجرمانہ ناکامی قابلِ مذمت ہے،رنگ ، نسل، جنس، مذہب کے امتیاز کے بغیر شہریوں کے جان و مال کی سلامتی کا تحفظ ریاست کا بنیادی فریضہ ہے،اسلام امن و آشتی کا دین، دستور اقلیتوں کے حقوق اور مذہبی آزادیوں کا ضامن ہے،تخلیقِ پاکستان سے تعمیرِ پاکستان تک کے ہر مرحلے میں ہماری اقلیتوں نے نہایت گراں قدر خدمات سر انجام دی ہیں،ریاستی مشینری کی جانب سے دستور سے انحراف شہریوں کے مابین لاقانونیت اور نظامِ عدل کی بےتوقیری کی صورت میں ظاہر ہو رہاہے،پنجاب کی نالائق اور نااہل حکومت جڑانوالہ میں پیش آنے والے واقعات کی تمام پہلوؤں سے تحقیق کرے اور پُر تشدد کارروائیوں کے ذمہ دار عناصر کے خلاف قانون کو حرکت میں لائے-
حرمت قرآن ہمارا ایمان ہے اور اقلیتوں کا تحفظ ہمارا مذہبی اور اخلاقی فریضہ ہے، خالد مسعود سندھو
پاکستان مرکزی مسلم لیگ کے صدر خالد مسعود سندھو نے جڑانوالہ واقعہ پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ حساس معاملات میں اشتعال کو کم کرنے کی ضرورت ہے. قانون ہاتھ میں لینے کی کسی کو اجازت نہیں ہونی چاہیے. واقعہ کی شفاف تحقیقات کی جائیں. حرمت قرآن ہمارا ایمان ہے اور اقلیتوں کا تحفظ ہمارا مذہبی اور اخلاقی فریضہ ہے۔ قانون نافذ کرنے والے ادارے حقائق قوم کے سامنے رکھیں، قرآن کی بے حرمتی کے ملزمان کو گرفتار کیا جائے. اسی طرح, مشتعل افراد کا مسیحی برادری کے گھروں اور چرچ پر حملہ اسلام کی تعلیمات،پاکستان کا دستور اور قانون اس کی قطعی اجازت نہیں دیتا۔ ہم اس واقعہ کی شدید مذمت کرتے ہیں۔
کسی شخص یا ہجوم کو قانون ہاتھ میں لے کر خود ساختہ اقدامات کا اختیار نہیں دیا جاسکتا۔ ایسے تمام عناصر کو بھی قانون کے کٹہرے میں لایا جائے.
حکومت اور پولیس عوام کی جان و مال کی حفاظت کو یقینی بنائے۔ قرآن مجید اور دیگر مزاہب کی مقدس کتب، عبادت گاہوں اور تمام شہریوں کی سلامتی اور تحفظ ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے. اس واقعہ میں ملوث عناصر کو فوری گرفتار کیا جائے اور ریاست اس واقعے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کو یقینی بنائے اور زمہ اداران کو قرار واقعی سزا دی جائے
سپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف کا جڑانوالہ میں پیش آنے والے واقعات پر اظہار افسوس
سپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف کا کہنا ہے کہ
قانون نافذ کرنے والے ادارے ان واقعات کے پیچھے اصل محرکات کو سامنے لائیں،یہ واقعات پاکستان کے خلاف سازش بھی ہو سکتے ہیں، پاکستان میں اقلیتوں کو مکمل مذہبی آزادی حاصل ہے،قرآن پاک کی بے حرمتی میں ملوث عناصر کو قانون کے مطابق کٹہرے میں لایا جائے، تشدد، توڑ پھوڑ اور جلاو گھیراو کے واقعات انتہائی افسوس ناک ہیں، کسی بھی مذہب کی عبادت گاہ پر حملہ انتہائی شرمناک اور اسلامی تعلیمات کے منافی ہے
لاہور ہائیکورٹ نے ایک شخص کے خلاف توہین مذہب کا مقدمہ خارج کرنے کا تفصیلی فیصلہ جاری کر دیا
لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس طارق سلیم شیخ نے میانوالی کے تھامے میں درج توہین مذہب کا مقدمہ خارج کرنے کا تحریری فیصلہ جاری کرتے ہوئے کہا کہ ایک شخص کو اس کے خوابوں کے لیے سزا نہیں دی جا سکتی ،عدالت نے تحریری فیصلے میں لکھا کہ پولیس افسر کو تفتیش کرتے وقت ملزم کی ذہنی حالت کے درست ہونے کا تعین کر لینا چاہیے ذہنی حالت پر شک کی صورت میں پولیس کو مجاز فورم سے نفسیاتی تشخیص کرانی چاہیے
عدالت نے رجسٹرار لاہور ہائیکورٹ کو فیصلے کی روشنی میں اقدامات کے لیے کاپی آئی جی پنجاب کو بھجوانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ اکثر ہوتا ہے کہ گستاخی کے ملزمان کی ذہنی حالت ٹھیک نہیں ہوتی ایک شخص ہر رات کئی خواب دیکھ سکتا ہے جس پر اس کا اختیار نہیں ہوتا ایک شخص کو اس کے خوابوں کے لیے سزا نہیں دی جا سکتی پاکستان میں قانون ذہنی بیمار افراد کو تحفظ فراہم کرتا ہے ذہنی بیمار افراد کو سزا سے بچانا چاہیے اور ان کا علاج ہونا چاہیے کسی ایسے شخص کا ٹرائل نہیں کیا جا سکتا جو فاتر العقل ہو اور اپنا دفاع نہ کر سکے
سینئر صحافی وقار ستی کیخلاف توہین مذہب کا مقدمہ خارج کر دیا گیا
راولپنڈی پولیس نے سینئر صحافی وقار ستی کیخلاف توہین مذہب کی ایف آئی آر خارج کر دی ہے، مقدمہ اخراج رپورٹ ہفتے کے اندر علاقہ مجسٹریٹ کے پاس جمع کرائے گی، جسٹس چودھری عبدالعزیز کی عدالت میں ایس ایس پی انویسٹی گیشن عامر خان نیازی نے یقین دہانی کروائی جس کے بعد عدالت نے وقار ستی کی اپیل نمٹا دی، ممتاز قانون دان ملک غلام مصطفیٰ کندوال نے کیس کی پیروی کی،
مقدمہ ختم ہونے کے بعد وقار ستی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کی اور لکھا "الحمدللہ”
ایک اور ٹویٹ میں وقار ستی کا کہنا تھا کہ بہت بہت شکریہ ملک صاحب۔آپ کی شفقت ، رہنمائی اور حوصلہ افزائی کبھی فراموش نہیں کی جاسکتی۔ اللہ پاک آپ کی صحت،عمر اور رزق میں بے پناہ اضافہ فرمائے۔ آمین۔ آپ مظلوموں کی آواز اور جابرحکمرانوں کے لیے ننگی تلوار ہیں۔ ہمیشہ خوش رہیں ۔
بہت بہت شکریہ ملک صاحب۔آپ کی شفقت ، رہنمائی اور حوصلہ افزائی کبھی فراموش نہیں کی جاسکتی۔ اللہ پاک آپ کی صحت،عمر اور رزق میں بے پناہ اضافہ فرمائے۔ آمین۔ آپ مظلوموں کی آواز اور جابرحکمرانوں کے لیے ننگی تلوار ہیں۔ ہمیشہ خوش رہیں ۔ https://t.co/82YGNwIxbx
واضح رہے کہ وقار ستی کے خلاف مقدمہ آر اے بازار تھانہ میں کیبل آپریٹر چوہدری ناصر قیوم کی مدعیت میں درج کیا گیا تھا، درج مقدمہ میں کہا گیا ہے کہ وقار ستی نے سابق وزیراعظم عمران خان کے خلاف کئی باتیں کی ہیں جن کا عمران خان کے خطاب سے کوئی تعلق نہیں ہے عمران خان سے منسوب وقار ستی کی باتیں حقائق کے منافی ہیں اور ان کی باتوں سے میرے مذہبی جذبات کو شدید ٹھیس پہنچی ہے.
صحافیوں کی جانب سے وقار ستی کے خلاف مقدمہ کے اندراج کی مزمت کی گئی ہے ،وقار ستی کے خلاف سوشل میڈیا پر پی ٹی آئی کے سوشل میڈیا ایکٹوسٹ نے ٹرینڈ بھی چلایا تا ہم پاکستان بھر کے صحافیوں نے وقار ستی کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا اور انکے خلاف مہم اور اندراج مقدمہ کی مذمت کی گئی،