Baaghi TV

Tag: توہین مذہب

  • مدرسے کی طالبات نے خاتون معلمہ کو گلی میں مبینہ طور پر ذبح کر دیا

    مدرسے کی طالبات نے خاتون معلمہ کو گلی میں مبینہ طور پر ذبح کر دیا

    مدرسے کی طالبات نے خاتون معلمہ کو گلی میں مبینہ طور پر ذبح کر دیا

    ذاتی لڑائی یا توہین مذہب کا الزام،مدرسے کی تین طالبات نے معلمہ کو مبینہ طور پر ذبح کر دیا

    واقعہ ڈیرہ اسماعیل خان میں پیش آیا ہے،انجم آباد کی جامعہ اسلامیہ فلاح البنات کی 3 طالبات نے مبینہ طور پر ٹیچر عالمہ کو مدرسہ کے سامنے گلی میں ذبح کر دیا۔ مقتولہ کہ عمر 21 سال اور تعلق جنوبی وزیرستان سے تھا، پولیس نے تینوں ملزمان لڑکیوں کو گرفتار کر لیا ہے

    مدرسے کی معلمہ مقتولہ کے چچا کی پولیس کو دی گئی درخواست باغی ٹی وی کو موصول ہوئی ہے، اس درخوااست میں مقتولہ کے چچا نے بتایا کہ جس مدرسے میں ان کی بھیتجی پڑھاتی تھیں وہاں کے مہتمم نے صبح ان کے گھر پر فون کیا اور بتایا کہ مدرسے کے گیٹ پر ان کی بھتیجی پر قاتلانہ حملہ ہوا جس کے بعد وہ شدید زخمی حالت میں گلی میں ہی پڑی ہیں اس اطلاع پر میں فوراً مدرسے پہنچا تو بھتیجی کو مدرسے کے گیٹ کے ساتھ خون میں لت پت پایا اس کا گلہ کٹا ہوا تھا اور اس کی موت ہو چکی تھی ان کو معلوم ہوا کہ حسب معمول جب ان کی بھتیجی رکشے پر مدرسے پہنچی تو وہاں پہلے سے ہی مدرسے کے یونیفارم میں چند خواتین موجود تھیں جنھوں نے مبینہ طور پر تیز دھار آلے سے حملہ کیا اور ان کی بھتیجی کا گلہ کاٹ دیا ان کے مطابق اس واقعے کے عینی شاہدین میں محلے والے بھی شامل تتھے پولیس کی رپورٹ کے مطابق مقتولہ کے چچا نے کہا ہے کہ ان کو اس بات کا علم نہیں کہ ان کی بھتیجی اور ملزمان میں عداوت کس بات پر تھی

    پولیس کے مطابق تینوں طالبات نے ذاتی رنجش کی بنیاد پر قتل کیا تا ہم واقعہ کی تحقیقات جاری ہیں، یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ معلمہ پر توہین مذہب کا الزام لگایا گیا تھا ،پولیس نے آلہ قتل چاقو، چھری اور ڈنڈہ بھی برآمد کر لیا ہے، عینی شاہد کا کہنا ہے کہ تین برقع پوش طالبات نے گلی میں خاتون معلمہ کو روکا، اسکے بال کھینچے اور اس پر چھریوں سے حملہ کیا، ڈنڈے مارے

    مقامی لوگوں نے بتایا جب دینی معلمہ کوقتل کیا جا رہا تھا تو لوگ تماشا دیکھ رہے تھے وار کرنے والی خواتین مسلسل نعرہ تکبیر لگا رہی تھیں ، جبکہ معلمہ مدد کے لئے چیخ و پکار کر رہی تھی تا ہم کوئی بھی اسکی مدد کو نہ گیا، ایک عینی شاہد کا کہنا تھا کہ ملزمہ طالبات اپنی معلمہ کی چادر اور برقع بھی ساتھ لے گئیں، ایک بار وہ قتل کر کے چلی گئیں دوبارہ پھر اسکے جسم کے ٹکڑے کرنے آئیں تا ہم پھر واپس چلی گئیں ،ان ملزمان طالبات کے برقعے خون میں لت پت ہو چکے تھے

    میڈیا رپورٹس کے مطابق قاتلانہ حملہ چھری سے کیا گیا اور معلمہ کو ذبح کیا گیا، ،عینی شاہد کا کہنا تھا کہ میں نے شور سنا تو بھاگ کر باہر آیا کہ کیوں شور کر رہے ہو، باہر دیکھا تو لڑکی زمین پر خون پر لت پت ہے اور اسکا گلہ کاٹا جا رہا ہے ، ایمبولینس کو اور پولیس نے میں نے بلایا، مجھے پولیس کا نمبر پتہ نہیں تھا نمبر کسی سے لیا، ایمبولینس پہلے پہنچی اور پولیس بعد میں پہنچی، میں نے پھر مدرسے کا دروزاہ بجایا اور کہا کہ آپ میں سے کوئی جانتا ہے اسکو تو مدرسے کی ایک بچی آئی اور کہا کہ یہ تو ہماری استانی ہے،ہم نے پھر مدرسے کو چھٹی کروا دی، طالبات کو گھر بھیج دیا، مدرسے کے مالک کو بلایا گیا، رکشے والا جو معلمہ کو لے کر آیا تھا اس نے معلمہ کے گھر فون کر دیا تھا، جب میں یہاں پہنچا تو لڑکیاں گلہ کاٹ کر جا رہی تھیں،

    مدرسے کے مہتمم کا کہنا تھا کہ ہماری استانی شہید ہوئی وہ دو سال سے ہمارے مدرسے میں تھی،قرآن پاک پڑھاتی تھیں،

    دوسری جانب وفاق المدارس نے واقعہ کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کر دیا ہے ،کہا جا رہا ہے کہ یہ مدرسہ جے یو آئی کے زیر انتظام تھا،

    وزیراعظم کے خلاف توہین مذہب کی بنیاد پر نااہلی کی درخواست، عدالت نے سنایا بڑا فیصلہ

    پابندی کے بعد مذہبی جماعت کیخلاف سپریم کورٹ میں کب ہو گا ریفرنس دائر؟

    ن لیگ نے گرفتار مذہبی جماعت کے سربراہ کو اہم پیغام بھجوا دیا

    کالعدم جماعت کے ساتھ مذاکرات کا پہلا دور کامیاب، کس نے کیا اہم کردار ادا،شیخ رشید نے بتا دیا

    پولیس افسر و اہلکاروں کو حبس بے جا میں رکھنے کے واقعے کا مقدمہ درج

    حافظ سعد رضوی سے جیل میں کس کی آج ہو گی ملاقات؟

    وزیراعظم عمران خان مشکل میں پھنس گئے، یہ کام نہ کیا تو پارٹی چھوڑ دیں گے، اراکین کا اعلان

    سیالکوٹ، توہین مذہب کے الزام پر شہری کا قتل،وزیراعظم کا نوٹس،گرفتاریاں شروع

    توہین رسالت صلی اللہ علیہ وسلم و توہین مذہب کا مقدمہ، 16 اکتوبر سے قبل فیصلہ سنائیں گے، عدالت

    توہین رسالت کیس میں نوجوان نے قادیانی گستاخ رسول کو جج کے سامنے گولی ماردی

    وزیراعظم عمران خان کے خلاف توہین رسالت مقدمہ کے اندراج کے لئے درخواست دائر

    توہین رسالت صلی اللہ علیہ وسلم و توہین مذہب کا مقدمہ،دفاعی شہادت پیش کرنے کے لئے مزید مہلت کی استدعا مسترد

    توہین رسالت کی مجرمہ خاتون کو سزائے موت سنا دی گئی

  • سیالکوٹ، توہین مذہب کے الزام پر شہری کا قتل،وزیراعظم کا نوٹس،گرفتاریاں شروع

    سیالکوٹ، توہین مذہب کے الزام پر شہری کا قتل،وزیراعظم کا نوٹس،گرفتاریاں شروع

    سیالکوٹ، توہین مذہب کے الزام پر شہری کا قتل،وزیراعظم کا نوٹس،گرفتاریاں شروع

    سیالکوٹ، توہین مذہب کا الزام، فیکٹری کے غیر ملکی منیجر کو تشدد کے بعد جلا دیا گیا

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سری لنکن شہری کا حادثہ ،سی سی ٹی وی کی مدد سے گرفتاریوں کا عمل شروع کر دیا گیا،50 سے زائد لوگ گرفتار کر لئے گئے،ترجمان پنجاب حکومت حسان خاور کا کہنا ہے کہ سری لنکن شہری کا حادثہ بہت افسوسناک ہے،اب تک 50 لوگ گرفتار ہوچکے ہیں،سی سی ٹی وی کے ذریعے لوگوں کی شناخت کی جارہی ہے، وزیراعظم عمران خان اور وزیراعلیٰ پنجاب نے واقعے کی تحقیقات کا حکم دیا، اس واقعے کی مکمل تحقیقات کے بعد انصاف ہوگا،واقعے میں ملوث افراد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی ہوگی،

    قبل ازیں توہین مذہب ،قرآن کا مبینہ الزام لگا کر غیر ملکی شہری کو جلا گیا گیا ،واقعہ پنجاب کے صوبائی دارالحکومت لاہور سے 132 کلو میٹر دور سیالکوٹ کی تحصیل اگوکی میں پیش آیا جہان‌ایک فیکٹری میں جنرل منیجر کے طور پر کام کرنے والے ملازم کو قرآن مجید کی مبینہ بے حرمتی کے الزام میں عوامی ہجوم نے تشدد کر کے قتل کیا بعد ازاں اسکی لاش کو آگ لگا دی گئی

    فیکٹری کے باہر سینکڑوں لوگ جمع ہوئے ،جنہوں نے زبردستی فیکٹری کا دروازہ کھولا، بعد ازاں توہین مذہب کے الزام میں ملزم پر بہیمانہ تشدد کیا ، جس کے ہاتھ میں جو آیا مارا، اس دروان ایک طرف لبیک کے نعرے لگائے جا رہے تھے دوسری جانب باغی ٹی وی کو موصول ہونے والی ویڈیو میں گالیوں کی آوازیں بھی آ رہی ہیں

    تشدد سے سری لنکا سے تعلق رکھنے والا جنرل مینیجر پریانٹا کمارا کی موت ہو گئی ہے، شرکاء نے ڈنڈے اٹھا رکھے تھے جبکہ اینٹیں بھی ماری گئیں،پولیس کی نفری حالات کو قابو کرنے نہ پہنچی، مشتعل افراد نے فیکٹری کا گھیراؤ کیا اور تشدد کا نشانہ بنایا بعد ازاں لاش کو آگ لگا دی، واقعہ تھانہ صدر کی حدود میں پیش آیا،پولیس حکام نے باغی ٹی وی سے گفتگو میں وقوعہ کی تصدیق کی اور بتایا کہ وزیر آباد روڈ پر فیکٹری میں واقعہ پیش آیا، ڈی پی او اجلاس میں مصروف ہیں ، واقعہ کے حوالہ سے ابھی تک کسی نے اندارج مقدمہ کی کوئی درخواست نہیں دی.

    سیالکوٹ فیکٹری مینجر پر تشدد اور ہلاکت کا معاملہ ‏وزیر اعلی پنجاب ‎عثمان بزدار نے سیالکوٹ کی فیکٹری میں پیش آنے والے افسوسناک واقعہ پر انسپکٹر جنرل پولیس سے رپورٹ طلب کر لی ہے، وزیراعلیٰ نے واقعہ کی اعلی سطح کی انکوائری کا حکم دے دیا ہے ،واقعہ کی ہر پہلو سے تحقیقات کرکے رپورٹ پیش کی جائے گی۔ دوسری جانب ‏ آئی جی پنجاب راؤ سردار علی خان نے واقعہ کا نوٹس لے لیا آر پی آر پی او گوجرانوالا کو فوری موقع پر پہنچنے کا حکم دے دیا آئی جی پنجاب کا کہنا تھا کہ ڈی پی او سیالکوٹ موقع پر موجود ہیں،واقعہ کی تمام پہلوؤں سے انکوائری کی جائے

    صحافی کامران یوسف نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ سیالکوٹ میں پیش آنے والا واقعہ حیران کن نہیں کیونکہ جب ریاست جتھوں کے آگے گھٹنے ٹیک دے گی تو اس کا نتیجہ صرف انارکی ہے!!!

    سیالکوٹ واقعہ کے بعد تحریک لبیک کے سندھ میں رکن اسمبلی مفتی قاسم فخری نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ کارکنان متوجہ ہو ں،راجکو فیکٹری سیالکوٹ میں ہونے والا واقعہ کو فی الحال تحریک لبیک کا کوئی بھی کارکن اپنے کسی بھی ایپ سے اپلوڈ نا کرے اور نا ہی اسکو تحریک لبیک کیساتھ تشبیہ دی جائےمرکز تحقیقات جاری ہے انتظار فرمائیں

    https://twitter.com/QasimFakhri_MPA/status/1466711677634813954

    تحریک لبیک پاکستان نے سیالکوٹ واقعہ کی مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ واقعہ کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کرائی جائیں، ناموس رسالت کا ذاتی مقاصد کے لئے استعمال گناہ کبیرہ ہے ،ناموس رسالت کی آڑ میں مذموم کاروائی کی اجازت نہیں دی جا سکتی

    خاتون صحافی و کالم نگار جویریہ صدیق کہتی ہیں کہ سیالکوٹ کے ہجوم کو مسلمان کہنا یا انسان کہنا مذہب اور انسانیت کی توہین ہے۔ ان کو اختیار کس نے دیا ہے کہ یہ کسی انسان کی جان لیں اگر کسی نے جرم کیا ہے اسکو سزا عدالت دے گی۔ آج میرا سر شرم سے جھک گیا ہے ہمارا معاشرہ انتہا پسندی جہالت اور ظلم سے تباہ ہورہا ہے۔

    پاکستان علماءکونسل کی جانب سے سیالکوٹ میں توہین مذہب کےالزام میں سری لنکن منیجرکے قتل کی بھرپور مذمت کی گئی ہے، وزیراعظم کے مشیر اور پاکستان علما کونسل کے سربراہ علامہ طاہر اشرفی کا کہنا ہے کہ ملزموں کوگرفتارکر کے کیفرکردارتک پہنچایا جائے گا،توہین ناموس رسالت وتوہین مذہب قانون موجود ہے حملہ کرنےوالوں نے اس قانون کی بھی توہین کی ہے، فعل غیراسلامی ہے ، یہ قرآن و سنت اور سیرت کے خلاف ہے، آقا کی ناموس و عزت پر سب کچھ قربان، پاکستان میں توہین کا قانون موجود، اگر کوئی توہین کرتا ہے تو اسے عدالت لایا جائے، مارنا اور پھر جلانا یہ بربربت ہے، تمام مکاتب فکر کے علماء نے اس واقعہ کی مذمت کی ہے،سری لنکن شہری کا قتل بربریت ہےواقعے پر شرمندہ ہیں ، میرے پاس کہنے کو الفاظ نہیں ہیں،سیالکوٹ میں سری لنکن شہری کا قتل بہت افسوسناک ہے، اس واقعے سے دنیا بھر میں پاکستان کی بدنامی ہوئی،

    سدرہ ڈار نے لکھا کہ آج جو کچھ سیالکوٹ میں ہوا اس کی ویڈیوز نہ صرف وائرل ہیں بلکہ اسے پھیلایا جارہا ہے ایک شخص کو توہین مذہب پر ہجوم نے سزا دیدی ان معصوم بھائیوں کو بھی اسی شہر میں بے دردی سے مارا گیا تھا، ویڈیو بنائی گئی تھی اور قاتل آج بھی نامعلوم ہی ہیں۔کون ہیں ہم ؟ مسلمان ؟ ہرگز نہیں

    عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نے بھی واقعہ کی مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ سیالکوٹ میں جو اندوہناک واقعہ رونماہوا ہے ، عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت اس کی پرزور مذمت کرتی ہے۔ایسے گھناؤنےحرکات کا حرمت رسول ص یا عشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم سےدور دور تک کوئی واسطہ نہیں! غیر جانبدار تحقیقات ہونی چاہیئےاور مجرموں کو عبرت ناک سزا دی جائے

  • چوری کرنے والا لیڈر شپ نہیں کرسکتا،وزیراعظم

    چوری کرنے والا لیڈر شپ نہیں کرسکتا،وزیراعظم

    چوری کرنے والا لیڈر شپ نہیں کرسکتا،وزیراعظم

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ رسول اللہ ﷺدنیا کے عظیم لیڈ رتھے رسول اللہ ﷺکی سیرت پرچلنے میں بہتری ہے جو لوگ رسول اللہ ﷺ کی راہ پرچلتے ہیں وہ آگے جاتے ہیں ترقی کے لیے ریاست مدینہ کےاصولوں پر عمل کرنا ہوگا

    تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ پاکستان کو ہردور میں چیلنجز سے نمٹتے دیکھا ،پاکستان کو اوپر جاتے اور نیچے آتے بھی دیکھا،ایمان بہترین اور قیمتی تحفہ ہےاللہ نے مجھے شہرت ،پیسہ اورسب کچھ دیا،میں سیاست میں تبدیلی لانے کے لیے آیا،بطور تاریخ کا طالب علم اس نتیجے پر پہنچا کہ رسول اللہ ﷺکی سیرت پرچلنے میں کامیابی ہے،ہمارا تعلیمی نظام ہی ہماری کامیابی میں آڑے آ گیا تعلیمی نظام تقسیم ہوا اور مسائل نے جنم لیا،تعلیمی نظام میں یکسانیت ضروری ہے ،یکساں نظام تعلیم سے غریب کو فائدہ ہوگا،مدینہ کی ریاست میں خوف خدا لوگوں کے دلوں میں زندہ تھا،عظیم قوم بننے کے لیے بہترین کردار کاہونا ضروری ہے دنیا میں اسلام کے خلاف جو بھی عمل ہوتا ہے ،سب سے زیادہ ردعمل پاکستان سے آتا ہے ،انسان میں سوچنے کی صلاحیت ہے وہ اچھے اوربرے کی تمیز کرتاہے خواہش تھی ملک میں سیرت ﷺ اتھارٹی قائم کریں،ریسرچ سے ہی جامعات بنتی ہیں ،ریسرچ ہوئی ہی نہیں کہ دنیا کی امامت کس نے اور کس طرح کی ،سائنس اوراسلام میں لڑائی نہیں تھی لیکن نظریات میں فرق تھا،

    وزیراعظم عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ ملک میں سب سے بڑا مسئلہ مغربی ثقافت کا عام ہوناہے مغربی ثقافت روحانی طور پر زوال پذیر ہورہا ہے ،مغرب میں چرچز بند ہورہے ہیں ،نوجوانوں کی رہنمائی نہیں کی جارہی ،مغرب میں 40سال پہلے خاندانی نظام کدھر تھا اورہمار ے ممالک پرکیااثرات مرتب ہوئے ،موبائل فون انقلاب ضرورلایا لیکن اخلاقی طورپر نوجوانواں کو کمزورکرنے میں کردار ادا کررہاہے،بچوں اورنوجوانوں کی سرگرمیوں کی نگرانی لازمی ہے بچوں اور نوجوانوں کو بہترین سرگرمیوں کے لیے چوائس دیا جائے ،مغرب آج سیرت پرریسرچ کررہا ہے کیونکہ وہاں فتویٰ لگ جانے کا ڈر نہیں،

    وزیراعظم عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ ملک میں چوری کرنے والا لیڈر شپ نہیں کرسکتا وہ معاشرے کونقصان پہنچاتا ہے ،خود غرض آدمی کبھی قائد نہیں بن سکتاوہ اپنی ذات سے اوپر سوچتاہے بزدل انسان لیڈر شپ کرہی نہیں سکتا ،میرے نزدیک امیر وہ ہے جس کے ضمیر کی کوئی قیمت نہیں لگا سکتا مدینہ کی ریاست میں لیڈروں کی بارش تھی کیونکہ وہ بلا خو ف سرگرم تھے مغرب سے کسی بھی وقت توہین مذہب کے واقعات سامنے آنے کا خدشہ ہے خواہش ہے قانونی اورمذہبی نکتہ نظرسے ہم بہترین جواب دیں بدقسمتی سے پاکستان میں چوروں کو برا نہیں سمجھا جاتا، ہمارے لیے سب سے اہم یہ ہے کہ ہم تمام مافیا کےخلاف کھڑے ہیں جو اس ملک میں تبدیلی نہیں چاہتے اب اس سے زیادہ کیا چیزہو سکتی ہے کہ الیکٹرانک ووٹنگ مشین کی مخالفت کر رہے ہیں ای وی ایم مشین سے ہمیں کیا فائدہ ہے؟ آج تک ہر الیکشن متنازع ہوتا ہے کرپشن کوبرانہیں سمجھیں گے تو معاشر ہ بہتر نہیں ہو گا گزشتہ دنوں ایک کانفرنس ہوئی جس کا مہمان خصوصی وہ آدمی تھا جن کو عدالتوں نے سزا دی

    بیوی طلاق لینے عدالت پہنچ گئی، کہا شادی کو تین سال ہو گئے، شوہر نہیں کرتا یہ "کام”

    50 ہزار میں بچہ فروخت کرنے والی ماں گرفتار

    ایم بی اے کی طالبہ کو ہراساں کرنا ساتھی طالب علم کو مہنگا پڑ گیا

    یہ ہے لاہور، ایک ہفتے میں 51 فحاشی کے اڈوں پر چھاپہ،273 ملزمان گرفتار

    طالبعلم کے ساتھ گھناؤنا کام کرنیوالا قاری گرفتار،قبرستان میں گورکن کی بچے سے زیادتی

    نوکری کا جھانسہ دیکر لڑکی کے ساتھ مبینہ زیادتی کرنیوالا جج گرفتار