Baaghi TV

Tag: تھرپارکر

  • تھرپارکر، سرکاری محکمے بے بس ہو گئے،  مزید 12 مور ہلاک

    تھرپارکر، سرکاری محکمے بے بس ہو گئے، مزید 12 مور ہلاک

    سندھ کےضلع تھرپارکر میں موروں کی پراسرار بیماری سے ہلاکتوں کا سلسلہ نہ تھما، مزید 12 مور جان کی بازی ہار گئے، جس کے بعد صرف تین ماہ میں ہلاک ہونے والے موروں کی تعداد 112 تک پہنچ گئی ہے۔

    باغی ٹی وی کے مطابق مقامی سطح پر موجود محکمہ وائلڈ لائف اور محکمہ پولٹری پراڈکٹ کی جانب سے تاحال کوئی مؤثر اقدام سامنے نہیں آ سکا۔ دونوں محکموں کی جانب سے موروں کے تحفظ اور بیماری کی تشخیص کے لیے ایک بھی فیلڈ کیمپ قائم نہیں کیا جا سکا۔صورتحال نہ صرف تشویشناک ہے بلکہ متعلقہ سرکاری اداروں کی کارکردگی پر بھی سوالیہ نشان ہے۔دوسری جانب مقامی افراد نے بیمار موروں کو خود وائلڈ لائف کے دفاتر پہنچانا شروع کر دیا ہے، جہاں فی الحال 12 مور زیر علاج ہیں۔

    ڈپٹی ڈائریکٹر محکمہ وائلڈ لائف میر اعجاز تالپر کا کہنا ہے کہ پورے ضلع کے لیے ہمارے پاس محض پانچ سے چھ افراد پر مشتمل عملہ ہے، جبکہ وسائل کی بھی شدید کمی ہے۔ڈاکٹر سوائی مالہی ڈپٹی ڈائریکٹر محکمہ پولٹری پراڈکٹ نے بھی اعتراف کیا کہ ان کے پاس فیلڈ کیمپس لگانے کے لیے نہ وسائل ہیں اور نہ ہی عملہ موجود ہے۔ہم مختلف گاؤں میں ایک ہی سرکاری گاڑی کے ذریعے جاتے ہیں، جبکہ پرندوں کے ٹیسٹ کے سیمپلز لیبارٹریز کو بھیجے جاتے ہیں، لیکن اس کا کوئی خاطر خواہ نتیجہ نہیں نکلتا۔

    واضح رہے کہ تھرپارکر میں مور صرف ایک پرندہ ہی نہیں بلکہ اس علاقے کی پہچان اور خوبصورتی کا نشان ہیں جبکہ سندھ کا قومی پرندہ بھی ہے۔ ان کی مسلسل ہلاکت نہ صرف ماحولیاتی توازن کے لیے خطرہ ہے بلکہ مقامی ثقافت کے لیے بھی ایک بڑا نقصان تصور کیا جا رہا ہے۔

    سیالکوٹ: ایتھوپیا کے سفیر کا چیمبر آف کامرس کا دورہ

  • تھرپارکر:بچوں کی اکثریت غذائی قلت، کم وزنی اور بونا پن کی شکار

    تھرپارکر:بچوں کی اکثریت غذائی قلت، کم وزنی اور بونا پن کی شکار

    سندھ یونیورسٹی کے شعبہ فزیالوجی کے ماہرین اور طالبعلموں نے تھرپارکر کے سینکڑوں بچوں کا جائزہ لینے کے بعد وہاں کے بچوں کے حوالے سے پریشان کن رپورٹ جاری کی ہے-

    باغی ٹی وی : جرنل آف پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن ( جے پی ایم اے) کی تازہ اشاعت میں تھرپارکر میں پانچ سال سے کم عمر بچوں کا ایک مطالعہ سامنے آیا ہے اس میں بطورِ خاص تھرپارکر کے دوردراز اور غریب دیہی علاقوں میں بچوں کا جائزہ لیا گیا ہے۔

    اشاعت کے مطابق سال 2017 اور 2018 کے دوران تھرپارکر کی 4 تحصیلوں میں یہ سروے کیا گیا جس میں پانچ سال سے کم عمر کے 597 بچوں کا معائنہ کیا گیا۔ ان میں 299 بچیاں اور 298 بچے شامل تھے تمام بچوں کی اوسط عمریں 12 سے 23 ماہ تھی۔

    قمری اور شمسی نظام دونوں ہی اللہ کے ہیں:ہمیں نئے سال کا آغازنیکیوں اورخیر سے کرنا…

    حیرت انگیزطورپر485 بچوں میں بونا پن یا اسٹنٹنگ نمایاں تھی یعنی 81 فیصد بچے عمر کے لحاظ سے اپنے پورے قد تک نہیں پہنچ سکے تھے 112 بچوں میں ویسٹنگ یعنی ہڈیوں اور پٹھوں کا گھلاؤ کا عمل دیکھا گیا جو 18 فیصد تک تھ۔ اس کے علاوہ 342 یعنی 57 فیصد بچے اس عمر میں اوسط وزن سے کم وزن کے تھے۔

    اگرچہ یہ تحقیق ایک سیمپل تحقیق ہے لیکن اس سے تھرپارکر میں بچوں کی نشوونما کی شدید کمی سامنے آئی ہے اس کی وجوہ بیان کرتے ہوئے ماہرین نے کہا ہے کہ ان خاندانوں کی اوسط آمدنی 6000 روپے ماہانہ سے کم نوٹ کی گئی ہے۔

    بد زبانی کنٹرول کرنے کا زبردست فارمولا:عوامی مقامات پر گالم گلوچ کرنے پر جرمانہ…

    دوسرا اہم پہلو یہ ہے کہ ماؤں کی جانب سے بچوں کو دودھ پلانے کا دورانیہ بھی کم تھا۔ اس کے علاوہ بچوں میں ڈائریا اور دیگر بیماریوں کو بھی اس کی وجہ بتایا گیا ہے۔

    دوسری جانب طبی ماہرین نے پاکستان میں ذیابیطس کے بڑھتے ہوئے مریضوں کی تعداد پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ ذیابیطس سمیت صحت کے مسائل کو حل کرنے کے لیے صحت کا بجٹ فوری طور پر بڑھایا جائے۔

    خیال کیا جاتا ہے کہ پاکستان میں ذیابیطس کے مریضوں کی تعداد میں خوفناک حد تک اضافہ ہو رہا ہے اور ان مریضوں کی ایک اچھی خاصی تعداد کو ذیابیطس سے پیدا ہونے والی پیچیدگیوں کی وجہ سے اپنے اعضا بھی کٹوانے پڑ رہے ہیں۔

    کراچی: سال نو پر ہوائی فائرنگ سے 16 افراد زخمی

    گزشتہ ماہ کراچی میں ایک کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ڈائبیٹک ایسویسی ایشن آف پاکستان کے سیکریٹری جنرل پروفیسر ڈاکٹر عبدالباسط نے انکشاف کیا تھا کہ پاکستان میں تقریبا سالانہ دو لاکھ افراد ذیابیطس کی وجہ سے اپنے پیر یا دوسرے اعضا کٹوا رہے ہیں۔

    ڈاکٹر باسط کا دعویٰ تھا کہ پاکستان میں ایک کروڑ سے زیادہ ذیابیطس کے مریض ہیں اور ان میں سے پچاس لاکھ ایسے ہیں جنہیں اس حوالے سے طبی سہولیات میسر نہیں ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ان میں سے 20 لاکھ مریضوں کو فٹ السر ہوجاتا ہے اور ان 20 لاکھ میں سے دو لاکھ کے قریب افراد کو اپنے پیر کٹوانے پڑتے ہیں جبکہ اس کی روک تھام ممکن ہے۔

    پروفیسر عبدالباسط کا کہنا تھا کہ اعضا کٹوانے والے ان مریضوں میں سے 70 فیصد آپریشن کے پانچ سال کے اندرہی موت کی آغوش میں چلے جاتے ہیں۔

  • کوہ کارونجھر کا سونا سندھ کی تقدیر:سُنا ہے پھرلوٹ مارکا بازارگرم ہے:کون ڈال رہا ہے ڈاکہ:خبریں آنے لگیں

    کوہ کارونجھر کا سونا سندھ کی تقدیر:سُنا ہے پھرلوٹ مارکا بازارگرم ہے:کون ڈال رہا ہے ڈاکہ:خبریں آنے لگیں

    تھرپارکر :کوہ کارونجھر کا سونا سندھ کی تقدیر:سُنا ہے پھرلوٹ مارکا بازارگرم ہے:کون ڈال رہا ہے ڈاکہ:خبریں آنے لگیں ،اطلاعات کےمطابق پچھلے سالوں کی طرح ان دنوں پر سوشل میڈیا پر سندھ کی خوبصورت کارونجھر پہاڑیوں کا ذکر چھڑا ہوا ہے لیکن اس کا تذکرہ اس حسین پہاڑی سلسلے کو بچانے کے لیے ہو رہا ہے۔

     

    سندھ کی ان قیمتی پہاڑیون کو بچانے کےلیے پچھلی کئی دہائیوں سے آواز بلند ہوتی آرہی ہے ،پچھلے دو تین سال سے تو ہرآنے والے لمحہ اس قیمتی اثاثے کوچانے کے لیے آواز بن کرسامنے آرہا ہے ، 2019 میں بڑے زوروشور سے آوازیں بلند ہورہی تھیں‌کہ کانجھرو کی پہاڑیوں‌ کو کان کنی کے نام پر لوٹا جارہا ہے

    پھر یہی آواز 2020 کے آخری دنوں میں بلند ہوئی لیکن کسی نے کان تک نہیں دھرا اورپچھلے چند دنوں سے پھر کانجھروکی پہاڑیاں آواز دے رہی ہیں کہ مجھے بچا لیں‌ ورنہ بڑے بڑے مجھے کھا جائیں‌ گے

    سوشل میڈیا صارفین کا کہنا ہے کہ کچھ کمپنیاں اور لوگ تھرپارکر کے علاقے میں واقع ان خوبصورت پہاڑیوں کو اپنی منافع خوری کا نشانہ بنا کر تباہ و برباد کر رہے ہیں۔

    کارونجھر کی پہاڑیاں قریباً 23 کلومیٹر طویل سلسلے کا حصہ ہیں اور ان کی چوٹی کی اونچائی 305 میٹر تک ہے۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ نہایت خوبصورت پہاڑی سلسلہ ہے جو ہزار سالہ تہذیب کے ارتقا کا حاصل ہے

     

    سندھی زبان کے مشہور شاعر شیخ ایاز نے صحرائے تھر کو فطرت کا عجائب گھر قرار دیا تھا جبکہ سندھی زبان کی شاعری میں کارونجھر پہاڑی کا ذکر کئی مقامات پر کیا گیا۔کارونجھر اس لیے بھی اہم ہےکہ یہاں پہاڑ، رن کچھ اور ریت والے تھر کا سنگم ہوتا ہے۔

    اس کےعلاوہ انگریزوں کے خلاف لڑنے والے روپلو کولہی کا تعلق بھی کارونجھر سے تھا،جنھیں ان کے ساتھیوں کے ساتھ بغاوت کا مقدمہ چلا کر 22 اگست 1858 کو پھانسی دے دی گئی۔

    کارونجھر لال رنگ کے گرینٹ پتھروں پر مشتمل پہاڑی سلسلہ ہے، جو ویسے تو لال نظر آتا ہے مگر مقامی لوگوں کے مطابق یہاں سفید اور کالے پتھر کے علاوہ پانچ رنگوں کے پتھر ہیں۔

    یہ رنگ برنگے گرینٹ کے پتھر کمروں کی ٹائلز اور عمارت سازی میں کام آتے ہیں، یہاں سے نکلنے والا پتھر پاکستان کے دیگر علاقوں سے نکلنے والے گرینٹ پتھروں سے قیمتی سمجھا جاتا ہے۔

     

    کارونجھر سے غیر قانونی پتھر نکالنے کے خالاف نگر پارکر میں شہریوں نے احتجاج بھی کیا۔پچھلے چند سالوں سے جاری قحط سالی کے بعد سندھ حکومت نے 30 سے زائد چھوٹے بڑے ڈیم تھر میں تعمیر کروائے مگر پتھروں کی بے دریغ کٹائی کے بعد شدید بارشوں کے باوجود کارونجھر کی ندیوں کے پانی سے کوئی بھی ڈیم نہ بھر سکا۔

    سندھ کے ضلع تھر پارکر میں ، رن کچھھ کے شمالی کنارے پر23 کلومیٹر پر پھیلا ہوا اور 307 میٹر لمبا پہاڑی سلسلہ موجود ہے ، جسے کارونجھر کہا جاتا ہے۔ ضلعہ تھر پارکر میں ان پہاڑیوں کے علاوہ کہیں بھی کوئی پہاڑ یا پہاڑی سلسلہ وجود نہیں رکھتا۔

    کارونجھر کا پہاڑی سلسلہ زیادہ تر گرینائٹ کے پتھروں پر مشتمل ہے۔

    یہ پہاڑی سلسلہ پورے تھر ریگستان سے الگ ہے ، اس سلسلے کی پہاڑیاں مشرق کی طرف بڑہتی جاتی ہیں۔
    ساون کے موسم میں کارونجھر کے حسن کو چار چاند لگ جاتے ہیں، معمول سے زیادہ سیاح امڈ آتے ہیں اور مقامی معیشت کو بہت فائدہ پہنچتا ہے۔

    ساون کے موسم میں جب بارشیں پڑتی ہیں تب کارونجھر سے بارش کا پانی پہاڑ سے نہروں کی شکل میں بہتا ہے ۔ ان نہروں کی تعداد بیس ہے۔ ان نہروں کا پانی کارونجھر ڈیم میں اکھٹا ہوتا ہے۔ اسی پانی سے ، کارونجھر کی چھاؤ میں واقع ننگر پارکر شہر کی ضروریات پوری ہوتی ہیں۔

    ان نہروں کے نام کچھ یوں ہیں” بھٹیانی ، ماؤ ، گوردڑو ، راناسر، سکھ پور ، گھٹیانی ، مدن واہ ، موندرو ، بھوڈے سر ، لول رائی ، دراہ ، پران واہ وغیرہ ہیں۔

    یہاں کے مقامی لوگ کارونجھر کی معاشی اہمیت کی وجہ سے کہتے ہیں کہ ” کارونجھر روزانہ ایک سو کلو سونا پئدا کرتا ہے”۔
    کارونجھر کی پہاڑیوں پر زیادہ تر کیکر ، چندن اور نیم کے درخت پائے جاتے ہیں۔

    اس پہاڑی سلسلہ میں چنکارا ہرن ، گیدڑ اور نیل گائے جیسے جانور پائے جاتے ہیں جو پورے تھر میں کہیں نہیں پائے جاتے۔
    سلسلہ کارونجھر کی غاریں بہت گہری ہیں ، ان غاروں کے اندر ہندو مذھب کی مورتیاں اور کئی اقسام کے سانپ پائے جاتے ہیں جن میں کنگ کوبرا بھی شامل ہے۔

    اس کے ساتھ ساتھ یہ سلسلہ کئی اقسام کی بوٹیوں کا بھی مسکن ہے۔

    کارونجھر مقدس مذہبی آستانوں کا بھی گڑھ سمجھا جاتا ہے۔ مقامی لوگوں کے مطابق یہاں اسلام، ہندومت اور جین مت مذاہب کے مقدس آستانے ہیں جن میں قدیمی بھوڈیسر تالاب سے متصل 700 سال پرانی مسجد اور تھوڑے فاصلے پر ایک قدیم جین مت کا مندر ہے۔

    اس کے علاوہ ہندو مت کے مقدس ترین قدیمی مندر ساڑدھڑو دھام، انچل ایشور یعنی ایشور کا آنچل، تروٹ جو تھلو، پرانہ آدھی گام، گئو مکھی جیسے آستانے بھی کارونجھر پہاڑی میں واقعے ہیں۔

    یہاں پر ہندوؤں کا ایک مقدس مقام ساردھڑو بھی ہے ۔ ساردھڑو یہاں کی مقامی ہندو کمیونٹی میں اعلیٰ مقام رکھتا ہے۔اس پہاڑی سلسلے میں کئی تاریخی مقامات ہیں جن میں ، بھوڈے سر کی مسجد بھی شامل ہے ، جس کو سلطان محمود بیگڑی نے بنوایا تھا۔

    کارونجھر کا ذکر کئی سندھی اور گجراتی شاعروں نے کیا ہے۔

    یہاں کی مقامی لوک داستان ، سڈونت سارنگا اور ہوتھل پری ، جام اوڈھو میں بھی کثرت سے کارونجھر کا ذکر ملتا ہے۔

    کارونجھر جبل محض پہاڑیاں نہیں بلکہ یہ قیمتی معدنیات کا وہ خزانہ ہیں جو سندھ کے ضلع تھرپارکرکے علاقے نگرپارکر کے جنوب مغرب میں پھیلی  ہوئی ہیں ، ان کی قدرتی ساخت اور تراش خراش بہت منفرد اورانتہائی خوبصورت  ہے ۔ سولہ میل تک پھیلے کوہ کارونجھر کو کینرو بھی کہا جاتا ہے۔

    یہاں قدیم آستانوں کے  ساتھ خوب صورت  قدرتی جھرنے بھی بہتے  ہیں، بارش کے بعد یہ جھرنے  بھرپور روانی کے ساتھ ان قیمتی پتھروں کے درمیان سے بہہ نکلتے ہیں پتھروں کی ان سنہری اونچی نیچی چوٹیوں میں اس قیمتی گرینائٹ کا خزانہ پوشیدہ ہے جس کی قیمت اور مالیت کا تعین انصاف پسندی سے کیا جائے تو پورے سندھ کی تقدیر بدل سکتی ہے ۔

    گرینائٹ کی مائننگ پر نہ صرف سندھ واسی سراپا احتجاج ہیں بلکہ سماجی حلقوں میں بھی اس پر تشویش پائی جاتی ہے ۔ماحولیات محبت کا کہنا ہے یہ تھر کا صحرا نہیں بلکہ گلستان ہے اگر اس کی توڑ پھوڑ اسی طرح جاری رہی تو پھر اس قدرتی ورثے کو کون دیکھنےآئے گا ۔

    سرمائی ، سنہرے دلکش رنگ  پتھروں کی یہ کہکشاں تھریوں کے لیے جذباتی وابستگی کی حامل ہے شاید اسی لیے وہ اس کا کٹاؤ اور اس کی توڑ پھوڑ کسی صورت نہیں برداشت کر سکتے ، کجا کو وہ کسی اورکو اس کی توڑ پھوڑ اور ترسیل کی اجازت دیں۔

    مقامی لوگوں کا کہنا ہے کوہ کارونجھر سندھ کا سونا ہے اور کوئی ہمارے سونے کی ادائیگی نہیں کرے گا۔ اس لیے ہم سندھ کے  سونے کا کاروبار نہیں کریں گے اور نہ ہی ہونے دیں گے ۔ تھریوں کا کہنا ہے کہ ہمارے کارونجھر پہاڑ کو کاٹنا ایسا ہے جیسے کسی ماں کے بیٹے کو قتل کردیا جائے ۔

    لیکن ایک دوسری حقیقت یہ ہے کسی بھی  زمین  کے معدنی وسائل اس کے باسیوں کی  ترقی اور خوشحالی کے ضامن ہوتے ہیں ان سے محبت ضرور کی جائے لیکن اگر ان پہاڑیوں کی ڈرلنگ اور مائننگ سے تھر واسیوں کے لیے روزگار اور خوشحالی کے دروازے کھل رہے ہیں تو پھر اس معاملے کو سرکاری اور عوامی سطح پر خوش اسلوبی کے ساتھ نمٹانا چاہیے تاکہ ان قیمتی پتھروں کی تجارت کے براہ راست فوائد سندھ کے باسیوں تک بھی پہنچ سکیں  ۔

  • سب کہتے مگر کرتے کچھ نہیں، اسپتالوں میں گدھے،ڈی سی بادشاہ بنے ہوئے ہیں،سپریم کورٹ برہم

    سب کہتے مگر کرتے کچھ نہیں، اسپتالوں میں گدھے،ڈی سی بادشاہ بنے ہوئے ہیں،سپریم کورٹ برہم

    سب کہتے مگر کرتے کچھ نہیں، اسپتالوں میں گدھے،ڈی سی بادشاہ بنے ہوئے ہیں،سپریم کورٹ برہم

    سپریم کورٹ میں تھرپارکر میں غذائی قلت سے بچوں کی ہلاکتوں سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی .

    جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم نے خود سول اسپتال مٹھی کا دورہ کیا ،کوئی سہولت نہیں تھی ، آپریشن تھیٹر مارچری لگ رہا تھا اسپتال میں ایک ڈاکٹر تھا جس نے کہا رات کو بتایا گیا ہے کل آجانا ،چیف جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ تھرپارکر میں بہت برا حال ہے ،لوگ اللہ کے سہارے پڑے ہیں بجلی بھی 2 گھنٹے کیلئے آتی ہے ،پانی کیلئے بارش کا انتظار کرتے ہیں ،جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آر او پلانٹس پر کروڑوں روپے لگا دیئے جو سب خراب ہیں ،چیف جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ تھرپارکر میں صرف بھرتیاں ہورہی ہیں ،وہاں کوئی کام کرنے والا نہیں دس، پندرہ ہزار صحت کا عملہ ہوگا مگر کوئی نظر نہیں آتا ،تھر میں آپ کی اولاد نہیں آپ کے والد والدہ نہیں اس لیےآپ کو فکر ہی نہیں تھر سے تو مکمل لاتعلقی ہے ،سیکرٹری صحت نے عدالت میں کہا کہ نئے ڈاکٹرز کی بھرتیوں کا عمل جاری ہے

    چیف جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ آپ کے وی آئی پیز جاتے ہیں ان کچھ اور طریقہ کار ہوتا ہے ،غریبوں کا برا حال کردیتے ہیں، انجکشن لے آو ،دوا لے آو تھر پارکر کے اسپتال میں بیٹھنے کی جگہ تک نہیں ایس آئی یو ٹی دیکھیں جاکر کیسے کام ہوتا ہے ڈیڈی کیشن ہے ڈیڈی کیشن یہ ہوتا ہے کام ، آپ کے منسٹرز تو آغا خان سے علاج کراتے ہیں انہیں کیا پرواہ ،آپ کے اسپتال تو اصطبل بنے ہوئے ہیں ،گھوڑے ہوتے ہیں وہاں ،آپ کی ہر رپورٹ میں یو این یو این لکھا ہے آپ کیا کررہے ہیں ہر جگہ لکھ دیا یو این نے کہا ہے ،یو این سے پیسے لیتے ہیں تو ان ہی کی بات کریں گے ،عدالتی معاون نے کہا کہ تھر میں 2018 میں 400 بچوں کی ہلاکتیں ہوئیں کمیشن رپورٹ میں بتایا گیا ہے کچھ نہیں ہو رہا  . چیف جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ لوگ انہیں انسان نہیں سمجھتے ؟ سیکریٹری لیول کے جتنے افسران ہیں سب مٹھی سول اسپتال جائیں علاج کیلئے ،چار پانچ گھنٹے لگیں گے کوئی بچ جائے تو بچ جائے،لاڑکانہ ، سکھر کسی بھی شہر میں چلے جائیں سرکاری اسپتالوں کا یہی حال ہے ،آپ کو پرواہ نہیں بچے مر رہے ہیں ، ہزاروں لاکھوں لیڈی ہیلتھ ورکرز رکھے ہیں کہاں ہیں ؟ اتنی بڑی فوج بنائی ہوئی ہے ہیلتھ کی کہاں ہے ؟

    جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ تھر میں میڈیکل افسران کی 75 فیصد اسامیاں خالی ہیں ،چیف جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ کو مطلب معلوم ہے 75 فیصد کا ؟جو وہاں بھرتی ہوتا وہاں سے ٹرانسفر کرالیتا ہے ،چیف جسٹس نے سیکرٹری صحت سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ کو وہاں جاکر رہنا پڑے گا آپ سے پہلے والوں نے بھی کچھ نہیں کیا،آپ کے بعد والے بھی کچھ نہیں کریں گے ،آپ نے ماوں اور بچوں کو مرنے دیا یہ سب آپ کے کھاتے میں لکھا جار ہا ہے آپ بری الذمہ نہیں ہیں ایک ہلاکت کی ذمہ داری بھی آپ پر عائد ہوتی ہے آپ سب سرکاری افسران جائیں تھرپارکر کے سرکاری اسپتال میں علاج کرائیں،ہم سب کا آرڈر کردیں گے تمام سیکریٹری وہاں علاج کرائیں، آپ سندھ کے کسی بھی شہر چلے جائیں لاڑکانہ میر پور خاص حیدر آباد چلے جائیں،یہ چھوٹے بچے کیوں مرتے ہیں کسی نے تحقیقات کی ہیں،ہمارے پاس آکر سب کہتے مگر کرتے کچھ نہیں ہیں،ایڈووکیٹ جنرل سندھ ایک ایک چیز ہماری دیکھ ہوئی ہے اسپتالوں میں گدھے بندھے ہوئے،لائٹ تک نہیں ہے دوائی،ایکسرے مشین وغیرہ کی سہولیات تو خواب ہیں،ایکسرے مشین ہی نہیں عملہ رکھا ہوا،جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ایڈووکیٹ جنرل سندھ گئے تھے یہ سب چیزوں کے گواہ ہیں،عدالت نے سیکریٹری صحت کو بولنے سے روک دیا، چیف جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ وہاں ڈی سی اور دیگر لوگ تو بادشاہ بنے ہوئے ہیں عدالت نے سیکریٹری صحت سندھ کی رپورٹ غیر تسلی بخش قرار دے دی

    عدالت نے تھرپارکر میں تقررری پانے والوں کے تبادلہ روکنے کا حکم دے دیا ،سپریم کورٹ نے کہا کہ عدالتی احکامات پر عمل نہیں ہوا ، سندھ حکومت نے اپنی بنیادی ذمہ داری بھی ادا نہیں کی ، سیکریٹری صحت نے عدالت کو یقین دہانی کروائی کہ خود جا کر اقدامات کروں گا ،عدالت نے کہا کہ تھرپارکر میں تعینات ڈاکٹرز اور عملے کا دوسرے ضلع میں تبادلہ نہ کیا جائے ، ڈاکٹرز کو کم از کم 3 سال سے قبل دوسرے ڈسٹرکٹ میں ٹرانسفر نہیں کیا جاسکتا ،عدالت نے لیڈی ہیلتھ ورکر اور صحت کے دیگر عملہ کو بھی فعال کرنے کی ہدایت کر دی، عدالت نے حکم دیا کہ تھرپارکرکےاسپتالوں اور میڈیکل سینٹرز پر ادویات فراہمی کو یقینی بنایا جائے ، عدالت نے تھرپارکرکےاسپتالوں میں غیر حاضر اور غیر فعال ڈاکٹرز اور عملے کے خلاف کارروائی کا حکم بھی دیا

    @MumtaazAwan

    کراچی کو مسائل کا گڑھ بنا دیا گیا،سرکاری زمین پر قبضہ قبول نہیں،کلیئر کرائیں، چیف جسٹس

    سپریم کورٹ کا کراچی کا دوبارہ ڈیزائن بنانے کا حکم،کہا آگاہی مہم چلائی جائے

    وزیراعظم کو بتا دیں چھ ماہ میں یہ کام نہ ہوا تو توہین عدالت لگے گا، چیف جسٹس

    تجاوزات ہٹانے جائینگے تو لوگ گن اور توپیں لے کر کھڑے ہوں گے،آرمی کو ساتھ لیجانا پڑے گا، چیف جسٹس

    سرکلر ریلوے، سپریم کورٹ نے بڑا حکم دے دیا،کہا جو بھی غیر قانونی ہے اسے گرا دیں

    ہم نے کہا تھا کیسے کام نہیں ہوا؟ چیف جسٹس برہم، وزیراعلیٰ کو فوری طلب کر لیا

    آپ کی ناک کے نیچے بحریہ بن گیا کسی نے کیا بگاڑا اس کا؟ چیف جسٹس کا استفسار

    آپ کو جیل بھیج دیں گے آپکو پتہ ہی نہیں ہے شہر کے مسائل کیا ہیں،چیف جسٹس برہم

    کس کی حکومت ہے ؟ کہاں ہے قانون ؟ کیا یہ ہوتا ہے پارلیمانی نظام حکومت ؟ چیف جسٹس برس پڑے

    شہر قائد سے تجاوزات کے خاتمے کیلئے سپریم کورٹ کا بڑا حکم

    کراچی میں سپریم کورٹ کے حکم پرآپریشن کا آغاز،تاجروں کا احتجاج

    سو برس بعد بھی قبضہ قانونی نہیں ہو گا،سپریم کورٹ کا بڑا حکم

    ہزاروں اراضی کے تنازعات،زمینوں پر قبضے،ہم کون سی صدی میں رہ رہے ہیں ؟ چیف جسٹس

    نسلہ ٹاور گرانے سے متعلق نظر ثانی اپیلوں پر سپریم کورٹ کا فیصلہ آ گیا

    پاک فوج کے پاس مشینری موجود، جائیں ان سے مدد لیں،نسلہ ٹاور گرائیں، سپریم کورٹ

    عہدہ چھوڑ دیں، آپ کے کرنے کا کام نہیں،نسلہ ٹاور نہ گرانے پر سپریم کورٹ برہم

    کنٹونمنٹ والوں پر قانون لاگو نہیں ہوتا ؟ کھمبوں پر سیاسی جماعتوں کے جھنڈے کیوں؟ پاکستان کا پرچم لگائیں ،سپریم کورٹ

    دفاعی اداروں کی جانب سے کمرشل کاروبار ،سیکریٹری دفاع کونوٹس جاری

    ریاست فیل،مکمل تباہی، کیا آپ ہی کو فارغ کردیں؟ سپریم کورٹ کے اہم ترین ریمارکس

    ریکارڈ غائب کرنے کیلئے آگ لگتی رہی .اب ایوان صدر میں آگ نہ لگ جائےسپریم کورٹ کے ریمارکس

  • ریکارڈ غائب کرنے کیلئے آگ لگتی رہی .اب ایوان صدر میں آگ نہ لگ جائےسپریم کورٹ کے ریمارکس

    ریکارڈ غائب کرنے کیلئے آگ لگتی رہی .اب ایوان صدر میں آگ نہ لگ جائےسپریم کورٹ کے ریمارکس

    ریکارڈ غائب کرنے کیلئے آگ لگتی رہی .اب ایوان صدر میں آگ نہ لگ جائےسپریم کورٹ کے ریمارکس

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سپریم کورٹ میں خیبرپختونخوا بلدیاتی انتخابات میں پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے کیخلاف کیس کی سماعت ہوئی

    سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کو نوٹس جاری کر دیا،عدالت نے ایڈووکیٹ جنرل خیبرپختونخوا اور دیگر فریقین کو عدالتی معاونت کا حکم دے دیا،جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ فریقین کا تعلق سیاسی جماعتوں سے ہے،خوشدل خان ممبر صوبائی اسمبلی اور کامران مرتضٰی سینیٹر ہیں تمام فریقین عدالت کی معاونت کرتے ہوئے غیر جانبدار رہیں،تمام فریقین کا مقصد صاف و شفاف انتخابات ہونا چاہیے،کیس تین رکنی بینچ کے سامنے لگایا جائے،سپریم کورٹ نے کیس کی سماعت 30 نومبر تک ملتوی کر دی جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے کیس کی سماعت کی

    جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ خیبرپختونخوا میں بلدیاتی انتخابات جماعتی بنیاد پر کیوں نہیں ہو سکتے؟ ایڈوکیٹ جنرل کے پی نے کہا کہ پشاور ہائیکورٹ نے اپنے فیصلے میں وجوہات نہیں دیں،پشاور ہائیکورٹ نے 19 دسمبر کو بلدیاتی انتخابات کا حکم دے رکھا ہے، پشاور ہائیکورٹ کے تفصیلی فیصلے میں وجوہات کا انتظار کر لیتے ہیں، ،ایڈوکیٹ جنرل کے پی نے کہا کہ جماعتی بنیاد پر الیکشن کرانے کا قانونی طریقہ کار موجود نہیں ،حکومت جماعتی بنیادوں پر بلدیاتی انتخابات کرانے کیلئے راضی ہو بھی جائے تو قانون میں گنجائش نہیں، جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ آپ ارڈیننس لے آئیں، باقی تینوں صوبے بھی بلدیاتی انتخابات جماعتوں بنیادوں پر کراتے ہیں،باقی صوبوں کا میکینزم اپنانے میں کیا مسئلہ ہے؟ ایڈوکیٹ جنرل کے پی نے کہا کہ ہائیکورٹ کو حکم دیتے ہوئے شیڈیول دینے کے بجائے انتخابات کیلئے وقت دینا چاہیے تھا،شمائل بٹ ایڈووکیٹ جنرل نے کہا کہ اپنی نوعیت کا پہلا الیکشن ہو گا جس میں ایک ہی بیلٹ پیپر پر ایک پارٹی کے تین امیدواروں کے انتخابی نشانات ہوں گے،ایڈوکیٹ جنرل کے پی نے کہا کہ جو ووٹر پڑھنا لکھنا نہیں جانتا وہ کیسے فرق کرے گا کہ ایک ہی پارٹی کے کون سے نشان پر ٹھپہ لگانا ہے؟ جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ کون سے قانون میں ترمیم سے ولیج کونسل کے انتخابات جماعتی بنیاد پر ہو سکیں گے؟ وکیل کامران مرتضی نے کہا کہ مانتے ہیں اتنے کم وقت میں جماعتی بنیادوں پر انتخابات کا میکنزم نہیں بن سکتا،الیکشن کمیشن نے اس مسئلے کا حل نکال کر بیلٹ پیپر جاری کرنے کا کام شروع کیا ہے، جسٹس سجاد علی شاہ نے کہا کہ
    الیکشن کمیشن نے کیا حل نکال کر بیلٹ پیپر جاری کرنے شروع کیے ہیں؟جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ ایک حل یہ ہو سکتا ہے کہ بیلٹ پیپرز پر امیدواروں کی تصاویر لگا دی جائیں، ایڈوکیٹ جنرل کے پی نے کہا کہ حل جو بھی ہو الیکشن کمیشن تب تک کچھ نہیں کر سکتا جب تک صوبائی حکومت رولز میں ترمیم نا کر لے، جسٹس عمر عطابندیال نے کہا کہ ایک ہفتے کا وقت دیتے ہیں تمام فریقین اپنی تجاویز سے عدالت کی معاونت کریں، جسٹس سجاد علی شاہ نے کہا کہ صاف شفاف انتخابات الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے، اگر الیکشن کمیشن آ کر کہے کہ انہیں انتخابات کرانے میں وقت درکار نہیں تو مسئلہ ختم ہو جائے گا

    قبل ازیں سپریم کورٹ میں ایف ڈبلیو او کے زمینوں کے حصول سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی سپریم کورٹ نے ایف ڈبلیو او کی تشکیل کا صدارتی حکم طلب کرلیا ، جسٹس جمال خان مندو خیل نے کہا کہ کیا حکم دیتے وقت جنرل یحییٰ ہوش و حواس میں تھے ؟ جسٹس سردار طارق نے کہا کہ ملک میں مختلف عمارتوں سے ریکارڈ غائب کرنے کیلئے تو آگ لگتی رہی ہے،ایوان صدر میں تو آج تک آگ بھی نہیں لگی ،ایف ڈبلیو او تو یہ بھی نہیں کہہ سکتی کہ آگ لگ گئی صدارتی حکم نہیں مل رہا ،اب ایوان صدر میں آگ نہ لگ جائے ایف ڈبلیو او کے وکیل بتائیں کہ صدارتی حکم کی اہمیت ہے یا نہیں؟ کہتے ہیں تو کیس کو صدارتی حکم کے بغیر ہی چلا کر فیصلہ کرتے ہیں، ایف ڈبلیو او کا وجود اور اختیارات کیس کے بنیادی نقطے ہے،وکیل احسن بھون نے کہا کہ صدارتی حکم کی تلاش کیلئے مزید مہلت دی جائے،عدالت نے کیس کی سماعت غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی کردی

    قبل ازیں سپریم کورٹ میں تھرپارکر میں غذائی قلت سے بچوں کی ہلاکتوں سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی . جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم نے خود سول اسپتال مٹھی کا دورہ کیا ،کوئی سہولت نہیں تھی ، آپریشن تھیٹر مارچری لگ رہا تھا اسپتال میں ایک ڈاکٹر تھا جس نے کہا رات کو بتایا گیا ہے کل آجانا ،چیف جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ تھرپارکر میں بہت برا حال ہے ،لوگ اللہ کے سہارے پڑے ہیں بجلی بھی 2 گھنٹے کیلئے آتی ہے ،پانی کیلئے بارش کا انتظار کرتے ہیں ،جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آر او پلانٹس پر کروڑوں روپے لگادیئے جو سب خراب ہیں ،چیف جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ تھرپارکر میں صرف بھرتیاں ہورہی ہیں ،وہاں کوئی کام کرنے والا نہیں دس، پندرہ ہزار صحت کا عملہ ہوگا مگر کوئی نظر نہیں آتا ،

    @MumtaazAwan

    کراچی کو مسائل کا گڑھ بنا دیا گیا،سرکاری زمین پر قبضہ قبول نہیں،کلیئر کرائیں، چیف جسٹس

    سپریم کورٹ کا کراچی کا دوبارہ ڈیزائن بنانے کا حکم،کہا آگاہی مہم چلائی جائے

    وزیراعظم کو بتا دیں چھ ماہ میں یہ کام نہ ہوا تو توہین عدالت لگے گا، چیف جسٹس

    تجاوزات ہٹانے جائینگے تو لوگ گن اور توپیں لے کر کھڑے ہوں گے،آرمی کو ساتھ لیجانا پڑے گا، چیف جسٹس

    سرکلر ریلوے، سپریم کورٹ نے بڑا حکم دے دیا،کہا جو بھی غیر قانونی ہے اسے گرا دیں

    ہم نے کہا تھا کیسے کام نہیں ہوا؟ چیف جسٹس برہم، وزیراعلیٰ کو فوری طلب کر لیا

    آپ کی ناک کے نیچے بحریہ بن گیا کسی نے کیا بگاڑا اس کا؟ چیف جسٹس کا استفسار

    آپ کو جیل بھیج دیں گے آپکو پتہ ہی نہیں ہے شہر کے مسائل کیا ہیں،چیف جسٹس برہم

    کس کی حکومت ہے ؟ کہاں ہے قانون ؟ کیا یہ ہوتا ہے پارلیمانی نظام حکومت ؟ چیف جسٹس برس پڑے

    شہر قائد سے تجاوزات کے خاتمے کیلئے سپریم کورٹ کا بڑا حکم

    کراچی میں سپریم کورٹ کے حکم پرآپریشن کا آغاز،تاجروں کا احتجاج

    سو برس بعد بھی قبضہ قانونی نہیں ہو گا،سپریم کورٹ کا بڑا حکم

    ہزاروں اراضی کے تنازعات،زمینوں پر قبضے،ہم کون سی صدی میں رہ رہے ہیں ؟ چیف جسٹس

    نسلہ ٹاور گرانے سے متعلق نظر ثانی اپیلوں پر سپریم کورٹ کا فیصلہ آ گیا

    پاک فوج کے پاس مشینری موجود، جائیں ان سے مدد لیں،نسلہ ٹاور گرائیں، سپریم کورٹ

    عہدہ چھوڑ دیں، آپ کے کرنے کا کام نہیں،نسلہ ٹاور نہ گرانے پر سپریم کورٹ برہم

    کنٹونمنٹ والوں پر قانون لاگو نہیں ہوتا ؟ کھمبوں پر سیاسی جماعتوں کے جھنڈے کیوں؟ پاکستان کا پرچم لگائیں ،سپریم کورٹ

    دفاعی اداروں کی جانب سے کمرشل کاروبار ،سیکریٹری دفاع کونوٹس جاری

    ریاست فیل،مکمل تباہی، کیا آپ ہی کو فارغ کردیں؟ سپریم کورٹ کے اہم ترین ریمارکس