پشاور: صوبائی کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) نے تھریٹ الرٹ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ افغانستان میں مقیم ایک قاتل کو سابق وزیراعظم عمران خان کو نشانہ بنانے کا ٹاسک سونپا گیا ہے جو ممکنہ طور پر حملہ کرسکتا ہے۔
باغی ٹی وی : خبررساں ادارے دی نیوز کے مطابق سی ٹی ڈی خیبر پختونخوا نے تھریٹ الرٹ جاری کیا جس میں کہا گیا ہے کہ دہشتگرد، سابق وزیر اعظم عمران خان کے قتل کی منصوبہ بندی کررہے ہیں دہشتگردوں نے افغانستان کے ایک قاتل کی خدمات حاصل کی ہیں جو ممکنہ طور پر حملہ کرسکتا ہے۔
حالیہ دنوں میں پی ٹی آئی کے رہنما ان خدشات کا اظہار کرچکے ہیں کہ سابق وزیراعظم کو قتل کرنے کے لیے ایک ٹارگٹ کلر کی خدمات حاصل کی گئی ہیں۔
مذکورہ تھریٹ الرٹ کے متن کا اشتراک مختلف فورمز پر کیا گیا ہے جس کے مطابق افغانستان کے ایک قاتل کو ذمہ داری دی گئی ہے کہ وہ عمران خان کو ٹارگٹ کرے جب کہ قاتل نے یہ ذمہ داری دوسروں کے سپرد کی تھی، تمام متعلقہ اداروں کو ہدایت جاری کی گئی ہے کہ وہ تھریٹ الرٹ کے تناظر میں سابق وزیر اعظم کی سکیورٹی کے لیے ہر ممکن اقدامات کریں۔
خیبر پختونخوا کے ایک سینئر پولیس افسر نے تصدیق کی ہے کہ سی ٹی ڈی نے تھریٹ الرٹ 18 جون کو جاری کیا تھادلچسپ بات یہ ہے کہ تھریٹ الرٹ میں کہا گیا ہے کہ اسے خفیہ رکھا جائے اور سوشل میڈیا پر اسے لیک نہ کیا جائے۔
پی ٹی آئی رہنما فیاض الحسن چوہان نے ٹوئٹ کی تھی کہ رپورٹس ہیں کہ ایک دہشتگرد کو عمران خان کو ٹارگٹ کرنے کی ذمہ داری دی گئی ہے جب کہ پی ٹی آئی کے ایک ورکر نے ایسی ہی بات کی کہ قاتل نے اسلام آباد اور راولپنڈی کے جڑواں شہروں میں ایک گھر بھی حاصل کرلیا ہے۔
ماضی میں بھی متعدد سیاسی رہنماؤں سے متعلق تھریٹ الرٹس جاری کیے گئے تھے جس میں متعلقہ اداروں سے سخت سکیورٹی فراہم کرنے کا کہا گیا تھا۔
ڈی آئی جی سی ٹی ڈی کے دفتر سے جاری تھریٹ الرٹ میں متعلقہ حکام کو پی ٹی آئی چیئرمین کے لیے حفاظتی اقدامات کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
دریں اثنا، وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے انسانی اسمگلنگ میں ملوث ایک گروہ کا پردہ فاش کیا ہے یک اہلکار نے بتایا کہ ایف آئی اے کے انسداد انسانی سمگلنگ سیل نے گینگ کے چار ارکان کو گرفتار کیا، جو لوگوں کو ایران کی سرحد پر لے جاتے تھے اور انہیں غیر قانونی قید میں ڈال کر تشدد کا نشانہ بناتے تھے اور بعد ازاں ان کی ویڈیوز متاثرین کے اہل خانہ کو بھیج کر بھتہ کا مطالبہ کرتے تھے۔
اہلکار نے بتایا کہ ایف آئی اے کی ایک ٹیم نے قصہ خوانی بازار پر چھاپہ مارا جہاں انہوں نے پشاور کے رہائشی ایک افغان شہری حبیب الرحمان اور ضلع کرم کے رہائشی لیاقت حسین کو گرفتار کیا۔ اس مقدمے میں دو دیگر انسانی سمگلروں، اختر گل اور عزیز مہمند کو پہلے ہی گرفتار کیا جا چکا ہے۔