Baaghi TV

Tag: تھیٹر

  • پنجاب: اسٹیج ڈراموں  میں  106 پنجابی گانوں پر پابندی عائد

    پنجاب: اسٹیج ڈراموں میں 106 پنجابی گانوں پر پابندی عائد

    پنجاب میں تھیٹر پر پیش کیے جانے والے 106 پنجابی گانوں پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔

    پنجاب آرٹس کونسل اور محکمہ اطلاعات و ثقافت پنجاب کے مطابق یہ اقدام اسٹیج ڈراموں کو معیاری تفریح بنانے اور فیملی تھیٹر کے فروغ کے لیے کیا گیا ہےجن گانوں پر پابندی لگائی گئی ہے، ان کی فہرست لاہور سمیت پنجاب بھر کے تمام تھیٹرز کو ارسال کر دی گئی ہے۔ اسٹیج مانیٹرنگ ٹیم کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ان 106 گانوں کو تھیٹر ڈراموں میں سنسر یا اجازت نہ دے۔

    سرکاری مؤقف کے مطابق اس فیصلے کا مقصد تھیٹر کو مہذب اور فیملی تفریح کا ذریعہ بنانا ہے تاکہ ناظرین کو معیاری مواد فراہم کیا جا سکے اور اسٹیج ڈراموں کا معیار بہتر بنایا جا سکےس اقدام کو اسٹیج ڈراموں میں بڑھتی ہوئی بے راہ روی اور غیر اخلاقی مواد کے خلاف ایک بڑے کریک ڈاؤن کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

    پاکستان کی شہریوں کو ایران کے غیر ضروری سفر سے گریز کی ہدایت

    آرٹس کونسل کا کہنا ہے کہ اس فیصلے سے تھیٹر کے وقار میں اضافہ ہوگا اور خاندانوں کے لیے محفوظ اور خوشگوار ماحول میسر آئے گا، جبکہ خلاف ورزی کرنے والے پروڈیوسرز اور اداکاروں کے خلاف سخت تادیبی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

    نیو اسلام آباد ائیرپورٹ ، حیدرآباد اور سکھر الیکٹرک سپلائی کمپنی کی نجکاری کیلئے کمیٹی قائم

  • صوبہ بھر میں تھیٹرز کے ڈرامہ سکرپٹ منسوخ

    صوبہ بھر میں تھیٹرز کے ڈرامہ سکرپٹ منسوخ

    صوبائی وزیر اطلاعات و ثقافت عامر میر کی ہدایت پر پنجاب آرٹس کونسل نے صوبہ بھر میں تھیٹرز کے ڈرامہ سکرپٹ منسوخ کر دئیے۔

    صوبائی وزیر اطلاعات و ثقافت عامر میر کا کہنا تھا کہ سکرپٹ منسوخی کی بنیادی وجہ ہوم ڈیپارٹمنٹ کے جانب سے ایس او پیز کی خلاف ورزی تھی۔ منسوخی کے بعد اب کوئی بھی تھیٹر ڈرامہ نہیں دکھا سکے گا۔ نئے ڈرامہ سکرپٹس کی منظوری ترمیم شدہ ڈرامہ ایکٹ نافذ ہونے پر دی جائے گی۔ پنجاب آرٹس کونسل بہترین اور معیاری ڈراما سکرپٹ کی منظوری کو یقینی بنائے گی۔اس سے پہلے مس کنڈکٹ کرنے والے ایکٹرز اور ڈائریکٹرز پر بھی پابندی لگ چکی ہے۔ ترمیم شدہ ایکٹ میں سٹیج ڈراموں سے ڈانسز نکال دیے گئے ہیں۔

    دوسری جانب وزیر اطلاعات و ثقافت پنجاب عامر میر کی زیر صدارت پنجاب کونسل آف آرٹس کے بورڈ آف گورنرز کا اجلاس 8 برس کے طویل وقفے کے بعد منعقد ہوا۔ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے عامر میر نے کہا کہ بورڈ آف گورنرز کے اجلاس کا مقصد پنجاب میں آرٹ اور کلچر کی ترویج کا موثر روڈ میپ بنانا ہے۔ پنجاب کی تمام 12 آرٹس کونسلز کو مکمل طور پر فعال کرنے کے لیے پلان تیار کر لیا گیا ہے۔ اجلاس کے دوران بورڈ آف گورنرز نے متفقہ طور پر مری میں 6 برس سے تالا بند آرٹس کونسل کے سینما گھر کو 8 ستمبر سے کھولنے کا فیصلہ کیا۔

    اجلاس میں ریٹائرڈ فنکاروں کو پنجاب حکومت کی جانب سے ماہانہ اعزازیہ دینے کی پر زور سفارش کی گئی جسے حتمی منظوری کے لیے وزیراعلیٰ پنجاب محسن نقوی کے سامنے پیش کیا جائے گا۔ اجلاس میں 150 برس پرانے ڈرامیٹک پرفارمینس ایکٹ 1876 میں ترامیم کا فیصلہ بھی کیا گیا۔ اس موقع پر عامر میر نے کہا کہ سٹیج ڈراموں میں لچر بازی اور فحاشی کو آرٹ اینڈ کلچر قرار نہیں دیا جاسکتا۔ فنون لطیفہ کی بحالی کے لیے جامع حکمت عملی تیار کرنے پر کام شروع کر دیا گیا ہے۔

    پنجاب آرٹس کونسل کے اجلاس کے دوران متفقہ طور پر آرٹس کونسلز کے ضلعی مینجمنٹ بورڈ تشکیل دینے کی منظوری دی گئی۔ اس کے علاوہ یہ فیصلہ بھی ہوا کہ آرٹ اینڈ کرافٹ میوزیمز کے بورڈ آف گورنرز کی از سر نو تشکیل کی جائے۔ یہ بھی طے ہوا کہ آرٹس کونسلز کی تمام عمارتوں کی مرمت اور بحالی کے لیے خصوصی فنڈ قائم کیا جائے گا۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ آرٹسٹک سرگرمیوں کے فروغ کے لیے پنجاب کے 24 اضلاع میں آرٹس کونسل کے دفاتر قائم کیے جائیں گے۔ آرٹس کونسل کے دفاتر ابتدائی طور پر ڈی جی پی آر کے دفاتر سے استفادہ کریں گے۔ اس موقع پر عامر میر نے کہا کہ اس اجلاس کے فیصلوں کے فوری فالو اپ کے لیے پنجاب آرٹس کونسل کے بورڈ آف گورنرز کا اگلا اجلاس 16 اکتوبر کو ہوگا۔

    بورڈ آف گورنرز کے اجلاس میں سیکرٹری انفارمیشن پنجاب علی نواز ملک اور پنجاب آرٹس کونسل کے سربراہ بلال حیدر کے علاوہ پنجاب کالج آف آرٹس کی پرنسپل سمیرا جواد، ڈرامہ آرٹسٹ نعیم طاہر، راشد محمود، شجاعت ہاشمی، آرکیٹیکٹ کامل خان، معروف پینٹر شاہنواز زیدی، مسعود شورش، پنجابی شاعر خالد مسعود، اور شاعرہ ثروت محی الدین نے بھی شرکت کی

    فرح خان کتنی جائیدادوں کی مالک ہیں؟ تہلکہ خیز تفصیلات سامنے آ گئیں

    بنی گالہ میں کتے سے کھیلنے والی فرح کا اصل نام کیا؟ بھاگنے کی تصویر بھی وائرل

    بشریٰ بی بی کی قریبی دوست فرح نے خاموشی توڑ دی

    کمسن بچوں کے ساتھ گھناؤنا کام کرنیوالا سفاک ملزم اہل محلہ نے پکڑ لیا،فحش ویڈیوز بھی برآمد

     فحش حرکات کرنے والی 18 ڈانسرز پر پنجاب بھر میں پابندی عائد کرنے کا فیصلہ

    یاد رہے کہ اس سے پہلے عامر میر نے الحمراء مال روڈ لاہور میں فحش ڈانس کرنے اور فحاشی پھیلانے پر سخت ایکشن لیتے ہوئے سٹیج ڈراموں کو فوری طور پر بند کرنے کے احکامات جاری کیے۔ ان ڈراموں کے پروڈیوسرز اور ڈائریکٹرز پر نہ صرف پابندی عائد کی گئی بلکہ فحش اور بیہودہ حرکات کرنے والی ڈانسرز شمع رانا اور پائل چوہدری کے خلاف ایف آئی آرز بھی درج کروائی گئیں۔ اس کے علاوہ عامر میر کی ہدایت پر الحمراء مال روڈ میں ہر قسم کے کمرشل سٹیج ڈراموں پر مکمل پابندی بھی عائد کر دی گئی ہے۔

  • تھیٹر کی تباہی، سہیل احمد برس پڑے

    تھیٹر کی تباہی، سہیل احمد برس پڑے

    اداکار سہیل احمد جنہوں نے سٹیج سے بے پناہ شہرت حاصل کی ان کی جوڑی ببو برال ، شوکی خاں امان اللہ کے ساتھ کافی ہٹ تھی. انہوں نے اپنے حالیہ انٹرویو میں کہا ہے کہ تھیٹر اب وہ تھیٹر نہیں رہا جو ایک وقت میں ہوتا تھا. انہوں نے کہا کہ ہم نے خود تھیٹر کی تباہی کی، غلیظ جگتیں غلیظ ڈانسز نے تھیٹر کی تباہی کرکے رکھ دی . میں چیختا رہا کہ تھیٹر تباہ ہو رہا ہے ہم تھیٹر کو کس طرف لیکر جا رہے ہیں لیکن میری کسی نے بھی نہ سنی . میں حکمرانوں سے ملا ، وزیر ثقافت کو کئی بار کئی حکومتوں‌کے دوران ملا لیکن میری بات کسی نے نہیں سنی اور

    تھیٹر کو تباہی کے لئے چھوڑ دیا گیا. آج کیا ہورہا ہے تھیٹر پر ؟ شرم آتی ہے سن کر وہاں جو زبان استعمال ہوتی ہے. فیملیاں آج تھیٹر سے ناراض‌ ہیں وہ تھیٹر کی طرف جانے کو تیار نہیں ہیں. کبھی کسی نے سنا کہ پارلیمنٹ‌میں کلچر پر گفتگو ہوئی؟ نہیں کسی کو پرواہ ہی نہیں. وزیراطلاعات و نشریات کے ساتھ ایک دم چھلا لگا دیا جاتا ہے ، اطلاعات و نشریات تو اپنے لیڈر کے لئے ہوتی ہے ،کلچر اور عوام بھاڑ میں جائیں . مجھے افسوس ہے آج جو تھیٹر کی صورتحال ہے.

  • رقص تھیٹر کی ضرورت ہے بند کر دیا گیا تو تھیٹر بھی بند ہوجائیگا خوشبو

    رقص تھیٹر کی ضرورت ہے بند کر دیا گیا تو تھیٹر بھی بند ہوجائیگا خوشبو

    سٹیج سے شہرت سمیٹنے والی اداکارہ خوشبو خان نے اپنے ھالیہ انٹرویو میں کہا ہےکہ نئی لڑکیاں محنت سے جی چراتی ہیں جبکہ ہم نے بہت کام کیا ہے. انہوں نے کہاکہ اس فیلڈ میں کیا کسی بھی فیلڈ میں آپ سفارش سے چلے تو جاتے ہیں کوئی پراجیکٹ بھی حاصل کر لیتے ہیں لیکن اگر آپ میں ٹیلنٹ نہ ہو تو نہیں‌چلتے اور آپ کا کوئی مستقبل نہیں‌بنتا.انہوں نے کہا کہ سٹیج ڈرامہ ویسا ہی دکھایا جا رہا ہے جیسا لوگ دیکھنا چاہتے ہیں. اور جہاں تک رقص کی بات ہے تو تھیٹر میں رقص کو بہت پسند کیا جاتا ہے رقص وقت کی اہم ضرورت ہے اگر اسے بند کر دیا گیا تو تھیٹر بھی بند ہو جائیگا. انہوں نے کہا کہ میں مانتی ہوں کہ سٹیج ڈرامے میں‌بہتری کی ضرورت ہے لیکن افسوس کے اس میں بہتری کے لئے اقدامات نہیں

    اٹھائے جا رہے. ہم سب کو سٹیج کی مزید بہتری کےلئے مل کر کام کرنا ہو گا . انہوں نے کہا کہ میں نے بہت محنت سے مقام حاصل کیا ہے. دن رات محنت کی تب یہ نام یہ شہرت نصیب ہوئی . یاد رہے کہ خوشبو خان کا شمار سٹیج کی بہترین اداکارائوں میں‌ہوتا ہے انہوں نے ارباز خان کے ساتھ شادی کی اور ان کے دو بیٹے شوبز میں اینٹری دے چکے ہیں .

  • سٹیج سے شائقین بالکل خفا نہیں  نسیم وکی

    سٹیج سے شائقین بالکل خفا نہیں نسیم وکی

    گزشتہ روز نسیم وکی کی انڈین پنجابی فلم ”ماں دا لاڈلا” کی لاہور میں سکریننگ ہوئی، سکریینگ میں انہوں نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ایسی بات بالکل نہیں ہے کہ ڈرامہ شائقین سٹیج سے خفا ہو کر گھر بیٹھ گئے ہیں. ایک وقت تھا جب لاہور میں دو تین تھیٹر ہوا کرتے تھے آج ان کی تعداد کافی بڑھ چکی ہے. ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ جب کوئی چیز اچھی چل رہی ہو تو لوگ اس کا حصہ بنتے جاتے ہیں جب نہ اچھی چل رہی ہو تو لوگ اس میں سے نکلتے جاتے ہیں. تو بہت سارے آرٹسٹ سٹیج کرتے رہے اور بہت ساروں نے چھوڑ بھی دیا لیکن سٹیج آج

    تک چل رہا ہے اور لوگ اسے پسند کررہے ہیں. فیملیاں بھی بڑی تعداد میں آتی ہیں لہذا میں اس تاثر کی نفی کرتا ہوں کہ فیملیاں سٹیج کا رخ کرنا چھوڑ گئی ہیں. نسیم وکی نے ماں دا لاڈلا فلم کے حوالے سے کہا کہ اس فلم میں کام کرنے کا بہت مزہ آیا . میں‌نے ہمیشہ کوشش کی ہے کہ میں ایسا کام کروں کہ جس سے پاکستانیوں کا سر فخر سے بلند ہو، میرے مداح اس فلم کو دیکھ کر یقینا بہت زیادہ خوش ہوں گے. قیصر پیا کی یقینا یہ پہلی انڈین پنجابی فلم ہے انہوں نے بھی فلم میں بہت اچھا کردار ادا کیا ہے.

  • حنا شاہن کی 10 سال کے بعد سٹیج پر واپسی، نامناسب لباس پہن کر رقص

    حنا شاہن کی 10 سال کے بعد سٹیج پر واپسی، نامناسب لباس پہن کر رقص

    سٹیج کا زکر کرتے ہی چند ایک ایسی اداکارائیں ہیں جن کا نام ذہن میں ابھرتا ہے ان میں حنا شاہن کا نام قابل زکر ہے .حنا شاہین نے دس سال پہلے تھیٹر کو خیرباد کہہ دیا تھا لیکن اب پھر اچانک سے انہوں نے تھیڑ پر اپنی واپسی کر لی ہے. وہ دس سال پہلے تک جب تھیٹر کر رہی تھیں تو تب بھی ان پر نامناسب لباس پہن کر رقص کرنے کا الزام تھا انہوں نے سٹیج پر واپسی کرتے ساتھ ہی وہی کچھ دوبارہ شروع کر دیا ہے.یعنی نامناسب لباس زیب تن کرکے رقص کررہی ہیں. رپورٹس کے مطابق حنا

    شاہین کی واپسی اور اسی انداز میں واپسی جس میں وہ پہلے کام کررہی تھیں اسکو تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے. سنجیدہ تھیٹر دیکھنے والے لوگ حنا شاہین سے نالاں نظر آرہے ہیں ان کا کہنا ہے کہ سٹیج کو بہتر کرنے کی بجائے پھر وہی کچھ کیا جا رہاہے جس کی وجہ سے لوگ اور فیملیاں سٹیج سے ناراض ہو کر گھر بیٹھ گئیں تھیں اگر یہی کچھ ہوتا رہا تو یقینا سٹیج مزید پستی میں جائیگااور ویسے بھی اداکارہ کی عمر کافی ہو گئی ہے ان کو یہ سب کرنا ویسے ہی زیب نہیں دیتا. لوگوں کے اعتراض کے حوالے سے حنا شاہن تاحال خاموشی ہی اختیار کئے ہوئے ہیں، انہوں‌نے اپنے لباس اور رقص پر تنقید کرنے والوں کو جواب نہیں دیا.