Baaghi TV

Tag: تہذیب

  • اداکارہ رانی کی 29 ویں برسی آج بنائی جا رہی ہے

    اداکارہ رانی کی 29 ویں برسی آج بنائی جا رہی ہے

    پاکستان فلم انڈسٹری پر راج کرنے والی اداکارہ رانی کی آج 29 ویں برسی منائی جا رہی ہے کینسر جیسے موذی مرض میں مبتلا ہو کر جان کی بازی ہار گئیں تھیں. ناصرہ سے رانی بننے والی اس اداکارہ کی ابتدائی فلمیں فلاپ رہیں یوں یہ کہا جانے لگا کہ رانی جس فلم میں ہوتی ہیں وہ فلاپ ہو جاتی ہے لیکن رانی کی قسمت کا ستارا چمکا اور انہوں‌ نے اپنے ناقدین کو ثابت کیا کہ وہ بہترین اداکارہ ہیں ایک کے بعد ایک سپر ہٹ فلم دینے والی اس اداکارہ نے انور کمال پاشا کی فلم ” محبوب” سے فنی کیرئیر کا آغاز کیا اس کے بعد انہوں‌ نے فلم موج میلہ میں کام کیا. رانی نے اپنے دور کے ہر بڑے ہیرو کے ساتھ کام کیا لیکن ان کی جوڑی فلمسٹار شاہد اور وحید مراد کے ساتھ بہت سراہی گئی.رانی کو ڈانس پر مہارت حاصل تھی ہر کردار میں حقیقت کے رنگ بھر دینے والی اس اداکارہ نے اردو کے ساتھ پنجابی فلموں میں‌ بھی کام کیا اور دونوں میڈیم میں ہٹ رہیں.

    سپر ہٹ اداکارہ رانی کو سنوتش کمار نے فلم ” دیور بھابھی” میں وحید مراد کے مقابلے میں‌کاسٹ کیا اس فلم کے بعد انہیں کافی زیادہ نوٹس کیا گیا.1968 میں ان کی نو فلمیں ریلیز ہوئیں اور ان میں سے تقریبا فلمیں‌ہٹ رہیں یہ وہ دور تھا جب رانی لالی وڈ پر چھا چکییں تھیں اور پرڈیوسرز کی پہلی چوائس بن چکی تھیں . رانی نے انجمن،تہذیب، سونا چاندی ،مکھڑا چن ورگا،دل میرا دھڑکن تیری،بہارو پھول برسائو،ناگ منی ،ایک گناہ اور سہی ،ثریا بھوپالی، بہن بھائی میرا گھر میری جنت،شمع اور پروانہ ،امرائو جان،دیدار جیسی شاندار فلموں میں‌اپنی اداکاری کے جوہر دکھائے. ان کے کئی گیت مقبول ہوئے جن میں‌” دل دھڑکے میں تم سے یہ کیسے کہوں، میں جس دن بھلا دوں تیرا پیار دل سے ، جو بچا تھا وہ لٹانے کے لئے آئے ہیں قابل ذکر ہیں. رانی نے بڑی سکرین کے ساتھ ساتھ چھوٹی سکرین پر بھی اپنے فن کا جادو بکھیرا انہوں‌ نے ڈرامہ سیریل ”خواہش” میں کام کیا ان کے پرستاروں‌ نے یہاں بھی انہیں خوب پسند کیا. رانی آج ہم میں‌ نہیں‌ ہیں لیکن اپنی بے مثال اداکاری کی بدولت وہ آج بھی ہمارے دلوں میں زندہ ہیں.

  • جنوبی پنجاب لوک ورثہ میلہ،  لاک ڈاؤن کے بعد عوام کو مثبت تفریحی موقعے کا تحفہ

    جنوبی پنجاب لوک ورثہ میلہ، لاک ڈاؤن کے بعد عوام کو مثبت تفریحی موقعے کا تحفہ

    ملتان کی اولیاء کرام کی دھرتی کے باسیوں کیلئے طویل لاک ڈاؤن کے بعد اچھی خبرآئی ہے- ڈویژنل انتظامیہ کا خطے کی صدیوں پرانی تہذیب عالمی سطح پر اجاگر کرنے کا فیصلہ کرلیا گیا ہے- ۔کمشنر جاوید اختر محمود نے جنوبی پنجاب لوک ورثہ میلہ سجانے کا حکم جاری کردیا ہے-

    کمشنر جاوید اختر محمود کی ہدایت پر قلعہ کہنہ قاسم باغ پر میلہ سجانے کی تیاریاں شروع کردی گئےں- لوک ورثہ میلہ کے انتظامات بارے کمیٹی مخلتف محکموں پر مشتمل خصوصی کمیٹی بھی تشکیل کردی گئی – کمشنر ملتان نے کہا کہ جنوبی پنجاب لوک ورثہ میلہ میں اس خطے کا کلچر اجاگر کیا جائے گا۔ سرکاری و نجی اداروں سمیت سول سوسائٹی کو مخلتف کلچرل سٹالز لگانے کیلئے مدعو کیا جائے گا۔ جاوید اختر محمود کا کہنا تھا کہ عوام کو کرونا لاک ڈاؤن کے بعد مثبت تفریحی مواقع دینے کیلئے کوشاں ہیں۔ لوک ورثہ میلہ کے ذریعے اس خطے کا ٹیلنٹ اور ہنر سامنے لانا مشن ہے۔ شہریوں اور فنکاروں میں لوک ورثہ میلہ کے حوالے سے دیدنی جوش و خروش- ڈپٹی کمشنر ملتان کنوینئر، ڈائریکٹر لوکل گورنمنٹ شریک کنوینئر مقرر کردیے گئے-

    ملتان میں ریجنل ڈائیریکٹر سمال انڈسٹریز سیکرٹری، سی پی او ملتان ممبر کمیٹی مقرر کردیے گئے ہیں- ڈی جی پی ایچ اے، ایم ڈی سالڈ ویسٹ مینجمنٹ کمپنی ممبران کمیٹی ہونگے- چیف کارپوریشن افسر، ڈپٹی ڈائریکٹر انفارمیشن، ڈائیریکٹر آرٹس کونسل کمیٹی میں شامل ہوں گے- سی ٹی او، سی او ہیلتھ، سول ڈیفنس افسر، ضلعی افسر ریسکو 1122 کمیٹی کا حصہ رہیں گے-

  • تعلیم کے نام پہ ناچ گانا ۔۔۔ صالح عبداللہ جتوئی

    تعلیم کے نام پہ ناچ گانا ۔۔۔ صالح عبداللہ جتوئی

    ماں کی گود بچے کی پہلی درسگاہ اور تربیت گاہ ہوتی ہے اور میرا ماننا ہے کہ والدین کی تربیت کے ساتھ ساتھ سکول میں بھی بچوں کی تربیت کی بہت زیادہ اہمیت ہے اور تعلیمی ادارے بھی بچے کی ثانوی تربیت گاہ کا درجہ اختیار کر چکے ہیں اب والدین اور سکول دونوں بچے کی تربیت کے ذمہ دار ہیں.

    کافی دنوں سے کچھ ویڈیوز نظروں سے گزری جس میں ایک عورت جو کہ ماسٹر ٹرینر ہیں جو مرد و زن اساتذہ کرام کو ایک ساتھ ٹریننگ دے رہی ہیں لیکن اس ٹریننگ میں وہ بچوں کو پڑھانے کے اطوار کی بجاۓ ان کو بے ہودگی کی طرف مائل کرنے کے طریقے سکھا رہی ہے تنگ لباس گلے میں دوپٹہ لئے ڈانس کے ذریعے اساتذہ کرام کو کونسے گر سکھاۓ جا رہے ہیں کبھی ٹریننگ کے نام پہ گھٹیا حرکتیں کی جا رہی ہیں کبھی بے ہودہ قسم کی سرگرمیاں سرانجام دی جا رہی ہے اب یہ ٹھونس اور زبردستی کی ٹریننگ کروانے کا کیا مقصد ہے کیا ایسی ٹریننگ پہ عمل کرنے والے اساتذہ کرام بچوں کو صحیح معنوں میں تعلیم دے پائیں گے یا پھر بچوں کی تعلیم و تربیت کے نام پہ ناچ گانے کے عمل کو ترویج دیں گے؟

    اس کی کیا وجوہات ہیں ایسی ٹریننگز ہمیں کیوں کروائی جاتی ہے اس کا کس کو فائدہ اور کس کو نقصان ہے اور اس کے مقاصد کیا ہیں؟

    دراصل پاکستان بننے سے پہلے ہم پہ انگریز مسلط تھے اور ان کا ہی نظام تعلیم تھا اور ہماری بدقسمتی ہے کہ ہم نے 1947ء میں ان سے چھٹکارا تو حاصل کر لیا تھا لیکن ان کا نظام تعلیم آج بھی ہم پہ مسلط ہے جس سے ابھی تک ہم خلاصی نہیں پا سکے.

    آج ہمارے ملک میں QAED وہ ادارہ ہے جو اساتذہ کی سروس سے پہلے اور سروس کے بعد ہونے والی ٹریننگز کو ڈیل کر رہا ہے اور یہ ادارہ بھی British Council کے تعاون سے چل رہا ہے اور کبھی US AID کے نام سے پروجیکٹ شروع کیے جاتے ہیں سو اب جو بھی آپ کے ساتھ تعاون کر رہا ہے اور آپ کے ادارے میں سرمایہ کاری کر رہا ہے تو اس کا کوئی نہ کوئی مقصد ضرور ہو گا اور آپ جانتے ہیں کہ کفار کبھی بھی مسلمانوں کے ساتھ مخلص نہیں ہو سکتے سو ان کا ایک ہی مقصد ہے کہ وہ آپ کے نظام تعلیم پہ راج کرے اور اپنی مرضی کے مطابق اس کو سلو پوائزن دے دے کے تباہ و برباد کر دیں.

    ایسی بے ہودہ ٹریننگز بھی اسی بات کا شاخسانہ ہیں جس میں قابل احترام اساتذہ کو بھی تعلیم کے ڈھنگ سکھانے کی بجاۓ ان کو ناچ گانا سکھایا جاتا ہے ایسی ٹریننگز کا مجھے بھی اتفاق ہوا ہے اور ان میں برٹش کونسل کی طرف سے فنڈنگ ہوتی ہے اور اس میں اردو بولنے کی بالکل بھی اجازت نہیں ہوتی اور صرف اور صرف انگلش بولنے کی پابندی ہوتی ہے یعنی کہ جو فنڈ دے رہے ہیں ان کی زبان کی ترویج ہو گی اور ان کے بناۓ ہوۓ نوٹس لگواۓ جاتے اور ان کی ہدایات پہ مشتمل بے ہودہ سرگرمیاں (جن کا میں پہلے ذکر کر چکا ہوں) کروائی جاتی ہیں اور نہ کرنے والوں کو پیڈا ایکٹ کے نفاذ کی دھمکیاں دی جاتیں ہیں.

    ایسی ٹریننگ کئی حد تک سود مند ہو سکتی ہیں اگر ان کو صحیح مقاصد کو مدنظر رکھتے ہوۓ سرانجام دیا جاۓ تو لیکن یہاں پہ ایسا کچھ نہیں ہے بلکہ اس میں ہونے والی سرگرمیاں انگریزوں کے رسم و رواج کی عکاسی کرتی ہیں اور اپنے وجود کا احساس دلاتی رہتی ہیں اور یہی ان کی سرمایہ کاری کا اصل مقصد ہے.

    ہمیں تو چاہئے تھا کہ ہماری قومی زبان اردو کی ترویج کریں لیکن ہم تو اپنے ہی ملک میں دوسروں کی غلامی کرتے ہوۓ ان کی زبان اور ثقافت کو فروغ دے رہے ہیں جو کہ ہمارے تعلیمی نظام کی ناکامی کا ایک بہت بڑا سبب ہے.

    ہمیں اساتذہ کو اس طرح کی ٹریننگز کروانا ہوں گی جس سے وہ ایک باعمل اور بہترین معلم بن کر قوم کے بچوں کی خدمت کر سکیں نہ کہ مخلوط اور بے ہودہ قسم کی ٹریننگ کروا کے ان کو بھی معلم کی بجاۓ ڈانسر بنا دیا جاۓ.

    سننے میں آیا ہے کہ قائد اعظم اکیڈمی آف ایجوکیشنل ڈیویلپمنٹ (QAED) نے اس عورت کے خلاف سخت ایکشن لیا ہے اور اس ٹرینر کو ہمیشہ کے لیے بلیک لسٹ کر دیا ہے اور اس سرگرمی میں شامل ہونے والے افراد کے خلاف بھی ایکشن لینے کا فیصلہ کیا ہے.

    لیکن سوال یہ ہے کہ اس ایک عورت کو لائف ٹائم بین کرنے سے کیا ہو گا کیونکہ انٹرنیٹ پہ تو بے بہا ایسی ویڈیوز موجود ہیں ان کے خلاف کون ایکشن لے گا کیا ایسے لوگ بچوں کو تعلیم کے ساتھ تربیت بھی دیتے ہوں گے کیا ان جیسے اساتذہ سے بچے اچھی تربیت لے پائیں گے یا وقت کے بہترین ڈانسر بنیں گے کیا ہمارے ادارے اچھے معلم پیدا کریں گے یا صرف فلموں ڈراموں کے ہیرو پیدا کریں گے؟

    ہماری گورنمنٹ آف پاکستان سے اپیل ہے کہ ایسے ٹرینرز کے خلاف ایکشن لینے کی بجاۓ ٹریننگ کا معیار بدلا جاۓ اور اس میں اصلاحات لائی جائیں اور اساتذہ کرام کو ایسی ٹریننگ دی جاۓ جس سے بچوں کو مزید اچھے طریقے سے پڑھانے کے طریقے سکھائیں جائیں اور ان میں جدید ٹیکنالوجی سے مزین اصولوں کو مدنظر رکھا جاۓ تاکہ وہ ہمارے بچوں کی تعمیر و ترقی میں اہم کردار ادا کر سکیں اور ہمارے بچوں کا مستقبل تابناک ہو.
    اللہ ہمارا حامی و ناصر ہو آمین ثم آمین

  • ایریل سرف اور ایریل شیرون ، تہذیب کے دشمن ۔۔۔ اختِ عبداللہ

    ایریل سرف اور ایریل شیرون ، تہذیب کے دشمن ۔۔۔ اختِ عبداللہ

    سابق اسرائیلی وزیرِاعظم (اس کی قبرمیں اللہ کی لعنت ہو)آمین کہہ دیں جوجویہودیوں کےلیےدل میں نرم گوشہ نہیں رکھتے….
    اس لعین ایریل شیرون کےنام پہ ایریل سرف ہے …
    اس بدبخت بھڑئیےنمایہودی کایہ مشغلہ تھاکہ یہ فلسطین کی گلیوں میں نکل جاتااورچن چن کےفلسطینی بچوں کوماردیتااورپھرشیطانی قہقہےبلندکرتا..اس مقصدکےلیےاس خونخواردرندےنےایک اسپیشل پستول خریداہواتھاجس سےاس نے150سےزائدمعصوم صحت مندکھیلتےفلسطینی پھول جیسےبچوں کومارااورکتنی ہی ماؤں کی گودوں کواجاڑا,باپوں کوبےآسراکیااوربہن بھائیوں کوتڑپتاچھوڑگیا…
    اللہ کی لاٹھی بےآوازہے…اس کےقہرکاکوڑاجب برستاہےتوپھرخوب برستاہےاوراک عالم دیکھتاہے….اس وحشی کاانجام پھردنیانےدیکھا….آٹھ سال تک یہ قومےمیں رہا…کوئی نرس,کوئی ڈاکٹروارڈمیں علاج کی غرض سےاس کےپاس جانےکوتیارناہوتاتھااگرہوبھی جاتاتوفورابھاگ کرواپس آجاتا..کیوں کہ اس کےجسم سےاس قدرگھٹیا..گندی اورزہریلی قسم کی بوآتی تھی کہ جس سےڈاکٹراور نرسیں اپنےمونہوں کواچھی طرح لپیٹ لینےکےباوجودبھی بچ ناپاتےتھے …
    آخر…آج سےکوئی ڈیڑھ دوسال پہلےاس جہنمی کی روح نکلی ..اوراس کےاپنےملک کےہی ڈاکٹروں اورنرسوں سےسکھ اورچین کاسانس لیا…
    یہ ہواانجاممسلمانوں کےمعصوم بچوں کواپنےپستول سےبھوننےوالےکا…
    اورآج…………
    پھر..اس اسرائیلی ..یہودی کپمنی نےقرآنِ پاک کی آیت کاایریل سرف کےاشتہارمیں مذاق اڑاناشروع کردیاہے…اللہ کی مارہواس لعنتی قوم پہ …اللہ نےخودقرآن میں اس قوم کولعنتی کہاہے…جن پراللہ کاغصہ ہوا…وہ ذلت اورمحتاجی لےکرلوٹے …..
    اورافسوس تواپنےمسلمانوں اوربرہنہ سروسینہ بیٹیوں پہ ہےجواس دنیاکےچندفانی ڈالروں کےعوض قرآن کی آیات کاسوداکررہےہیں جوکہ ان کولےڈوبےگا…
    آپ سب اپنی آوازقرآن کےحق میں ..قرآن کےدفاع میں اٹھائیں …اس کمپنی کامکمل بائیکاٹ کریں …
    قرآن انسان کےحق میں بھی اورخلاف بھی گواہی دےگا…لہذاوقت ہےکہ …اپنےحق میں گواہی لینےوالےبن جائیں …
    خودتوان کی اپنی عورتیں سڑکوں پہ اورگھروں سےنکل کےذلیل ورسواہوہی رہی ہیں اوراب یہ آزادئ نسواں کےنام پہ مسلمان بیٹیوں,بہنوں اورماؤں کوبھی سڑکوں پہ لاکہ ذلیل کرناچاہتےہیں …
    جب کہ مسلمان عورتوں کی عزت وعافیت اورنجات اپنےگھروں میں ٹکےرہنےپہ ہے…یہ شدیدترین حاسدقوم ہے …جس حاسدقوم نےآج تک ہمارےآخری نبی …پغمبرالزماں محمدالرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کوصرف اورصرف حسد کی وجہ سےتسلیم نہیں کیاوہ اس پیارےنبی کی امت کوکیسےخوش حالی اورنجات کےراستےپہ چلتےبرداشت کرسکتی ہے؟؟؟؟؟
    لہذا…میری اپنی تمام بہنوں سےگزارش ہےکہ …آپ سب اپنااحتجاج جس جس پلیٹ فارم پہ ہیں ضرورریکارڈکروائیں …
    اورسب اپنی اپنی اصلاح کریں ..گھروں میں ٹکی رہیں …اورسڑکوں پہ نکل کےمردوں کےشانہ بشانہ چلنےکی روش کوترک کردیں …
    کیوں کہ …یہ چیزفطرت کےسخت خلاف ہے…
    جب کہ فطرت یہ ہےکہ ..قرآن کہتاہے:
    وللرجال علیہن درجۃ …
    اورمردوں کوان(عورتوں)پرایک درجہ فضیلت دی گئی ہے …اورویسےبھی عورت مردسےچندقدم پیچھےچلتی ہی اچھی لگتی ہے۔
    …ایک اورجگہ اللہ نےفرمایاہے:
    الرجال قوامون علی النسآء…
    مردعورتوں پرنگران ہیں ….توعورت بی کب سےمردوں کےبرابریاان کےاوپرنگران بننےلگ گئی؟؟؟
    جس جس نےآج تک اس
    میدان میں قدم رکھاہےہمیشہ ذلیل ورسواہواہے …اورویسےبھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نےاس قوم کےلیےتباہی اوربربادی کی وعیدسنائی ہےجس کےمعاملات مردوں کی بجائے اس کی عورتوں کےہاتھوں میں ہوں …
    ابھی وقت ہے …اللہ سےڈرجائیے اپنےمردوں کوعزت دیجیئےان کےصحیح فیصلوں کاحترام کیجیئے…اپنی بہترین دنیااورآخرت کےلیےاصلاح کیجیئےاوراس نام نہادخواتین کی آزادی کوبحرِاوقیانوس میں پھینک آئیے …
    اللہ عمل کی توفیق عطاءفرمائےاورہم سب کاحامی اورناصرہو…
    آمین اللہم آمین
    اسلام میں ہرعورت ملکہ ہےکیوں کہ اسلام ہرنےعورت کواپنےگھرکی ملکہ بنایاہے…اورملکہ …آپ سب جانتےہیں …کہ کبھی سڑکوں ..گلی ..کوچوں اوراشتہاروں یااسکرین پہ آکےخودکوبےوقعت نہیں کیاکرتی …
    میں جانتی ہوں کہ میری باتیں بہت ساروں کوبہت کڑوی لگی ہوں گی …اوربہت چبھی بھی ہوں گی …لیکن بہت معذرت کےساتھ …
    یہ میری نہیں اللہ کی مقدس ترین کتاب قرآن کی ہیں …
    اوران پراگرکسی کوغصہ آیاہےتو…میں ہرگزمعذرت نہیں کروں گی …کیوں کہ یہ اللہ کاکلام ہے …
    قدم بڑھائیے!!!
    نجات پائیے!!!
    اسلام راستہ ہےنجات کا
    کوئی فرق نہیں یہاں
    ذات پات کا
    آقاوغلام ایک ہیں
    بندےاللہ کےسبھی,نیک ہیں
    اسلام راستہ ہےفوزوفلاح کا
    جورکھےذوق اس کی چاہ کا
    دی ہےاس نےیہ ضمانت سدا
    لےجوشرف چلنےکااس کی راہ کا
    قدم بڑھائیے!!!!
    نجات پائیے!!!!
    اسلام راستہ ہےنجات کا
    کوئی فرق نہیں یہاں ذات پات کا…