Baaghi TV

Tag: تہمینہ درانی

  • بے وفا اور باغی مصنفہ ،تہمینہ درانی

    بے وفا اور باغی مصنفہ ،تہمینہ درانی

    بے وفا اور باغی مصنفہ ،تہمینہ درانی

    آغا نیاز مگسی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    18 فروری 1953ًً کو پیدا ہونے والی مصنفہ تہمینہ درانی پاکستان کے جاگیردارانہ سماج کی پہلی حوصلہ مند خاتون ہیں جنہوں نے اپنی سوانح حیات پر مشتمل تصنیف ” مائی فیوڈل لارڈ ” جس کا اردو ترجمہ ” میڈا سائیں ” کے عنوان سے کیا گیا ہے ، میں نہ صرف اپنے اس سنگین اخلاقی جرم کا اعتراف کیا ہے کہ انہوں نے اپنے پہلے شوہر انیس احمد سے بیوفائی کر کے پنجاب کے سابق گورنر و سابق وزیر اعلیٰ ملک غلام مصطفیٰ کھر سے ناجائز تعلقات قائم کرتے ہوئے انیس سے طلاق لے کر ملک غلام مصطفیٰ کھر سے ان کی ساتویں بیوی کی حیثیت سے نکاح کیا اور پھر اپنے ہونے والے محبوب شوہر غلام مصطفیٰ کھر کے ہاتھوں نہ صرف جسمانی تشدد کا نشانہ بنتی رہیں بلکہ اپنی چھوٹی بہن عدیلہ کے حوالے سے تذلیل اور تضحیک آمیز مناظر دیکھنا بھی گوارا کرتی رہیں ۔ تہمینہ درانی اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے سابق گورنر اور پاکستان انٹر نیشنل ایئر لائنز (پی آئی اے) کے سابق مینجنگ ڈائریکٹر شاکر اللہ درانی کے گھر میں 18 فروری 1953 میں پیدا ہوئیں۔ 18سال کی عمر میں ان کی شادی لاہور کے انیس احمد سے ہوئی لیکن 3 برس کے مختصر عرصے کے بعد انہوں نے پنجاب کے ایک معروف جاگیردار اور ذوالفقار علی بھٹو کے قریبی ساتھی ملک غلام مصطفیٰ کھر کو اپنا ” ہیرو” بنا لیا جن کے درمیان عمر کے لحاظ سے 20 سال کا فرق موجود تھا جس سے 1975 میں شادی کر لی لیکن تہمینہ درانی کو بہت جلد ہی معلوم ہو گیا بلکہ اپنی غلطی کا احساس ہو گیا کہ وہ اپنے پہلے خاوند کو چھوڑ کر غلام مصطفےٰ کھر سے شادی کرنے کا غلط فیصلہ کر چکی ہے۔ غلام مصطفیٰ کھر تہمینہ درانی سے شادی سے کچھ ہی عرصے بعد ان کی چھوٹی بہن عدیلہ درانی پر فریفتہ ہو گئے اور اس پر ڈورے ڈالنے لگے جس پر غلام مصطفی کھر اور تہمینہ درانی کے مابین شدید اختلافات پیدا ہو گئے اور بالاآخر دونوں کے مابین علیحدگی ہو گئی۔ تہمینہ درانی نے ہمت اور حوصلے کا مظاہرہ کرتے ہوئے ملک غلام مصطفیٰ کھر کا اصل چہرہ بے نقاب کرنے کی غرض سے اپنی آپ بیتی پر مشتمل کتاب ” میڈا سائیں ” لکھ ڈالی جس میں انہوں نے بہت سے سنسنی خیز اور دلچسپ انکشافات کیے اور پاکستان میں جاگیرداروں اور سیاستدانوں کے ظاہری اور باطنی کردار کو عوام کے سامنے لانے کی بھرپور کوشش کی جس سے تہمینہ درانی کو جاگیردارانہ سماج کے خلاف بلند حوصلہ عورت لکھاری کی حیثیت سے بین الاقوامی سطح پر شہرت حاصل ہوئی۔ ایک ایسی عورت جس نے اپنے محبوب شوہر کی خاطر کئی برس جلاوطنی اختیار کی اور بےشمار مسائل اور مشکلات کا سامنا کیا لیکن پھر بھی وہ اپنے جاگیردار خاوند کی اخلاقی اور جسمانی زیادتیوں کا نشانہ بنتی رہی ۔ ملک غلام مصطفی کھر سے علیحدگی کے کافی عرصے بعد افغان قبیلے کی عورت تہمینہ درانی نے پنجاب کے سابق وزیر اعلیٰ اور سابق وزیر اعظم پاکستان میاں محمد شہباز شریف سے تیسری شادی کی اور پاکستان کی وزیر اعظم کی اہلیہ کی حیثیت سے خاتون اول کا قابل فخر اعزاز کیا تاہم شریف خاندان نے تہمینہ درانی کو دل سے قبول نہیں کیا ہے ۔ تہمینہ درانی نے اپنی تصانیف کے ذریعے ایک معتبر و باغی مصنفہ اور ناول نگار کی حیثیت سے اہم مقام حاصل کر لیا ہے اور اب تک ان کی 4 کتابیں شائع ہو چکی ہیں ۔

  • ذوالفقارعلی بھٹو کی پوتی کی شادی میں خاتونِ اول کی شرکت

    ذوالفقارعلی بھٹو کی پوتی کی شادی میں خاتونِ اول کی شرکت

    کراچی: پاکستان کے سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کی پوتی فاطمہ بھٹو کی نکاح کی تقریب میں خاتون اول تہمینہ درانی نے بھی شرکت کی۔

    باغی ٹی وی: فاطمہ بھٹو کے سادگی بھرے نکاح کی تقریب سے تہمینہ درانی نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر ایک تصویر شیئر کی جس میں انہیں دلہن فاطمہ بھٹو اور دولہا جبران کے سر پر شفقت سے ہاتھ رکھے دیکھا جاسکتا ہے۔

    ملک میں معاشی بحران کی وجہ سے شادی کی تقریب کو انتہائی سادہ رکھا،فاطمہ بھٹو


    اپنے ٹوئٹ میں تہمینہ درانی نے لکھا کہ ’فاطمہ بھٹو اور جبران کی شادی پوری قوم کےلیےسادگی کا ایک اہم پیغام ہے70 کلفٹن میں زوالفقار علی بھٹو کی تاریخی لائبریری میں قائم کی گئی اس مثال سے ایک نیا رجحان بننا چاہیے۔

    سلمان خان کو بھارت میں قتل کی دھمکیوں کے بعد کونسا ملک محفوظ لگنے لگا؟

    خیال رہے کہ ذوالفقارعلی بھٹو جونیئر نے اپنے ایک سوشل میڈیا پیغام میں بہن کے نکاح کی خبر سب کو سنائی تھی، انہوں نے کہا تھا کہ میری بہن فاطمہ بھٹو اور جبران کا نکاح ہوگیا، نکاح کی مختصرتقریب 70 کلفٹن کےگھرمیں اپنے داداکی لائبریری میں کی جبکہ فاطمہ بھٹو نے بھی سوشل میڈیا پر اپنی شادی کی اطلاع دیتے ہوئے تصاویر شئیر کیں-

    وزیراعظم کی بارشوں کی صورتحال پر وفاقی وصوبائی اداروں کو الرٹ رہنے کی ہدایت

    انہوں نے بتایا تھا کہ ملک میں جاری معاشی بحران کی وجہ سےانہوں نے اپنی شادی کی تقریب کوانتہائی سادہ رکھنےکا فیصلہ کیا تھا گراہم اورمیں نے گزشتہ روز اپنے آبائی گھر 70 کلفٹن میں چھوٹی سے تقریب میں نکاح کیا ہے، میرے بھائی ذوالفقار نے میری نانی کا امام ضامن میرے بازو میں باندھا۔

  • بے وفا اور باغی مصنفہ

    بے وفا اور باغی مصنفہ

    بے وفا اور باغی مصنفہ

    آغا نیاز مگسی

    تہمینہ درانی پاکستان کے جاگیردارانہ سماج کی پہلی حوصلہ مند خاتون ہیں جنہوں نے اپنی سوانح حیات پر مشتمل تصنیف ” مائی فیوڈل لارڈ ” جس کا اردو ترجمہ ” میڈا سائیں ” کے عنوان سے کیا گیا ہے ، میں نہ صرف اپنے اس سنگین اخلاقی جرم کا اعتراف کیا ہے کہ انہوں نے اپنے پہلے شوہر انیس احمد سے بیوفائی کر کے پنجاب کے سابق گورنر و سابق وزیر اعلیٰ ملک غلام مصطفیٰ کھر سے ناجائز تعلقات قائم کرتے ہوئے انیس سے طلاق لے کر ملک غلام مصطفیٰ کھر سے ان کی ساتویں بیوی کی حیثیت سے نکاح کیا اور پھر اپنے ہونے والے محبوب شوہر غلام مصطفیٰ کھر کے ہاتھوں نہ صرف جسمانی تشدد کا نشانہ بنتی رہیں بلکہ اپنی چھوٹی بہن عدیلہ کے حوالے سے تذلیل اور تضحیک آمیز مناظر دیکھنا بھی گوارا کرتی رہیں ۔

    تہمینہ درانی اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے سابق گورنر اور پاکستان انٹر نیشنل ایئر لائنز (پی آئی اے) کے سابق مینجنگ ڈائریکٹر شاکر الله درانی کے گھر میں 18 فروری 1953 میں پیدا ہوئیں۔ 18سال کی عمر میں ان کی شادی لاہور کے انیس احمد سے ہوئی لیکن 3 برس کے مختصر عرصے کے بعد انہوں نے پنجاب کے ایک معروف جاگیردار اور ذوالفقار علی بھٹو کے قریبی ساتھی ملک غلام مصطفیٰ کھر کو اپنا ” ہیرو” بنا لیا جن کے درمیان عمر کے لحاظ سے 20 سال کا فرق موجود تھا جس سے 1975 میں شادی کر لی لیکن تہمینہ درانی کو بہت جلد ہی معلوم ہو گیا بلکہ اپنی غلطی کا احساس ہو گیا کہ وہ اپنے پہلے خاوند کو چھوڑ کر غلام مصطفےٰ کھر سے شادی کرنے کا غلط فیصلہ کر چکی ہے۔

    غلام مصطفیٰ کھر تہمینہ درانی سے شادی سے کچھ ہی عرصے بعد ان کی چھوٹی بہن عدیلہ درانی پر فریفتہ ہو گئے اور اس پر ڈورے ڈالنے لگے جس پر غلام مصطفی کھر اور تہمینہ درانی کے مابین شدید اختلافات پیدا ہو گئے اور بالاآخر دونوں کے مابین علیحدگی ہو گئی۔ تہمینہ درانی نے ہمت اور حوصلے کا مظاہرہ کرتے ہوئےملک غلام مصطفیٰ کھر کا اصل چہرہ بے نقاب کرنے کی غرض سے اپنی آپ بیتی پر مشتمل کتاب ” میڈا سائیں ” لکھ ڈالی جس میں انہوں نے بہت سے سنسنی خیز اور دلچسپ انکشافات کیے اور پاکستان میں جاگیرداروں اور سیاستدانوں کے ظاہری اور باطنی کردار کو عوام کے سامنے لانے کی بھرپور کوشش کی جس سے تہمینہ درانی کو جاگیردارانہ سماج کے خلاف بلند حوصلہ عورت لکھاری کی حیثیت سے بین الاقوامی سطح پر شہرت حاصل ہوئی۔

    ایک ایسی عورت جس نے اپنے محبوب شوہرکی خاطر کئی برس جلاوطنی اختیار کی اور بےشمارمسائل اور مشکلات کا سامنا کیا لیکن پھر بھی وہ اپنے جاگیردار خاوند کی اخلاقی اور جسمانی زیادتیوں کا نشانہ بنتی رہی ۔ ملک غلام مصطفی کھر سے علیحدگی کے کافی عرصے بعد افغان قبیلے کی عورت تہمینہ درانی نے 2018 میں پنجاب کے وزیر اعلیٰ اور موجودہ وزیر اعظم پاکستان میاں محمد شہباز شریف سے تیسری شادی کی اور وہ اس وقت پاکستان کی وزیر اعظم کی اہلیہ کا قابل فخر اعزاز کی حامل ہیں تاہم شریف خاندان نے تہمینہ درانی کو دل سے قبول نہیں کیا ہے ۔ تہمینہ درانی نے اپنی تصانیف کے ذریعے ایک معتبر و باغی مصنفہ اور ناول نگار کی حیثیت سے اہم مقام حاصل کر لیا ہے اور اب تک ان کی 4 کتابیں شائع ہو چکی ہیں ۔

  • بلقیس ایدھی کی بسترِعلالت سے تصویرمنظرِعام پراورخاتون اول کے چرچے

    بلقیس ایدھی کی بسترِعلالت سے تصویرمنظرِعام پراورخاتون اول کے چرچے

    کراچی :بلقیس ایدھی کی بسترِعلالت سے تصویرمنظرِعام پراورخاتون اول کے چرچے:میڈیا کا نظرکرم اورمیڈیا کا بھرپورانداز سے اس انداز کو وائرل کرنا اہمیت اختیارکرگیا،اطلاعات کے مطابق خدمت خلق کے شعبہ میں پاکستان اور دنیا کی جانی مانی شخصیت عبدالستار ایدھی کی اہلیہ بلقیس ایدھی کی بسترِ علالت سے تصویر پر احسن اقبال نے جلد صحتیابی کا پیغام جاری کیا ہے۔

    دوسری طرف اسی منظر کے حوالے سے ن لیگ کے احسن اقبال نے خاتون اول تہمینہ درانی کے ٹوئٹ کو شیئر کیا جس میں بلقیس ایدھی کو بیمار حالت میں بیڈ پر لیٹے دیکھا جاسکتا ہے۔

     

    تہمینہ درانی نے اپنے ٹوئٹ میں کہا کہ آج بلقیس اور میں اُن کے اسپتال کے کمرے میں زار و قطار رو رہے تھے، وہ ایدھی صاحب کے لیے رو رہی تھیں اور میں ان کے لیے رو رہی تھی۔

    انہوں نے بتایا کہ وہ بہت بیمار ہیں، ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی لکھا کہ جب بلقیس ایدھی نے انہیں ‘خاتون اول‘ کہا تو وہ ایک دم سے ہڑ بڑا گئیں۔خاتونِ اول تہمینہ درانی نے شہباز شریف کی تقریبِ حلف برداری میں شرکت کیوں نہیں کی؟

    تہمینہ درانی نے کہا کہ درحقیقت کوئی ’خاتون اول‘ ’ایدھی کی بلقیس‘ کی عظمت کے برابر نہیں ہو سکتیں۔خاتون اول کے ٹوئٹ پر ردعمل دیتے ہوئے احسن اقبال نے بلقیس ایدھی کی جلد صحتیابی کے لیے دعا کی۔

    یہاں یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ خاتونِ اول کی انسان دوست عبدالستار ایدھی سے خاص رغبت کسی سے ڈھکی چھپی نہیں، انہوں نے ایدھی کی خودنوشت اور سوانح حیات بھی تحریر کر رکھی ہے۔گزشتہ روز انہوں نے ایدھی کی قبر پر فاتحہ بھی پڑھی تھی۔

  • خاتون اول کون؟ وزیر اعظم بننے کے بعد شہباز شریف کی بیوی تہمینہ درانی کا پہلا انٹرویو

    خاتون اول کون؟ وزیر اعظم بننے کے بعد شہباز شریف کی بیوی تہمینہ درانی کا پہلا انٹرویو

    نو منتخب وزیراعظم شہباز شریف کی اہلیہ تہمینہ درانی کا کہنا ہے کہ مبارکباد کے ساتھ ساتھ دعاؤں کی بھی ضرورت ہے-

    باغی ٹی وی : نجی خبررساں ادارے پی این این نیوز کے پروگرام "کھرا سچ” میں میزبان مبشر لقمان میں نو منتخب وزیراعظم کی اہلیہ تہمینہ درانی بذریعہ فون کال شامل ہوئیں جس میں میزبا ن کے سوالات کے جوابات دیئے-

    شہبازشریف کی رہائشگاہوں کو وزیراعظم ہاؤس کا درجہ دے دیا گیا

    میزبان کی طرف سے پوچھے گئے ایک سوال پر وزیراعظم شہباز شریف کی اہلیہ کا کہنا تھا کہ جب شہباز شریف عہدے کا حلف لے رہے تھے میری جانے کی کوئی ضرورت نہیں تھی اتنے لوگوں میں جہاں میری ضرورت ہوتی ہے وہاں میں ضرور ہوتی ہوں-

    مبشر لقمان کی جانب سے شہباز شریف کے وزیر اعظم بننے پر مبارکباد دیئے جانے پر تہمینہ درانی نے کہا کہ مبارکباد کے ساتھ ساتھ بہت دعائیں بھی دیں اس لئے کہ جس موڑ پر ہمارا ملک کھڑا ہوا ہے اس موڑ پر میاں شہباز شریف کو جو ہاتھ میں ملا ہے میں سمجھتی ہوں کہ ان کے کندھوں پر صرف نہیں بلکہ بہت زیادہ میرے کندھوں پر بھی بوجھ آگیا ہے-

    تہمینہ درانی نے کہا کہ میاں صاحب کے ساتھ میری شادی کو 19 سال ہوگئے ہیں ان سے بہتر اور جو لوگ مجھے جانتے ہیں جو میری کتابیں پڑھ چکے ہیں جو میرا ایدھی صاحب سے رشتہ جانتے ہیں وہ سب جانتے ہوں گے کہ میں ایسے ہی کسی کے ساتھ نہیں کھڑی رہ سکتی-

    ا مید ہےپاکستان کی نئی حکومت چین کیساتھ دوستی کو یقینی بنائے گی،چین پاکستان تعلقات…

    انہوں نے کہا کہ میاں شہباز شریف سے زیادہ قابل زیادہ پُر عزم زیادہ غریب نواز ،ہر چیز کو دیکھنے والا ،ایک سیکنڈ‌ کے لئے بھی آرام نہیں کرنے والا میں نے انہیں سارے وقت میں آرام کرتے دیکھا ہی نہیں وہ سارا وقت بھاگ دوڑ کر رہے تھے اس وقت جو اللہ تعالیٰ نے ان کو یہ کام دے دیا یہ رب کا کام ہے یہ کوئی بادشاہت یا تاج نہیں ہے یہ بہت بڑی نوکری مل گئی ہے ان کو تو اللہ تعالیٰ ان کو ہمت دیں ان کی مدد کریں کہ وہ اس نوکری کو نبھا سکیں وہ کچھ کر سکیں اور اپنے غریب عوام جو غریبی کی چکی میں پسے ہوئے ان کے لئے نوکری کریں گے میں کروں گی اپنی طرف سے رہوں گی میں تہمینہ درانی ہی کیونکہ میں نے اس نام کے لئے بہت جدو جہد کی مشکلات سہیں ہیں-

    مبشر لقمان نے کہا کہ میاں صاحب کی ایڈمنٹریشن قابلیت کے بہت زیادہ لوگ مداح ہیں لیکن یہ ایک بڑا سوال ہے کیا میاں صاحب میں اتنے سالوں میں اتنی تبدیلی آئی ہے کہ وہ ان سب سوالات کو لے کر اپنے ساتھ چلیں حکومت کو اور ملک کو اور عوام کو ریلیف پہنچا سکیں

    تہمینہ درانی نے کہا کہ جب میاں نوز شریف کی حکومت گئی میاں صاحب نے بھائی کا ہاتھ نہیں چھوڑا ساتھ نہیں چھوڑا سب سمجھتے تھے بھائی کے ساتھ نہیں ہیں لیکن وہ ان کے ساتھ بھی ہیں اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ بھی ہیں عوام ، بزنس کمیونٹی ،بیوو کریسی کے ساتھ بھی ہیں اور سیاسی جماعتیں جنہوں نے اتنا مشکل کام کیا سب نے مل کر کیا تو یہ اتنی دور نکل آئے ہیں تو میاں صاحب ضرور آگے نکلیں گے-

    بھارتی ،اور ترک صدر کی شہباز شریف کو وزیراعظم بننے پر مبارک باد

    میزبان نے کہا کہ تہمینہ درانی سالہا سال سے ایک دس مرلے کے گھر میں رہتی ہیں تمام محلات اور آسائشات چھوڑ کر اس کی کیا وجہ ہے؟

    جس پر شہباز شریف کی اہلیہ نے کہا کہ جو ایدھی صاحب کے گھر میں 3، 3 سال پانی ائیر کنڈیشنر کے بٰغیر رہ آتی ہوں ابھی بھی میں جا رہی ہوں بلقیس ایدھی کو ملنا ایدھی صاحب کی حاضری دینی ہے میں پرسوں کراچی چلی جاؤں گی میری اوقات تو وہی ہے شروعات تو وہی ہے اس سے زیادہ تو میں کچھ ہوں نہیں دس مرلہ اس لئے ہے کہ یہ غریب ملک ہے بزنس مین بنائیں اپنے بڑے بڑے گھر بنائیں محل بنا سکتے ہیں-

    مگر آپ پبلک سرونٹ ہیں اگر آپ سیاستدان ہیں اور قوم کی خدمت کرنے آئیں ہیں تو پھر آپ چھوٹی طھوٹی جگہوں پر رہیں گے تو ان کی عزت ہو گی ناں آپ کی اگر دس مرلے کے گھر میں کوئی بچی یا بچہ بیٹھا ہو تو ان کی بھی کیٹیگریز ہیں کہ بھئی دس کنال کے گھر کا یہ رشتہ ایک کنال کے گھر کا یہ رشتہ اور 5 کنال کے گھر کا یہ رشتہ ہے وہ بھی کیٹیگرائز ہو گیا لیکن محلت چھوڑ کر 10 مرلے کے گھر میں بہت عزت ہے میں اس کی عزت بنانا چاہتی ہوں کہ کیونکہ ہم نے تو مڈل کلاسز کو تباہ کر دیا تو دس مرلے میں مڈل کلاس رہتی ہے نا تو میں مڈل کلاس ہوں تو اب میں کہہ رہی ہوں آپ کا وزیراعظم بھی مڈل کلاس ہے تو اب آپ کی خاتون اول جیسی بھی ہوں میں تہمینہ درانی ان کی بیوی تو ہوں میں مڈل کلاس میں رہ رہی ہوں اب اس کی شاید عزت بن جائے –

    پروگرام کے میزبان مبشر لقمان نے سوال پوچھا کہ اسلام آباد جانے سے پہلے آپ نے میاں صاحب کو کوئی نصیحت کی تھی حکومت کیسے چلانی ہے جس پر ان کی اہلیہ نے کہا کہ ان کو پتہ کیسے کام کرنا ان کو نصیحت کی ضرورت نہیں ان کی فیلڈ الگ ہے میری الگ ہے لیکن کسی ایک جگہ پر جا کر راستے مل جاتے ہیں-

    شہباز شریف اور ان کی حکومت کے سامنے کئی چیلنجز ہیں،بلاول بھٹو زرداری

    سئینئیرصحافی کا کہنا تھا کہ شہباز شریف کی وجہ سے اللہ نے پاکستان پر بہت مہربانی کی ہے ابھی انہوں نے حلف لیا نہیں تھا کہ روپے کے مقابلے میں ڈالر 8 روپے کم ہوگیا ہے اسٹاک مارکیٹ میں آج سارا دن میں 1700 پوائنٹس کی بڑھوتری ہوئی ہے اور برینٹ آئل کی قیمتوں میں عالمی منڈی میں کمی ہونا شروع ہوئی ہے یہ تو لگتا ہے جیسے غیبی مدد آنا شروع ہوئی ہے –

    جس پر شہباز شریف کی اہلیہ نے کہا کہ اللہ ہماری غیبی مدد کرے غیبی مدد کے بغیر جتنا بھی کام کریں گے کم ہی ہوگا میں نے میاں صاحب کو کہا یہ ڈرانے کا وقت نہیں ڈرنے کا وقت ہے آہستہ آہستہ قدم بڑھائیں-

    تہمینہ درانی نے عوام کو پیغام دیتے ہوئے کہا کہ عوام کو شہباز شریف سے بہتر پرائم منسٹر نہیں مل سکتا تھا ان کی قدر کریں ان کا ہاتھ بٹائیں بہت بے صبرے نا ہوں ایسے بہت سے معجزے یکدم نہیں ہو سکتے بہت صبر کی ضرورت ہے وہ بہت کوشش کریں گے ہم سب نے ان کے ساتھ مل کر ان کی مدد کرنی ہے یہ ایک آدمی کا ایک پارٹی کا تمام سیاسی پارٹیوں کا کام نہیں ہم سب کا کام ہے ہم سب نے کچھ بدلنا ہے اپنے آپ کو اور بہت محنت کرنی ہے پھر نکلیں گے اس بحران سکیں-

    انہوں نے کہا کہ ان کے پاس کوئی غیرملکی پاسپورٹ نہیں وہ پاکستانی پاسپورٹ کے ساتھ رہ رہی ہیں-

    امید ہے شہباز شریف ملک کو معاشی اور سیاسی بحرانوں سے نکال سکیں گے،شاہد آفریدی

    https://www.youtube.com/watch?v=CQ_McXWQezQ

  • بول کہ لب آزاد ہیں تیرے ، تہمینہ درانی شہباز شریف کو بھی پیچھے چھوڑگئیں

    بول کہ لب آزاد ہیں تیرے ، تہمینہ درانی شہباز شریف کو بھی پیچھے چھوڑگئیں

    لاہور: سابق وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف کی اہلیہ محترمہ کشمیرمیں ہونے والے مظالم پر چپ نہ رہ سکیں اور کشمیریوں سے یکجہتی میں اس عزم کااظہارکردیا جو میاں شہباز شریف قومی اسمبلی میں نہ کرسکے ، تہمینہ درانی اپنی ٹویٹ میں بھارت کی طرف سے کشمیرکو ہتھیانے کے بعد کشمیریوں پر ہونے والے مظالم کے خلاف اپنے مخصوص انداز سے مہم شروع کرتے ہوئے کہا کہ کشمیر میں ظلم وبربریت کی انتہاہوگئی ہے

    میاں شہباز شریف کی اہلیہ محترمہ تہمینہ درانی کہتی ہیں "بول کہ لب آزاد ہیں تیرے ،. تہمینہ درانی کہتی ہیں کہ کشمیریوں کے پشتی بان ہونے کے ناطے سے ہمارا حق تو یہ بنتا ہے کہ ہر پاکستانی خواہ وہ کسی طبقہ سے ہو، اس کو چاہیے کہ وہ کشمیریوں سےمحبت کا دم بھرے اور ہر جگہ کشمیر کا جھنڈا لہرا کر کشمیریوں سے عملی محبت کا ثبوت دے

    تہمینہ درانی اپنی ٹویٹ میں کہتی ہیں کہ میرا تو مشورہ ہے کہ ہر ٹشو کپمنی اپنے ڈبوں پر ایسی تحریر رقم کرے کہ جس سے پڑھنے اور دیکھنے والوں کو کشمیریوں سے وابستگی کا عملی مظہر نظرآئے ، وہ کہتی ہیں کہ اب وقت ہے کشمیریوں کے لیے کچھ کرنے کا