Baaghi TV

Tag: تیزابیت

  • ” توجہ دیں ” — عبدالحفیظ چنیوٹی

    ” توجہ دیں ” — عبدالحفیظ چنیوٹی

    معدے کی تیزابیت، جلن، یا ایسڈیٹی ہاضمہ کے سب سے عام مسائل میں سے ایک ہے، جس کا سامنا زیادہ تر لوگوں کو کرنا پڑتا ہے۔ یہ بیماری سننے میں تو ایک معمولی مسئلہ لگتی ہے مگر جس شخص کو اس کا سامنا کرنا پڑتا ہے اس کیلئے یہ انتہائی بے چینی کا باعث بنتی ہے۔

    معدے کی تیزابیت کی سب سے عام وجوہات میں ذہنی دباؤ، بے وقت کھانے کی عادت، مخصوص دوائیں، بہت زیادہ مسالے دار کھانوں کا استعمال، اور معدے کی مختلف بیماریاں شامل ہیں۔ اس کے علاوہ تمباکو نوشی بھی معدے کی تیزابیت میں اضافے کا سبب بنتی ہے۔

    اس مسئلے سے چھٹکارا پانے کیلئے عام طور پر گھریلو علاج کو مفید سمجھا جاتا ہے، تاہم ان گھریلو علاج کے ساتھ ساتھ کچھ ایسی چیزوں سے بھی پرہیز کا مشورہ دیا جاتا ہے جو معدے کی تیزابیت کا باعث بنتی ہیں۔

    اگر معدے کی جلن کا شکار ہیں تو سافٹ ڈرنکس سے پرہیز کریں کیوں کہ یہ معدے میں مخصوص گیسوں کو جمع کر کے تکلیف میں اضافہ کرتی ہیں، اس کے ساتھ ساتھ ترش پھلوں سے بھی پرہیز کرنا چاہیئے کہ ان پھلوں میں بھی تیزابیت پائی جاتی ہے۔

    معدے کی تیزابیت کا علاج:

    زیرہ
    دلیہ
    ادرک
    دہی
    سونف
    ہرے پتوں والی سبزیاں
    ناریل کا پانی
    کیلا
    گُڑ

    مندرجہ ذیل گھریلو علاج معدے کی تیزابیت کے لیے مفید ثابت ہو سکتے ہیں۔

    زیرہ:

    معدے کی تیزابیت کی وجہ سے سانس کی بو کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے اس لیے تیزابیت کو کنٹرول کرنے کے لیے زیرہ ایک مددگار مصالحہ ہے جو ہاضمہ کے نظام کو بہتر بناتا ہے اور پیٹ درد کی شدت کو بھی کم کرتا ہے جس کی وجہ سے سانس کی بو کا سامنا نہیں کرنا پڑتا۔ اس مسئلے سے چھٹکارا پانے کے لیے ایک چائے کے چمچ زیرہ کو ایک کپ پانی میں ابال کر قہوہ بنا لیں اور اس قہوے کو ہر کھانے کے بعد باقاعدگی سے استعمال کریں، کچھ دنوں تک اس گھریلو ٹوٹکے پر عمل کرنے سے معدے کی جلن میں کمی آنا شروع ہو جائے گی۔

    دلیہ:

    دلیہ کو بچوں کی غذا بھی کہا جاتا ہے، کیوں کہ یہ بہت نرم غذا ہے جو آسانی کے ساتھ ہضم ہو جاتی ہے۔ اس لیے اکثر طبی ماہرین تیزابیت لاحق ہونے کی صورت میں اسے استعمال کرنے کا مشورہ دیتے ہیں۔دلیے میں موجود فائبر پیٹ کے اپھار اور واٹر ریٹینشن کو کنٹرول کرنے میں مدد دیتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ معدے میں بننے والے ضرورت سے زائد ایسڈ کو بھی جذب کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس کے علاوہ فائبر کے بھرپور دیگر غذائیں بھی معدے کی تیزابیت کے لیے مفید ثابت ہو سکتی ہیں۔

    ادرک:

    تیزابیت کی بیماری میں یہ جڑ نما سبزی بہت مفید ہے، کیوں کہ ادرک بہت سے طبی فوائد کی حامل ہے۔ اس میں اینٹی آکسیڈنٹ اور سوزش کو کرنے والی خصوصیات پائی جاتی ہیں جو معدے کی ایسڈیٹی، بد ہضمی، سینے کی جلن، اور پیٹ کے دیگر مسائل کے لیے بھی مفید ہے۔اگر آپ معدے کی تیزابیت کا شکار ہیں تو ادرک کا قہوہ استعمال کرنا شروع کر دیں، ادرک کا ایک ٹکڑا لے کر اسے ایک کپ پانی میں ابال لیں اور ٹھنڈا ہونے پر پی لیں۔ اس کے علاوہ ادرک کے تازہ ٹکڑے کو کھانے کے ساتھ بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔

    دہی:

    دہی کو اگر معدے کی تیزابیت کا بہترین علاج کہا جائے تو بے جا نہ ہو گا۔ دہی میں ایسے مفید غذائی اجزاء پائے جاتے ہیں جو معدے کی جلن کو کم کرنے میں بہت اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اگر آپ کو اکثر معدے کی جلن کا سامنا رہتا ہے تو نہار منہ دہی کو استعمال کرنا شروع کر دیں، کچھ دنوں تک اسے استعمال کرنے سے معدے کی تیزابیت میں واضح کمی آنا شروع ہو جائے گی۔ دہی کی افادیت میں اضافہ کرنے کے لیے آپ اس میں کیلا اور خربوز بھی شامل کر سکتے ہیں۔ اس سے نہ صرف ایسڈیٹی کم ہو گی بلکہ آپ کو بھرپور غذائیت بھی میسر ہوگی، جس سے آپ کو تھکاوٹ اور کمزوری کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔

    سونف کے کچھ دانے چبانا تیزابیت کی شدت میں واضح کمی کر سکتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ سونف سے بنی چائے غذائی نالی کی صحت کو برقرار رکھنے کیلئے بھی بہت مفید سمجھی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ سونف سے بنا ہوا مشروب بد ہضمی اور پیٹ پھولنے کے خلاف بھی نہایت مفید ہے۔

    ہرے پتوں والی سبزیاں:

    معدے کی تیزابیت سے چھٹکارا پانے کے لیے ہرے پتوں والی سبزیاں بھی بہت مفید ثابت ہوتی ہیں۔ آپ اس مسئلہ سے چھٹکارا پانے کے لیے دھنیا، پودینا، میتھی، اور بند گوبھی وغیرہ کو باقاعدگی کے ساتھ استعمال کر سکتے ہیں۔معدے کی تیزابیت کا سامنا زیادہ تر مضرِ صحت غذاؤں کے استعمال کی وجہ سے کرنا پڑتا ہے، اس لیے ایسی غذاؤں کی جگہ ہرے پتوں والی صحت مند غذائیں استعمال کرنی چاہیئے

    ناریل کا پانی:

    معدے کی جلن لاحق ہونے کی صورت میں جب ناریل کا پانی استعمال کیا جاتا ہے تو تیزابی سطح الکلائن میں بدل جاتی ہے۔ اس کے علاوہ ناریل کا پانی استعمال کرنے سے معدے میں ایسے اجزاء ی مقدار میں اضافہ ہوتا ہے جو تیزابیت کے مضرِ صحت اثرات سے بچاتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ناریل کا پانی فائبر سے بھی بھرپور ہوتا ہے جو تیزابیت کو روکنے میں مدد فراہم کرتا ہے۔

    کیلا:

    ایسڈیٹی کی شدت کو کم کرنے کے لیے کیلے کو نہایت مفید سمجھا جاتا ہے، کیوں کہ اس میں اکلائن کافی مقدار میں پایا جاتا ہے جو ایسڈیٹی کے خلاف مؤثر کام کرتا ہے۔معدے کی جلن سے چھٹکارا پانے کیلئے آپ ہر روز ایک سے دو کیلے استعمال کر سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ آپ کیلے کو دہی میں شامل کر کے بھی کھا سکتے ہیں، اس سے بنا ہوا خوش ذائقہ ملک شیک بھی استعمال کیا جاتا سکتا ہے۔ کیلے کو دودھ اور دہی کے ساتھ استعمال کرنے سے نہ صرف معدے کی تیزابیت میں کمی آئے گی بلکہ آپ کی طاقت میں بھی اضافہ ہو گا۔

    گُڑ:

    گُڑ کو بھی معدے کی جلن کے لیے مفید سمجھا جاتا ہے، اس میں میگنیشیم وافر مقدار میں پائی جاتی ہے جو ہاضمہ کے نظام کو طاقت فراہم کرتی ہے اور تیزابیت کو کم کرتی ہے۔معدے کی جلن سے چھٹکارا پانے کے لیے کھانے کے بعد گُڑ کا ایک چھوٹا سا ٹکڑا منہ میں رکھ کر چوستے رہیں، اس سے نہ صرف ایسڈیٹی میں کمی آئی گی بلکہ آپ کے جسم کا درجہ حرارت بھی معتدل رہے گا۔معدے کی تیزابیت کے لیے یہ علاج نہایت مؤثر سمجھے جاتے ہیں۔ اگر ان علاج کی مدد سے آپ کے معدے کی تیزابیت میں کمی نہ آئے تو آپ کو پھر کسی ماہرِ امراضِ معدہ سے رابطہ کرنا ہو گا۔

  • سینے کی جلن اور تیزابیت کا سبب بننے والی غذائیں

    سینے کی جلن اور تیزابیت کا سبب بننے والی غذائیں

    تیزابیت کے سبب سینے میں پیدا ہونے والی کی جلن ایک ایسی پریشانی ہے جو کہ عموماً ہرشخص کے کبھی نا کبھی اور بعض کو عموماً درپیش رہتی ہے۔ سینے کی جلن کی بنیادی وجہ تیزابیت ہی ہے جب آپ کا پیٹ خوراک کو ہضم کرنے سے انکارکردیتا ہے تو خوراک کو ہضم کرنے والا تیزازب آپ کے کھانے کی نالی میں آجاتا ہے جس سے آپ کو سینے میں اور بعض اوقات حلق میں بھی جلن محسوس ہوتی رہتی ہے-

     

    دہی خواتین کی صحت کیلئے بے حد مفید قرار

    معدے کی تیزابیت کی علامات:

    گیسٹرو ایسو فیزل ریفلکس ڈیزیز (جی ای آر ڈی) ، ایسی حالت ہے جس میں جلن کا احساس ایک علامت ہوتی ہے۔ پیٹ میں موجود تیزاب غذائی نالی میں چلا جاتا ہے اور درد کا سبب بنتا ہے اس درد کو اسٹرنم یا چھاتی کی ہڈی کے پیچھے جلن کے احساس کے طور پر محسوس کیا جاسکتا ہے ، ایسڈ ریفلیکس کا درد کئی بار غلط فہمی کے طور پر دل کے دورے کے درد کے لئے لے لیا جاتا ہے۔

    جلن کا درد نچلے سینے میں رہ سکتا ہے یا یہ گلے کے پچھلے حصے تک جاسکتا ہے اور واٹر بریش کے ساتھ وابستہ ہوسکتا ہے ، جو گلے کےپچھلےحصےمیں ایک کھٹا ذائقہ ہےاگر گلے میں لیرنکس (آواز پیدا کرنے والا باکس) کے قریب جلن ہو تو ، اس سے کھانسی کےواقعات ہوسکتے ہیں ۔ طویل عرصے تک ریفلکس کافی شدید ہوسکتا ہے کہ تیزاب دانتوں پر تامچینی باندھ دیتا ہے اور اس کی خرابی کا سبب بنتا ہے بھاری کھانے ، آگے جھکاؤ ، یا سیدھا لیٹنے کے بعد علامات اکثر خراب ہوجاتی ہیں۔ متاثرہ افراد اکثر جلن کے ساتھ نیند سے بیدار ہو سکتے ہیں۔

    معدے کی تیزابیت سے پیدا ہونے والی پیچیدگیاں:

    سینے کی جلن پیچیدگیوں کے بغیر نہیں ہے اگر نظرانداز کیا جائے تو ، اکثر جلن اور غذائی نالی کی سوزش سے السر ہوسکتے ہیں ، ایسے چھوٹے چھوٹے حصے جہاں پر سے ٹشو خراب ہو جاتے ہیں۔ ان سے شدید خون بہہ سکتا ہے اس کے علاوہ ، زخم بننا جی ای آر ڈی کی دیگر اہم پیچیدگیاں ہیں غذائی نالی کے استر کے خلیوں کی قسم میں ہونے والی تبدیلیوں کا نتیجہ ایسڈ ریفلیکس کے نتیجے میں ہوسکتا ہے ، جس کو بیریٹ ایسوفیگس کے نام سے جانا جاتا ہے ، جو کہ غذائی نالی کے کینسر کے بڑھتے ہوئے خطرہ سے وابستہ ہے۔

    فاسٹ فوڈ کے فوائد

    سینے میں جلن، تیزابیت، الٹی یا ابکائی جیسی کیفیت اگر ہفتے میں دو سے زائد بار محسوس ہو تو اس کا مطلب ہے کہ صحت پر توجہ دینے کی اشد ضرورت ہے، کیوںکہ آپ ایسیڈیٹی یعنی تیزابیت کا شکار ہیں طبی ماہرین کے مطابق خوراک میں تھوڑی سی تبدیلی کھانے کی مقدار اور کھانے کے اوقات کار میں تبدیلی کر کے سینے کی جلن اور تیزابیت کی دیگر علامات کو نمایاں طور پر کم کیا جا سکتا ہے مسالوں، تیل اور چکنائی والی غذائیں مکمل طور پر چھوڑ کر زیادہ الکلائن والی غذائیں یعنی پھل، سبزیاں اور خشک میوہ جات کے استعمال سے تیزابیت کی شکایت کم کی جا سکتی ہے۔

    تیزابیت سے بچاؤ کے لیے مندرجہ ذیل غذاؤں سے پرہیز ضروری ہے-

    الٹرا پروسیسڈ کھانے کیا ہیں؟ان کے صحت پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں ؟

    چاکلیٹ اور چکنائی والی غذائیں:
    چاکلیٹ بھی سینے میں جلن کا باعث بنتی ہے، اس میں موجود کیفین، کوکوا پاؤڈر اور دیگر کیمیائی اجزا نقصان دہ ہوسکتے ہیں۔جب کھانا پیٹ میں زیادہ دیر تک رہتا ہے تو جواباً جسم زیادہ تیزاب پیدا کرتا ہے وہ تمام کھانے جن میں چکنائی زیادہ ہو وہ مضرصحت ہیں، جیسے تلی ہوئی غذائیں،اس کے علاوہ دودھ اور دہی سے تیار کردہ مصنوعات جو نظام ہاضمہ کو سست کر دیتی ہیں، صحت کے لیے نقصان دہ ہو سکتی ہیں۔

    مرچ مسالے اور لہسن :
    مرچ مسالوں سے بھر پور غذاؤں کا استعمال جسم میں ایسڈ ریفلکس کو مزید تیز اور کھانوں میں موجود ’کیپساسین‘ نظامِ ہاضمہ کو سست کر دیتا ہے، اسی لیے اِن کا استعمال بھی کم سے کم کرنا چاہیے اس کے علاوہ لہسن کا استعمال بھی تیزابیت کو بڑھا دیتا ہے، بالخصوص کچّا لہسن صحت مند لوگوں میں سینے کی جلن اور پیٹ کی خرابی کا باعث بنتا ہے۔یہ تیزاب کی پیداوار کو متحرک کرتا ہے جس سے سینے کی جلن کی شکایت بڑھ جاتی ہے۔

    کیفین اور سافٹ ڈرنکس :
    وہ تمام غذائیں جن میں کیفین کی مقدار زیادہ ہو ان سے پرہیز کرنا چاہیے تاکہ تیزابیت کی شکایت کو دور کیا جاسکے اس کے علاوہ سافٹ ڈرنکس، چائے اور کافی کے استعمال کو بھی کم سے کم کر دینا چاہیے تاکہ تیزابیت کے مسئلے پر قابو پایا جا سکے۔

    وٹامن سی کیوں ضروری ہے؟

    علاوہ ازیں تنگ کپڑوں کے استعمال سے گریز کیجئے اگر آپ کے پیٹ کے گرد بیلٹ کس کر بندھی یا آپ کی قمیض یا جینز بہت چست ہے تو تو آپ کو تیزابیت کی شکایت ہوگی لہذا تنگ کپڑوں کو ترک کرکے نارمل کپڑے استعمال کیجئے۔

    سگریٹ اور شراب کا استعمال آپ کے نظامِ انہضام کو کمزور کرتا ہے لہذا اسے ترک کردینا ہی بہترہے ان دونوں اشیا میں شامل الکحل اور نیکوٹین آپ کے جسم کے تمام امور کے لئے انتہائی نقصان دہ ہے-