Baaghi TV

Tag: جانور

  • خشک سالی:نمیبیا  میں 700 سے زائد جانوروں کو مارنے کا فیصلہ

    خشک سالی:نمیبیا میں 700 سے زائد جانوروں کو مارنے کا فیصلہ

    نمیبیا: خشک سالی کی وجہ سے افریقی ملک نمیبیا نے 700 سے زائد جانوروں کو مارنے کا فیصلہ کرلیا۔

    باغی ٹی وی : میڈیا رپورٹس کے مطابق افریقی ملک کے حکام نے فیصلہ کیا کہ 100 سالوں کی بدترین خشک سالی سے دوچار نمیبیا میں جانوروں کو مارنے کا حکم دے دیا گیا ہے،عالمی سطح پر جانوروں کو مارنے کے اس فیصلے پر تنقید کی جا رہی ہے،واضح رہے کہ ایک اندازے کے مطابق خشک سالی کی وجہ سے نمیبیا کی آدھی آبادی خوراک کی کمی کا شکار ہے۔

    رپورٹ کے مطابق وزارت کا کہنا ہے کہ نمیبیا میں خشک سالی کو مد نظر رکھتے ہوئے 700 سے زائد جنگلی حیات کو مار کر ان کا گوشت خوراک سے متاثرہ خاندان کیں تقسیم کیا جائے گا ان جنگلی حیات میں 83 ہاتھی، 30 گینڈے، 60 بھینسے، 50 امپالا ہرن، 100 بلیو وائلڈ بیسٹ اور 300 زیبرا شامل ہیں جنہیں دیگر علاقوں سے شکار کر کے لایا جائے گا،مذکورہ اقدام کا مقصد جنوب مغربی افریقی ملک میں پھیلتی خشک سالی کو کم کرنا ہے-

  • جانوروں کی اسمگلنگ بھارتی شہری بنکاک ائیر پورٹ پر گرفتار

    جانوروں کی اسمگلنگ بھارتی شہری بنکاک ائیر پورٹ پر گرفتار

    تھائی: بنکاک میں کسٹم حکام نے جانوروں کی اسمگلنگ ناکام بنادی۔

    باغی ٹی وی : برطانوی خبر رساں ادارے کے مطابق کسٹم حکام نے بتایا کہ بنکاک انٹرنیشنل ائیر پورٹ پر مسافروں کے سامان میں ریڈ پانڈا سمیت درجنوں دیگر جانور پائے گئے جن کی تعداد 87 ہے، سامان میں سانپ، طوطے اور مانیٹر چھپکلی بھی شامل ہے جنہیں 6 بھارتی شہری ممبئی اسمگل کرنے کی کوشش کررہے تھے تاہم بروقت کارروائی کرکے انہیں گرفتار کرلیا گیا۔

    پاکستان کا غزہ میں رمضان المبارک میں فوری جنگ بندی کا مطالبہ

    کسٹم حکام کے مطابق بھاتی شہریوں نے سانپوں کو کپڑے کے تھیلے میں بند کیا اور طوطوں کو پلاسٹک کے کنٹینر میں چھپا رکھا تھا، جانوروں کی اسمگلنگ پر ملزمان کو 10 سال قید کی سزا کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے، کسٹم حکام کی جانب سے ٹوکری میں بند ریڈ پانڈا کی تصویر جاری کی گئی ہے جس کی نسل خطرے سے دوچار ہے۔

    عمان میں ہنگامی لینڈنگ کرنیوالے پی آئی اے طیارے کی فنی خرابی دور نہ ہوسکی،مسافر …

    میڈیا رپورٹس کے مطابق تھائی لینڈ جنگلی حیات کے اسمگلروں کے لیے ایک بڑا ٹرانزٹ مرکز ہے، یہ جانور عام طور پر چین اور ویتنام میں فروخت ہوتے ہیں-

    سپریم کورٹ نے ذوالفقار علی بھٹو ریفرنس کی سماعت کا اردو ترجمہ جاری کر …

  • دنیا میں اپنی نوعیت کے صرف چار میں سے ایک بچہ

    دنیا میں اپنی نوعیت کے صرف چار میں سے ایک بچہ

    نکاراگوا کے تھامس بیلٹ چڑیا گھر میں نایاب اور پوما نے ایک منفرد البینو بچے کو جنم دیا ہے۔جو دنیا میں اپنی نوعیت کے صرف چار میں سے ایک ہے جبکہ اپنی آنکھوں اور تیز کانوں میں احتیاط کے ساتھ ماں پوما اپنے ایک ماہ کے بچوں کی نگرانی کرتی ہے۔ بچے کی پیدائش نکاراگوا کے لیے بہت اہمیت رکھتی ہے جس نے اس کے افتتاحی قید میں پیدا ہونے والے البینو پوما کو متعارف کرایا۔

    چڑیا گھر کے جانوروں کے ڈاکٹر کارلوس مولینا نے اس واقع کی نایابیت کی نشاندہی کی ہے جن کا خیال ہے کہ پوری دنیا میں ایسے صرف چار البینو پوما موجود ہیں۔ علاوہ ازیں بچے کی موجودہ جوش و خروش اور مضبوط بھوک کے باوجودمولینا اس اہم مرحلے کے بارے میں خبردار کرتی ہے اور اس بہترین دیکھ بھال پر زور دیتے ہوئے کہا کہ البینو پوما سورج کی روشنی کے لیے اپنی زیادہ حساسیت کی وجہ سے مانگتے ہیں۔

    واضح رہے کہ بچے اور اس کے دو ساتھی بہن بھائیوں کی حفاظت اور استحکام کو یقینی بنانے کے لیے تینوں ایک بند رہائش گاہ میں رہتے ہیں۔ تاہم یہ جان بوجھ کر کیا گیا اقدام ماں کو اپنے نوزائیدہ بچوں کے لیے تکلیف سے گزرنے یا انسانی خوشبوؤں کو غلط سمجھنے سے روکتا ہےایسا منظر جو نادانستہ طور پر جارحانہ رویے کو متحرک کر سکتا ہے۔

    مزید یہ کہ مرد والدین کو الگ رکھا جاتا ہے کیونکہ یہ معلوم ہوتا ہے کہ نر پوما اپنے بچوں کے لیے خطرہ ہیں۔ کوڑے کی جنس نامعلوم رہتی ہے اور جانوروں کا ڈاکٹر براہ راست جسمانی تعامل سے پرہیز کرتا ہے۔ تاہم چڑیا گھر تین ماہ کی دہلیز کے قریب حیرت انگیز طور پر ان کو عوام سے متعارف کرانے کا ارادہ رکھتا ہے۔ تھامس بیلٹ چڑیا گھ، مخلصانہ انتظام کے تحت عام طور پر 50,000 سے 60,000 زائرین کی سالانہ حاضری کو راغب کرتا ہے۔

    خیال رہے کہ جنوبی پیرو کے بلند و بالا اینڈین سے لے کر وسطی امریکہ کے متحرک جنگلوں تک پھیلے ہوئے امریکہ میں پائے جانے والے پوماس کو بین الاقوامی یونین فار کنزرویشن آف نیچر نے مغربی نصف کرہ میں زمینی ممالیہ جانوروں کے درمیان ان کی وسیع علاقائی رسائی کے لیے سراہا ہے۔ اس کے باوجود یورپی نوآبادیات کے دور کے بعد شمالی امریکہ کے مشرقی نصف حصے میں ان کی موجودگی ختم ہو گئی۔

  • بھارت میں جانوروں کے ساتھ جنسی تعلقات قائم کرنے کے واقعات میں اضافہ

    بھارت میں جانوروں کے ساتھ جنسی تعلقات قائم کرنے کے واقعات میں اضافہ

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق بھارت میں جانوروں کے ساتھ جنسی تعلقات قائم کرنے کے واقعات میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے،ایک ماہ میں تین واقعات رپورٹ ہو چکے ہیں جس میں ملزمان نے گائے کے ساتھ جنسی تعلق قائم کیا، ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے،

    واقعات بھوپال میں پیش آئے، بھوپال میں گائے کے ساتھ زیادتی کا یہ تیسرا واقعہ ہے بھارت کی تعزیرات ہند کی دفعہ 377 "غیر فطری جنسی تعلقات” کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے مزید تحقیقات کے لیےکیس ڈائری ہنومان گنج پولیس اسٹیشن کو بھیجا گیا ہے،پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ہمارے پاس درخواست آئی کہ بھوپال میں ایک شخص نے گائے کے ساتھ جنسی تعلق قائم کیا، مقدمہ نامعلوم شخص کے خلاف درج کیا گیا ہے،،منگلوارا پولس اسٹیشن کے انچارج سندیپ پوارکا کہنا ہے کہ مبینہ واقعہ ہنومان گنج پولیس اسٹیشن کے علاقے میں منگل کو پیش آیا اور اس گھناؤنے فعل کا ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی جس سے کچھ ہندوتوا کارکنوں نے مقدمہ درج کرنے کا کہا، واقعہ پر مقدمہ درج کر لیا گیا ہے،

    اس سے قبل 16 جون کو بھی ایک ایسا ہی مقدمہ درج کیا گیا ہے جس میں ملزم نے گائے کے بچھڑے کے ساتھ زیادتی کی تھی، اس سے قبل 10 جون کو بکری کے ساتھ جنسی تعلق قائم کرنے پر زیادتی کا مقدمہ درج کر کے ملزم کو گرفتار کر لیا گیا تھا

    جانوروں کے ساتھ زیادتی کے بڑھتے واقعات نے بھارت کو دنیا بھر میں شرما کر رکھ دیا، بھارت میں خواتین پہلے محفوظ نہیں تھیں اب جانور بھی بھارتیوں کا نشانہ بننے لگے، ریاستی وزیر داخلہ نروتم مشرا نے جانوروں کے ساتھ جنسی تعلق کے واقعات کو انتہائی شرمناک قرار دیا اور کہا کہ واقعات کی روک تھام کرنی ہو گی، جس طرح زمین کو ماں سمجھتے ہیں اسی طرح گائے کو بھی ماں سمجھتے ہیں، ماں کے ساتھ کون جنسی تعلق قائم کر سکتا ہے؟ پولیس حکام کے مطابق ملزم کو جلد گرفتار کر لیا جائے گا

    ہاؤسنگ سوسائٹیز میں لوگوں کو لوٹا جا رہا ہے، سپریم کورٹ نے دی حکومت کو مہلت

    فلمسٹار لکی علی کا فراڈ ہاوسنگ سوسائٹیوں سے عوام کو چونا لگانے کا اعتراف،نیب نے کی ریکارڈ ریکوری

    وفاقی انٹیلی جنس بیورو آئی بی کے افسران کی جانب سے اسلام آباد میں پراپرٹی کا کام شروع کئے جانے کا انکشاف

    وفاقی انٹیلی جنس بیورو آئی بی کے افسران کی جانب سے ہاؤسنگ سوسائٹی کے نام پر اربوں کا فراڈ

    آئی بی کی ہاوسنگ اسکیم کے فراڈ پر پوسٹ لکھنے پر صحافی کا 15 سالہ پرانا فیس بک اکاؤنٹ ہیک

    آئی بی افسران کی ہاؤسنگ سکیم،دس سال پہلے پلاٹ خریدنے والوں کو قبضہ نہیں ملا، نیب کہاں ہے؟ عدنان عادل

    ملک میں غیر قانونی ہاؤسنگ سکیموں کی رپورٹ سپریم کورٹ میں پیش

    زرتاج گل نے مہلت مانگ لی،کیوں نہ ذمہ داروں کو جانوروں کے پنجروں میں بند کر دیں؟ عدالت

  • جنگلی جانور،بندر کے بعد بلی کے خاندان سمیت پارلیمنٹ ہاؤس میں ڈیرے

    جنگلی جانور،بندر کے بعد بلی کے خاندان سمیت پارلیمنٹ ہاؤس میں ڈیرے

    پارلیمنٹ ہاؤس جانوروں کا پسندیدہ مقام، جنگلی جانور، بندر کے بعد اب بلی نے بچے پارلیمنٹ ہاؤس میں دے دیئے

    پارلیمنٹ ہاؤس میں پچھلے کچھ دنوں سے جانوروں کی آمد کا سلسلہ جاری ہے، کہیں دفاتر کے شیشے توڑ دیئے جاتے ہیں تو کہیں جانور پارلیمنٹ کے عملے کو بھی پریشان کرتے ہیں، پارلیمنٹ ہاؤس کی گیلری میں ایک بلی نے بچے دے دیئے ہیں جس کے بعد اب وہاں سے گزرنے والے ہر شخص کومیاؤں میاؤں کی آوا سننی پڑتی ہے اورنہ چاہتے ہوئے بھی توجہ ننھے منے بلی کے بچوں کی جانب چلی جاتی ہے

    اس سے قبل دو جنگلی جانور پارلیمنٹ ہاؤس پہنچے تھے جس پر عملے میں خوف و ہراس پھیل گیا تھا، ایک عجیب جانور پارلیمنٹ ہاؤس میں گھس آیا تھا جس نے دفاتر میں توڑ پھوڑ بھی کی تھی،اسے بعد ازاں جنگلی بلی قراردیا گیا تھا اس کے بعد پارلیمنٹ ہاؤس کی چھت پر ایک جنگلی بندر اچھل کود کرتے دیکھا گیا تھا اور اب ایک بلی پورے خاندان سمیت پارلیمنٹ ہاؤس میں شفٹ ہو گئی ہے

    گذشتہ دنوں ایک جنگلی بلی بھی پارلیمنٹ ہاؤس گھس گئی تھی اور وہاں موجود ایک دفتر میں توڑ پھوڑ کرتی رہی چند دن قبل بھی ایک جانور پارلیمنٹ ہاؤس میں گھس گیا تھا ,جنگلی جانور کی دوسری بار آج پارلیمنٹ میں آمد پر عملے میں کافی خوف پایا جاتا ہے ،عملے کا کہنا ہے کہ جنگلی جانوروں سے ہمیں محفوظ کیا جائے،

    سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل 2023 منظوری کے لیے قومی اسمبلی میں پیش کیا

     سادہ سا سوال ہے کہ الیکشن کمیشن تاریخ آگے کرسکتا ہے یا نہیں

    شریف کو بھی از خود نوٹس کے خلاف اپیل کا حق مل گیا

  • جانور اور جانور!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    جانور اور جانور!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    آنجہانی عمر شریف ایک بار لطیفہ سنا رہے تھے کہ پاکستان میں کہیں گلی میں کتا نظر آ جائے لوگ اُسے پتھر مارنے لگ جاتے ہیں۔ کتا بھی سوچتا ہو گا کہ کتا میں ہوں اور کتے والی حرکتیں یہ کر رہے ہیں۔

    پاکستان میں جانوروں پر ظلم کوئی نئی بات نہیں۔ہمارے ہاں ہر وہ جانور جسے کھایا نہ جا سکے اُس پر ظلم کرنا ایک عام سی بات سمجھی جاتی ہے۔ اس ضمن میں کیا امیر اور کیا غریب۔ امیروں کے ہاں بچوں کی برتھ ڈے پارٹیوں پر کھچوے، مچھلیاں، چوزے اور نہ جانے کیا کیا تحفے میں دیا جاتا ہے۔ اور نا سمجھ بچے جنکو انکی حفاظت کی نہ تو تربیت ہوتی ہے نہ شعور۔ کچھ دن انکے ساتھ کھلونوں کیطرح کھیل کر دلچسپی ختم ہونے پر انہیں بے یار و مددگار چھوڑ دیتے ہیں۔ نتیجہ یہ ننھے جانور بھوک یا غفلت کے باعث تڑپ تڑپ کر مر جاتے ہیں۔

    اسی طرح آج کل کچھ نو دولتیوں کو شیروں، چیتوں اور ایسے جانوروں کو اپنے گھروں میں رکھنے کا شوق در آیا ہے جو دراصل بنے ہی جنگل کے ماحول کے لیے ہوتے ہیں۔ باہر کی دنیا کے امیر اور ہمارے ہاں کے امیروں میں جانوروں کی دیکھ بھال کے حوالے سے زمین اسمان کا فرق ہے۔ یہاں جانوروں کو پالنے کا کلچر کم اور فیشن زیادہ ہے۔ تبھی جانور کچھ عرصہ انکے "تہذیب یافتہ” ہونے کی نمائش بن کر مر جاتے ہیں۔

    یہی حال غریبوں کا ہے۔ گدھوں پر اُنکے وزن سے کئی گنا زیادہ بوجھ ڈالتے ہیں۔ سخت سے سخت کام جانوروں کی بساط سے بڑھ کر لیتے ہیں۔ لاٹھیوں ڈنڈوں سے اُنکا بھرکس بنا دیتے ہیں اور چارہ ضرورت سے کم کھلاتے ہیں۔ ایسے ہی متوسط طبقے کے لوگوں کو کتوں سے خوف آتا ہے۔ گلی کے کتے دیکھ کر انہیں مارنے کو دوڑتے ہیں۔

    ٹی وی ٹاک شوز کے علاوہ مرغوں، کتوں، ریچھ وغیرہ کی لڑائی پر بھی کوئی پابندی نہیں ۔ ایسے ہی گلی گلی تماشا کرنے والے جانوروں کا بھی کوئی پرسانِ حال نہیں۔

    کراچی میں ہر سال کئی ہزار کتوں کو بے رحمی سے مار دیا جاتا ہے۔ یہی حال دوسرے شہروں کا ہے۔ وہ لوگ جو یہ کہتے ہیں کہ مارنا حل ہے اُنکی سوچ سے کیا لڑنا کہ ان میں ایک بڑا پڑھا لکھا طبقہ بھی شامل ہے۔

    یہی رویہ پاکستان میں غیر قانونی شکار کا ہے۔ پرندوں کے جھنڈ سائبیریا سے اتنا سفر طے کر کے آتے ہیں اُنہیں کچھ نہیں ہوتا مگر یہاں کچھ لوگ بندوقیں تانے قطاروں کی قطار میں اُن معصوموں می لاشیں گراتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر جیپوں کے سامنے اُنکے مردہ جسموں کی نمائش کرتے ہیں اور پھر معاشرے میں فخر سے سر اونچا کر کے چلتے ہیں۔ کہاں سے رونا شروع کیا جائے؟

    کیا آپ جانتے ہیں کہ آج ماحولیاتی تبدیلی کے اثرات سے انسان ہی نہیں چرند پرند سب متاثر ہو رہے ہیں۔ کئی جانوروں کی نسلیں معدوم ہوتی جا رہی ہیں۔ پاکستان میں کئی جانور جن میں چیتا، دریائی کچھوے، تیتر، عقاب یہ سب معدوم ہونے کے خطرے سے دوچار ہیں۔ ۔

    ماحولیات کی سائنس یہ کہتی ہے کہ انسان بقا کئی پیچیدہ عوامل کے تحت ایک کڑی میں تمام جانداروں کی بقا سے جُڑی ہے۔ اگر زمین سے شہد کی مکھیاں ختم ہو جائیں تو دنیا میں کئی سبزیاں اور پھل ختم ہو جائیں گے۔ انسان غزائی قلت کا شکار اور دنیا کی معیشت اربوں ڈالر کے نقصان سے دوچار ہو گی۔ کھانے ہینے کی اشیا غریب ہی نہیں امیروں کی پہنچ سے بھی دور ہو جائیں گی۔

    پاکستان میں جانوروں ہر ظلم کے حوالے سے قانون انگریزوں کے زمانے کا ہے یعنی 1890 کا جسے Prevention of Cruelty to Animal Act کہا جاتا ہے۔ یہ قانون پرانا اور غیر موٹر ہے۔ مثال کے طور ہر اس میں جانوروں پر ظلم کی صورت عائد جرمانے کی رقم پرانے دور کے حساب سے ہے۔ اسی طرح اس میں جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے جانوروں پر ظلم روکنے کے حوالے سے کوئی پہلو موجود نہیں۔

    ایک خاطر خواہ پیش رفت جو ماضی میں کی گئی وہ حلال اتھارٹی ایکٹ کی تھی جس میں ایک جانور کے سامنے دوسرے جانور کو ذبح کرنے کی ممانعت کی گئی مگر اس ہر بھی کون عمل کرتا ہے۔ اسی طرح محکمہ جنگلات اور تحفظِ وائلڈ لائف بھی اس قدر فعال نہیں اور آئے روز غیر قانونی شکار ہوتا رہتا ہے۔

    اس تناظر میں سب سے پہلے تو ہمیں جانوروں نے ساتھ اپنے انفرادی رویے اور سوچ کو درست کرنا ہے۔ اس میں ہر عمر کے افراد شامل ہیں، کیا بوڑھے ،کیا جوان اور کیا بچے۔ بحیثیت قوم ہم سب ہی کا رویہ جانوروں کے ساتھ شرمناک ہے۔ کسی معاشرے میں اخلاق کا معیار جانچنا ہو تو یہ دیکھنا کافی ہوتا ہے کہ وہ معاشرے اپنے جانوورں کے ساتھ کیسا سلوک برتتا ہے۔ اگر ہم بے زبان جانوروں کے ساتھ اچھا رویہ رکھ سکتے ہیں تو انسانوں کے ساتھ بھی لازماً رکھیں گے۔

    حکومتی سطح پر اس حوالے سے نہ صرف بہتر قانون سازی کی ضرورت ہے بلکہ اسکے عملدرآمد کی بھی۔ اس حوالے سے عام شہری کا بھی فرض بنتا کے کہ وہ جہاں جہاں جانوروں پر ظلم ہوتا دیکھے نہ صرف اسکے خلاف آواز اُٹھائے بلکہ اسے سوشل میڈیا پر اور اداروں کو رپوٹ بھی کرے۔

    اگر ہم جانوروں کے حق کے لیے آواز نہیں اُٹھا سکتے تو انسانوں کے لئے کیا اُٹھائیں گے؟ پہلے جانوروں کے لیے آواز اُٹھانا سیکھیں، انسانوں کے لئے آواز اُٹھانے کی جرات خود ہی آ جائے گی۔

  • دنیا بھر کےعلاوہ پاکستان کے مختلف شہروں میں بھی عیدالاضحیٰ منائی جارہی ہے۔

    دنیا بھر کےعلاوہ پاکستان کے مختلف شہروں میں بھی عیدالاضحیٰ منائی جارہی ہے۔

    اسلام آباد:امریکا، برطانیہ، کینیڈا، متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب سمیت دیگر خلیجی ممالک کے فرزندان اسلام آج عید الاضحی منا رہے ہیں، جب کہ پاکستان میں بھی مختلف شہروں میں سنت ابراھیمی ادا کی جارہی ہے۔

    دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی بوہری برادری آج عیدالاضحیٰ منا رہی ہے۔ کراچی میں بوہری برادری نے صدر میں واقع طاہری مسجد میں نمازعیدالاضحیٰ ادا کی گئی۔

    نمازعید کے بعد ملک کے استحکام کے لیے خصوصی دعا کرائی گئی، اور بوہری براردی کے افراد نے حضرت ابراھیم کی یاد میں قربانی کی سنت ادا کی۔نمازِعید کے موقع پر بوہری مسجد جانے والے راستے سیکیورٹی کے لیے بند کر دیئے گئے تھے، جب کہ سیکیورٹی کیلئے پولیس اور رینجرز بھی تعینات تھی۔

    پاکستان میں مقیم افغان مہاجرین اور شمالی وزیرستان کے مختلف علاقوں میں 50 فیصد لوگوں نے عیدالاضحٰی کی نماز پڑھی۔ شمالی وزیرستان میں نماز عید الاضحی کا سب سے بڑا اجتماع درپہ خیل عید گاہ میں ہوا۔ جہاں مفتی شیر اکبر نے خطبہ دیا اور نماز پڑھائی۔

    نماز کے بعد ملکی سلامتی اور استحکام کیلئے حصوصی دعائیں مانگی گئیں۔ پشاور میں مقیم افغان مہاجرین نے مرکزی عید گاہ ہزار بوز میں ادا کی۔

    سعودی عرب سمیت دیگر خلیجی ممالک میں آج عید الاضحی مذہبی جوش وجذبے کے ساتھ منائی جارہی ہے، مکہ مکرمہ اور مسجدِ نبوی میں نماز عید کے روح پرور اجتماعات ہوئے، دس لاکھ افراد نے نماز عید ادا کی۔

    مسجدالحرام اور مسجد نبوی میں نماز عید کے روح پرور مناظر دیکھے گئے ہیں، یہ کرونا وبا کے بعد پہلا موقع ہے جب سعودی عرب کی تمام مساجد میں نماز عیدالاضحیٰ کی نماز ادا کی گئی، شاہی خاندان کے ارکان، علماء و شیوخ نے نماز عید میں شرکت کی۔

    نمازِ عید کے اجتماعات کے موقع پر احتیاطی تدابیر پر مکمل عمل درآمد کیا گیا، اس موقع پر اسلام کی سر بلندی، امتِ مسلمہ کی سلامتی اور ترقی کے لیے خصوصی دعائیں کی گئیں۔

  • قربانی کیلئے لائے گئے جانوروں سے بھرا ٹرک الٹ گیا،17 بکرے ہلاک

    قربانی کیلئے لائے گئے جانوروں سے بھرا ٹرک الٹ گیا،17 بکرے ہلاک

    قربانی کے لیے لائے گئے جانوروں سے بھرا ٹرک الٹ گیا-

    باغی ٹی وی : ریسکیوذرائع کا کہنا ہے کہ ٹرک ڈی جی خان سے لاہور بکر منڈی جا رہا تھا کہ فٹ پاتھ سے ٹکرا گیا، جس وجہ سے حادثہ پیش آیا جس وجہ سے 4 افراد شدید زخمی جبکہ 17 بکرے ہلاک ہو گئے۔

    ڈیرہ،ٹرائیبل ایریا میں ٹریکٹرٹرالی الٹنے سے 2ہلاک،8مزدور زخمی

    ریسکیو ذرائع کے مطابق زخمیوں کو فوری طور پر مقامی ہسپتال منتقل کر دیا، تاہم ایک زخمی کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے، ٹرک ڈی جی خان سے لاہور بکر منڈی جا رہا تھااطلاع ملنے پر موٹروے پولیس اور مانگا منڈی پولیس نے موقع پر پہنچ کر قانونی کاروائی شروع کر دی ہے۔

    قبل ازیں ڈیرہ غازیخان کے ٹرائیبل ایریا میں ٹریکٹرٹرالی الٹنے سے 2ہلاک،8مزدور زخمی ہو گئے تھے ڈیرہ غازیخان کے ٹرائیبل ایریا بی ایم پی تھانہ رونگھن کے علاقہ یکبائی میں روڈ پر کام کرنے والے مزدور صبح آٹھ بجے ٹریکٹر ٹرالی پر کام پر جارہے تھےتیزرفتاری کے باعث موڑکاٹتے ہوئے ٹریکٹرکےبریک فیل ہونے پرٹریکٹرٹرالی بےقابوہو کرالٹ گئی ،جس سےدوافراد جن میں ایک ٹریکٹرڈرائیور فداحسین جوکہ چوٹی زیریں کارہائشی تھا موقع پردم توڑگیاجبکہ دوسرا ہلاک ہونے والامزدور عابدحسین ولدخادم حسین ہیڈ محمد کا رہائشی تھا موقع پردم توڑگیا،اس حادثہ میں 8 مزدور زخمی ہوگئے –

    لاہور میں اسلحے کی نمائش کرنے پر 4 ملزمان گرفتار

    اس علاقہ میں کسی ایمرجنسی کی صورت میں ریسکیو1122کی سہولت نہ ہونے کی وجہ سے زخمیوں کوبروقت طبی امداد نہ مل سکی تاہم اطلاع ملتے ہی بارڈرملٹری پولیس کے جوان بروقت جائے حادثہ پر روانہ ہوگئے جنہوں نے وہاں پہنچ کر مقامی افرادکی مدد سے زخمیوں کو ٹرالی سے نکالا،اپنے محدود وسائل اورمقامی آبادی کے تعاون سے زخمیوں کوہسپتال منتقل کیا-

    امریکا میں ٹرک سے 46 افراد کی لاشیں برآمد

  • امریکا میں ایک گھر کے فریزر سے سناپوں ،کتوں ،بلیوں سمیت درجنوں جانور برآمد

    امریکا میں ایک گھر کے فریزر سے سناپوں ،کتوں ،بلیوں سمیت درجنوں جانور برآمد

    واشنگٹن: امریکا میں ایک گھر کے فریزر سے کتے اوربلیوں سمیت 183 جانور برآمد ہوئے جنہیں منجمد کردیا گیا تھا۔

    باغی ٹی وی : ” نیویارک پوسٹ ” کے مطابق امریکی ریاست ایریزونا میں مائیکل پیٹرک نام کے شخص کے گھرپرجب پولیس نے ایک شکایت پرچھاپہ مارا تو فریزر سے کتے،بلیاں، سانپ ،چھپکلیاں،خرگوش،کچھوے ،چوہے اوردیگرجانور برآمد ہوئے جن کی تعداد 183 تھی۔

    نیویارک فائرنگ: مشتبہ حملہ آور گرفتار

    پولیس اہلکاروں کا کہنا ہے کہ برآمد کئے گئے جانوروں میں سے کچھ منجمد ہونے کے باوجود زندہ تھے۔

    موہاو کاؤنٹی شیرف کے دفتر نے جمعرات کو بتایا کہ مردہ جانور ریاست کے مغرب میں واقع گولڈن ویلی میں 43 سالہ مائیکل پیٹرک ٹورلینڈ کے کرائے پر لئے گئے گھر میں پائے گئے-

    مائیکل پیٹرکی پڑوسی خاتون نے اپنے سانپ دیکھ بھال کے لئے اس کے حوالے کئے تھے لیکن سانپ واپس نہ ملنے پرپولیس میں شکایت درج کرائی جس کے بعد پولیس حرکت میں آئی اور 3 اپریل کو یہ چھاپہ مارا-

    وبائل میں مصروف لڑکی پر سے ٹرین گزر گئی

    جانوروں سے بے رحمی کے الزام میں مائیکل پیٹرک کوگرفتارکرلیا تفتیش کے دوران ٹورلینڈ نے بالآخر کچھ جانوروں کو فریزر میں رکھنے کا اعتراف کیا جب وہ ابھی تک زندہ تھےتاہم اس کی بیوی کی تلاش جاری ہے اتنی بڑی تعداد میں جانوروں کوفریزر میں منجمد کرنے کی وجہ معلوم نہیں ہوسکی۔

  • پالتوجانوروں میں کورونا کے اثرات:حکومت نے پالتوجانورہلاک کرنے کااعلان کردیا

    پالتوجانوروں میں کورونا کے اثرات:حکومت نے پالتوجانورہلاک کرنے کااعلان کردیا

    ہانگ کانگ :پالتوجانوروں میں کورونا کے اثرات:حکومت نے پالتوجانورہلاک کرنے کااعلان کردیا،اطلاعات کے مطابق ہانگ کانگ حکام نے ملک میں کورونا وبا کے پیش نظر دو ہزار پالتو جانور ہلاک کرنے کا اعلان کیا ہے۔

    غیرملکی خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق ہانگ کانگ میں جانوروں کی ایک دکان میں کورونا کی مثبت رپورٹس سامنے آئی ہیں جس کے بعد فیصلہ کیا گیا کہ اس دکان میں موجود جانورں کو ختم کردیا جائے گا۔

    رپورٹ میں بتایا گیا کہ پالتو جانوروں کی دکان کے ملازم میں پیر کو ڈیلٹا ویریئنٹ کی تصدیق ہوئی اور کئی ہیمسٹرز(چوہوں کی قسم) جو نیدرلینڈ سے درآمد کیے گئے تھے ان کا ٹیسٹ بھی مثبت آیا۔

    متعلقہ ادارے کا کہنا ہے کہ دکان میں ہمسٹرز(چوہوں کی ایک قسم) میں وبا کی تصدیق ہوئی۔ شہریوں کو ہدایت کی گئی کہ اگر آپ کے پاس ہیمسٹر ہے تو آپ کو اپنے ہیمسٹر کو گھر میں رکھنا چاہیے، انہیں باہر نہ نکالیں۔

    انتظامیہ کا یہ بھی کہنا ہے کہ تمام پالتو جانوروں کے مالکان کو ذاتی حفظان صحت کا خیال رکھنا چاہیے اور آپ کو اپنے ہاتھ دھونے چاہییں، اپنے پالتو جانوروں کو مت چومیں۔

    حکام نے احتیاطی اقدام کے طور پر جن صارفین نے سات جنوری کے بعد سٹور سے ہیمسٹر خریدے ہیں ان کا سراغ لگایا جائے گا اور انہیں لازمی قرنطینہ میں رکھا جائے گا اور انہیں اپنے ہیمسٹرز کو حکام کے حوالے کرنا ہوگا۔