Baaghi TV

Tag: جاوید اقبال

  • طیبہ گل ہراسانی کیس: سابق چیئرمین نیب جاوید اقبال آئندہ  سماعت  پر ذاتی حیثیت میں طلب

    طیبہ گل ہراسانی کیس: سابق چیئرمین نیب جاوید اقبال آئندہ سماعت پر ذاتی حیثیت میں طلب

    اسلام آباد: وفاقی ادارہ محتسب برائے انسداد ہراسانی کی چیئرپرسن فوزیہ وقار نے طیبہ گل ہراسانی کیس میں سابق چیئرمین نیب جاوید اقبال کو آئندہ سماعت پر ذاتی حیثیت میں طلب کرلیا۔

    باغی ٹی وی: وفاقی ادارہ محتسب برائے انسداد ہراسانی میں سابق چیئرمین نیب جاوید اقبال و دیگر کے خلاف طیبہ گل شکایت کی سماعت ہوئی، وفاقی ادارہ محتسب برائے انسداد ہراسانی کی چیئرپرسن فوزیہ وقار نےکیس کی سماعت کی، وفاقی محتسب کا کہنا تھا کہ دائر کردہ درخواست استثنیٰ میں جاوید اقبال کو 10 روز آرام کا مشورہ دیا گیا ہے۔

    طیبہ گل کا کہنا تھا کہ آئندہ تاریخ تب رکھیں جب جاوید اقبال صحتیاب ہوجائیں، میرے کیس کے مرکزی ملزم جاوید اقبال اور عمران ڈوگر کو ضرور طلب کریں،وکیل صفائی کا کہنا تھا کہ طیبہ گل کیجانب سےایک جیسا کیس فائل کرنےپر میرا اعتراض لکھ لیاجائے،چیئر پرسن فوزیہ وقار کا کہنا تھا کہ آئندہ سماعت پر لگائےگئے الزامات پر جواب ضرور جمع کرانا ہے،کیس کا فیصلہ وقت پرکرنا ہے۔

    چودھری سرور کا این اے 127 میں بلاول بھٹو کی بھرپور حمایت کا …

    وفاقی محتسب نے جاوید اقبال اور نیب تفتیشی افسر عمران ڈوگر سمیت 12 ملزمان کو آئندہ سماعت پر ذاتی حیثیت میں بلالیا، کیس کی سماعت 30 جنوری تک ملتوی کردی گئی۔

    عدلیہ مخالف مہم، وفاقی حکومت نے جے آئی ٹی تشکیل دے دی

    ہم کسی صورت الیکشن سے بائیکاٹ نہیں کریں گے،بیرسٹر گوہر

  • ہراساں کرنے کا کیس،طیبہ گل پیش، جاوید اقبال بیمار،درخواست دے دی

    ہراساں کرنے کا کیس،طیبہ گل پیش، جاوید اقبال بیمار،درخواست دے دی

    اسلام آباد:وفاقی محتسب برائے انسداد ہراسیت،طیبہ گل کو ہراساں کرنے کے کیس کی سماعت ہوئی

    طیبہ گل کیس کی سماعت وفاقی محتسب برائے انسداد ہراسیت کی چیئرپرسن فوزیہ وقار نے کی،شکائت کنندہ طیبہ گل زاتی حیثیت میں عدالت پیش ہوئی، سابق چیئرمین نیب جاوید اقبال پیش نہیں ہوئے،سابق چیئرمین نیب جاوید اقبال کی جانب سے طبی بنیادوں پر استثنا کی درخواست دائر کر دی گئی، چیئر پرسن فوزیہ وقار نے کہا کہ جاوید اقبال کی طرف سے سماعت ملتوی کرنے کی درخواست آئی ہے،طیبہ گل نے کہا کہ اب تو جاوید اقبال ویسے بھی نہیں آئیں گے،

    سابق ڈی جی نیب شہزاد سلیم اور تفتیشی افسر عمران ڈوگر بھی پیش نہیں ہوئے،تفتیشی افسر عمران ڈوگر کی جانب سے معاون وکیل پیش ہوئے، چیئر پرسن فوزیہ وقار نے کہا کہ آپ کو معلوم ہے کہ آج تمام ملزمان نے جواب جمع کروانا ہے،معاون وکیل عمران ڈوگر نے کہا کہ سینیئر وکیل آئیں گے، وہی جواب دیں گے، ساڑھے گیارہ تک آجائیں گے، وفاقی محتسب برائے انسدادہراسیت نے سماعت میں وقفہ کردیا

    درخواست گزار طیبہ گل نے اپنا بیان ریکارڈ کرواتے ہوئے کہا کہ سابق چیئرمین نیب جسٹس ر جاوید اقبال نے درخواست سننے کے لیے غیراخلاقی حرکات کرنے کا کہا،جاوید اقبال نے بلیک میل کیا، غیر اخلاقی حرکات نہ کرنے پر کیس نہ سننے کی دھمکی دی ،شہزادسلیم نے جاوید اقبال کے کہنے پر مجھ پر جھوٹا مقدمہ بنایا اور مجھے گرفتار کیا، نیب کے تفتیشی افسر عمران ڈوگر وغیرہ نے گرفتار کیا اور لاہور لے کر گئے جہاں ہراساں کیا گیا، عمران ڈوگر نے دیگر نیب افسران کے ساتھ مل کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا اور ویڈیو بھی بنائی،میرے شوہر کو خاموش رہنےکا کہا گیا ورنہ ویڈیوز وائرل کرنے کی دھمکی دی گئی، جاوید اقبال، شہزاد سلیم، عمران ڈوگر اور دیگر کے خلاف سخت کارروائی کی جائے

    واضح رہے کہ طیبہ گل نے الزام عائد کیا تھا کہ چیئرمین نیب نے انہیں ہراساں کیا ہے،سابق چیئرمین نیب جسٹس ر جاوید اقبال کے خلاف درخواست گزار طیبہ گل پی اے سی میں پیش ہوئی تھیں، طیبہ گل نے کہا کہ انیس جنوری 2019 کو مجھے نیب نے گرفتار کیا،مجھے نہیں پتہ تھا مجھے کیوں گرفتار کیا جارہا ہے،اس سے پہلے میرے خاوند کو گرفتار کیا گیا، میری ایک مرتبہ لاپتہ افراد کمیشن میں ایک لاپتہ فرد کے معاملے پرملاقات ہوئی، میرے خاوند کی چچی لاپتہ تھی مجھے جسٹس جاوید اقبال بار بار بلاتے تھے، مجھے جاوید اقبال کہتا تھا کہ آپ ہر بار خود آیا کریں،میں آپکی وجہ سے جلدی پیشی ڈالتا ہوں، مجھے بار بار بلاتا رہا اور پھر کہا کہ کسی اور مرد کے ساتھ دیکھا تو آپ کے ٹکڑے جھنگ جائیں گے، مجھے بلیک میلر کہا جاتا ہے کہ میں نے ویڈیو ریکارڈز کیوں کیں،میرے پاس پورا ریکارڈ فون کالز اور ویڈیوز موجود ہیں،

    درخواست گزار طیبہ گل کا مزید کہنا تھا کہ گرفتاری مرد اہلکاروں نے کی میرے کپڑے پھاڑے گئے،میرے جسم پر زخموں کے نشان تھے،میرے ساتھ وہ ہوا جو بت ابھی نہیں سکتی میرا میڈیکل نہیں کروایا جاتا، مجھے جج نے جوڈیشل کردیا،مجھ سے جیل میں سادہ کاغذ پر دستخط کرواکر لکھا گیا کہ میں میڈیکل نہیں کروانا چاہتی،میرے خاوند کو پچاس دن جیل رکھ کر میری ویڈیوز دکھا کر اسے ہراساں کیا گیا،مجھ پر چالیس مقدمات درج کئے گئے مجھ پر کوئلہ ٹرک چوری کرنے، بچوں سے میری زیادتی کے مقدمات بنائے گئے، میں چاہتی ہوں کہ جاوید اقبال اور شہزاد سلیم میرے سامنے بیٹھے ہوں،انہوں نے دو کروڑ کا ریفرنس فائل کردیا،

    میرے کپڑے اتارے گئے،مجھے ننگا کیا گیا ،ویڈیو بنائی گئی،نیب کے پاس لیڈیز اسٹاف بھی نہیں،طیبہ گل کا انکشاف

    درخواست گزار طیبہ گل نے پبلک اکاؤنٹس کمیٹی میں مزید انکشاف کیا کہ نیب کے ایک ڈی جی نے مجھے برہنہ کرکے ویڈیو بھی بنائی،مجھے سمجھ نہیں آئی میری ویڈیوز ایک چینل پر کیسے چل گئی،ترجمان نیب کی آڈیو میرے پاس موجود ہے، جس میں ترجمان نیب نے مجھے کہا کہ چیئرمین آپ سے صلح کرنا چاہتے ہیں،مجھے ترجمان نیب نے بتایا کہ ویڈیوز کی وجہ چیئرمین بلیک میل ہورہے ہیں،میں نے وزیر اعظم پورٹل پر شکایت کی ،مجھ سے نیوز ون کے مالک ملے جنہوں نے اپنے دفتر میں مجھ سے ویڈیوز آڈیوز لیکر چینل پرچلا دیں،پھر پی ٹی آئی کے تمام مالم جبہ طرز کے کیس ختم ہوگئے،

    چیئرمین نیب کی ویڈیو لیک کرنیوالوں کے خلاف ریفرنس دائر

    چیئرمین نیب کے خلاف خبر پر پیمرا ان ایکشن، نیوز ون کو نوٹس جاری، جواب مانگ لیا

    چیئرمین نیب کے استعفیٰ کے مطالبے پر مسلم لیگ ن میں اختلافات

    عمران خان نے ویڈیو کے ذریعے چیئرمین نیب کو کیسے بلیک میل کیا؟ سلیم صافی کے ساتھ طیبہ کا بڑا انکشاف

    بنی گالہ کے کتوں سے کھیلنے والی "فرح”رات کے اندھیرے میں برقع پہن کر ہوئی فرار

    ہمیں چائے کے ساتھ کبھی بسکٹ بھی نہ کھلائے اورفرح گجر کو جو دل چاہا

    فرح خان کتنی جائیدادوں کی مالک ہیں؟ تہلکہ خیز تفصیلات سامنے آ گئیں

    پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے سابق پرنسپل سیکرٹری اعظم خان کے وارنٹ گرفتاری جاری کردیے

    طیبہ گل ویڈیو اسکینڈل،میں خاتون سے نہیں ملا، اعظم خان مکر گئے

  • فلم جاوید اقبال ٹو بنانے کا اعلان

    فلم جاوید اقبال ٹو بنانے کا اعلان

    جاوید اقبال ٹو بننے جا رہی ہے اور اس چیز کی تصدیق یاسر حسین نے اپنے انسٹاگرام اکائونٹ پر فلم کے سیکوئل کا پوسٹر شئیر کر کے کیا ہے. فلم کو 2023 میں ریلیز کیا جائیگا . جاوید اقبال میں یاسر حسین نے مرکزی کردار ادا کیا تھا جبکہ جاوید اقبال پارٹ ٹو میں بھی یاسر حسین ہی مرکزی کردار ادا کریں گے. یاسر حسین نے اپنی پوسٹ کا ایک کیپشن یوں لکھا ” میری نئی فلم کا انتطار کیا جائے، جس میں شائقین پوری اور مکمل کہانی دیکھ سکیں گے”۔فلم بنانے کے لئے حوالے سے فلمساز اور او ٹی ٹی کے درمیان معاملات طے پا چکے ہیں.

    جاوید اقبال جس کوابو علیحہ نے ڈائریکٹ کیا تھا اس کے سیکوئل کو بھی وہی ڈائریکٹ کریں گے. ان کا کہنا ہےکہ اس بار جاوید اقبال سینما کے لئے نہیں‌بلکہ او ٹی ٹی پلیٹ فارم کے لئے بنائی جا رہی ہے اس میں‌صحیح سٹوری کو دکھایا جائیگا.ابو علیحہ کی جاوید اقبال کو آج تک پاکستانی سنیماز میں‌ریلیز نہیں‌کیا گیا اس لئے وہ سمجھتے ہیں کہ اس بار انہیں پاکستانی سینما اور فلم سنسر بورڈ‌کے پاس جانا چاہیے. جاوید اقبال ٹو میں یاسر حسین کے علاوہ باقی کاسٹ میں کون ہو گا اس بارے میں ابھی تک کچھ نہیں بتایا گیا اور نہ اس حوالے یاسر حسین اور ڈائریکٹر ابو علیحہ نے معلومات فراہم کی ہیں.

  • جسٹس ر جاوید اقبال کو چیئرمین لاپتہ افراد کمیشن کے عہدے سے ہٹانے کی سفارش معطل

    جسٹس ر جاوید اقبال کو چیئرمین لاپتہ افراد کمیشن کے عہدے سے ہٹانے کی سفارش معطل

    اسلام آباد ہائی کورٹ نے پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی سابق چیئرمین نیب جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال کو چیئرمین لاپتہ افراد کمیشن کے عہدے سے ہٹانے کی سفارش کو معطل کر دیا۔اسلام آباد ہائی کورٹ کے قائم مقام چیف جسٹس عامر فاروق نے درخواست پر احکامات جاری کیے۔

    عدالت نے پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی سفارشات کے خلاف درخواست پر فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 13 اگست تک جواب طلب کر لیا۔عدالت نے فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے سابق چیئرمین نیب کے خلاف تادیبی کارروائی سے بھی روک دیا۔

    وکیل نے دورانِ سماعت عدالت کو بتایا کہ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے جاوید اقبال کو لاپتہ افراد کمیشن کی سربراہی سے ہٹانے کے لیے خط لکھنے کا فیصلہ کیا ہے، کمیٹی نے جاوید اقبال کو لاپتہ افراد کمیشن کے چیئرمین کے عہدے سے ہٹانے کی سفارش کی ہے۔

    قائم مقام چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اختیارات کا معاملہ دیگر 2 درخواستوں میں بھی اٹھایا گیا ہے۔درخواست گزار نے استدعا کی کہ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی 7 جولائی کی میٹنگ کے منٹس غیر قانونی قرار دیے جائیں۔

    ڈپٹی اٹارنی جنرل ارشد کیانی نے عدالت کو بتایا کہ یہ معاملہ اب پی اے سی سے انکوائری کمیشن میں چلا گیا ہے۔عدالت نے ڈپٹی اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ کیا پی اے سی نے کارروائی ختم کر دی ہے؟ آئندہ سماعت پر آگاہ کریں۔قائم مقام چیف جسٹس نے یہ بھی کہا کہ اگر پبلک اکاؤنٹس کمیٹی میں کارروائی نہیں چل رہی تو درخواست غیر مؤثر ہو جائے گی۔

  • ابو علیحہ کی فلم ”شاٹ کٹ “ عید الاضحی پر ریلیز ہوگی

    ابو علیحہ کی فلم ”شاٹ کٹ “ عید الاضحی پر ریلیز ہوگی

    ابوعلیحہ جن کی فلم ”جاوید اقبال“گو کہ ریلز کے حوالے سے تنازعات کا شکار ہے کوحال ہی میں لندن میں ایورارڈ دیا گیا۔ان کی اگلی فلم ریلیز کے لئے تیار ہے۔فلم کا نام ہے ”شاٹ کٹ “ ہے اور یہ عید الاضحی پر ریلیز کی جا رہی ہے ۔فلم میں جگن کاظم اور فلمسٹار ثناءمرکزی کرداروں میںنظر آئیں گے ۔ثناءکافی عرصے کے بعد بڑے پردے پر نظر آئیں گی ۔فلم کی دیگر کاسٹ میں نسیم وکی ، نواز انجم ،احمد نواز،گوشی خان،سخاوت نازو دیگر کا نام شامل ہے ۔فلم پنجابی زبان میں بنائی گئی ہے ڈبنگ کا کام کافی حد تک مکمل ہو چکا ہے عید لاضحی پر ریلز کے لئے تیاریاں آخری مراحل میں داخل ہو چکی ہیں ۔فلم کے ڈائریکٹر ابو علیحہ کو اس فلم سے کام کافی امیدیں وابستہ ہیں ان کا کہنا ہے کہ یہ فلم پنجابی سینما کے لئے تازہ ہوا کا جھونکا ثابت ہو گی ۔

    ان کا کہنا ہے کہ میں نے نسیم وکی اور سخاوت ناز جیسے کامیڈینز سے جیسا کام لیا ہے وہ یقینا دیکھنے والوں کے لئے ایک ٹریٹ ہوگی ہماری فلم میں کامیڈی بامقصد معلوم ہو گی ۔شائقین جگن کاظم کو پہلی بار پنجابی بولتے ہوئے سنیں گے جگن یقینا ایک باصلاحیت اداکارہ ہیں۔
    یاد رہے کہ اس وقت پنجابی سینما کافی زوال پذیر ہے اور اس عید پر صرف دو پنجابی فلمیں تیرے باجرے دی راکھی اور گوگا لاہوریا ریلیز ہوئیں تھیں ان فلموں نے کیسا

  • چیئرمین نیب جسٹس ر جاوید اقبال نے چارج چھوڑ دیا

    چیئرمین نیب جسٹس ر جاوید اقبال نے چارج چھوڑ دیا

    چیئرمین نیب جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال نے اپنے عہدے کا چارج چھوڑ دیا

    جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال کی مدت ملازمت ختم ہو گئی تھی جس کے بعد انہوں نے چارج چھوڑ دیا ہے،چارج چھوڑنے سے قبل چئیرمین نیب نے الوداعی ملاقاتیں بھی کی ہیں، نئے چیئرمین نیب کی تقرری کے لئے حکومت اور اپوزیشن کے مابین مشاورت جاری ہے، جلد وزیراعظم اپوزیشن لیڈر راجہ ریاض سے حتمی مشاورت کے بعد چیئرمین نیب کا نام فائنل کر دیں گے،چیئرمین نیب جسٹس ر جاوید اقبال نے 8 اکتوبر 2018 کو منصب سنبھالا تھا

    دوسری جانب اطلاعات ہیں کہ سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس ر مقبول باقر کے نام پر حکومتی اتحادی جماعتوں میں آپس میں اتفاق کیا گیا ہے،مسلم لیگ ن ، پیپلز پارٹی اور دیگر اتحادی جماعتوں کے مابین نئے چیئرمین نیب کے نام پر مشاورت ہوئی،مشاورت میں جسٹس ر مقبول باقر کے نام پر اتفاق کیا گیا ہے ،سابق صدر آصف زرداری اور وزیراعظم نواز شریف نے بھی اس نام پر اتفاق کیا ہے،

    قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر، پی ٹی آئی کے منحرف رکن راجہ ریاض بھی جسٹس ر مقبول باقر کے نام پر اتفاق کریں گے، قوی امکان ہے کہ وہی نئے چیئرمین نیب ہوں گے، جسٹس (ر) مقبول باقر سندھ ہائیکورٹ سے سپریم کورٹ میں پروموٹ ہوئے تھے اور ان کے جج کے طور پر کردار پر کبھی کوئی اعتراض نہیں ہوا

    بنی گالہ کے کتوں سے کھیلنے والی "فرح”رات کے اندھیرے میں برقع پہن کر ہوئی فرار

    ہمیں چائے کے ساتھ کبھی بسکٹ بھی نہ کھلائے اورفرح گجر کو جو دل چاہا

    فرح خان کتنی جائیدادوں کی مالک ہیں؟ تہلکہ خیز تفصیلات سامنے آ گئیں

    بنی گالہ میں کتے سے کھیلنے والی فرح کا اصل نام کیا؟ بھاگنے کی تصویر بھی وائرل

    منحرف اراکین نااہلی کیس، پی ٹی آئی وکیل نے الیکشن کمیشن سے وقت مانگ لیا

    آج تک کے قانون کے مطابق چیئرمین کے بغیر نیب کچھ بھی نہیں،نیب پراسیکیوٹر

  • پاکستان میں پابندی کا شکار فلم "جاوید اقبال” نے برطانیہ میں دو ایوارڈز اپنے نام کر لئے

    پاکستان میں پابندی کا شکار فلم "جاوید اقبال” نے برطانیہ میں دو ایوارڈز اپنے نام کر لئے

    پاکستان: پاکستانی فلم ’جاوید اقبال: دا ان ٹولڈ سٹوری آف آ سیریل کلر‘ نے برطانوی ایشین فیسٹیول میں دو ایوارڈز جیت لئے ہیں۔

    باغی ٹی وی : 90 کی دہائی کے لاہور کے سب سے بدنام زمانہ سیریل کلر کی حقیقی زندگی کی کہانی پر بنائی گئی فلم جاوید اقبال کو پاکستان میں پابندی کے باوجود برطانیہ میں فلم فیسٹیول میں بہترین ہدایتکاری کا ایوارڈ مل گیا۔

    اقراعزیز سیریل کلرکی زندگی پر مبنی فلم”جاوید اقبال” پر پابندی لگنے پر برہم

    رپورٹس کے مطابق یاسر حسین نے فلم میں مرکزی کردار ادا کرکے یوکے فلم فیسٹیول میں بہترین اداکاری کا ایوارڈ حاصل کیا جبکہ کرائم تھرلر کے مصنف اور ہدایت کار ابو علیحہ کو بہترین ہدایت کار کا ایوارڈ ملا انٹرنیٹ مووی ڈیٹا بیس پر فلم جاوید اقبال کی ریٹنگ 10 میں سے 8.4 ہے۔
    https://twitter.com/abualeeha/status/1525842929306181632?s=20&t=noOhyxBoe0vUx2GEgo5vSQ
    فلم کےڈائریکٹر اور پروڈیوسر نےسماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹرمیں اپنی ٹویٹ میں لکھا کہ پھر ایشین یوکے فلم فیسٹول میں یاسر حسین کو جاوید اقبال پر بہترین اداکار کا ایوارڈ مل گیا اور ابوعلیحہ کو بہترین ہدایت کار کا یہ اس فلم کو ملنے والے پہلے ایوارڈز ہیں اور اسے دنیا کے ہر معتبر فیسٹیول میں نمائش کے لیے پیش کیا جائے گا۔

    فیسٹول میں فلم میں جاوید اقبال کا کردار ادا کرنے والے اداکار یاسر حسین کا کہنا تھا کہ آٹھ سال قبل ایک شخص میرے پاس آیا، میں ان کا نام بھول گیا ہوں۔ وہ میرے پاس ایک سکرپٹ لے کر آئےجس کا نام جاوید اقبال تھا اوروہ ایک ڈاکیومنٹری ڈرامہ بنانا چاہتے تھےاور میں نے اس کے لیے ہامی بھر لی اداکار کا کہنا تھا کہ پھر وہ غائب ہوگئے۔

    یاسر حسین نے کہا کہ پھر دو، تین سال بعد ایک اورپروڈیوسر جاوید اقبال کےسکرپٹ کےساتھ آئے اور وہ اس پرایک ویب سیریز بنانا چاہتے تھےمیں نےپھرہامی بھرلی اور پھر وہ بھی غائب ہو گئےپھرتیسری مرتبہ ابوعلیحہ میرے پاس ایک بہترین سکرپٹ کےساتھ آئےمیں نے ہامی بھری اور ہم نے یہ فلم کرلی۔

    سال 2022 میں آنیوالی:”سوبچوں کےقاتل جاویداقبال”سمیت بڑی بڑی پاکستانی فلموں کی تفصیل آگئی

    پاکستانی سیریل کلر پر بننے والی فلم میں اداکارہ عائشہ عمر نے ایک پولیس افسر کا کردار ادا کیا ہے انہوں نے انسٹاگرام پر ’انٹرنیٹ مووی ڈیٹا بیس‘ کا سکرین شاٹ شیئر کیا جہاں اس فلم کی ریٹنگ 10 میں سے 8.4 ہے۔

    اداکارہ نے اپنی پوسٹ میں لکھا کہ اب تک صرف چند ہزار لوگوں نے یہ فلم دیکھی ہے کیونکہ اس فلم کی ریلیز کے لیے پاکستانی حکومت کی اجازت کا انتظار ہے اور اسے بس یوکے ایشین فلم فیسٹول میں افتتاحی تقریب کی فلم کے طور پر چلایا گیا ہے۔

    یاد رہے کہ اس فلم کو رواں سال جنوری میں ریلیز کیا جانا تھا لیکن اس کی ریلیز سے صرف دو دن پہلے ہی پنجاب کی حکومت نے اس پر پابندی عائد کردی تھی جس کے بعد فلم کی نمائش کو مؤخر کر دیا گیا تھا۔

    پنجاب حکومت نے 100 بچوں کے قاتل جاوید اقبال کی زندگی پر مبنی فلم کی ریلیز روک دی

    رواں سال ہ 27 جنوری کو سینٹرل بورڈ آف فلم سنسرز (سی بی ایف سی) نے فلم کو ریلیز نہ کرنے کا حکم نامہ جاری کیا تھا۔ سنسر بورڈ کے ایک حکام کا کہنا تھا کہ پنجاب انفارمیشن اور کلچر ڈیپارٹمنٹ نے فلم کی ریلیز روکی، فلم پر کچھ اعتراضات سامنے آئے ہیں، بورڈ فلم کا دوبارہ سے جائزہ لے گا جس کے بعد اس کی ریلیز سے متعلق حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔

    واضح رہے کہ فلم کی کہانی پاکستان کے بدنام زمانہ سیریل کلر جاوید اقبال کے گرد گھومتی ہے۔ جس نے 1998 سے 1999 کے دوران لاہور میں 100 سے زائد بچوں کو نہ صرف جنسی طور پر ہراساں کیا تھا بلکہ انہیں قتل کرکے بچوں کی لاشوں کے ٹکڑوں کو تیزاب میں گلا کر دریا برد کردیا تھا قاتل جاوید اقبال کو 16 مارچ 2000 کو عدالت نے اسے 100 بار سزائے موت کا حکم دیتے ہوئے کہا تھا کہ مجرم اور اس کے ساتھی کو بچوں کے ورثا کے سامنے اسی زنجیر سے پھانسی دی جائے جس سے وہ بچوں کا گلا گھونٹتا تھا اس کے بعد ان کی لاشوں کے ٹکڑے بھی اسی طرح تیزار کے ڈرم میں ڈالے جائیں جیسے وہ بچوں کی لاشوں کے ٹکڑے ڈالتا تھا۔

    لیکن اس کی نوبت نہیں آئی کیونکہ گرفتاری کے دو سال بعد 9 اکتوبر 2001 کو جاوید اقبال اور اس کا ساتھی لاہور کی کوٹ لکھپت جیل میں مردہ پائے گئے تھے-

    عائشہ عمر اور یاسر حسین 100 بچوں کے قاتل کی زندگی پربننے والی فلم میں نظر آئیں گے

  • اقراعزیز سیریل کلرکی زندگی پر مبنی فلم”جاوید اقبال” پر پابندی لگنے پر برہم

    اقراعزیز سیریل کلرکی زندگی پر مبنی فلم”جاوید اقبال” پر پابندی لگنے پر برہم

    اداکارہ اقرا عزیز نے سیریل کلر کی زندگی پر مبنی فلم ’’جاوید اقبال: دی ان ٹولڈ اسٹوری آف اے سیریل کلر‘‘ پر پنجاب میں پابندی لگنے پر برہمی کا اظہار کیا ہے-

    باغی ٹی وی : 100 بچوں کے قاتل لاہور کے بدنام زمانہ سیریل کلر جاوید اقبال کی زندگی پر مبنی فلم ’’جاوید اقبال؛ دی ان ٹولڈ اسٹوری آف اے سیریل کلر‘‘ 28 جنوری کو ریلیز ہونی تھی۔ لیکن پنجاب حکومت نے فلم کی نمائش سے صرف ایک روز قبل فلم کی ریلیز روک دی۔

    فلم میں اداکار یاسر حسین نے جاوید اقبال کا مرکزی کردار نبھایا تھا جب کہ اداکارہ عائشہ عمر نے فلم میں پولیس انسپکٹر کا کردار ادا کیا تھا فلم پر لگنے والی پابندی کے باعث جہاں یاسر حسین نے اعتراض کیا تھا وہیں ان کی اہلیہ اداکارہ اقرا عزیز نے بھی برہمی کا اظہار کیا ہے۔

    سال 2022 میں آنیوالی:”سوبچوں کےقاتل جاویداقبال”سمیت بڑی بڑی پاکستانی فلموں کی تفصیل آگئی

    اقرا عزیز نے فلم کی ریلیز پر لگنے والی پابندی کے حوالے سے انسٹاگرام پر کہا کہ ہم کیوں اس حقیقت کو قبول نہیں کرسکتے کہ یہ واقعی 90 کی دہائی میں ہو اتھا۔ کیا صرف کامیڈی فلم یا پیار بھرا ڈراما ہی پاکستان میں تفریح کا ذریعہ ہے ہمارے ناظرین کہتے ہیں ہمیں کچھ اور بھی دکھاؤ لیکن دوستوں کیسے دکھائیں؟

    اقرا عزیز نے پیمرا کو 70 کی دہائی کے بدنام زمانہ امریکن سیریل کلر تھیوڈور رابرٹ بنڈے المعروف ٹیڈ بنڈے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا مجھے لگتا ہے ہمارے پیمرا نے ٹیڈ بنڈے کی ٹیپس نہیں سنیں۔

    خیال رہے کہ 27 جنوری کو سینٹرل بورڈ آف فلم سنسرز (سی بی ایف سی) نے فلم کو ریلیز نہ کرنے کا حکم نامہ جاری کیا تھا۔ سنسر بورڈ کے ایک حکام کا کہنا تھا کہ پنجاب انفارمیشن اور کلچر ڈیپارٹمنٹ نے فلم کی ریلیز روکی، فلم پر کچھ اعتراضات سامنے آئے ہیں، بورڈ فلم کا دوبارہ سے جائزہ لے گا جس کے بعد اس کی ریلیز سے متعلق حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔

    پنجاب حکومت نے 100 بچوں کے قاتل جاوید اقبال کی زندگی پر مبنی فلم کی ریلیز روک دی

    واضح رہے کہ فلم کی کہانی پاکستان کے بدنام زمانہ سیریل کلر جاوید اقبال کے گرد گھومتی ہے۔ جس نے 1998 سے 1999 کے دوران لاہور میں 100 سے زائد بچوں کو نہ صرف جنسی طور پر ہراساں کیا تھا بلکہ انہیں قتل کرکے بچوں کی لاشوں کے ٹکڑوں کو تیزاب میں گلا کر دریا برد کردیا تھا قاتل جاوید اقبال کو 16 مارچ 2000 کو عدالت نے اسے 100 بار سزائے موت کا حکم دیتے ہوئے کہا تھا کہ مجرم اور اس کے ساتھی کو بچوں کے ورثا کے سامنے اسی زنجیر سے پھانسی دی جائے جس سے وہ بچوں کا گلا گھونٹتا تھا اس کے بعد ان کی لاشوں کے ٹکڑے بھی اسی طرح تیزار کے ڈرم میں ڈالے جائیں جیسے وہ بچوں کی لاشوں کے ٹکڑے ڈالتا تھا۔

    لیکن اس کی نوبت نہیں آئی کیونکہ گرفتاری کے دو سال بعد 9 اکتوبر 2001 کو جاوید اقبال اور اس کا ساتھی لاہور کی کوٹ لکھپت جیل میں مردہ پائے گئے تھے-

    عائشہ عمر اور یاسر حسین 100 بچوں کے قاتل کی زندگی پربننے والی فلم میں نظر آئیں گے

  • پنجاب حکومت نے 100 بچوں کے قاتل جاوید اقبال کی زندگی پر مبنی فلم کی ریلیز روک دی

    پنجاب حکومت نے 100 بچوں کے قاتل جاوید اقبال کی زندگی پر مبنی فلم کی ریلیز روک دی

    کراچی: 100بچوں کے قتل میں ملوث بدنام زمانہ سیریل کلر جاوید اقبال کی زندگی پر بننے والی فلم ’جاوید اقبال: دی ان ٹولڈ اسٹوری آف اے سیریل کلر‘ کو پنجاب حکومت نے ریلیز سے محض ایک دن قبل روک دیا-

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق اداکار یاسر حسین اور عائشہ عمر کی اداکاری میں بننے والی اس فلم کو کل پاکستان بھر میں ریلیز کیا جانا تھا پنجاب حکومت نے فلم کے خلاف نوٹس جاری کرتے ہوئے اس کی ریلیز روک دی ہے۔

    عائشہ عمر اور یاسر حسین 100 بچوں کے قاتل کی زندگی پربننے والی فلم میں نظر آئیں گے

    سینٹرل بورڈ آف فلم سنسرز (سی بی ایف سی) نے فلم کو ریلیز نہ کرنے کا حکم نامہ جاری کیا ہے سنسرز بورڈ کے ایک حکام کا کہنا ہے کہ پنجاب انفارمیشن اور کلچر ڈپارٹمنٹ نے فلم کی ریلیز روکی، فلم پر کچھ اعتراضات سامنے آئے ہیں، بورڈ فلم کا دوبارہ سے جائزہ لے گا جس کے بعد اس کی ریلیز سے متعلق حتمی فیصلہ کیا جائے گا فلم کے دوبارہ جائزہ لینے کی تاریخ کا اعلان نہیں کر سکتے لیکن جب بھی فیصلہ ہوا تو عوام کو بتایا جائے گا یہ پاکستان کی پہلی فلم نہیں ہے جو ریلیز سے ایک روز قبل روک دی گئی ہو۔

    سال 2022 میں آنیوالی:”سوبچوں کےقاتل جاویداقبال”سمیت بڑی بڑی پاکستانی فلموں کی تفصیل آگئی

    سی بی ایف سی کے ترجمان کے مطابق بورڈ نے جاوید اقبال کی زندگی پر بننے والی فلم کی ریلیز روکی، چیئرمین ارشد منیر کا اس حوالے سے بالکل واضح مؤقف ہے، دیگر صوبوں کے سنسرز بورڈ بھی اس کا دوبارہ جائزہ لے سکتے ہیں۔

    خیال رہے کہ 18ویں آئینی ترمیم کے بعد سے تمام صوبوں کے اپنے اپنے فلم سنسرز بورڈ ہیں چونکہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان نے سنسرز بورڈز نہیں بنائے اور دونوں ہی سی بی ایف سی پر انحصار کرتے ہیں، اس لیے واضح امکان ہے کہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان بورڈ بھی فلم کی ریلیز کی اجازت نہیں دیں گے۔


    واضح رہے کہ 100 سے زائد بچوں کو بے دردی سے قتل کرکے ان کی لاشوں کو تیزاب میں ڈال کر گلانے والے قاتل جاوید اقبال کو 16 مارچ 2000 کو عدالت نے اسے 100 بار سزائے موت کا حکم دیتے ہوئے کہا تھا کہ مجرم اور اس کے ساتھی کو بچوں کے ورثا کے سامنے اسی زنجیر سے پھانسی دی جائے جس سے وہ بچوں کا گلا گھونٹتا تھا اس کے بعد ان کی لاشوں کے ٹکڑے بھی اسی طرح تیزار کے ڈرم میں ڈالے جائیں جیسے وہ بچوں کی لاشوں کے ٹکڑے ڈالتا تھا۔

    لیکن اس کی نوبت نہیں آئی کیونکہ گرفتاری کے دو سال بعد 9 اکتوبر 2001 کو جاوید اقبال اور اس کا ساتھی لاہور کی کوٹ لکھپت جیل میں مردہ پائے گئے تھے-

    اسموکنگ کی ویڈیو وائرل ہونے کے بعد آئٹم نمبر کی پیشکش ہوئی،علیزے شاہ

  • جسٹس جاوید اقبال کی قیادت میں نیب کی شاندار کارکردگی رپورٹ جاری

    جسٹس جاوید اقبال کی قیادت میں نیب کی شاندار کارکردگی رپورٹ جاری

    اسلام آباد: نیب نے چیئرمین نیب جسٹس جاوید اقبال کی قیادت میں نیب کی شاندار کارکردگی رپورٹ جاری کر دی۔ معاشرے سے بد عنوانی کے خاتمہ کے لیے قومی احتساب بیورو اپنی کثیر الجہت حکمت عملی کے ذریعے غیر متزلزل عزم کے ساتھ جہاں مسلسل کوشاں ہے وہاں اس کی کاوشوں کے قابل ذکر نتائج برآمد ہونے لگے ہیں۔ نیب کا قیام بدعنوانی کے خاتمے اور کرپٹ عناصر سے لوٹی گئی دولت برآمد کرکے قومی خزانے میں جمع کرنے کے لیے لایا گیا ہے۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جسٹس جاوید اقبال نے بطور چیئرمین نیب اپنی ذمہ داریاں سنبھالنے کے بعد نہ صرف ایک جامع اور موثر انسداد بدعنوانی کی حکمت عملی متعارف کرائی بلکہ مختلف اقدامات بھی متعارف کرائے جن کے شاندار نتائج برآمد ہونے لگے ہیں۔ آج ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل پاکستان، ورلڈ اکنامک فورم، گلوبل پیس کینیڈا، پلڈاٹ اور مشال پاکستان جیسی نامور قومی اور بین الاقوامی ادارے نے نہ صرف بدعنوانی کے خاتمے کے لیے نیب کی کوششوں کو سراہتے ہیں بلکہ گیلانی اور گیلپ سروے میں 59 فیصد لوگوں نے نیب پر اپنا اعتماد ظاہر کیا ہے۔

    جسٹس جاوید اقبال کی قیادت میں نیب نہ صرف آج ایک فعال ادارہ ہے بلکہ نیب نے گزشتہ 4 سال سے زائد عرصہ کے دوران بدعنوان عناصر سے بلواسطہ اور بلاواسطہ طور پر 539 ارب وصول کیے ہیں جو کہ پچھلے سالوں کے مقابلے میں قابل ذکر کامیابی ہے۔ نیب کو اپنے آغاز سے اب تک510729 شکایات موصول ہوئیں جن میں سے 498256 شکایات کو نمٹا دیا گیا ہے۔ نیب نے 16307 شکایت کی تحقیقات کی منظوری دی ہے، جن میں سے15475 شکایت کی تحقیقات مکمل ہوچکی ہیں۔

    نیب نے 10365 انکوائریوں کی منظوری دی جن میں سے 9299 انکوائریاں مکمل ہوچکی ہیں۔ قومی احتساب بیورو نے 4707 انوسٹی گیشنز کی منظوری دی ہے جن میں سے 4377 انوسٹی گیشنز مکمل ہو چکی ہیں۔ نیب نے اپنے قیام سے اب تک 822 ارب روپے بالواسطہ اور بلاواسطہ طور پر بر آمد کئے۔

    نیب نے اپنے قیام سے اب تک 3772 ریفرنسز معزز احتساب عدالتوں میں دائر کیے جن میں سے2508 ریفرنسز کو قانون کے مطابق منطقی انجام تک پہنچایا گیا۔اس وقت 1264 ریفرنس جن کی مالیت 1335.019 ارب روپے ہے مختلف احتساب عدالتوں میں زیر سماعت ہیں۔ نیب کو سارک اینٹی کرپشن فورم کا پہلا چیئرمین منتخب کیا گیا۔نیب نے چین کے ساتھ پاکستان میں ہونے والے سی پیک کے منصوبوں کی نگرانی کے لیے ایک مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کیے ہیں۔

    نیب نے کمبائن انویسٹی گیشن ٹیم کا ایک نیا تصور متعارف کرایا ہے تاکہ سینئر سپروائزری افسران کے تجربے اور اجتماعی دانشمندی سے فائدہ اٹھایا جا سکے اور ٹھوس شواہد اور بیانات کی بنیاد پر انکوائریوں اور تفتیش کے معیار کو مزید بہتر بنایا جا سکے۔ شہادتوں اور دستاویزی ثبوتوں کے علاوہ جدید ترین فرانزک سائنس لیب قائم کرنے کے علاوہ ڈیجیٹل فرانزک، سوالیہ دستاویزات اور فنگر پرنٹ تجزیہ کی سہولیات موجود ہیں۔ نیب کے یہ اقدامات اسکا معیار ہیں۔

    نیب نے مانیٹرنگ اینڈ ایولیویشن سسٹم کے ساتھ ساتھ ایک جامع کوانٹیفائیڈ گریڈنگ سسٹم بھی وضع کیا ہے تاکہ چیئرمین نیب جسٹس جاوید اقبال کی قیادت میں نیب کی کارکردگی کو مزید بہتر بنایا جا سکے۔ نیب کی انفورسمنٹ اسٹریٹیجی کے مطابق نیب اپنے چیئرمین جسٹس جاوید اقبال کی قیادت میں تحقیقات مکمل کرنے کے لیے 10ماہ کا وقت مقرر کیا۔ نیب نے اپنے تمام علاقائی بیوروز میں شواہد اکٹھے کرنے کے لئے سیل بھی قائم کیے ہیں۔ اس وجہ سے، نیب ٹھوس دستاویزی شواہد کی بنیاد پر قانون کے مطابق فاضل عدالتوں میں اپنے مقدمات کی بھرپور پیروی کر رہا ہے اور اس کا مجموعی سزا کا تناسب تقریبا 66 فیصد ہے۔

    چیئرمین نیب جسٹس جاوید اقبال کی قیادت میں نیب کے بلا امتیازاقدامات نے طاقتوروں کے خلاف نیب کا وقار کئی گنا بڑھا دیا ہے کیونکہ نیب کا مقصد کرپٹ عناصر سے قوم کی لوٹی گئی رقوم کی واپسی ہے۔ نیب کے تمام افسران/اہلکاران انتہائی،لگن اور قانون کے مطابق بدعنوانی کے خلاف جنگ کو قومی فریضہ سمجھ کر انجام دے رہے ہیں۔

    چیئرمین نیب جسٹس جاوید اقبال شہریوں کو انصاف فراہم کرنے کا 40 سالہ تجربہ رکھتے ہیں۔ انہوں نے سیشن جج کوئٹہ سے اپنے کیریئر کاآغاز کرکے قائم مقام چیف جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان کے طور پر فرائض سرانجام دیئے۔ وہ انتہائی دیانتدار اور قانون کے مطابق اپنے فرائض سر انجام دینے پر سختی سے یقین رکھتے ہیں۔ وہ ہر انسان کی عزت نفس پر یقین رکھتے ہیں۔ اس سلسلہ میں انہوں نے نیب کے تام علاقائی بیوروزکو ہدایات جاری کر رکھی ہیں جس پر تمام علاقائی بیوروز میں من و عن عمل کیا جا رہاہے۔

    نیب قانون پر عمل کرتے ہوئے سب کااحتساب یقینی بناتے ہوئے بدعنوانی کے خاتمہ پریقین رکھتی ہے۔ چیئرمین نیب کی قیادت میں گزشتہ 4سال سے زائد عرصہ کے دوران نیب کی شاندار کارکردگی کے نتائج آئے ہیں۔ ہمیں بدعنوانی کے سرطان کے خلاف جنگ میں اجتماعی کردار ادا کرنا ہو گا جو کہ ہمارے معاشرے کے اخلاقی اقدار کو شدید نقصان پہنچا رہا ہے۔ ہمیں نسل نو کے لئے بہترین اور خوشحال پاکستان چھوڑنا چاہیے۔