Baaghi TV

Tag: جاوید لطیف

  • 75 سال میں کون کس کے ہاتھوں میں کھیلا؟ بے نقاب کرنا ہو گا،جاوید لطیف

    75 سال میں کون کس کے ہاتھوں میں کھیلا؟ بے نقاب کرنا ہو گا،جاوید لطیف

    سابق وفاقی وزیر ،رہنما مسلم لیگ ن میاں جاوید لطیف نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ آج ملک بھر میں عدم استحکام بڑھ رہا ہے,بجلی کے بلوں کا رونا رویا جا رہا ہے،

    میاں جاوید لطیف کا کہنا تھا کہ آج جو مہنگائی کا سیلاب بڑھ رہا ہے,جب تک اس سازش کے پیچھے عناصر کو بے نقاب نہیں کیا جاتا, یہ افراتفری رکے گی نہیں، 75 سال میں کون کس کے ہاتھوں میں کھیلا, ان عناصر کو بے نقاب کرنا ہو گا، سول نافرمانی کی جو شکل بنتی جا رہی ہے, ایسے نہیں رک سکتی، تمام چیزیں قوم کے سامنے لانی ہونگی، 2 4 یاں 10 روپے بجلی کا یونٹ کرنے سے قوم مطمئن نہیں ہو سکتی، پونے چار سالوں میں جنہوں نے حکومت کی ان کی نااہلی سامنے آئی، مسلم لیگ ن نے اپنے دور میں انتہا پر پہنچی لوڈ شیڈنگ ختم کی ۔

     نواز شریف کب واپس آتے ہیں اس کا ابھی تک کنفرم نہیں 

    سیاسی مفادات کے لئے ملک کونقصان نہیں پہنچانا چاہئے

    غیر ملکی سفارت خانوں نے اپنے شہریوں کو محتاط رہنے کی ہدایت کر دی 

     نواز شریف کو آج تک انصاف نہیں ملا،

    میاں جاوید لطیف کا کہنا تھا کہ ہم نے کوشش کی لیکن ناکام رہے ،بگاڑ اتنا ہے کہ وہ نواز شریف کے بغیر ٹھیک نہیں ہوسکتا ،اداروں میں بیٹھے لوگوں، عوام اور سی پیک مخالف قوتوں کو بھی احساس ہوچکا ہے ، احساس ہوچکا ہے کہ 2017 کا پاکستان نواز شریف کے بغیر نہیں آسکتا،

  • سوال جواب کیلئے بلائے گئے بندے کو جیل میں کیسے ڈالا جا سکتا ہے؟چیف جسٹس

    سوال جواب کیلئے بلائے گئے بندے کو جیل میں کیسے ڈالا جا سکتا ہے؟چیف جسٹس

    سپریم کورٹ، لیگی رہنما جاوید لطیف کو گرفتاری سے قبل آگاہ کرنے کے حکم کیخلاف نیب اپیل پر سماعت ہوئی

    نیب پراسیکیوٹر نے عدالت میں کہا کہ ملزم کو گرفتاری سے پہلے مطلع کرنے کا فیصلہ خلاف قانون ہے،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جاوید لطیف کا مقدمہ انکوائری کی سطح پر تھا جس میں گرفتاری نہیں ہوسکتی، نیب پراسیکیوٹرنے کہا کہ تین جولائی 2023 کی ترمیم کے بعد انکوائری کے دوران بھی گرفتاری ہوسکتی ہے، چیف جسٹس عمر عطاء بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جولائی میں ہونے والی نیب ترمیم مشکوک ہے، تین جولائی کو کی گئی نیب ترامیم عدالتی فیصلوں کے متصادم ہیں،سوال جواب کیلئے بلائے گئے بندے کو جیل میں کیسے ڈالا جا سکتا ہے؟ نیب قانون 2001 تک ڈریکونین تھا، نیب قانون میں ریمانڈ کا دورانیہ کم کرنے اور ضمانت دینے کی ترامیم اچھی ہیں،

    جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ نیب قانون کی تشریح عدالتی فیصلوں اور آئین کے تناظر میں ہی ہوسکتی ہے، عدالت نے گرفتاری سے قبل ملزم کو آگاہ کرنے کے حکم کیخلاف نیب کی اپیل خارج کر دی ،عدالت نے کہا کہ ہائی کورٹ کا حکم تین جولائی کی ترمیم سے پہلے کا ہے، پراسیکیوٹر رضوان ستّی نے کہا کہ نیب ترمیم کا اطلاق ماضی سے کیا گیا ہے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ چھوڑیں جی ان باتوں کو، چیف جسٹس کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے سماعت کی

    نیب ترامیم کیخلاف درخواست،جسٹس منصور علی شاہ کی فل کورٹ تشکیل دینے کی تجویز

     نیب ترامیم کیس میں دو صفحات پر مشتمل تحریری نوٹ جاری 

    نیب لاہور کی کاروائی، مونس الہی کے لیے مشکلات مزید بڑھنے لگیں

  • نواز شریف ستمبر میں آ رہے ، جاوید لطیف کا دعویٰ

    نواز شریف ستمبر میں آ رہے ، جاوید لطیف کا دعویٰ

    مسلم لیگ ن کے رہنما جاوید لطیف نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ آج آوازیں آرہی ہیں کہ پندرہ ماہ میں جمہوریت کمزور ہوئی، کیا اس سے پہلے ملک میں جمہوریت تھی،

    جاوید لطیف کا کہنا تھا کہ 2017 میں تو یہ ایک پیج پہ تھے ، جتنا مال غنیمت سمیٹ سکتے تھے سمیٹ لیا ، لیکن 2017 میں ایک مرد قلندر نے نعرہ لگایا کہ ووٹ کو عزت دو، وہ تحریک اتنی زور پکڑ گئی کہ پیچ پھٹنے پر مجبور ہوا ، پھر جب پیج پھٹا تو پندرہ ماہ پہلے تبدیلی آئی،پھر کوشش کی کہ خارجہ امور اور ملکی حالات میں بہتری لاسکیں ،کوشش کی کہ 2017 کا پاکستان دوبارہ بنا سکیں،ہم نے کوشش کی لیکن ناکام رہے ،بگاڑ اتنا ہے کہ وہ نواز شریف کے بغیر ٹھیک نہیں ہوسکتا ،اداروں میں بیٹھے لوگوں، عوام اور سی پیک مخالف قوتوں کو بھی احساس ہوچکا ہے ، احساس ہوچکا ہے کہ 2017 کا پاکستان نواز شریف کے بغیر نہیں آسکتا،

    جاوید لطیف کا کہنا تھا کہ کچھ قوتیں اب بھی چیئرمین پی ٹی آئی کو بچانے کیلئے سرگرم ہیں،نواز شریف کو مائنس رکھنے کی خواہش پوری ہوئی تو پاکستان کو ناقابل تلافی نقصان ہوگا، قبول نہیں کریں گے، کچھ لوگ غیر ملکی سازشوں کے آلہ کار بنے۔نواز شریف ستمبرکے وسط میں پاکستان آئیں گے ،ذوالفقار بھٹو اور نوازشریف کو مائنس کرنے والے عالمی قوتوں کے آلہ کار تھے چند قوتیں پاکستان کو ایٹمی طور پر مسخر کرنے والے کے خلاف ہوگئیں

     نواز شریف کب واپس آتے ہیں اس کا ابھی تک کنفرم نہیں 

    سیاسی مفادات کے لئے ملک کونقصان نہیں پہنچانا چاہئے

    غیر ملکی سفارت خانوں نے اپنے شہریوں کو محتاط رہنے کی ہدایت کر دی 

     نواز شریف کو آج تک انصاف نہیں ملا،

  • ن لیگ الیکشن میں ایک منٹ کی تاخیر نہیں چاہتی،جاوید لطیف

    ن لیگ الیکشن میں ایک منٹ کی تاخیر نہیں چاہتی،جاوید لطیف

    وفاقی وزیر میاں جاوید لطیف نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ وزیراعظم کی گفتگو سے تاثر لیا گیا جیسے الیکشن وقت پر نہیں ہوں گے ،

    جاوید لطیف کا کہنا تھا کہ وزیراعظم نے نئی مردم شماری پر الیکشن کی بات کہی تھی،حقائق یہی ہیں کہ نئی مردم شماری کے مطابق الیکشن ممکن نہیں، اسی لیے پرانی مردم شماری پر ہی الیکشن ہوں گے،ن لیگ الیکشن میں ایک منٹ کی تاخیر نہیں چاہتی،کچھ لوگ کہتے ھے کہ پندرہ ماہ میں جمہوریت کمزور ہوئی،پندرہ ماہ پہلے جو لوگ کمان میں تھے، انکا منصوبہ اس کمزور جمہوریت کو ختم کرنا تھا،آج شبر زیدی بات کر رہا ھے،کہ انتخابات کے بعد جو پارٹی حکومت بنائے گی وہ بدقسمت ہوگی، شبر زیدی کی یہ بات ٹھیک ھے،ہم ریاست بچا رہے ہیں، لوگوں کی آنکھوں میں ایک امید نواز شریف ہے، آنے والے انتخابات میں قوم کی امید نواز شریف ہے،

    جاوید لطیف کا کہنا تھا کہ نواز شریف چوتھی دفعہ وزیراعظم بننے جا رہے ہیں،آج وزیراعظم دو دفعہ کہہ چکے ہیں کہ ادارے کے چیف کے خلاف بغاوت کی سازش ہوئی،دفاعی ادارے کے خلاف بغاوت کی جو سازش ہوئی اسکے پیچھے چھپے عناصر سامنے آئے ہیں،ایک ثابت شدہ مجرم کے اوپر ہاتھ کیوں نہیں ڈالا جارہا، اسکو ججز گیٹ سے نکالا جاتا ہے،اس شخص نے عدالتوں میں درخواستیں دینے کا ریکارڈ قائم کیا، کیا سانحہ نو مئی پر مزید کسی ثبوتوں کی ضرورت ہے،اگر کوئی قانون انسانی حقوق سے متصادم آتا ھے تو اسے ن لیگ کا بل کہا جاتا ہے، اگر کوئی ریلیف کا کام ہوتا ہے تو اسے اتحادی حکومت کا کارنامہ قرار دیا جاتا ہے،

     نواز شریف کب واپس آتے ہیں اس کا ابھی تک کنفرم نہیں 

    سیاسی مفادات کے لئے ملک کونقصان نہیں پہنچانا چاہئے

    غیر ملکی سفارت خانوں نے اپنے شہریوں کو محتاط رہنے کی ہدایت کر دی 

     نواز شریف کو آج تک انصاف نہیں ملا،

  • کوئی بتا دے ریاست پر حملہ کرنا جرم ہے یا نہیں؟ جاوید لطیف

    کوئی بتا دے ریاست پر حملہ کرنا جرم ہے یا نہیں؟ جاوید لطیف

    وفاقی وزیر میاں جاوید لطیف نے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک کیخلا ف سازشوں کا سد باب بروقت،منصفانہ انتخابات سے ہی ممکن ہے،اداروں کے اندر بیٹھے لوگ بھی نواز شریف سے امید لگائے بیٹھے ہیں،کوئی بتا دے ریاست پر حملہ کرنا جرم ہے یا نہیں؟ اسرائیل، انڈیا کی فنڈنگ کا مقصد پاکستان کو نقصان پہنچانا تھا جو وہ اربوں روپے اپنی افواج، انٹیلیجنس اداروں پر خرچ کرکے75 سالوں میں نہ کرسکے وہ آدھی قمیت میں 9،10 مئی کو کروا لیا،

    جاوید لطیف کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف کو بیرون ملک سے اربوں روپے کی فنڈنگ ہوئی 9 اور 10 مئی کو پی ٹی آئی نے ملک دشمنی کا کھلا ثبوت دیا وہ کھیل کھیلا گیا جو پاکستان کے مفادات کے خلاف تھا اسرائیل اور بھارت سے اس شخص کو فنڈنگ ملک کو نقصان پہنچانے کے لیے تھی، ریاست کے خلاف سازش کرنے والوں کو سزا ملنی چاہیے فارن فنڈنگ کیس 11 سال سے آج تک فیصلے سے بچا ہوا ہے اگر اس کیس کا نتیجہ سامنے آنے دیا جاتا تو قوم کو پتہ چل جاتا آج اسرائیل 9 اور 10 مئی کے مرکزی ملزم کو بچانے کی بات کرتا ہے، ہمیں کوئی بتا دے کہ ہماری ریاست پر حملہ کرنا جرم ہے یا نہیں، جب ان کی ریاستوں میں ایسا جرم ہوتا ہو تو کیا انسانی حقوق کی آڑ میں دوسری ریاستیں بھی ان کو بچانے کی کوشش کرتی ہیں

     نواز شریف کب واپس آتے ہیں اس کا ابھی تک کنفرم نہیں 

    سیاسی مفادات کے لئے ملک کونقصان نہیں پہنچانا چاہئے

    غیر ملکی سفارت خانوں نے اپنے شہریوں کو محتاط رہنے کی ہدایت کر دی 

     نواز شریف کو آج تک انصاف نہیں ملا،

  • فتنے کو تخفظ دینے کے لئے نظریہ عمران استعمال کیا جا رہا ہے،جاوید لطیف

    فتنے کو تخفظ دینے کے لئے نظریہ عمران استعمال کیا جا رہا ہے،جاوید لطیف

    ن لیگی رہنما، وفاقی وزیر میاں جاوید لطیف نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ خود احتسابی ایک اچھا عمل ہے، نوید ہے پاکستان کی پریشان حال قوم کے لیے مثبت قدم ہو، اگر ایک طاقتور ادارہ خود احتسابی کا عمل شروع کرتا ہے تو یہ ایک پیغام ہے،دیگر اداروں کو بھی اس عمل سے گزرنا چاہیے تاکہ پاکستان اس مشکل سے نکل سکے، سہولت کاری تھی, ہماری بات سچ ثابت ہوئی،ہمارا ہدف انہیں سزا دینا نہیں بلکہ جو فیصلے ہوئے اور ان سے بربادی آئی ان کو کٹہرے میں لایا جائے

    جاوید لطیف کا کہنا تھا کہ ہمارا ہدف وہ لوگ ہیں جن کی وجہ سے پاکستان میں بدامنی اور معاشی بدحالی آئی، اگر اس پروجیکٹ کو لانچ کرنے والے لوگوں کو آپ گرفتار کر کے سزا نہیں دیں گے تو نو مئی کا واقعہ دوبارہ ہو سکتا ہے ، آپ کو اس واقعہ کے ماسٹر مائنڈ خواہ وہ کتنا بھی طاقتور ہو اس کو سزا دینی ہو گی ،تاکہ ہم اپنے پاکستان کو محفوظ کر سکیں جو لوگ آئیں سے ماورا کا کر قدم اٹھاتے ہیں ان پر تنقید کرنا اور ان کا احتساب کرنا لازم ہے ،آج کوئی کہے کہ یہ ادارے پر حملہ ہے نہیں یہ حملہ پاکستان کی سالمیت پر حملہ ہے ان کے نزدیک 102 سویلین کوئی اہمیت نہیں رکھتا ان کے نزدیک ماسٹر مائنڈ کو بچانا ہے، جو کانٹے سابق لوگوں کے بوئے تھے آپ پوری قوم کاٹ رہی ہے ،

     نواز شریف کب واپس آتے ہیں اس کا ابھی تک کنفرم نہیں 

    سیاسی مفادات کے لئے ملک کونقصان نہیں پہنچانا چاہئے

    غیر ملکی سفارت خانوں نے اپنے شہریوں کو محتاط رہنے کی ہدایت کر دی 

     نواز شریف کو آج تک انصاف نہیں ملا،

    نواز شریف کے چوتھی بار وزیراعظم بننے سے ملکی ترقی کا نیا سفر شروع ہوگا،جاوید لطیف
    جاوید لطیف کا کہنا تھا کہ نواز شریف اب پاکستان سے صرف اڑھائی گھنٹے کی مسافت پر ہے، پی ٹی آئی کے دور کی سزا اب تک باقی ہے ،ان کے ایک فیصلے سے پی آئی ہے انٹرنیشنل پرواز بند ہونے سے ساتھ ارب نقصان ہوا ، قوم کے ساتھ اب ادروں میں بیٹھے لوگ بھی مان رہے ہیں کہ نواز شریف کے بغیر پاکستان کا چلنا مشکل ہو رہا ہے ابھی تو باہر بیٹھ کر ہدایت دے رہا ہے تو روس سے تیل آرہا ہے ، پاکستان کے دوست ممالک پاکستان میں انوسٹمنٹ کا سوچ رہے ہیں پاکستان مسلم لیگ ن 2013 میں بغیر انتخابی اتحاد کے دو تہائی اکثریت کی تھی ، اب تو سورج جو سوا نیزے پر تھا بہت دور جا چکا ہے ،نواز شریف جو واپس آرہا ہے ووٹ کو عزت دو کے نعرے کی وجہ سے آ رہا ہے،انصاف فراہم کرنے والا ادارہ بھی خود احتسابی کے عمل سے گزرے گا،ایک شخص کو نیچا دکھانے کے کے جو فیصلے کئے گئے وہ بھی احتساب کے عمل سے گزرے گا، سیٹ ایڈ جسٹمنٹ کے بارے حتمی بات نواز شریف ہی بتائیں گے ،پارٹی کے اندر جس ورکر اور لیڈر شپ نے سختیاں جھیلیں ان کو پارٹی ٹکٹ ڈی جائے گی، نواز شریف مخلص ورکر کے لیے ایک بڑا پیکج لے کر آر رہے ہیں ،دنیا میں ایسا انصاف نہیں دیکھا جیسا پاکستان میں ہے فتنے کو تخفظ دینے کیلیے نیا نظریہ عمرانی آپ کے سامنے ہے نظریہ ضرورت قومی مفاد میں لیا جاتا ہے آج عمرانی فتنے کو تخفظ دینے کے لئے نظریہ عمران استعمال کیا جا رہا ہے نظریہ ضرورت 1958 میں بے دریغ استعمال کیا گیا تھا کیسا انصاف ہے کہ ہماری قیادت کو رنگ سے باہر رکھا جائے اور الیکشن ہو نواز شریف جب حکومت میں آئے ملک نے ترقی کی پاکستان سب کے لئے مقدم اور مقدس ہونا چاہئیے نواز شریف کے چوتھی بار وزیراعظم بننے سے ملکی ترقی کا نیا سفر شروع ہوگا

  • نواز شریف انتخابی مہم کیلئے نہیں ایک تحریک کیلئے واپس آرہا ہے،جاوید لطیف

    نواز شریف انتخابی مہم کیلئے نہیں ایک تحریک کیلئے واپس آرہا ہے،جاوید لطیف

    ن لیگی رہنما، وفاقی وزیر میاں جاوید لطیف نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کے مسائل اتنے گھمبیر ہو چکے ہیں کہ ہر ایک کو اس پر توجہ دینی ہوگی،جو ایک مصنوعی ڈھانچہ تشکیل دیا گیا تھا وہ منہ کہ بل کے گرا ہے

    جاوید لطیف کا کہنا تھا کہ اگر نو مئی کا واقع نہ ہوتا تو پاکستان کو شاید کسی اس سے بھی بڑا سانحہ کا سامنا کرنا پڑ سکتا تھا،نو مئی کے بعد ہم دنیا کو منہ دکھانے کے قابل نہیں رہے،عمران پروجیکٹ اور جہاں جہاں سے اسے سہولت دی گئی اس پردہ اٹھانا ہوگا،نوجوانوں کے ذہنوں میں وہ باتیں رہ گئیں جو کہ اداروں کے مخالف سکھائی گئیں تو پاکستان کیلئے نقصان دہ ہونگی،روز سنتا ہوں کہ کوئی بڑی پریس کانفرنس ہونے جا رہی ہے،پریس کانفرنس کر کے کوئی رہا ہو جاتا ہے تو کوئی کسی جماعت میں شامل،2018 میں مجھے نہیں پاکستان کو ہرایا گیا،اگر مجھے ہرایا گیا ہوتا تو آج پاکستان کا نوجوان نواز شریف کی واپسی کا انتظار نہ کر رہا ہوتا،نواز شریف کے دور میں بجلی کی لوڈشیڈنگ لوڈشیڈنگ بیس بیس گھنٹے نہیں ہوتی تھی،مہنگائی نہ ہونے کے برابر،ملک ترقی کی راہ پر گامزن تھا،نواز شریف مہنگائی چار فیصد پر لایا جو اب 37 فیصد پر ہے،

    جاوید لطیف کا کہنا تھا کہ نواز شریف نے کراچی کو امن کا شہر بنایا،نواز شریف سی پیک کا منصوبہ لایا جو کہ گیم چینجر تھا،مپھر اس منصوبے اور اسے لانے والے کو سازش کے زریعے روکا گیا،نواز شریف سے ہی قوم کو امید ہے کہ وہ آئے گا تو خوشحالی لائے گا،نواز شریف انتخابی مہم کیلئے نہیں ایک تحریک کیلئے واپس آرہا ہے،تحریک میں ووٹ کے تقدس عزت اور نظام کی بہتری ہوگی،نواز شریف کی جدوجہد کے باعث ایک ادارہ اے پولیٹیکل رول ادا کرنے کا اعلان کرتا ہے،

     نواز شریف کب واپس آتے ہیں اس کا ابھی تک کنفرم نہیں 

    سیاسی مفادات کے لئے ملک کونقصان نہیں پہنچانا چاہئے

    غیر ملکی سفارت خانوں نے اپنے شہریوں کو محتاط رہنے کی ہدایت کر دی 

     نواز شریف کو آج تک انصاف نہیں ملا،

  • جیل میں کیمرے اس وقت خواتین کے حقوق کیوں یاد نہیں تھے؟ جاوید لطیف

    جیل میں کیمرے اس وقت خواتین کے حقوق کیوں یاد نہیں تھے؟ جاوید لطیف

    ن لیگی رہنما، وفاقی وزیر میاں جاوید لطیف نے کہا ہے کہ پاکستان کے ریاستی اداروں کے پاس بیرونی مداخلت کے ثبوت موجود ہیں کہ 9 مئی کے دن کیلیے منصوبہ بندی کی گئی تھی کہ اگر عمران خان کو گرفتار کیا جائے گا تو ان تنصیبات کو نشانہ بنایا جائے گا.

    میاں جاوید لطیف کا پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہنا تھا کہ دنیا کے کسی بھی کسی کونے میں کسی خواتین کیساتھ بدسلوکی بڑا جرم ہے لیکن اگر کوئی عورت دہشتگردی میں شامل ہوگی تو کیا عورت ہونے کے ناطے آپ اس کو چھوڑ سکتے ہیں؟ کیا کوئی بتائے گا کہ موت کی چکی میں کسی کی بہن بیٹی کو رکھا جاتا تھا اور کیمرے لگائے جاتے تھے تو اس وقت خواتین کے حقوق کیوں یاد نہیں تھے؟ ممنوعہ فنڈنگ کیس پایہ تکمیل تک پہنچتا تو 9 مئی کا واقعہ پیش نہ آتا کسی سیاسی جماعت پر پابندی نہیں لگنی چاہیے،اگر کوئی دہشتگردی میں ملوث ہی اس قانونی کارروائی ہونی چاہیے ۔

    میاں جاوید لطیف کا کہنا تھا کہ جب پھانسی گھانٹ میں پھانسی کی چکی میں کسی کی بہن بیٹی کو رکھا جاتا تھا اسوقت خواتین کے حقوق کو کیوں یاد نہیں آئے، آج ایک شخص کو مائنس کیا جا رہا ہے، نواز شریف نے چھ الیکشن لڑے ،چھ میں سے تین میں نواز شریف کو مائنس کرنے کی منصوبہ بندی تھی، تین الیکشن لڑںے کی اجازت ہی نہیں تھی، کیا وہ قائد نہیں تھے، آج جو باتیں اٹھ رہی ہیں اسوقت کیوں نہ کی گئیں، نواز شریف کو آج تک انصاف نہیں ملا، آج سب کردار بے نقاب ہو چکے ہیں، سابق چیف جسٹس کے بیٹے کو بھی سہولت ہے کہ اگر آڈیو سامنے آنے کے بعد پارلیمان کی کمیٹی بلائے تو سٹے مل جاتا ہے

    سیاسی مفادات کے لئے ملک کونقصان نہیں پہنچانا چاہئے

    نواز شریف کو سزا سنانے والے جج محمد بشیر کی عدالت میں عمران خان کی پیشی 

     لیگل ٹیم پولیس لائن گئی تو انہیں عدالت جانے سے روک دیا گیا

    غیر ملکی سفارت خانوں نے اپنے شہریوں کو محتاط رہنے کی ہدایت کر دی 

  • ہمارے سینے میں بہت راز ہیں مگر قوم کے مفاد میں اُگل نہیں سکتے،جاوید لطیف

    ہمارے سینے میں بہت راز ہیں مگر قوم کے مفاد میں اُگل نہیں سکتے،جاوید لطیف

    پاکستان مسلم لیگ ن کے مرکزی رہنما اور وفاقی وزیر جاوید لطیف نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ پچتھر سالوں میں ہم بات سنتے آئے ہیں باہر سے مداخلت ہو رہی ہے،آج ملک دشمن قوتیں کھل کر سامنے آ گئی ہیں،

    جاوید لطیف کا کہنا تھا کہ ریاستی اداروں میں لوگ سہولت کاری کا کردار ادا کررہے ہیں وہ آج پوشیدہ نہیں ہے، دنیا کے طاقتور ملک سے اتنی بھاری تعداد میں خطوط لکھا گیا، کیا بھٹو کو ہٹا کر مارشل لاء لگایا تو کیا پاکستان مخالف قوتوں کے خطوط آئے، دنیا بھر کے مالیاتی ادارے کیا پاکستان سے سیاست نہیں کررہے ،کڑی شرائط پر معاہدات کی باتیں ہوتی ہیں تاکہ قوم کو ریلیف نہ دیا جائے اس کا فائدہ کس کو ہے، ریاستی اداروں میں بیٹھے لوگوں کے فیصلے جو آ رہے ہیں کیا دہشت گردوں کے اقدامات پر قاضی اپنے ملک کے خلاف فیصلے دیتے جس طرح آج آ رہے ہیں ،اداروں میں بیٹھے لوگ سیاست کروارہے ہیں اس طرح کے2017ء میں بھی آر ٹی ایس بند ہونے سے خط آنا چاہئیے تھا،ہمارے سینے میں بہت راز ہیں مگر قوم کے مفاد میں اُگل نہیں سکتے

    جاوید لطیف کا کہنا تھا کہ اگر آپ مذہبی ٹچ دینے والوں کو چھوڑ دیں گے تو دفاعی تنصیبات پر حملہ ہونا ہی تھا کیا افسوس اور مذمت سے ریاست کے دفاع کا جو مذاق اڑا ہے وہ واپس آئے گا پاکستان میں انتشار کا جو بیج بویا گیا تھا آج وہ درخت بن چکا ہے یہ نہیں ہو سکتا کہ ملکی معیشت سے کھیلنے والوں کو معاف کر دیا جائے 2017 میں تو امریکہ سے کوئی خطوط نہیں آیا 2014 میں پارلیمنٹ پی ٹی وی حملہ توہین مسجد نبوی کے مقام پہ ریاستی اداروں کی جانب سے اسطرح کا ردعمل آتا تو پاکستان میں 9مئی جیسا واقعہ کرنے کی کسی میں ہمت نا ہوتی

    سیاسی مفادات کے لئے ملک کونقصان نہیں پہنچانا چاہئے

    نواز شریف کو سزا سنانے والے جج محمد بشیر کی عدالت میں عمران خان کی پیشی 

     لیگل ٹیم پولیس لائن گئی تو انہیں عدالت جانے سے روک دیا گیا

    غیر ملکی سفارت خانوں نے اپنے شہریوں کو محتاط رہنے کی ہدایت کر دی 

  • کچے میں آپریشن کامیاب لیکن زمان پارک پر کریں تو ناکام، کیوں؟ جاوید لطیف

    کچے میں آپریشن کامیاب لیکن زمان پارک پر کریں تو ناکام، کیوں؟ جاوید لطیف

    وفاقی وزیر میاں جاوید لطیف نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ آج حالات اس نہج پر آ چکے ہیں کہ اب اداروں میں بیٹھے افراد کو مکمل سچ بولنا پڑے گا میثاق جمہوریت ہوا تو کچھ اداروں میں بیٹھے افراد کو لگے گا کہ ان کیخلاف اتحاد بن چکا ہے

    ن لیگی رہنما، وفاقی وزیر میاں جاوید لطیف کا کہنا تھا کہ عمران خان نے اداروں میں بیٹھے افراد کے ساتھ مل کر اگلے 10 سے 15 سالوں کی منصوبہ بندی کی تھی اسی لئے عمران خان کو دوبارہ اقتدار میں لانے کے لئے سہولت کاری کی جا رہی ہے کوئٹہ میں وکیل رہنما امان اللہ، جسٹس شوکت صدیقی، جنرل باجوہ، ثاقب نثار سمیت سب کے اعترافات ظاہر کر رہے ہیں کہ سب کے مفادات ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں اگر عمران خان غلط کہہ رہے ہیں تو جنرل باجوہ سچی باتیں کیوں نہیں کرتے، انہیں کس نے روک رکھا ہے کیا ریاستی ادارے کمزور ہو چکے ہیں آپ کچے میں آپریشن کریں تو کامیاب لیکن زمان پارک یا ظہور الہی روڈ پر کریں تو ناکام ،یہ حکومت وقت کی ذمہ داری نہیں ہے بلکہ اداروں میں بیٹھے افراد کی انصاف کرنے کی ذمہ داری ہے عالمی طاقتوں کے نزدیک سی پیک، میثاق جمہوریت، دہشت گردی و لوڈشیڈنگ کا خاتمہ، مہنگائی کو کنٹرول کرنا نواز شریف کے جرائم ہیں نواز شریف کو انتخابی میدان سے باہر اسی لئے رکھا جا رہا ہے کیونکہ نواز شریف ان عالمی طاقتوں کے مفادات کیخلاف ہے آج ریاست مزید قربانی کی متحمل نہیں ہے

    رمضان میں ماہواری میں عورت کیا کرے؟

     مریم نواز نے عمران خان پر کڑی تنقید 

     عمران خان جھوٹے بیانیے پر سیاست کر رہے ہیں،

    عمران خان کا جھوٹا بیانیہ سب نے دیکھ لیا،آڈیو کے بعد بھی یوٹرن لے سکتے ہیں،عظمیٰ بخاری

    ن لیگی رہنما، وفاقی وزیر میاں جاوید لطیف کا کہنا تھا کہ قانون کا اطلاق مارچ اپریل 2023 میں کیوں یاد آ رہا ہے، 2015 یا 2022 میں آئین دوبارہ تحریر کرتے وقت کیوں یاد نہیں آیا آج بھی اداروں میں بیٹھے افراد کے مفادات عمران خان سے وابستہ ہیں ہم اعتراف کرتے ہیں کہ 2015 میں سازش کے وقت ہم کھڑے ہو جاتے اور قوم کو کھل کر حقیقت بتا دیتے تو آج حالات یہ نہ ہوتے 2017 میں نواز شریف کی نااہلی کے وقت مسلم لیگ ن کھڑی ہو جاتی تو نوبت یہاں تک نہیں پہنچنا تھا میں سمجھتا ہوں کہ دہشت گردوں کے ونگز، ادراوں کو کمزور کرنے والوں سے کوئی مذاکرات نہیں ہوتے ملک کیخلاف سازش کرنے والوں سے مذاکرات نہیں ہوتے اس قوم کو انتشار میں مبتلا کرنے والے سے کس بنیاد پر مذاکرات ہو رہے ہیں اس شخص سے مذاکرات کرینگے تو ملکی دفاع پر کمپرومائز کرینگے قوم مطالبہ کرتی ہے کہ جن جن اداروں میں بیٹھے افراد سازش کرتے تھے ان کیخلاف کارروائی کی جائے ہم کبھی الیکشن سے نہیں بھاگے حالانکہ ہماری قیادت کو نااہل کر کے باہر رکھا گیا تھا ہم پٹرول بم تو نہیں پھینکیں گے لیکن پٹرول بم پھینکنے والے کو من مانی نہیں کرنے دینگے کیا کوئی ازخود نوٹس لے گا کہ ٹکٹوں کی تقسیم پر اربوں روپے کوئی اکٹھے کر رہا ہے ہم کسی طور پر بھی نواز شریف کے بغیر انتخابات قبول نہیں ہوں گے آپ نے آج تک اپنے بنائے ہوئے مجسمے کا احتساب نہیں ہونے دیا اداروں میں بیٹھے افراد اپنی غلطیوں کا اعتراف کر لیں تو بہتر ہے آئین سے ہٹ کر مذاکرات کسی کی خواہش پر نہیں ہو سکتے عدالتوں میں کبھی پنچائیت نہیں لگا کرتی پارلیمان کی کھوکھ سے آئین جنم لیتا ہے، آئین کو بنانے والی پارلیمان کو توقیر کرتے رہیں گے تو آئین ہی کسی شق پر عمل نہیں ہو پائے گاآج دنیا میں تاثر یہ پیدا کیا جا رہا ہے پاکستان ایک ناکام ریاست ہے ہم نے میثاق جمہوریت کر کے اپنے پس پردہ کئے گئے کاموں کا اعتراف کر لیا ہے اب اداروں میں بیٹھے سازش کا حصہ بننے والے افراد کی ذمہ داری ہے