Baaghi TV

Tag: جبری مشقت

  • پاکستان اور بھارت امریکی انسانی اسمگلنگ کی لسٹ میں شامل

    پاکستان اور بھارت امریکی انسانی اسمگلنگ کی لسٹ میں شامل

    امریکی محکمہ خارجہ کی انسانی اسمگلنگ (ٹی آئی پی) رپورٹ 2025 میں پاکستان اور بھارت کو ان ممالک میں شامل کیا گیا ہے جو انسانی اسمگلنگ کے خاتمے کے لیے کم از کم معیارات پر پورا نہیں اترتے، مگر اس کے لیے نمایاں کوششیں کر رہے ہیں۔

    دنیا بھر کی حکومتوں کی جانب سے انسانی اسمگلنگ کے خلاف کیے جانے والے اقدامات کا جائزہ لیا گیا ہے، اور اسے جدید دور کی غلامی قرار دیا گیا ہے، جس میں جبری مشقت، جنسی استحصال اور دیگر جبر کی شکلیں شامل ہیں۔رپورٹ کے مطابق پاکستان ایسے ملک کے طور پر سامنے آیا ہے جہاں مرد، خواتین اور بچے خاص طور پر افغانستان، بنگلہ دیش اور سری لنکا سے آنے والے تارکین وطن جبری مشقت کے شکار ہوتے ہیں۔ اسمگلرز افغانستان، ایران اور دیگر ایشیائی ممالک سے تعلق رکھنے والی خواتین اور لڑکیوں (اور کم حد تک لڑکوں) کو پاکستان میں جنسی استحصال کا نشانہ بناتے ہیں۔

    رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ خود کو ہم جنس پرست یا دو جنسی رجحان رکھنے والے افراد شدید استحصال کے خطرے میں ہیں، کیونکہ پاکستان میں ہم جنس پرستی جرم قرار دی گئی ہے اور ایسے افراد کو منظم امتیاز اور تشدد کا سامنا رہتا ہے، جس سے ان کے اسمگلنگ کے خطرات میں اضافہ ہوتا ہے۔سول سوسائٹی کی تنظیموں نے امریکی حکام کو آگاہ کیا کہ خواتین اور لڑکیوں کے خلاف بڑے پیمانے پر تشدد، بشمول ’غیرت کے نام پر قتل‘، انہیں اسمگلنگ نیٹ ورکس کے لیے خاص طور پر کمزور بنا دیتا ہے۔

  • دھوکہ دہی کے شکار مزید 21 پاکستانی میانمار سے بازیاب

    دھوکہ دہی کے شکار مزید 21 پاکستانی میانمار سے بازیاب

    میانمار کے اسکیم کمپاؤنڈز کیمپوں سے دھوکہ دہی کے شکار مزید 21 پاکستانی شہری بازیاب کرالیے گئے۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق رہا ہونے والے خوش قسمت پاکستانی شہریوں کو تھائی لینڈ میں پاکستان کی سفیر رخسانہ افضال نے متاثرین کو بینکاک سے رخصت کیا۔یاد رہے کہ میانمار میں بازیاب پاکستانیوں کا واپس آنے والا یہ دوسرا گروپ ہے اور اب بھی تقریباً 500 پاکستانی مرد و خواتین پھنسے ہوئے۔واضح رہے کہ اسکیم کمپاؤنڈز میں دھوکہ دہی سے پھنسے پاکستانیوں سے جبری مشقت لی جاتی ہے۔

    بدترین مشقتی کیمپوں سے بازیاب نوجوان کا نے بتایا کہ ان پر اسکیم کمپاؤنڈز میں سخت تشدد کیا جاتا تھا، نوجوان کسی کے بہکاوے میں آکر برما کا سفر نہ کریں۔انہوں نے کہا کہ فراڈ کے طریقہ کار کے تحت ہزار سے 1500 ڈالر کی نوکری کا جھانسہ دیا جاتا ہے،خوش قسمتی سے تھائی لینڈ میں پاکستانی سفارتخانے کی کوششوں سے رہائی ملی۔

    گروپتونت سنگھ قتل سازش ، بھارتی شہری پرامریکی عدالت میں مقدمہ چلے گا

    سعودی عرب میں تیل اور گیس کے کئی نئے ذخائر مل گئے

    غزہ جنگ، اسرائیلی خیراتی ادارے سے کھانا لینے پر مجبور

    پی ٹی آئی میں الزام تراشی، بیرسٹر گوہراور سلمان اکرم کے درمیان تلخ کلامی

    امریکا کا چین پر 125 فیصد اور باقی ممالک پر ٹیرف میں وقفےکا اعلان

  • پاکستان میں34لاکھ افراد جبری مشقت کا شکار ہیں: انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن

    پاکستان میں34لاکھ افراد جبری مشقت کا شکار ہیں: انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن

    انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن(آئی ایل او)کے زیر اہتمام جبری مشقت کے بارے رپورٹنگ کے حوالے سے صحافیوں کی کیپسٹی بلڈنگ کیلئے مقامی ہوٹل میں منعقد 2 روزہ ورکشاپ اختتام پذیر ہو گئی۔

    امریکی محکمہ محنت کے تعاون سے آئی ایل او کے پروجیکٹ "بریج” کے تحت تربیتی ورکشاپ کے انعقاد کا مقصد جبری مشقت کے خاتمے اور مزدوری کے منصفانہ بھرتی کے مسائل پر موئثر رپورٹنگ کیلئے صحافیوں کو ضروری علم اور مہارت سے لیس کرنا تھا۔ ورکشاپ کے اختتامی میں پرنٹ، الیکٹرانک، ریڈیو اور ڈیجیٹل میڈیا کے35نامور صحافیوں نے شرکت کی ۔ آخری سیشن میں پروجیکٹ ڈائریکٹر ڈاکٹر فیصل اقبال اور معروف صحافی عون ساہی اورسبوخ سید نے صحافیوں کو پاکستان سمیت دنیا بھر میں جبری مشقت کے خندوخال ‘ پس منظر ‘ استحصال’ عوامل ‘آمدن کے بارے میں تفصیلات اور مفید مشورے دیئے ۔

    اختتامی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر فیصل اقبال نے کہا کہ جبری مشقت ایک مجرمانہ فعل اور بنیادی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے، زراعت، اینٹوں کے بھٹوں، کان کنی اور شپ یارڈ جبری مشقت کے بڑے گڑھ اڈے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں جبری مشقت کے خاتمے کے لیے حکومتی کوششیں کافی مثبت ہیں ‘جبری مشقت پر قابو پانے کے لیے اگرچہ کافی اقدامات کیے جا رہے ہیں لیکن پاکستان میں جبری مشقت لینے والے مالکان غیر رسمی شعبوں سے وابستہ ہیں جس وجہ سے آئی ایل او فریم ورک کے تحت ان سے رابطہ کرنے اور ان کے خلاف کسی قسم کی کارروائی میں مشکلات پیش آتی ہیں’جس کے لیے ان اہم مسائل کو حل کرنے میں میڈیا کے بھرپور کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے۔ڈاکٹر فیصل اقبال نے صحافیوں کو جبری مشقت اور مزدوری کے لیے نقل مکانی کرنے والے لوگوں ان کو درپیش مسائل’ ملکی معیشت میں ان کا حصہ کے بارے میں معلومات فراہم کرتے ہوئے کہاکہ ان موضوعات پر رپورٹنگ کو واضح اور مکمل تحقیق کے ساتھ کرنے کی ضرورت ہے- انہوں نے کہا کہ آئی ایل او کی ایک رپورٹ کے مطابق عالمی سطح پر جبری مشقت کے سالانہ اخراجات اور منافع 236 بلین ڈالر ہے، دنیا بھر میں ہر ہزار میں سے 3.5 افراد جبری مشقت میں ملوث ہیں، صنعتیں، خدمات اور زراعت سب سے زیادہ متاثر ہونے والے تین شعبے ہیں’ پاکستان میں ایک اندازے کے مطابق 3.4 ملین تک افراد جبری مشقت کے حالات کا شکار ہیں جو تشویشناک صورتحال ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان سے بیرون ملک جانے والے شہریوں سے بھی جبری مشقت کروائی جاتی ہے، 2023 میں 8لاکھ لوگ بیرون ملک مزدوری کے لئے گئے جن میں سے زیادہ تر مڈل ایسٹ میں گئے’ جبری مشقت میں میں سب سے زیادہ پیسہ یورپ میں بنایا جا رہا ہے۔ کمپنیز کے ہاتھوں استحصال کیا جاتا ہے،بیرون ملک جانے والے پاکستانیوں کی حالت زار بہت بہتر نہیں ہے ۔

    معروف صحافی عون ساہی اور سبوخ سید نے ورکشاپ کے دوران جبری مشقت اور مزدوروں کی نقل مکانی کے مختلف پہلوں پر جامع تربیتی سیشنز کی قیادت کی۔ عون ساہی نے نیوز سٹوری کی شناخت، پچنگ، ڈیٹا اکٹھا کرنے، اور مختلف پلیٹ فارمز پر موئثر انداز میں نیوز سٹوری کو پیش کرنے میں میڈیا کے کردار کو اجاگر کیا۔

    حقوق پر مبنی اور صنفی حساس نقطہ نظر کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے عون ساہی نے جبری مشقت اور منصفانہ بھرتی کے ارد گرد کے بیانیے کو انسانی بنانے کی اہمیت کو اجاگر کیا، جبکہ خاص طور پر زندہ بچ جانے والوں کا انٹرویو لیتے وقت اخلاقی تحفظات پر عمل کرنے پر زور دیا۔انہوں نے کہاکہ ضرورت اس امر کی ہے کہ میڈیا جبری مشقت کے حوالہ سے کیسز کو نمایاں کوریج دے تا کہ اس ظلم کا خاتمہ ہو، حکومت قوانین پر عملدرآمد کروائے۔

    اختتامی سیشن میں گروپ ورک، اور عملی مشقیں بھی عمل میں لائے گئیں جبکہ ورکشاپ کے شرکاء نے جبری مشقت کے خاتمے کے حوالے سے صحافیوں کی کیپسٹی بلڈنگ کیلئے آئی ایل اوکے اس اقدام کو سراہا اور اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ پاکستان میں جبری مشقت کے خلاف جنگ اور منصفانہ بھرتی کے طریقوں کو فروغ دینے کیلئے اپنا بھرپور کردار ادا کریںگے۔

    وفاقی بجٹ ،قومی اسمبلی سیکورٹی کے سخت انتظامات،ہنگامہ آرائی کا خدشہ

    آئی ایم ایف کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نہیں،مہنگائی میں کمی ہو رہی،وزیر خزانہ

    جبری مشقت بارے آگاہی،انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن کی لاہور میں میڈیا ورکشاپ

    بہت ہو گیا،طوائفوں کی ٹیم، محسن نقوی ایک اور عہدے کے‌خواہشمند

    قومی اسمبلی،غیر قانونی بھرتیوں پر سپیکر کا بڑا ایکشن،دباؤ قبول کرنے سے انکار

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

    حاجرہ خان کی کتاب کا صفحہ سوشل میڈیا پر وائرل،انتہائی شرمناک الزام

    جمخانہ کلب میں مبینہ زیادتی،عظمیٰ تو پرانی کھلاڑی نکلی،کب سے کر رہی ہے "دھندہ”

  • جبری مشقت بارے آگاہی،انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن کی لاہور میں میڈیا ورکشاپ

    جبری مشقت بارے آگاہی،انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن کی لاہور میں میڈیا ورکشاپ

    انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن کے زیر اہتمام پنجاب کے صوبائی دارالحکومت لاہور میں دو روزہ ورکشاپ کے سلسلے میں پہلے دن ڈاکٹر فیصل اقبال، عون ساہی، سبوخ سید نے بریفنگ دی، ورکشاپ کل بدھ کو بھی جاری رہے گی، ورکشاپ کا مقصد صحافیوں کی رپورٹنگ کی صلاحیت کو بڑھانا مقصود ہے.جبری مشقت کے‌ حوالہ سے ورکشاپ میں صحافیوں کو بریفنگ دی گئی اور بتایا گیا کہ جبری مشقت،فورس لیبر کیا ہے؟ اسکا پتہ کیسے چلتا ہے، پاکستان سمیت دنیا بھر میں جبری مشقت سے کتنی آمدن ہو رہی، مزدوروں کا استحصال کیسے کیا جا رہا؟

    لاہور کے نجی ہوٹل میں دو روزہ ورکشاپ کے پہلے روز تین سیشن ہوئے،ورکشاپ میں مختلف میڈیا اداروں سے وابستہ صحافیوں نے شرکت کی، انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن کے نیشنل پروجیکٹ کوآرڈینیٹر ڈاکٹر فیصل اقبال اور معروف صحافی عون ساہی نے ورکشاپ میں بریفنگ دی،آخری سیشن میں صحافی سبوخ سید نے بھی صحافیوں کو مفید مشورے دیئے.

    انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن کے پروجیکٹ کوآرڈینیٹر ڈاکٹر فیصل اقبال نے ورکشاپ کے دوران بریفنگ دی اور جبری مشقت کے حوالہ سے مسائل کو حل کرنے میں میڈیا کی اہمیت اور کردار پر بات کی، ڈاکٹر فیصل اقبال نے جبری مشقت کی شناخت کے لیے عالمی سطح پر انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن کے تسلیم شدہ 11 نکات کی وضاحت کی، ڈاکٹر فیصل اقبال نے صوبہ بلوچستان کا ذکر کیا اور کہا کہ بلوچستان میں جبری مشقت بہت زیادہ لی جا رہی، اس ضمن میں بلوچستان میں حکومت خاموش ہے، تاہم سول سوسائٹی اچھا کام کر رہی ہے،انہوں نے چائلڈ لیبر کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ چائلڈ لیبر کی شناخت آسان ہے، تاہم جبری مشقت کا کیسے پتہ چلے گا؟ یہ مشکل ترین کام ہے.اگر کوئی اتھارٹی کا غلط استعمال کرتا ہے یا زیادہ کام لیتا ہے اور نہ کرنے کی صورت میں نکالنے کی دھمکی دیتا ہے تو یہ جبری مشقت کے زمرے میں آتا ہے،ڈیوٹی کا کوئی مقررہ وقت نہ ہونا، وقت سے زیادہ کام لینا یہ بھی جبری مشقت ہے،کسی کے ڈر یا دھمکی کی وجہ سے کام کرنا بھی جبری مشقت کے زمرے میں آتا ہے،تنخواہوں کو روکنا، وقت پر ادا نہ کرنا بھی جبری مشقت کی ہی ایک قسم ہے،دوران کام جنسی و جسمانی تشدد بھی جبری مشقت ہے،پاکستان میں کام کے اوقات آٹھ گھنٹے مقرر لیکن کام دس بارہ گھنٹے یا زیادہ کروایا جاتا ہے، یا مزدور اپنی گزر بسر کرنے کے لئے اوور ٹائم کرتا ہے تا کہ نظام زندگی چل سکے، یہ بھی جبری مشقت کے ہی زمرے میں آتا ہے،
    ilo
    ورکشاپ میں معروف صحافی عون ساہی نے بریفنگ دی اور جبری مشقت کے خاتمے کے لئے میڈیا کے کردار پر بات چیت کی،عون ساہی کا کہنا تھا کہ جبری مشقت کی نشاندہی اور خاتمے کے لئے میڈیا کا کردار انتہائی اہم ہے،آزادی اظہار رائے ہر شہری کا حق ہے۔ پاکستان میں جبری مشقت 2 پوائنٹ فائیو ملین سے 3 پوائنٹ فور ملین ہے۔ پاکستان سے بیرون ملک جانے والے شہریوں سے بھی جبری مشقت کروائی جاتی ہے، پاکستان سے 2023 میں آٹھ لاکھ لوگ بیرون ملک مزدوری کے لئے گئے جن میں سے زیادہ تر مڈل ایسٹ میں گئے۔ 13 سے 14 ملین پاکستانی مڈل ایسٹ یا دیگر ممالک جا چکے ہیں۔ عون ساہی نے انکشاف کیا کہ دنیا بھر میں جبری مشقت سے 226 بلین ڈالر کا فائدہ اٹھایا جا رہا ، انہوں نےپاکستان میں قوانین بارے ذکر کرتے ہوئے کہا کہ قانون موجود لیکن علمدرآمد نہیں، یوں سمجھیے سٹیٹ ناکام ہو چکی،آٹھ گھنٹے ڈیوٹی کا قانون لیکن کہاں پر عمل ہو رہا، جس ادارے میں جائیں ،زیادہ وقت کام لیا جاتا اور تنخواہیں بھی حکومت کی جانب سے مقرر تنخواہ سے کم دی جاتی ہیں.عون ساہی نے بیرون ملک جانے والے پاکستانیوں کی حالت زار پر بات کرتے ہوئے کہا کہ بیرون ملک جو پاکستانی جاتے ہیں کیا وہ وہاں اوور ٹائم نہیں کرتے؟ وہاں انکی خوراک، رہائش کیسی ہے کچھ خیال نہیں رکھا جاتا،ضرورت اس امر کی ہے کہ میڈیا جبری مشقت کے حوالہ سے کیسز کو نمایاں جگہ دے تا کہ اس ظلم کا خاتمہ ہو، حکومت قوانین پر عملدرآمد کروائے،جبری مشقت میں میں سب سے زیادہ پیسہ یورپ میں بنایا جا رہا ہے۔ کمپنیز کے ہاتھوں استحصال کیا جاتا ہے،

    ہم جنس پرستی کلب کے قیام کی درخواست پر ڈاکٹر فرید احمد پراچہ کا ردعمل

    بحریہ ٹاؤن،چوری کا الزام،گھریلو ملازمین کو برہنہ کر کے تشدد،الٹا بھی لٹکایا گیا

    بحریہ ٹاؤن کے ہسپتال میں شہریوں کو اغوا کر کے گردے نکالے جانے لگے

    سماعت سے محروم بچوں کے لئے بڑی خوشخبری

    ایبٹ آباد میں "ہم جنس پرستی کلب” کے قیام کے لیے درخواست

    مبشر لقمان: ہزاروں چہروں والا اینکر ، دنیا کا پہلا مصنوعی ذہانت سے چلنے والے نیوز اوتار پر ایک نظر

    لندن پلان بارے مبشر لقمان کا انکشاف،نواز شریف نے تصدیق کر دی

    لندن پلان: عمران خان، طاہرالقادری اور چوہدری برادران کو اکٹھا جہانگیر خان ترین نے کیا تھا، مبشر لقمان

    ilo
    دوران بریفنگ صحافیوں کو بتایا گیا کہ انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن چاہتی ہے کہ دنیا میں ڈیسنٹ ورک ہو،کام کا اتنا معاوضہ ملے کہ فیملی کا صحیح خیال رکھا جا سکے۔ چودہ گھنٹے کام کروا کر زیادہ پیسے کمانا حل نہیں بلکہ آٹھ گھنٹے کا معاوضہ اتنا ہو کہ چودہ گھنٹے کام کرنے کی ضرورت نہ پڑے.ڈیسنٹ ورک میں آگے بڑھنے کا موقع ، غلط صحیح بتانے کا موقع اظہار رائے کی آزادی اور سب کو برابری ملنی چاہیے۔

    طالبات کو نقاب کی اجازت نہیں،لڑکے جینز نہیں پہن سکتے،کالج انتظامیہ کیخلاف احتجاج

    امجد بخاری کی "شادی شدہ” افراد کی صف میں شمولیت

    مجھے مسلم لیگ ن کے حوالے سے نہ بلایا جائے میں صرف مسلمان ہوں،کیپٹن ر صفدر


    دوران بریفنگ یہ بھی بتایا گیا کہ پاکستان میں جبری مشقت کے حقیقی اعداد و شمار معلوم کرنے کے لیے کوئی سروے نہیں کیا گیا، اس لیے حکومت پاکستان بالخصوص ادارہ شماریات کو تجویز کیا ہے کہ وہ اپنے لیبر سروے میں جبری مشقت کو بھی شامل کر لے،تا کہ پتہ چلے کہ پاکستان میں کتنے افراد جبری مشقت کر رہے ہیں،

    بہت ہو گیا،طوائفوں کی ٹیم، محسن نقوی ایک اور عہدے کے‌خواہشمند

    قومی اسمبلی،غیر قانونی بھرتیوں پر سپیکر کا بڑا ایکشن،دباؤ قبول کرنے سے انکار

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

    حاجرہ خان کی کتاب کا صفحہ سوشل میڈیا پر وائرل،انتہائی شرمناک الزام

    جمخانہ کلب میں مبینہ زیادتی،عظمیٰ تو پرانی کھلاڑی نکلی،کب سے کر رہی ہے "دھندہ”