Baaghi TV

Tag: جبری گمشدگی

  • پاکستان میں لوگ لاپتہ ہو رہے  یہاں کون آئے گا؟جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب

    پاکستان میں لوگ لاپتہ ہو رہے یہاں کون آئے گا؟جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب

    اسلام آباد ہائیکورٹ ،20 سال سے لاپتہ ایبٹ آباد کے شہری عتیق الرحمن کی بازیابی درخواست پر سماعت ہوئی

    جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے ہاجرہ بی بی کی درخواست پر سماعت کی، درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ جبری گمشدگی کمیشن کے پروڈکشن آرڈر پر عمل درآمد کا حکم دیا جائے، عدالت نے جبری گمشدگی کمیشن سے مطالبہ کیا کہ اس قسم کے کیسز میں ہم پر بہت بوجھ ہوتا ہے، جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ دیگر کیسز کی بات الگ ہے لیکن ان کیسز میں یہ رویہ برداشت نہیں کرونگا، یہ کس قسم کا آپ کمیشن ہے؟ رجسٹرار جبری گمشدگی کمیشن نے کہا کہ یہ کیس سپریم کورٹ میں 2007 سے چلتا رہا ہے، جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ حکومت کی پوزیشن دیکھنا چاہتا ہوں کہ اُنکی پوزیشن کیا ہے، کیا اُنکی یہ پوزیشن ہے کہ جنیں ہم اٹھاتے ہیں اٹھاتے رہیں گے، کیا حکومت کی یہ پوزیشن ہے کہ جو مر جاتا ہے تو مرتا رہے جو زندہ ہے وہ زندہ ہے ہم یہ کرتے رہیں گے، پاکستان میں لوگ لاپتہ ہو رہے ہیں یہاں کون آئے گا؟ آپ امید کر رہے ہیں ڈالر 280 سے نیچے آئے گا، کیوں آئے گا جب یہاں یہ ہو رہا ہے، کمیشن کہتا ہے ہمارے پاس پروڈکشن آرڈرز پر عمل درآمد کا کوئی اختیار نہیں، وزیراعظم کو بتائیں کہ یا تو گمشدگی کمیشن کو ختم کر دیں یا اسے مضبوط بنائیں، کمیشن میں کوئی ایسے لوگ آئیں جو پاکستان کو بدنامی سے تو بچائیں، ججز جب قانون کے تحت کام کرتے ہیں تو ہمارے خلاف ہو جاتے ہیں کہ تم نے قانون کے مطابق کیسے کام کیا،

    پروڈکشن آرڈر پر عمل درآمد نہ کرنے پر کمیشن نے توہین عدالت کی کاروائی شروع کیوں نہیں کی؟عدالت
    ایڈوکیٹ ایمان مزاری نے کہا کہ پھر پریس کانفرنسز بھی ہو جاتی ہیں،جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم ہر چیز کے لیے تیار ہیں ہم یہاں پبلک سروس کے لئے بیٹھے ہیں، جبری گمشدگی کمیشن نے کہا کہ اِس شخص کو انٹیلی جنس ایجنسی نے اٹھایا ہے،پروڈکشن آرڈر پر عمل درآمد نہ کرنے پر کمیشن نے توہین عدالت کی کاروائی شروع کیوں نہیں کی؟ رجسٹرار کمیشن نے کہا کہ توہین عدالت کسی انفرادی شخص کے خلاف ہوتی ہے ادارے کے خلاف نہیں ہوتی،عدالت نے استفسار کیا کہ پھر آپ آرڈر پر عمل درآمد کیسے کراتے ہیں؟ وکیل ایمان مزاری نے کہا کہ جبری گمشدگی کمیشن کو بند کیا جائے،اسلام آباد ہائیکورٹ نے اٹارنی جنرل کو آئندہ سماعت پر طلب کر لیا

    شعیب شاہین نے کہا کہ ابھی تک 2200 سے زائد لوگ مسنگ پرسن ہیں جن کا کچھ نہیں پتہ

    چیف جسٹس سے سیاستدانوں کی جبری گمشدگیوں پر کمیشن قائم کرنے کا مطالبہ

    جبری لاپتہ افراد کے اہلخانہ کو 5،5 لاکھ روپے معاوضہ ادا کردیا گیا

    عمران خان لاپتہ، کیوں نہ نواز شریف کیخلاف مقدمے کا حکم دوں، عدالت کے ریمارکس

    سندھ ہائیکورٹ کا تاریخی کارنامہ،62 لاپتہ افراد بازیاب کروا لئے،عدالت نے دیا بڑا حکم

    انسان کی لاش مل جائے انسان کو تسلی ہوجاتی ہے،جبری گمشدگی کیس میں عدالت کے ریمارکس

    لاپتہ افراد کا سراغ نہ لگا تو تنخواہ بند کر دیں گے، عدالت کا اظہار برہمی

     لگتا ہے لاپتہ افراد کے معاملے پر پولیس والوں کو کوئی دلچسپی نہیں

  • یونیفارم کی عزت کو بحال کرانے کی ضرورت ، عدالت کے بلوچ طلبا کیس میں ریمارکس

    یونیفارم کی عزت کو بحال کرانے کی ضرورت ، عدالت کے بلوچ طلبا کیس میں ریمارکس

    اسلام آباد ہائیکورٹ میں بلوچ طلباء کی بازیابی سے متعلق درخواست کی سماعت پر نگران وزیراعظم انوارالحق پیش نہ ہوئے

    اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے کیس کی سماعت کی،ٹارنی جنرل منصور عثمان عدالت میں پیش ہوئے،جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اپنے ملک کے شہریوں کو ریکور کرنے کے لیے 2 سال لگے، ان کے خلاف لڑائی جھگڑے، نارکوٹکس سمیت کسی قسم کا کوئی کیس نہیں،مسنگ پرسنز کے اور بھی حساس کیسز سنتے ہیں، چوبیس ماہ میں ابھی تک تمام بچوں کو ریکور نہیں کرسکے، لاپتہ 12 طلباء ابھی بازیاب نہیں ہوئے؟اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ میری معلومات کے مطابق 8 طلباء ابھی بازیاب نہیں ہوئے،جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ نگراں وزراء، سیکریٹری دفاع اور سیکریٹری داخلہ کدھر ہیں؟ دوسری دفعہ وزیراعظم نہیں آئے؟

    سماعت کے دوران سیکریٹری داخلہ آفتاب درانی عدالت کے سامنے پیش ہوئے،جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ نگراں وزیراعظم سے پوچھ لیں،ان کو اس لیے بلایا تھا کہ وہ جوابدہ ہیں، یہاں کوئی قانون سے بالاتر نہیں، یا آپ ان افراد کے خلاف کرمنل کیسز کی تفصیل بتائیں، یا پھر ریاستی ادارے جبری گمشدگیوں کے ذمہ دار ہیں، یا پھر یہ لوگ خود بھاگ گئے یا کسی تیسرے نے انہیں اغوا کرلیا، اس صورت میں پھر ریاستی اداروں کی ناکامی ہے،ہر ماہ کی تاریخ ملا کر 24 تاریخیں ہوچکی ہیں، جو شہری بازیاب ہوئے ان کے خلاف کوئی کیس ریکارڈ پر نہیں، ان لاپتہ بچوں کی مائیں بہنیں ہوں گی وہ ڈھونڈ رہی ہوں گی، اسلام آباد ایف 6 میں سے بغیر ایف آئی آر ایک شہری کو اٹھا لے گئے، تین حکومتیں لاپتہ بلوچ اسٹوڈنٹس کی بازیابی کا کچھ نہیں کرسکیں، ابھی نگراں حکومت ہے، اس سے پہلے 16 ماہ کی حکومت تھی، اس سے پچھلی حکومت بھی مسنگ پرسنز کے ایشو پر کچھ نہ کرسکی، سیکریٹری دفاع، سیکریٹری داخلہ، ڈی جی آئی ایس آئی، ڈی جی ایم آئی سرکاری ملازم ہیں، یہ سب افسران جوابدہ ہیں کوئی قانون سے بالاتر نہیں، تینوں اداروں کے سربراہوں کی کمیٹی بنا کر ان سے رپورٹ مانگ لیتے ہیں، ہم کیوں وزیراعظم کو بلائیں؟ جن پر الزام ہے انہی ادارے کے لوگوں پر مشتمل کمیٹی بنا دیتے ہیں

    سماعت کے دوران اٹارنی جنرل نے عدالت سے استدعا کی کہ نئی حکومت آئے گی، انہیں پالیسی بنانے کا وقت دے دیں،جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ وہ کیا کہیں گے کہ کیا جبری گمشدگیاں ہونی چاہئیں؟ کچھ اداروں کو جو استثنیٰ ملا ہوا ہے وہ نہیں ملنا چاہیے، ڈپٹی کمشنر اسلام آباد ایم پی او آرڈرز کا غلط استعمال کرتے رہے، اب عدالتی فیصلے کے بعد وہ توہین عدالت کیس کا سامنا کر رہے ہیں، یونیفارم کی عزت کو بحال کرانے کی ضرورت ہے،آئی جی کو بتا دیں اسلام آباد میں کوئی اغوا ہوا تو ایف آئی آر ان کے خلاف ہوگی، ساری دنیا دیکھ رہی ہے، یہاں تمام ممالک کے سفارتخانے ہیں، وہ دیکھ رہے ہوں گے کہ وہ کیسے دارالحکومت میں رہتے ہیں؟ وزیراعظم ہوتے تو دیکھتے کہ یہاں کس طرح کام ہو رہے ہیں

    عدالت میں شیر افضل مروت ایڈووکیٹ نے کہا کہ میرے گھر پر رات دو بجےچھاپا مارا گیا ، چھاپا مارنے والوں نے ماسک پہن رکھے تھے، جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ ایم این اے اور وکیل ہیں، ان کے ساتھ اسلام آباد میں یہ ہو رہا ہے، یہ لکی مروت نہیں، اسلام آباد کی بات کر رہے ہیں اگر یہاں ایک رکن اسمبلی کےساتھ ایسا ہو رہا ہے تو بلوچستان میں عام لوگوں کے ساتھ کیا ہوگا؟ آئین کی بات کریں تو اب سب ہنستے ہیں، کوئی سیاسی حکومت ہو یا نئی حکومت آنے والی ہو، جواب کمیٹی نے دینا ہے، ہم آئی ایس آئی، ایم آئی اور آئی بی کے ڈی جیز پر مشتمل کمیٹی بنا دیتے ہیں

    لاپتہ افراد انکوائری کمیشن کی مدت میں توسیع

    سپریم کورٹ، جبری گمشدگی،لاپتہ افراد بارے درخواستوں پر سماعت 9 جنوری تک ملتوی

    پچاس سال بھی لگ جائیں ہم عدالت آتے رہیں گے،لاپتہ افراد کیس میں شہری کی دہائی

    تعلیمی ادارے میں ہوا شرمناک کام،68 طالبات کے اتروا دیئے گئے کپڑے

     چارکار سوار لڑکیوں نے کارخانے میں کام کرنیوالے لڑکے کو اغوا کر کے زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا

    لاپتہ افراد کی عدم بازیابی، سندھ ہائیکورٹ نے اہم شخصیت کو طلب کر لیا

     لگتا ہے لاپتہ افراد کے معاملے پر پولیس والوں کو کوئی دلچسپی نہیں

    سندھ ہائیکورٹ کا تاریخی کارنامہ،62 لاپتہ افراد بازیاب کروا لئے،عدالت نے دیا بڑا حکم

    اگلے مرحلے پر آئی جی کو بھی طلب کرسکتے ہیں

  • سپریم کورٹ، جبری گمشدگی،لاپتہ افراد بارے درخواستوں پر سماعت 9 جنوری تک ملتوی

    سپریم کورٹ، جبری گمشدگی،لاپتہ افراد بارے درخواستوں پر سماعت 9 جنوری تک ملتوی

    سپریم کورٹ ،جبری گمشدگیوں اور لاپتہ افراد سے متعلق بیرسٹر اعتزاز احسن سمیت دیگر درخواستوں پر سماعت ہوئی

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسٰی کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت کی ،بنچ میں جسٹس محمد علی مظہر اور جسٹس مسرت ہلالی شامل ہیں،

    وکیل شعیب شاہین نے کہا کہ عمران ریاض خان کا کل فون آیا، انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ اگر تحفظ دے تو میں عدالت میں آ کر سب بتائونگا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ہم کیا کسی کے لیے ریڈ کارپیٹ بیچھائیں،وکیل شعیب شاہین نے کہا کہ آپ تحفظ تو دے سکتے ہیں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ہمارے پاس کوئی فوج ہے جو تحفظ دیں،

    شعیب شاہین نے صحافی مطیع اللہ جان کیس کا اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے کا حوالہ دیا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کل تو آپ مطیع اللہ جان کا نام نہیں لے رہے تھے آج ان کے کیس کا حوالہ دے رہے ہیں،اس وقت جس کی حکومت تھی کیا اس نے ذمہ داری لی ؟شعیب شاہین نے کہا کہ اس وقت کی حکومت کی مداخلت سے ہی وہ پہلے دن رہا ہوگئے، عمران ریاض 4 ماہ لاپتہ رہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ نہیں ایسا بالکل نہیں ہوا تھا یہ غلط فہمی ہوسکتی ہے آپکی،مطیع اللہ جان واقعے کی ویڈیو ریکارڈ ہوگئی تھی جس وجہ سے رہا کرنا پڑا،مطیع اللہ جان کیس ایک ریکارڈڈ دستاویزی کیس تھا، شعیب شاہین نے کہا کہ عمران ریاض والے واقعے کی بھی مکمل سی سی ٹی وی فوٹیج موجود تھی ، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ رک جائیں مجھے اب بات کرنے دیں،اگر اس وقت آپ لوگ سامنا کرتے تو آج والے واقعات نہ ہوتے، اگر مطیع اللہ جان کی رہائی میں آپکی کوئی مداخلت تھی تو ریکارڈ پر لائیں ، وکیل شعیب شاہین نے کہا کہ عمران ریاض کی کل مجھے کال آئی ، عمران ریاض کا پیغام ہے کہ اگر عدالت انہیں سیکورٹی دے تو وہ آکر سب بتانے کو تیار ہیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ پھر اس فورم کا سیاسی استعمال کرہے ہیں، ایک واقعہ ابصار عالم کا ہوا تھا، ہم نے کہا میڈیا پر بات کرنے کی بجائے عدالت آکر بولیں، وہ آئے اور انہوں نے ادھر بات کی۔ جو آپکو فون کرکے کہہ رہا ہے اسکے لیے کیا ریڈ کارپٹ بچھایا جائے اور پھر وہ ادھر آئینگے، آپ اسکو سیاسی اکھاڑا نہ بنائیں،شیخ رشید نے آپکو کیا کہا؟ الیکشن کیس میں شیخ رشید عدالت آ سکتے ہیں تو اس میں کیوں نہیں؟ جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ جو اپنے لیے بات نہیں کر سکتے تو وہ کسی کیلئے کیا بات کرینگے،

    وکیل شعیب شاہین نے کہا کہ ایجنسیوں کے کردار پر فیض آباد دھرنا کیس میں بھی تفصیل سے لکھا گیا ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ فیض آباد دھرنا کیس سے لاپتہ افراد کا کیا تعلق ہے؟ وکیل شعیب شاہین نے کہا کہ لاپتہ افراد کا براہ راست ذکر نہیں لیکن ایجنسیوں کے آئینی کردار کا ذکر موجود ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ فیض آباد دھرنا فیصلے میں قانون کے مطابق احتجاج کے حق کی توثیق کی گئی ہے،کچھ دن پہلے مظاہرین کو روکا گیا تھا اس حوالے سے بتائیں،وکیل شعیب شاہین نے کہا کہ عدالت نے سڑکیں بند کرنے اور املاک کو نقصان پہنچانے پر کارروائی کا کہا تھا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ حیرت ہے آپ فیض آباد دھرنا کیس کا حوالہ دے رہے ہیں، وکیل شعیب شاہین نے کہا کہ ہر ادارہ اپنی حدود میں رہ کر کام کرتا تو یہ دن نہ دیکھنے پڑتے، پہلے دن سے ہی فیض آباد دھرنا فیصلے کے ساتھ کھڑے ہیں،

    پہلے وجہ سمجھ آئے کہ حکومت نے کیوں آپ کے شوہر کو اٹھایا ہوگا، کیا آپ کے شوہر مجاہدین کے حامی تھے یا کسی تنظیم کے رکن تھے؟چیف جسٹس کا آمنہ مسعود جنجوعہ سے مکالمہ
    آمنہ مسعود جنجوعہ عدالت پیش ہوئیں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے آمنہ مسعود جنجوعہ سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ کیا چاہتی ہیں، آمنہ مسعود جنجوعہ نے کہا کہ میں سچ جاننا چاہتی ہوں کہ میرے خاوند کو کس نے غائب کیا،چیف جسٹس قاضی فائزعیسیٰ نے کہا کہ آپ کے شوہر کیا کرتے تھے اور اس وقت حکومت کس کی تھی؟ آمنہ مسعود جنجوعہ نے کہا کہ مشرف کی حکومت میں میرے بزنس مین شوہر کو اٹھایا گیا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ کے کارباری شوہر کا حکومت یا ریاست سے کیا تعلق تھا؟ ریاست کس وجہ سے آپ کے شوہر کو اٹھائے گی؟پہلے وجہ سمجھ آئے کہ حکومت نے کیوں آپ کے شوہر کو اٹھایا ہوگا، کیا آپ کے شوہر مجاہدین کے حامی تھے یا کسی تنظیم کے رکن تھے؟ آمنہ مسعود جنجوعہ نے کہا کہ لاپتہ افراد کمیشن نے میرے شوہر کو 2013 میں مردہ قرار دیدیا تھا،میرے شوہر دوست سے ملنے پشاور کیلئے نکلے لیکن پہنچے نہیں،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ لاپتہ افراد کمیشن کے سربراہ کون ہیں، انکی کتنی عمر ہے، اٹارنی جنرل نے کہا کہ جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال کمیشن کے سربراہ ہیں جن کی عمر 77سال ہے،وہ سپریم کورٹ کے جج کے عہدے سے 2011میں ریٹائرڈ ہوئے،رجسٹرار لاپتہ افراد کمیشن عدالت میں پیش ہوئے، چیف جسٹس نے لاپتہ افراد کمیشن کے رجسٹرار کو روسٹرم پر بلا لیا ، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے رجسٹر ار لاپتہ افراد کمیشن سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ کیا آپ صرف تنخواہ ہی لے رہے ہیں یا کوئی کام بھی کرتے ہیں، جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ کتنی مرتبہ کمیشن کا اجلاس ہوتا ہے، کتنی ریکوری ہوتی ہے، رجسٹرار لاپتہ افراد کمیشن نے کہا کہ اس ماہ 46 لوگ بازیاب ہوئے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آج کل لوگ لاپتہ ہو رہے ہیں یا نہیں ؟ آپکے پاس کیسز آ رہے ہیں ؟ رجسٹرار کمیشن نے کہا کہ جی کمیشن کے پاس کیسز آ رہے ہیں ، کیسز آنے کے بعد کمیشن جے آئی ٹی بناتی ہے ،آمنہ مسعود جنجوعہ نے کہا کہ ہم لوگ لاپتہ کمیشن کے پاس گئے ، ہم ان سے مطمن نہیں ،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اعتزازاحسن صاحب آپ مطمئن ہیں اس کمیشن سے یا نہیں ؟ اعتزاز احسن نے کہا کہ میں بالکل مطمئن نہیں ہوں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہاں اعتزاز احسن سمیت کوئی بھی لاپتہ افراد کیلیے قائم کمیشن سے مطمئن نہیں ،چیف جسٹس قاضی فائز عیسی نے درخواست گزاروں سے استفسارکیا کہ جن کے مسنگ پرسنز کے مقدمات ہیں کیا وہ لاپتہ افراد کمیشن سے مطمئن ہیں یا نہیں، عدالت میں موجود درخواست گزاروں نے لاپتہ افراد کمیشن پر عدم اعتماد کا اظہار کردیا،لطیف کھوسہ نے کہا کہ سپریم کورٹ سے بڑی عمارت لاپتہ افراد کمیشن والوں کی ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ کمیشن کے لوگ کا تقرر کیسے ہوا، اٹارنی جنرل نے کہا کہ وقت کے ساتھ ساتھ کمیشن کے نمائندگان کی معیاد میں توسیع ہوتی رہی،چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا کمیشن ارکان کو تنخواہ ملتی ہے؟رجسٹرار نے کہا کہ سپریم کورٹ کے ریٹائرڈ ججز کو عدالت عظمیٰ اور ہائی کورٹ کے ریٹائرڈ ممبران کو عدالت عالیہ کے مطابق پیکج ملتا ہے، چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا کمیشن ممبران کو پنشن نہیں ملتی ؟ رجسٹرار نے کہا کہ پنشن الگ سے ملتی ہے اور بطور کمیشن تنخواہ الگ، اٹارنی جنرل نے کہا کہ لاپتہ افراد کمیشن 2011 میں بنا تھا اب تک اسے ہی توسیع دی جا رہی ہے،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے درخواست گزار آمنہ جنجوعہ سے پوچھا کہ لوگوں کو اب بھی لاپتہ کیا جارہا ہے؟ آمنہ جنجوعہے ہاں میں جواب دیا۔چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے آبزرویشنز دیں کہ؛ "لوگوں کو 2002 سے لاپتہ کیا جارہا ہے، ماضی میں لاپتہ کئے گئے لوگوں کی ذمہ داری موجودہ حکومت پر نہیں آتی، ہم پرانا مسئلہ تو حل نہیں کرسکتے، شائد اب رکوا دیں یہ سلسلہ، آج ہی ہم حکم جاری کردیتے ہیں کہ اب سے لوگوں کو نہ اٹھایا جائے، اٹارنی جنرل صاحب آپ وفاقی حکومت کی طرف سے یقین دہانی کرواتے ہیں کہ آئندہ لوگوں کو لاپتہ نہیں کیا جائے گا؟ اٹارنی جنرل بولے بالکل یہ یقین دہانی کرواتے ہیں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے جواب دیا کہ اگر آپ کی یقین دہانی کے بعد لوگ لاپتہ ہوئے تو اس کے نتائج ہونگے۔”

    سپریم کورٹ نے آمنہ مسعود جنجوعہ کی درخواست پر وزارت داخلہ اور دفاع سے جواب مانگ لیا ،عدالت نے کہا کہ آمنہ مسعود جنجوعہ کے کیس کو سنجیدگی سے لیا جائے،اٹھارہ سال گزر گئے ہیں سچائی جاننا آمنہ جنجوعہ کا حق ہے،

    دوران سماعت چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے وزیرستان میں 6 حجاموں کے قتل کا تذکرہ کیا اور کہا کہ کیا قتل کرنے والے کو خدا کا خوف نہیں ہوتا؟6 نائی قتل کر دیے گئے لوگوں کو خوف ہی نہیں ہے،قتل کرنے والے یہاں سزا سے بچ سکتے آخرت میں تو جواب دینا ہوگا،بلوچستان میں 46 زائرین کو مار دیا جاتا ہے،عدالت کا کام نہیں حکومت کی ذمہ داری ہے کہ لوگوں کی سوچ کو بدلے،

    لاپتہ افراد کمیشن کا سربراہ سپریم کورٹ کا حاضر سروس جج ہونا چاہیے،اعتزاز احسن
    وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ سپریم کورٹ ماضی میں سپیشل بنچ بنا چکی ہے جو کمیشن کارروائی کو سپروائز کرتا تھا،سپیشل بنچ نے وہ کیسز دیکھنے تھے جن میں پروڈکشن آرڈر پر عمل نہیں کیا گیا تھا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کمیشن کو جب علم ہی نہیں کہ بندا کہاں ہے تو پروڈکشن آرڈر کیسے جاری کر سکتا ہے؟وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ کمیشن ابتدائی انکوائری میں تعین کرتا ہے کہ کیس جبری گمشدگی کا ہے بھی یا نہیں،لاپتہ افراد کمیشن کے احکامات پر حکومت عملدرآمد نہیں کرتی، کمیشن نے 700 پروڈکشن آرڈر جاری کیے عملدرآمد صرف 51 پر ہوا،اعتزاز احسن نے کہا کہ سپریم کورٹ کا ریٹائر جج سربراہ ہوگا تو شاید وہ عملدرآمد نہ کروا سکے، لاپتہ افراد کمیشن کا سربراہ سپریم کورٹ کا حاضر سروس جج ہونا چاہیے،جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ اگر کوئی ایشو ہوتا ہے تو ہم اپنے ہی جج کیخلاف کاروائی یا پوچھ کیسے کریں گے،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ہم مسئلے کا حل ڈھونڈنے کی کوشش کر رہے ہیں، حکومت کو کمیشن کے پروڈکشن آرڈر پر جواب دینا چاہیے، کمیشن کی جانب سے جاری کردہ تمام پروڈکشن آرڈر بارے تفصیلی رپورٹ دیں،آج جوڈیشل کمیشن کا اجلاس ہے پشاور ہائی کورٹ کے ججز کے حوالے سے،آج مزید سماعت کرنا ممکن نہیں ہوگا، اسلام آباد ہائی کورٹ کے کمیشن نے کیا کام کیا ہے؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ اختر مینگل نے اپنی رپورٹ جمع کروا دی تھی، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ لاپتہ افراد کیس میں کسی کے ذاتی مسائل نہیں سنیں گے، عدالت نے منگل تک لاپتہ افراد کمیشن سے تمام مقدمات کی تفصیلات مانگ لیں ،عدالت نے کمیشن کو تمام پروڈکشن آرڈرز اٹارنی جنرل کو فراہم کرنے کی ہدایت کر دی اور کہا کہ اٹارنی جنرل آگاہ کریں پروڈکشن آرڈرز کے حوالے سے حکومت کا کیا موقف ہے،

    سپریم کورٹ کے چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اٹارنی جنرل کو پریس کلب کے سامنے بیٹھے لاپتہ افراد کے لواحقین کو ہراساں کرنے زبردستی اٹھائے جانے اور ان کی کسی بھی پراپرٹی کو نقصان پہنچانے سے روک دیا۔اور کہا ہم امید کرتے ہیں ان کو تنگ نہیں کیا جائے گا کیونکہ احتجاجا کرنا ان کا قانونی اورآئینی حق ہے۔لاپتہ افراد کیس میں ذاتی مسئلے نہیں سنیں گے، لاپتہ افراد کیس کی سماعت 9جنوری تک ملتوی کر دی گئی.

    لاپتہ افراد کیس میں سیاسی کارکنوں کی گمشدگی کے مقدمات نہیں سنیں گے،چیف جسٹس
    وفاقی حکومت نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے احکامات کیخلاف دائر اپیلیں واپس لے لیں ، عدالت نے وفاقی حکومت کی اپیلیں واپس لینے کی بنیاد پر خارج کر دیں ،اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ ہائیکورٹ کے احکامات پر عملدرآمد ہوچکا ہے،اعتزاز احسن نے کہا کہ میرا معاملہ زاتی نہیں بلکہ ایک نیا پیٹرن شروع ہوا ہے، لاپتہ کرنے کا اب نیا طریقہ متعارف کروایا گیا ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ لاپتہ افراد کیس میں سیاسی کارکنوں کی گمشدگی کے مقدمات نہیں سنیں گے، جو گھر واپس آ چکا ہے وہ مجاز قانونی فورم کا استعمال کرے، اعتزاز صاحب اگر متفق نہیں ہیں تو رجسٹرار اعتراضات کالعدم قرار نہیں دینگے، سپریم کورٹ نے پروڈکشن آرڈرز کے اجراء اور ان پر عملدرآمد سے متعلق اٹارنی جنرل سے رپورٹ طلب کرلیا

    جنسی طور پر ہراساں کرنے پر طالبہ نے دس سال بعد ٹیچر کو گرفتار کروا دیا

    غیر ملکی خاتون کے سامنے 21 سالہ نوجوان نے پینٹ اتاری اور……خاتون نے کیا قدم اٹھایا؟

    بیوی طلاق لینے عدالت پہنچ گئی، کہا شادی کو تین سال ہو گئے، شوہر نہیں کرتا یہ "کام”

    50 ہزار میں بچہ فروخت کرنے والی ماں گرفتار

    ایم بی اے کی طالبہ کو ہراساں کرنا ساتھی طالب علم کو مہنگا پڑ گیا

    تعلیمی ادارے میں ہوا شرمناک کام،68 طالبات کے اتروا دیئے گئے کپڑے

    خاتون پولیس اہلکار کے کپڑے بدلنے کی خفیہ ویڈیو بنانے پر 3 کیمرہ مینوں کے خلاف کاروائی

    واضح رہے کہ اعتزاز احسن نے سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں کہا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے غیر قانونی طور پر شہریوں کو لاپتہ کرتے ہیں اور بعد میں منظرِ عام پر لایا جاتا ہے، پرویز مشرف دور میں جبری گمشدگیاں ریاست کی غیر سرکاری پالیسی بن گئی،اسلام آباد ہائیکورٹ نے جبری گمشدگیوں کو ریاست کی غیر اعلانیہ پالیسی قرار دیا، درخواست میں لاپتہ افراد کمیشن کی رپورٹ کا بھی حوالہ دیا گیا، درخواست میں صحافی عمران ریاض کی گمشدگی کا بھی حوالہ دیا گیا، درخواست میں کہا گیا کہ سابق وزیراعظم کے پرنسپل سیکرٹری اعظم خان کو لاپتہ کیا گیا،لاپتہ ہونے کے بعد اعظم خان اچانک منظرعام پر آئے اور چیئرمین پی ٹی آئی کے خلاف گواہ بن گئے، سابق سیکرٹری پنجاب اسمبلی لاپتہ ہونے کے بعد سابق وزیراعلیٰ پرویز الٰہی کے ساتھ مقدمات کا سامنا کر رہے ہیں، شیخ رشید، عثمان ڈار، صداقت عباسی اور فرخ حبیب کو جبری طور پر لاپتہ کیا گیا،جبری گمشدگیاں آئین پاکستان اور بنیادی حقوق کی کھلی خلاف ورزی ہیں،جبری گمشدگیوں سے خوف کی فضا قائم ہوتی ہے، عدالتیں متعدد فیصلوں میں جبری گمشدگیوں کو آئین کی خلاف ورزی قرار دے چکی ہیں،اسلام آباد ہائیکورٹ نے جبری گمشدگیوں کو انسانیت کے خلاف جرم قرار دیا، شہریوں کی جبری گمشدگی اس ملک کا سب سے بڑا مسلہ بن چکا ہے، جبری گمشدگی آئین میں دیئے گئے بنیادی انسانی حقوق کی صریحاً خلاف ورزی ہے،آئین پاکستان اور اقوام متحدہ کے کنونشن جبری گمشدگیوں کی حوصلہ شکنی کرتے ہیں، شہریوں کو جبری طور پر گم کرنے یا لاپتہ کرنے کی روایت فوری ختم کی جائے،لاپتہ شہریوں کو فوری بازیاب کرانے کا حکم دیا جائے،ایک طاقتور کمیشن بنایا جائے جو لاپتہ افراد کی بازیابی کو ممکن بنائے،درخواست میں وفاق، چاروں صوبائی حکومتوں، چاروں آئی جیز پولیس اور لاپتہ افراد کمیشن کو فریق بنایا گیا ہے.

    شعیب شاہین نے کہا کہ ابھی تک 2200 سے زائد لوگ مسنگ پرسن ہیں جن کا کچھ نہیں پتہ

    چیف جسٹس سے سیاستدانوں کی جبری گمشدگیوں پر کمیشن قائم کرنے کا مطالبہ

    جبری لاپتہ افراد کے اہلخانہ کو 5،5 لاکھ روپے معاوضہ ادا کردیا گیا

    عمران خان لاپتہ، کیوں نہ نواز شریف کیخلاف مقدمے کا حکم دوں، عدالت کے ریمارکس

    سندھ ہائیکورٹ کا تاریخی کارنامہ،62 لاپتہ افراد بازیاب کروا لئے،عدالت نے دیا بڑا حکم

    انسان کی لاش مل جائے انسان کو تسلی ہوجاتی ہے،جبری گمشدگی کیس میں عدالت کے ریمارکس

    لاپتہ افراد کا سراغ نہ لگا تو تنخواہ بند کر دیں گے، عدالت کا اظہار برہمی

     لگتا ہے لاپتہ افراد کے معاملے پر پولیس والوں کو کوئی دلچسپی نہیں

  • پچاس سال بھی لگ جائیں ہم عدالت آتے رہیں گے،لاپتہ افراد کیس میں شہری کی دہائی

    پچاس سال بھی لگ جائیں ہم عدالت آتے رہیں گے،لاپتہ افراد کیس میں شہری کی دہائی

    سندھ ہائیکورٹ: طویل عرصے سے لاپتہ دس سے زائد افراد کی بازیابی سے متعلق درخواستوں کی سماعت ہوئی

    جسٹس نعمت اللہ پھلپوٹو نے پولیس افسران سے استفسار کیا کہ لاپتہ شہری کے حوالہ سے کتنی جے آئی ٹیز ہوچکی ہیں ،پولیس حکام نے کہا کہ 16 جے آئی ٹیز اور پی ٹی ایف سیشن ہوچکے ہیں ،درخواست گزار نے کہا کہ 9 سال سے لاپتا ریاست اللہ کا تاحال پتہ نا چل سکا، پولیس نے پیش رفت رپورٹ جمع کرادی،تفتیشی افسر نے کہا کہ ریاست اللہ کا کیس جبری گمشدگی کی کیٹیگری میں شامل کردیا گیا ہے ،درخواست گزار نے کہا کہ 9 سال ہوگئےہیں ہمارے حالات بہت خراب ہیں ، نوکری ملازمت بھی مل رہی ہے خدارا کچھ تو کیجیے ،واجد حسین سات سال سے لاپتا ہے کچھ تو کریں ، کیوں اغواء کرکہ لے جاتے ہیں جب قانون موجود ہے تو ،عدالت نے ایس پی انوسٹی گیشن کو آئندہ سماعت پر طلب کرلیا،عدالت نے وفاقی وزارت داخلہ سے بھی رپورٹ طلب کرلی، درخواست گزار نے کہا کہ اگر پچاس سال بھی لگ جائیں ہم عدالت آتے رہیں گے ،جب تک ہم زندہ ہیں عدالت آتے رہینگے، عدالت نے درخواستوں کی مزید سماعت 30 جنوری تک ملتوی کردی

    تعلیمی ادارے میں ہوا شرمناک کام،68 طالبات کے اتروا دیئے گئے کپڑے

     چارکار سوار لڑکیوں نے کارخانے میں کام کرنیوالے لڑکے کو اغوا کر کے زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا

    لاپتہ افراد کی عدم بازیابی، سندھ ہائیکورٹ نے اہم شخصیت کو طلب کر لیا

     لگتا ہے لاپتہ افراد کے معاملے پر پولیس والوں کو کوئی دلچسپی نہیں

    سندھ ہائیکورٹ کا تاریخی کارنامہ،62 لاپتہ افراد بازیاب کروا لئے،عدالت نے دیا بڑا حکم

    اگلے مرحلے پر آئی جی کو بھی طلب کرسکتے ہیں

    واضح رہے کہ لاپتہ افراد کیس میں ایک گزشتہ سماعت کے دوران عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا تھا کہ کیا آپ کو معلوم ہے جبری گمشدگی کیا ہوتی ہے؟ جبری گمشدگی سے مراد ریاست کے کچھ لوگ ہی لوگوں کو زبردستی غائب کرتے ہیں، جس کا پیارا غائب ہو جائے ریاست کہے ہم میں سے کسی نے اٹھایا ہے تو شرمندگی ہوتی ہے، ریاست تسلیم کرچکی کہ یہ جبری گمشدگی کا کیس ہے،انسان کی لاش مل جائے انسان کو تسلی ہوجاتی ہے،جبری گمشدگی جس کے ساتھ ہوتی ہے وہی جانتا ہے، بنیادی حقوق کی خلاف ورزی نہیں ہونے دیں گے، اگر آپ ان چیزوں کو کھولیں گے تو شرمندگی ہو گی

  • لاپتہ افراد کی بازیابی کے لئے اقدامات کی ہدایت

    لاپتہ افراد کی بازیابی کے لئے اقدامات کی ہدایت

    سندھ ہائی کورٹ لاپتہ افرادکی بازیابی سے متعلق درخواستوں کی سماعت ہوئی

    جسٹس نعمت اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ گمشدہ افراد کے معاملے میں جو بھی ملوث ہے اس کے خلاف قدم اٹھائیں، اگر کوئی شہری ازخود بھی غائب ہوگیا تو بھی تلاش کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے،تفتیشی افسر نے کہا کہ بتایا گیا تھا لاپتا عثمان شہری لانڈھی جیل میں ہے، جیل والوں کو خط لکھنے پر جواب ملا لانڈھی جیل میں نہیں ہے،جسٹس نعمت اللہ نے کہا کہ جیل سپرنٹنڈنٹ کا بیان ریکارڈ کریں،اگر کارروائی بنتی ہے تو جیل سپرنٹنڈنٹ کے خلاف بھی کریں،

    عدالت نے دیگر لاپتا افراد کی بازیابی کے لیے اقدامات کرنے کی ہدایت کر دی،عدالت نے لاپتا شہری علی حسن کا سراغ لگانے کے لیے جے آئی ٹیز اجلاس منعقد کرنے کی ہدایت کر دی، پولیس نے گمشده شہری صدام کی گرفتاری ظاہر کردی،عدالت نے صدام کی بازیابی سے متعلق درخواست نمٹادی .

    تعلیمی ادارے میں ہوا شرمناک کام،68 طالبات کے اتروا دیئے گئے کپڑے

     چارکار سوار لڑکیوں نے کارخانے میں کام کرنیوالے لڑکے کو اغوا کر کے زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا

    لاپتہ افراد کی عدم بازیابی، سندھ ہائیکورٹ نے اہم شخصیت کو طلب کر لیا

     لگتا ہے لاپتہ افراد کے معاملے پر پولیس والوں کو کوئی دلچسپی نہیں

    سندھ ہائیکورٹ کا تاریخی کارنامہ،62 لاپتہ افراد بازیاب کروا لئے،عدالت نے دیا بڑا حکم

    اگلے مرحلے پر آئی جی کو بھی طلب کرسکتے ہیں

    واضح رہے کہ لاپتہ افراد کیس میں ایک گزشتہ سماعت کے دوران عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا تھا کہ کیا آپ کو معلوم ہے جبری گمشدگی کیا ہوتی ہے؟ جبری گمشدگی سے مراد ریاست کے کچھ لوگ ہی لوگوں کو زبردستی غائب کرتے ہیں، جس کا پیارا غائب ہو جائے ریاست کہے ہم میں سے کسی نے اٹھایا ہے تو شرمندگی ہوتی ہے، ریاست تسلیم کرچکی کہ یہ جبری گمشدگی کا کیس ہے،انسان کی لاش مل جائے انسان کو تسلی ہوجاتی ہے،جبری گمشدگی جس کے ساتھ ہوتی ہے وہی جانتا ہے، بنیادی حقوق کی خلاف ورزی نہیں ہونے دیں گے، اگر آپ ان چیزوں کو کھولیں گے تو شرمندگی ہو گی

  • وزیراعظم،وزیر داخلہ،وزیر دفاع،وزیر انسانی حقوق کی عدالت طلبی

    وزیراعظم،وزیر داخلہ،وزیر دفاع،وزیر انسانی حقوق کی عدالت طلبی

    اسلام آباد ہائیکورٹ،بلوچ طلبہ کی جبری گمشدگی سے متعلق قائم کمیشن کی سفارشات پر عملدرآمد کا کیس،اسلام آباد ہائیکورٹ نے وزیراعظم، وزیر داخلہ، وزیر دفاع اور وزیر انسانی حقوق کو طلب کر لیا،عدالت نے سیکرٹری داخلہ اور سیکرٹری دفاع کوبھی 29 نومبر کو گیارہ بجے عدالت میں طلب کر لیا

    جسٹس محسن اختر کیانی نے گزشتہ سماعت کا پانچ صفحات پر مشتمل تحریری حکمنامہ جاری کر دیا، حکمنامہ میں کہا گیا کہ مختلف یونیورسٹیوں کے 69 بلوچ طلبہ کی نسلی پروفائلنگ، ہراساں اور جبری گمشدہ کیا گیا، ریکارڈ کے مطابق کچھ لاپتہ طلبہ گھروں کو لوٹ آئے لیکن کم از کم پچاس اب بھی غائب ہیں، سابق چیف جسٹس ہائیکورٹ اطہر من اللہ نے بلوچ طلبہ کے تحفظات کے ازالے کیلئے کمیشن تشکیل دیا،ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے تسلیم کیا کہ ریاستی اداروں کی جانب جبری گمشدہ بلوچ طلبہ اب بھی لاپتہ ہیں،بلوچستان سے تعلق رکھنے والے وزیراعظم اور وزیر داخلہ نے اس مسئلے پر کوئی مثبت اقدام نہیں اٹھایا، اکیس سماعتوں کے باوجود اس مسئلے پر مثبت بتائج نہ آنا آئین پاکستان کی توہین ہے،عدالتیں مظلوم کیلئے امید کی آخری کِرن ہوتی ہیں، ریاستی عہدیداروں کے اس سُست رویے نے اعلی عدالتوں پر عوامی اعتماد متزلزل کر دیا ہے، الارمنگ ہے کہ ریاستی اداروں پر بلوچ طلبہ کی جبری گمشدگی کا الزام ہے اور وہی انکو بازیاب کرانے میں بے بس ہیں،عدالت اس نتیجے پر پہنچی ہے کہ وفاقی حکومت اس معاملے سے غیرسنجیدگی سے نمٹ رہی ہے،

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے تحریری حکمنامے میں کہا کہ شہریوں کے حقوق کے تحفظ کی ذمہ دار حکومتِ پاکستان انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو روک نہیں پا رہی، عدالت کے پاس وزیراعظم، وزیر دفاع اور داخلہ کو طلب کرنے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں بچا، وزیر انسانی حقوق، سیکرٹری داخلہ اور دفاع بھی آئندہ سماعت پر ذاتی حیثیت میں پیش ہوں،وزیراعظم، وزراء اور سیکرٹریز پیش ہو کر بتائیں کہ معاملے کو اہمیت کیوں نہیں دے رہے؟کمیشن رپورٹ کے مطابق یونیورسٹیوں اور کالجوں کے طلبہ کو قانون نافذ کرنے والے اداروں نے اٹھایا، امید ہے وزیراعظم، وزراء اور سیکرٹریز ٹھوس نتائج کے ساتھ عدالت میں پیش ہونگے، امید ہے عدالت کو بتایا جائے گا کہ لاپتہ طلبہ اپنے گھروں میں واپس پہنچ گئے ہیں، کوئی طالبعلم ریاست مخالف سرگرمی میں ملوث ہو تو متعلقہ عدالت میں پیش کیا جائے، ناکامی کی صورت میں سمجھا جائے گا کہ مندرجہ بالا افراد ریاستی مفاد کے خلاف کام کر رہے ہیں، سمجھا جائے گا کہ یہ افراد اس سسٹم کا حصہ ہیں جس میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں کی جا رہی ہیں، یہ افراد اپنی موجودگی میں ہونے والی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر خاموش تماشائی تصور ہونگے،

    ایک ماہ میں بلوچ طلباء کی ہراسگی روکنے سے متعلق کمیشن رپورٹ پیش کرے ،عدالت

     دو ہفتوں میں بلوچ طلبا کو ہراساں کرنے سے روکنے کیلئے کئے گئے اقدامات کی رپورٹ طلب

    کسی کی اتنی ہمت کیسے ہوگئی کہ وہ پولیس کی وردیوں میں آکر بندہ اٹھا لے،اسلام آباد ہائیکورٹ

    کیا آپ شہریوں کو لاپتہ کرنے والوں کی سہولت کاری کر رہے ہیں؟ قاضی فائز عیسیٰ برہم

    لوگوں کو لاپتہ کرنے کے لئے وفاقی حکومت کی کوئی پالیسی تھی؟ عدالت کا استفسار

    لاپتہ افراد کیس،وفاق اور وزارت دفاع نے تحریری جواب کے لیے مہلت مانگ لی

    عدالت امید کرتی تھی کہ ان کیسز کے بعد وفاقی حکومت ہِل جائے گی،اسلام آباد ہائیکورٹ

  • جبری گمشدگیوں کی درخواست پر اعتراض،اعتزاز احسن نے  چیمبر اپیل دائر کردی

    جبری گمشدگیوں کی درخواست پر اعتراض،اعتزاز احسن نے چیمبر اپیل دائر کردی

    سپریم کورٹ، ملک میں جبری گمشدگیوں کا معاملہ،درخواست گزار اعتزاز احسن نے رجسٹرار آفس کے اعتراضات کے خلاف چیمبر اپیل دائر کردی
    اپیل میں کہا گیا کہ رجسٹرار سپریم کورٹ کو یہ اختیار نہیں کہ وہ یہ فیصلہ کر سکے کہ کوئی درخواست قابلِ سماعت ہے یا نہیں، جسٹس منصور علی شاہ یہ فیصلہ دے چکے ہیں کہ رولز میں رجسٹرار کو درخواست کے قابلِ سماعت ہونے کے تعین کا کوئی اختیار نہیں،سپریم کورٹ رولز 1980 کے تحت کسی درخواست کے قابلِ سماعت ہونے کا اختیار عدالت کو ہے، اس کیس کو نہ سنا گیا تو یہ پیغام جائے گا کہ لوگوں کا لاپتہ ہونا مفاد عامہ کا معاملہ نہیں،رجسٹرار سپریم کورٹ نے اعتراضات میں جس عدالتی فیصلے کا سہارا لیا وہ غیر متعلقہ ہے،لوگوں کو لاپتہ کرنے کا مقصد اختلافی آواز کو خاموش کرانا یا دبانا ہے، رجسٹرار آفس کے آٹھ نومبر کے اعتراضات کالعدم قرار دیئے جائیں،جتنی جلدی ممکن ہو سکے اس کیس کو سماعت کے لیے مقرر کیا جائے،

    تعلیمی ادارے میں ہوا شرمناک کام،68 طالبات کے اتروا دیئے گئے کپڑے

     چارکار سوار لڑکیوں نے کارخانے میں کام کرنیوالے لڑکے کو اغوا کر کے زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا

    لاپتہ افراد کی عدم بازیابی، سندھ ہائیکورٹ نے اہم شخصیت کو طلب کر لیا

     لگتا ہے لاپتہ افراد کے معاملے پر پولیس والوں کو کوئی دلچسپی نہیں

    سندھ ہائیکورٹ کا تاریخی کارنامہ،62 لاپتہ افراد بازیاب کروا لئے،عدالت نے دیا بڑا حکم

    واضح رہے کہ اعتزاز احسن نے سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں کہا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے غیر قانونی طور پر شہریوں کو لاپتہ کرتے ہیں اور بعد میں منظرِ عام پر لایا جاتا ہے، پرویز مشرف دور میں جبری گمشدگیاں ریاست کی غیر سرکاری پالیسی بن گئی،اسلام آباد ہائیکورٹ نے جبری گمشدگیوں کو ریاست کی غیر اعلانیہ پالیسی قرار دیا، درخواست میں لاپتہ افراد کمیشن کی رپورٹ کا بھی حوالہ دیا گیا،درخواست میں صحافی عمران ریاض کی گمشدگی کا بھی حوالہ دیا گیا، درخواست میں کہا گیا کہ سابق وزیراعظم کے پرنسپل سیکرٹری اعظم خان کو لاپتہ کیا گیا،لاپتہ ہونے کے بعد اعظم خان اچانک منظرعام پر آئے اور چیئرمین پی ٹی آئی کے خلاف گواہ بن گئے، سابق سیکرٹری پنجاب اسمبلی لاپتہ ہونے کے بعد سابق وزیراعلیٰ پرویز الٰہی کے ساتھ مقدمات کا سامنا کر رہے ہیں، شیخ رشید، عثمان ڈار، صداقت عباسی اور فرخ حبیب کو جبری طور پر لاپتہ کیا گیا،جبری گمشدگیاں آئین پاکستان اور بنیادی حقوق کی کھلی خلاف ورزی ہیں،جبری گمشدگیوں سے خوف کی فضا قائم ہوتی ہے، عدالتیں متعدد فیصلوں میں جبری گمشدگیوں کو آئین کی خلاف ورزی قرار دے چکی ہیں،اسلام آباد ہائیکورٹ نے جبری گمشدگیوں کو انسانیت کے خلاف جرم قرار دیا، شہریوں کی جبری گمشدگی اس ملک کا سب سے بڑا مسلہ بن چکا ہے، جبری گمشدگی آئین میں دیئے گئے بنیادی انسانی حقوق کی صریحاً خلاف ورزی ہے،آئین پاکستان اور اقوام متحدہ کے کنونشن جبری گمشدگیوں کی حوصلہ شکنی کرتے ہیں، شہریوں کو جبری طور پر گم کرنے یا لاپتہ کرنے کی روایت فوری ختم کی جائے،لاپتہ شہریوں کو فوری بازیاب کرانے کا حکم دیا جائے،ایک طاقتور کمیشن بنایا جائے جو لاپتہ افراد کی بازیابی کو ممکن بنائے،درخواست میں وفاق، چاروں صوبائی حکومتوں، چاروں آئی جیز پولیس اور لاپتہ افراد کمیشن کو فریق بنایا گیا ہے

  • بلوچ طلبا گمشدگی کیس، آئندہ سماعت پر نگراں وزیراعظم طلب

    بلوچ طلبا گمشدگی کیس، آئندہ سماعت پر نگراں وزیراعظم طلب

    اسلام آباد ہائیکورٹ میں بلوچ جبری گمشدگی کمیشن کی سفارشات پر عملدرآمد کیس کی سماعت ہوئی،

    اسلام آبا دہائیکورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے سماعت کی،عدالتی حکم پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل منور اقبال دوگل عدالت میں پیش ہوئے،عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہاکہ دوگل صاحب پہلے تو آپ کو بتا دیں کہ یہ کیس ہے کیا تاکہ صورتحال واضح ہو جائے،جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہاکہ آج اس کیس کی 21ویں سماعت ہے،اس سے قبل جسٹس اطہر من اللہ جو چیف جسٹس تھے ان کے پاس تھا یہ کیس،عدالت کے حکم پر کمیشن بنا، اس میں سوالات پیش کئے گئے،جبری گمشدگیوں کا معاملہ وفاقی حکومت کو بھیجا گیا، صرف ایک کا نہیں 55بلوچ طلبہ کا معاملہ تھ ہہم نے ملک کے وزیراعظم کو معاملہ بھیجا تھ، وزیراعظم کو خود احساس ہونا چاہئے تھا، ہم سمجھے وہ آ کر کہیں گے یہ ہمارے بچے ہیں،اگر ان کے خلا کوئی کرمنل کیس تھا تو رجسٹرڈ کرتے،آپ رپورٹ پڑھیں جو ہمیں پیشی کی گئی ہے

    ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہاکہ جو بھی معاملہ ہو متعلقہ وزارت دیکھتی ہے یا سب کمیٹی کو بھیجا جاتا ہے ،کمیٹی پھر معاملہ وزیراعظم اور کابینہ کے ساتھ شیئر کرتی ہے،عدالت نے لاپتہ افراد کی بازیابی کیلئے قائم وزارا کمیٹی کی رپورٹ مسترد کردی،اسلام آباد ہائیکورٹ نے لاپتہ افراد کی عدم بازیابی پر 29نومبر کو وزیراعظم کو طلب کرلیا،عدالت حکم دیا نے کہاکہ وزیر دفاع، وزیر داخلہ، سیکرٹری دفاع اور سیکرٹری داخلہ بھی پیش ہوں،عدالت نے کہاکہ 55لاپتہ افراد پیش کریں ورنہ وزیراعظم پیش ہوں

    دوران سماعت جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ کیا چاہتے ہیں کہ اقوامِ متحدہ کمیشن بنا کر پاکستان میں لاپتہ افراد کو تلاش کرے، آپ ملک اور اداروں کی بدنامی کروا رہے ہیں، پہلے بھی سیکریٹری ڈیفنس اور داخلہ کو کروڑ کروڑ روپیہ جرمانہ ہوا مگر دو رکنی بنچ میں عمل درآمد رک گیا اور لوگ بھی بازیاب نہیں ہوئے، وزیر اعظم نے کیوں آنکھیں بند کی ہوئی ہیں۔ یا تو لاپتہ طالب علم کو یہاں لا کر کھڑا کر دیں اور جیسے کہ ہو رہا ہے وہ آ کر کہہ دیتا ہے کہ میں غلطی سے چلا گیا تھا اور عدالتوں کو بھی معلوم ہوتا ہے کہ یہ مذاق ہو رہا ہے

    ایک ماہ میں بلوچ طلباء کی ہراسگی روکنے سے متعلق کمیشن رپورٹ پیش کرے ،عدالت

     دو ہفتوں میں بلوچ طلبا کو ہراساں کرنے سے روکنے کیلئے کئے گئے اقدامات کی رپورٹ طلب

    کسی کی اتنی ہمت کیسے ہوگئی کہ وہ پولیس کی وردیوں میں آکر بندہ اٹھا لے،اسلام آباد ہائیکورٹ

    کیا آپ شہریوں کو لاپتہ کرنے والوں کی سہولت کاری کر رہے ہیں؟ قاضی فائز عیسیٰ برہم

    لوگوں کو لاپتہ کرنے کے لئے وفاقی حکومت کی کوئی پالیسی تھی؟ عدالت کا استفسار

    لاپتہ افراد کیس،وفاق اور وزارت دفاع نے تحریری جواب کے لیے مہلت مانگ لی

    عدالت امید کرتی تھی کہ ان کیسز کے بعد وفاقی حکومت ہِل جائے گی،اسلام آباد ہائیکورٹ

  • لاپتہ افراد کیس میں سیکرٹری داخلہ سندھ طلب

    لاپتہ افراد کیس میں سیکرٹری داخلہ سندھ طلب

    سندھ ہائی کورٹ میں دو بچوں سمیت دیگر لاپتہ افراد کی بازیابی سے متعلق درخواستوں پر سماعت ہوئی

    جسٹس امجد علی سہتو نے درخواست پر سماعت کی۔ عدالت نے محکمہ داخلہ سندھ کی رپورٹ پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے 2 نومبر کو سیکرٹری داخلہ سندھ کو ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا، عدالت نے وفاقی سیکرٹری داخلہ سے بھی جبری گمشدگی کی نشاندہی اور اہل خانہ کو معاوضہ دینے سے متعلق رپورٹ طلب کر لی،

    سماعت کے دوران درخواست گزار خاتون نے عدالت میں کہا کہ آٹھ برس سے شوہر لاپتہ ہیں کوئی نہیں سنتا ہماری کوئی سفارش بھی نہیں،خاتون کی استدعا پر جسٹس امجد علی سہتو نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم کسی کی سفارش سنتے بھی نہیں، عدالت تمام لاپتہ افراد کو بازیاب کرانے کی کوشش کر رہی ہے

    سندھ ہائی کورٹ نے لاپتہ افراد کو ہر ممکن صورت بازیاب کرانے کا حکم دیتے ہوئے سماعت 2 نومبر تک ملتوی کر دی

    تعلیمی ادارے میں ہوا شرمناک کام،68 طالبات کے اتروا دیئے گئے کپڑے

     چارکار سوار لڑکیوں نے کارخانے میں کام کرنیوالے لڑکے کو اغوا کر کے زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا

    لاپتہ افراد کی عدم بازیابی، سندھ ہائیکورٹ نے اہم شخصیت کو طلب کر لیا

     لگتا ہے لاپتہ افراد کے معاملے پر پولیس والوں کو کوئی دلچسپی نہیں

    سندھ ہائیکورٹ کا تاریخی کارنامہ،62 لاپتہ افراد بازیاب کروا لئے،عدالت نے دیا بڑا حکم

    واضح رہے کہ لاپتہ افراد کیس میں ایک گزشتہ سماعت کے دوران عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا تھا کہ کیا آپ کو معلوم ہے جبری گمشدگی کیا ہوتی ہے؟ جبری گمشدگی سے مراد ریاست کے کچھ لوگ ہی لوگوں کو زبردستی غائب کرتے ہیں، جس کا پیارا غائب ہو جائے ریاست کہے ہم میں سے کسی نے اٹھایا ہے تو شرمندگی ہوتی ہے، ریاست تسلیم کرچکی کہ یہ جبری گمشدگی کا کیس ہے،انسان کی لاش مل جائے انسان کو تسلی ہوجاتی ہے،جبری گمشدگی جس کے ساتھ ہوتی ہے وہی جانتا ہے، بنیادی حقوق کی خلاف ورزی نہیں ہونے دیں گے، اگر آپ ان چیزوں کو کھولیں گے تو شرمندگی ہو گی

  • جبری گمشدگیاں،اعتزاز احسن نے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کر دی

    جبری گمشدگیاں،اعتزاز احسن نے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کر دی

    ملک میں صحافیوں، سیاستدانوں اور بیوروکریٹس کی گمشدگیوں کا معاملہ،سینیئر وکیل اعتزاز احسن نے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کردی،درخواست آئین کے آرٹیکل 184(3) کے تحت دائر کی گئی ہے

    درخواست میں کہا گیا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے غیر قانونی طور پر شہریوں کو لاپتہ کرتے ہیں اور بعد میں منظرِ عام پر لایا جاتا ہے، پرویز مشرف دور میں جبری گمشدگیاں ریاست کی غیر سرکاری پالیسی بن گئی،اسلام آباد ہائیکورٹ نے جبری گمشدگیوں کو ریاست کی غیر اعلانیہ پالیسی قرار دیا،

    درخواست میں لاپتہ افراد کمیشن کی رپورٹ کا بھی حوالہ دیا گیا،درخواست میں صحافی عمران ریاض کی گمشدگی کا بھی حوالہ دیا گیا، درخواست میں کہا گیا کہ سابق وزیراعظم کے پرنسپل سیکرٹری اعظم خان کو لاپتہ کیا گیا،لاپتہ ہونے کے بعد اعظم خان اچانک منظرعام پر آئے اور چیئرمین پی ٹی آئی کے خلاف گواہ بن گئے، سابق سیکرٹری پنجاب اسمبلی لاپتہ ہونے کے بعد سابق وزیراعلیٰ پرویز الٰہی کے ساتھ مقدمات کا سامنا کر رہے ہیں، شیخ رشید، عثمان ڈار، صداقت عباسی اور فرخ حبیب کو جبری طور پر لاپتہ کیا گیا،جبری گمشدگیاں آئین پاکستان اور بنیادی حقوق کی کھلی خلاف ورزی ہیں،جبری گمشدگیوں سے خوف کی فضا قائم ہوتی ہے، عدالتیں متعدد فیصلوں میں جبری گمشدگیوں کو آئین کی خلاف ورزی قرار دے چکی ہیں،اسلام آباد ہائیکورٹ نے جبری گمشدگیوں کو انسانیت کے خلاف جرم قرار دیا، شہریوں کی جبری گمشدگی اس ملک کا سب سے بڑا مسلہ بن چکا ہے، جبری گمشدگی آئین میں دیئے گئے بنیادی انسانی حقوق کی صریحاً خلاف ورزی ہے،آئین پاکستان اور اقوام متحدہ کے کنونشن جبری گمشدگیوں کی حوصلہ شکنی کرتے ہیں، شہریوں کو جبری طور پر گم کرنے یا لاپتہ کرنے کی روایت فوری ختم کی جائے،لاپتہ شہریوں کو فوری بازیاب کرانے کا حکم دیا جائے،ایک طاقتور کمیشن بنایا جائے جو لاپتہ افراد کی بازیابی کو ممکن بنائے،درخواست میں وفاق، چاروں صوبائی حکومتوں، چاروں آئی جیز پولیس اور لاپتہ افراد کمیشن کو فریق بنایا گیا ہے

    تعلیمی ادارے میں ہوا شرمناک کام،68 طالبات کے اتروا دیئے گئے کپڑے

     چارکار سوار لڑکیوں نے کارخانے میں کام کرنیوالے لڑکے کو اغوا کر کے زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا

    لاپتہ افراد کی عدم بازیابی، سندھ ہائیکورٹ نے اہم شخصیت کو طلب کر لیا

     لگتا ہے لاپتہ افراد کے معاملے پر پولیس والوں کو کوئی دلچسپی نہیں

    سندھ ہائیکورٹ کا تاریخی کارنامہ،62 لاپتہ افراد بازیاب کروا لئے،عدالت نے دیا بڑا حکم