Baaghi TV

Tag: جج

  • نو مئی کیسز کا فیصلہ سنانے والے جج  کا لاہور سے تبادلہ

    نو مئی کیسز کا فیصلہ سنانے والے جج کا لاہور سے تبادلہ

    سانحہ نو مئی کے کیسز کی سماعت کرنے والے انسداد دہشت گردی عدالت (اے ٹی سی ) کے جج ارشد جاوید کا لاہور سےبہاولنگر تبادلہ کر دیا گیا۔

    چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ کے حکم پر جاری کردہ نوٹیفکیشن میں اے ٹی سی کے جج ارشد جاوید کو 9 جنوری کو متعلقہ آفس کا چارج سنبھالنے کا حکم دیا گیا ہے،ادھر ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج بہاولنگر آصف بشیر کو بھی تبدیل کر دیا گیا ہے، سیشن جج آصف بشیر کو سیشن کورٹ لاہور میں بطور او ایس ڈی تعینات کر دیا گیا ہے۔

    واضح رہے کہ جج ارشد جاوید 9 مئی 2023 کو مسلم لیگ ن کا آفس جلانے سمیت دیگر کیسز کی سماعت کر رہے تھے، جج ارشد جاوید نے نو مئی کے تین کیسز کا فیصلہ بھی سنایا تھا،جج محمد ارشد جاوید نے سانحہ نو مئی کے تین مقدمات میں پی ٹی آئی رہنماؤں اعجاز چودھری اور ڈاکٹر یاسمین راشد کو سزائیں سنائی تھیں جبکہ عمر سرفراز چیمہ، میاں محمود الرشید سمیت دیگر ملزمان کو بھی مختلف مقدمات میں سزائیں دی گئی تھیں۔

  • دفتر جاتے ہوئے نامعلوم افر اد کے  حملے سےایرانی جج قتل

    دفتر جاتے ہوئے نامعلوم افر اد کے حملے سےایرانی جج قتل

    شیراز : ایران کے شہر شیراز میں ایک معروف ایرانی جج احسان باقری کو دفتر جاتے ہوئے نامعلوم حملہ آوروں نے چاقو سے حملہ کر کے قتل کر دیا۔

    سرکاری خبر رساں ایجنسی IRNA کے مطابق، 38 سالہ جج احسان باقری پیر کی صبح دفتر جاتے ہوئے دو افراد کے حملے میں جاں بحق ہو گئے حملہ آوروں نے کسی چاقو یا بھاری چیز سے حملہ کیا، تاہم ہتھیار کی نوعیت واضح نہیں کی گئی، احسان باقری شیراز کی کریمنل کورٹ 2 کی شاخ نمبر 102 کے سربراہ کے طور پر خدمات انجام دے رہے تھے صوبائی عدلیہ کے سربراہ سید صدراللہ رجائی نسب نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے، ایران کے چیف جسٹس غلام حسین محسنی نے ملزمان کی فوری گرفتاری کے لیے ملک گیر سرچ آپریشن کا حکم دے دیا ہے۔

    واضح رہے کہ جنوری میں بھی دو سینئر ججوں علی رزینی اور محمد مقیسہ کو تہران میں ان کے دفاتر میں فائرنگ کر کے قتل کر دیا گیا تھااگرچہ ان دونوں واقعات کو ابھی تک آپس میں نہیں جوڑا گیا، لیکن اس طرح کے متواتر حملوں نے ایرانی عدلیہ کے سیکیورٹی انتظامات پر سوا لات کھڑے کر دیے ہیں۔

  • بھارتی پولیس کا کارنامہ: چور کی جگہ جج کے خلاف وارنٹ جاری کرادیئے

    بھارتی پولیس کا کارنامہ: چور کی جگہ جج کے خلاف وارنٹ جاری کرادیئے

    بھارت میں پولیس نے چوری کے ایک مقدمے میں اصل ملزم کی جگہ عدالت کے جج کے خلاف ناقابلِ ضمانت وارنٹ جاری کر دیا گیا۔

    باغی ٹی وی: بھارتی میڈیا کے مطابق ریاست اترپردیش کے شہر فیروزآباد میں ایک چوری کا کیس عدالت میں لایا گیا جس میں عدالت نے ملزم کے ناقابل ضمانت وارنٹ جاری کرنے کا حکم دیا، کہانی میں نیا موڑ اس وقت آیا جب پولیس افسر نے ملزمان کی فہرست بنا نے کے بجائے غلطی سے جج کا نام وارنٹ میں ڈال دیا۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق پولیس افسر نے ملزم راج کمار کی بجائے جج نغمہ خان کا نام وارنٹ میں شامل کیا جب کہ عدالت نے ملزم راج کمار کے ناقابل ضمانت وارنٹ جاری کرنے کا حکم دیا تھا جج نے اپنا نام وارنٹ میں دیکھ کر پولیس اہلکار کو معطل کردیا اور ساتھ ہی سنگین غلطی کے لیے پولیس افسر کے خلاف انکوائری کا حکم بھی دیا جس پر سینئر پولیس افسر نے غلطی سامنے آنے کے بعد کارروائی کرتے ہوئے سب انسپکٹر کو پولیس لائنز بھیجنے کا حکم دیا۔

    امریکی ارکان کانگریس نے عمران خان کا ذکر نہیں کیا، ایاز صادق

    خیبرپختونخوا حکومت نے مجوزہ مائنز اینڈ منرلز ترمیمی بل 2025 کا وائٹ پیپر جاری کردیا

    صدر ٹرمپ نے ذہنی صلاحیت کے ٹیسٹ میں اب تک کا بلند ترین اسکور حاصل کرلیا

  • عمران ،بشریٰ کو سزا سنانے والے جج ناصر جاوید رانا کیخلاف پی ٹی آئی پروپیگنڈہ کی حقیقت

    عمران ،بشریٰ کو سزا سنانے والے جج ناصر جاوید رانا کیخلاف پی ٹی آئی پروپیگنڈہ کی حقیقت

    القادر ٹرسٹ کیس میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کو سزا سنانے والے جج کے خلاف پی ٹی آئی نے پروپیگنڈہ شروع کر دیا وہیں، اسلام آباد سے سینئر صحافی و اینکر پرسن حامد میر نے بھی ایکس پر پوسٹ کی ہے

    حامد میر کا کہنا تھا کہ یہ 2004 میں جج ناصر جاوید رانا کے خلاف سپریم کورٹ کا فیصلہ ہے۔ چیف جسٹس آف پاکستان نے سول جج ناصر جاوید رانا کے خلاف سوموٹو ایکشن لیا اور ان کے عدالتی اختیارات واپس لے لیے گئے۔ انہیں جوڈیشل سروس کے لیے نااہل قرار دے دیا گیا لیکن اسی جج کو دوبارہ ملازمت پر رکھا گیا۔

    پی ٹی آئی کا جج کے خلاف پروپیگنڈہ اور حامد میر کی پوسٹ کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں،عمران خان کو سزا سنانے والے جج ناصر جاوید رانا عدلیہ کے ایک قابل احترام جج ہیں جنہوں نے 2004 میں راولپنڈی میں سول جج کی حیثیت سے اپنی ذمہ داریاں سنبھالی تھیں، ان کے بارے میں کچھ سال قبل سپریم کورٹ کی طرف سے شروع کی گئی انکوائری کی تفصیلات سامنے آئی ہیں۔ انکوائری میں یہ الزام عائد کیا گیا تھا کہ انہوں نے وکیل وہاب خیری کے مقدمے میں جسمانی ریمانڈ کے لیے ملزم کو عدالت میں پیش کیے بغیر ریمانڈ دیا تھا۔ تاہم، انکوائری کے دوران جج کی معطلی کے باوجود، انہوں نے اپیل میں کامیابی حاصل کرتے ہوئے جوڈیشل سروس ٹریبونل سے تمام مراعات کے ساتھ دوبارہ بحالی حاصل کی تھی۔

    اس کے بعد جج ناصر جاوید رانا کو لاہور میں سول جج کے طور پر تعینات کیا گیا اور انہوں نے پنجاب کے مختلف اضلاع میں کامیابی سے اپنی خدمات انجام دیں۔ 2014 میں انہیں سینئر سول جج کے طور پر ترقی دی گئی اور 2015 میں ایڈیشنل سیشن جج کے طور پر ترقی ملی۔ 2019 میں انہیں اسلام آباد ویسٹ کے ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کے طور پر تعینات کیا گیا اور 2021 میں ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کے طور پرتعیناتی کی گئی۔ اس کے بعد جج ناصر جاوید رانا نے اسلام آباد ویسٹ اور اسلام آباد ایسٹ میں ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کے طور پر کامیابی کے ساتھ خدمات انجام دیں اور اب وہ نیب کے جج کے طور پر کام کر رہے ہیں۔جج ناصر جاوید رانا کی عدلیہ میں خدمات کی مدت 27 سال ہے، جس دوران انہوں نے تقریباً 35 ضلعی ججز کے تحت کام کیا، اور ان کے خلاف نہ تو کوئی کرپشن کا الزام عائد ہوا اور نہ ہی ان کی کارکردگی پر کبھی کوئی منفی رپورٹ درج کی گئی۔ ان کے خلاف 2004 کی انکوائری کا موجودہ مقدمے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ جج ناصر جاوید رانا کی زندگی کی یہ تفصیلات اس بات کی گواہی دیتی ہیں کہ انہوں نے ہمیشہ عدلیہ کے وقار کو بلند رکھا اور اپنے فیصلوں میں مکمل دیانتداری کا مظاہرہ کیا۔

    جج ناصر جاوید رانا نے ہزاروں مقدمات کا فیصلہ کیا اور ہمیشہ میرٹ پر قانون کے مطابق دیا۔ اب عمران اور بشریٰ کو سزا سنائی گئی تو عمران خان اور ان کے وکلاء نے ان کے فیصلے پر تنقید کی اور جھوٹا پروپیگنڈہ شروع کیا تو ان کا مقصد صرف اپنے ناپاک عزائم کو آگے بڑھانا تھا، اسکے باوجود کہ جج ناصر جاوید رانا کا فیصلہ ہمیشہ حق و انصاف پر مبنی رہا۔

     

    پاکستان کے عدالتی نظام میں جج ناصر جاوید رانا کے بارے میں جو پراپیگنڈا اور بے بنیاد الزامات لگائے گئے ہیں، ان کے پس منظر میں کئی اہم حقائق پوشیدہ ہیں۔ خاص طور پر ان نام نہاد صحافیوں کے لیے جو اس معاملے پر منفی بیانیہ پھیلا رہے ہیں، یہ ضروری ہے کہ  حقیقت سامنے آئیں تاکہ صحیح صورتِ حال واضح ہو سکے۔

    سب سے پہلی بات یہ ہے کہ سپریم کورٹ ٹرائل کورٹ نہیں ہے۔ جب جج رانا کے خلاف الزامات لگائے گئے، تو لاہور ہائی کورٹ کو تحقیقات کا حکم دیا گیا تھا۔ تاہم، اس معاملے میں جج رانا کے حق میں تمام کورٹ کے عملے نے affidavits جمع کرائے، جن میں یہ کہا گیا کہ جج رانا کسی بھی غلط کام میں ملوث نہیں ہیں، بلکہ وہ بالکل صحیح ہیں۔ اس کے باوجود، سیاسی دباؤ کی وجہ سے، کمزور چیف جسٹس نے بغیر کسی ثبوت اور ٹرائل کے لاہور ہائی کورٹ کو کارروائی کا حکم دیا۔

    جب جج رانا ایک جونیئر جج تھے، تو انہوں نے سپریم کورٹ کی طرف سے کی جانے والی سوموٹو کارروائی میں کسی بھی قسم کے دباؤ کو مسترد کیا، اس کے بعد معاملہ لاہور ہائی کورٹ کے حوالے کیا گیا، جہاں جج رانا کے حق میں فیصلہ آیا اور وہ اپنے عہدے پر بحال ہوئے۔

    ایک اور اہم حقیقت یہ ہے کہ جناب ناظم حسین اگر جسٹس راشد عزیز خان کو راستے سے نہ ہٹاتے تو شاید وہ خود کبھی چیف جسٹس نہ بن پاتے۔ ان کی جانب سے برادر جسٹس راشد کے بارے میں ایسے ریمارکس دئیے گئے تاکہ ان کا کیریئر ختم ہو سکے اور ناظم حسین صدیقی کے چیف جسٹس بننے کا راستہ ہموار ہو۔ اس بات کو ریکارڈ پر بھی دیکھا جا سکتا ہے۔

    اگر جج رانا لاہور ہائی کورٹ کی انکوائری میں قصوروار پائے جاتے تو انہیں فوری طور پر نوکری سے فارغ کر دیا جاتا۔ تاہم، جج رانا نے اپیل کے ذریعے اپنے آپ کو ثابت کیا اور یہ ثابت کیا کہ وہ کسی بھی غلط کام میں ملوث نہیں ہیں۔ اس طرح وہ اپنی نوکری پر قائم رہے اور ان کے خلاف کوئی قانونی کارروائی نہیں کی گئی۔

    پی ٹی آئی نے ہمیشہ سچ اور حقائق کو نظر انداز کرتے ہوئے اپنا بیانیہ بنایا اور پھیلایا۔ اس بیانیہ کی حقیقت یہ ہے کہ جج رانا کو جب پی ٹی آئی کی حکومت میں نوکری سے فارغ نہیں کیا گیا، تو یہ سوال اٹھتا ہے کہ اگر ان پر واقعی کوئی الزام تھا، تو انہیں 2019 میں اسلام آباد کیوں پوسٹ کیا گیا؟ اگر جج رانا کی سروس میں کوئی مسئلہ تھا تو انہیں کیوں نہیں نکالا گیا؟

    ان تمام حقائق کو دیکھتے ہوئے، یہ کہا جا سکتا ہے کہ جج ناصر جاوید رانا کے بارے میں جو پراپیگنڈا کیا جا رہا ہے، وہ حقیقت سے بعید ہے۔ انہیں سیاسی دباؤ کے باوجود اپنی خدمات میں تسلسل ملا اور انہوں نے کسی بھی قسم کے غیر قانونی عمل سے خود کو دور رکھا۔ ان کی سروس اور ان کے فیصلے ان کے کردار کو سچائی کے آئینے میں ثابت کرتے ہیں۔

    سیف علی خان چاقو حملہ کیس،مشتبہ شخص چھتیس گڑھ میں گرفتار

    ہر کسی کا ذریعہ آمدن ہوتا ہے عمران خان کا ذریعہ آمدن بتادیں ،عطاتارڑ

  • جسٹس منصور علی شاہ کی بطور انتظامی جج کے عہدے سے معذرت

    جسٹس منصور علی شاہ کی بطور انتظامی جج کے عہدے سے معذرت

    اسلام آباد: سپریم کورٹ کے سینئر ترین جج جسٹس منصور علی شاہ نے بطور انتظامی جج سپریم کورٹ اپنی ذمہ داریوں سے دستبردار ہونے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ ذرائع کے مطابق، جسٹس منصور علی شاہ نے انتظامی فائلوں پر دستخط کرنے سے انکار کر دیا ہے اور واضح طور پر کہا ہے کہ وہ اب اس عہدے پر نہیں ہیں۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق ذرائع کا کہنا ہے کہ جسٹس منصور علی شاہ نے اپنے موقف میں کہا ہے کہ وہ ایڈمنسٹریٹو جج کے عہدے سے سبکدوش ہو چکے ہیں اور اس لیے ان سے متعلق تمام انتظامی امور کی دیکھ بھال کسی اور جج کو سونپی جائے۔اس معذرت کے بعد، سوالات اٹھنے لگے ہیں کہ آخر کس وجہ سے جسٹس منصور علی شاہ نے یہ قدم اٹھایا۔ بعض تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ یہ فیصلہ ایک اہم تبدیلی کی جانب اشارہ ہو سکتا ہے اور اس کا عدالت کے اندرونی انتظامی معاملات پر اثر پڑ سکتا ہے۔

    یاد رہے کہ جسٹس منصور علی شاہ کو سابق چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے سپریم کورٹ کا ایڈمنسٹریٹو جج مقرر کیا تھا۔ ایڈمنسٹریٹو جج کا عہدہ انتہائی اہمیت کا حامل ہوتا ہے کیونکہ اس کے ذریعے عدالت کی انتظامیہ، فائلوں کی نگرانی، اور دیگر انتظامی امور کا انتظام کیا جاتا ہے۔اس فیصلے کے بعد سپریم کورٹ کے داخلی معاملات پر سوالات اٹھ رہے ہیں اور توقع کی جا رہی ہے کہ اس سلسلے میں جلد ہی مزید وضاحت سامنے آئے گی۔

    تمام مذہبی برادریوں کے حقوق کے تحفظ کیلیے پرعزم ہیں، وزیراعظم

    آئیے قائداعظم کی میراث سے سبق حاصل کریں،وزیراعظم

  • جج کے خلاف پروپیگنڈہ،ملزم کی ضمانت میں توسیع

    جج کے خلاف پروپیگنڈہ،ملزم کی ضمانت میں توسیع

    اسلام آباد، ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ نے جج کے خلاف سوشل میڈیا پر پروپیگنڈہ کے کیس میں ملزم صدیق انجم کی عبوری ضمانت میں 23 نومبر تک توسیع کر دی ہے

    ایڈیشنل سیشن جج افضل مجوکا نے جج کے خلاف سوشل میڈیا پر پروپیگنڈے کے کیس میں ملزم کی ضمانت کی درخواست پر سماعت کی،سماعت کے دوران ایف آئی اے کے پراسیکیوٹر نے کہا کہ ملزم نے مقدمے میں پشاور ہائی کورٹ سے حفاظتی ضمانت لے رکھی ہے، پشاور ہائی کورٹ سے حفاظتی ضمانت کے باعث عدالت مقدمے میں ضمانت مسترد کرے،وکیل صفائی انصر کیانی نے کہا کہ ایف آئی اے حکام عدالت کو گمراہ کر رہے ہیں، مقدمے میں حفاظتی ضمانت نہیں لی، صدیق انجم نے پشاور ہائی کورٹ سے دیگر نامعلوم مقدمات میں حفاظتی ضمانت لے رکھی ہے، عدالت نے نامعلوم مقدمات میں ایف آئی اے کو ملزم کی گرفتاری سے روک رکھا ہے،ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ نے جج کے خلاف سوشل میڈیا پر پروپیگنڈے کے کیس میں ملزم صدیق انجم کی عبوری ضمانت میں 23 نومبر تک توسیع کرتے ہوئے سماعت ملتوی کر دی

  • شیر افضل مروت و دیگر کی درخواست ضمانت پر سماعت ملتوی

    شیر افضل مروت و دیگر کی درخواست ضمانت پر سماعت ملتوی

    تحریک انصاف کے گرفتار رہنماؤں کی درخواست ضمانت پر سماعت ہوئی.

    ڈیوٹی جج طاہر سپرا نےضمانت کی درخواستوں پر سماعت کی،جج طاہر عباس سپرا نے کہا کہ کیا مناسب نہیں ہوگا کہ متعلقہ جج خود ہی کیس سنیں؟ وکیل صفائی اشتیاق احمد نے کہا کہ ارکان اسمبلی اور شعیب شاہین جیل میں ہیں،جج طاہر عباس سپرا نے کہا کہ شعیب شاہین تو جسمانی ریمانڈ پر نہیں ہیں؟ وکیل صفائی اشتیاق احمد نے کہا کہ جسمانی ریمانڈ کالعدم ہوچکا ہے،ارکان اسمبلی کیلئے پارلیمنٹ لاجز کو سب جیل قرار دیا گیا ہے، پی ٹی آئی رہنماؤں اور ارکان اسمبلی کی ضمانت کا کیس،انسداد دہشت گردی عدالت نے تھانہ سنگجانی میں درج مقدمہ کا ریکارڈ اور پراسیکیوٹر کو طلب کر لیا ،سماعت میں کچھ دیر کا وقفہ کر دیا گیا

    دوبارہ سماعت ہوئی توانسداد دہشتگردی عدالت کے جج نے پارلیمنٹ ہاؤس سے گرفتار پی ٹی آئی راکین اسمبلی شیر افضل مروت، شیخ وقاص اکرم اور احمد چھٹہ کی درخواست ضمانت سننے سے معذرت کرلی،شیر افضل مروت، شعیب شاہین، شیخ وقاص اکرم، زین قریشی اور دیگر کی درخواست ضمانت پر انسداد دہشتگردی عدالت کے ڈیوٹی جج طاہرعباس سِپرا کی عدالت میں ہوئی،ڈیوٹی جج طاہر عباس سِپرا نے کہا کہ پراسیکیوٹر راجا نوید نہیں آئے اس لیے سماعت ایک دن بعد ہو جائے گی ،وکیل صفائی نے کہا کہ ایم این ایز سب جیل میں ہیں، مگر شعیب شاہین اور دیگر ورکرز تو جیل میں ہیں، مقدمے میں پولیس اہلکار کو مارنےکا ذکر ہے مگر ساتھ میڈیکل سرٹیفکیٹ موجود نہیں ، شعیب شاہین پر پستول کا الزام ہے مگر برآمدگی ایک ڈنڈے کی ہوئی ہے،جج طاہر عباس سِپرا نے استفسار کیا کہ ڈنڈے کی ریکوری کہاں لکھی ہوئی ہے، جس پر وکیل صفائی نے کہا کہ گزشتہ روز اسلام آباد ہائیکورٹ میں تفتیشی افسر نے بتایا کہ شعیب شاہین سے ڈنڈا ملا ہے،جج طاہر عباس سپرا نے کہا کہ ڈیوٹی جج صرف ارجنٹ نوعیت کا ہی مقدمہ سن سکتا ہے، کوشش ہوگی شعیب شاہین کی درخواست ضمانت پر آج ہی فیصلہ کروں، شعیب شاہین کے بارے میں کہا گیا بٹیر نہیں پکڑ سکتے، پھر پستول کا الزام ڈال دیا گیا، طاہرعباس سِپرا کے ریمارکس پر عدالت میں قہقہے لگ گئے،عدالت نے شعیب شاہین کی درخواست ضمانت پر دلائل کے لیے پراسیکیوٹر کو طلب کرلیا اور وکیل صفائی سے کہا تسی سارے جا کے چا شا پیو آپ سب جا کر چائے پئیں،جج طاہر عباس سِپرا نے شیر افضل، شیخ وقاص اور احمد چٹھہ کی درخواست ضمانت پر سماعت سے معذرت کرلی اور کہا کہ شعیب شاہین کی حد تک درخواست ضمانت پر کوشش کرتا ہوں کہ آج فیصلہ کر دوں، شیر افضل مروت، شیخ وقاص اکرم اور احمد چٹھہ کا گھر ویسے ہی سب جیل قرار دیا گیا ہے،شیر افضل مروت، شیخ وقاص اکرم اور احمد چٹھہ کی درخواست ضمانت پر سماعت پیر تک ملتوی کر دی گئی۔

    شعیب شاہین کی ضمانت منظور،رہاکرنے کا حکم
    بعد ازاں انسداد دہشت گردی کی عدالت نے شعیب شاہین کی درخواست ضمانت منظور کر لی، عدالت نے شعیب شاہین کو فوری رہا کرنے کا حکم دے دیا، جج طاہر عباس سِپرا نے شعیب شاہین کی ضمانت بعد از گرفتاری منظور کی،عدالت نے تھانہ سنگجانی میں درج مقدمے میں شعیب شاہین کی ایک لاکھ روپے مچلکوں کے عوض ضمانت بعد از گرفتاری منظور کی ہے۔

    وسیم ،کامران،ایاز،شمائلہ،ماہ نور،سرٹیفائڈ فراڈیئے،مبشر لقمان کے تہلکہ خیز انکشافات

    5 سے 7 ارب کا فراڈ،لاہور کا پراپرٹی سیکٹر لرز اٹھا

    فائنل راؤنڈ،ایک اور نومئی کی تیاری،مبشر لقمان نے خبردار کر دیا

    وہی ہوا جس کا ڈر تھا،علی امین گنڈاپور کی ریاست کو دھمکیاں،اگلے دو ہفتے اہم

    ایف آئی اے کاروائی کرے،166کھلاڑیوں کی لسٹ تیار،بابر کنگ نہیں کوئین نکلا

    پی آئی اے کا جنازہ ہے،ذرا دھوم سے نکلے،مرحوم کیلیے بہت دعائیں

    ثابت ہو گیا حسنہ واجد بھارت کی "کٹھ پتلی” تھی.مبشر لقمان

    190 ملین پاؤنڈ کیس،عمران کے گلے کا پھندہ،واضح ثبوت،بچنا ناممکن

    فیض حمید جیو نیوز کو بند کرنا چاہتے تھے،پی ٹی آئی ٹوٹ پھوٹ کا شکار،اگلا چیئرمین کون

  • عمران خان کو سزا سنانے والے جج ہمایوں دلاور کے وارنٹ جاری

    عمران خان کو سزا سنانے والے جج ہمایوں دلاور کے وارنٹ جاری

    ‏سرکاری اراضی پر قبضہ، اسپیشل جج ہمایوں دلاور کےوارنٹ گرفتاری جاری کر دیئے گئے
    سرکاری اراضی پر غیر قانونی قبضے پر اسپیشل جج ایف آئی اے کورٹ اسلام آباد ہمایوں دلاور، انکے بھائی صادق دلاور ، والد دلاور خان اور رجسٹرار تاج مالی خان کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی ہے، اینٹی کرپشن نے عدالت سے وارنٹ گرفتاری حاصل کرلیے۔اس مقدمے میں ملزموں نے عدالتی فیصلے میں جعلی اندراج کے ذریعے زمین اپنے نام کرنے کے بعد ہاؤسنگ سوسائٹی میں شامل کی جس سے حکومت کو کروڑوں روپے کا نقصان پہنچا،

    واضح رہے کہ جج ہمایوں دلاور نے عمران خان کو سزا سنائی تھی،جج نے توشہ خانہ کیس میں عمران، بشریٰ کو سزا سنائی تھی، بعد ازاں جج ہمایوں دلاور کو اسلام آباد میں بطور اسپیشل جج سینٹرل ٹو تعینات کردیا گیا تھا

    صحافی و تجزیہ کار رضوان رضی ایکس پر کہتے ہیں کہ سیاسی انتقام کی بد ترین مثال،عمران احمد خان نیازی کے خلاف فیصلہ دینے والے حاضر سروس جج ہمایوں دلاور کے وارنٹ گرفتاری جاری ،اب اسلام آباد ہائی کورٹ میں موجود عمران خان کے ’’پی ٹی آئی کے ججز‘‘ کی گرفتاری کی راہ ہموار ہو گئی؟

    اعظم خان نےعمران خان پرقیامت برپا کردی ،سارے راز اگل دیئے،خان کا بچنا مشکل

    جیل اسی کو کہتے ہیں جہاں سہولیات نہیں ہوتیں،

    چیئرمین پی ٹی آئی پر ایک مزید مقدمہ درج کر لیا گیا

    نشہ آور اشیاء چیئرمین پی ٹی آئی اور اسٹیبلشمنٹ میں پہلی لڑائی کی وجہ بنی،

    بشریٰ بی بی نے شوہر کے لئے چار سہولیات مانگ لیں

    پی ٹی آئی کورکمیٹی میں اختلافات،وکیل بھی پھٹ پڑا

  • بشریٰ بی بی کو نومئی مقدمےمیں بری کرنیوالے جج سمیت دیگر کے تبادلے

    بشریٰ بی بی کو نومئی مقدمےمیں بری کرنیوالے جج سمیت دیگر کے تبادلے

    پنجاب کی ضلعی عدلیہ میں بڑے پیمانے پر تبادلے کئے گئے ہیں، ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج لاہور سمیت 48 سیشن ججز کو تبدیل کر دیا گیا ہے۔ اے ٹی سی لاہور میں 9 مئی کیسز کی سماعت کرنے والے جج خالد ارشد کا تبادلہ کیا گیا ہے،چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ مس عالیہ نیلم کی منظوری کے بعد نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا۔

    انسداددہشت گردی عدالت کے جج خالد ارشد کو بھی تبدیل کر دیا گیا،خالد ارشد کو لاہور ہائیکورٹ رپورٹ کرنے کا حکم دے دیا گیا،2 ستمبر سے کوٹ لکھپت جیل ٹرائل شروع ہو رہے ہیں لیکن اس سے پہلے ہی ٹرائل کورٹ کے جج خالد ارشد کا تبادلہ کردیا گیا ہے ،سرگودھا اے ٹی سی کے جج محمد عباس کا تبادلہ کیا گیا ہے.جج محمد عباس بھی نو مئی کا کیس سن رہے تھے،

    بشری بی بی کو 12 مقدمات میں بری کرنے والے راولپنڈی کی انسدادِ دہشتگردی عدالت کے جج کا تبادلہ کردیا گیا۔راولپنڈی میں 9 مئی کے مقدمات کی سماعت کرنے والے جج اعجاز آصف کو عہدے سے ہٹا دیا گیا،فوری لاہور ہائیکورٹ رپورٹ کرنے کی ہدایت کر دی گئی،ملک اعجاز آصف کیخلاف پنجاب حکومت نے ریفرنس بھی دائر کیا تھا، اعجاز آصف نے بشریٰ بی بی کو 9 مئی کے 12 مقدمات سے ڈسچارج کیا تھا۔فیصل آباد انسداد دہشتگردی عدالت کے جج کو عہدہ سے ہٹا دیا گیا، جج نے وزیراعلیٰ علی امین گنڈا پور، عالیہ حمزہ ملک، اپوزیشن لیڈر عمر ایوب، شبلی فراز کی 9 مئی کے کیسز میں ضمانتیں منظور کی تھیں۔

    بھارت میں خواتین اب سڑکوں پر بھی غیر محفوظ،ہراسانی کا واقعہ

    بھارت کے ایک اور ہسپتال میں 15 سالہ لڑکی کاریپ

    دوست نے دوست کی 4 سالہ بیٹی کو زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا

    بھارت،قبرستان بھی محفوظ نہ رہے،قبرستان میں 9 سالہ لڑکی کے ساتھ زیادتی

  • جج پر گولیاں چل گئیں،زخمی حالت میں ہسپتال منتقل

    جج پر گولیاں چل گئیں،زخمی حالت میں ہسپتال منتقل

    خیبر پختونخوا کے علاقے ہری پور میں جج پر گولیاں چل گئیں

    واقعہ ہری پور کے تھانہ سٹی کی حدودمیں پیش آیا، سیشن جج محمد فرید مسجد میں داخل ہو رہے تھے جب ان پر حملہ کیا گیا اور فائرنگ کی گئی، نامعلوم افراد سیشن جج پر گولیاں برسا کر فرار ہو گئے، جج کو دو گولیاں لگیں جس کے بعد انہیں زخمی حالت میں طبی امداد کے لئے ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے،اطلاع پر پولیس موقع پر پہنچ گئی،محمد فرید اپر کوہستان میں سیشن جج تعینات ہیں ،پولیس کے مطابق جج کو دو گولیاں لگی ہیں، حملہ آوروں کی تلاش جاری ہے، جلد گرفتار کر لیا جائے گا،واقعہ دشمنی کا نتیجہ لگتا ہے،پولیس حکام کے مطابق سیشن جج فرید خان کی ٹانگوں پر2گولیاں لگی ہیں، واقعے کا مقدمہ 5 نامعلوم افراد کیخلاف درج کرلیا گیا ہے

    اجمیر سیکس اسکینڈل،100 سے زائد لڑکیوں سے زیادتی ، 32 سال بعد 6ملزمان کو عمر قید کی سزا

    بھارت میں خاتون ڈاکٹر زیادتی و قتل کیس،سپریم کورٹ نے سوال اٹھا دیئے

    بھارت،موٹرسائیکل پر لفٹ مانگنے والی کالج طالبہ کی عزت لوٹ لی گئی

    بیٹی کی لاش کی کس حال میں تھی،خاتون ڈاکٹر کے والد نے آنکھوں دیکھا منظر بتایا

    ٹرینی خاتون ڈاکٹر کی دل دہلا دینے والی پوسٹ مارٹم رپورٹ،شرمگاہ پر بھی آئی چوٹیں

    مودی کا بھارت”ریپستان” ڈاکٹر کے ریپ کے بعد آج بھارت میں ملک گیر ہڑتال

    بھارت ،ڈاکٹر کی نرس کے ساتھ زیادتی،دوسری نرس ،وارڈ بوائے نے کی مدد