Baaghi TV

Tag: ججز

  • لاہور ہائیکورٹ میں مزید ججز کی تقرری، ایک ایڈیشنل جج کی مدت میں توسیع کا نوٹیفکیشن جاری

    لاہور ہائیکورٹ میں مزید ججز کی تقرری، ایک ایڈیشنل جج کی مدت میں توسیع کا نوٹیفکیشن جاری

    وفاقی حکومت نے لاہور ہائی کورٹ میں عدالتی امور کو مؤثر بنانے کے لیے متعدد ایڈیشنل ججز کی تقرری اور ایک ایڈیشنل جج کی مدتِ ملازمت میں توسیع کے نوٹیفکیشن جاری کر دیے ہیں-

    وزارتِ قانون و انصاف کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق صدرِ مملکت نے آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 193 کے تحت اختیارات استعمال کرتے ہوئے لاہور ہائیکورٹ کے لیے گیارہ ایڈیشنل ججز کی تقرری کی منظوری دے دی ہے،مقرر کیے گئے ججز میں جسٹس حسن نواز مخدوم، جسٹس ملک وقار حیدر اعوان، جسٹس سردار اکبر علی، جسٹس سید احسن رضا کاظمی، جسٹس ملک جاوید اقبال وائیں، جسٹس محمد جواد ظفر، جسٹس خالد اسحاق، جسٹس ملک محمد اویس خالد، جسٹس چوہدری سلطان محمود، جسٹس تنویر احمد شیخ اور جسٹس ابہر گل خان شامل ہیں، تمام ایڈیشنل ججز اپنی ذمہ داریاں حلف اٹھانے کی تاریخ سے سنبھالیں گے۔

    دکی :اسسٹنٹ کمشنر آفس کے مال خانے سے 270 کلو منشیات چوری

    ایک اور نوٹیفکیشن میں صدرِ مملکت نے آئین کے آرٹیکل 197 کے تحت لاہور ہائیکورٹ کے ایڈیشنل جج جسٹس طارق محمود باجوہ کی مدتِ ملازمت میں 6 ماہ کی توسیع کی منظوری بھی دے دی ہے توسیع کا اطلاق ان کی موجودہ مدت کے اختتام کے بعد ہو گا،دونوں نوٹیفکیشنز پر وزارتِ قانون و انصاف کے سیکریٹری راجا نعیم اکبر کے دستخط ہیں اور انہیں گزٹ آف پاکستان کے پارٹ تھری میں شائع کرنے کے لیے پرنٹنگ کارپوریشن آف پاکستان کو ارسال کر دیا گیا ہے۔

    آسٹریلوی کرکٹ ٹیم کے کپتان مچل مارش پاکستان کے سرد موسم پر حیران

  • صدرِ مملکت نے ہائیکورٹس ایڈیشنل ججز کی توثیق اور مدتِ ملازمت میں توسیع کی منظوری دے دی

    صدرِ مملکت نے ہائیکورٹس ایڈیشنل ججز کی توثیق اور مدتِ ملازمت میں توسیع کی منظوری دے دی

    صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے ہائیکورٹس ایڈیشنل ججز کی توثیق اور مدتِ ملازمت میں توسیع کی منظوری دے دی۔

    صدر آصف علی زرداری نے سندھ، لاہور اور پشاور ہائیکورٹس کے ایڈیشنل ججز کی توثیق اور مدتِ ملازمت میں توسیع کی منظوری دی، صدرِ کیجانب سے جوڈ یشل کمیشن کی سفارشات کی روشنی میں منظوری دی گئی،صدر مملکت آصف علی زرداری نے تمام منظوریاں وزیراعظم شہبازشریف کے مشورے پر دیں۔

    صدر نے لاہور ہائی کورٹ کے 11 ایڈیشنل ججز کو مستقل کرنے کی منظوری دی جن میں جسٹس حسن نواز مخدوم، جسٹس ملک وقار حیدر اعوان، جسٹس سردار اکبر علی، جسٹس سید احسن رضا کاظمی، جسٹس ملک جاوید اقبال وینس، جسٹس محمد جواد ظفر، جسٹس خالد اسحاق، جسٹس ملک محمد اویس خالد، جسٹس چودھری سلطان محمود، جسٹس تنویر احمد شیخ اور جسٹس عبہر گل خان کی بطور مستقل جج منظوری دی گئی جبکہ لاہور ہائی کورٹ کے ایڈیشنل جج جسٹس طارق محمود باجوہ کی مدت میں 6 ماہ کی توسیع کی گئی۔

    سندھ ہائی کورٹ کے 10 ایڈیشنل ججز جسٹس میران محمد شاہ، جسٹس تسنیم سلطانہ، جسٹس ریاضت علی سحر، جسٹس محمد حسن، جسٹس عبدالحمید بھگی، جسٹس جان علی جونیجو، جسٹس نثار احمد بھنبھرو، جسٹس علی حیدر، جسٹس محمد عثمان علی ہادی اور جسٹس محمد جعفر رضا کو مستقل کرنے کی منظوری دی گئی۔

    سندھ ہائی کورٹ کے 2 ایڈیشنل ججز جسٹس خالد حسین شاہانی اور جسٹس سید فیض الحسن شاہ کی مدت میں چھ ماہ کی توسیع کی منظوری دی گئی۔

    صدر مملکت نے پشاور ہائی کورٹ کے 6 ایڈیشنل ججز جسٹس محمد طارق آفریدی، جسٹس عبدالفیاض، جسٹس صلاح الدین مستقل، جسٹس صادق علی، جسٹس سید مدثر امیر اور جسٹس قاضی جواد احسان اللہ کو مستقل کرنے کی منظوری دی۔

    پشاور ہائی کورٹ کے 4 ایڈیشنل ججز کی مدت ملازمت میں 6 ماہ کی توسیع کی گئی، ان ججز میں جسٹس انعام اللہ خان، جسٹس فرح جمشید، جسٹس ثابت اللہ خان اور جسٹس اورنگزیب شامل ہیں۔

  • پشاور ہائیکورٹ کے 6 ایڈیشنل ججز کی مستقلی، 4 ججز کی 6 ماہ توسیع کی منظوری

    پشاور ہائیکورٹ کے 6 ایڈیشنل ججز کی مستقلی، 4 ججز کی 6 ماہ توسیع کی منظوری

    چیف جسٹس پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی کی زیر صدارت جوڈیشل کمیشن کے اجلاس میں پشاور ہائیکورٹ کے 6 ایڈیشنل ججز کی مستقلی، 4 ججز کی توسیع کی منظوری دی گئی-

    چیف جسٹس پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی کی زیر صدارت جوڈیشل کمیشن کا اجلاس منعقد ہوا جس میں پشاور ہائیکورٹ کے 10 ایڈیشنل ججز کی مستقلی کے معاملے پر غور کیا گیا کمیشن نے 10 میں سے 6 ایڈیشنل ججز کو مستقل کرنے کی منظوری دے دی ہے جبکہ 4 ججز کو 6 ماہ کی توسیع دی گئی ہے۔

    ذرائع کے مطابق اجلاس میں جسٹس محمد طارق آفریدی، جسٹس عبدالفیاض، جسٹس صبعت اللہ، جسٹس صلاح الدین، جسٹس صادق علی اور جسٹس مدثر امیر کی مستقلی پر غور کیا گیا اور ان میں سے 6 ججز کو مستقل کرنے کی منظوری دی گئی،پشاور ہائیکورٹ کے جسٹس محمد طارق آفریدی، جسٹس عبدالفیاض، جسٹس صلا ح الدین، جسٹس صادق علی، جسٹس مدثر امیر اور جسٹس قاضی جواد احسان اللہ کی مستقلی کی منظوری دی گئی۔

    گلشنِ معمار میں 17 سالہ لڑکی سے مبینہ زیادتی،، ملزم گرفتار

    اسی طرح جسٹس فرح جمشید، جسٹس انعام اللہ، جسٹس اورنگزیب اور جسٹس قاضی جواد احسان اللہ کے کیسز پر بھی غور ہوا، جن میں سے جسٹس فرح جمشید، جسٹس انعام اللہ اور جسٹس اورنگزیب کو 6 ماہ کی توسیع دینے کی منظوری دی گئی ہے۔

    آئی سی سی کی ٹیسٹ، ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی فارمیٹس کی نئی رینکنگ جاری

  • ایک شخص کے مفاد کے بجائے عوام کے مسائل پر توجہ دیں،اعظم نذیر تارڑ

    ایک شخص کے مفاد کے بجائے عوام کے مسائل پر توجہ دیں،اعظم نذیر تارڑ

    وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ ججزعدالت میں انصاف فراہم کرتے ہیں نہ کہ شاہی دربار میں اوران کا کام ذاتی انا کی تسکین نہیں بلکہ عوام کے حقوق کے تحفظ کو یقینی بنانا ہے۔

    اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ آئینی ترمیم کے بعد انصاف کی فراہمی کو جلد ممکن بنانے کی کوشش کی گئی ہے اور ججز کو انصاف پسند ہونا چاہیئے ججزعدالت میں انصاف فراہم کرتے ہیں نہ کہ شاہی دربار میں اوران کا کام ذاتی انا کی تسکین نہیں بلکہ عوام کے حقوق کے تحفظ کو یقینی بنانا ہے بارکی سیاست خدمت کی ہونی چاہیے اورمعصوم بچوں کو ڈھال بنا کرجلسے نہیں کیے جانے چاہئیں۔

    انہوں نے اپوزیشن پرزوردیا کہ پارلیمنٹ میں بیٹھ کرمسائل کا حل نکالیں اورایک شخص کے مفاد کے بجائے عوام کے مسائل پر توجہ دیں وزیر قانون نے خیبرپختونخوا کے صوبے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ دہشتگردی سے سب سے زیادہ متاثر ہے اور عوام کی حفاظت کے لیے سب کا تعاون ضروری ہے۔

    امریکا میں دو بھارتی ڈرائیورزمنشیات اسمگل کرنے پرگرفتار

    انہوں نے کہا کہ ایک شخص کو سزا ملی ہے تو رجوع عدالت سے کیا جائے اور کہا کہ کبھی دارلخلافہ پر چڑھائی نہیں کی گئی اعظم نذیرتارڑ نے ملک کی بہتری اورخوشحال پاکستان کے قیام کے لئے سب کو مل کرکام کرنے کی ضرورت پر زور دیا اور بتایا کہ ینگ لائرزکیلئے اسٹیٹ آف دی آرٹ ٹریننگ سینٹر قائم کیا جائے گا۔

    وفاقی وزیر قانون نے کہا کہ وفاقی آئینی عدالت سے وفاق مضبوط ہوگا اور وہ ہر اسٹیک ہولڈر کے ساتھ بیٹھ کر بات چیت کرنے کے لئے تیار ہیں تاکہ مسائل کا پرامن اور مؤثر حل نکالا جا سکے اور شفاف اور جلد انصاف کے قیام کے لیے تمام اداروں اور شہریوں کو تعاون کرنا ضروری ہے۔

    بنگلہ دیش ایئر فورس چیف کا نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی کا دورہ ،لیفٹیننٹ جنرل بابر افتخار سے ملاقات

  • چیف جسٹس کے اختیارات کیخلاف اسلام آباد ہائیکورٹ کے 5 ججز کی درخواستوں پر اعتراضات عائد

    چیف جسٹس کے اختیارات کیخلاف اسلام آباد ہائیکورٹ کے 5 ججز کی درخواستوں پر اعتراضات عائد

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے 5 ججز کی جانب سے چیف جسٹس سرفراز ڈوگر کے اختیارات کے خلاف دائر کی گئی آئینی درخواستوں پر سپریم کورٹ رجسٹرار آفس نے اعتراضات عائد کر دیے ہیں۔

    رجسٹرار آفس نے درخواستوں کو اعتراضات لگا کر واپس کردیا،اعتراضات میں کہا گیا ہے کہ درخواست گزاروں نے یہ واضح نہیں کیا کہ ان درخواستوں میں مفادِ عامہ کا کون سا اہم سوال موجود ہے، درخواست گزار ججوں نے نہ ہی یہ بتایا ہے کہ ایسے کون سے بنیادی حقوق متاثر ہوئے ہیں، جن کے تحت آئین کے آرٹیکل 184/3 کا دائرہ کار استعمال کیا جاسکتا ہے۔

    رجسٹرار آفس نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ درخواست گزاروں نے ذاتی رنجش کی بنیاد پر غیر معمولی دائرہ کار کے تحت درخواستیں دائر کیں،جبکہ سپریم کورٹ کے فیصلے ذوالفقار مہدی بنام پی آئی اے کیس میں یہ اصول طے کیا جاچکا ہے کہ ذاتی رنجش پر آرٹیکل 184/3 کے تحت درخواست دائر نہیں کی جاسکتی،رخواست گزاروں نے نہ تو آئینی درخواست دائر کرنے کی کوئی ٹھوس وجہ بیان کی اور نہ ہی نوٹسز جاری کرنے کے لیے متعلقہ فریقین کی وضاحت کی۔

    کراچی: 3 خواجہ سراؤں کے قتل کا مقدمہ گرو کی مدعیت میں درج

    ناسا نے ایک نیا جزیرہ دریافت کر لیا

    عالمی موسمیاتی اداروں نے لا نینا الرٹ جاری کر دیا،کیا پاکستان متاثر ہوگا؟

  • سپریم کورٹ کی ریٹائرڈ ججز کی سیکیورٹی سے متعلق مراسلے پر وضاحت جاری

    سپریم کورٹ کی ریٹائرڈ ججز کی سیکیورٹی سے متعلق مراسلے پر وضاحت جاری

    سپریم کورٹ نے ریٹائرڈ ججز کی سیکیورٹی سے متعلق جاری مراسلے پر وضاحتی بیان دیاہے-

    ترجمان سپریم کورٹ کے مطابق چیف جسٹس پاکستان سمیت تمام ججز کی سیکیورٹی کو ریگولیٹ کیا گیا ہے، جبکہ چیف جسٹس کے پروٹوکول میں سرکاری گاڑیوں کی تعداد 8 سے کم کرکے 2 کر دی گئی ہے،دیگر ججوں کے لیے حفاظتی نظام کو بھی مناسب انداز میں منظم کیا گیا ہے ریٹائرڈ ججز کی سیکیورٹی بھی مروجہ قوانین، سیکیورٹی پروٹوکولز اور ان کے استحقاق کے مطابق ریگولیٹ کی گئی ہے۔

    ترجمان نے واضح کیاکہ صدارتی حکم کے مطابق ریٹائرڈ ججز کو تاحیات سیکیورٹی فراہم کی جاتی ہے کیونکہ وہ ماضی میں حساس ڈیوٹی انجام دے چکے ہوتے ہیں اور انہیں مسلسل سیکیورٹی خدشات لاحق رہتے ہیں انہی خدشات کے پیش نظر سرکلر جاری کیا گیا تاکہ سیکیورٹی پروٹوکولز کو عملی شکل دی جا سکے، یہ سیکیورٹی کسی غیر معمولی فائدے، اضافی رعایت یا مراعات کا حصہ نہیں ہے، سرکلر اس لیے جاری کیا گیا تاکہ ضرورت سے زیادہ فورس تعینات نہ ہو اور سپریم کورٹ، وزارت داخلہ اور صوبائی حکام کے درمیان بہتر ہم آہنگی یقینی بنائی جا سکے۔

    سپریم کورٹ کے جج کے اسکواڈ کی گاڑی جلانے کے کیس کا فیصلہ جاری

    نیٹوممالک روس سے تیل خریدنا بند کر دیں، امریکی صدر

    سونے کی قیمت میں معمولی کمی

  • سپریم کورٹ ججز کیلئے سرکاری گاڑیوں کے  استعمال کی نئی پالیسی نافذ ، چھٹیوں کے قواعد میں بھی ترمیم

    سپریم کورٹ ججز کیلئے سرکاری گاڑیوں کے استعمال کی نئی پالیسی نافذ ، چھٹیوں کے قواعد میں بھی ترمیم

    سپریم کورٹ کے 12 اگست 2025 سے 26اکتوبر 2025 تک کے سرکلرز اور احکامات پبلک کردیئے گئے، نئی ہدایات کے تحت ججز کے لیے پروٹوکول بڑھایا گیا ہے۔

    سپریم کورٹ نے گزشتہ سال کے دوران کئی نئی پالیسیز اور ایس او پیز جاری کیے ججز کے لیے پروٹوکول بڑھایا گیا، سرکاری گاڑیوں کے کرائے اور استعمال کی نئی پالیسی نافذ کی گئی، جبکہ عمارتوں اور رہائش گاہوں کی دیکھ بھال کے لیے پرچیز اینڈ مینٹیننس کمیٹی بھی تشکیل دی گئی ہے، فیصلوں کو ویب سائٹ پر شائع کرنے کے اصول بھی بدل گئے جبکہ اقلیتی فیصلے اب اکثریتی فیصلے کے ساتھ دستیاب ہوں گے،ڈے کیئر سینٹر کے لیے عمر کی حد اور یونیورسٹی وفود کے لیے ڈریس کوڈ کے قواعد بھی طے کیے گئے ہیں۔

    پنجاب بھر میں شدید طوفانی بارشوں کا امکان، دفعہ 144 پر سختی سے عملدرآمد کرانے کی ہدایت

    ہر جج کو دو سرکاری گاڑیاں، ڈرائیور، سیکیورٹی گاڑی اور تربیت یافتہ گن مین فراہم کیے جائیں گے، ریٹائرڈ ججز کے لیے بھی گاڑیوں اور ہوائی اڈے پر پک اپ ڈراپ کی سہولت برقرار ہے،ججز کی بیرون ملک چھٹیوں کے قواعد میں ترمیم کی گئی، نجی غیر ملکی دورے صرف موسم گرما اور سرما کی تعطیلات میں ہوں گے،چیف جسٹس چھٹیاں محدود یا منسوخ کر سکتے ہیں، یہ اقدامات سپریم کورٹ کے انتظامی نظام کو مزید مؤثر اور شفاف بنانے کے لیے کیے گئے ہیں۔

    مظفرگڑھ : ساڑھے 3 سال کی بچی سےزیادتی، ملزم گرفتار

  • لاہور: ماتحت عدلیہ میں 33 نئے سول ججز کی تعیناتی کی منظوری

    لاہور: ماتحت عدلیہ میں 33 نئے سول ججز کی تعیناتی کی منظوری

    لاہور ہائیکورٹ نے ماتحت عدلیہ میں 33 نئے سول ججز کی تعیناتی کی منظوری دے دی.

    باغی ٹی وی: رپورٹ کے مطابق چیف جسٹس مس عالیہ نیلم کی منظوری کے بعد ایڈیشنل رجسٹرار امتحانات نے پریس ریلیز جاری کر دی،پریس ریلیز کے مطابق مہوش انجم، تنزیلہ تبسم، اسد حیات، اقصیٰ اقبال، محمد نبیل لطیف، سلیم اللہ ملک، عروج رحمان، اقرا بشار ت، ماریہ صابر، زہرا جیمل، وسیم شہزاد کو سول جج مقرر کردیا گیا۔

    ان کے علاوہ اقصیٰ بشیر، سائرہ شہزادی، محمد عثمان، سحر اتیاب، محمد احمد، محمد نعیم الیاس، شعیب سکندر، خولہ شاہد، زاہدہ پروین، شبنم سلیم، خدیجہ سجاد، ناصر حبیب، احمد خالد، زکا الحسن، سلمان احمد، محمد عمر جمیل بھی سول جج مقرر کردیئے گئے،افیفا ممتاز، عبد الماجد شہاب، مصدق اصغر، زاہد بشیر، ماہ نور الیاس اور مہرین فاطمہ کو بھی سول جج مقرر کر دیا گیا۔

    حیفا میں چاقو برادر شخص کے حملے میں ایک اسرائیلی ہلاک ،4 زخمی

    یوٹیوبر رنویر الہ آبادیہ کو بھارتی سپریم کورٹ سے بڑا ریلیف مل گیا

    چیمپئنز ٹرافی: سیمی فائنلز کے میچ آفیشلز کا اعلان

  • ٹرمپ کی پالیسیوں کو روکنے والے  ججز کیخلاف مواخذے کی کارروائی کا اعلان

    ٹرمپ کی پالیسیوں کو روکنے والے ججز کیخلاف مواخذے کی کارروائی کا اعلان

    واشنگٹن: امریکی ریپبلکن اراکینِ کانگریس نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیوں کو روکنے والے دو وفاقی ججز کے خلاف مواخذے کی کارروائی کا اعلان کر دیا ہے۔

    باغی ٹی وی :امریکی میڈیا کے مطابق ریپبلکن رہنما اینڈریو کلائیڈ نے امریکی ضلعی جج جان جے میک کونل جونیئر کے خلاف مواخذے کی تحریک پر کام شروع کر دیا ہے میک کونل نے ٹرمپ حکومت کے وفاقی اخراجات منجمد کرنے کے فیصلے کو کالعدم قرار دیا تھا، میک کونل نے ٹرمپ انتظامیہ کو حکم دیا تھا کہ وہ حکومتی اخراجات پر عائد پابندی کو ختم کرے، جسے ریپبلکن اراکین “سیاسی انتقام” قرار دے رہے ہیں۔

    اسی طرح، ریپبلکن رکنِ کانگریس ایلی کرین نے جج پال اینگلمائر کے خلاف بھی مواخذے کی تیاری شروع کر دی ہے، جنہوں نے ٹرمپ انتظامیہ کو محکمہ خزانہ کے ریکارڈ تک رسائی دینے سے روک دیا تھا جس پر ریپبلکن حلقوں میں شدید برہمی پائی جاتی ہے۔ تاہم، ان فیصلوں کے حوالے سے میک کونل اور اینگل مائر نے کسی قسم کا ردعمل دینے سے گریز کیا ہے۔

    یوٹیلیٹی اسٹورز یونین کا 17 فروری کو ملک گیر احتجاج کا اعلان

    صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حال ہی میں ایک پریس کانفرنس کے دوران وفاقی ججز کے فیصلوں پر شدید تحفظات کا اظہار کیا اور کہا کہ شاید ان ججز کو بھی “دیکھنے کی ضرورت ہے” کیونکہ یہ ایک “سنگین خلاف ورزی” ہے،اس موقع پر ان کے ہمراہ ڈپارٹمنٹ آف گورنمنٹ ایفیشنسی (DOGE) کے سربراہ ایلون مسک بھی موجود تھے، انہوں نے بھی عدلیہ کے فیصلوں پر برہمی کا اظہار کیا تھا ،سوشل میڈیا پر ایک بیان میں کہا کہ صرف ایک نہیں، بلکہ متعدد ججز کے خلاف فوری مواخذے کی ضرورت ہے۔

    اس حوالے سے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ججز کے خلاف مواخذے کی تحریک کو ایوان نمائندگان میں تو اکثریتی ووٹ سے منظور کیا جا سکتا ہے، لیکن سینیٹ میں اس کی منظوری کے امکانات نہایت کم ہیں موجودہ سینیٹ میں ریپبلکن اراکین کی تعداد صرف 53 ہے، جبکہ کسی بھی جج کو ہٹانے کے لیے دو تہائی اکثریت درکار ہوتی ہے۔

    امریکا سے مزید 120 بھارتیوں کی ملک بدری،زنجیروں اور ہتھکڑیوں میں جکڑ کر بھارت بھیجا گیا

    مریکہ میں عدالتی مواخذے کے کیسز نایاب ہوتے ہیں اور عام طور پر انہیں بدعنوانی، جھوٹی گواہی یا سنگین ذاتی بدعملی کی بنیاد پر لایا جاتا ہے۔ آخری بار 2010 میں کسی جج کو مواخذے کے ذریعے برطرف کیا گیا تھا جبکہ گزشتہ 120 سالوں میں صرف 15 وفاقی ججز کے خلاف مواخذے کی کارروائی ہوئی ہے، جن میں سے 8 کو عہدے سے ہٹایا گیا۔

    اس پیشرفت نے امریکہ میں عدلیہ اور ایگزیکٹو برانچ کے درمیان کشیدگی کو مزید بڑھا دیا ہے مبصرین کے مطابق، یہ معاملہ ریپبلکن پارٹی اور وفاقی عدلیہ کے درمیان کھلی جنگ کی صورت اختیار کر سکتا ہے۔

    ٹرمپ اور ایلون مسک نے 9500 سرکاری ملازمین کو برطرف کر دیا

    نائب صدر جے ڈی وینس نے بھی ان عدالتی فیصلوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ججز کو انتظامیہ کے قانونی اختیارات پر کنٹرول کا حق نہیں دیا جا سکتا،” وائٹ ہاؤس کی پریس سیکرٹری کیرولین لیویٹ نے بھی ان ججز کو “سیاسی سرگرم کارکن” قرار دیاد جبکہ اٹارنی جنرل پم بونڈی نے عندیہ دیا کہ محکمہ انصاف ایلون مسک اور ٹرمپ انتظامیہ کی مکمل حمایت کرے گا، لیکن انہوں نے واضح کیا کہ فوری طور پر ججز کے خلاف مواخذے کا امکان نہیں ہے۔

    دوسری جانب،ریپبلکن سینیٹرز کا اس معاملے پر ملا جلا ردعمل سامنے آیا ہے، سینیٹر چک گراسلی نے کہا کہ “ہمارا آئینی نظام چیکس اینڈ بیلنس پر مبنی ہے، اور ہمیں اسی اصول پر چلنے دینا چاہیے ،جبکہ سینیٹر جان کینیڈی نے کہا کہ “میں عدالتوں کے ہر فیصلے سے اتفاق نہیں کرتا، لیکن میں عدلیہ کی خودمختاری پر حملہ کرنے کا ارادہ نہیں رکھتا۔”

    امریکا سے مزید 120 بھارتیوں کی ملک بدری،زنجیروں اور ہتھکڑیوں میں جکڑ کر بھارت بھیجا گیا

    برینن سینٹر فار جسٹس کے سینئر وکیل ڈگلس کیتھ کے مطابق اگر کانگریس ججز کو ہٹانے کے عمل کو سیاسی مقصد کے لیے استعمال کرتی ہے، تو ججز حکومتی فیصلوں کے خلاف فیصلہ سنانے میں ہچکچاہٹ محسوس کر سکتے ہیں، جو جمہوریت کے لیے خطرناک ہوگا۔

  • سندھ ہائیکورٹ کے 12 نئے ججز  کل حلف اٹھائیں گے

    سندھ ہائیکورٹ کے 12 نئے ججز کل حلف اٹھائیں گے

    کراچی: سندھ ہائیکورٹ کے 12 نئے ججز کل بروز بدھ 29 جنوری کو حلف اٹھائیں گے۔

    باغی ٹی وی : چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ جسٹس محمد شفیع صدیقی نئے ججز سے حلف لیں گے تقریب حلف برداری صبح ساڑھے دس بجے سندھ ہائیکورٹ میں منعقد ہوگی، نئے ججز میں جسٹس میراں محمد شاہ، جسٹس تسنیم سلطانہ، جسٹس ریات علی سحر، جسٹس محمد حسن اکبر، جسٹس خالد حسین شاہانی، جسٹس عبدالحامد بھرگڑی، سید فیض الحسن شاہ، جسٹس جان علی جونیجو، جسٹس نثار احمد بھمرو، جسٹس علی حیدر ادا، محمد عثمان علی ہادی اور جسٹس محمد جعفر رضا شامل ہیں۔

    یہ تقرریاں عدالتی نظام کی بہتری اور انصاف کی بروقت فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے کی گئی ہیں، حلف برداری کے بعد یہ ججز اپنی ذمہ داریاں سنبھالیں گے۔

    ایف بی آر کا سالانہ ٹیکس پورا نہیں ہو سکا،گاڑیاں خریدی جا رہی ہیں،فیصل واوڈا

    وزارت قانون نے گزشتہ روز سندھ ہائیکورٹ میں 12 ایڈیشنل ججز کی تعیناتی کا نوٹیفکیشن جاری کیا تھا صدر مملکت آصف علی زرداری نے سندھ ہائیکورٹ میں 12 ایڈیشنل ججز کی تعیناتی کی منظوری دی تھی،نوٹیفکیشن کے مطابق سندھ ہائیکورٹ میں 12 ایڈیشنل ججز ایک سال کے لیے تعینات کیے گئے ہیں اور تعیناتی کی منظوری کثرت رائے سے دی گئی ہے۔

    واضح رہے کہ چیف جسٹس نے جوڈیشل کمیشن، سپریم جوڈیشل اور لا اینڈ جسٹس کمیشن میں تقرریوں کے لیے کمیٹیاں بنا دی ہیں۔

    ٹوکن ٹیکس نادہندگان کے خلاف سخت اقدامات کا فیصلہ

    سپریم کورٹ نے اس حوالے سے اعلامیہ جاری کردیا جس میں بتایا گیا کہ قانون و انصاف کمیشن کے سیکریٹری کی تعیناتی کیلئے کمیٹی کی سربراہی چیف جسٹس کریں گے، کمیٹی میں جسٹس عائشہ ملک اور جسٹس شاہد وحید شامل ہونگے، کمیٹی صوبائی چیف سیکرٹری کے نامزد کردہ امیدواروں کا انٹرویو کریں گے۔

    اعلامیے کے مطابق جوڈیشل کمیشن کے سیکریٹری کی تقرری کے لیے پانچ رکنی کمیٹی قائم کی گئی ہے، کمیٹی میں جسٹس منصور علی شاہ، جسٹس منیب اختر اور جسٹس امین الدین خان شامل ہوں گے، جسٹس جمال مندوخیل اور اٹارنی جنرل بھی کمیٹی کا حصہ ہوں گے۔

    پنڈت کی بھائی کے ساتھ ملکر شوہرکے سامنے خاتون کیساتھ اجتماعی زیادتی

    سپریم جوڈیشل کونسل کے سیکریٹری کی تقرری کیلئے بھی 3 رکنی کمیٹی قائم کی گئی ہے، کمیٹی میں جسٹس منصور علی شاہ، جسٹس منیب اختر اور اٹارنی جنرل شامل ہیں۔

    جوڈیشل کونسل اور جوڈیشل کمیشن کے سیکریٹریز کی تقرری کیلئے حاضر سروس اور ریٹائرڈ ایڈیشنل سیشن ججوں کے ناموں پر غور ہوگا، حاضر سروس اور ریٹائرڈ ججوں کے نام صوبائی چیف جسٹس اور چیف سیکرٹری کریں گے

    یاد رہے کہ سپریم جوڈیشل کمیشن نے سپریم کورٹ میں 8 نئے ججز کی تعیناتی کے لیے اجلاس 11 فروری کو طلب کیا ہے اجلاس میں پانچوں ہائیکورٹس سے 5، 5 سینئر ججز کی بطور جج سپریم کورٹ تعیناتی ناموں پر غور کیا جائے گا۔

    رمضان شوگر ملز ریفرنس،مدعی کمرہ عدالت میں بیان سے منحرف

    دوسری جانب اسلام آباد اور بلوچستان ہائیکورٹ کے ایڈیشنل ججز نے گزشتہ ہفتے حلف اٹھایا تھا ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج محمد اعظم خان اور سینیئر ایڈووکیٹ راجہ انعام امین منہاس کو اسلام آباد ہائیکورٹ میں ایک سال کے لیے ایڈیشنل جج تعینات کیا گیا ہے،بلوچستان ہائیکورٹ کے 3 ایڈیشنل ججز نے بھی حلف اٹھا لیا ہے جن میں ایڈیشنل ججز میں محمد آصف ریکی، محمد ایوب ترین اور نجم الدین مینگل شامل ہیں۔