Baaghi TV

Tag: ججز تقرری

  • جوڈیشل کمیشن میں  اتفاق رائے سےاہم فیصلے

    جوڈیشل کمیشن میں اتفاق رائے سےاہم فیصلے

    ججز تقرری کیلئے جوڈیشل کمیشن میں اہم فیصلوں پر اتفاق رائے ہوگیا۔

    باغی ٹی کی رپورٹ کے مطابق جوڈیشل کمیشن کے آج کے اجلاس کی کارروائی کے اعلامیہ کے مطابق اجلاس میں جسٹس منصور علی شاہ نے اراکین کو رولز کے بارے میں بریف کیا۔چیف جسٹس آف پاکستان نے اراکین اور شریک چیئرمین کا رولز ڈرافٹ کرنے پر شکریہ ادا کیا۔اعلامیے کے مطابق اجلاس میں یقینی بنایا گیا کہ ڈرافٹ رولز آئین سے مطابقت رکھتے ہوں جبکہ تجاویز پر اتفاق رائے پیدا کیا گیا۔اجلاس کے اختتام پر فیصلہ کیا گیا کہ چیف جسٹس اور سینئر جج رولز ڈرافٹ کارروائی کے مطابق رولز ڈرافٹ کریں، آیندہ اجلاس 28 ستمبر کو ہوگا جبکہ ترامیم کے مجوزہ ڈرافٹ میں کچھ تبدیلیوں پر اتفاق رائے ہوا۔نیا ڈرافٹ آئندہ اجلاس میں اراکین کے سامنے پیش کیا جائے گا۔جوڈیشل کمیشن کا آئندہ اجلاس 28 ستمبر صبح 10 بجے ہوگا۔

    دوست ممالک نے قرض پروگرام ممکن بنایا، وزیراعظم

    اجلاس سے قبل رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ جسٹس منصور علی شاہ، جسٹس منیب اختر، جسٹس یحییٰ آفریدی شریک ہوں گے، اجلاس میں جسٹس (ر) منظور ملک، اٹارنی جنرل منصور اعوان اور وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ بھی شریک ہوں گے۔عام طور پر ہائی کورٹس کے سینئر ترین ججز ممبر نہ ہونے کے باعث جوڈیشل کمیشن اجلاس میں شرکت نہیں کرتے، تاہم ذرائع نے بتایا تھا کہ ہائی کورٹس کے اجلاس میں چیف جسٹس اور سینئر ترین ججز کو خصوصی طور پر مدعو کیا گیا ہے، اجلاس میں چاروں صوبوں کے وزرائے قانون بھی شریک ہوں گے، عام حالات میں جس ہائی کورٹ میں ججز تعیناتی ہوتی ہے اس کے متعلقہ چیف جسٹس اور وزیر قانون اجلاس میں شرکت کرتے ہیں۔

    پی ٹی آئی رہنماؤں کی پریس کانفرنس،صحافیوں نے بائیکاٹ کر دیا

    اجلاس میں مجوزہ جوڈیشل کمیشن رولز 2024 کا جائزہ لیا جائے گا اور جوڈیشل کمیشن رولز 2024 کی منظوری کے بعد ججز کی تقرریاں کی جائیں گی، اسلام آباد ہائی کورٹ سمیت پانچوں صوبائی ہائی کورٹس کے چیف جسٹس صاحبان کو خط ارسال کیا جاچکا ہے، خط میں ہائی کورٹس سے ججز کے تقرر کے لیے امیدواروں کی تلاش کی درخواست کی گئی ہے۔یاد رہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں اس وقت دو ججز کی اسامیاں خالی ہیں جبکہ لاہور ہائی کورٹ میں 24 ججز کی آسامیاں خالی ہیں، صدر مملکت نے پشاور ہائی کورٹ میں ججز کی تعداد 20 سے بڑھا کر 30 کردی ہے۔پشاور ہائی کورٹ میں اس وقت 13 ججز خدمات سرانجام دے رہے ہیں جبکہ وہاں کل 17ججز کی تعیناتیاں ہونی ہیں، سندھ ہائی کورٹ میں 11 اور بلوچستان ہائی کورٹ میں 4 ججز کی آسامیاں خالی ہیں۔سپریم کورٹ میں بھی ججز کی تعداد 17 سے بڑھا کر 23 کرنے سے متعلق بل متعلقہ کمیٹی میں زیر غور ہے، اس سے قبل رولز میں ترمیم کے لیے گزشتہ اجلاس 3 مئی کو بلایا گیا تھا، وزیر قانون نے کمیشن کو بتایا تھا کہ وفاقی حکومت آئین کے آرٹیکل 175 میں ترمیم کا ارادہ رکھتی ہے جس کے بعد کمیٹی نے رولز میں ترمیم کی منظوری کا معاملہ ملتوی کردیا تھا۔

  • ججز تقرری سے متعلق آئینی ترمیمی بل 2022 اتفاق رائے سے سنیٹ نےمنظورکرلیا

    ججز تقرری سے متعلق آئینی ترمیمی بل 2022 اتفاق رائے سے سنیٹ نےمنظورکرلیا

    اسلام آباد:سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف نے ججز تقرری کے طریقہ کار سے متعلق آئینی ترمیمی بل 2022 اتفاق رائے سے منظور کر لیا۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف نے آئینی ترمیمی بل 2022 میں ججز کی تقرری سے متعلق جوڈیشل کمیشن اور انسیشن کمیٹی کا ڈھانچہ اور اختیارات واضح کردیے گئے۔

    آرٹیکل 175 اے میں مجوزہ ترمیم کے ذریعے جوڈیشل کمیشن کے ممبران کی تعداد 9 سے کم کرکے 7 کردی گئی ہے۔

    نئی مجوزہ آئینی ترمیم کے بعد جوڈیشل کمیشن اور انسیشن کمیٹی کو 90 روز کے اندر خالی آسامی پر جج کی تعیناتی کرنا ہوگی۔ اس سے قبل سپریم کورٹ نے پارلیمانی کمیٹی برائے ججز تقرری کو عدالتی نظرثانی سے مشروط کرکے غیرمؤثر کردیا تھا۔

    جوڈیشل کمیشن میں ایک سابق جج کی نمائندگی ختم کرکے حاضر سروس جج کی تعداد بھی 4 سے کم کرکے 3 کردی گئی۔ انیسیشن کمیٹی 60 روز میں ہائیکورٹ کی خالی آسامی پر نام بھجوانے کی مجاز ہوگی۔

    سینیٹر فاروق ایچ نائیک کا کہنا ہے کہ ہائیکورٹ میں اگر ایک سیٹ خالی ہے تو انسیشن کمیٹی جوڈیشل کمیشن کو 2 نام بھیجے گی۔ اس انسیشن کمیٹی میں چیف جسٹس، دو سینئیر ججز، صوبائی ایڈوکیٹ جنرل اور سینئیر ممبر جو سپریم کورٹ کا وکیل ہوگا اس کو متعلقہ بار منتخب کرے گی۔

    چیئرمین کمیٹی سینیٹر علی ظفر کا کہنا ہے کہ کمیٹی میں 3 سینئر ججز ہوں گے، اس کے ساتھ چیف جسٹس ہوں گے تو ججز کی تعداد 4 ہو جائے گی۔ ریٹائرڈ جج کی نمائندگی ختم کردی گئی ہے۔علی ظفر کا کہنا تھا کہ وزیر قانون، اٹارنی جنرل اور جو بار کا نمائندہ کمیٹی کے رکن ہوں گے۔ پارلیمانی کمیٹی کی طاقت پارلیمان کو واپس دے دی گئی ہے۔

  • جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس عمر عطا بندیال کو خط

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس عمر عطا بندیال کو خط

    اسلام آباد: سپریم کورٹ کے جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس عمر عطا بندیال کو خط ،اطلاعات کے مطابق اس خط میں انہوں نے کہا ہے کہ جوڈیشل کمیشن میں ججز کی تقرری کے حوالے سے ہونے والے فیصلے کو فوری طور پر میڈیا میں جاری کیا جائے۔قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ججز تقرری کیلئے چیف جسٹس کی طرف سے پیش کردہ ناموں پر تفصیلی غور ہوا

    مجھ سمیت 5 ممبران نے سندھ کے 3 اور لاہور ہائیکورٹ کے ایک جونیئر جج کے نام مسترد کیےجسٹس طارق مسعود، اعظم نذیر تارڑ، اشتر اوصاف اور پاکستان بار کونسل کے نمائندے اختر حسین نے بھی نام مسترد کیے

    قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ پشاور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس پانچوں ہائیکورٹ کے چیف جسٹسز میں جونیئر ہیں، پشاور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس کا نام ان چیف جسٹسز کے بعد پیش کیا جائے۔

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی ریٹائرڈ ججز کو مراعات دینے کی مخالفت

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے خط میں مزید لکھا کہ اجلاس میں طے ہوا کہ آئین کسی اسامی پر پیشگی تقرری کی اجازت نہیں دیتا،

    ججز تقرری کے معاملے پرجسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا چیف جسٹس کو خط

    چیف جسٹس آف پاکستان بطور چیئرمین، کمیشن پر اپنے فیصلے مسلط نہیں کر سکتے، چیف جسٹس آف پاکستان اچانک جوڈیشل کمیشن کا اجلاس چھوڑ کر چلے گئے،جسٹس اعجاز الاحسن بھی اجلاس سے اٹھ کر چلے گئے

    خواتین کو نظراندازکریںگےتو معاشرے میں بہتری لانا ناممکن ہے،جسٹس قاضی فائز عیسیٰ

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے خط میں مزید لکھا کہ جوڈیشل کمیشن کے سیکرٹری چھٹیوں پر ہیں، قائم مقام سیکرٹری اجلاس کے فیصلوں کے بارے میں میٹنگ منٹس بنائیں، قوم کی نظریں جوڈیشل کمیشن کے اجلاس پر مرکوز ہیں، اجلاس میں کیا فیصلہ ہوا یہ جاننا عوام کا آئینی حق ہے، جوڈیشل کمیشن اجلاس کے بارے میں میڈیا میں غیر ضروری قیاس آرائیاں ہو رہی ہیں۔

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے خط میں لکھا کہ جوڈیشل کمیشن نے سندھ اور لاہور ہائیکورٹ کے 4 ججوں کے نام مسترد اور ایک نام پر کوئی فیصلہ نہیں کیا۔

  • ججز تقرری کا معاملہ ،جسٹس قاضی فائز عیسی نے اجلاس پر اعتراض اٹھا دیا

    ججز تقرری کا معاملہ ،جسٹس قاضی فائز عیسی نے اجلاس پر اعتراض اٹھا دیا

    جسٹس قاضی فائز عیسٰی نے ججز تقرری سے متعلق جوڈیشل کمیشن کے اجلاس پر چیف جسٹس کوخط لکھا ہے

    جسٹس قاضی فائز عیسٰی نے 28 جولائی کو ہونے والے جوڈیشل کمیشن اجلاس پر اعتراض اٹھا دیا ،جسٹس قاضی فائز عیسٰی نے چیف جسٹس عمر عطا بندیال کو لکھے گئے خط میں کہا کہ بیرون ملک چھٹیوں پر ہوں، جوڈیشل کمیشن کا کوئی اجلاس شیڈول نہیں تھا میرے بیرون ملک جانے کے بعد جوڈیشل کمیشن کے 2 اجلاس بلائے گئے،میری غیر موجودگی میں جوڈیشل کمیشن کا تیسرا اجلاس 28 جولائی کو بلا لیا گیا جوڈیشل کمیشن کا اجلاس موخر کیا جائے،سپریم کورٹ میں ججز کی تعیناتی سے پہلے مل بیٹھ کر طے کرنا ہوگا آگے کیسے بڑھنا ہے ہائی کورٹ کے چیف جسٹس، ججز کو بائی پاس کرنے سے پہلے نامزدگی کے طریقہ کار کو زیر غور لایا جائے سپریم کورٹ کا سینئر ترین جج ججز کی نامزدگی کا طریقہ کار طے کرنے میں ناکام رہا، چیف جسٹس کی طرف سے ججز کی تعیناتی کے معاملے پر جلد بازی سوالیہ نشان ہے،

    جسٹس قاضی فائز عیسٰی نے چیف جسٹس عمر عطا بندیال کو لکھے گئے خط میں کہا کہ چیف جسٹس چاہتے ہیں2347 دستاویز کا ایک ہفتے میں جائزہ لیا جائے،دستاویزات ابھی تک مجھے فراہم ہی نہیں کی گئیں، واٹس ایپ کے ذریعے یہ ہزاروں دستاویزات مجھے بھیجنے کی کوشش کی گئی،واٹس ایپ پر مجھے صرف 14 صفحات تک رسائی ملی جو پڑھے نہیں جا سکتے، یہ دستاویزات مجھے کورئیر کیے گئے سفارتخانے کے ذریعے نہ بھجوائے گئے،

    قبل ازیں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ججز تقرری کے حوالہ سے ایک خط پہلے بھی لکھا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ ہ بار کونسلز سمیت جوڈیشل کمیشن ممبران نے کئی بار رولز میں ترمیم کا مطالبہ کیا،ججز تقرری میں سنیارٹی،میرٹ اور قابلیت کو دیکھنا ہوتا ہے،سپریم کورٹ میں چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ کی جگہ جونیئر جج کو تعینات کیا گیا، ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اور سینئر ججز نے سابق چیف جسٹس سابق نثار کی باتوں کی تردید کی سینئر ججز کے خود نہ آنے کی بات کر کے ثاقب نثار نے مکاری کی سابق چیف جسٹس گلزار احمد نے بھی چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ اور سینئر ججز کو نظر انداز کیا خط کی کاپی سابق چیف جسٹس ثاقب نثار اور گلزار احمد کو بھی بھیج رہا ہوں بطور ممبر جوڈیشل کمیشن سابق جج جسٹس مقبول باقر کی رائے کو بھی نظرانداز کیا گیا، جوڈیشل کمیشن رولز میں ترمیم کیلئے قائم کمیٹی کی آج تک کوئی رائے نہیں آئی، جوڈیشل کمیشن اجلاس ان کیمرہ نہیں ہونا چاہیے،ججز تقرری کیلئے اجلاس سے متعلق عوام کو علم ہونا چاہیے،

    ملک اسلامی جمہوریہ مگریہاں اسلام کے مطابق کچھ نہیں ہورہا،جسٹس قاضی فائز عیسیٰ

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیخلاف ریفرنس غلطی تھی، عمران خان نے تسلیم کر لیا

    صدارتی ریفرنس کی سماعت کیلیے لارجر بینچ کی تشکیل ،جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا چیف جسٹس کو خط

    سپریم کورٹ کے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اسلام آباد میں گورنر بلوچستان کے سکواڈ کی گاڑی کا چالان کروا دیا ۔

    صحافیوں کو ہراساں کرنے کیخلاف ازخود نوٹس کیس،سپریم کورٹ کا بڑا حکم

    پولیس ملزمان کی ویڈیو کیوں نہیں بناتی؟ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا اظہار برہمی