Baaghi TV

Tag: ججز

  • ججز کی تنخواہوں اور مراعات میں نمایاں اضافہ

    ججز کی تنخواہوں اور مراعات میں نمایاں اضافہ

    اعلیٰ عدلیہ کے ججز کی تنخواہوں اور مراعات میں نمایاں اضافہ کردیا گیا، جس کے تحت سپریم کورٹ کے ججز کی تنخواہیں وفاقی آئینی عدالت کے ججز کے برابر کردی گئی ہیں۔

    ججز کی نئی تنخواہوں اور الاؤنسز کا اطلاق 10 دسمبر 2025 سے ہوگا،نئے پیکیج کے تحت چیف جسٹس پاکستان کی ماہانہ تنخواہ 15 لاکھ 50 ہزار روپے مقرر کردی گئی ہے، جبکہ سپریم کورٹ کے دیگر ججز کی بنیادی ماہانہ تنخواہ 15 لاکھ روپے ہوگی،سپریم کورٹ کے ججز کی بنیادی تنخواہ میں 4 لاکھ روپے ماہانہ اضافہ کیا گیا ہے۔

    ججز کے جوڈیشل الاؤنس میں بھی نمایاں اضافہ کردیا گیا ہے جوڈیشل الاؤنس 11 لاکھ 61 ہزار 163 روپے سے بڑھا کر 15 لاکھ روپے ماہانہ مقرر کیا گیا ہے، جس کے تحت الاؤنس میں تقریباً 3 لاکھ 39 ہزار روپے ماہانہ اضافہ ہوا ہے۔

    سپریم کورٹ ججز کے پنشن پیکج میں بھی اہم تبدیلیاں کردی گئیں، پنشن سے متعلق شق میں 70 سال کی حد بڑھا کر 75 سال کردی گئی۔ متعلقہ شق میں 85 سال کی حد بھی بڑھا کر 90 سال کردی گئی سپریم کورٹ ججز کیلئے ماہانہ 1 لاکھ 50 ہزار روپے میڈیکل الاؤنس بھی مقرر کردیا گیا۔

    ہائی کورٹ ججز کی بنیادی تنخواہوں میں بھی اضافہ کردیا گیا، ہائیکورٹ ججز کی نئی تنخواہوں کا اطلاق یکم جولائی 2026 سے ہوگا۔ ہائیکورٹ چیف جسٹس کی ماہانہ بنیادی تنخواہ 12 لاکھ 54 ہزار روپے مقرر کردیا گیا، ہائیکورٹ کے دیگرججز کی ماہانہ بنیادی تنخواہ 12 لاکھ 5 ہزار روپے ہوگی،ہائیکورٹ ججز کی تنخواہ 10 لاکھ 95 ہزار سے بڑھا کر 12 لاکھ 5 ہزار روپے کی گئی، ہائیکورٹ ججز کی بنیادی تنخواہ میں 1 لاکھ 10 ہزار روپے ماہانہ اضافہ کردیا گیا۔

    دو سال سے زائد عرصہ چیف جسٹس رہنے والوں کے لیے نئی سہولت متعارف کرادی گئی، ریٹائرمنٹ یا اعلیٰ عدالت میں ترقی کی صورت میں گاڑی رعایتی قیمت پر خریدنے کی اجازت ہوگی ریٹائرڈ ججز کو وفاقی حکومت کے ثالثی معاملات میں فیس کی اجازت بھی مل سکے گی۔

  • پشاور ہائیکورٹ کی سنیارٹی لسٹ جاری

    پشاور ہائیکورٹ کی سنیارٹی لسٹ جاری

    پشاور ہائیکورٹ نے ججز کی نئی سنیارٹی لسٹ جاری کر دی ہے-

    پشاور ہائیکورٹ کے اعلامیے کے مطابق چیف جسٹس سید محمد عتیق شاہ ہائیکورٹ کے سینئر ترین جج برقرار ہیں جبکہ جسٹس اعجاز انور سینئر پیونی جج کی حیثیت سے اپنی پوزیشن پر برقرار رہیں گے،جبکہ جسٹس سید ارشد علی سنیارٹی لسٹ میں تیسرے اور جسٹس صاحبزادہ اسداللہ چوتھے نمبر پر برقرار ہیں۔ اسی طرح جسٹس محمد نعیم انور پانچویں جبکہ جسٹس وقار احمد چھٹے نمبر پر شامل ہیں۔

    اعلامیے کے مطابق اسلام آباد ہائیکورٹ سے تبادلے پر آنے والے جسٹس بابر ستار کو سنیارٹی لسٹ میں ساتواں نمبر دیا گیا ہے، جسٹس کامران حیات میاں خیل آٹھویں اور جسٹس محمد اعجاز خان نویں نمبر پر ہیں جبکہ جسٹس محمد فہیم ولی دسویں نمبر پر شامل کیے گئے ہیں،جسٹس خورشید اقبال گیارہویں اور جسٹس طار ق آفریدی بارہویں نمبر پر ہیں۔

    اسی طرح جسٹس عبدالفیاض چودھویں اور جسٹس فرح جمشید پندرہویں نمبر پر شامل ہیں جسٹس انعام اللہ خان سولہویں اور جسٹس ثابت اللہ خان سترہویں نمبر پر ہیں جبکہ جسٹس صلاح الدین اٹھارہویں اور جسٹس صادق علی مومند انیسویں نمبر پر شامل کیے گئے ہیں جبکہ جسٹس مدثر امیر بیسویں اور جسٹس قاضی جواد احسان اللہ اکیسویں نمبر پر ہیں۔

    پشاور ہائیکورٹ کے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ انتظامی کمیٹی کے یکم مئی 2026 کے فیصلے کی روشنی میں نئی نامزدگیاں بھی جاری کر دی گئی ہیں۔

  • لاہور ہائیکورٹ میں مزید ججز کی تقرری، ایک ایڈیشنل جج کی مدت میں توسیع کا نوٹیفکیشن جاری

    لاہور ہائیکورٹ میں مزید ججز کی تقرری، ایک ایڈیشنل جج کی مدت میں توسیع کا نوٹیفکیشن جاری

    وفاقی حکومت نے لاہور ہائی کورٹ میں عدالتی امور کو مؤثر بنانے کے لیے متعدد ایڈیشنل ججز کی تقرری اور ایک ایڈیشنل جج کی مدتِ ملازمت میں توسیع کے نوٹیفکیشن جاری کر دیے ہیں-

    وزارتِ قانون و انصاف کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق صدرِ مملکت نے آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 193 کے تحت اختیارات استعمال کرتے ہوئے لاہور ہائیکورٹ کے لیے گیارہ ایڈیشنل ججز کی تقرری کی منظوری دے دی ہے،مقرر کیے گئے ججز میں جسٹس حسن نواز مخدوم، جسٹس ملک وقار حیدر اعوان، جسٹس سردار اکبر علی، جسٹس سید احسن رضا کاظمی، جسٹس ملک جاوید اقبال وائیں، جسٹس محمد جواد ظفر، جسٹس خالد اسحاق، جسٹس ملک محمد اویس خالد، جسٹس چوہدری سلطان محمود، جسٹس تنویر احمد شیخ اور جسٹس ابہر گل خان شامل ہیں، تمام ایڈیشنل ججز اپنی ذمہ داریاں حلف اٹھانے کی تاریخ سے سنبھالیں گے۔

    دکی :اسسٹنٹ کمشنر آفس کے مال خانے سے 270 کلو منشیات چوری

    ایک اور نوٹیفکیشن میں صدرِ مملکت نے آئین کے آرٹیکل 197 کے تحت لاہور ہائیکورٹ کے ایڈیشنل جج جسٹس طارق محمود باجوہ کی مدتِ ملازمت میں 6 ماہ کی توسیع کی منظوری بھی دے دی ہے توسیع کا اطلاق ان کی موجودہ مدت کے اختتام کے بعد ہو گا،دونوں نوٹیفکیشنز پر وزارتِ قانون و انصاف کے سیکریٹری راجا نعیم اکبر کے دستخط ہیں اور انہیں گزٹ آف پاکستان کے پارٹ تھری میں شائع کرنے کے لیے پرنٹنگ کارپوریشن آف پاکستان کو ارسال کر دیا گیا ہے۔

    آسٹریلوی کرکٹ ٹیم کے کپتان مچل مارش پاکستان کے سرد موسم پر حیران

  • صدرِ مملکت نے ہائیکورٹس ایڈیشنل ججز کی توثیق اور مدتِ ملازمت میں توسیع کی منظوری دے دی

    صدرِ مملکت نے ہائیکورٹس ایڈیشنل ججز کی توثیق اور مدتِ ملازمت میں توسیع کی منظوری دے دی

    صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے ہائیکورٹس ایڈیشنل ججز کی توثیق اور مدتِ ملازمت میں توسیع کی منظوری دے دی۔

    صدر آصف علی زرداری نے سندھ، لاہور اور پشاور ہائیکورٹس کے ایڈیشنل ججز کی توثیق اور مدتِ ملازمت میں توسیع کی منظوری دی، صدرِ کیجانب سے جوڈ یشل کمیشن کی سفارشات کی روشنی میں منظوری دی گئی،صدر مملکت آصف علی زرداری نے تمام منظوریاں وزیراعظم شہبازشریف کے مشورے پر دیں۔

    صدر نے لاہور ہائی کورٹ کے 11 ایڈیشنل ججز کو مستقل کرنے کی منظوری دی جن میں جسٹس حسن نواز مخدوم، جسٹس ملک وقار حیدر اعوان، جسٹس سردار اکبر علی، جسٹس سید احسن رضا کاظمی، جسٹس ملک جاوید اقبال وینس، جسٹس محمد جواد ظفر، جسٹس خالد اسحاق، جسٹس ملک محمد اویس خالد، جسٹس چودھری سلطان محمود، جسٹس تنویر احمد شیخ اور جسٹس عبہر گل خان کی بطور مستقل جج منظوری دی گئی جبکہ لاہور ہائی کورٹ کے ایڈیشنل جج جسٹس طارق محمود باجوہ کی مدت میں 6 ماہ کی توسیع کی گئی۔

    سندھ ہائی کورٹ کے 10 ایڈیشنل ججز جسٹس میران محمد شاہ، جسٹس تسنیم سلطانہ، جسٹس ریاضت علی سحر، جسٹس محمد حسن، جسٹس عبدالحمید بھگی، جسٹس جان علی جونیجو، جسٹس نثار احمد بھنبھرو، جسٹس علی حیدر، جسٹس محمد عثمان علی ہادی اور جسٹس محمد جعفر رضا کو مستقل کرنے کی منظوری دی گئی۔

    سندھ ہائی کورٹ کے 2 ایڈیشنل ججز جسٹس خالد حسین شاہانی اور جسٹس سید فیض الحسن شاہ کی مدت میں چھ ماہ کی توسیع کی منظوری دی گئی۔

    صدر مملکت نے پشاور ہائی کورٹ کے 6 ایڈیشنل ججز جسٹس محمد طارق آفریدی، جسٹس عبدالفیاض، جسٹس صلاح الدین مستقل، جسٹس صادق علی، جسٹس سید مدثر امیر اور جسٹس قاضی جواد احسان اللہ کو مستقل کرنے کی منظوری دی۔

    پشاور ہائی کورٹ کے 4 ایڈیشنل ججز کی مدت ملازمت میں 6 ماہ کی توسیع کی گئی، ان ججز میں جسٹس انعام اللہ خان، جسٹس فرح جمشید، جسٹس ثابت اللہ خان اور جسٹس اورنگزیب شامل ہیں۔

  • پشاور ہائیکورٹ کے 6 ایڈیشنل ججز کی مستقلی، 4 ججز کی 6 ماہ توسیع کی منظوری

    پشاور ہائیکورٹ کے 6 ایڈیشنل ججز کی مستقلی، 4 ججز کی 6 ماہ توسیع کی منظوری

    چیف جسٹس پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی کی زیر صدارت جوڈیشل کمیشن کے اجلاس میں پشاور ہائیکورٹ کے 6 ایڈیشنل ججز کی مستقلی، 4 ججز کی توسیع کی منظوری دی گئی-

    چیف جسٹس پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی کی زیر صدارت جوڈیشل کمیشن کا اجلاس منعقد ہوا جس میں پشاور ہائیکورٹ کے 10 ایڈیشنل ججز کی مستقلی کے معاملے پر غور کیا گیا کمیشن نے 10 میں سے 6 ایڈیشنل ججز کو مستقل کرنے کی منظوری دے دی ہے جبکہ 4 ججز کو 6 ماہ کی توسیع دی گئی ہے۔

    ذرائع کے مطابق اجلاس میں جسٹس محمد طارق آفریدی، جسٹس عبدالفیاض، جسٹس صبعت اللہ، جسٹس صلاح الدین، جسٹس صادق علی اور جسٹس مدثر امیر کی مستقلی پر غور کیا گیا اور ان میں سے 6 ججز کو مستقل کرنے کی منظوری دی گئی،پشاور ہائیکورٹ کے جسٹس محمد طارق آفریدی، جسٹس عبدالفیاض، جسٹس صلا ح الدین، جسٹس صادق علی، جسٹس مدثر امیر اور جسٹس قاضی جواد احسان اللہ کی مستقلی کی منظوری دی گئی۔

    گلشنِ معمار میں 17 سالہ لڑکی سے مبینہ زیادتی،، ملزم گرفتار

    اسی طرح جسٹس فرح جمشید، جسٹس انعام اللہ، جسٹس اورنگزیب اور جسٹس قاضی جواد احسان اللہ کے کیسز پر بھی غور ہوا، جن میں سے جسٹس فرح جمشید، جسٹس انعام اللہ اور جسٹس اورنگزیب کو 6 ماہ کی توسیع دینے کی منظوری دی گئی ہے۔

    آئی سی سی کی ٹیسٹ، ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی فارمیٹس کی نئی رینکنگ جاری

  • ایک شخص کے مفاد کے بجائے عوام کے مسائل پر توجہ دیں،اعظم نذیر تارڑ

    ایک شخص کے مفاد کے بجائے عوام کے مسائل پر توجہ دیں،اعظم نذیر تارڑ

    وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ ججزعدالت میں انصاف فراہم کرتے ہیں نہ کہ شاہی دربار میں اوران کا کام ذاتی انا کی تسکین نہیں بلکہ عوام کے حقوق کے تحفظ کو یقینی بنانا ہے۔

    اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ آئینی ترمیم کے بعد انصاف کی فراہمی کو جلد ممکن بنانے کی کوشش کی گئی ہے اور ججز کو انصاف پسند ہونا چاہیئے ججزعدالت میں انصاف فراہم کرتے ہیں نہ کہ شاہی دربار میں اوران کا کام ذاتی انا کی تسکین نہیں بلکہ عوام کے حقوق کے تحفظ کو یقینی بنانا ہے بارکی سیاست خدمت کی ہونی چاہیے اورمعصوم بچوں کو ڈھال بنا کرجلسے نہیں کیے جانے چاہئیں۔

    انہوں نے اپوزیشن پرزوردیا کہ پارلیمنٹ میں بیٹھ کرمسائل کا حل نکالیں اورایک شخص کے مفاد کے بجائے عوام کے مسائل پر توجہ دیں وزیر قانون نے خیبرپختونخوا کے صوبے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ دہشتگردی سے سب سے زیادہ متاثر ہے اور عوام کی حفاظت کے لیے سب کا تعاون ضروری ہے۔

    امریکا میں دو بھارتی ڈرائیورزمنشیات اسمگل کرنے پرگرفتار

    انہوں نے کہا کہ ایک شخص کو سزا ملی ہے تو رجوع عدالت سے کیا جائے اور کہا کہ کبھی دارلخلافہ پر چڑھائی نہیں کی گئی اعظم نذیرتارڑ نے ملک کی بہتری اورخوشحال پاکستان کے قیام کے لئے سب کو مل کرکام کرنے کی ضرورت پر زور دیا اور بتایا کہ ینگ لائرزکیلئے اسٹیٹ آف دی آرٹ ٹریننگ سینٹر قائم کیا جائے گا۔

    وفاقی وزیر قانون نے کہا کہ وفاقی آئینی عدالت سے وفاق مضبوط ہوگا اور وہ ہر اسٹیک ہولڈر کے ساتھ بیٹھ کر بات چیت کرنے کے لئے تیار ہیں تاکہ مسائل کا پرامن اور مؤثر حل نکالا جا سکے اور شفاف اور جلد انصاف کے قیام کے لیے تمام اداروں اور شہریوں کو تعاون کرنا ضروری ہے۔

    بنگلہ دیش ایئر فورس چیف کا نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی کا دورہ ،لیفٹیننٹ جنرل بابر افتخار سے ملاقات

  • چیف جسٹس کے اختیارات کیخلاف اسلام آباد ہائیکورٹ کے 5 ججز کی درخواستوں پر اعتراضات عائد

    چیف جسٹس کے اختیارات کیخلاف اسلام آباد ہائیکورٹ کے 5 ججز کی درخواستوں پر اعتراضات عائد

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے 5 ججز کی جانب سے چیف جسٹس سرفراز ڈوگر کے اختیارات کے خلاف دائر کی گئی آئینی درخواستوں پر سپریم کورٹ رجسٹرار آفس نے اعتراضات عائد کر دیے ہیں۔

    رجسٹرار آفس نے درخواستوں کو اعتراضات لگا کر واپس کردیا،اعتراضات میں کہا گیا ہے کہ درخواست گزاروں نے یہ واضح نہیں کیا کہ ان درخواستوں میں مفادِ عامہ کا کون سا اہم سوال موجود ہے، درخواست گزار ججوں نے نہ ہی یہ بتایا ہے کہ ایسے کون سے بنیادی حقوق متاثر ہوئے ہیں، جن کے تحت آئین کے آرٹیکل 184/3 کا دائرہ کار استعمال کیا جاسکتا ہے۔

    رجسٹرار آفس نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ درخواست گزاروں نے ذاتی رنجش کی بنیاد پر غیر معمولی دائرہ کار کے تحت درخواستیں دائر کیں،جبکہ سپریم کورٹ کے فیصلے ذوالفقار مہدی بنام پی آئی اے کیس میں یہ اصول طے کیا جاچکا ہے کہ ذاتی رنجش پر آرٹیکل 184/3 کے تحت درخواست دائر نہیں کی جاسکتی،رخواست گزاروں نے نہ تو آئینی درخواست دائر کرنے کی کوئی ٹھوس وجہ بیان کی اور نہ ہی نوٹسز جاری کرنے کے لیے متعلقہ فریقین کی وضاحت کی۔

    کراچی: 3 خواجہ سراؤں کے قتل کا مقدمہ گرو کی مدعیت میں درج

    ناسا نے ایک نیا جزیرہ دریافت کر لیا

    عالمی موسمیاتی اداروں نے لا نینا الرٹ جاری کر دیا،کیا پاکستان متاثر ہوگا؟

  • سپریم کورٹ کی ریٹائرڈ ججز کی سیکیورٹی سے متعلق مراسلے پر وضاحت جاری

    سپریم کورٹ کی ریٹائرڈ ججز کی سیکیورٹی سے متعلق مراسلے پر وضاحت جاری

    سپریم کورٹ نے ریٹائرڈ ججز کی سیکیورٹی سے متعلق جاری مراسلے پر وضاحتی بیان دیاہے-

    ترجمان سپریم کورٹ کے مطابق چیف جسٹس پاکستان سمیت تمام ججز کی سیکیورٹی کو ریگولیٹ کیا گیا ہے، جبکہ چیف جسٹس کے پروٹوکول میں سرکاری گاڑیوں کی تعداد 8 سے کم کرکے 2 کر دی گئی ہے،دیگر ججوں کے لیے حفاظتی نظام کو بھی مناسب انداز میں منظم کیا گیا ہے ریٹائرڈ ججز کی سیکیورٹی بھی مروجہ قوانین، سیکیورٹی پروٹوکولز اور ان کے استحقاق کے مطابق ریگولیٹ کی گئی ہے۔

    ترجمان نے واضح کیاکہ صدارتی حکم کے مطابق ریٹائرڈ ججز کو تاحیات سیکیورٹی فراہم کی جاتی ہے کیونکہ وہ ماضی میں حساس ڈیوٹی انجام دے چکے ہوتے ہیں اور انہیں مسلسل سیکیورٹی خدشات لاحق رہتے ہیں انہی خدشات کے پیش نظر سرکلر جاری کیا گیا تاکہ سیکیورٹی پروٹوکولز کو عملی شکل دی جا سکے، یہ سیکیورٹی کسی غیر معمولی فائدے، اضافی رعایت یا مراعات کا حصہ نہیں ہے، سرکلر اس لیے جاری کیا گیا تاکہ ضرورت سے زیادہ فورس تعینات نہ ہو اور سپریم کورٹ، وزارت داخلہ اور صوبائی حکام کے درمیان بہتر ہم آہنگی یقینی بنائی جا سکے۔

    سپریم کورٹ کے جج کے اسکواڈ کی گاڑی جلانے کے کیس کا فیصلہ جاری

    نیٹوممالک روس سے تیل خریدنا بند کر دیں، امریکی صدر

    سونے کی قیمت میں معمولی کمی

  • سپریم کورٹ ججز کیلئے سرکاری گاڑیوں کے  استعمال کی نئی پالیسی نافذ ، چھٹیوں کے قواعد میں بھی ترمیم

    سپریم کورٹ ججز کیلئے سرکاری گاڑیوں کے استعمال کی نئی پالیسی نافذ ، چھٹیوں کے قواعد میں بھی ترمیم

    سپریم کورٹ کے 12 اگست 2025 سے 26اکتوبر 2025 تک کے سرکلرز اور احکامات پبلک کردیئے گئے، نئی ہدایات کے تحت ججز کے لیے پروٹوکول بڑھایا گیا ہے۔

    سپریم کورٹ نے گزشتہ سال کے دوران کئی نئی پالیسیز اور ایس او پیز جاری کیے ججز کے لیے پروٹوکول بڑھایا گیا، سرکاری گاڑیوں کے کرائے اور استعمال کی نئی پالیسی نافذ کی گئی، جبکہ عمارتوں اور رہائش گاہوں کی دیکھ بھال کے لیے پرچیز اینڈ مینٹیننس کمیٹی بھی تشکیل دی گئی ہے، فیصلوں کو ویب سائٹ پر شائع کرنے کے اصول بھی بدل گئے جبکہ اقلیتی فیصلے اب اکثریتی فیصلے کے ساتھ دستیاب ہوں گے،ڈے کیئر سینٹر کے لیے عمر کی حد اور یونیورسٹی وفود کے لیے ڈریس کوڈ کے قواعد بھی طے کیے گئے ہیں۔

    پنجاب بھر میں شدید طوفانی بارشوں کا امکان، دفعہ 144 پر سختی سے عملدرآمد کرانے کی ہدایت

    ہر جج کو دو سرکاری گاڑیاں، ڈرائیور، سیکیورٹی گاڑی اور تربیت یافتہ گن مین فراہم کیے جائیں گے، ریٹائرڈ ججز کے لیے بھی گاڑیوں اور ہوائی اڈے پر پک اپ ڈراپ کی سہولت برقرار ہے،ججز کی بیرون ملک چھٹیوں کے قواعد میں ترمیم کی گئی، نجی غیر ملکی دورے صرف موسم گرما اور سرما کی تعطیلات میں ہوں گے،چیف جسٹس چھٹیاں محدود یا منسوخ کر سکتے ہیں، یہ اقدامات سپریم کورٹ کے انتظامی نظام کو مزید مؤثر اور شفاف بنانے کے لیے کیے گئے ہیں۔

    مظفرگڑھ : ساڑھے 3 سال کی بچی سےزیادتی، ملزم گرفتار

  • لاہور: ماتحت عدلیہ میں 33 نئے سول ججز کی تعیناتی کی منظوری

    لاہور: ماتحت عدلیہ میں 33 نئے سول ججز کی تعیناتی کی منظوری

    لاہور ہائیکورٹ نے ماتحت عدلیہ میں 33 نئے سول ججز کی تعیناتی کی منظوری دے دی.

    باغی ٹی وی: رپورٹ کے مطابق چیف جسٹس مس عالیہ نیلم کی منظوری کے بعد ایڈیشنل رجسٹرار امتحانات نے پریس ریلیز جاری کر دی،پریس ریلیز کے مطابق مہوش انجم، تنزیلہ تبسم، اسد حیات، اقصیٰ اقبال، محمد نبیل لطیف، سلیم اللہ ملک، عروج رحمان، اقرا بشار ت، ماریہ صابر، زہرا جیمل، وسیم شہزاد کو سول جج مقرر کردیا گیا۔

    ان کے علاوہ اقصیٰ بشیر، سائرہ شہزادی، محمد عثمان، سحر اتیاب، محمد احمد، محمد نعیم الیاس، شعیب سکندر، خولہ شاہد، زاہدہ پروین، شبنم سلیم، خدیجہ سجاد، ناصر حبیب، احمد خالد، زکا الحسن، سلمان احمد، محمد عمر جمیل بھی سول جج مقرر کردیئے گئے،افیفا ممتاز، عبد الماجد شہاب، مصدق اصغر، زاہد بشیر، ماہ نور الیاس اور مہرین فاطمہ کو بھی سول جج مقرر کر دیا گیا۔

    حیفا میں چاقو برادر شخص کے حملے میں ایک اسرائیلی ہلاک ،4 زخمی

    یوٹیوبر رنویر الہ آبادیہ کو بھارتی سپریم کورٹ سے بڑا ریلیف مل گیا

    چیمپئنز ٹرافی: سیمی فائنلز کے میچ آفیشلز کا اعلان