Baaghi TV

Tag: جج

  • ایک تیسرے جج کا استعفی بھی آنے والا ہے،سوشل میڈیا پر دعویٰ

    ایک تیسرے جج کا استعفی بھی آنے والا ہے،سوشل میڈیا پر دعویٰ

    اسلام آباد: جسٹس مظاہر نقوی کے فوراً بعد جسٹس اعجاز الاحسن کا استعفی سامنے آنے کے بعد کئی صحافیوں کا دعویٰ ہے کہ ان دو جج صاحبان کے بعد ایک تیسرے جج کا استعفی بھی آنے والا ہے ۔

    باغی ٹی وی : نجی خبررساں ادارے کے مطابق جسٹس اعجاز الاحسن، جسٹس مظاہر نقوی اور جسٹس منیب اختر کو بعض حلقے ہم خیال جج قرار دیتے ہیں جو سابقہ چیف جسٹس عمر عطا بندیال کے قریب رہے ہیں جسٹس اعجاز الاحسن کے استعفے کے فوراً بعد اسلام آباد کے کئی رپورٹرز اور سوشل میڈیا صارفین نے کہا کہ ایک اور استعفیٰ آنے والا ہے اور وہ جسٹس منیب اختر ہوں گے۔
    https://x.com/ZahidGishkori/status/1745449171807830336?s=20
    https://x.com/sami_ravian/status/1745452259583078525?s=20
    https://x.com/raheemgz/status/1745473313621918193?s=20
    https://x.com/AdnanAwan18/status/1745492464373522847?s=20
    https://x.com/UmerOrakzai1/status/1745451185786728644?s=20
    https://x.com/hassanchohdary5/status/1745449698973122574?s=20
    https://x.com/ImSharar/status/1745451616382468588?s=20
    https://x.com/_NaveedAlam/status/1745450978961420307?s=20

    3 بار والا وزیراعظم اپنا اور خاندان کا احتساب کروا سکتا ہے تو یہ جج …

    واضح رہے کہ سپریم کورٹ کے جسٹس اعجاز الاحسن نے بھی استعفیٰ دے دیا ہےجسٹس اعجاز الاحسن نے اپنا استعفیٰ صدر مملکت کو ارسال کیا ہے، جسٹس اعجاز الاحسن نے اکتوبر میں چیف جسٹس آف پاکستان بننا تھا، جسٹس اعجازالاحسن نے آج سپریم جوڈیشل کونسل کے اجلاس میں بھی شرکت نہیں کی تھی،جسٹس اعجاز الا حسن کا استعفیٰ ایوان صدر کو موصول ہو گیا،جسٹس اعجاز الا حسن کا استعفیٰ کل صدر مملکت کو پیش کیا جائے گا ، صدر مملکت آرٹیکل 179 کے تحت جج کا استعفیٰ منظور یا مسترد کرسکتے ہیں-

    جسٹس اعجاز الاحسن نے بھی استعفیٰ دے دیا

    قبل ازیں مظاہر علی اکبر نقوی نے استعفی دیا تھا ,صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے سپریم کورٹ کے جج جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی کا استعفیٰ منظور کر لیا, مظاہر نقوی پر الزام ہے کہ انہوں نے بطور سپریم کورٹ جج اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے اپنی آمدن سے زیادہ مہنگی لاہور میں جائیدادیں خریدی ہیں سپریم جوڈیشل کونسل میں انکے خلاف ریفرنس زیر سماعت ہے، آج بھی سپریم جوڈیشل کونسل نے مظاہر علی اکبر نقوی کو نوٹس جاری کئے ہیں.

    میاں داود ایڈوکیٹ نے بھی سپریم کورٹ میں آئینی درخواست دائر کی تھی،درخواست میں استدعا کی گئی کہ جسٹس اعجاز الاحسن کی جگہ دوسرے سینئر جج کو سپریم جوڈیشل کونسل کا حصہ بنایا جائے،درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ جسٹس اعجاز الاحسن کو جسٹس مظاہر نقوی کیخلاف شکایت سننے والی کونسل سے الگ ہونا چاہیے-

    سپریم جوڈیشل کونسل کا سابق جج مظاہر نقوی کے خلاف کاروائی جاری رکھنے کا فیصلہ

  • ڈونلڈ ٹرمپ کے سول فراڈ کیس کی سماعت کرنے والے جج کو بم حملے کی دھمکی

    ڈونلڈ ٹرمپ کے سول فراڈ کیس کی سماعت کرنے والے جج کو بم حملے کی دھمکی

    نیویارک: سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سول فراڈ کیس کی سماعت کرنے والے جج کو بم حملے کی دھمکی موصول ہوئی ہے۔

    باغی ٹی وی : امریکی میڈیا کے مطابق جمعرات کو ڈونلڈ ٹرمپ کے سول فراڈ کیس کی سماعت کرنے والے جج آرتھر اینگورون کو گھر پر بم حملے دھمکی ملی جس پر نیویارک کی ناساؤ کاؤنٹی پولیس نے کارروائی بھی شروع کردی جج کےگھر پر بم حملے کی دھمکی ڈونلڈ ٹرمپ کے سول فراڈ مقدمے کے اختتامی دلائل شروع ہونے سے کچھ گھنٹے پہلے ملی۔

    عدالتی ترجمان کا کہنا ہے کہ جج کے خلاف دھمکی کے بعد سکیورٹی بڑھا دی گئی، ٹرمپ کے خلاف مقدمے کی سماعت شیڈول کے مطابق ہی جاری رہے گی یہ واضح نہیں ہوسکا کہ بم حملے کی دھمکی کے وقت جج اپنے گھر پر موجود تھے یا نہیں۔

    واضح رہے کہ ٹرمپ کے خلاف سول فراڈ کا مقدمہ دائر ہے،ان پر کاروباری اثاثوں کی زائد مالیت بتا کر بینکوں اور بیمہ کنندگان کو دھوکا دینے کا بھی الزام ہے نیویارک اٹارنی جنرل نے عدالت سے ٹرمپ پر کم از کم 250 ملین ڈالر جرمانہ کرنے اور ان کے بیٹوں کے نیویارک میں کاروبار پر مستقل پابندی لگانے کی درخواست کی ہے جبکہ جسٹس آرتھر اینگورون پہلے ہی فیصلہ دے چکے ہیں کہ ٹرمپ اور ان کی کمپنی فراڈ میں ملوث ہے۔

    مہینوں تک جاری رہنے والے مقدمے کے دوران سیکیورٹی ایک مسئلہ رہا ہے۔ اینگورون کے اعلیٰ عملے کو دھمکیوں کا سامنا کرنا پڑا جب ٹرمپ نے اسے سیاسی طور پر متعصب قرار دے کر تنقید کا نشانہ بنایا، جس نے جج کو عدالتی عملے کی تذلیل کرنے سے روکنے کے لیے ایک گیگ آرڈر جاری کرنے کا اشارہ کیا۔ ٹرمپ کو دو بار حکم کی خلاف ورزی کرنے پر 15,000 ڈالر جرمانہ کیا گیا ہے۔

  • اپنے کیس کی جلد سماعت کیلئے  سابق جج شوکت عزیز صدیقی پھر پہنچے سپریم کورٹ

    اپنے کیس کی جلد سماعت کیلئے سابق جج شوکت عزیز صدیقی پھر پہنچے سپریم کورٹ

    سابق جج شوکت عزیز صدیقی نے اپنے کیس کی جلد سماعت کیلئے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کردی

    شوکت عزیز صدیقی نے سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں موقف اپنایا کہ اکتوبر2018 سے میرا مقدمہ زیرالتوا ہے، میرے کیس کی آخری سماعت 12جون 2022 کو ہوئی تھی، اس کیس سے میرے بنیادی انسانی حقوق جڑے ہوئے ہیں رواں عدالتی ہفتے میں میرا کیس سماعت کیلئے مقرر کیا جائے اور بطور جج اسلام آباد ہائی کورٹ برطرفی کا نوٹیفیکیشن کالعدم قرار دیا جائے

    اسلام آباد سے عدالتی کاروائی کو کور کرنے والے صحافی ثاقب بشیر جج شوکت عزیز صدیقی کی درخواست پر کہتے ہیں کہ ہائیکورٹ کے حاضر جج جسٹس شوکت عزیز صدیقی کو عہدے سے ہٹانے میں تو سپریم جوڈیشنل کونسل نے دس بارہ دن لگائے تھے اب سپریم کورٹ ان کے کیس کا فیصلہ 2018 سے اب تک 6 سال میں بھی نہیں کر سکی دو ہفتے پہلے سپریم کورٹ میں جلد سماعت کی درخواست جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے دی وہ نظر انداز ہو گئی اب آج پھر جلد سماعت کی درخواست سپریم کورٹ میں دائر کی گئی اب انتظار کریں کب چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی نظر کرم پڑتی ہے یقینا ان کو زیادہ انداز ہو گا کہ ایسی صورت حال میں متاثرہ جج کو کن حالات کا سامنا رہتا ہے

    تین سال بیت گئے،ریٹائرمنٹ کی تاریخ گزرچکی اب تو کیس سن لیں،

    سوچ بھی نہیں سکتا کہ بنچ کا کوئی رکن جانبدار ہے،سابق جج شوکت عزیز صدیقی

    جسٹس شوکت صدیقی ملکی تاریخ کے دوسرے جج ہیں جن کے خلاف آئین کے آرٹیکل 209 کے تحت کارروائی کی گئی ہے  اس سے قبل 1973 میں لاہور ہائی کورٹ کے جج جسٹس شوکت علی کو بدعنوانی کے الزامات ثابت ہونے پر عہدے سے ہٹایا گیا تھا۔

    اکتوبر 2018 میں سپریم جوڈیشل کونسل کی سفارش پر صدر مملکت کی منظوری کے بعد وزارت قانون نے متنازع خطاب پر اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس شوکت عزیز صدیقی کو عہدے سے ہٹانے کا نوٹیفکیشن جاری کیا تھا۔

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے سینیئر جج جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے 21 جولائی 2018 کو راولپنڈی بار میں خطاب کے دوران حساس اداروں پر عدالتی کام میں مداخلت کا الزام عائد کیا تھا

  • لاہورہائیکورٹ کے جج کا   اپنے بیٹے کے لیے خلافِ قانون پروٹوکول کے مطالبہ

    لاہورہائیکورٹ کے جج کا اپنے بیٹے کے لیے خلافِ قانون پروٹوکول کے مطالبہ

    لاہورہائیکورٹ کے جج کی طرف سے اپنے بیٹے کے لیے خلافِ قانون پروٹوکول کے مطالبہ کیا گیا ہے-

    باغی ٹی وی: نجی خبررساں ادارے جیو کے مطابق پروٹوکول دینے کی درخواست لاہور ہائیکورٹ کے جج جسٹس علی باقر نجفی کی جانب سے کی گئی ہے، جن کا بیٹا پاکستان سے باہر جا رہا ہے،قواعد و ضوابط کے مطابق کسی کو اس طرح ترجیحی پروٹوکول نہیں دیا جا سکتا لیکن وزارت خارجہ سے کہا گیا ہے کہ وہ اس ضمن میں ضروری اقدامات کرے،جج کا بیٹا سید محمد علی ایک ڈاکٹر ہے اور امریکا جا رہا ہے-

    لاہور ہائیکورٹ کے جج کی جانب سے یہ خواہش ظاہر کی گئی ہے ک پاکستان سے جانے اور واپس آنے پر محمد علی کو ابو ظبی میں امیگریشن کے دوران اور پھر نیویارک ائیر پورٹ پر پروٹوکول دیا جائے جہاں سفارت خانے کا عملہ محمد علی کو ان کی منزل تک پہنچائے،اس ضمن میں لاہور ہائیکورٹ راولپنڈی بینچ کے سینیئر ایڈیشنل رجسٹرار محمد ارم ایاز کی جانب سے وفاقی حکومت کو خط بھیجا گیا ہے جس میں لکھا ہے کہ جسٹس باقر نجفی چاہتے ہیں کہ ان کے بیٹے سید محمد علی کو ابو ظبی ائیر پورٹ اور اس کے بعد نیویارک کے جے ایف کے ائیرپورٹ پر پروٹوکول فراہم کیا جائے۔

    گٹکا ماوا کھانے اور دیگر منشیات استعمال کرنے والےاہلکاروں کیخلاف محکمانہ کارروائیوں کا فیصلہ

    وزارت کے ساتھ جج کے بیٹے کا شیڈول بھی شیئر کیا گیا ہےسیکرٹری خارجہ، یو اے ای میں پاکستانی سفیر اور نیویارک میں قونصل جنرل کو بھی خط کی کاپی بھیجی گئی ہےلاہور ہائی کورٹ کے اسٹاف ممبر کا فون نمبر بھی خط میں بتایا گیا ہے-

    وزارت خارجہ کے پروٹوکول ڈویژن کی جانب سے ہائی کورٹس کو بھیجے گئے خط میں کہا گیا تھا کہ بیرون ملک پاکستانی مشن ہائی کورٹس اور سپریم کورٹ کے معزز ججوں کو ان کے بیرون ممالک سرکاری دوروں پر تمام مناسب سہولتیں فراہم کریں گے۔

    واضح رہے کہ قوانین کے مطابق وزارت خارجہ ججوں کو صرف اس وقت سہولت فراہم کر سکتا ہے جب وہ بیرون ملک سرکاری دورے پر ہوں جب وہ نجی دوروں پر ہوتے ہیں تو انہیں پروٹوکول کی قانوناً شق موجود نہیں، اپنے اہل خانہ کو یہ سہولت ملنا تو دور کی بات ہےاس حوالے سے قواعد 2014 میں بنائے گئے قوانین کی منظوری وفاقی کابینہ نے دی تھی۔

    کسی دوسرے لیڈر یا جماعت کے پاس ملکی ترقی …

  • خاتون جج دھمکی کیس کی سماعت ملتوی

    خاتون جج دھمکی کیس کی سماعت ملتوی

    ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس اسلام آباد نے چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کے خلاف خاتون جج دھمکی کیس بغیرکارروائی ملتوی کردیا

    کیس کی سماعت کرنے والے سول جج مرید عباس آج چھٹی پر تھے، جج کی چھٹی کی وجہ سے کیس پر سماعت بغیر کسی کاروائی کے ملتوی کر دی گئی ہے،چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کے وکیل خالدیوسف ڈیوٹی جج کی عدالت پیش ہوئے،ڈیوٹی جج راؤ اعجاز نے کیس کی سماعت 16 اکتوبر تک ملتوی کردی

    خاتون جج کو دھمکی دینے پر چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کیخلاف تھانہ مارگلہ میں مقدمہ درج کیاگیاتھا، کیس میں عمران خنا ضمانت پر ہیں، عمران خان نے دھمکی کے بعد خاتون جج کی عدالت میں حاضری دی تھی،خاتون جج عدالت موجود نہیں تھیں تاہم عمران خان نے عملے سے کہا تھا کہ وہ معافی مانگنے آئے ہیں،

    عدالت پیشی کے موقع پر بھی عمراں خان نے عدالت سے اس کیس میں معافی مانگی تھی،چیرمین پی ٹی آئی عمران خان روسٹرم پر آ گئے اور کہا کہ 27 سال میں نے قانون کی بالادستی کی جنگ لڑی ہےمیں نے جوش خطابت میں ایک مظاہرے میں یہ الفاظ کہیں تھے ،میں نے اپنے الفاظ پر معافی مانگنے کے لیے جج زیبا چوہدری کی عدالت بھی گیا، آج تک میں نے کوئی قانون نہیں تھوڑا، عمران خان نے خاتون جج دھمکی کیس میں عدالت میں کھڑے ہوکر معافی مانگ لی ،کہا کہ اگر میں نے لائن کراس کی ہے تو معذرت چاہتا ہوں،

    فوج اور قوم کے درمیان خلیج پیدا کرنا ملک دشمن قوتوں کا ایجنڈا ہے،پرویز الہیٰ

    شوکت ترین ، تیمور جھگڑا ،محسن لغاری کی پاکستان کے خلاف سازش بے نقاب،آڈیو سامنے آ گئی

    عمران خان معافی مانگنے جج زیبا چودھری کی عدالت پہنچ گئے

    خیال رہے کہ پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان نے پارٹی جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے خاتون جج اور انتظامی افسروں کو دھمکی دی تھی اسلام آباد ہائیکورٹ نے از خود نوٹس لیا تھا اور توہین عدالت کا کیس چلا تھا تاہم گزشتہ سماعت پر عدالت نے توہین عدالت ختم کر دی تھی،عمران خان کے اس کیس میں وارنٹ بھی جاری ہوئے تھے، تا ہم بعد میں منسوخ کر دیئے گئے تھے، عمران خان اس کیس میں ضمانت پر ہیں

  • پی ایم ڈی سی کا کردار غیر پیشہ ورانہ ہے،پشاور ہائیکورٹ

    پی ایم ڈی سی کا کردار غیر پیشہ ورانہ ہے،پشاور ہائیکورٹ

    میڈیکل کالجز میں داخلے کیلئے ٹیسٹ سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی،

    جسٹس عبدلشکور اور جسٹس ارشد علی نے سماعت کی ،ایڈووکیٹ جنرل اور پی ایم ڈی سی وکیل عدالت میں پیش ہوئے،ایڈووکیٹ جنرل نے کہا کہ 6 ہفتوں میں ٹیسٹ دوبارہ ہوگا، سرکاری وکیل نے کہا کہ پی ایم ڈی سے 6 ہفتوں میں ٹیسٹ کیلئے تاریخ دیگا، پی ایم ڈی سی وکیل نے کہا کہ کونسل کی اپرول سے سال میں صرف ایک بار ٹیسٹ ہوگا،جسٹس ارشد علی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا پی ایم ڈی سی نے خود سے انکوائری نہیں کی، پی ایم ڈی سی اگر ذمہ دار ہے تو اتنے بڑے واقعہ پر نوٹس کیوں نہیں لیا، پی ایم ڈی سی کا کردار غیر پیشہ ورانہ ہے، آج بھی پی ایم ڈی سی کا کوئی بندہ پیش نہیں ہوا، اب آگے دیکھتے ہیں پی ایم ڈی سی کتنا سنجیدہ ہے،

    وکیل نے کہا کہ ایم ڈی کیٹ ٹاپر نے کوہاٹ بورڈ بھی ٹاپ کیا، پہلے کبھی نقل پکڑنے سے پورا امتحان کینسل نہیں ہوا، ذہین طلباء نے رات بھر پڑھ پڑھ کر ٹیسٹ پاس کیا، ٹیسٹ کینسل کرنا ان ذہین طلبہ کے ساتھ نا انصافی ہوگی، جسٹس ارشد علی نے کہا کہ ری کنڈکٹ سے ذہین طلبہ پھر نمبر لے لینگے، جسٹس ارشد علی نے کہا کہ دو دن قبل پیپر آوٹ ہوا تھا، ایم ڈی کیٹ ری کنڈکٹ ہونا چاہیئے،عدالت نے تمام وکلاء کے دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کرلیا

    پی ایم ڈی سی کے میڈیکل کالجز میں داخلہ کے قواعد و ضوابط پر عدالت کا اہم حکم

    کرونا وائرس لاہور میں پھیلنے کا خدشہ، انتظامیہ نے بڑا قدم اٹھا لیا

    کرونا ویکسین کی تیاری کے لئے امریکہ مسلمان سائنسدانوں کا محتاج

  • سائفرکیس، پی ٹی آئی وکیل کی استدعا پر سماعت ملتوی

    سائفرکیس، پی ٹی آئی وکیل کی استدعا پر سماعت ملتوی

    سائفر کیس ،چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان اور شاہ محمود قریشی کی درخواست ضمانت پر سماعت کا معاملہ ،پی ٹی آئی وکلا جج راجہ جواد عباس کی عدالت میں پہنچ گئے

    وکیل سلمان صفدر اور بابر اعوان جج راجہ جواد عباس کی عدالت کے روبرو پیش ہوئے، عدالت نے کہا کہ انسداد دہشتگری عدالت کو بطور ڈیوٹی جج میں سن سکتا ہوں،جج نے کہا کہ آفیشل سیکریٹ ایکٹ کا کیس سنے کا مجھے اختیار نہیں ہے،ہائیکورٹ کوئی ڈائریکشن دے گی تو میں پھر سن لوں گا،24 عدالتوں کی حد تک میں ایڈمن جج ہوں،

    راجہ جواد عباسی کی جانب سے ججز کا ڈیوٹی طریقے کار پڑھ کر سنایا گیا ،جج نے کہا کہ 24 عدالتوں میں آفیشل سیکریٹ ایکٹ عدالت موجود نہیں ہے، ہائیکورٹ کسی بھی جج کو کیس سنے سے مارک کر سکتی ہے،ہائیکورٹ میں درخواست دیں اور اگر وہ اجازت دیں تو میں سن لیتا ہوں،پی ٹی آئی وکلاء نے کہا کہ ہمیں کوئی راستہ دکھائیں کہ ہم کیا کریں ؟ جج نے کہا کہ دو طریقے ہیں یا تو آپ رجسٹرار ہائی کورٹ سے رجوع کریں اور یا 9 ستمبر تک انتظار کرلیں، وکیل بابر اعوان نے کہا کہ ہم ایک درخواست دیتے ہیں آپ جو بھی آرڈر کریں گے، ہمیں منظور ہے، جج نے کہا کہ آپ اگر ضمانت کی درخواست دائر کرنا چاہتے ہیں تو بے شک کریں، بابر اعوان نے کہا کہ ہم مشاورت کرنے پر عدالت کے سامنے درخواست دائر کریں گے،

    پراسیکوشن ٹیم نے سائفر کیس سننے کی مخالفت کی،جج نے رضوان عباسی سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ بڑے سینئر وکیل ہیں مگر آپ کو designated اور appointed کا فرق نہیں، پراسیکوشن ٹیم نے کہا کہ یہ آپ سے کس capacity میں خصوصی عدالت کے کیسسز سننا چاہتے ہیں ؟ جج نے کہا کہ میں ایڈمنسٹریٹو جج ہوں اسی وجہ سے یہ ہم سے کیا سننا چاہتے ہیں،پی ٹی آئی وکلاء نے کہا کہ آپ کیس سن لیں تاکہ ہمارے پاس کوئی آرڈر آجائے،

    پی ٹی آئی وکیل شیر افضل مروت نے خصوصی عدالت کے جج کی تعیناتی پر پھر سے اعتراض کر دیا، جج نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپکی بات میں نے سن لی کہ آپکی درخواست کو تو کسی نے سننی ہے،وکیل سلمان صفدرنے کہا کہ اس کیس پر گزشتہ سماعت پونے تین گھنٹوں کی سماعت کے بعد ملتوی کردی گئی، بتایا گیا کہ میرے کلیگ شیر افضل مروت نے ہائی کورٹ میں ایک درخواست دائر کی ہے، اس دن بھی درخواست ضمانت نہیں سنی گئی اور آج بھی نہیں سنی گئی،اگر جج صاحب نے کل آنا ہوتا تو ہم یہاں بھی نہ آتے مگر لمبی چھٹی ہے، سب سے بڑا اعتراض تو یہ ہے کہ آپ کوئی کیس سن ہی نہیں سکتے، سپیشل پراسیکوٹر نے کہا کہ اس دن بھی جج صاحب نے اپنی مجبوریوں کا زکر کیا تھا کہ میں نہیں آرہا تھا مگر آ گیا، اگر جج صاحب کی ذاتی مجبوریوں پر بھی اعتراض ہے تو یہ غلط ہے، انہوں نے اب بغیر کسی وجہ کی ہر چیز کو اپنا ایک رنگ دینا ہوگا ہے، کیا ہم نے اسی طرح انصاف کے سسٹم کو چلانا ہے ؟ جج نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جو نوٹیفکیشن یہاں ہیں ایک اپریل کا ہے اور دوسرا جون کا ہے، یہ کورٹ آفیشل سیکریٹ ایکٹ کیسسز کو کیسے سن سکتی ہے ؟آفیشل سیکریٹ ایکٹ کے کیسسز ڈیوٹی جج سن سکتے ہیں یا نہیں، دلائل طلب کر لئے گئے، کیس میں 12 بجے تک کا وقفہ کر دیا گیا

    سائفرکیس، پی ٹی آئی وکیل کی استدعا پر سماعت ملتوی
    آفیشل سیکرٹ ایکٹ عدالت اسلام آباد ،پی ٹی آئی وکلاء جج ابوالحسنات ذوالقرنین کی عدالت پیش ہوئے، وکیل سلمان صفدر نے عدالتی عملے سے درخواست کی کہ سائفرکیس کی سماعت جمعرات کو رکھ لیں،سائفرکیس کی سماعت 7 ستمبر تک ملتوی کردی گئی

    قبل ازیں آفیشل سیکرٹ ایکٹ عدالت کے جج ابو الحسنات ذوالقرنین کے رخصت پر ہونے کے باعث ضمانت کا معاملہ ایک بار پھر لٹک گیا ،جج ابوالحسنات ذوالقرنین اپنی اہلیہ کی طبعیت کی سازی کے باعث ایک ہفتے کی رخصت پر ہیں،عدالتی عملہ کے مطابق جج ابو الحسنات ذوالقرنین 8 ستمبر تک رخصت پر ہیں،جج ابوالحسنات ذوالقرنین 9 ستمبر کو ڈیوٹی پر ہوں گے،

    پی ٹی آئی لیگل ٹیم کا کہنا ہے کہ چیئرمین پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی کے وکلا ڈیوٹی جج کے روبرو پیش ہوں گے، ڈیوٹی جج راجہ جواد عباس حسن ملزمان کی درخواست ضمانت پر سماعت کریں گے

    گزشتہ سماعت اٹک جیل میں ہوئی تھی تو عمران خان کی لیگل ٹیم نے درخواست ضمانت دائر کی تھی،لیگل ٹیم نے تین درخواستیں دائر کیں ،چیئرمین پی ٹی آئی کی درخواست ضمانت دائر کی گئی،وزارت قانون کا جیل ٹرائل کا نوٹیفکیشن غیر قانونی قرار دیکر کالعدم قرار دینے کی درخواست دائر کی گئی،چیئرمین پی ٹی آئی کا اوپن کورٹ میں ٹرائل کرنےکی درخواست بھی دائر کی گئی

    آپ یہ کہہ رہے ہیں کہ روزانہ کی بنیاد پر جج جو کیس سن رہے ہیں وہ جانبداری ہے ؟

    آج پاکستان کی تاریخ کا اہم ترین دن ہے،

    عمران خان کی گرفتاری کو اعلیٰ عدالت میں چیلنج کرنے کا اعلان 

    عمران خان کی گرفتاری کیسے ہوئی؟ 

    چئیرمین پی ٹی آئی کا صادق اور امین ہونے کا سرٹیفیکیٹ جعلی ثابت ہوگیا

    پیپلز پارٹی کسی کی گرفتاری پر جشن نہیں مناتی

     عمران خان کی سزا معطلی کی درخواست پر سماعت ہوئی

    واضح رہے کہ عمران خان کی توشہ خانہ کیس میں سزا اسلام آباد ہائیکورٹ نے معطل کر دی ہے جس کے بعد عمران خان کو سائفر کیس میں اٹک جیل میں رکھا گیا ہے، عمران خان چودہ روزہ جوڈیشیل ریمانڈ پر ہیں، گزشتہ روزعمران خان نے بیٹوں سے بات کے لئے عدالت میں درخواست دائر کی، عمران خان نے اپنے وکیل عمیر اور شیراز احمد کی وساطت سے درخواست دائر کی جس میں کہا گیا کہ وہ اپنے بیٹوں قاسم خان اور سلیمان خان سے ٹیلی فون یا وٹس ایپ پر بات کرنا چاہتے ہیں ،

    جج خصوصی عدالت ابوالحسنات ذوالقرنین نے چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی درخواست منظور کرتے ہوئے سپرنٹنڈنٹ اٹک جیل کو بیٹوں سے والد کی ورچوئل ملاقات کرانے کی ہدایت کردی

    سلمان رشدی کا وکیل، عمران خان کا وکیل بن گیا

    وادی طائف کی مسجد جو حضور اقدس نے خود بنائی، مسجد کے ساتھ کن اصحاب کی قبریں ہیں ؟

    امریکی سائفر کے بیانیہ پر سیاست کرنے والا خود امریکیوں سے رحم کی بھیک مانگنے پر مجبور،

  • سائفر کیس،اٹک جیل میں سماعت ،عمران کے ریمانڈ میں توسیع

    سائفر کیس،اٹک جیل میں سماعت ،عمران کے ریمانڈ میں توسیع

    چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کے خلاف سائفر کیس کی سماعت ،جج ابوالحسنات ذوالقرنین اٹک جیل پہنچ گئے

    سائفر کیس کی سماعت سیکرٹ ایکٹ کے تحت قائم کی گئی خصوصی عدالت کے جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے کی،ایف آئی اے پراسیکیوٹر ذوالفقار نقوی اور چیئرمین پی ٹی آئی کے وکیل سلمان صفدر اٹک جیل میں موجود تھے، عمران خان کے وکیل سلمان صفدر نے چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی درخواستِ ضمانت بعد ازگر فتاری دائر کر دی ،ان کیمرہ سماعت کے باعث میڈیا نمائندوں کو اندر جانے کی اجازت نہیں دی گئی، عمران خان کو عدالت کے سامنے پیش کیا گیا، جج ابوالحسنات ذولقرنین نے عمران خان کے جوڈیشل ریمانڈ میں مزید 14 دن کی توسیع کر دی،چیئرمین پی ٹی آئی کے جوڈیشل ریمانڈ میں 13 ستمبر تک توسیع کر دی گئی،

    پی ٹی آئی وکیل شیرافضل مروت نے جج ابوالحسنات ذوالقرنین سےکمرہ عدالت میں مکالمہ کیا اور کہا کہ کیا آپ کوعدالت اٹک جیل میں لگانےکا این او سی ملا تھا؟جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے کہا کہ مجھے اٹک جیل میں سائفرکیس کی سماعت کرنےکا این او سی ملا تھا، وکیل نے کہا کہ کیا آپ سے حکومت نے اٹک جیل سماعت منتقلی پر رائے لی تھی؟ جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے کہا کہ مجھ سے حکومت نے سماعت اٹک جیل منتقلی پر رائے نہیں لی، پی ٹی آئی وکیل شیرافضل مروت نے کہا کہ پھر آپ نے کیسے اٹک جیل منتقل کرکے سائفرکیس کی سماعت کرلی،

    چیئرمین پی ٹی آئی کی لیگل ٹیم نے تین درخواستیں دائر کیں ،چیئرمین پی ٹی آئی کی درخواست ضمانت دائر کی گئی،وزارت قانون کا جیل ٹرائل کا نوٹیفکیشن غیر قانونی قرار دیکر کالعدم قرار دینے کی درخواست دائر کی گئی،چیئرمین پی ٹی آئی کا اوپن کورٹ میں ٹرائل کرنےکی درخواست بھی دائر کی گئی

    چیئرمین پی ٹی آئی کی درخواست ضمانت بعد از گرفتاری پر نوٹس جاری کر دیا گیا، عدالت نے فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 2 ستمبر کو جواب طلب کر لیا ،جج ابو الحسنات ذوالقرنین نے فریقین سے ضمانت بعد از گرفتاری کی درخواست پر 2 ستمبر کو دلائل طلب کر لیے

    اٹک جیل میں لگائی گئی عدالت میں سائفر کیس کی سماعت مکمل ہوگئی، عمران خان کے وکلاء کچھ دیر بعد آکر سماعت سے متعلق مکمل تفصیلات سے آگاہ کریں گے، جج بھی سماعت کے بعد واپس روانہ ہو گئے ہیں،دوسری جانب وکیل لطیف کھوسہ عمران خان سے ملنے اٹک جیل پہنچ گئے

    وزارت قانون نے سائفر کیس کی سماعت اٹک جیل میں کرنے کی اجازت دی تھی ،سائفر کیس کی اٹک جیل میں سماعت کا فیصلہ سکیورٹی خدشات کے پیش نظر کیا گیا تھا

    قبل ازیں پولیس نے چیئرمین پی ٹی آئی کی لیگل ٹیم کو جیل جانے سے روک دیا ،پولیس کا کہنا ہے کہ صرف ایک وکیل کو جیل کے اندر جانے کی اجازت ہے،چیئرمین پی ٹی آئی کی لیگل ٹیم کے تمام ممبران کا جیل کے اندر جانے پر اسرار ہے،عمران خان کی لیگل ٹیم میں بیرسٹر گوہر، بیرسٹر عمیر نیازی، خالد یوسف چوہدری، پنجوتھہ برادران شامل ہیں۔ چیئرمین پی ٹی آئی کی لیگل ٹیم کی جانب سے ضمانت کی داخواست تیار کر لی گئی ،بیرسٹر سلمان صفدر کا کہنا ہے کہ چیئرمین پی ٹی آئی کے خلاف آفیشل سیکرٹ ایکٹ کا مقدمہ بنتا ہی نہیں،یہ سٹیج ضمانت کی بنتی ہے اس لیے آج ضمانت کی درخواست دائر کریں گے ،ٹرائل شروع نہیں ہوا ثبوت ٹرائل کے دوران دیئے جاتے ہیں چیئرمین پی ٹی آئی کے خلاف سیاسی مقدمات بنائے جا رہے ہیں،

    واضح رہے کہ توشہ خانہ کیس میں گزشتہ روز اسلام آباد ہائیکورٹ نے عمران خان کی سزا معطل کی تھی، جس کے بعد عمران خان جنکو سائفر کیس میں گرفتار کیا گیا تھا وہ جوڈیشیل ریمانڈ پر تھے، آج انکا ریمانڈ ختم ہو رہا ہے، آج انکو عدالت پیش کیا جانا تھا تا ہم اب کیس کی سماعت اٹک جیل میں ہی ہو گی،

    سائفر کیس میں عمران خان کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے اور تحقیقاتی ٹیم عمران خان سے اٹک جیل میں تحقیقات بھی کر چکی ہے، ، تحقیقاتی ٹیم ایک گھنٹے تک اٹک جیل میں عمران خان کے پاس رہی، عمران خان نے اعتراف کر لیا ہے کہ سائفر مجھ سے گم ہو گیا ہے،ایف آئی اے کی تین رکنی ٹیم ڈپٹی ڈائریکٹر ایاز خان کی سربراہی میں چیئرمین پی ٹی آئی سے پوچھ گچھ کے لیے اٹک جیل گئی تھی،، چیئرمین پی ٹی آئی اوروائس چئیرمین شاہ محمود قریشی کے خلاف سائفر کیس میں ایف آئی آر درج ہوچکی ہے ،ایف آئی آر میں عمران خان اور شاہ محمود قریشی کے خلاف آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی دفعہ 5 اور 9 لگائی گئی ہے اس کے علاوہ دونوں کےخلاف پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 34 بھی لگی ہوئی ہے،

    واضح رہے کہ چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی توشہ خانہ کیس میں سزا کیخلاف اپیل پر عدالت نے محفوظ فیصلہ سنا دیا، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق جسٹس طارق محمود جہانگیری پر مشتمل ڈویژن بینچ نے فیصلہ سنایا، عدالت نے عمران خان کی سزا معطل کر دی، اسلام آباد ہائیکورٹ نے توشہ خانہ کیس میں عمران خان کو ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دے دیا ،چئیرمن پی ٹی آئی کیخلاف توشہ خانہ سزا معطلی کی درخواست منظورکر لی گئی،

    آپ یہ کہہ رہے ہیں کہ روزانہ کی بنیاد پر جج جو کیس سن رہے ہیں وہ جانبداری ہے ؟

    آج پاکستان کی تاریخ کا اہم ترین دن ہے،

    عمران خان کی گرفتاری کو اعلیٰ عدالت میں چیلنج کرنے کا اعلان 

    عمران خان کی گرفتاری کیسے ہوئی؟ 

    چئیرمین پی ٹی آئی کا صادق اور امین ہونے کا سرٹیفیکیٹ جعلی ثابت ہوگیا

    پیپلز پارٹی کسی کی گرفتاری پر جشن نہیں مناتی

     عمران خان کی سزا معطلی کی درخواست پر سماعت ہوئی

  • نگران وزیر اعلیٰ سندھ کی تعیناتی کیخلاف درخواست مسترد

    نگران وزیر اعلیٰ سندھ کی تعیناتی کیخلاف درخواست مسترد

    سندھ ہائیکورٹ ,نگران وزیر اعلیٰ سندھ جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر تعیناتی کے خلاف درخواست پر سماعت ہوئی

    عدالت نے درخواست ناقابل سماعت قرار دیتے ہوئے مسترد کردی،،ابراہیم ابڑو ایڈووکیٹ درخواست گزار نے کہا کہ جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر چار اپریل 2022 کو سپریم کورٹ آف پاکستان سے ریٹائرڈ ہوئے ہیں ،آئین کے آرٹیکل 207 کے تحت جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر نگران وزیر اعلیٰ نہیں بن سکتے ہیں ،چیف جسٹس احمد علی شیخ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر سپریم کورٹ کے جج ریٹائرڈ ہوئے ہیں، احترام سے بات کریں، بتایا جائے کس قانون کی خلاف ورزی ہوئی ہے؟

    درخواست گزار نے کہا کہ جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر دو سال تک کسی منافع بخش عہدے پر تعینات نہیں ہوسکتے ہیں ،جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر ریٹائرمنٹ کے دو سال مکمل کیے بغیر نگراں وزیر اعلیٰ نہیں بن سکتے ہیں ،جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر کی بطور نگران وزیر اعلیٰ سندھ تعیناتی آئین کے آرٹیکل 207 کی خلاف ورزی ہے ،جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر کو بطور نگران وزیر اعلیٰ کام کرنے سے روکا جائے ،

    اعظم خان نےعمران خان پرقیامت برپا کردی ،سارے راز اگل دیئے،خان کا بچنا مشکل

    جیل اسی کو کہتے ہیں جہاں سہولیات نہیں ہوتیں،

    چیئرمین پی ٹی آئی پر ایک مزید مقدمہ درج کر لیا گیا

    نشہ آور اشیاء چیئرمین پی ٹی آئی اور اسٹیبلشمنٹ میں پہلی لڑائی کی وجہ بنی،

  • ریاست ہوگی ماں کے جیسی،ماں کو پتہ ہونا چاہئے کہ بیٹا کہاں ہے،عدالت

    ریاست ہوگی ماں کے جیسی،ماں کو پتہ ہونا چاہئے کہ بیٹا کہاں ہے،عدالت

    پی ٹی آئی رہنما شہریار آفریدی و دیگر کی ضمانت کے بعد نظر بندی کے خلاف درخواست پر سماعت پہوئی

    شہریار آفریدی کے وکلاء ہائی کورٹ راولپنڈی بینچ میں پیش ہوئے ، اور کہا کہ شہریار آفریدی اور ان کے بھائی فرخ جمال آفریدی کو اڈیالہ جیل سے نامعلوم افراد کے حوالے کیا گیا ،جیل انتظامیہ اور پولیس شہریار آفریدی اور ان کے بھائی سے متعلق کچھ نہیں بتا رہی،ہائیکورٹ راولپنڈی بینچ نے سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کو 1 گھنٹے میں طلب کر لی ، وکیل ضلعی انتظامیہ نے کہا کہ شہریار آفریدی کی نظر بندی کے احکامات منسوخ کر دیئے گئے،نظر بندی کے خلاف دائر درخواست پر سماعت جسٹس انوار الحق نے کی

    شہریار آفریدی اور اس کے بھائی فرخ جمال آفریدی کی نظر بندی کے خلاف دائر درخواست پر وقفے کے بعد سماعت ہوئی،عدالت کے طلب کرنے پر سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل اسد وڑائچ عدالت میں پیش ہو گئے ،عدالت نے سپرنٹنڈنٹ جیل سے استفسار کیا کہ شہریار آفریدی اور اس کا بھائی فرخ جمال آفریدی کہاں ہے، سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل نے کہا کہ شہریار آفریدی اڈیالہ جیل میں قید ہیں، عدالت نے استفسار کیا کہ فرخ جمال آفریدی کہاں ہیں، سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل نے کہا کہ فرخ جمال آفریدی اڈیالہ جیل میں نہیں بلکہ وہ ڈسٹرکٹ جیل جہلم میں تھے،سرکاری وکیل نے کہا کہ فرخ جمال افریدی کے نظر بندی کے احکامات معطل ہونے کے بعد جہلم جیل سے رہا کر دیا گیا تھا،وکیل شہریار آفریدی نے کہا کہ فرخ جمال آفریدی کی جہلم جیل سے رہائی کے بعد کوئی پتہ نہیں

    جسٹس انوار الحق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ریاست ہو گی ماں کے جیسی،ماں کو پتہ ہونا چاہئے کہ بیٹا کہاں ہے، مائیں دو طرح کی ہوتی ہیں، دوسری ماں نہ بنے ، وکیل فرخ جمال آفریدی نے کہاکہ ڈی سی اسلام آباد نے فرخ جمال آفریدی کے تھری ایم پی او آرڈر جاری کیے ہیں،عدالت نے کہا کہ عدالت نے آئین اور قانون کے مطابق چلنا ہے،ہم دیکھیں گے یہ حدود لاہور ہائی کورٹ کے زمرے میں آتی ہے یا نہیں، نظر بندی کے مزید احکامات جاری کرنے سے قبل عدالت کو آگاہ کرنا ہو گا،

     پرامن احتجاج ہرکسی کا حق ہے،9 مئی کو جو کچھ ہوا اسکےحق میں نہیں 

    عدالت کے گیٹوں پر پولیس کھڑی ہے آنے نہیں دیا جارہا 

    کنیز فاطمہ کا کہنا تھا کہ کوئی بھی محب وطن پاکستانی ایسی واقعات کو پسند نہیں کرتا،

     شہریار آفریدی کو ڈیتھ سیل میں رکھا گیا یے

    واضح رہے کہ چار اگست کوشہر یار آفریدی کو انسداد دہشت گردی کی عدالت سے رہائی کے بعد فوری گرفتار کیا گیا ہے، شہر یار آفریدی کو عدالت میں پیش کیا گیا تھا، عدالت نے انہین رہا کرنے کا حکم دیا