Baaghi TV

Tag: جج

  • جسٹس محسن اختر کیانی کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں شکایت جمع

    جسٹس محسن اختر کیانی کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں شکایت جمع

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے جج جسٹس محسن اختر کیانی کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں شکایت جمع کروا دی گئی،

    شکایت خیبر پختونخوا کے وکیل مرتضیٰ قریشی کی جانب سے جمع کروائی گئی، درخواست میں کہا گیا ہے کہ فاضل جج نے اسلام آباد کی ضلعی عدلیہ میں اپنے جونیئر اور من پسند افراد کی بھرتیاں کروائیں، جسٹس محسن اختر کیانی نے اپنے خاندان کے مالی اثاثوں کی مالیت 5 کروڑ 60 لاکھ ظاہر کی،حقیقت میں فاضل جج کے اثاثوں کی کل مالیت 1 ارب 87 کروڑ سے زائد ہے، جسٹس محسن اختر کیانی نے 182 کروڑ کے اثاثے ٹیکس بچانے کے لیے ظاہر نہیں کیے، جسٹس محسن اختر کیانی نے بیوی بچوں کے غیرملکی دوروں پر 6 کروڑ سے زائد رقم خرچ کی، یہ اخراجات اتنے زیادہ ہیں کہ پاکستان کا کوئی جج انہیں برداشت نہیں کر سکتا ہے،سپریم جوڈیشل کونسل جوڈیشل مس کنڈکٹ کا مرتکب ہونے پر جج کے خلاف انکوائری کرے، سپریم جوڈیشل کونسل جسٹس محسن اختر کیانی کو عہدے سے ہٹانے کی سفارش کرے،شکایت کے ساتھ اسلام آباد ضلعی عدلیہ کے متاثرہ ججز کا چیف جسٹس پاکستان کو لکھا خط بھی لف کیا گیا ہے

    دوسری جانب سپریم جوڈیشل کونسل کی کارروائی ریگولیٹ کرنے کے حوالے دائر درخواست پر سماعت ہوئی ،دوران سماعت جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جج کے مستعفی ہونے کے بعد کونسل کاروائی ختم کردیتی ہے، آرٹیکل 209 میں جج کو عہدے سے ہٹانے کی بات کی گئی ہے جج خود عہدے سے ہٹ جائے تو کچھ نہیں لکھا، درخواست گزار چاہتا کیا ہے کیا کونسل کو عدالت ہدایات دے؟کیا عدالت کونسل کو گائیڈ لائنز دے سکتی ہے ؟ آج کل شکایت کونسل کے پاس جانے سے پہلے سوشل میڈیا پر چل جاتی ہے، سنجیدہ معاملہ ہونے کی وجہ سے کیس کو توجہ سے سن رہے ہیں، وکیل درخواست گزار نے کہا کہ عدالت نے مختلف مقدمات میں کونسل کی کارروائی کا جائزہ لےکر ہدایات دیں ہیں،جسٹس منیب اخترنے کہا کہ ہم نے کونسل کو ہدایت کسی فیصلے میں نہیں دیں، عدالت فیصلہ دے عمل نہ ہو تو کیا پھر کونسل کے خلاف توہین عدالت ہوگی ؟

    جسٹس منیب اختر نے وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ کونسل میں شکایت دینے والے کو ہتھیار دینا چاہ رہے ہیں، جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ لوگ بغیر میرٹس کے شکایت بھیجتے ہیں،سوشل میڈیا پر لگا دیتے ہیں،کونسل کارروائی نہیں کرتی تو یہ انکا فیصلہ ہے،جج کا وقار ہے اور حقوق ہیں، آپ کہہ رہی ہیں کہ جج کے خلاف شکایت آنے پر فوری کاروائی کرنی چاہیے، جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ممکن ہے کہ کل سترہ ججز کے خلاف شکایات آجائیں، عدالت نے کہا کہ کیس میں مناسب حکم جاری کریں گے،

    اس سے تو یہ ثابت ہوا کہ پلی بارگین کے بعد بھی ملزم کا اعتراف جرم تصور نہیں ہو گا،چیف جسٹس

     سپریم کورٹ مقدمے کی روزانہ کی بنیاد پر سماعت کرے گی

    نیب ترامیم کیخلاف درخواست،فیصلہ کرنے میں کوئی عجلت نہیں کرینگے،چیف جسٹس

  • ججز سے متعلقہ آڈیو لیکس،تحقیقات کیلئے 3 رکنی کمیشن تشکیل

    ججز سے متعلقہ آڈیو لیکس،تحقیقات کیلئے 3 رکنی کمیشن تشکیل

    وفاقی حکومت نے ججز سے متعلقہ آڈیو لیکس کی تحقیقات کیلئے 3 رکنی  کمیشن تشکیل دے دیا

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ،چیف جسٹس بلوچستان ہائیکورٹ جسٹس نعیم اختر کمیشن میں شامل ہیں،چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ جسٹس عامر فاروق بھی کمیشن میں شامل ہیں،وفاقی حکومت نے کمیشن کی تشکیل کا نوٹیفکیشن جاری کردیا۔

    کمیشن جوڈیشری کے حوالے سے لیک ہونے والی آڈیوز پر تحقیقات کریگا یہ آڈیو لیکس درست ہیں یا من گھرٹ کمیشن اس بارے میں تحقیقات کرے گا، وفاقی حکومت کی جانب سے بنایا جانے والا کمیشن ایک ماہ کے اندر اپنی رپورٹ پیش کرے گا،
    وکیل اور صحافی کے درمیان بات چیت کی آڈیو لیک کی بھی تحقیقات ہوگی سابق چیف جسٹس اور وکیل کی آڈیو لیک کی بھی تحقیقات ہوگی کمیشن سوشل میڈیا پر لاہور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس کے داماد کی عدالتی کارروائی پراثرانداز ہونے کے الزامات کی آڈیو لیک کی تحقیقات کریگا،کمیشن چیف جسٹس کی ساس اور ان کی دوست کی مبینہ آڈیو لیک کی تحقیقات کرے گا

    تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کمیشن پر رد عمل میں کہا ہے کہ وفاقی حکومت نے آڈیو لیکس کے معاملے پر 2017 کے کمیشن آف انکوائری ایکٹ کے سیکشن 3 کے تحت انکوائری کمیشن تشکیل دیا ہے۔ تاہم وفاقی حکومت کی جانب سے ترتیب دیے گئے ٹرمز آف ریفرنس میں ایک سوچا سمجھا نقص ،خلاء موجود ہے یا جان بوجھ کر چھوڑا گیا ہے۔ یہ (ٹی او آرز) اس پہلو کا ہرگز احاطہ نہیں کرتے کہ وزیراعظم کے دفتر اور سپریم کورٹ کے حاضر سروس ججز کی غیرقانونی و غیرآئینی نگرانی کے پیچھے کون ہے؟ کمیشن کو اس تحقیق کا اختیار دیا جائے کہ عوام اور اعلیٰ حکومتی شخصیات کی ٹیلی فون پر کی جانے والی گفتگو کی ٹیپنگ اور ریکارڈنگ میں کون سے طاقتور اور نامعلوم عناصر ملوث ہیں۔ یہ آئین کے آرٹیکل 14 کے تحت پرائیویسی کے حق کی سنگین خلاف ورزی کے۔

    عمران خان کا کہنا تھا کہ فون ٹیپنگ کے ذریعے (عوام اور اعلیٰ شخصیات کی) نگرانی اور ان کے مابین کی جانے والی بات چیت تک غیرقانونی رسائی حاصل کرنے والوں کا ہی محاسبہ نہ کیا جائے بلکہ اس ڈیٹا کو کانٹ چھانٹ کر اور اس کے مختلف حصوں کو توڑ مروڑ کر سوشل میڈیا کو جاری کرنے والوں سے بھی باز پرُس کی جائے۔ قانون کی حکمرانی کے سائے میں پنپنے والی جمہوریتوں میں ریاست کی جانب سے (شہریوں کی) زندگی کے بعض پہلوؤں میں اپنی مرضی سے مداخلت کی حوصلہ شکنی کی جاتی ہے۔ جب بھی ریاست یوں غیرقانونی طور پر فرد پر پہرے بٹھاتی/اس کی نگرانی کرتی ہے تو آرٹیکل 14 کے تحت اسے میسّر پرائیویسی اور شخصی وقار کے حق پر زد پڑتی ہے۔ حال ہی میں خفیہ طور پر جاری (Leak) کی جانے والی بعض کالز ایسی تھیں جو اصولاً وزیراعظم کے دفتر کی محفوظ ٹیلی فون لائن پر کی جانے والی گفتگو کے زمرے میں آتی تھی۔ اس کے باوجود انہیں غیرقانونی پر ٹیپ اور کانٹ چھانٹ/رد و بدل کرکے جاری کیا گیا۔ اس ٹیپنگ میں کارفرما یہ دیدہ دلیر عناصر بظاہر وزیراعظم کی دسترس سے باہر دکھائی دیتے ہیں اور یوں محسوس ہوتا ہے کہ انہیں ان کا علم تک نہیں۔ یہ کردار ہیں کون جو قانون سے بالاتر ہیں، ملک کے وزیراعظم کے بھی ماتحت نہیں اور پوری ڈھٹائی سے (شہریوں، اعلیٰ شخصیات کی) خلافِ قانون نگرانی کرتے ہیں۔ کمیشن کی جانب سے ان عناصر کی نشاندہی ناگزیر ہے۔

    واضح رہے کہ ججز کے‌ حوالہ سے آڈیو لیکس چند دن قبل سامنےآئی تھیں، چیف جسٹس عمر عطا بندیال سے بھی آڈیو لیک بارے سوال کیا گیا تھا تا ہم انہوں نے خاموشی اختیار کی تھی، عمران خان کی گرفتاری کے بعد انکی رہائی کے حوالہ سے ایک آڈیو لیک ہوئی تھی، اسی آڈیو کے عین مطابق عمران خان کے کیس میں ہوا اور رہائی ملی،

    سردار تنویر الیاس کی نااہلی ، غفلت ، غیر سنجیدگی اور ناتجربہ کاری کھل کر سامنے آگئی 

    عمران خان کا مظفر آباد جلسہ،وزیراعظم آزاد کشمیر کی کرسی خطرے میں

    ،وزیر اعظم آزاد کشمیر کو اگر بلایا نہیں گیا تو انہیں جانا نہیں چاہیے تھا،

    تنویر الیاس کے بیٹے کا آزاد کشمیر پولیس و مسلح ملزمان کے ہمراہ سینٹورس پر دھاوا، مقدمہ درج

    تنویر الیاس نے سپریم کورٹ میں دائر اپیل میں خود کو” وزیراعظم” لکھ دیا،اپیل خارج

  • سپریم کورٹ کے باہر مولانا فضل الرحمان، مریم نواز پہنچ گئے

    سپریم کورٹ کے باہر مولانا فضل الرحمان، مریم نواز پہنچ گئے

    سپریم کورٹ کے باہر مولانا فضل الرحمان، مریم نواز پہنچ گئے،

    پی ڈی ایم کی قیادت کی اپیل پر اسلام آباد میں سپریم کورٹ کے باہر احتجاج میں پی ڈی ایم کی قیادت پہنچ چکی ہے، ن لیگی رہنما مریم نواز بھی عدالت پہنچ چکی ہیں،مولانا فضل الرحمان بھی پہنچ چکے ہیں، جے یو آئی رہنما مولانا امجد خان بھی پہنچ چکے ہیں،

    پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین اور وزیر خارجہ بلاول بھٹو اسلام آباد پہنچ گئے ہیں جہاں کارکنوں نے ان کا ایئرپورٹ پر پرتپاک استقبال کیا، بلاول بھٹو کا سپریم کورٹ کے خلاف پی ڈی ایم کے دھرنے میں شرکت کا امکان ہے ،دوسری جانب دھرنے میں پیپل پارٹی کا وفد پہلے ہی شریک ہے ، پی پی سینیٹر نثار کھوڑو، سینیٹر وقار مہدی پارٹی کی نمائندگی کر رہے ہیں ، پیپلز پارٹی کی دھرنے میں شرکت سے متعلق سینیئر قیادت کی مشاورت تاحال جاری ہے اور سینیئر رہنماؤں نے بلاول بھٹو کو دھرنے میں شرکت نہ کرنے کا مشورہ دیا

    سپریم کورٹ کے باہر پی ڈی ایم دھرنے کے شرکا کی تعداد میں اضافہ جاری ہے،اسٹیج پر مولانا فضل الرحمٰن ‘ مریم نواز ‘ محمود حان اچکزئی ‘ آفتاب شیرپاؤ موجود تھے،میاں افتخار ‘ نثار کھوڑو ‘ سمیت کئی اہم رہنما بھی اسٹیج پر موجود تھے ، اکرم درانی نے شرکا سے غیر معینہ مدت تک دھرنے کا وعدہ لے لیا

    سپریم کورٹ کے باہر پی ڈی ایم کا دھرنا ،سپریم کورٹ کے ججز نے متبادل راستے کا استعمال کیا، سپریم کورٹ کے ججز اور عملہ وزیر اعظم آفس کا راستہ استعمال کر رہے ہیں اسلام آباد پولیس نے سیکورٹی کے پیش نطر شاہراہ دستور پر ججز داخلی راستہ کنٹینرز لگا کر بند کر رکھا ہے

    احتجاجی مظاہرے سے انصار الاسلام کی وردی پہنے ایک شخص گرفتارکر لیا گیا، انصار الاسلام کے رضاکارو نے تحویل میں لے کر انتظامیہ کے حوالے کر دیا ،جے یو آئی کی جانب سے کسی قسم کے شرپسند ی کرنے والے کو گرفتار کرکے انتظامیہ کے حوالے کیا جائے گا

    دوسری جانب سپریم کورٹ کے سامنے پی ڈی ایم کے جلسے کے باعث سکیورٹی خدشات سامنے آئے ہیں ،ضلعی انتظامیہ اور پولیس نے وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنااللہ کو خدشات سے آگاہ کردیا ہے ذرائع کے مطابق وزیر داخلہ کو بتایا گیا ہےکہ سپریم کورٹ کے باہر عوام کے بڑے مجمعے کے جمع ہونے سے سکیورٹی خدشات ہوں گے، ریڈزون میں اہم سرکاری عمارتیں اور سفارت خانے موجود ہیں، احتجاج کے باعث شرپسند عناصر مجمعے کی آڑ میں ریڈ زون میں داخل ہو سکتے ہیں

    سپریم کورٹ کے اطراف سکیورٹی بڑھا دی گئی ہے اور ریڈ زون میں داخلے کے لیے ایک کے سوا تمام راستے بندکر دیے گئے ہیں

    عمران خان کی گرفتاری کے بعد کور کمانڈر ہاؤس لاہور میں ہونیوالے ہنگامہ آرائی میں پی ٹی آئی ملوث نکلی

     بشریٰ بی بی کی گرفتاری کے بھی امکانات

    نواز شریف کو سزا سنانے والے جج محمد بشیر کی عدالت میں عمران خان کی پیشی 

     مراد سعید کے گھر پر پولیس نے چھاپہ

    اوریا مقبول جان کو رات گئے گرفتار 

    وزیراعظم شہباز شریف کور کمانڈر ہاؤس لاہور پہنچ گئے

  • چینی سپریم کورٹ؛ جج کو لاکھوں ڈالرز رشوت لینے کے جرم میں سزا کا سامنا

    چینی سپریم کورٹ؛ جج کو لاکھوں ڈالرز رشوت لینے کے جرم میں سزا کا سامنا

    چینی سپریم کورٹ؛ جج کو لاکھوں ڈالرز رشوت لینے کے جرم میں سزا کا سامنا

    چین میں سپریم کورٹ کے جج کو دو دہائیوں کے دوران 22.7 ملین یوآن (3.3 ملین امریکی ڈالر) کی رشوت لینے کے جرم میں 12 سال قید کی سزا سنا دی گئی۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق سپریم کورٹ کے جج مینگ ژیانگ کو رشوت ستانی کیس میں پچھتاوا ظاہر کرنے اور خود سے دیگر جرائم کا بھی اعتراف کرنے کے باعث جرم کی کم سے کم سزا 12 سال قید اور 20 لاکھ یوآن کا جرمانے کی سزا سنائی گئی۔

    سپریم پیپلز کورٹ کے انفورسمنٹ بیورو کے سابق ڈائریکٹر اور ٹرائل کمیٹی کے رکن مینگ ژیانگ پر 2003 سے 2020 کے درمیان 33 لاکھ ڈالرز بطور رشوت لینے کے مختلف مقدمات کا سامنا تھا۔ 58 سالہ جج مینگ ژیانگ نے عدالتی فیصلوں اور قانون کے نفاذ جیسے معاملات میں دوسروں کی مدد کرنے، فرموں کے لیے تعمیراتی ٹھیکے حاصل کرنے اور کیڈر کے انتخاب کو متاثر کرنے کے لیے رشوت لی اور اپنے عہدے اور طاقت کا ناجائز استعمال کیا۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    26 سال کے بعد بھی شاہ رخ خان کا کرشمہ قائم ہے شامک داور
    کرشنا ابھیشیک نے اپنے ماموں گووندا اور ممانی کے ساتھ جھگڑے کی خبروں پر رد عمل دیدیا
    سورو گنگولی نغمہ کے ساتھ اپنی دوستی چھپا کر رکھنا چاہتے تھے لیکن کیا ہوا؟‌
    سعودی عرب: حسن قرات کا دنیا کا سب سے بڑا مقابلہ ایرانی قاری نے جیت لیا
    کچے کے علاقے میں ڈاکوؤں کے خلاف آپریشن ،آئی جی پنجاب اور ڈی پی او پر فائرنگ
    خیال رہے کہ جج مینگ ژیانگ نے اپنا عدالتی کیریئر 30 سال قبل بطور کلرک شروع کیا تھا اور ترقی کرتے کرتے سپریم کورٹ کے جج تک پہنچے تھے۔ گزشتہ ماہ چین کے سابق چیف جسٹس ژو کیانگ نے مقننہ کے سالانہ اجلاس سے خطاب میں انکشاف کیا تھا کہ سپریم کورٹ کے سیکڑوں ججز اور انتظامی افسران کرپشن الزامات میں زیر تفتیش ہیں اور درجنوں کو سزا بھی دی گئی ہے۔

  • سعودی عرب:جج  5 لاکھ ریال کی رشوت لیتے ہوئے رنگے ہاتھوں گرفتار

    سعودی عرب:جج 5 لاکھ ریال کی رشوت لیتے ہوئے رنگے ہاتھوں گرفتار

    مدینہ منورہ: سعودی عرب کی انسداد کرپشن اتھارٹی نے ایک جج کو 5 لاکھ ریال کی رشوت لیتے ہوئے رنگے ہاتھوں گرفتار کرلیا-

    باغی ٹی وی : "العربیہ” کے مطابق اینٹی کرپشن پبلک اتھارٹی "نزاھۃ” نے مدینہ منورہ میں اپیل کورٹ کے ایک جج کوجو کہ کل 1.06 ملین ڈالر( 4 ملین ریال) کی رقم میں سے 133,000 ڈالر( 5 لاکھ ریال) بطور رشوت وصول کرتے ہوئے رنگے ہاتھوں گرفتار کرلیا۔

    سابق امریکی صدر ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں واپسی کا اعلان کردیا

    "نزاھۃ” اتھارٹی نے سماجی رباطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر بتایا کہ مدینہ کے علاقے کی اپیل کورٹ کے جج ابراہیم بن عبدالعزیز الجہنی کو گرفتار کر لیا گیا ہے اور ان کے خلاف مزید قانونی کارروائی کی جا رہی ہے۔


    "نزاھۃ” اتھارٹی نے بتایا کہ رشوت لینے میں ملوث ابراہیم بن عبدالعزیز الجہینی نے ایک شہری سے یہ رقم وصول کرنے پر رضامندی ظاہر کی اور اس کے بدلے میں جنرل کورٹ میں دائر ایک مقدمے میں اس کے حق میں فیصلہ سنانے کی بات کی۔


    گرفتار جج کو 4سے 5 سال قید اور 50 ہزار ریال تک جرمانہ ہو سکتا ہے اتھارٹی کا مزید کہنا تھا کہ ذاتی مفاد کے حصول کیلئے عوامی مفاد کو نقصان پہنچانے والے عہدیداروں کی نگرانی کی جا رہی ہے ،اور ایسے افراد کے خلاف بلاامتیاز کارروائیاں کی جائیں گی۔

    اسمارٹ فونز کے ساتھ ائیر یا ہیڈ فونز کا استعمال جو قوت سماعت سے محروم کرسکتی


    اتھارٹی نے کہا کہ وہ مملکت میں سرکاری اہلکاروں میں بدعنوانی کو ختم کرنے کے لیے "زیرو ٹالرنس” کی پالیسی پر عمل پیرا رہے گی۔


    اتھارٹی نے کہا کہ وہ کسی بھی ایسے شخص کو نشانہ بنائے گی جو "ذاتی فائدے کے حصول یا عوامی مفادات کو کسی بھی طرح سے نقصان پہنچانے کے لیے عوامی عہدے کا استحصال کرتا ہے، اور یہ بدعنوانی کے خلاف صفر رواداری کے ساتھ قانون کا اطلاق جاری رکھے گا-

    "نزاھۃ” کی بنیاد 2011 میں رکھی گئی تھی اور اس نے گزشتہ دہائی کے دوران سعودی عرب میں بدعنوانی کے نمایاں مقدمات سے نمٹا ہے۔

    فلپائن میں پیدا ہونے والی بچی کو دنیا کی آٹھ ارب ویں شخصیت قرار دے دیا گیا

  • مصر میں بیوی کے قاتل جج کو سزائے موت سنا دی گئی

    مصر میں بیوی کے قاتل جج کو سزائے موت سنا دی گئی

    مصر میں ایک عدالت نے جج کو اپنی اہلیہ کے قتل کے جرم میں سزائے موت سنائی ہے۔

    باغی ٹی وی : العربیہ کے مطابق فوجداری عدالت نے منگل کے روز اپنے فیصلہ میں ’’ٹی وی پیش کار شیماء جمال کے قاتل جج اور اس کے ساتھی کا کیس مصر کے مفتیِ اعظم کو بھیجنے کی منظوری دی ہے۔

    کرپشن کا الزام: میانمارکی سابق رہنما کو مزید 6 سال قید کی سزا

    واضح رہے کہ مفتیِ اعظم سزائے موت کے فیصلوں پر حتمی رائے دیتے ہیں اور انھیں ایسے مقدمات بھیجنا قانون کے مطابق فیصلے پر عمل درآمد سے قبل ایک رسمی کارروائی ہے۔

    مصر کےسرکاری وکیل کے دفتر نے گذشتہ ماہ بتایا تھا کہ متعلقہ عدالتی عہدہ دارایمن حجاج پراپنے ساتھی تاجر حسین الغرابلی کے ساتھ مل کراپنی اہلیہ شیماء جمال کے’’پہلے سے سوچے سمجھے قتل‘‘کے الزام میں فردِ جُرم عاید کی گئی تھی۔

    شیماء جمال کی لاش جون میں ایک دوردراز ولا سے ملی تھی اس کے شوہر جج نے مقتولہ کے لاپتا ہونے کی اطلاع دی تھی اور اس کے قریباً تین ہفتے کے بعدحسین غرابلی کی خفیہ اطلاع پرلاش برآمد کی گئی تھی غرابلی نے اس جرم میں اپنے کردار کا اعتراف کیا تھا۔

    عدالت کی اگلی سماعت مفتیِ اعظم کی متوقع منظوری کے بعد11 ستمبرکومقرر کی گئی ہے۔

    زیادہ سوچنا دماغ میں زہریلے کیمیکلز کی نشوونما کا باعث بن سکتا ہے،تحقیق

    جج ایمن حجاج نے اپنی بیوی،42 سالہ ٹیلی ویژن پیش کارشیماء جمال کا چہرہ نائٹرک ایسڈ کا استعمال کرتے ہوئے چہرہ جلا دیا تھا۔

    جون کے اوائل میں ایمن حجاج نے،جو مبینہ طور پر ریاستی کونسل کی نائب صدر بھی تھے، یہ اطلاع دی تھی کہ ان کی اہلیہ شیماء جمال لاپتا ہوگئی ہیں اورانھیں آخری بار جیزہ کی گورنری میں واقع 6 اکتوبرسٹی میں ایک مال کے سامنے دیکھا گیا تھا۔

    گواہ کے مطابق مقتولہ شیماء جمال جج حجاج کی دوسری بیوی تھی۔ان کی شادی ’’خفیہ‘‘تھی ۔انھوں نے یہ بھی انکشاف کیاکہ جج کی پہلی بیوی اس شادی کے بارے میں کچھ نہیں جانتی تھی گواہ کے مطابق ایمن حجاج نے شدیدجھگڑے کے بعد بیوی شیماء کے سر پر بندوق سے تین بار وار کیا اور پھراس کے اسکارف سے اس کا گلا گھونٹ دیا جس سے اس کا دم گھٹ گیا اور وہ موقع پر ہی ہلاک ہو گئی تھی۔

    شیماء جمال کا قتل گزشتہ چند مہینوں میں ملک میں غم و غصے کو جنم دینے والا تیسرا واقعہ ہے 19 جون کو کالج کی طالبہ نائرہ اشرف کو قاہرہ کےشمال میں منصورہ میں ایک ایسے شخص نے چاقو کے وار کر کے قتل کر دیا جس کی پیش قدمی اس نے مسترد کر دی تھی۔ حملے کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر بڑے پیمانے پر شیئر کی گئی۔

    امریکا میں برفانی دور کے انسانی قدموں کے نشانات دریافت

    ایک انتہائی مشہور مقدمے میں ملزم محمدعادل نےعدالت میں اپنے جرم کا اعتراف کیا تھا اور عدالت اسے سزائے موت سنائی تھی۔فوجداری عدالت نے یہ بھی قراردیاتھا کہ اس کو پھانسی دینے کی کارروائی دوسروں کے لیے عبرت کا ساماں بنانے کی غرض سےٹیلی ویژن پر براہِ راست نشر کی جائے۔

    رواں ماہ کے اوائل میں قاہرہ کے شمال میں زغزیغ میں ایک طالبہ کو اسی طرح کے حالات میں قتل کر دیا گیا تھا جس کی شناخت صرف اس کے پہلے نام سلمیٰ سے ہوئی تھی۔استغاثہ کے مطابق ملزم نے مقتولہ پر چاقو کے متعدد وار کیے تھے۔اس کا بھی قصورصرف یہ تھا کہ اس نے ملزم کی راہ ورسم بڑھانے کی پیش قدمی کو مسترد کردیا تھا۔

    یہ کہا جاتا ہے کہ مصر میں پدرسری قانون سازی اور اسلام کی قدامت پسند تشریحات نے خواتین کے حقوق کوسختی سے محدود کیا ہے اور خواتین کے خلاف تشدد کا کلچر پیدا کرنے میں مدد دی ہے۔

    مصر کےچرچ میں آگ: مسلمان نوجوان نے خود زخمی ہو کر متعدد جانیں بچا لیں

    ایک سوشل میڈیا صارف نے کہا کہ سلمیٰ کو صرف ایک غلط معاشرے میں ایک عورت پیدا ہونے پومے کے ناتے قتل کیا گیا تھا کیونکہ کچھ لوگوں کا کہنا تھا کہ سلمیٰ اپنے حملہ آورسے دوستی کرنے میں غلطی پر تھی۔

    ایک اور شخص نے کہا کہ جب تک معاشرے میں ایسے ہمدرد موجود ہیں جوان جرائم کے مرتکب افراد کے لیے بہانے بناتے ہیں،تو وہ ایسے جرائم جاری رکھیں گے۔

    اقوام متحدہ کے 2015 میں کیے گئے ایک سروے کے مطابق، تقریباً 80 لاکھ مصری خواتین اپنے ساتھیوں یا رشتہ داروں، یا عوامی مقامات پر اجنبیوں کے ہاتھوں تشدد کا شکار ہوئیں۔

    انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق مصر میں قتل کی زیادہ سے زیادہ سزا موت ہے اور 2021 میں مصردنیا میں سب سے زیادہ پھانسیاں دینےوالا تیسرا ملک تھا۔

    بارسلونا میں آتشزدگی کی روک تھام کے لیےمنفرد ٹیم کی خدمات

  • منشیات کا مقدمہ: سرچ وارنٹ کے بغیر بھی گرفتاری کی جاسکتی ہے. سپریم کورٹ

    منشیات کا مقدمہ: سرچ وارنٹ کے بغیر بھی گرفتاری کی جاسکتی ہے. سپریم کورٹ

    سپریم کورٹ نے اہم فیصلہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ منشیات کے مقدمے میں سرچ وارنٹ کے بغیر گرفتاری کی جاسکتی ہے۔
    تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ نے انسداد منشیات کے پی ایکٹ 2019 کی شق 27 کی تشریح کردی، جسٹس یحییٰ آفریدی نے 6 صفحات پر مشتمل فیصلہ جاری کر دیا۔

    ملزم سید زوالفقار علی شاہ نے ضمانت بعد گرفتاری کیلئے پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے کیخلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا، عدالت نے کہا ملزم کو چرس فروخت کے الزام پہ گرفتار کیا گیا، ملزم نے اپنے دفاع میں انسداد منشیات ایکٹ کی شق 27 کا حوالہ دیا، ملزم نے اپنے دفاع میں موقف اختیار کیا کہ شق 27 کے تحت منشیات کے مقدمے میں سپیشل جج سے سرچ وارنٹ کے بغیر گرفتاری نہیں ہوسکتی۔

    سپریم کورٹ نے کہا منشیات مقدمات میں ملزم کے غائب ہو جانے کے خدشہ کے پیش نظر پولیس کو رسمی کارروائی میں نہ پڑنے کے عدالتی نظائر موجود ہیں، سرچ وارنٹ کے بغیر گرفتاری کی دلیل پر ٹرائل روکا جاسکتا ہے نہ سزا ختم کی جاسکتی ہے، سرچ وارنٹ کے بغیر گرفتاری کے سبب کسی ملزم کو بری نہیں کیا جاسکتا۔

    عدالت نے سید ذوالفقار علی شاہ کی ضمانت کی درخواست خارج کردی۔

  • عوامی تنقید سے جج کی آزادی کسی بھی طرح متاثر نہیں ہوتی،اسلام آباد ہائیکورٹ

    عوامی تنقید سے جج کی آزادی کسی بھی طرح متاثر نہیں ہوتی،اسلام آباد ہائیکورٹ

    عوامی تنقید سے جج کی آزادی کسی بھی طرح متاثر نہیں ہوتی،اسلام آباد ہائیکورٹ

    اسلام آباد ہائیکورٹ ، عدلیہ مخالف تقریر کے ملزم کی ضمانت کا تحریری فیصلہ جاری کر دیا گیا

    چیف جسٹس اطہر من اللہ نے 8 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کیا ،تحریری فیصلہ میں کہا گیا کہ مسعود الرحمان عباسی کو 5 ہزار روپے کے ضمانتی مچلکوں پر رہا کیا جائے، ایک جج بھی تنقید سے محفوظ نہیں، عوامی تنقید سے جج کی آزادی کسی بھی طرح متاثر نہیں ہوتی،غیر سوچی سمجھی تنقید، سخت اور غیر شائستہ زبان استعمال کرنے سے گریز کرنا چاہیے، تمسعود الرحمان عباسی کو جون میں ایف آئی اے نے فوجداری مقدمے کے اندراج کے بعد گرفتار کیا،پاکستان پینل کوڈ اور پیکا ایکٹ کی دفعات کے تحت شہری محمد سہیل کی شکایت پر مقدمہ درج کیا گیا،

    تحریری فیصلہ میں مزید کہا گیا کہ درخواست گزار کے خلاف مقدمہ ریکارڈ شدہ تقریر کی فوٹیج سوشل وائرل ہونے کے بعد درج کیا گیا،درخواست گزار نے ناپسندیدہ زبان استعمال کرتے ہوئے عدلیہ پر تنقید کی تھی، ایف آئی اے ڈپٹی ڈائریکٹر اور تفتیشی افسر شکایت کنندہ کے حق دعوی ٰ پر عدالت کو مطمئن نہ کر سکے،اس بات کو رد نہیں کیا جا سکتا کہ ایف آئی اے عدالتی افسر کے خلاف بیانات سے متاثر ہو سکتی ہے،عدالتوں کافرض ہے کہ ایسے شخص کا منصفانہ ٹرائل کرے جس پر عدالتی افسر سے متعلق جرم کا الزام ہو،

    ریلوے کو ہم نے تباہ کیا 6 ماہ سے پہلے جو ریلوے میں ہورہا اس کا میں ذمہ دار نہیں ہوں : وزیر ریلوے

    ریلوے کس کے دور میں اچھی رہی، سعد رفیق یا شیخ رشید؟ کمیٹی میں انکشاف

    ٹرین حادثے میں 2 ریلوے اور 2 پولیس اہلکار بھی جاں بحق

    حادثے کا شکار ہوئی ٹرین سرسید ایکسپریس کے ڈرائیور اعجاز احمد کا حادثے کے بارے انکشاف

    آپ کہہ رہے تھے کہ عدالت بلائے اوقات یاد دلاوَں گا، اب ہمیں دکھائیں اوقات، سپریم کورٹ

    حافظ محمد سعید کو سی ٹی ڈی نے عدالت پیش کر دیا، اہم خبر

    حافظ محمد سعید کو کیوں گرفتار کیا؟ وزیراعلیٰ پنجاب کے ترجمان بول پڑے

    نواز شریف جیل میں حافظ محمد سعید کی دعوت کب کررہے ہیں؟ اہم خبر

    حافظ محمد سعید کو کونسی جیل منتقل کیا گیا ؟ اہم خبر

  • سول جج پر زیادتی کا الزام لگانیوالی لڑکے کا پہلے کون بنا تھا”شکار” تہلکہ خیز انکشاف

    سول جج پر زیادتی کا الزام لگانیوالی لڑکے کا پہلے کون بنا تھا”شکار” تہلکہ خیز انکشاف

    سول جج پر زیادتی کا الزام لگانیوالی لڑکے کا پہلے کون بنا تھا”شکار” تہلکہ خیز انکشاف

    پولیس کی طرف سے ایف آئی ار کے اندراج میں جلدی، ناقص تفتیش اور جج کے گرفتاری کے دوران پولیس کی طرف سے کوتاہیاں ہیں یا منصوبے کا حصہ، نئے سوالات نے جنم لے لیا

    سینئر سول جج پر خاتون سے ریپ کا الزام ۔کہانی کچھ اور نکلی۔ حقائق سامنے آنے پر دعا شاہ کے بجائے لڑکی عمر شہزادی نکلی کیس کے متعلق ڈی پی او کی طرف سے تگ و دو شروع ہو چکا ہے۔ پولیس کی تفتیش کے دوران بڑی کوتاہیاں سامنے آگئی۔ سول جج پر الزام لگانے والی لڑکی کی ساری کہانی جھوٹی نکلی۔ لڑکی کا تعلق نہ تو چترال سے ہے اور نہ پشاور سے نہ خیر پور سے بلکہ الزام لگانے والی خاتون کے علاقہ بلیک میلنگ میں ملوث رحیم یار سے ہے اس نے پولیس کو پوری طرح سے گمراہ کیا تھا یا پولیس اس منصوبے میں شامل تھی سب کچھ پشاور ہائیکورٹ میں سامنے آئے گا۔

    اس حوالے سے ذرائع نے یہ بھی انکشاف کیا ہے کہ اس منظم گروہ کے خلاف درجنوں ایف آئی آر بھی موجود ہیں جو اسی طرح اعلی افسران کو اعلی افسران کے کہنے پر اپنے جال میں پھساتے ہیں اور بعد ازاں بلیک میل کرکے بدنامی کے ساتھ ساتھ بھاری رقوم ہتھیائے جاتے ہیں۔ابتدائی طور پر اس بلیک میلنگ کرنے والی گروہ میں تین لڑکیوں کا انکشاف کیا گیا تھا جسمیں جج پر الزام لگانے والی طالبہ ، اسکی ایک بہن اور ایک کزن شامل تھی لیکن حقیقت میں نہ طالبہ ہے نہ اسکی کوئی بہن ہے نہ کوئی کزن بلکہ عظمہ شہزادی اس سے پہلے آمنہ کا نام استعمال کرتے ہوئے ضلع کرک میں ایک اسسٹنٹ کمشنر کو لوٹا ہے اس کے علاوہ پشاور میں ایک اسسٹنٹ کمشنر، پنجاب اور سندھ میں اعلی عہدوں پر کام کرنے والے افسران اپنے جال میں پھنسا کر کروڑوں روپے لوٹ چکی ہیں ضلع کرک میں بدنامی سے بچنے کے لئے اسسٹنٹ کمشنر سے پانچ لاکھ روپیہ ہڑپ کرنے کے بعد اسی لڑکی نے پولیس کو اپنا بیان درج کرایا تھا کہ وہ اس پر لگائے گئے الزامات پر دستبردار ہوتی ہیں جس کی ویڈیو اور ایف آئی آر موجود ہے۔ (ویڈیو ملاحظہ ہو)

    اس گینگ کے سی ڈی آر سے پتہ چلا کہ یہ بڑوں کے ساتھ رابطے میں رہ کر منظم طریقے سے بلیک میلنگ ریکیٹ چلاتے ہیں۔ اس کیس نے پولیس کی ناقص ترین تفتیش یا منصوبے کا پول کھول کر رکھ دیا ہے۔پولیس نے نہ انکوائری کی نہ معلومات، جھوٹے ایڈریس بغیر شناختی کارڈ اور موبائل نمبر کے فوری ایف ائی آر درج کرا لی۔واقع کی جانچ پڑتال کرنے کی زحمت تک نہیں کی شاید کہ اسی جج کو پھنسانے کے انتظار میں جلدی تھی ۔پولیس نے میڈیکلی بھی پوری جانچ پڑتال نہیں کی اور نہ پورا رزلٹ آنے کا انتظار کیا نہ تو چترال کا ایڈرس معلوم کیا نہ پشاور نہ خیر پور اور نہ رحیم یار اور نہ اس میں کوئی تحقیق گوارا کیا۔ لڑکی نے ڈینٹل کالج کی طالبہ ہونے کا بتایا مگر پولیس نے یہ بھی گوارا نہیں کیا کہ اس کی تصدیق کریں۔

    نوکری کے بہانے خاتون سے پیسے بٹورنے والے اور بعد ازاں زیادتی کرنیوالے جج کو جیل بھجوا دیا گیا جوڈیشل مجسٹریٹ کی عدالت میں سول جج کو پیش کیا گیا، اس موقع پر سیکورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے تھے، پولیس نے جج کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی تا ہم عدالت نے سینئر سول جج کا جوڈیشل ریمانڈ دے دیا، جس کے بعد سینئر سول جج کو جیل منتقل کر دیا گیا ہے

    سینئر سول جج تیمرگرہ جمشید کنڈی ریپ کے الزام میں گرفتارکئے گئے تھے، واقعہ کا تھانہ بلامبٹ میں مقدمہ درج کیا گیا ہے متاثرہ لڑکی نے پولیس تھانہ میں تحریری شکایت درج کرائی تھی ، ڈی ایچ کیو تیمرگرہ میں لڑکی کا طبی معائنہ کیا گیا جج نے لڑکی سے نوکری دینے کیلئے مبینہ پندرہ لاکھ روپے لئے تھے ،میڈیکل رپورٹ میں زیادتی کی تصدیق کے بعد ضلع دیر میں لڑکی سے مبینہ زیادتی کیس میں ملوث سینئر جج گرفتار کر لیا گیا،متاثرہ لڑکی کا کہنا ہے کہ ملزم نے بہن کی ملازمت کا جھانسہ دیکر لاکھوں روپے زیورات لیے تھے،زیورات واپس کرنے کے بہانے اپنے ساتھ گھر لے گیا،کہا نوکری کا معاملہ میرے ہاتھ سے نکل گیا، میرے ساتھ چلو اور سامان واپس لے لو،جمشید کنڈی مجھے سرکاری بنگلہ میں لے آئے اور مجھے کہا کہ میری جنسی خواہش پوری کرو، میں نے انکار کیا تو میرے ساتھ زبردستی زنا بالجبر کیا ،زیورات اور رقم بھی واپس نہیں کی،پولیس نے واقعہ کا مقدمہ درج کر کے جمشید کنڈی کو گرفتار کر لیا،

    دوسری جانب ضلع دیر میں خاتون سے مبینہ زیادتی کے الزام میں گرفتار سینئر سول جج معطل کر دیا گیا ہے،رجسٹرار پشاورہائیکورٹ کا کہنا ہے کہ قانون سب کے لیے برابر ہے عدالت قانون کی بالادستی پر یقین رکھتی ہے،

    واضح رہے کہ نوکری کا جھانسہ دے کر خواتین کے ساتھ زیادتی کے واقعات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، پنجاب میں بھی ایسے بے شمار واقعات ہو رہے ہیں،کئی واقعات رپورٹ نہیں ہوتے،عزت کی خاطر خواتین چپ کر جاتی ہیں بہت کم خواتین حق کے لئے آواز اٹھاتی ہیں،لاہور میں بھی ایک ایسا ہی واقعہ پیش آیا تھا، اچھرہ کی رہائشی چار بچوں کی ماں کو ملزم عمران نے نوکری ک جھانسہ دیکر بلایا، متاثرہ خاتون کے مطابق ملزمان نے کیری ڈبہ میں بٹھا کر نشہ آور بوتل پلائی اور نامعلوم جگہ پر لے گئے۔ متاثرہ خاتون کا کہنا تھا کہ تین دن تک ملزم عمران سمیت تین ملزمان اسے زیادتی کا نشانہ بناتے رہے اور تین روز بعد مانگا منڈی مین روڈ پر بے یار و مددگار پھینک دیا۔

    @MumtaazAwan

    فحاشی کے اڈے پر چھاپہ، پولیس کو ملیں صرف خواتین ،پولیس نے کیا کام سرانجام دیا؟

    جادو سیکھنے کے چکر میں بھائی کے بعد ملزم نے کس کو قتل کروا دیا؟

    پولیس کا ریسٹورنٹ پر چھاپہ، 30 سے زائد نوجوان لڑکے لڑکیاں گرفتار

    واٹس ایپ پر محبوبہ کی ناراضگی،نوجوان نے کیا قدم اٹھا لیا؟

    غیرت کے نام پر سنگدل باپ نے 15 سالہ بیٹی کو قتل کر دیا

    بیوی طلاق لینے عدالت پہنچ گئی، کہا شادی کو تین سال ہو گئے، شوہر نہیں کرتا یہ "کام”

    50 ہزار میں بچہ فروخت کرنے والی ماں گرفتار

    ایم بی اے کی طالبہ کو ہراساں کرنا ساتھی طالب علم کو مہنگا پڑ گیا

    یہ ہے لاہور، ایک ہفتے میں 51 فحاشی کے اڈوں پر چھاپہ،273 ملزمان گرفتار

    طالبعلم کے ساتھ گھناؤنا کام کرنیوالا قاری گرفتار،قبرستان میں گورکن کی بچے سے زیادتی

    نوکری کا جھانسہ دیکر لڑکی کے ساتھ مبینہ زیادتی کرنیوالا جج گرفتار

    نوکری کے بہانے خاتون سے زیادتی کرنیوالے جج کو جیل بھجوا دیا گیا

  • نوکری کا جھانسہ دیکر لڑکی کے ساتھ مبینہ زیادتی کرنیوالا جج گرفتار

    نوکری کا جھانسہ دیکر لڑکی کے ساتھ مبینہ زیادتی کرنیوالا جج گرفتار

    سینئر سول جج تیمرگرہ جمشید کنڈی ریپ کے الزام میں گرفتار کر لیے گئے

    تھانہ بلامبٹ میں مقدمہ درج کر لیا گیا، متاثرہ لڑکی نے پولیس تھانہ میں تحریری شکایت درج کرائی تھی ، ڈی ایچ کیو تیمرگرہ میں لڑکی کا طبی معائنہ کیا گیا جج نے لڑکی سے نوکری دینے کیلئے مبینہ پندرہ لاکھ روپے لئے تھے ،میڈیکل رپورٹ میں زیادتی کی تصدیق کے بعد ضلع دیر میں لڑکی سے مبینہ زیادتی کیس میں ملوث سینئر جج گرفتار کر لیا گیا،ڈی پی او لوئر دیر کا کہنا ہے کہ متاثرہ لڑکی کی شکایت پر ایف آئی آر درج کی گئی، جج زیر حراست ہے،

    متاثرہ لڑکی کا کہنا ہے کہ ملزم نے بہن کی ملازمت کا جھانسہ دیکر لاکھوں روپے زیورات لیے تھے،زیورات واپس کرنے کے بہانے اپنے ساتھ گھر لے گیا،کہا نوکری کا معاملہ میرے ہاتھ سے نکل گیا، میرے ساتھ چلو اور سامان واپس لے لو،جمشید کنڈی مجھے سرکاری بنگلہ میں لے آئے اور مجھے کہا کہ میری جنسی خواہش پوری کرو، میں نے انکار کیا تو میرے ساتھ زبردستی زنا بالجبر کیا ،زیورات اور رقم بھی واپس نہیں کی،پولیس نے واقعہ کا مقدمہ درج کر کے جمشید کنڈی کو گرفتار کر لیا،

    دوسری جانب ضلع دیر میں خاتون سے مبینہ زیادتی کے الزام میں گرفتار سینئر سول جج معطل کر دیا گیا ہے،رجسٹرار پشاورہائیکورٹ کا کہنا ہے کہ قانون سب کے لیے برابر ہے عدالت قانون کی بالادستی پر یقین رکھتی ہے،

    واضح رہے کہ نوکری کا جھانسہ دے کر خواتین کے ساتھ زیادتی کے واقعات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، پنجاب میں بھی ایسے بے شمار واقعات ہو رہے ہیں،کئی واقعات رپورٹ نہیں ہوتے،عزت کی خاطر خواتین چپ کر جاتی ہیں بہت کم خواتین حق کے لئے آواز اٹھاتی ہیں،لاہور میں بھی ایک ایسا ہی واقعہ پیش آیا تھا، اچھرہ کی رہائشی چار بچوں کی ماں کو ملزم عمران نے نوکری ک جھانسہ دیکر بلایا، متاثرہ خاتون کے مطابق ملزمان نے کیری ڈبہ میں بٹھا کر نشہ آور بوتل پلائی اور نامعلوم جگہ پر لے گئے۔ متاثرہ خاتون کا کہنا تھا کہ تین دن تک ملزم عمران سمیت تین ملزمان اسے زیادتی کا نشانہ بناتے رہے اور تین روز بعد مانگا منڈی مین روڈ پر بے یار و مددگار پھینک دیا۔

    @MumtaazAwan

    فحاشی کے اڈے پر چھاپہ، پولیس کو ملیں صرف خواتین ،پولیس نے کیا کام سرانجام دیا؟

    جادو سیکھنے کے چکر میں بھائی کے بعد ملزم نے کس کو قتل کروا دیا؟

    پولیس کا ریسٹورنٹ پر چھاپہ، 30 سے زائد نوجوان لڑکے لڑکیاں گرفتار

    واٹس ایپ پر محبوبہ کی ناراضگی،نوجوان نے کیا قدم اٹھا لیا؟

    غیرت کے نام پر سنگدل باپ نے 15 سالہ بیٹی کو قتل کر دیا

    بیوی طلاق لینے عدالت پہنچ گئی، کہا شادی کو تین سال ہو گئے، شوہر نہیں کرتا یہ "کام”

    50 ہزار میں بچہ فروخت کرنے والی ماں گرفتار

    ایم بی اے کی طالبہ کو ہراساں کرنا ساتھی طالب علم کو مہنگا پڑ گیا

    یہ ہے لاہور، ایک ہفتے میں 51 فحاشی کے اڈوں پر چھاپہ،273 ملزمان گرفتار

    طالبعلم کے ساتھ گھناؤنا کام کرنیوالا قاری گرفتار،قبرستان میں گورکن کی بچے سے زیادتی