Baaghi TV

Tag: جرائم

  • ڈی آئی جی شیراکبر کی  مردان ریجن جرائم کی روک تھام   کے حوالے سے آئی جی پی کو تفصیلی بریفنگ

    ڈی آئی جی شیراکبر کی مردان ریجن جرائم کی روک تھام کے حوالے سے آئی جی پی کو تفصیلی بریفنگ

    انسپکٹر جنرل آف پولیس خیبرپختونخوا ڈاکٹر ثناء اللہ
    عباسی کا مردان کا دورہ جس میں ریجن کے پولیس افسران کے اعلیٰ سطحی میٹنگ کی صدارت کی۔ میٹنگ میں ڈی آئی جی مردان ریجن شیراکبراور مردان ریجن کے تمام ڈی پی اوز کی شرکت ہوئی۔ ڈی آئی جی شیراکبر کی مردان ریجن میں جرائم کی روک تھام اور امن وامان کی صورت حال کے حوالے سے آئی جی پی کو تفصیلی بریفنگ دی۔ پولیس امن وامان کو خراب کرنے والے عناصر کے خلاف بلاتفریق کارروائیاں عمل میں لائیں ، آئی جی ثناء اللہ عباسی۔ پولیس عوام دوست پولیسنگ کو فروغ دیں ، عوامی تنازعات انکی باہمی رضا مندی سے ڈی آرسی کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کریں ، آئی جی ثناء اللہ عباسی۔ قتل،اقدام قتل،چوری،ڈکیتی اور دیگر مختلف مقدمات میں مطلوب مجرمان اشتہاریوں کے خلاف کاروائیاں مزید تیز کیا جائیں ، آئی جی ثناء اللہ عباسی۔ آئی جی کے پی کا کہنا ہے کہ منشیات جیسے زہر کاکاروبارکرنے والے عناصر اور گروہوں کے خلاف گھیرا تنگ کیا جائیں ، چوری وڈکیتی واقعات کی روک تھام کے لئے مثبت اقدامات اٹھاکر جرائم پیشہ افراد کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے ، پولیس کی جانب سے لوگوں کو جانی ومالی تحفظ کو یقینی بنایا جا سکیں ، بچوں اور خواتین سے جنسی زیادتی کے واقعات کی روک تھام کے لئے عوام میں آگاہی پھیلائیں ،واقعات کی اطلاع ملتے ہی فوراََ کارروائی کریں ، ملوث افراد کو گرفتار کرکے قانون کے مطابق انکو سزا دلوائی جائے۔

  • جان لیوا اور مضر صحت منشیات عام ، اینٹی نارکوٹکس فورس دفاتر تک محدود

    پتوکی سمیت قصور بھر میں شراب،چرس، ہیروئن گٹکا سمیت دیگر منشیات کا کاروبار عروج پر ہے،جبکہ پولیس سمیت دیگر متعلقہ ادارے مبینہ کرپشن،سیاسی دباؤ اور دیگر وجوہات کی بنا پر کاروائی کرنے سے گریزاں ہیں۔
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق
    اسمگل شدہ بھارتی گٹکا، چرس، افیون، ہیروئن، راکٹ اور دیگر نشہ آور اشیاء کا نوجوانوں اور کم عمر بچوں میں استعمال تیزی سے بڑھ رہاہے۔ عوامی حلقوں نے اس امر پر تعجب کا اظہار کیا ہے کہ کرونا وائرس جیسی وباء کے دوران منشیات کی کھلے عام دستیابی حیرت انگیز ہے۔ایک سروے رپورٹ کے مطابق ضلع قصور کے مختلف دیہی علاقوں میں مضر صحت اشیاء سے شراب کشید کرنے کی بڑی تعداد میں بھٹیاں کام کررہی ہیں۔ دیسی شراب کا کاروبار اندرون قصور کی تحصیل پتوکی میں خاصا عروج پر ہے۔
    ذرائع کے مطابق منشیات فروش مافیا کےسفید پوش افراد سیاسی سرپرستی میں مخصوص مقامات پر شراب فروخت کرنے کے ساتھ اس کی ہوم ڈلیوری بھی کرتے ہیں۔شراب کی کھلے عام دستیابی سے نوجوان نسل میں اس کا استعمال تیزی سے بڑھ رہا ہے، اس کے علاوہ چرس اور ہیروئن کی خرید و فروخت بھی عام ہے۔
    باغی ٹی وی کی اطلاعات کے مطابق اندرون قصور کے علاوہ اسمگل شدہ بھارتی گٹکے کی بڑی مارکیٹ بنا ہوا ہے۔ پتوکی شہر کے علاوہ ضلع کے تمام چھوٹے بڑے شہروں اور قصبات میں پان کے کیبنوں،پرچون کی دکانوں،اور دیگر مقا مات پر بھارتی اسمگلنگ شدہ گٹکا سفینہ،21سو،پان پراگ،ظفری اور دیگر ناموںسے کھلے عام دستیاب ہے،جبکہ بڑے پیمانے پر اسمگل شدہ مختلف برانڈکی غیر ملکی سگر یٹ کا کاروبار بھی سیاسی سرپرستی میں جاری ۔
    دوسری طرف شہر کے بیچوں بیچ شراب فروخت کرنے والے ڈیلر موجود ہیں جو ریکارڈ یافتہ مجرم ہیں شراب کے عادی افراد شراب پی کر گلی محلوں میں گالم گلوچ اور بیہودہ زبان استعمال کرتے نظر آتے ہیں جس کی وجہ سے خاص طور پر عورتوں کو گزرنا مشکل ہوتا ہے ان شراب فروشوں اور شراب کے عادی افراد اس قدر گلی محلوں میں دندناتے پھرتے ہیں جس کی وجہ سے علاقے میں خوف و ہراس پھیل جاتا ہے اہل علاقہ کا ڈی پی او قصور عمران کشور سے مطالبہ کے ان مجرمان کے خلاف سخت کاروائی کی جائے اور علاقے کو محفوظ کیا ایسے لوگوں کی وجہ سے معصوم بچوں پر بہت زیادہ اثر پڑتا ہے۔

    (غفار ریاض نمائندہ باغی ٹی وی قصور)

  • جرائم میں ملوث افراد کے خلاف  جاری مہم مزید تیز کریں، خیبرپختونخوا ڈاکٹر ثناءاللہ عباسی   ۔

    جرائم میں ملوث افراد کے خلاف جاری مہم مزید تیز کریں، خیبرپختونخوا ڈاکٹر ثناءاللہ عباسی ۔

    آئی جی پی خیبر پختونخوا ڈاکٹر ثناءاللہ عباسی نے ویڈیو لنک کانفرنس میں صوبے میں امن و امان کی صورتحال کاجائزہ لیا۔
    رواں سال کے دوران صوبے میں 1600سرچ اینڈ سٹرائیک آپریشنز کئے گئے۔7773مشتبہ افراد کو گرفتارکرکے 2134عدد اسلحہ اور 53773عدد ایمونیشن برآمد کئے گئے۔ مختلف مقدمات میں مطلوب 1470 مجرمان اشتہاری گرفتار کئے گئے۔
    پولیس ہر قسم کے جرائم میں ملوث افراد کے خلاف گھیرا تنگ کریں۔ فورس کے جوانوں کی فلاح و بہبود کے لیے تمام وسائل بروئے کار لاتے ہوئے ہر ممکن اقدامات اٹھائیں۔آئی جی پی

    انسپکٹرجنرل آف پولیس خیبرپختونخوا ڈاکٹر ثناءاللہ عباسی نے اعلیٰ پولیس حکام کو ہدایت کی کہ وہ ہر قسم کے جرائم میں ملوث افراد کے خلاف اپنی جاری مہم کو مزید تیز کرتے ہوئے زیادہ سے زیادہ گرفتاریاں عمل میں لائیں۔
    یہ ہدایات انہوں نے آج سنٹرل پولیس آفس پشاور سے صوبہ بھر کے ریجنل پولیس افسروں کے ساتھ ایک ویڈیولنک کانفرنس کرتے ہوئے جاری کیں۔ ریجنل پولیس افسروں نے اپنے اپنے ریجن میں جرائم پیشہ افراد اور منشیات فروشوں کے خلاف کی گئیں کاروائیوں اور پولیسنگ کے معیار کو بہتر بنانے اور اہلکاروں کے فلاح و بہبود کے لیے اُٹھائے گئے اقدامات کے حوالے سے باری باری تفصیلی بریفنگ دی۔ ویڈیو کانفرنس میں آئی جی پی کو بتایا گیا کہ رواں سال کے دوران صوبہ بھر میں مجموعی طور پر 1600سرچ اینڈ اسٹرائیک آپریشنز کئے گئے جن میں 7773مشتبہ افراد اور 1470 مجرمان اشتہاری کو گرفتار کرکے ا ن سے 2134 عدد مختلف اقسام کے ہتھیار، 53773 عدد ایمونیشن برآمد کئے گئے۔
    اس دوران پشاور میں 209آپریشنز کئے گئے جس میں 1671مشتبہ افراد گرفتار ہوئے جن کے قبضے سے 208عدد ہتھیار اور 2909عدد مختلف بور کے کارتوس برآمد کئے گئے۔جبکہ مردان ریجن میں 217آپریشنز میں 1218مشتبہ افراد سے 810عدد ہتھیار اور 11776عدد کارتوس برآمد ہوئے۔ اسی طرح کوہاٹ ریجن میں 262آپریشنزمیں 1566مشتبہ افرادسے 451عدد ہتھیار ، 19725عدد کارتوس اور بنوں ریجن میں 276آپریشنز میں 814مشتبہ افراد سے 167عدد ہتھیاراور 3090 عدد کارتوس، ڈی آئی خان ریجن میں 87آپریشنز میں 143مشتبہ افراد سے 104عدد ہتھیار اور 1188عدد کارتوس، ملاکنڈریجن میں 419آپریشنز میں 1327مشتبہ افراد سے 100عدد ہتھیار اور 1556عدد کارتوس، ہزارہ ریجن میں 130آپریشنز میں 440 مشتبہ افراد سے 294عدد ہتھیار اور 13529عدد کارتوس برآمد کئے گئے۔
    انسپکٹر جنرل آف پولیس خیبر پختونخوا نے اعلیٰ پولیس حکام کو ہدایت کی کہ ہر قسم کے جرائم میں ملوث افراد کے خلاف جاری مہم کو مزید تیز کرتے ہوئے زیادہ سے زیادہ مجرمان اشتہاری کی گرفتاریاں یقینی بنائیں۔ انہیں عوام کی نبض پر ہاتھ رکھ کر موثر عوامی پولیسنگ کو یقینی بنانے، موٹر وے پولیس کے ساتھ مل کر موٹر وے اور دیگر شاہراہوں پر پولیس کی گشت کو بڑھانے اور تنازعات کے حل کی کونسلوں کو مزید فعال بنا کر ان کے ذریعے زیر التوا تنازعات کا جلد از جلد تصفیہ کرانے کی بھی ہدایت کی گئی۔ آئی جی پی نے پورے صوبے میں پولیس تھانوں، پولیس چیک پوسٹوں اور دیگر ضروری عمارات میں سی سی ٹی وی کیمروں کی تنصیب کا عمل فوری مکمل کرکے رپورٹ سنٹرل پولیس آفس پشاور کو بھیجوانے کی بھی ہدایت کی۔ پولیس حکام کو ہدایت کی کہ ملازمت کے دوران فوت ہونے والے پولیس اہلکاروں کے بچوں کو پولیس فورس میں بھرتی کرنے کا عمل فوراً مکمل کرنے اور حاضر سروس ملازمین کی فلاح وبہبود کے لیے تمام وسائل کو بروئے کار لائیں اور ماتحتان کے مشکلات سے آگاہی حاصل کرکے ان کو حل کرنے کی بھی ہدایت کی گئی۔ آئی جی پی نے کہا کہ پولیس فورس کو اپنا آئینی اور قانونی کردار پیشہ ورانہ تقاضوں کے مطابق ادا کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑنا چاہئے اور پولیس حکام کو ہدایت کی کہ وہ جرائم پیشہ افراد کے خلاف مقررہ اہداف کے حصول کے لیے تن من دھن کی بازی لگا کر صوبے کو امن کا گہورہ بنائیں۔

  • جرائم کی بیخ کنی کے ساتھ ساتھ شہریوں کو پولیس سے متعلقہ آن لائن خدمات کی فراہمی یقینی

    جرائم کی بیخ کنی کے ساتھ ساتھ شہریوں کو پولیس سے متعلقہ آن لائن خدمات کی فراہمی یقینی

    پولیس موبائل خدمت مرکز،رواں ہفتے کا شیڈول
    بروز پیرچائنہ سکیم گجر پورہ، منگل مین بازار حنیف پارک بادامی باغ،بدھ80 فِٹ روڈ ہنجروال،
    جمعرا ت اعظم گارڈن مصطفی ٹاؤن،جمعہ نواب ٹاؤن جبکہ بروز ہفتہ سندر فرائض سرانجام دے گا۔
    لاہور،07 فروری 2021: ڈی آئی جی آپریشنزلاہورساجد کیانی نے کہا ہے کہ جرائم کی بیخ کنی کے ساتھ ساتھ شہریوں کو پولیس سے متعلقہ آن لائن خدمات کی فراہمی یقینی بنائے ہوئے ہیں۔موبائل پولیس خدمت مرکز شہر کے مخصوص پوائنٹس پر مقررہ اوقات میں فرائض انجام دے رہا ہے۔ شہریوں کو ایک ہی چھت تلے ویری فکیشن سرٹیفکیٹس، گمشدگی رپورٹ، تجدید ڈرائیونگ لائسنس سمیت 14اقسام کی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔ موبائل پولیس خدمت مرکزبروز پیرچائنہ سکیم گجر پورہ، منگل مین بازار حنیف پارک بادامی باغ،بدھ80 فِٹ روڈ ہنجروال، جمعرا ت اعظم گارڈن مصطفی ٹاؤن،جمعہ نواب ٹاؤن جبکہ بروز ہفتہ سندر فرائض سرانجام دے گا۔شہری اپنے علاقہ میں موبائل پولیس خدمت مرکز سے استفادہ کریں۔

  • شہر میں منشیات فروشی عروج پر، نشیئوں نے شہر کی مختلف شاہراہوں پر ڈیرے جما لئے، پولیس خاموش

    شہر میں منشیات فروشی عروج پر، نشیئوں نے شہر کی مختلف شاہراہوں پر ڈیرے جما لئے، پولیس خاموش

    لاہور : لال پل، فتح گڑھ، لاری اڈا، داتا دربار اور بادشاہی مسجد کے اطراف لکشمی چوک، چوبرجی چوک سمیت 120 علاقوں میں نشہ کے عادی افراد کے ڈیرے منشیات کے استعمال میں تشویشناک حد تک اضافہ، خواتین کی بڑی تعداد بھی مبتلا، شہر میں کھلی سڑکوں پر منشیات عام ہو گئی، جبکہ پولیس خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔ نشہ کے عادی افراد نے 120 مقامات پر ڈیرے جما لئے۔ لال پل، فتح گڑھ، مغلپورہ، ہربنس پورہ، باغبان پورہ اور پارکوں سمیت دیگر علاقوں میں کھلے عام نشے کا استعمال اور ٹیکے لگائے جا رہے ہیں ،سب سے زیادہ نوجوان نسل متاثر ہو رہی ہے ۔ ذرائع کے مطابق شہر میں 2020 کے دوران منشیات کی طلب اور رسد میں تشویشناک حد تک اضافہ ہوا ہے جس کی وجہ ملک میں معاشی عدم استحکام، مہنگائی ،بیروزگاری وغیرہ شامل ہیں۔ خواتین کی بڑی تعداد بھی نشہ جیسی لت کا شکار ہو رہی ہے ۔لاری اڈا، علی پارک، داتا دربار اور بادشاہی مسجد کے اطراف، ایف سی کالج میٹر وسٹیشن، پرندہ مارکیٹ، بھاٹی، موچی گیٹ، لوہاری، ٹیکسالی، شاہدرہ، لاہور ہوٹل، لکشمی ، ریگل، گنگا رام، چوبرجی چوک، سبزہ زار، علامہ اقبال ٹاؤن، گلشن راوی بند روڈ، شیر پاؤپل، مسلم ٹاؤن موڑ، کوآپ سٹور، مصری شاہ اور دیگر علاقوں میں منشیات کا استعمال ہو رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق پاکستان میں نشہ کرنے والے افراد کی تعداد 2013 میں 67 لاکھ اور 2020 میں ایک کروڑ تک پہنچ چکی ہے ۔ترجمان پنجاب پولیس نے کہا انجکشن نشہ کو کنٹرول کرنا محکمہ ہیلتھ کا کام ہے کیونکہ نشئی انجکشن سمیت دیگر نشہ آور اشیا میڈیکل سٹورز سے لیکر استعمال کرتے ہیں۔ چیف ڈرگ کنٹرولر پنجاب اظہر جمال سلیمی نے کہا میڈیکل سٹورز پر نشہ آور ادویات کی روک تھام کیلئے اقدامات کئے جا رہے ہیں، بغیر نسخہ کے کسی کو بھی نارکوٹکس ادویات نہیں دی جا رہیں، اگر کوئی میڈیکل سٹور یا فارمیسی ایسا کر رہی ہے تو اس کے خلاف کارروائی کی جا رہی ہے ۔

  • پڑوسی ملک سے دہشتگردی کی تربیت حاصل کردہ  بی ایل اے کا دہشتگرد گرفتار۔

    پڑوسی ملک سے دہشتگردی کی تربیت حاصل کردہ بی ایل اے کا دہشتگرد گرفتار۔

    سی ٹی ٹی کی سکھر میں کارروائ ہوئی ،بی ایل اے کا دہشتگرد گرفتار۔ دہشتگرد نے پڑوسی ملک سے دہشتگردی کی تربیت حاصل کی۔ دہشتگرد بے ایل اے کیلیے ذہن سازی کرتا تھا۔ بی ایل اے کا گرفتار دہشتگرد ساتھیوں کے ساتھ مل کر تحصیل سنگ میں ایف سی چیک پوسٹ پر حملے میں ملوث ہے۔ گرفتار دہشتگرد ،مہران ہوٹل سبی میں ہونے والے بم دھماکے میں شامل تھا۔ سبن پہاڑی کے نزدیک ایف سی چیک پوسٹ پر حملہ بھی کیا،ڈی آئی جی سی ٹی ڈی عمر شاہد

  • آن لائن پتنگیں اور ڈوریں فروخت کرنے والا گینگ گرفتار

    آن لائن پتنگیں اور ڈوریں فروخت کرنے والا گینگ گرفتار

    راولپنڈی: کینٹ پولیس کی پتنگ فروشوں کے خلاف بڑی کاروائی.سوشل میڈیا کا استعمال کر کے آن لائن پتنگیں اور ڈوریں فروخت کرنے والا گینگ گرفتار .پتنگ فروشوں سے 05 ہزار کے قریب پتنگیں اور 25 کیمیکل ڈوریں برآمد، مقدمات درج، گرفتار ملزمان میں گینگ کا سرغنہ شاہ رخ جبکہ دیگر ملزمان میں عامر ، عاشر اور یاسر شامل ہیں. ملزمان نے سوشل میڈیا کا استعمال کرتے ہوئے مختلف گروپس بنا رکھے تھے جہاں وہ پتنگوں اور ڈوروں کی آن لائن ڈیل کرتے تھے. پتنگ فروشوں کے خلاف کاروائی ایس ڈی پی او کینٹ کی زیرنگرانی ایس ایچ او کینٹ اور ان کی ٹیم نے کی ، پولیس

    گینگ کے دیگر سہولت کاروں کی گرفتاری بھی جلد عمل میں لائی جائے گی ، ایس ڈی پی او کینٹ ، ایس ایچ او اور پولیس ٹیم کو شاباش ۔ ملزم جتنا بھی چالاک کیوں نہ ہو، قانون کی گرفت سے نہیں بچ سکتا، پتنگ فروشوں کے خلاف کاروائیاں مزید تیز کی جائیں ، سی پی او راولپنڈی.

  • جرائم پیشہ افراد کیخلاف آپریشن

    جرائم پیشہ افراد کیخلاف آپریشن

    قصور
    الہ آباد میں جرائم پیشہ افراد کے خلاف آپریشن جاری کئی گرفتار
    تفصیلات کے مطابق تحصیل چونیاں کے تھانہ الہ آباد کی حدود سے جرائم کا خاتمہ اولین ترجیح ہے ڈی پی او قصور عمران کشور کی ہدایت پر عمل کرتے ہوئے جرائم پیشہ افراد کے خلاف گھیرا تنگ کردیا گیا ہے کسی کو بھی قانون ہاتھ میں نہیں لینے دینگے ان خیالات کا اظہار ایس ایچ او تھانہ الہ آباد سید ظہیر عالم شاہ نے روزنامہ دنیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا انہوں نے کہا کہ معززین علاقہ کے لیے چوبیس گھنٹے حاضر ہوں جرائم کی نشاندہی کریں فوری کارروائی عمل لائی جائے گی ٹاؤٹ مافیا کے لیے تھانہ الہ آباد کے دروازے بند ہیں میرٹ پر کام سرانجام دینا میری ڈیوٹی میں شامل ہے کسی بھی مظلوم کے ساتھ غنڈہ گردی فراڈ بازی برداشت نہیں کرونگا کوشش کرتا ہوں کہ کسی کے ساتھ ظلم نہ ہو عوام کو انصاف ملے پولیس اور میڈیا کا چولی دامن کا ساتھ ہے جرائم پیشہ افراد کو پکڑنے کے لیے ٹیمیں تشکیل دے دی ہیں جو روزانہ کی بنیاد پر کارروائی کر رہی ہیں جلد بڑے مجرم تھانہ کی حوالات میں بند ہونگے شہری پولیس کے ساتھ تعاون رکھیں نام صیغہ راز میں رہے گا

  • "انڈہ 13 کا ہونا” تو سنا تھا مگر قصور میں انڈہ 20 کا ہوگیا

    "انڈہ 13 کا ہونا” تو سنا تھا مگر قصور میں انڈہ 20 کا ہوگیا

    قصور
    چونیاں میں انڈے انتہائی بلندی پر ،مہنگائی بم بے قابو
    تفصیلات کے مطابق چونیاں اور گردونواح میں برائلر انڈا نایاب ہو گیا ہے برائلر انڈا پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار بلند ترین قیمت میں فروخت کیا جانے لگا ہے
    دو دن پہلے 10روپے میں ملنے والا انڈا 20 روپے میں بکنے لگا ہے تحصیل بھر میں انڈے کی قیمت میں سو فی صد اضافہ کر دیا گیا تحریک انصاف کی حکومت میں انڈے کی قیمت بلند ترین مقام پر پہنچ گئی جس سے اب عوام انڈے جیسی ضرورت پوری کرنے سے بھی محروم ہونے لگی ہے چند دن پہلے 120 روپے درجن میں ملنے والا انڈا 240 روپے درجن میں بکنے لگا ہے عمراں خاں کی حکومت میں عوام پہلے ہی سبزیوں اور گوشت کی ہو شربا قیمتوں سے انتہائی پریشان تھی کہ اوپر سے انڈا بھی نایاب ہو گیا عوام جائے تو جائے کہاں کیا کھائے جبکہ دوائیوں کی قیمتوں میں بے پناہ اضافے سمیت پاکستان کی عوام پر ہر دن مہنگائی کے بم بر سائے جانے لگے اگر یہی صورتحال رہی تو بہت جلد لوگ فاقہ کشی اور قوت خرید ختم ہونے سے جرائم کی طرف مائل ہونے لگے گیں جس سے خانہ جنگی کا خدشہ ہے

  • پولیس کے ظلم سے متاثرہ خاتون انصاف کے حصول کے لیے در بدر ماری ماری پھرنے لگی

    پولیس کے ظلم سے متاثرہ خاتون انصاف کے حصول کے لیے در بدر ماری ماری پھرنے لگی

    باغی ٹی وی رپورٹ کے مطابق دوسروں کو ظلم سےبچانے والی پولیس بھی ظالموں سےمل گئی، متاثرین انصاف کے لیے مارےمارے پھر رہےکہیں شنوائی نہیں ہو رہی، قانون کے رکھوالوں نے خود قانون کی دھجیاں بکھیر دیں۔ چادر چار دیواری کی عصمت بھی پامال کردی۔ تفصیلات کے مطابققصور کے علاقے منگل منڈی میں بچوں کی وجہ سے دو ہمسائیوں کا جھگڑا ہو جس میں کونسلر کہ جو جھگڑا کر رہا تھا اس نے فوراَ پولیس کو بلا لیا ،
    پولیس نے اس موقع پر کونسلر کے کہنے پر عبدالرشید کے گھر داخل ہو کر نہ صرف توڑ پھوڑ کی بلکہ بچوں اور خاتون کو تشدد کا نشانہ بھی بنایا، اس سلسلے میں گھر کے اندر توڑ پھوڑ کرتے ہوئے فرج، ٹی وی اور فرنیچر کو نقصان پہنچایا اسی طرح عبدالرشید کی بیوی پر تشدد کیا اس کی رخسار پر تھپڑ مارے جس سے اس کی سماعت بھی متاثر ہو گئی، اس کے علاوہ جسمانی تشدد کر کے زخمی بھی کر دیا ۔اس کا موبائل بھی توڑ دیا، اس دوران محلے والوں یا کسی مرد کو اندر نہیں آنے دیا، الٹا یہ الزام لگایا کہ عبدالرشید کی بچے نے پولیس والوں پر حملہ کیا ہے جا میں پولیس والا زخمی بھی ہو گیا۔

    جس کے بعد پولیس نے متاثرین کے خلاف ایف آئی آر درج کر دی اور جان سے مارنے کی سنگین دفعات لگا کر بچوں کو حولات میں بند کر دیا، اس زیادتی پر متاثرین نے پولیس کے اعلیٰ افسران کے حاں بھی شکایت کی لیکن کچھ انصاف نہیں ملا، اسی طرح متاثرین نے وزیراعظم پورٹل پر بھی شکایت کی بھی کی اس پر ایکشن لیتے ہوئے انکوائری رپورٹ بھی کی گئی لیکن پولیس والوں کی زیادتی کا کچھ ازالہ نہیں کیا گیا۔ سبھی یہ کہتے ہیں آپ پر ظلم ہوا لیکن اس ظلم کا ازالہ نہیں کیا گیا ۔متاثرین نے ہر جگہ کوشش کی لیکن انصاف نہیں ملا۔