Baaghi TV

Tag: جرمن وزیر خارجہ

  • پاکستان کے دورے پر موجود جرمن وزیرخارجہ کا کورونا ٹیسٹ مثبت آگیا

    پاکستان کے دورے پر موجود جرمن وزیرخارجہ کا کورونا ٹیسٹ مثبت آگیا

    پاکستان کے دورے پر موجود جرمن وزیرخارجہ کا کورونا ٹیسٹ مثبت آگیا۔

    جرمنی کی وزیرخارجہ اینالینا بیئربوک نے کورونا ٹیسٹ مثبت آنے کے بعد اپنا دورہ پاکستان مختصر کردیا ہے۔ جرمن وزیرخارجہ نے پاکستان میں اپنی بقیہ تمام مصروفیات منسوخ کردی ہیں۔

    پاکستان کے دو روزہ دورے پر آنےوالی جرمن وزیر خارجہ کو یونان اور ترکی بھی جانا تھا۔ خیال رہے کہ پاکستان میں جرمن وزیر خارجہ نے اپنے پاکستانی ہم منصب بلاول بھٹو زرداری سے بھی ملاقات کی تھی۔

    اس سے قبل جرمن وزیر خارجہ انالینا بیئربوک کے ہمراہ نیوز کانفرنس کرتے ہوئے وزیر خارجہ بلاول بھٹو نے کہا کہ جرمنی کی وزیر خارجہ کو دورۂ پاکستان پر خوش آمدید کہتے ہیں، جرمنی پاکستان کا یورپی یونین میں سب سے بڑا شراکت دار ہے۔

    بلاول بھٹو نے کہا کہ پاکستان اور خود میں دہشت گردی کا شکار ہوا ہوں، امید ہے افغان حکومت دہشت گردی کے خاتمے کے لیے اقدامات کرے گی، ہمیں افغانستان سے مزید مہاجرین کی آمد کا خطرہ ہے۔

    انہوں نے کہا کہ افغانستان میں 97 فیصد لوگ خط غربت کے نیچے جا رہے ہیں، افغان حکومت کو عالمی برادری کی توقعات پر پورا اترنا ہوگا، افغانستان سے انہیں نکالنے کی کوشش کررہے ہیں جن کی زندگیوں کو خطرہ ہے۔

    بلاول بھٹو نے کہا کہ میری ترجیح پاکستان کی معاشی سفارتکاری کا فروغ ہے، ہماری توجہ ٹریڈ، ناٹ ایڈ پر مرکوز ہے۔

    وزیر خارجہ نے بتایا کہ یوکرین پر پاکستان کے موقف میں کوئی تبدیلی نہیں آئی، ہم یوکرین میں جنگ کا فوری خاتمہ چاہتے ہیں، تمام تنازعات کو بالآخر بات چیت سے ہی حل ہونا ہوتا ہے، ہم روس یوکرین جنگ کے مذاکراتی حل پر زور دیتے رہیں گے۔

    وزیر خارجہ بلاول بھٹو نے کہا کہ پاکستان نے چین اور دنیا کے درمیان سفارتی تعلقات شروع کرانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

    بلاول کا کہنا تھا کہ بھارت کے یک طرفہ اقدامات کے باعث دو طرفہ بات چیت کا عمل متاثر ہوا ہے، بھارت اب ایک ہندوتوا انڈیا ہے، بھارت کی طرف سے اشتعال انگیز بیانات بات چیت کے راستے میں رکاوٹ ہیں۔

    نیوز بریفنگ میں جرمن وزیر خارجہ انالینا بیئربوک نے کہا کہ افغان صورت حال سے سب سے زیادہ پاکستان متاثر ہوا، خواتین کی حقوق معاشرے میں اہمیت کے حامل ہیں، افغانستان کو انسانی بحران کا سامنا ہے۔

    جرمن وزیر خارجہ نے کہا کہ ہم نے باہمی تجارت کے فروغ پر بات چیت کی ہے، مقبوضہ کشمیر پر اقوام متحدہ کی قراردادوں کی حمایت کرتے ہیں، مسئلہ کشمیر کا حل بات چیت کے ذریعے ہونا چاہیے۔

  • شاہ محمود قریشی کا جرمن ہم منصب سے ٹیلیفونک رابطہ،پاکستان میں بھارتی میزائل گرنے کے معاملے پر بات چیت

    شاہ محمود قریشی کا جرمن ہم منصب سے ٹیلیفونک رابطہ،پاکستان میں بھارتی میزائل گرنے کے معاملے پر بات چیت

    وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی کا جرمن ہم منصب اینالینا بیئربوک سے ٹیلیفونک رابطہ کیا-

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق شاہ محمود قریشی نے ٹیلیفونک ملاقات میں بھارتی میزائل پاکستان میں گرنے کا معاملہ اٹھایا کہا کہ بھارتی میزائل پاکستان میں گرنے کو غلطی تسلیم کرنا کافی نہیں، بھارت اس معاملے کی مشترکہ تحقیقات کرائے اور عالمی برادری سنجیدگی سے نوٹس لے۔

    تمام اختیارات وزیراعظم کو دے دیئے گئے،شیخ رشید کا دعویٰ

    شاہ محمود قریشی نے یوکرین کی صورت حال پر پاکستان کی تشویش سے بھی جرمن وزیر خارجہ کو آگاہ کیا اور بتایا کہ وہ اپریل میں جرمن وزیرخارجہ کے دورہ پاکستان کے منتظر ہیں۔

    خیال رہے کہ گزشتہ دنون بھارت نے پاکستان میں میزائل داغنے کو فوج کی ’غلطی ‘قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ یہ ’انتہائی افسوسناک‘ واقعہ ہے۔

    بھارتی وزارت دفاع کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا تھا کہ معمول کی دیکھ بھال کے دوران، ایک تکنیکی خرابی کی وجہ سے بدھ کو میزائل حادثاتی طور پر فائر ہوا جو پاکستان کے ایک علاقے میں گرا واقعے میں کسی انسانی جان کے نقصان کا نہ ہونا باعث اطمینان ہے۔

    اس حوالے سے پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل بابر افتخار نے ہنگامی پریس کانفرنس کی تھی اور بتایا تھاکہ 9 مارچ کو 6 بج کر 33 منٹ پر بھارتی حدود سے ایک ‘چیز’ نے پاکستان کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کی یہ ایک سوپر سونک پروجیکٹ تھا جو ممکنہ طور پر میزائل تھا اور غیر مسلح تھا، یہ آبجیکٹ بھارت میں سو کلو میٹر اندر تھا، تبھی ہم نے اسے نوٹس کرلیا۔

    سارا پنڈ مرجائے میراثی کی باری نہیں آنی،لیگی رہنما کا حمزہ شہباز کے وزیر اعلیٰ بننے کے سوال پر ردعمل

    میجر جنرل بابر افتخار نے کہا تھا کہ پاکستانی فضائی حدود میں وہ چیز 3 منٹ اور چند سیکنڈ تک رہی اور 260 کلومیٹر اندر تک سفر کیااس کے خلاف ضروری کارروائی بروقت کرلی گئی، پاک فضائیہ نے اس کی مکمل نگرانی کی اورپتا چلایا کہ وہ بھارتی علاقے سرسا سے آئی تھی پاکستان فضائی حدود کی خلاف ورزی کی مذمت کرتا ہے،بھارت کو اس واقعے کی وضاحت دینی ہوگی، پاکستان نے ہمیشہ ذمہ دار ملک ہونے کا ثبوت دیا ہے، ہم اس واقعے پر کسی قسم کی اشتعال انگیزی نہیں کر رہے۔

    نائب امیر جماعت اسلامی کا پیکا آرڈی نینس کو فی الفور واپس لینے کا مطالبہ