Baaghi TV

Tag: جسمانی ریمانڈ

  • شہباز گِل کا جسمانی ریمانڈ کالعدم قرار دینے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ

    شہباز گِل کا جسمانی ریمانڈ کالعدم قرار دینے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ

    اسلام آباد کی مقامی عدالت میں شہبازگل سے متعلق بغاوت کیس کی سماعت ہوئی

    شہباز گل کے وکیل فیصل چودھری اور بابر اعوان عدالت میں پیش ہوئے، فیصل چودھری نے کہا کہ آج شہباز گل کو پیش کرنا ہے، ہائیکورٹ میں کیس زیر سماعت ہے،اوکیل نے کہا کہ اگر ایک بجے تک کیس کی سماعت کریں ہم ہائیکورٹ سے ہو کر آجائینگے، فیصل چودھری نے کہا کہ ہم ساڑھے 9 بجے تک انتظار کر لیتے ہیں ابھی پتہ کرلیں شہباز گل کوکس وقت لیکر آئینگے،جس پر جج نے کہا کہ ہم تو پتہ نہیں کراتے آپ کہتے ہیں تو پتہ کرا لیتے ہیں، عدالت نے پولیس کو ہدایت کی کہ پتہ کریں کب شہباز گل کو پیش کیا جائے گا شہباز گل کے وکیل فیصل چودھری نے ایک بجے تک سماعت ملتوی کرنے کی استدعا کر دی،عدالت نے وکیل سے سوال کیا کہ ابھی میں نے نہیں دیکھا کہ آپ کس کارروائی کی بات کر رہے ہیں ملزم کو پیش کرنے دیں پھر دیکھ لیتے ہیں

    عدالت نے شہباز گل کو ساڑھے 12 بجے تک پیش کرنیکا حکم دے دیا ،جج نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اسپیشل پراسیکیوٹر اگر آجاتے ان کو بھی آگاہ کر دیتے ہیں،

    دوسری جانب اسلام آباد ہائیکورٹ میں شہباز گل کا جسمانی ریمانڈ کالعدم قرار دینے کیلئے درخواست پر سماعت ہوئی .وکیل نے کہا کہ شہباز گِل پر پولیس حراست میں بدترین تشدد کیا گیا،جب تک جرم ثابت نہ ہو ملزم عدالت کا پسندیدہ بچہ ہوتا ہے،جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ پورے ملک کا واحد کیس نہیں ہے اس سے پہلے بھی کیسز تھے بعد میں بھی چلتے رہیں گے، ریمانڈ کے کیسز میں ایسی مثال نہ بنائیں،ہائیکورٹ تو صرف اسی کیس کیلئے ہی رہ جائے گی،وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ شہباز گِل کی گاڑی کے شیشے توڑے گئے،جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ میں اس میں نہیں جا سکتا، کیا میں اب ٹی وی لگوا کر وہ ویڈیو دیکھوں؟ وکیل نے کہا کہ تشدد کے اثرات صرف 5 سے چھ دن رہتے ہیں،عدالت ڈاکٹرز کو بلا کر پوچھ لے وہ شہباز گل تشدد کے عینی شاہد ہیں،درجنوں مثالیں ہیں پولیس ایسے تشدد کرتی ہے جس کو ٹریس کرنا بہت مشکل ہوتا ہے،پولیس تشدد سے مار کر بھی کہتی ہے بندے نے خودکشی کرلی،بارہ دن بعد تو بڑے سے بڑا تشدد ٹھیک ہوجاتا ہے،شہباز گِل دمہ کا مریض ہے انہیں جوڈیشل مجسٹریٹ کی عدالت میں پیش کیا گیا، مجسٹریٹ نے شہباز گل کو پمز اسپتال منتقل کرنے کا حکم دیا،ایسے ہی ملزم کی موت ہو جاتی ہے اور پراسیکیوشن کے خلاف 302 کا کیس بن جاتا ہے،اس کیس کی جوڈیشل انکوائری کی جائے، عدالتی حکم کے بعد وکلا اور دوستوں کو ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی،شہباز گِل کی ویڈیوز لیک کی گئیں،مجسٹریٹ نے خود آبزرویشن دی کہ ملزم کی کنڈیشن سیریس ہے،مجھے وکالت نامہ دستخط کرنے کی اجازت بھی نہیں دی گئی، اب شہباز گل کی طبیعت بہتر ہو رہی ہے توویڈیوز لیک کی گئیں،

    وکیل سلمان صفدرنے کہا کہ ایڈیشنل سیشن جج نے شہباز گل کو دوبارہ جسمانی ریمانڈ میں دیدیا،جج نے بغیر کوئی وجہ معلوم کیلئے شہباز گِل کا جسمانی ریمانڈ دیا،ہمارے خلاف سازش کی جارہی ہے ،میڈیا پر پابندی عائد کی گئی ، کیا ہم نیشنل جیوگرافک لگا کر بیٹھ جائیں؟ جس پر عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیس پر رہیں، معاملے کو پیمرا پابندی کی طرف نہ لے جائیں ،ایسا کرنے سے اپ ایک ڈیڈ اینڈ پر پہنچ جائیں گے وکیل نے کہا کہ موبائل فون کی ریکوری کے لیے شہباز گل کے ریمانڈ کی کیا ضرورت ہے؟ گرفتاری میں ہمیشہ موبائل فون اور عینک ساتھ ہی ہوتی ہے یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ شہباز گل سے سازش کا پتہ کرنا ہے، شہباز گل کو عدالت نے جوڈیشل کردیا تو واپس کیوں لانا پڑا ؟ کریمنل کیسز میں شواہد کو عدالت اور فریقین سے چھپایا نہیں جاسکتا، میں نے کہا کہ وہ کونسے شواہد ہیں جس کے لیے مزید جسمانی ریمانڈ کی ضرورت ہے،شواہد مانگنے پر کہا گیا کہ ہم آپ سے کچھ بھی شئیر نہیں کرسکتے،

    عدالت نے شہباز گل کے وکیل کو تقاریر کے حوالے سے منع کر دیا، عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ فریڈم آف ایکسپریشن کی تعریف ہم سب غلط پڑھتے ہیں،عدالت نے پراسیکیوٹر سے استفسار کیا کہ آپ شہباز گل کاریمانڈ کیوں چاہتے ہیں ؟کوئی برآمدگی کرنی ہے، کیا کرنا چاہتے ہیں، پراسیکیوٹر نے عدالت میں کہا کہ فون بر آمد کرنا ہے، تحقیقات کے کچھ پہلویہاں نہیں بتا سکتا ،کیس کو نقصان ہوسکتا ہے، عدالت نے پراسیکیوٹر سے استفسار کیا کہ فون لینڈ لائن سے ہوا پھر کیوں چاہیے؟ تفتیشی افسر کہاں ہیں؟ تفتیشی افسر نے عدالت میں جواب دیا کہ پتہ لگا لیا ہے لینڈ لائن نمبر فون بنی گالہ عمران خان کی رہائش کا ہے،فون سےپڑھ کر نجی ٹی وی پر بیان دیا گیا ٹرانسکرپٹ بر آمد کرنا ہے،تفتیشی افسر کا اختیار ہے کہ وہ بتائے اس کی تفتیش مکمل ہوئی یا نہیں، شہباز گِل موبائل استعمال کر رہا ہے، مواد سے ملزم کو کنفرنٹ کرنا ہے، دیگر ملزمان کی گرفتار ی کے لیے شہباز گل کے بیان سے کنفرنٹ کرانا ہے،

    جسٹْس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اور تو آپ نے کسی کو گرفتار نہیں کیا کس سے کنفرنٹ کرانا ہے، ایڈوکیٹ جنرل اسلام آباد نے کہا کہ گرفتاریوں کیلئے تو مزید تفتیش کی ضرورت ہے،پراسیکیوٹر رضوان عباسی نے کہا کہ پولیس کی ابھی 90 فیصد تفتیش باقی ہے،ملزم لیت و لعل سے کام لیتا ہے، جھوٹ بول رہا ہے، پولی گرافک ٹیسٹ کی ضرورت ہے، جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ کیا اسلام آباد میں پولی گرافک ٹیسٹ کی سہولت موجود ہے؟ پراسیکیوٹر نے کہا کہ ایف آئی اے کے پاس اور پنجاب فرانزک لیب میں یہ سہولت موجود ہے،جسمانی ریمانڈ 15 دن کا ہوتا تو مختلف مراحل میں دیا جاسکتا ہے، عدالت نے کہا کہ اگر 15دن میں تفتیش مکمل نہ ہو تو کیا اس کے بعد بھی ریمانڈ مل سکتا ہے؟ پراسیکیوٹر نے کہا کہ 15دن سے زیادہ جسمانی ریمانڈ نہیں دیا جا سکتا،عدالت نے استفسار کیا کہ اگر اس کے بعد بھی تفتیش کی ضرورت ہو تو پھر جیل میں تفتیش کی جائے گی؟ دوران تفتیش کوئی ملزم بیمار ہو جائے تو کیا ہو گا؟ پراسیکیوٹر نے کہا کہ بیمار اور زخمیوں کے لیے بھی رولز موجود ہیں، زندگی ہے تو سب کچھ ہے، عدالت نے سوال کیا کہ اگر کوئی بیمار ہوجائے تو آپ اسلام آباد میں کہاں منتقل کرتے ہیں ؟ پراسیکیوٹر نے کہا کہ اگر کوئی بیمار ہوجائے توپمز اور پولی کلینک میں منتقل کیا جاتا ہے،ایڈیشنل سیشن جج کا مزید 48 گھنٹے کا جسمانی ریمانڈ کا آرڈر بالکل درست ہے، اسلام آباد ہائیکورٹ میں پراسیکیوٹر رضوان عباسی کے وکیل کے دلائل مکمل ہو گئے

    عدالت نے وکلا پر اظہار برہمی کرتے ہوئے کہا کہ دو اہم وکلانے اپنے دلائل دئیے، باقی کسی کو دینے کی ضرورت نہیں، اسلام آباد ہائیکورٹ نے بابر اعوان کو دلائل دینے کی اجازت دے دی، وکیل جیل حکام نے کہا کہ اسلام آباد کی اپنی جیل نہیں، اڈیالہ جیل رکھنا پڑتا ہے،اگر کسی ملزم کی طبیعت خراب ہو تو قریبی اسپتال لے جایا جاتا ہے، جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ اسلام آباد کا ملزم ہو تو اسے اسلام آباد کے اسپتال میں ہی رکھا جاتا ہے،

    شہباز گِل کا جسمانی ریمانڈ کالعدم قرار دینے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا گیا ہے

    شہباز گل پر تشدد اور غیر جانبدار ڈاکٹروں کی میڈیکل بورڈ بنانے سے متعلق درخواست پر بابر اعوان نے دلائل دیئے،اور کہا کہ ملزم کی حراست گرفتاری کے روز سے شروع ہو جاتی ہے،زیادہ سے زیادہ ریمانڈ پہلے ہی مکمل ہو چکا ہے،جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ کا تو یہ کیس ہی نہیں، یہ ساری چیزیں تو سلمان صفدر کہہ چکے ہیں،استدعا پڑھیں، اپنے دلائل اس حد تک محدود رکھیں ،ایڈووکیٹ جنرل جہانگیرجدون نے اعتراض عائد کیا اور کہا کہ درخواست میں بابر اعوان وکیل نہیں، دلائل نہیں دیئے جا سکتے، ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد جہانگیر جدون نے اسد عمر کی درخواست قابل سماعت ہونے پر اعتراض اٹھا دیا، کہا کہ اسد عمر کا نئے ڈاکٹرز پر مشتمل بورڈ بنانے کا اختیار ہی نہیں،درخواست قابل سماعت ہی نہیں، جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ درخواست ابھی پینڈنگ رکھ رہے ہیں، جب سنی جائے گی تب دیکھیں گے،بابر اعوان نے کہا کہ جب وقت آئے گا بتائیں گے کہ کیسے قابل سماعت ہے،

    آئی جی اسلام آباد نے شہباز گل تشدد کیس کی ابتدائی رپورٹ اسلام آباد ہائی کورٹ میں جمع کروا دی پولیس کی جانب سے شہباز گل پر تشدد کے الزمات بے بنیاد قرار دے دی گئی شہباز گل پر جسمانی یا ذہنی تشدد کے کوئی ٹھوس شواہد نہیں ملے، ملزم شہباز گل نے تفتیش میں خلل ڈالنے کے لیے ڈرامہ کیا،

    شہبازگل کے ڈرائیور کے بھائی کی عبوری ضمانت منظور

    سافٹ ویئر اپڈیٹ، میں پاک فوج سے معافی مانگتی ہوں،خاتون کا ویڈیو پیغام

    عمران خان نے ووٹ مانگنے کیلئے ایک صاحب کو بھیجا تھا،مرزا مسرور کی ویڈیو پر تحریک انصاف خاموش

    شہباز گل کی گرفتاری، پی ٹی آئی کے ڈنڈا بردار کارکن بنی گالہ پہنچ گئے

    شہباز گل کی گرفتاری پی ٹی آئی نے عدالت سے رجوع کرنے کا فیصلہ کر لیا

    نعرے ریاست مدینہ کےاورغلامی امریکہ کی واہ شہبازگل باجوہ

    شہباز گل پر ایسا تشدد ہوا جو بتایا جا سکتا اور نہ دکھایا جا سکتا ہے، بابر اعوان

  • عدالت پیشی، شہباز گل رو پڑے، ویڈیو وائرل

    عدالت پیشی، شہباز گل رو پڑے، ویڈیو وائرل

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کے چیف آف سٹاف شہباز گل کو وہیل چیئر پر عدالت پیش کیا گیا

    شہباز گل کو دو روز قبل عدالت نے جسمانی ریمانڈ دیا تو شہباز گل کی اچانک سے طبیعت خراب ہو گئی اور انہیں ہسپتال منتقل کیا گیا، شہباز گل دو روز ہسپتال میں رہے، گزشتہ شب میڈیکل بورڈ نے شہباز گل کو فٹ قرار دیا، آج انہیں صبح وہیل چیئر پر عدالت پیش کیا گیا اس موقع پر تحریک انصاف کے کارکنان بھی موجود تھے

    شہباز گل کی عدالت پیشی کے موقع پر سیکورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے تھے،شہباز گل کی ایک ویڈیو عدالت پیشی کے موقع پر کی سامنے آئی ہے جس میں وہ رو پڑے ہیں اور بار بار ماسک مانگ رہے ہیں

    قبل ازیں اسلام آباد ہائیکورٹ میں شہباز گل کیس میں میڈیکل بورڈ تشکیل دینے کی درخواست پر سماعت ہوئی اسلام آباد ہائیکورٹ نے درخواست قابل سماعت ہونے پر فیصلہ محفوظ کرلیا

    یاد رہے کہ گزشتہ روز میڈیکل بورڈ نے شہباز گل کو بالکل فٹ قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ ان پر کسی قسم کا تشدد نہیں کیا گیا رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ پی ٹی آئی رہنما تندرست،صحت مند اور مکمل فٹ ہیں۔شہباز گل کسی بھی وقت اسپتال سے ڈسچارج ہوسکتے ہیں۔

    ذرائع کے مطابق شہباز گل کے 10مختلف ٹیسٹ کیے گئے جس میں کورونا ٹیسٹ بھی شامل تھا،ان کے تمام ٹیسٹ کلیئر آئے ہیں اس کے علاوہ پی ٹی آئی رہنماکے 6 مختلف ایکسرے بھی کیے گئے، رپورٹ میں کسی قسم کے تشدد کے شواہد بھی نہیں ملے۔

    شہبازگل کے ڈرائیور کے بھائی کی عبوری ضمانت منظور

    سافٹ ویئر اپڈیٹ، میں پاک فوج سے معافی مانگتی ہوں،خاتون کا ویڈیو پیغام

    عمران خان نے ووٹ مانگنے کیلئے ایک صاحب کو بھیجا تھا،مرزا مسرور کی ویڈیو پر تحریک انصاف خاموش

    شہباز گل کی گرفتاری، پی ٹی آئی کے ڈنڈا بردار کارکن بنی گالہ پہنچ گئے

    شہباز گل کی گرفتاری پی ٹی آئی نے عدالت سے رجوع کرنے کا فیصلہ کر لیا

    نعرے ریاست مدینہ کےاورغلامی امریکہ کی واہ شہبازگل باجوہ

    شہباز گل پر ایسا تشدد ہوا جو بتایا جا سکتا اور نہ دکھایا جا سکتا ہے، بابر اعوان

  • شہباز گل پر ایسا تشدد ہوا جو  بتایا جا سکتا اور نہ دکھایا جا سکتا ہے، بابر اعوان

    شہباز گل پر ایسا تشدد ہوا جو بتایا جا سکتا اور نہ دکھایا جا سکتا ہے، بابر اعوان

    شہباز گل پر ایسا تشدد ہوا جو بتایا جا سکتا اور نہ دکھایا جا سکتا ہے، بابر اعوان

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق تحریک انصاف کے رہنما بابر اعوان نے کہا ہے کہ شہباز گل پر ایسا تشدد ہوا جو بتایا جا سکتا اور نہ دکھایا جا سکتا ہے،

    بابر اعوان کا کہنا تھا کہ لوگ بھی چیخ چیخ کر کہہ رہے ہیں کہ تشدد ہوا ہے،آئی جی نے تفتیش کرنے کے لیے ایک اشتہار جاری کیا ہے،اشتہار میں کہا گیا کہ جس کسی کو تشدد کا پتہ ہے وہ آ کر بتائے،پاکستان کے انڈی پینڈنٹ ڈاکٹرز پر مشتمل بورڈ بنایا جائے، بورڈ کا خرچہ ہم برداشت کریں گے،جیل کے میڈیکل افسر نے کہا کہ شہباز گل کو بچپن سے دمہ ہے،سرکاری اسپتال اور سرکاری ڈاکٹرز پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا، شہباز شریف کے بارے میں بھی کمر درد کی رپورٹ دی گئی تھی، نواز شریف کو پلیٹ لیٹس کا مسئلہ بتایا گیا اب وہ مزے کر رہے ہیں،اصل حکومت لندن سے ہو رہی ہے ، عمران خان کے خلاف بیان دینے کے لیے دباؤ ڈالا جا رہا ہے،بابر اعوان نے شہباز گل پر تشدد کی انکوائری سے متعلق اشتہار کو مسترد کر
    دیا اور کہا کہ پولیس نے ٹارچر کیا، وہ خود کیسے کوئی فیصلہ کر سکتے ہیں؟

    بیماری کا بہانا کرکے ملزم شہباز شبیر تفتیش میں رکاوٹ پیدا کرنا چاہتے ہیں، اسلام آباد پولیس
    دوسری جانب اسلام آباد پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم شہباز شبیر کے جسمانی ریمانڈ کا معاملہ ،میڈیکل بورڈ نے ملزم شہباز شبیر کو طبی طور پر صحت مند قرار دے دیا۔ ملزم شہباز شبیر حیلے بہانوں سے خود کو بیمار ظاہر کر رہے ہیں۔اسلام آباد کیپیٹل پولیس تمام تر امور قانون کے مطابق مکمل کر رہی ہے بیماری کا بہانا کرکے ملزم شہباز شبیر تفتیش میں رکاوٹ پیدا کرنا چاہتے ہیں ۔حیلے بہانوں سے قانون کا راستہ نہیں روکا جاسکتا۔

    قبل ازیں اسلام آباد ہائیکورٹ میں شہباز گل کیس میں میڈیکل بورڈ تشکیل دینے کی درخواست پر سماعت ہوئی اسلام آباد ہائیکورٹ نے درخواست قابل سماعت ہونے پر فیصلہ محفوظ کرلیا اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے اسد عمر کی درخواست پر سماعت کی جس سلسلے میں درخواست گزار کی جانب سے بابر اعوان عدالت میں پیش ہوئے دورانِ سماعت جسٹس میاں گل حسن نے استفسار کیا کہ ایک میڈیکل رپورٹ آئی تو کیا میڈیکل بورڈ نہیں بناہے؟ ایک درخواست پر قائم مقام چیف جسٹس نے آئی جی کو نوٹس کیا تھا اور وہ پیش بھی ہوئے اب آپ یہاں ایک اور درخواست میں میڈیکل بورڈ بنانے کی بات کررہے ہیں بابر اعوان نے مؤقف اپنایا کہ ہم غیر جانبدار ڈاکٹرز پرمشتمل اسپیشل میڈیکل بورڈ چاہتے ہیں میڈیکل بورڈ میں شامل کچھ ڈاکٹرز کی بعض بیماریوں میں ایکسپرٹیز ہی نہیں ہیں ڈاکٹرزکوئی بھی ہوں مگر ایک پرائیویٹ میڈیکل بورڈ بنایا جائے جس میں چاروں صوبوں سےڈاکٹرز شامل کیے جائیں عدالت نے کہا کہ اگر ہم اس معاملے کو سیکرٹری داخلہ پر چھوڑ دیں تو بہتر نہیں ہوگا بابر اعوان نے کہا کہ غیر جانبدار پرائیوٹ ڈاکٹرز پر مشتمل میڈیکل بورڈ چاہتے ہیں سرکاری ڈاکٹرز کا نہیں عدالت شہباز گل کی زندگی اور بنیادی حقوق کا تحفظ یقینی بنانے کے لیے اقدامات کرے،عدالت نے شہباز گل کے طبی معائنے کے لیے اسپیشل میڈیکل بورڈ تشکیل دینے کی درخواست پرفیصلہ محفوظ کرلیا

    یاد رہے کہ گزشتہ روز میڈیکل بورڈ نے شہباز گل کو بالکل فٹ قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ ان پر کسی قسم کا تشدد نہیں کیا گیا رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ پی ٹی آئی رہنما تندرست،صحت مند اور مکمل فٹ ہیں۔شہباز گل کسی بھی وقت اسپتال سے ڈسچارج ہوسکتے ہیں۔

    ذرائع کے مطابق شہباز گل کے 10مختلف ٹیسٹ کیے گئے جس میں کورونا ٹیسٹ بھی شامل تھا،ان کے تمام ٹیسٹ کلیئر آئے ہیں اس کے علاوہ پی ٹی آئی رہنماکے 6 مختلف ایکسرے بھی کیے گئے، رپورٹ میں کسی قسم کے تشدد کے شواہد بھی نہیں ملے۔

    ذرائع کے مطابق فٹ قرار دیئے جانے کے بعد بھی اسلام آباد پولیس شہباز گل کو اسپتال سے تھانے منتقل کرنے کا فیصلہ نہیں کر سکی تھی میڈیکل بورڈ کے ڈاکٹرز نے پولیس حکام کو اسپتال میں شہبازگل سے سوال وجواب کرنے سے روکا رکھا تھا ڈاکٹرز کا مؤقف ہے کہ شہباز گل مکمل فٹ ہیں لیکن اسپتال میں ان سے تفتیش نہیں کر سکتے۔

    شہبازگل کے ڈرائیور کے بھائی کی عبوری ضمانت منظور

    سافٹ ویئر اپڈیٹ، میں پاک فوج سے معافی مانگتی ہوں،خاتون کا ویڈیو پیغام

    عمران خان نے ووٹ مانگنے کیلئے ایک صاحب کو بھیجا تھا،مرزا مسرور کی ویڈیو پر تحریک انصاف خاموش

    شہباز گل کی گرفتاری، پی ٹی آئی کے ڈنڈا بردار کارکن بنی گالہ پہنچ گئے

    شہباز گل کی گرفتاری پی ٹی آئی نے عدالت سے رجوع کرنے کا فیصلہ کر لیا

    نعرے ریاست مدینہ کےاورغلامی امریکہ کی واہ شہبازگل باجوہ

  • شہبازگل کو پمزاسپتال منتقل کرنے کا حکم

    شہبازگل کو پمزاسپتال منتقل کرنے کا حکم

    سیشن کورٹ اسلام آباد نے شہبازگل کو پمز اسپتال منتقل کرنے کا حکم دے دیا

    جوڈیشل مجسٹریٹ نے شہبازگل کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا پر محفوظ فیصلہ سنا دیا عدالت نے شہباز گل کا دوبارہ میڈیکل کرانے کا حکم دے دیا سیشن کو رٹ اسلام آباد نے شہبازگل کو پیر تک پمز اسپتال منتقل کرنے کا حکم دے دیا،جج نے ہدایت کی کہ شہباز گل کی سانس کی تکلیف کا ایک بار پھر جائزہ لیا جائے شہبازگل کی صحت ٹھیک نہیں ،ان کو اسپتال منتقل کیا جائے اگرشہبازگل کی حالت درست ہوتی تو انہیں ایمبولینس میں کیوں لایا جاتا،

    قبل ازیں ڈسٹرکٹ سیشن عدالت اسلام آباد میں شہباز گل کے جسمانی ریمانڈ کی درخواست پر سماعت ہوئی
    ملزم شہباز گل کو ڈسٹرکٹ کورٹ اسلام آباد کے بخشی خانہ پہنچایا گیا ، جج ڈسٹرکٹ سیشن جج نے کہا کہ آج جمعہ ہے کوشش کریں جلدی ہو جائے، وکیل فیصل چودھری نے کہا کہ وکیل شعیب شاہین کا بیٹا آیا ہوا وہ ائیرپورٹ گئے ہیں،جج نے وکیل سے استفسار کیا کہ کیا شعیب شاہین آدھے گھنٹے تک پہنچ جائینگے؟ وکیل نے کہا کہ شعیب شاہین 9 بجکر 15 منٹ تک پہنچ جائینگے، جج نے نائب کورٹ کو ہدایت کی کہ پولیس کو آگاہ کر دیں ملزم کو سوا 9 بجے پیش کیا جائیگا

    بعد ازاں دوبارہ سماعت شروع ہوئی تو شہباز گل کو کمرہ دالت پہنچا دیا گیا ، وکیل نے کہا کہ شہبازگل سے مل کر آیا ہوں ان کو آنے میں مشکل ہورہی ہے پولیس ضد کررہی ہے کہ سیڑھیاں چڑھ کر خود آئے ،جس پر عدالت نے کہا کہ ملزم کو تو اوپر لانا پڑے گا،عدالت نے پولیس کو ملزم کو اٹھا کرلانے کی ہدایت کر دی،پولیس نے شہبازگل کے 8 روزہ مزید جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی

    عدالت نے شہباز گل سے استفسار کیا کہ آپ عدالت میں رہنا چاہتے ہیں؟ جس پر شہباز گل نے کہا کہ مجھے ماسک دے دیں میں رک جاوں گا،عدالت نے پولیس سے سوال کیا کہ آپ 8روزہ جسمانی ریمانڈ کیوں مانگ رہے ہیں؟ پہلے 2 روزہ جسمانی ریمانڈ ہوا تھا آپ 8دن کی درخواست کیوں لائے ہیں؟کیا پولیس 2 روز میں تفتیش کرسکی یا نہیں ؟کیا پولیس نیا ریمانڈ مانگ رہی ہے یا پہلے کی توسیع چاہتی ہے ؟ کیا تکنیکی طور پر پہلا 2روزہ جسمانی ریمانڈ شروع ہی نہیں ہوا ؟شہبازگل کی بیماری کے باعث 2 روزہ جسمانی ریمانڈ شروع ہوا ہی نہیں ،وکیل فیصل چودھری نے کہا کہ شہبازگل کی بیماری آپ نے دیکھ لی اس کا جینون ایشو ہے ،میڈیکل رپورٹ سے لگ رہاہے شہبا زگل پر تشدد کیا گیا ڈاکٹر زکا کہنا ہے کوئی درد کی شکایت کرے تو وہ انگلیاں دیکھ کر اندازہ لگاتے ہیں،جو پرچہ ریمانڈ دیاگیا اس کے مطابق بھی پولیس ما ن رہی ہے کہ ریمانڈ مکمل ہوچکا،

    وکیل فیصل چودھری نے ہائیکورٹ کے قائم مقام چیف جسٹس گزشتہ روز کا آرڈر عدالت میں پڑھ کرسنایا ،وکیل نے کہا کہ پراسیکیوشن نے پیر تک شورٹی دی تھی کہ شہباز گل کو سپتال میں رکھیں گے،جج نے وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ جو ایڈیشنل سیشن جج کا آرڈر تھا میں نے اس کو دیکھنا ہے ، شہباز گل نے عدالت میں کہا کہ میری اصل رپورٹ وہ نہیں جو انہوں نے پیش کی ہیں، عدالت اصل منگوائے شہباز گل کے وکیل نے پولیس کی جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی مخالفت کردی پولیس پراسیکیوٹر کی جانب سے شہباز گل کے جسمانی ریمانڈ کی درخواست پر دلائل دیئے گئے، پولیس پراسیکیوٹر نے کہا کہ قانون میں نہیں لکھا کہ بیمار شخص کا ریمانڈ نہیں لیا جاسکتا،کسی بھی ملزم کی جان قیمتی ہوتی ہے، تفتیشی افسر مکمل خیال رکھتا ہے وکیل نے کہا کہ پراسیکیوشن نے پیر تک شورٹی دی تھی کہ شہباز گل کو اسپتال میں رکھیں گے ،رضوان عباسی نے کہا کہ جیل ڈاکٹر نے کہا کہ ملزم ہمارے پاس آیا تو اس کو کوئی مسئلہ نہیں تھا اور رپورٹ نارمل تھی، وکیل فیصل چودھری نے کہا کہ جیل ڈاکٹر نے ایسی کوئی بات نہیں کی ، پراسیکیوٹر رضوان عباسی نے وکیل فیصل چودھری سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ مجھے بات کر لینے دیں، ایسا نہ کریں،جس پر جج نے کہا کہ آپ بات جاری رکھیں، آپ جواب بعد میں دیں،رضوان عباسی نے عدالت میں کہا کہ جیل ڈاکٹر نے بتایا کہ شہباز گل کو مسئلہ اس وقت ہوا جب جسمانی ریمانڈ پر دینے کا فیصلہ کیا ،وکیل فیصل چودھری نے کہا کہ شہباز گل کے پھیپھڑوں سے متعلق میڈیکل رپورٹ پیش نہیں کی گئی اگر آپ اجازت دیں تو شہباز گل کی میڈیکل ہسٹری بھی عدالت کے سامنے پیش کر سکتے ہیں ،اس میں مقدمہ اخراج کے نوٹس ہوئے ہوئے ہیں اس صورت حال میں بھی ریمانڈ نہیں دیا جا سکتا ،

    قبل ازیں تحریک انصاف کے رہنما شہباز گل کو انتہائی سخت سکیورٹی میں پمز اسپتال سے کچہری منتقل کر دیا گیا ہے۔اطلاعات کے مطابق اسلام آباد پولیس شہباز گل کو انتہائی سخت سیکیورٹی کے ساتھ پمز اسپتال کے پچھلے دروازے سے روانہ ہوئی ذرائع کے مطابق پمز اسپتال سے عدالت جاتے وقت شہباز گل نے منہ پر آکسیجن ماسک لگایا ہوا تھا اور انہیں وہیل چیئر پر اسلام آباد کچہری منتقل کیا گیا۔

    اسلام آباد پولیس کی جانب سے شہباز گل کو ڈیوٹی جج جوڈیشل مجسٹریٹ راجہ فرخ علی خان کی عدالت میں پیش کیا جائے گا، پولیس عدالت سے شہباز گل کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا کرے گیاسلام آباد کچہری میں پولیس کی بھاری نفری تعینات کی گئی ہے جبکہ کمرہ عدالت کے باہر ایف سی کی نفری بھی پہنچ گئی ہے۔

    یاد رہے کہ گزشتہ روز میڈیکل بورڈ نے شہباز گل کو بالکل فٹ قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ ان پر کسی قسم کا تشدد نہیں کیا گیا رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ پی ٹی آئی رہنما تندرست،صحت مند اور مکمل فٹ ہیں۔شہباز گل کسی بھی وقت اسپتال سے ڈسچارج ہوسکتے ہیں۔

    ذرائع کے مطابق شہباز گل کے 10مختلف ٹیسٹ کیے گئے جس میں کورونا ٹیسٹ بھی شامل تھا،ان کے تمام ٹیسٹ کلیئر آئے ہیں اس کے علاوہ پی ٹی آئی رہنماکے 6 مختلف ایکسرے بھی کیے گئے، رپورٹ میں کسی قسم کے تشدد کے شواہد بھی نہیں ملے۔

    ذرائع کے مطابق فٹ قرار دیئے جانے کے بعد بھی اسلام آباد پولیس شہباز گل کو اسپتال سے تھانے منتقل کرنے کا فیصلہ نہیں کر سکی تھی میڈیکل بورڈ کے ڈاکٹرز نے پولیس حکام کو اسپتال میں شہبازگل سے سوال وجواب کرنے سے روکا رکھا تھا ڈاکٹرز کا مؤقف ہے کہ شہباز گل مکمل فٹ ہیں لیکن اسپتال میں ان سے تفتیش نہیں کر سکتے۔

    شہباز گل کی لیگل ٹیم بھی پمز اسپتال پہنچی تھی البتہ لیگل ٹیم کے ساتھ ان کے وکیل فیصل چودھری نہیں تھے مز اسپتال پہنچنے والی شہباز گل کی لیگل ٹیم نے کورٹ کا تحریری حکمنامہ بھی وہاں متعین پولیس حکام کے حوالے کردیا تھا شہباز گل کی لیگل ٹیم کے ہمراہ پی ٹی آئی رہنما اور سابق وفاقی وزیر مراد سعید بھی ہیں لیکن انہیں دروازے پر روک لیا گیا تھا-

    دوسری جانب اسلام آباد پولیس نے شہباز گل پر مقدمہ اور مبینہ تشدد سے متعلق بیان قلمبند کرانےکے لیے اشتہار جاری کیا تھا اشتہار میں کہا گیا تھا کہ شہبازگل پر تشدد سے متعلق کسی کے پاس کوئی شہادت ہے تو اپنا بیان ریکارڈ کرادے اس حوالے سے کوئی بھی شہری آئی جی اسلام آبادکے دفتر میں بیان قلم بندکراسکتا تھا-

    واضح رہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے شہباز گِل پر ریمانڈ کے دوران تشدد کے الزامات پر آئی جی اسلام آباد سے پیر تک رپورٹ طلب کر لی ہے قائم مقام چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ جسٹس عامر فاروق نے دوران سماعت کہاتھا کہ آہ و بکا مچی ہوئی ہے کہ تشدد ہوگیا، کیا یہ میڈیا ہائپ ہے یا واقعی ایسا ہوا ہے؟ ہم نے یہ دیکھنا ہے۔

    آئی جی اسلام آباد نے ریمانڈ کے دوران شہباز گِل پر تشدد کی تردید کرتے ہوئے کہا تھا کہ میڈیکل رپورٹ کے مطابق کوئی تشدد نہیں ہوا، سانس کی تکلیف کا بتایا گیا ہے اس موقع پر اسپیشل پراسیکیوٹر راجہ رضوان عباسی نے عدالتی استفسار پر بتایا تھا کہ شہباز گل کو جسمانی ریمانڈ مکمل ہونے پر مجسٹریٹ کے سامنے پیش کیا گیا تو انہوں نے تشدد کا نہیں بتایا

    شہبازگل کے ڈرائیور کے بھائی کی عبوری ضمانت منظور

    سافٹ ویئر اپڈیٹ، میں پاک فوج سے معافی مانگتی ہوں،خاتون کا ویڈیو پیغام

    عمران خان نے ووٹ مانگنے کیلئے ایک صاحب کو بھیجا تھا،مرزا مسرور کی ویڈیو پر تحریک انصاف خاموش

    شہباز گل کی گرفتاری، پی ٹی آئی کے ڈنڈا بردار کارکن بنی گالہ پہنچ گئے

    شہباز گل کی گرفتاری پی ٹی آئی نے عدالت سے رجوع کرنے کا فیصلہ کر لیا

    نعرے ریاست مدینہ کےاورغلامی امریکہ کی واہ شہبازگل باجوہ

  • اسلام آباد ہائیکورٹ کا شہباز گل کے جسمانی ریمانڈ کی درخواست پر نظر ثانی کا حکم

    اسلام آباد ہائیکورٹ کا شہباز گل کے جسمانی ریمانڈ کی درخواست پر نظر ثانی کا حکم

    اسلام آباد ہائیکورٹ میں رہنما پی ٹی آئی شہباز گل کی مزید جسمانی ریمانڈ لینے کی درخواست پر سماعت ہوئی

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے شہباز گل کے جسمانی ریمانڈ کی درخواست پر نظر ثانی کا حکم دے دیا اسلام آباد ہائیکورٹ نے شہباز گل کے جسمانی ریمانڈ کا معاملہ دوبارہ سیشن کورٹ کو بھیج دیا،عدالت نے کہا کہ سیشن جج درخواست سن کر اس کا میرٹ پر فیصلہ کریں اسلام آباد ہا ئیکورٹ نے سیشن جج کو درخواست پر آج ہی سماعت کرنے کا حکم دے دیا،عدالت نے ایڈووکیٹ جنرل کی استدعا منظور کر لی اور جوڈیشل مجسٹریٹ کے خلاف درخواست قابل سماعت قرار دے دی،اسلام آباد ہائیکورٹ نے حکم دیا کہ فریقین سیشن جج کے پاس پیش ہو کر دلائل دیں ،

    ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد جہانگیر جدون ہائیکورٹ میں پیش ہوئے،اورعدالت میں کہا کہ شہبازگل سے تحقیقات مکمل نہیں ہوئی ، مزید جسمانی ریمانڈ دیا جانا چاہیے تھا .قائمقام چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ سیاسی معاملہ ہے اس کو قانونی طور پر دیکھا جائے، عدالت نے قانونی نقطے کو دیکھنا ہے،یہ درست ہے کہ جس کا کیس ہے وہ پولیٹیکل فِگر ہے،جس کا کیس ہے وہ سیاسی جماعت کا عہدیدار ہے وہ جو بھی ہے اس عدالت کے سامنے یہ بات بے معنی ہے،یہ بتائیں کہ جوڈیشل مجسٹریٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل کیسے قابل سماعت تھی؟ ملزم کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا جائے پھر تو بات ہی ختم ہو گئی، کسی ملزم کو جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کرنا سنجیدہ معاملہ ہے،بظاہر یہ لگتا ہے کہ سیشن عدالت کا ایک فورم موجود ہے کہ وہ سپروائز کر لے،سیشن عدالت دیکھ لے کہ جوڈیشل مجسٹریٹ نے کوئی غلط فیصلہ تو نہیں کر دیا،

    وکیل نے عدالت میں کہا کہ عدالت جسمانی ریمانڈ کی استدعا دیکھ لے وہ اہم ہے،جس پر عدالت نے کہا کہ استدعا میں تو انہوں نے ہائیکورٹ سے ریمانڈ بھی مانگا ہے ، ہائیکورٹ تو نہیں دے سکتی،اس حد تک دلائل سن رہا ہوں کہ سیشن کورٹ میں اپیل سنی جا سکتی تھی یا نہیں ہائیکورٹ کا کام نہیں کہ وہ تحقیقات کو انٹرپٹ کرے تفتیش کرنا پولیس کا کام ہے اور اس کو سپروائز مجسٹریٹ نے ہی کرنا ہےملزم ہمیشہ عدالت کا فیورٹ چائلڈ ہوتا ہے یہ ہائی کورٹ کا دائرہ اختیار نہیں کہ وہ دیکھے کہ ملزم کا کتنا ریمانڈ دینا ہے،عدالت یہ دیکھ رہی ہے کہ کیا سیشن عدالت نے اپنا اختیار درست استعمال کیا

    جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر درخواست سیشن عدالت میں قابل سماعت ہوئی تو پھر میرٹ پر دلائل سنوں گا، اگر درخواست سیشن عدالت میں قابل سماعت نہ ہوئی پھر تو ضرورت ہی نہیں،

    شہباز گل کے بیان کا ٹرانسکرپٹ اسلام آباد ہائیکورٹ میں پیش
    دوسری جانب اسلام آباد ہائیکورٹ میں شہباز گِل کے خلاف بغاوت مقدمہ خارج کرنے کی درخواست پر سماعت ہوئی ،وکیل شعیب شاہین نے کہا کہ شہباز گل کے خلاف درج مقدمہ بدنیتی پر مبنی ہے، خارج کیا جائے،جو دفعات لگائی گئیں ان کی منظوری حکومت سے لینی تھی جو نہیں لی گئی،رہنما پی ٹی آئی شہباز گل کے بیان کا ٹرانسکرپٹ اسلام آباد ہائیکورٹ میں پیش کیا گیا ،وکیل نے کہا کہ شہباز گل کے بیان کا مخصوص حصہ لیا گیا ہے مقدمہ حکومتی ایما پر درج کرایا گیا،حکومتی وزرا خود اس سے زیادہ سخت زبان استعمال کرتے رہے ہیں،بغاوت مقدمہ خارج کرنے کی درخواست پر سماعت آئندہ ہفتے تک ملتوی کر دی گئی

    واضح رہے کہ شہباز گل کو اسلام آباد پولیس نے گرفتار کیا ہے، ،اسلام آباد پولیس کا کہنا ہے کہ شہباز گل کو گرفتار کیا گیا ہے ، شہباز گل کے خلاف اداروں کیخلاف بیان بازی اور عوام کو اداروں کیخلاف اکسانے پر بغاوت کا مقدمہ درج کیا گیا ہے،

    سافٹ ویئر اپڈیٹ، میں پاک فوج سے معافی مانگتی ہوں،خاتون کا ویڈیو پیغام

    عمران خان نے ووٹ مانگنے کیلئے ایک صاحب کو بھیجا تھا،مرزا مسرور کی ویڈیو پر تحریک انصاف خاموش

    شہباز گل کی گرفتاری، پی ٹی آئی کے ڈنڈا بردار کارکن بنی گالہ پہنچ گئے

    شہباز گل کی گرفتاری پی ٹی آئی نے عدالت سے رجوع کرنے کا فیصلہ کر لیا

    نعرے ریاست مدینہ کےاورغلامی امریکہ کی واہ شہبازگل باجوہ

  • شہباز گل کا جسمانی ریمانڈ چاہئے، اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست دائر

    شہباز گل کا جسمانی ریمانڈ چاہئے، اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست دائر

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق تحریک انصاف کے رہنما شہباز گل کا جسمانی ریمانڈ لینے کیلئے اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست دائر کی گئی ہے

    شہباز گل کا جسمانی ریمانڈ لینے کی درخواست مسترد ہونے کا حکم ایڈوکیٹ جنرل اسلام آباد نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج کردیا گیا،ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ اور ایڈیشنل سیشن جج کے فیصلوں کے خلاف درخواست دائر کی گئی ،دائر درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ ماتحت عدالتوں کے فیصلے کالعدم قرار دے، ماتحت عدالتوں کے فیصلے کالعدم قرار دے کر شہباز گل کا مزید جسمانی ریمانڈ دیا جائے ،ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد کی جانب سے اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست دائر کی گئی ، جوڈیشل مجسٹریٹ اور ایڈیشنل سیشن جج نے شہباز گل کو2 جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجنے کا حکم دیا تھا

    واضح رہے کہ شہباز گل کو اسلام آباد پولیس نے گرفتار کیا ہے، ،اسلام آباد پولیس کا کہنا ہے کہ شہباز گل کو گرفتار کیا گیا ہے ، شہباز گل کے خلاف اداروں کیخلاف بیان بازی اور عوام کو اداروں کیخلاف اکسانے پر بغاوت کا مقدمہ درج کیا گیا ہے،

    واضح رہے کہ شہباز گل نے دوران تحقیقات بتایا تھا کہ اس نے اپنا موبائل اپنے ڈرائیور کو گرفتاری کے وقت دے دیا تھا،رات کو پولیس نے شہباز گل کے‌ ڈرائیور کی گرفتاری کے لئے چھاپہ مارا تھا ڈرائیور کے خلاف تھانہ آبپارہ میں مقدمہ درج کیا گیا ہے درج ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ ملزم شہباز گل نے دوران تحقیقات بتایا کہ میرا ملکیتی موبائل جس میں اس مقدمہ کے حوالہ سے کافی سارا مواد موجود ہے گرفتاری کے وقت وہ موبائل اسسٹنٹ ،ڈرائیور اظہار کو دے دیا تھا جو کہ ابھی بھی اس کے پاس ہے جو آجکل اپنے سسرال میں مقیم ہے

    عمران خان کے فوج اور اُس کی قیادت پر انتہائی غلط اور بھونڈے الزامات پر ریٹائرڈ فوجی سامنے آ گئے۔

    القادر یونیورسٹی کا زمین پر تاحال کوئی وجود نہیں،خواجہ آصف کا قومی اسمبلی میں انکشاف

    سیاسی مفادات کے لئے ملک کونقصان نہیں پہنچانا چاہئے

    سافٹ ویئر اپڈیٹ، میں پاک فوج سے معافی مانگتی ہوں،خاتون کا ویڈیو پیغام

    عمران خان نے ووٹ مانگنے کیلئے ایک صاحب کو بھیجا تھا،مرزا مسرور کی ویڈیو پر تحریک انصاف خاموش

    شہباز گل کی گرفتاری، پی ٹی آئی کے ڈنڈا بردار کارکن بنی گالہ پہنچ گئے

    شہباز گل کی گرفتاری پی ٹی آئی نے عدالت سے رجوع کرنے کا فیصلہ کر لیا

    نعرے ریاست مدینہ کےاورغلامی امریکہ کی واہ شہبازگل باجوہ

  • خواجہ سرا پر تیزاب پھینکنے والے ملزمان جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے

    خواجہ سرا پر تیزاب پھینکنے والے ملزمان جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے

    خواجہ سرا پر تیزاب پھینکنے والے ملزمان جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے

    انسداد دہشت گردی عدالت لاہور میں خواجہ سرا پر تیزاب پھینکنے کے کیس کی سماعت ہوئی

    گرفتار دونوں ملزمان کو عدالت میں پیش کیا گیا، لاہور میں خواجہ سراء پر تیزاب پھینکنے والے دو ملزمان کا عدالت نے سات روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کر لیا، ملزمان کو سخت سکیورٹی میں تھانہ ریس کورس پولیس نے عدالت پیش کیا تھا عدالت نے ملزم حمزہ سلیم اور سہیل جٹ کا سات روزہ جسمانی ریمانڈ منظورکیا، عدالت نے تفتشی افسر سے آئندہ ملزمان کی رپورٹ طلب کرلی عدالت نے ملزمان کو 30 جون تک پولیس کے حوالے کردیا

    پنجاب کے صوبائی دارالحکومت لاہور میں جرائم میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، ایک طرف فائرنگ کے واقعات بڑھ رہے ہیں تو دوسری جانب خواتین اور بچوں کے ساتھ زیادتی کے کیسز بھی مسلسل بڑھ رہے ہیں،اب تیزاب گردی کے واقعات بھی سامنے آنے لگے ہیں فلموں اور ڈراموں سے بگڑے ہوئے نوجوان کسی کے چہرے پر بھی تیزاب پھینکنے کو شاید مذاق سمجھ بیٹھے ہیں جس سے متاثرہ لوگوں کے چہرے اور زندگیاں تاحیات اپاہجگی کا شکار بھی بن جاتی ہیں

    شہر قائد خواجہ سراؤں کے لئے غیر محفوظ

    خواجہ سراؤں پر تشدد کی رپورٹنگ کیلئے موبائل ایپ تیار

    پولیس میں نوکری کیوں نہیں دی؟ خواجہ سرا عدالت پہنچ گئے

    جنسی خواہش کی تکمیل نہ ہونے پر گھر میں گھس کر خواجہ سراؤں پر گولیاں برسا دی گئیں

    تھانہ ریس کورس کے علاقہ بستی سیدن شاہ میں دبئی پلٹ نوجوان حمزہ عرف ہنی نے پرانی آشنائی کی بنا پر خواجہ سرا ء کنزا کے چہرے پر تیزاب پھینک دیا جس سے اس کی بائیں آنکھ شدید متاثر ہوگی اور ڈاکٹر کے مطابق کنزا کی آنکھ تاحیات اندھیری بھی رہ سکتی ہے ، حمزہ اور ہنی نامی نوجوان چند روز قبل دبئی سے واپس آیا اور ان دونوں کی دو سال قبل آشنائی ہوئی تھی کنزا اور اس کی منہ بولی ماں اور منہ بولی بہن کومل نے بتایا کہ حمزہ اس کو دبئی سے بھی کالیں کیا کرتا تھا اور اس کے رشتہ داروں سے ملنے اور کوکنگ کے کام سے منع کرتا تھا اور اس بات پر بضد تھا کہ وہ صرف حمزہ کے ساتھ تعلق رکھے جبکہ کنزا کو اپنا پیٹ پالنے کے لیے محنت مزدوری کا سہارا لینا ضروری تھا جس بناء پر وہ ماڈل ٹاؤن کے علاقہ میں ایک گھر میں کوکنگ کا کام کرتی تھی مزید یہ کہ کنزا کے لواحقین نے بتایا ملزم حمزہ عرف ہنی اور اس کا ایک بھائی جو دبئی میں رہائش پذیر ہے جس کا نام سنی بتایا جاتا ہے کسی قسم کی بھی قانونی کاروائی کرنے پر جان سے مار دینے کی دھمکیاں دے رہے ہیں جس کا ریکارڈ خواجہ سرا ء کے پاس موجود ہے ۔

    تیزاب گردی کا اندراج مقدمہ تھانہ ریس کورس میں ہو چکا ہے اور متاثرہ کنزا نے سی سی پی او لاہور او ڈی آئی جی لاہور اسے انصاف دلوائیں جانے کی اپیل کی ہے اور کہا ہے کہ خواجہ سراؤں کو بھی جینے کا حق ہے اور وہ بھی انسان ہی ہیں ان کے لیے بھی قانون میں مساوی حقوق شامل ہیں ۔

    عطاءتارڑ کی متاثرہ خواجہ سرا کے گھر کے باہر میڈیا سے گفتگو،

    لاہور میں خواجہ سرا پر نا معلوم افراد تیزاب پھینکنے کے بعد فرار:

    لاہور میں خواجہ سرا کو قتل کر دیا گیا

     سارہ گِل نے پاکستان کی پہلی خواجہ سرا ڈاکٹر کا اعزاز اپنے نام کرلیا ہ

    خواجہ سرا مشکلات کا شکار،ڈی چوک میں احتجاج،پشاورمیں "ریپ” کی ناکام کوشش

    خواجہ سرا کے روٹھنے پر خود کو آگ لگانے والا پریمی ہسپتال منتقل

  • شیخ رشید احمد کے بھتیجے کا ایک  روزہ  جسمانی ریمانڈ منظور

    شیخ رشید احمد کے بھتیجے کا ایک روزہ جسمانی ریمانڈ منظور

    تحریک انصاف کے ایم این اے اور شیخ رشید کے بھتیجے راشد شفیق کا ایک روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کرلیا گیا۔

    باغی ٹی وی : ایم این اے شیخ راشد شفیق کوپولیس نے سخت سکیورٹی میں ڈیوٹی مجسٹریٹ کی عدالت میں پیش کیا، سول جج مشتاق حسین جنجوعہ نے شیخ راشد شفیق کا ایک روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کرلیا۔

    سابق وزیر داخلہ شیخ رشید احمد کے بھتیجے شیخ راشد شفیق کو سعودی عرب سے واپسی پر اسلام آباد ائیرپورٹ پر گرفتار کیا گیا تھا،راشد شفیق کو مسجد نبوی کے معاملے پر اشتعال انگیز ویڈیو پرگرفتارکیا گیا شیخ راشد شفیق کو وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کی ٹیم نے اسلام آباد پہنچنے پر گرفتار کیا، وہ عمرہ کی ادائیگی کے بعد اسلام آباد انٹرنیشنل ائرپورٹ پہنچے تھے رکن قومی اسمبلی شیخ راشد شفیق کے خلاف فیصل آباد میں مقدمہ درج کیا گیا تھا –

    توہین مسجد نبوی ٫عمران خان۔ شیخ رشید٫فواد چودھری پر مقدمہ درج

    بعد ازاں وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کی ٹیم نے شیخ راشد شفیق کو اٹک پولیس کے حوالے کردیا گیا تھا شیخ راشد شفیق کو لیکر پولیس ٹیم اٹک پہنچ گئی تھی –

    واضح رہے کہ شیخ راشد شفیق نے مسجد نبوی ﷺ میں وفاقی وزراء کے ساتھ پیش آئے افسوسناک واقعے پر خوشی کا اظہار کیا تھا۔

    قبل ازیں شیخ رشید احمد نے اپنے بھتیجے کی گرفتاری کی تصدیق کرتے ہوئے کہا تھا کہ وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے اپنے ہی شہر کے تھانے میں مقدمہ درج کروایا حکومت انتقام پر اتر آئی ہے اب حالات بہتر نہیں ہوں گے یہ لانگ مارچ کو ناکام بنانا چاہتے ہیں جبکہ عمران خان اور فواد چودھری سمیت میرا نام بھی ایف آئی آر میں شامل کیا گیا ہے۔

    شیخ رشید احمد نے کہا کہ میں اس کیس میں ضمانت نہیں کروا رہا اور صورت حال سے متعلق آج دن میں پریس کانفرنس کروں گا-

    قبل ازیں سابق وزیر داخلہ شیخ رشید کے بھتیجے اور رکن قومی اسمبلی شیخ راشد شفیق نے مسجد نبویؐ میں وفاقی وزرا سے بدتمیزی پر اپنے ردعمل میں کہا تھا کہ یہ عمران خان کی فتح ہے کہ کل یہ لوگ خانہ کعبہ جائیں گے تو وہاں پر بھی ان کیخلاف نعرے لگیں گے لوگوں کا ایک ہی مطالبہ ہے کہ عمران خان کو واپس لایاجائے، لوگ ان کو پسند نہیں کرتے۔

    وزیراعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز شریف نے اہم اجلاس طلب کرلیا

    ویڈیو پیغام میں شیخ راشد شفیق نے کہا تھا کہ امپورٹڈ حکومت والے یہاں آئے تھے، پاکستانیوں نے انہیں بھاگنے پر مجبور کیا، پورے مدینے میں چور، چور اور امپورٹڈ حکومت نامنظور کے نعرے لگے، ان کو اپنی اصلیت پتا چل گئی ہوگی۔انہوں نے بتایا تھا کہ وہ مدینہ میں موجود ہیں، عشاء کے وقت کوئی چور نماز یا تراویح پڑھنے نہیں آیا، چھپ چھپا کر ہوٹلوں میں بیٹھے ہیں، پورے پاکستان میں دعائیں ہورہی ہوں گی لیکن لوگ ان کو ناپسند کرتے ہیں۔

    بحریہ سول سینٹر میں دو خواتین سے موبائل اور پرس چھیننے والا جوڑا گرفتار

  • ویڈیو برآمد کروانی ہے، پولیس نے محسن بیگ کا مزید ریمانڈ مانگ لیا

    ویڈیو برآمد کروانی ہے، پولیس نے محسن بیگ کا مزید ریمانڈ مانگ لیا

    ویڈیو برآمد کروانی ہے، پولیس نے محسن بیگ کا مزید ریمانڈ مانگ لیا

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و تجزیہ کار محسن بیگ کا جسمانی ریمانڈ مکمل ہونے پر عدالت پیش کیا گیا

    وکیل لطیف کھوسہ نے عدالت میں کہا کہ پولیس نے عدالتی ریمانڈ کا غلط استعمال کیا ہے، پولیس حکام نے عدالت میں کہاکہ محسن بیگ کا مزید جسمانی ریمانڈ چاہئے، اے ٹی سی اسلام آباد نے استفسار کیا کہ مزید ریمانڈ کیوں چاہیے؟ پبلک پراسیکیوٹر نے کہا کہ پولیس گرافک ٹیسٹ کرانا ہے، ویڈیو برآمد کرنا ہے،اے ٹی سی اسلام آباد نے استفسار کیا کہ تین دن میں کیا کیا ہے ،6 دن سے محسن بیگ آپکے پاس ہے، آپکی کیا کارکردگی ہے؟ پبلک پراسیکیوٹر نے کہا کہ 6 دن میں ویڈیو برآمد نہیں کی جا سکی ،لطیف کھوسہ نے کہا کہ اتوار کو ڈی سی، آئی جی،ایس ایس پی محسن بیگ کے گھر میں تھے اےٹی سی اسلام آباد نے صحافی محسن بیگ کا 2روزہ جسمانی ریمانڈ منظورکر لیا

    صحافی محسن بیگ کے وکلا نے عدالت میں ایک اور درخواست دائر کر دی،درخواست میں کہا گیا ہے کہ محسن بیگ کی میڈیکل رپورٹ فراہم کی جائے، اےٹی سی اسلام آباد نے ایم ایس پولی کلینک کو نوٹس جاری کر دیا عدالت نے ایم ایس پولی کلینک کو ریکارڈ سمیت 23 فروری کو طلب کر لیا

    محسن بیگ کے خلاف ایف آئی اے نے مراد سعید کی شکایت پر مقدمہ درج کیا جبکہ اسلام آباد پولیس نے الگ سے انسداد دہشت گردی ایکٹ کا مقدمہ درج کیا تھا اسلام آباد کے تھانہ مارگلہ میں محسن بیگ کے خلاف درج ہونے والے مقدمے میں ان کے بیٹے کو بھی نامزد کیا گیا تھا، جس میں دہشت گردی سمیت دیگر دفعات شامل کی گئی تھیں

    محسن بیگ کےگھر پرچھاپہ غیر قانونی ہے:عدالت کافیصلہ

    مریم نوازمحسن بیگ کے بیانیے کے ساتھ کھڑی ہوگئیں

    محسن بیگ کے خلاف دہشت گردی کا مقدمہ ختم کرنے کی درخواست سماعت کے لئے مقرر

    مزید کئی صحافی بھی حکومتی نشانے پر ہیں،عارف حمید بھٹی کا انکشاف

    محسن بیگ کی گرفتاری، اقرار الحسن پر تشددکیخلاف کئی شہروں میں صحافی سراپا احتجاج

    کسی جج کو دھمکی نہیں دی جا سکتی،عدالت،محسن بیگ پر تشدد کی رپورٹ طلب

    ایس ایچ او کے کمرے میں ایف آئی اے نے مجھے مارا،محسن بیگ کا عدالت میں بیان

    جس حوالات میں آج میں ہوں جلد اسی حوالات میں عمران خان ہوگا۔ محسن بیگ

    وزیراعظم کا بیان دھمکی،اس سے بڑی توہین عدالت نہیں ہوسکتی ،لطیف کھوسہ

    آخر ریحام خان کی کتاب میں ایسا کیا ہے جو قومی ایشو بن گیا،حسن مرتضیٰ

    محسن بیگ کیس،فیصلہ کرنیوالے جج کے خلاف ریفرنس دائر کیا تو..اسلام آباد بار کا دبنگ اعلان

    گرفتار محسن بیگ پر ایک اور مقدمہ درج

    کامیاب تحریک عدم اعتماد،محسن بیگ،پاکستانی صحافت اور ہمارا پوری دنیا میں نمبر