Baaghi TV

Tag: جسٹس

  • جعلی ڈگری،جسٹس طارق  جہانگیری کے خلاف  ریفرنس دائر

    جعلی ڈگری،جسٹس طارق جہانگیری کے خلاف ریفرنس دائر

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس طارق محمود جہانگیری کے خلاف مبینہ جعلی ڈگری کی وجہ سے سپریم جوڈیشیل کونسل میں ریفرنس دائر کر دیا گیا

    جسٹس طارق جہانگیری کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس دائر کر دیا گیا ہے۔ ریفرنس دائر کرنیوالے شہری کا موقف ہے کہ جسٹس طارق جہانگیری کی ایل ایل بی کی ڈگری مبینہ طور پر جعلی ہے ،جامعہ کراچی نے جسٹس طارق محمود جہانگیری کی ڈگری کی توثیق نہیں کی، جسٹس طارق محمود جہانگیری کے رول نمبر میں بھی تضاد ہے، جسٹس طارق محمود کا رول نمبر ریکارڈ کے مطابق امتیاز احمد کا تھا، جسٹس طارق جہانگیری نے ایل ایل بی کا پہلا حصہ جس رول نمبر سے مکمل کیا وہ امتیاز احمد کو جاری ہوا تھا،درخواست گزار نے سپریم جوڈیشل کونسل سے استدعا کی کہ جسٹس طارق محمد جہانگیری کے خلاف کارروائی کی جائے کیونکہ وہ مس کنڈکٹ کے مرتکب ہوئے ہیں، یونیورسٹی کسی بھی طالبعلم کو ایک ہی رجسٹریشن نمبر جاری کرتی ہے دو نہیں،جج کے معزز عہدے کے لئے قانون کی ڈگری بنیادی ضرورت ہے تا ہم جسٹس طارق محمود جہانگیری کی ایل ایل بی کی ڈگری مبینہ طور پر جعلی ہے،یہ دھوکہ دہی ہے، اور گھناؤنا جرم ہے، حقائق اور معلومات سامنے آنے کے بعد جسٹس طارق محمود جہانگیر ی کے خلاف کاروائی کی جائے،جسٹس طارق محمود جہانگیری کے خلاف آئین پاکستان کے آرٹیکل 209 کی شق 5 کی ذیلی شق (b) کے مطابق آزادانہ تفصیلی انکوائری شروع کی جائے۔ ان کے عہدے سے ہٹا یا جائے کیونکہ انہوں نے آئین کے آرٹیکل 209 کی شق (6) کے تحت اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج کی حیثیت سے اپنے حلف کی خلاف ورزی کی تھی۔ طارق محمود جہانگیری کے خلاف جعلی ڈگری کی بنیاد پر فوجداری کارروائی شروع کی جائے۔

    واضح رہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے جج طارق محمود جہانگیری کی ڈگری مبینہ طو ر پر جعلی نکلی،کراچی یونیورسٹی نے جسٹس طارق محمود جہانگیری (اسلام آباد ہائی کورٹ) کی ایل ایل بھی کی ڈگری کو جعلی قرار دیا۔ کراچی یونیورسٹی کے مطابق داخلہ کسی اور نام (امتیاز احمد) سے ہوا اور ریزلٹ طارق جہانگیری کے نام سے جاری ہوا۔ڈگری جعلی ہونےکا انکشاف جامعہ کراچی نےاپنے خطوط میں کیا،طارق محمود جہانگیری نے 1991 میں گورنمنٹ اسلامیہ لا کالج کے ذریعے جامعہ کراچی سے ایل ایل بھی کی ڈگری حاصل کی،ڈگری 2 مختلف انرولمنٹ نمبروں کے ذریعے لی گئی،1989 میں انرولمنٹ نمبر اے آئی ایل 5968 بنام طارق طارق جہانگیری ولد محمد اکرم کی نام سے ایل ایل بی پارٹ ون پاس کیا،1991 میں انرولمنٹ نمبر اے آئی ایل 7124/87 بنام طارق محمود ولد قاضی محمد اکرم کے نام سے ایل ایل بھی پارٹ 2 پاس کیا،جامعہ کراچی کے ریکارڈ کے مطابق انرولمنٹ نمبر اے آئی ایل 5968 امتیاز احمد ولد محمد الہیٰ کو جاری ہواتھا،جامعہ کراچی کے ریکارڈ ٹیبولیشن کے مطابق انرولمنٹ نمبر 5968 اور 7124 طارق محمود اور طارق جہانگیری کے نام سے استعمال ہوا،جامعہ کراچی کو 23 مئی 2024 کوطارق محمود 2 مختلف انرولمنٹ نمبروں سے ایل ایل بی کی ڈگری کی تصدیق کیلئے درخواست موصول ہوئی،جامعہ کراچی کی جانب سے 4 جون 2024 کو انرولمنٹ نمبر5968 دراصل امیتاز احمد کاہے،پارٹ ون کی مارک شیٹ میں رول نمبر 4069 طارق جہانگیر کے نام پر جاری ہوا،ایل ایل بی پارٹ 2 انرولمنٹ نمر 7142 اور رول نمبر 22857 طارق محمود کو جاری ہوا،جامعہ کراچی کے اعلیٰ ذرائع نے اپنے تمام خطوط کی تصدیق کی ہے،جامعہ کراچی کسی بھی طالبعلم کوڈگری کیلئے ایک ہی انرولمنٹ نمبر جاری کرتی ہے۔

  • کریمنل جسٹس سسٹم میں ریفامز کی ضرورت ہے، اعظم نذیر تارڑ

    کریمنل جسٹس سسٹم میں ریفامز کی ضرورت ہے، اعظم نذیر تارڑ

    وفاقی وزیر قانون و انصاف اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ کریمنل جسٹس سسٹم میں ریفامز کی ضرورت ہے، حکومت تمام سہولیات دے گی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جسٹس ریفارمز پراجیکٹ سے متعلق تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
    قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی استحقاق نےعمران خان اور شیخ رشید کوطلب کرلیا

    چیف جسٹس ہائیکورٹ جسٹس اطہر من اﷲ نے بھی تقریب سے خطاب کیا۔ اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ میں چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ کو مبارکباد پیش کرتا ہوں کہ درست قدم اٹھایا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ علامہ اقبال نے فرمایا کہ عمارتیں بنانے سے تو نظام آگے نہیں بڑھتا کام کرنے سے خرابیاں دور ہوتی ہیں جب تک سوچ کو حقائق میں نہیں ڈھالتے تب تک خرابیاں بھی ٹھیک نہیں ہوتیں ۔

     

    شیریں مزاری کی گرفتاری،کمیشن نے 14 جولائی کو آئی جی اسلام آبادکو طلب کر لیا

     

    انہوں نے کہا کہ پورا سسٹم سائلین کو سہولت فراہم کرنے کے لئے ہےہمارآئین دنیا کے بہترین آئینوں میں سے ہے، کاش ہم اس پر عملی طور پر عمل کرتے۔وزیر قانون نے کہا کہ ریاست ایک خاندان ہے ہم سب اس کا حصہ ہیں، اب زمانہ بدل گیا جدت آ چکی ہے، سائلین کا بھی حق ہے ان کو بھی سہولت فراہم کی جائے، یہ موضوع میرے دل کے بہت قریب ہے، کریمنل جسٹس سسٹم میں ریفامز کی ضرورت ہے۔

    عمران خان کے خلاف غداری کا مقدمی درج کیا جائے،عائشہ گلالئی تھانہ پہنچ گئی

     

     

    انہوں نے کہا کہ بار کے دوستو کو کہوں گا اس پراجیکٹ کو مثبت طریقے سے دیکھیں، جو بند دروازے ہیں انہیں کھولیں، ذہنوں کی کھڑکیاں بھی کھولیں اور سائلین کو بروقت انصاف فراہم کرنے کیلئے مشاورت کے ساتھ قانون سازی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کے نمائندے کے طور پر بتانا چاہتا ہوں کہ وزیراعظم شہباز شریف نے ہدایت کی ہے کہ فوری انصاف کے حصول کیلئے آسانیاں پیدا کریں۔

    انہوں نے کہا کہ جیل ریفارمز کو بھی مدنظر رکھنا چاہئے۔ وفاقی وزیر قانون نے کہا کہ جسٹس ریفارمز پراجیکٹ عدالتی نظام میں عوامی اعتماد کی بحالی کا منصوبہ ہے۔

    انہوں نے کہا کہ اس منصوبہ کیلئے حکومت ہر ممکن تعاون فراہم کرے گی۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ اطہر من اﷲ نے کہا کہ جلد انصاف کے حصول کیلئے یہ پراجیکٹ لانچ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک شخص 12 سال پہلے جیل گیا اور 12 سال بعد اس کی درخواست سماعت کیلئے مقرر ہوئی، عدالت نے اسے بری کر دیا، اس کے جیل میں گزرے ہوئے 12 سال کون واپس کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ انصاف صرف عدالتیں ہی نہیں دیگر اداروں کا بھی کام انصاف فراہم کرنا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ جن کے ساتھ ناانصافی ہوتی ہے وہی عدالت کا دروازہ کھٹکھٹاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میرے پاس ایک کیس آیا اس کیس کو 50 سال ہو چکے ہیں، ان 50 سالوں میں 6 بار کیس سپریم کورٹ گیا۔ انہوں نے کہا کہ آج سے 50 سال پہلے اسلام آباد بنایا گیا اور جن لوگوں سے زمینیں لی گئیں وہ آج بھی سی ڈی اے کے چکر لگا رہے ہیں، ان کے ساتھ انصاف نہیں کیا گیا۔

    انہوں نے کہا کہ پٹوار اور تھانے سے ناانصافی شروع ہوتی ہے پھر عوام کی امید عدالتیں ہوتی ہیں، ہماری جیلوں میں بھی جگہ سے زائد قیدی رکھے ہوئے ہیں، جن کی زمینوں پر اسلام آباد میں بڑے بڑے محل بن گئے ان متاثرین کو آج تک معاوضہ نہیں مل سکا۔ انہوں نے کہا کہ ڈسٹرکٹ کورٹس دکانوں میں کمرشل ایریاز میں بنائی گئی تھیں، وکیل جج اور سائلین کے حقوق بھی پامال ہو رہے ہیں، خوشی سے کہہ سکتا ہوں سابقہ حکومت نے ہماری درخواست پر ڈسٹرکٹ کورٹس کمپلیکس کی بنیاد رکھی، ان عدالتوں میں جانے والے سائلین ہی نہیں بلکہ ججز کے بھی حقوق پامال ہوتے ہیں، گزشتہ حکومت نے ہماری بات سمجھی اور اب وہ کمپلیکس تیار ہونے کے قریب ہے۔

    انہوں نے کہا کہ کیا ہر سائل کو ایک مقرر مدت میں انصاف مل سکتا ہے یہ پراجیکٹ اس کے لئے ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس ملک کے اکثر لوگ عدالت جا ہی نہیں سکتے، اس بات سے انکار نہیں کہ عدلیہ میں بھی ناانصافی موجود ہے لیکن عدلیہ ریاست کی کبھی ترجیح ہی نہیں رہی۔

    انہوں نے کہا کہ وزیرقانون نے درست کہا کہ صرف بڑی بڑی عمارتیں بنانے سے انصاف نہیں ملتا، ہمیں مسائل کا ادراک تھا لیکن ہم ادارہ جاتی اصلاحات کے ماہر نہیں، ہمیں اندازہ تھا کہ ملک کے ایک بڑے طبقے کی انصاف تک رسائی نہیں ہے، جو لوگ ہائیکورٹ تک رسائی کی استطاعت نہیں رکھتے یہ پراجیکٹ ان کیلئے ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے بہت سوچا کہ کیا کیا جائے تو لیکن ہمیں کچھ سمجھ نہیں آ رہی تھی، یہ پراجیکٹ اصل سٹیک ہولڈرز سائلین کیلئے ہے جس کا تصور ہمیں آئین نے دیا ہے ۔

  • جسٹس عائشہ ملک سپریم کورٹ کی پہلی خاتون جج سوموارکےدن پہلا کام کیا کرنے جارہی ہیں‌؟اہم خبرآگئی

    جسٹس عائشہ ملک سپریم کورٹ کی پہلی خاتون جج سوموارکےدن پہلا کام کیا کرنے جارہی ہیں‌؟اہم خبرآگئی

    اسلام آباد:جسٹس عائشہ ملک سپریم کورٹ کی پہلی خاتون جج سوموارکےدن پہلا کام کیا کرنے جارہی ہیں‌؟اہم خبرآگئی ,اطلاعات کے مطابق جسٹس عائشہ ملک سپریم کورٹ کی پہلی خاتون جج بن گئی جس کا نوٹیفکیشن بھی جاری کردیا گیا ہے۔

     

    سپریم کورٹ کی خاتون جسٹس محترمہ عائشہ ملک کی حلف برداری کی تقریب پیر کو سپریم کورٹ میں ہوگی، چیف جسٹس گلزار احمد ان سے حلف لیں گے۔

     

    واضح رہے کہ گزشتہ دنوں پارلیمانی کمیٹی برائے ججز تقرری کے ان کیمرہ اجلاس میں جسٹس عائشہ ملک کی سپریم کورٹ میں تعیناتی کی منظوری دی گئی تھی۔

    پارلیمانی کمیٹی کے ججز تقرری کے اجلاس کی صدارت فاروق ایچ نائیک نے کی تھی، جوڈیشل کمیشن نے جسٹس عائشہ ملک کی تعیناتی کی سفارش کی تھی، جسے کمیٹی نے منظور کر لیا تھا۔

    یاد رہے کہ گزشتہ برس 9 ستمبر کو چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں ہونے والے جوڈیشل کمیشن کے اجلاس میں جسٹس عائشہ ملک کے نام پر اتفاق نہ ہو سکا تھا، جس کی وجہ سے وہ سپریم کورٹ کی پہلی خاتون جج نہ بن سکی تھیں، جسٹس عائشہ ملک ‏کی سپریم کورٹ ترقی پر وکلا نے احتجاج کیا تھا۔

     

    دسمبر 2021 کے آخر میں چیف جسٹس آف پاکستان نے سپریم کورٹ میں پہلی خاتون جج کے لیے ایک بار پھر لاہور ہائی کورٹ کی سینئر جج جسٹس عائشہ ملک کا نام تجویز کر دیا تھا۔

     

    واضح رہے کہ سپریم کورٹ میں 17 ججوں کی تعداد مقرر ہے، جسٹس مشیر عالم 17 اگست 2021 کو ریٹائر ہو گئے تھے، جس کے باعث ایک نشست خالی ہوئی تھی۔

    جسٹس عائشہ ملک کون ہیں؟
    لاہور ہائی کورٹ کی ویب سائٹ کے مطابق جسٹس عائشہ ملک 1966 میں پیدا ہوئیں اور انہوں نے اپنی تعلیم پاکستان سمیت دیگر ملکوں بشمول فرانس، برطانیہ اور امریکہ میں حاصل کی۔
    قانون کی اعلیٰ تعلیم ایل ایل ایم امریکہ کے مشہور ترین ہارورڈ لا سکول سے حاصل کی۔

     

     

    بحیثیت وکیل وہ ہائی کورٹس، ڈسٹرکٹ کورٹس، بینکنگ کورٹس، سپیشل ٹریبیونلز اور آربٹریشن کورٹس میں بے شمار کیسز لڑتی رہی ہیں۔

     

     

    جسٹس عائشہ ملک مئی 2012 میں لاہور ہائی کورٹ کی ایڈیشنل جج مقرر کی گئی تھیں۔ جسٹس عائشہ ملک لاہور ہائی کورٹ میں سنیارٹی لسٹ میں چوتھے نمبر پر ہیں اور بطور ہائی کورٹ کے جج  ان کی ریٹائرمنٹ دو جون 2028 کو ہونا تھی

     

    مگر اب چونکہ وہ سپریم کورٹ کی جج بن گئی ہیں تو ان کی ریٹائرمنت 2031 کے بعد ہوگی