Baaghi TV

Tag: جسٹس اطہر من اللہ

  • ضیا الحق کا دور سب سے خوفناک تھا،جسٹس اطہرمن اللہ

    ضیا الحق کا دور سب سے خوفناک تھا،جسٹس اطہرمن اللہ

    لاہور: سپریم کورٹ کے جج جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا ہے کہ ضیا الحق کا دور سب سے خوفناک تھا-

    باغی ٹی وی : لاہور میں پہلی بین الاقوامی جانوروں کے حقوق اور ماحولیات کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جسٹس اطہر من اللہ نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے اہم فیصلوں پر روشنی ڈالی انہوں نے کہا کہ عدالت نے جبری گمشدگیوں، قیدیوں کے حقوق اور بنیادی انسانی حقوق کے حوالے سے کئی اہم ججمنٹس دی ہیں۔

    انہوں نے خاص طور پر جبری گمشدگی کے کیسز کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایسے کیسز میں عدالت نے متاثرین کے درد کو سمجھتے ہوئے فیصلے کیے، بطور جج میں اس درد کو محسوس کر سکتا ہوں جو کسی کا عزیز جبری گمشدہ ہونے پر اہل خانہ پر گزرتا ہے۔

    خیبرپختونخوا میں31 جنوری تک سی این جی اسٹیشنز بند کرنے کا فیصلہ

    جسٹس اطہر من اللہ نے اسلام آباد کے چڑیا گھر کے حوالے سے دی گئی ججمنٹ پر بھی گفتگو کی اور کہا کہ جانوروں کے حقوق کا تحفظ بھی اتنا ہی اہم ہے جتنا انسانی حقوق کاہے، انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ہر زندگی قیمتی ہے، چاہے وہ انسان کی ہو، جانور کی یا پودوں کی۔

    انہوں نے پاکستان میں طاقت کے زور پر اقتدار کے حصول اور جنرل ضیاء الحق کے دور کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں طاقت کے زور پر اقتدار پر قبضہ کیاجاتا رہا، یہ دور سب سے خوفناک تھا، جس میں ٹارچر سیلز بنائے گئے اور لوگوں کو مہینوں عقوبت خانوں میں رکھا گیا-

    امریکی معروف ٹک ٹاکر سر پر گولی لگنے سے جاں بحق

    انہوں نے ذوالفقار علی بھٹو کی برطرفی اور قتل کا بھی ذکر کیا،کہا کہ منتخب وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کو عہدے سے ہٹا کر قتل کیا گیا۔

    کانفرنس کے دوران انہوں نے جانوروں کے حقوق کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں جانوروں کے حقوق کے تحفظ کے لیے بھی سنجیدہ اقدامات کی ضرورت ہے،انہوں نے اس موقع پر پاکستان کی پہلی بین الاقوامی جانوروں اور ماحولیات کانفرنس کے انعقاد پر منتظمین کو مبارکباد دی۔

    حماس یرغمالیوں کےنام جاری نہیں کر دیتی،غزہ میں جنگ بندی نہ کریں،اسرائیلی وزیراعظم کا فوج کو حکم

    جسٹس اطہر من اللہ نے بنی گالہ کی خوبصورتی کو داغدار کرنے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایک ٹاؤن پلانر نے اسے جانوروں کے قیام کی بہترین جگہ قرار دیا تھا، مگر اشرافیہ نے وہاں رہائش گاہیں قائم کرکے قدرتی خوبصورتی کو نقصان پہنچایا۔

  • سپریم کورٹ میں معلومات تک رسائی کیس: جسٹس اطہرمن اللہ کا اردو میں اضافی نوٹ جاری

    سپریم کورٹ میں معلومات تک رسائی کیس: جسٹس اطہرمن اللہ کا اردو میں اضافی نوٹ جاری

    اسلام آباد: سپریم کورٹ میں معلومات تک رسائی کے کیس میں جسٹس اطہرمن اللہ نے اردو میں اضافی نوٹ جاری کردیا-

    باغی ٹی وی : سپریم کورٹ کے جسٹس اطہر من اللہ نے اپنے نوٹ میں لکھا ہے کہ درست ہے آرٹیکل 19اے کے بنیادی حق کا استعمال مناسب پابندیوں کے تابع ہے، مناسب پابندیوں کی اصطلاح مگر پارلیمان کو آئینی حق کا دائرہ محدود کرنے کا اختیار نہیں دیتی آرٹیکل 8 ریاست کو ایسی قانون سازی سے روکتا ہے جو بنیادی حقوق کو ختم یا محدود کرے، سپریم کورٹ بنیادی حقوق کے تناظر میں دیگر اداروں کے اقدامات کا عدالتی جائزہ لیتی ہے یہ ناقابل تصورہے کہ سپریم کورٹ شہریوں کے بنیادی حقوق چھین لے۔

    اضافی نوٹ کے مطابق عوام یہ سمجھیں کہ بنیادی حقوق کے محافظ خود حقوق محدود کرنے میں ملوث ہیں توان کا اعتماد ختم ہوجائے گا، عوامی اعتماد ختم ہوا تو عدلیہ کی آزادی کمزور پڑجائے گی، سپریم کورٹ کے پاس تلواریا خزانے کا کوئی کنٹرول نہیں، سپریم کورٹ کی قوت صرف عوام کا اعتماد ہے۔

    قاضی فائز عیسیٰ مڈل ٹیمپل میں” بینچر”منتخب،پی ٹی آئی کا ادارے کے باہر احتجاج

    اضافی نوٹ میں جسٹس اطہر من اللہ نے سابق چیف جسٹس قاضی فائزعیسی کے فیصلے سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ معلومات تک رسائی کا حق بدعنوانی کے خلاف ایک قلعہ ہے، ججز،ملازمین کی مراعات سپریم کورٹ کا بجٹ عوامی اہمیت کے حامل اور شہریوں کی دلچسپی کے موضوع ہیں، شہریوں کو معلومات کی فراہمی کے لیے درخواست دائر کرنے کی ضرورت ہی نہیں ہونی چاہیئے، معلومات تک رسائی کے قانون کو سختی سے نافذ کیا جائے۔

    سپریم کورٹ میں زیرالتواء مقدمات کی تفصیلات جاری

  • از خود نوٹس کے اختیار کا استعمال انتہائی احتیاط کا متقاضی ہے،جسٹس اطہر من اللہ،میرا سماعت کو سننے کا کوئی فائدہ نہیں،جسٹس یحییٰ آفریدی

    از خود نوٹس کے اختیار کا استعمال انتہائی احتیاط کا متقاضی ہے،جسٹس اطہر من اللہ،میرا سماعت کو سننے کا کوئی فائدہ نہیں،جسٹس یحییٰ آفریدی

    اسلام آباد: جسٹس اطہر من اللہ نے کہا ہے کہ اسمبلیاں توڑنے کی آئینی اور قانونی حیثیت دیکھنا نا گزیر ہے۔

    باغی ٹی وی: پنجاب اور خیبر پختونخوا میں انتخابات کے معاملے پر سپریم کورٹ کے از خود نوٹس کے حوالے سے جسٹس اطہر من اللّٰہ نے اختلافی نوٹ میں لکھا کہ میں نے چیف جسٹس پاکستان کا آرڈر پڑھ لیا ہے،چیف جسٹس کے اوپن کورٹ میں دیا گیا آرڈر تحریری حکم نامے سے مطابقت نہیں رکھتا-

    چیف جسٹس اطہر من اللہ کا کہنا تھا صوبائی اسمبلیاں توڑنے کی آئینی اور قانونی حیثیت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ کیا صوبائی اسمبلیاں جمہوریت کے آئینی اصولوں کو روند کر توڑی گئیں؟ ہمارے سامنے رکھے گئے سوال کو علیحدہ نہیں دیکھا جا سکتا۔

    جسٹس اطہر من اللّٰہ نے اپنے نوٹ میں سوال کیا ہے کہ کیا صوبائی اسمبلیاں جمہوریت کے آئینی اصولوں کو روند کر توڑی گئیں؟

    ان کا کہنا ہے کہ اسمبلیاں توڑنے کی قانونی حیثیت پر سوالات بنیادی حقوق کی سنگین خلاف ورزی سے متعلق ہیں، ہمارے سامنے آنے والا معاملہ پہلے ہی صوبائی آئینی عدالت کے سامنے موجود ہے اس معاملے کا سپریم کورٹ آنا ابھی قبل از وقت ہےکسی اور معاملے کو دیکھنے سے پہلے چیف جسٹس نے مجھ سے اس معاملے پر سوالات مانگے ہیں-

    کیا صوبائی اسمبلی توڑنے کی ایڈوائس دینا وزیرِ اعلیٰ کا حتمی اختیار ہے جس کی آئینی وجوہات کو دیکھنا ضروری نہیں؟

    کیا وزیرِ اعلیٰ اپنی آزادانہ رائے پر اسمبلی توڑ سکتا ہے یا کسی کی رائے پر؟

    کیا کسی بنیاد پر وزیرِ اعلیٰ کی ایڈوائس کو آئینی طور پر مسترد کیا جا سکتا ہے اور اسمبلی بحال کی جا سکتی ہے؟

    جسٹس اطہر من اللّٰہ نے کہا کہ میں نےجب عدالت میں آئینی نکات اٹھائےتو چیف جسٹس نے انہیں شامل کرنے پر اتفاق کیا، میرے سوالات پر بینچ کے کسی رکن نے اعتراض نہیں کیا، کھلی عدالت میں میرے سوالات کو شامل کر کے حکم نامہ لکھوایا گیا۔

    جسٹس اطہر من اللّٰہ نے یہ بھی کہا کہ اس عدالت کی آئین کی تشریح کے عام لوگوں اور آنے والی نسلوں پر اثرات ہیں، از خود نوٹس کے اختیار کا استعمال انتہائی احتیاط کا متقاضی ہے، یہ ناگزیر ہے کہ آئینی خلاف ورزیوں اور آئینی تشریح کے اہم معاملات کو فل کورٹ سنے، چیف جسٹس کے از خود نوٹس کے اختیار کی آئینی تشریح بھی ضروری ہوگئی ہے۔

    دوسری جانب جسٹس یحییٰ نے اپنے احتلافی نوٹ میں لکھا کہ فیصلہ جاری کرنے کے لیے عدالتی اختیارات کا استعمال ٹھیک نہیں ہو گا، معاملہ ابھی لاہور ہائیکورٹ اور پشاور ہائیکورٹ میں زیرِ التواء ہے جس پر فیصلہ ہونا باقی ہے، سپریم کورٹ کا دائرہ کار انڈی پینڈنٹ ہے جس کا دیگر عدالتوں میں زیرِ التواء معاملے سے تعلق نہیں۔

    جسٹس یحییٰ آفریدی نے لکھا کہ ماحول چارج ہے، سیاسی جماعتوں کا نکتہ نظر بھی ہے، عدالت تحمل کا مظاہرہ کرے، عدالت کی خواہش پر ردِ عمل سے بچنے کے لیے ایسا کرنا چاہیے، سپریم کورٹ کی سماعت کے دوران ریمارکس یا فیصلہ جاری کرنا پارٹیوں کے دعوؤں کے ساتھ تعصب ہو گا، یہ ہائی کورٹ کے قانونی دائرہ اختیار کی بھی توہین ہو گی۔

    اپنے نوٹ میں جسٹس یحییٰ آفریدی نے لکھا کہ اس طرح ہائی کورٹ کے دائرہ اختیار پربھی اثر ہو گا، ہائی کورٹ قانون کو عزت اور پختگی سے چلانے کا حق رکھتی ہےمیں تینوں درخواستوں کومسترد کرتا ہوں، ہمارے لیےآرٹیکل 184 (3) کا استعمال تینوں درخواستوں پر درست نہیں ہو گا میرا سماعت کو سننے کا کوئی فائدہ نہیں، میں بینچ پر اپنے آپ کو برقرار رکھنے کا فیصلہ چیف جسٹس پر چھوڑتا ہوں۔