Baaghi TV

Tag: جسٹس بابر ستار

  • اسلام آباد ہائیکورٹ رولز میں تبدیلیوں پر شدید تحفظات،جسٹس بابر ستار  نے چیف جسٹس کو خط لکھ دیا

    اسلام آباد ہائیکورٹ رولز میں تبدیلیوں پر شدید تحفظات،جسٹس بابر ستار نے چیف جسٹس کو خط لکھ دیا

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے جج جسٹس بابر ستار نے ہائیکورٹ رولز 2025 میں کی گئی تبدیلیوں پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے قائم مقام چیف جسٹس کو ایک اہم خط لکھ دیا ہے۔

    جسٹس بابر ستار نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ بغیر فل کورٹ میٹنگ کے رولز میں کی گئی کوئی بھی تبدیلی آئین اور قانون کے منافی ہے لاہور ہائیکورٹ رولز اور آئین کے آرٹیکل 208 کے تحت طے شدہ طریقہ کار کو نظر انداز کرتے ہوئے رولز میں ترمیم کی گئی، اس غلطی کی فوری درستگی ضروری ہے تاکہ ادارے کا آئینی وقار اور داخلی شفافیت متاثر نہ ہو۔

    انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ انہیں اسلام آباد ہائیکورٹ رولز 2025 کا گزٹ نوٹیفکیشن موصول ہو چکا ہے، تاہم ان رولز کی تشکیل آئینی دائرہ اختیار کے مطابق نہیں کی گئی، آئین کے آرٹیکل 208 کے مطابق رولز بنانے کا اختیار صرف متعلقہ اتھارٹی یعنی چیف جسٹس اور تمام ہائیکورٹ ججز کو حاصل ہے، اور یہ اختیار نہ تو کسی اور کو دیا جا سکتا ہے اور نہ ہی کسی متبادل طریقے سے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

    چند مقامات پر گرج چمک کے ساتھ بارش کی پیشگوئی

    بھارت کا پاکستانی پانی ہڑپنے کے منصوبے پر عمل کا آغاز

    بھارت کا پاکستانی پانی ہڑپنے کے منصوبے پر عمل کا آغاز

  • جسٹس بابر ستار کے ایک اور آرڈر جاری کرنے پر قائم مقام چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ برہم

    جسٹس بابر ستار کے ایک اور آرڈر جاری کرنے پر قائم مقام چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ برہم

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے جج جسٹس بابر ستار کا عبوری آرڈر قائم مقام چیف جسٹس کے ڈویژن بنچ سے معطل ہونے پر نیا تنازع کھڑا ہوگیا۔

    جسٹس بابر ستار کی ہدایت کے باوجود کیس اُن کے بنچ میں مقرر نہ ہو سکا، تاہم آرڈر معطل ہونے کے باوجود جسٹس بابر ستار نے کیس سماعت کی اور 8 صفحات پر مشتمل تحریری حکم نامہ بھی جاری کردیا جسٹس بابر ستار کے جاری حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ 26 مارچ کا کیس مقرر کرنے کا آرڈر ڈویژن بینچ میں چیلنج ہی نہیں ہوا تو معطل کیسے ہو سکتا ہے؟ 12 اور 26 مارچ کے آرڈرز عبوری تھے اور کیس کا حتمی فیصلہ ابھی آنا باقی ہے۔

    حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ چیف جسٹس کے پاس زیرسماعت کیس میں انتظامی سائیڈ پر مداخلت کا کوئی اختیار نہیں، ڈپٹی رجسٹرار آئی ٹی بتائیں کس کے کہنے پرجوڈیشل آرڈرز ویب سائٹ سے ہٹائے؟ عدالتی ہدایت کے باوجود کیس مقرر نہ کرنےپر ڈپٹی رجسٹرار کے خلاف کیوں نہ کارروائی کی جائے؟

    پہلگام حملہ: واقعے کے 5 منٹ بعد کسی پر الزام لگانا انتہائی نامنا سب ہے ،امریکی سابق نائب وزیر خارجہ

    ڈپٹی رجسٹرار جوڈیشل کو طلب کرنے پر انہوں نے نوٹ پیش کیا کہ آرڈر ڈویژن بینچ نے معطل کر دیا، ڈپٹی رجسٹرار جوڈیشل نے کیس کاز لسٹ میں شامل نہ کر کے بادی النظر میں عدالتی حکم کی خلاف ورزی کی۔

    حکم نامے کے مطابق ڈپٹی رجسٹرار جوڈیشل نے ہدایات کے باوجود بھی کیس سپلیمنٹری کازلسٹ میں بھی شامل نہیں کیا، ڈپٹی رجسٹرار جوڈیشل نے جواز دیا کہ ڈویژن بینچ کی ہدایت کے مطابق کیس مقرر نہیں کیا جا سکتا، بظاہر ڈویژن بینچ کی درست طور پر معاونت نہیں کی گئی کہ یہ عبوری آرڈر ہے،لا ریفارمز آرڈیننس کے تحت سنگل بینچ کے حتمی فیصلے کے خلاف ہی انٹراکورٹ اپیل دائر کی جا سکتی ہے، ریکارڈ طلب کر کے یا کسی ڈائریکشن کے ذریعے آئینی عدالت کی کارروائی میں رکاوٹ ڈالنا ناقابلِ تصور ہے۔

    پاکستان سے چین کو اونٹنی کے دودھ کے پاؤڈر کی برآمد کا آغاز

    حکمنامے میں کہا گیا ہے کہ کیس 7 مئی کو آئندہ سماعت کے لیے مقرر کیا جاتا ہے، رجسٹرار آفس کیس کازلسٹ میں شامل کرے، کیس کازلسٹ میں شامل نہیں بھی کیا جاتا تو بھی 7 مئی کو سماعت کی جائے گی، آرڈر کی کاپی تمام فریقین کو بھیجی جائے تاکہ وہ آئندہ سماعت پر اپنی حاضری یقینی بنائیں۔

    بعد ازاں عدالت نے ڈپٹی رجسٹرار جوڈیشل اور ڈپٹی رجسٹرار آئی ٹی کو آئندہ سماعت پر ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا۔

    واضح رہے کہ جسٹس بابر ستار نے ڈی جی امیگریشن اینڈ پاسپورٹ اور ڈائریکٹر نیب کو توہینِ عدالت کا شوکاز نوٹس جاری کیا تھا، قائم مقام چیف جسٹس سرفراز ڈوگر کی سربراہی میں ڈویژن بینچ نے جسٹس بابر ستار کا آرڈر معطل کر دیا تھا۔

    بھارت کے غیر ذمہ دارانہ بیانات پر پاکستانی صحافیوں کی تشویش

    دوسر ی جانب جسٹس بابر ستار کے آرڈر معطل ہونے کے باوجود ان کی جانب سے ایک اور آرڈر جاری کرنے پر قائم مقام چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ سرفراز ڈوگر نے برہمی کا اظہار کیا ہے۔

    رپورٹ کے مطابق قائمقام چیف جسٹس کی سربراہی میں ڈویژن بینچ نے جسٹس بابر ستار کا آج کا آرڈر بھی معطل کرنے کے ریمارکس دیئے ہیں، قائمقام چیف جسٹس سرفراز ڈوگر اور جسٹس محمد آصف پر مشتمل بنچ نے انٹراکورٹ اپیل پر سماعت کی، ڈائریکٹر جنرل امیگریشن اینڈ پاسپورٹ نے جسٹس بابر ستار کے آرڈر کے خلاف انٹراکورٹ اپیل دائر کر رکھی ہے۔

    وکیل ڈائریکٹوریٹ امیگریشن اینڈ پاسپورٹ نے کہا کہ جسٹس بابر ستار نے آج سماعت کی اور 8 صفحات کا آرڈر بھی کر دیا ہے، قائمقام چیف جسٹس سرفراز ڈوگر نے کہا کہ وہ آرڈر کیسے پاس کر سکتے ہیں اُن کے پاس تو کیس ہی نہیں؟-

    بھارت نے فرانس سے 26 رافیل ایم جنگی طیارے خریدنے کا معاہدہ کر لیا

    قائم مقام چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ اس پر آرٹیکل لکھیں گے اور نجی ٹی وی پر رات کو آرٹیکل خبر میں پڑھا جائے گا، پٹیشن میرے پاس ڈویژن بنچ میں کلب ہے، توہینِ عدالت نوٹس معطل کیا ہوا ہے۔

    قائمقام چیف جسٹس نے کہا کہ جسٹس بابر ستار کا آج کا 8 صفحوں کا آرڈر بھی معطل کر رہے ہیں، عدالت نے انٹراکورٹ اپیل پر سماعت ملتوی کر دی۔

  • اسلام آباد ہائیکورٹ کے عملے کی سائلین سے رشوت طلب کرنے کی شکایات، جسٹس بابر ستار نےرجسٹرار کو خط لکھ دیا

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے عملے کی سائلین سے رشوت طلب کرنے کی شکایات، جسٹس بابر ستار نےرجسٹرار کو خط لکھ دیا

    اسلام آباد ہائیکورٹ میں ججز تبادلے کے بعد ٹرانسفر ہو کر ساتھ آئے اسٹاف کی سائلین سے مبینہ رشوت وصولی کی شکایات سامنے آ گئیں-

    باغی ٹی وی: اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس بابر ستار کی ہدایت پر ان کے سیکرٹری نے مبینہ رشوت ستانی کے ازالے کے لیے رجسٹرار کو خط لکھ دیا،جسٹس بابر ستار کی ہدایت پر لکھے گئے خط کی نقول تمام ججز کے سیکرٹریز کو بھی ارسال کر دی گئیں۔

    خط میں کہا گیا ہے کہ انکوائری کرکے ملوث اسٹاف کے خلاف کارروائی کرکے اس برائی کو جڑ سے اکھاڑا جائے ، خط میں کہا گیا ہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے کورٹ رومز اور کوریڈورز کی ویڈیو مانیٹرنگ ہوتی ہے، رجسٹرار آفس گزشتہ دو ہفتے کی فوٹیج نکال کر دیکھ سکتا ہے کہ اسٹاف مطالبہ کرکے رقم لے رہا ہے ،اگر ایسے مطالبات کی رپورٹس درست ثابت ہوں تو ملوث اسٹاف کے خلاف سخت ایکشن لیا جائے۔

    پڑوسی کے گھر جانے پر باپ نے 5 سالہ بیٹی کو قتل کر دیا

    خط میں کہا گیا ہے کہ ان کے علم میں لایا گیا کورٹ اسٹاف ریلیف لینے والے سائلین و وکلا کا پیچھا کرکے رقم کا مطالبہ کرتے ہیں، اسلا م آباد ہائیکورٹ میں پریشان کن پریکٹس نے سر اٹھانا شروع کر دیا ہے حالانکہ ہائیکورٹ کے مستقل ملازمین اپنی سروسز کے عو ض تنخواہیں اور مراعات وصول کرتے ہیں ہائیکورٹ ملازم کا ریلیف حاصل کرنے والے کسی سائل یا وکیل سے رقم کا مطالبہ کرنا مس کنڈکٹ ہے ،تمام عدالتیں بشمول ہائیکورٹس شہریوں کی خدمت (انصاف کی فراہمی) کے لیے بنائی گئی ہیں۔

    وزیراعظم کی سمیڈا میں بین الاقوامی معیار کی ورک فورس بھرتی کرنے کی ہدایت

    خط میں مزید کہا گیا ہے کہ عدالتوں اور ان کے اسٹاف کو اپنی ذمہ داریاں بہترین انداز میں پوری کرنی چاہیئں، کورٹ ملازمین کا کسی وکیل یا سائل سے رقم لینا رشوت ستانی کے زمرے میں آتا ہے ، اس طرح رقم لینا انصاف کی فراہمی کے بدلے میں رینٹ لینے کے مترادف ہے ، شہریوں کو انصاف کی فراہمی کرنے والی عدالت میں اس کلچر کی کوئی گنجائش موجود نہیں۔

    خط میں کہا گیا ہے کہ عام فہم ہے کچھ دیگر ہائیکورٹس کا اسٹاف رپورٹ سائلین و وکلا سے رقم مطالبہ کرتا ہے ، جن ہائیکورٹس میں اس پریکٹس کو تباہ کن تصور کرتے ہوئے بھی برداشت کیا جاتا ہے ان کے کلچر کا حصہ بن چکا ہے، اسلام آباد ہائیکورٹ میں ایسی کوئی پر یکٹس موجود نہیں ،تشویشناک ہے کہ دیگر ہائیکورٹس سے اسٹاف ٹرانسفر کے بعد رقم کا مطالبہ کرنے کے واقعات رپورٹ ہوئے ہیں، رقم کا مطالبہ کرنے کی اس برائی کو لازمی طور پر جڑ سے ختم کیا جانا چاہیے۔

    کراچی: لگژری گاڑیاں چھینے والے گینگ کا سرغنہ پولیس اہلکار گرفتار

    خط میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کی کچھ عدالتوں کے احاطوں میں دیواروں پر ‘رقم کا مطالبہ سختی سے منع ہے’ لکھا ہوا ہے ، اس کے باوجود ان سائن بورڈز کے نیچے رقم کا مطالبہ بھی ہوتا ہے اور لی جاتی ہے ، اگر اس مرحلے پر اس پریکٹس کو کارروائی کرکے ختم نہیں کیا جاتا تو اسلام آباد ہائیکورٹ کا کلچر خراب ہو گا۔

    دوسری جانب قائم مقام چیف جسٹس آفس نے خط ملنے کی تصدیق کردی ہے۔

    اوچ شریف: سستا رمضان بازار نہ لگ سکا، عوام مہنگائی کے بھنور میں پھنس گئی

  • اسلام آباد ہائیکورٹ: تین ججز سے ذمہ داری واپس لے لی گئی

    اسلام آباد ہائیکورٹ: تین ججز سے ذمہ داری واپس لے لی گئی

    اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس بابر ستار اور جسٹس سردار اعجاز اسحٰق خان سے عدالت کے قانونی امور کی ذمہ داری واپس لے لی گئی اور ان کی جگہ ایڈیشنل جج جسٹس راجا انعام کو قانونی امور کا جج مقرر کیا گیا ہے۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق کی منظوری سے ڈپٹی رجسٹرار نے نوٹی فکیشن جاری کر دیا، جس کے مطابق جسٹس راجا انعام امین اسلام آباد ہائی کورٹ کےقانونی ونگ کے امور کو سپروائز کریں گے۔نوٹی فکیشن میں کہا گیا ہے کہ جسٹس راجا انعام امین منہاس کو عوامی مفاد میں فوری طور پر قانونی امور کا جج مقرر کیا جاتا ہے۔2022 میں جسٹس بابر ستار اور جسٹس سردار اعجاز اسحٰق کو قانونی ونگ کو سپروائز کرنے کی ذمہ داری دی گئی تھی۔واضح رہے کہ 7 فروری 2025 کو اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس بابر ستار نے چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ عامر فاروق کو خط لکھ کر کہا تھا کہ 9 ویں نمبر کے جج جسٹس خادم سومرو کو کمیٹی میں شامل نہیں کر سکتے تھے۔

    انہوں نے 6 صفحات پر لکھے گئے خط میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق کے ہائی کورٹ ایڈمنسٹریشن کمیٹی تبدیلی کو بھی غیر قانونی کہہ دیا تھا۔جسٹس بابر ستار نے خط میں لکھا تھا کہ سینیارٹی لسٹ اور ایڈمنسٹریشن کمیٹی کے نوٹی فکیشن واپس لیے جائیں، جسٹس بابر ستار نے سینیارٹی لسٹ کے خلاف ریپریزنٹیشن فائل کرنے کا ذکر کیا۔انہوں نے مزید کہا تھا کہ سینیارٹی لسٹ اور ایڈمنسٹریشن کمیٹی کا نوٹی فکیشن جاری کرنا غیر آئینی غیر قانونی ہے، بغیر اسلام آباد ہائی کورٹ جج کے حلف اٹھائے ٹرانسفر ججز کو کمیٹی میں رکھنا غیر قانونی ہے۔

    نجی بجلی گھروں کو سینکڑوں ارب کی ٹیکس چھوٹ کا انکشاف

    صدر زرداری کی پرنس رحیم سے ملاقات، پرنس کریم کے انتقال پر تعزیت

    سالی سے تعلقات، شوہر نےجواں سال بیوی کو قتل کردیا

    موبائلز فونز کی درآمدات میں کمی، چینی کمپنی پاکستان آ گئی

    غیر قانونی کرنسی ایکسچینج میں ملوث ملزم گرفتار، ملکی و غیرملکی کرنسی برآمد

  • جسٹس بابر ستار ایک ماہ کی چھٹی پر چلے گئے

    جسٹس بابر ستار ایک ماہ کی چھٹی پر چلے گئے

    اسلام آباد: جسٹس بابر ستار ایک ماہ کی چھٹی پر چلے گئے ،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے جسٹس بابر ستار کی چھٹی منظور کر لی۔

    باغی ٹی وی : اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس بابر ستار جان ججوں میں سے ایک تھے جنہوں نے عدالتی امور میں انٹیلی جنس آپریٹو کی مداخلت پر چیف جسٹس کو خط لکھا تھا، موسم گرما کے بعد اپنی ذمہ داریاں بحال کرنے کے فوراً بعد ایک ماہ کی رخصت پر چلے گئے ہیں۔

    ذرائع کے مطابق جسٹس بابر ستار نے چھٹی کے لیے چیف جسٹس عامر فاروق کو درخواست پیش کی، انہوں نے ایک ماہ کی چھٹی کی درخواست منظور کرلی وزارت قانون، سیکرٹری ٹو چیف جسٹس اور رجسٹرار سمیت دیگرمتعلقہ حکام کو آگاہ کردیا گیا، جسٹس بابر ستار کی 30 ستمبر سے 29 اکتوبر تک کی چھٹی منظور کی گئی، اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس بابر ستار 30 ستمبر سے ایک ماہ کے لیے چھٹی پر ہوں گے۔

    نیپرا اجلاس: بجلی کی کھپت میں 25 فیصد کمی، عوام پر اضافی بوجھ کا خدشہ

    اگرچہ نوٹیفکیشن میں 30 ستمبر سے 29 اکتوبر تک ایک ماہ کی چھٹی کا ذکر کیا گیا مگریہ قابل توسیع چھٹی ہے اور اسے دسمبر تک بڑھایاجا سکتا ہےجسٹس بابر ستار کی عدالت سے کیسز کی سماعتیں ایک ماہ تک ملتوی کردی گئیں، موسم گرما کی تعطیلات میں ایک ماہ جسٹس بابر ستار کیسز کی سماعتیں کرتے رہے ہیں۔

    اسلام آباد سمیت ملک کے مختلف علاقوں میں گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان

  • آڈیو لیکس کیس، ڈپٹی اٹارنی جنرل کی ان چیمبر سماعت کی استدعا مسترد

    آڈیو لیکس کیس، ڈپٹی اٹارنی جنرل کی ان چیمبر سماعت کی استدعا مسترد

    اسلام آباد ہائی کورٹ ، آڈیو لیکس سے متعلق درخواستوں کو یکجا کر کے سماعت ہوئی

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے جج جسٹس بابر ستار نے کیس کی سماعت کی ، ایڈیشنل اٹارنی جنرل عدالت میں پیش ہوئے اور کہا کہ خفیہ ادارے کی طرف سے مجاز افسر ڈیٹا کی درخواست کرتا ہے۔جسٹس بابر ستار نے استفسار کیا کہ کیا آپ لائیو کال کو مانیٹر کر سکتے ہیں؟ یہ پٹیشنز تو فون ٹیپنگ سے متعلق ہی ہیں،ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ سندھ ہائی کورٹ کے فیصلے کے بعد 2013ء میں نئی پالیسی آئی، وزارت داخلہ نے ایک ایس او پی جاری کیا، آئی ایس آئی اور آئی بی براہ راست سروس پرووائیڈرز سے ڈیٹا لے سکتی ہیں، قانون نافذ کرنے والے دیگر ادارے ضرورت پر ان ایجنسیز سے ڈیٹا لے سکتے ہیں.

    جسٹس بابر ستارنے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کس قانون کے تحت فیصلہ کیا کہ ڈیٹا حاصل کرسکتے ہیں؟ یہ ایس او پی تو ایک سیکشن افسر نے جاری کیا ہے، متعلقہ اتھارٹی کا ذکر نہیں، وزارت داخلہ کے پاس یہ اختیار کیسے ہے اور کس قانون کے تحت یہ ایس او پی جاری کیا گیا؟ وارنٹ کے بغیر لائیو لوکیشن کیسے شیئر کی جا سکتی ہے، حکومت نے کس قانون کے تحت فیصلہ کیا کہ یہ ڈیٹا حاصل کرسکتے ہیں، آپ نے فون ٹیپنگ سے متعلق نہیں بتایا جو چیزیں بتائی ہیں یہ ان میں نہیں آتا، ابھی اس دستاویز کی قانونی حیثیت بھی دیکھنی ہے، پی ٹی اے کے کام کرنے کیا میکانزم ہے؟

    پی ٹی وی کے وکیل نے عدالت میں کہا کہ پی ٹی اے کے پاس سرویلینس کا کوئی اختیار نہیں، اور نہ پی ٹی اے فون ٹیپنگ کرتی ہے،جسٹس بابر ستار نے استفسار کیا کہ آپ یہ سمجھتے ہیں کہ کسی ڈویژن کے لکھنے پر آپ ڈیٹا ٹیپ کرسکتے ہیں؟ وکیل نے جواب دیا کہ میری انڈر اسٹینڈنگ کے مطابق کیبنٹ کی منظوری کے مطابق بعد ایسا ہوسکتا ہے،پی ٹی اے کے پاس فون ٹیپنگ کے اختیارات نہیں،

    عدالت نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل کو ہدایت دی کہ سرویلنس سے متعلق بنائے گئی پالیسی کی کیبنٹ میٹنگ کی منظوری کے منٹسس اگلی سماعت پر پیش کریں۔

    کیا آپ نے 11 سالوں میں سی سی ٹی وی کے لیے کوئی وارنٹ نہیں لیا،جسٹس بابر ستار
    جسٹس بابر ستار نے پولیس کے وکیل سے استفسار کیا کہ آپ کسی کے گھر بغیر وارنٹ جا سکتے ہیں، جس پر وکیل نے جواب دیا پولیس بھی کسی کی سرویلنس نہیں کرتی، جو سڑکوں پر کیمرا لگے ہیں وہ بھی خلاف قانون ہیں، جسٹس بابر ستار نے کہا بالکل ایسا ہی ہے آپ اس کا ڈیٹا نہیں لے سکتے، اگر میرے گھر چوری ہوتی ہے تو آپ سی سی ٹی وی فوٹیج کس قانون کے تحت لیں گے، کیا آپ بغیر وارنٹ سی سی ٹی وی فوٹیج حاصل کرسکتے ہیں، جس پر پولیس کے وکیل نے عدالت میں کہا کہ اگر کسی پرائیویٹ شخص کے پاس فوٹیج ہے تو پولیس اس کو حاصل کرسکتی ہے، جسٹس بابر ستار نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ400 سال پہلے وارنٹ کا تصور کیوں بنایا گیا، کیا آپ نے 11 سالوں میں سی سی ٹی وی کے لیے کوئی وارنٹ نہیں لیا، پولیس وکیل نے عدالت میں کہا کہ اگر ثبوت ضائع ہونے کا خدشہ ہو تو وارنٹ کی ضرورت نہیں۔

    جسٹس بابر ستار نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد پولیس کو سمجھ کیوں نہیں آتی کہ جب کسی کے گھر جاتے ہیں تو وارنٹ کیوں لیتے ہیں، کیا آپ نے کوئی قانون بنایا ہوا ہے، کس قانون کے تحت سرویلنس ہوتی ہے، قانون بنائیں گے تو لوگوں کو پتہ ہوگا کہ کس قانون کے تحت سرویلنس ہو رہی ہے، یہاں عدالتوں کو نہیں پتہ کیا ہو رہا ہے، صرف پاکستان میں دہشت گردی نہیں ہے، دیگر ملکوں میں بھی دہشت گری ہے لیکن ان ممالک میں رولز موجود ہیں

    میں نیشنل سیکیورٹی کے سیکریٹ آپ سے نہیں پوچھ رہا، چیمبر سماعت کا مذاق شروع نہیں کریں گے،جسٹس بابر ستار
    ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت سے استدعا کی کہ اس کیس کی سماعت ان چیمبر کرلیں،جس پر جسٹس بابر ستار نےکہا کہ قانون بنا ہے یا نہیں اس کا ان چیمبر سماعت سے کیا تعلق ہے، یہاں ججز کے چیمبرز ٹیپ ہورہے ہیں، آپ کی بات میں نے سن لی یہ نیشنل سیکیورٹی کا مسئلہ نہِیں ہے،آپ یہ نہیں کہہ سکتے قانون بنا ہوا ہے یا نہیں، ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ چیمبر میں سماعت رکھ لیں، آپ کو آگاہ کر دیں گے، جسٹس بابر ستار نے کہا کیا میں آپ سے دہشت گردوں سے متعلق پوچھ رہا ہوں، صرف قانون کا پوچھا ہے، کیا آپ یہ کہہ رہے ہیں ججز کے چیمبر یا وزیراعظم ہاؤس کی ٹیپنگ دشمن ایجنسیاں کرتی ہیں، ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ نہیں ایسا نہیں ہے،دوران سماعت ایڈیشنل اٹارنی جنرل مسلسل چیمپر میں سماعت کی استدعا کرتے رہے، جس پر جسٹس بابر ستار نے کہا کہ یہ نیشنل سیکیورٹی کا معاملہ نہیں، آپ کی چیمبر سماعت کی درخواست مسترد کرتا ہوں، میں نیشنل سیکیورٹی کے سیکریٹ آپ سے نہیں پوچھ رہا، چیمبر سماعت کا مذاق شروع نہیں کریں گے۔

    جسٹس بابر ستار نے ٹیلی کام کمپنیز کے وکلا کو روسٹرم پر بلاکر استفسار کیا اور کہا آپ بتائیں آپ ڈیٹا کیسے فراہم کرتے ہیں، جب آپ کوئی ڈیٹا دیتے ہیں تو اس کا ریکارڈ بھی رکھتے ہوں گے، جو کیبل ڈیٹا لے کر پاکستان آتی ہے آپ کا کسی کے ساتھ معاہدہ ہوگا، کیا آپ کے علاوہ ڈیٹا تک رسائی کسی اور کو ہے؟ٹیلی کام کمپنی کے وکیل نے کہا کہ کمپنی کے علاوہ کسی کو ڈیٹا تک رسائی نہیں، جسٹس بابر ستار نے استفسار کیا ایجنسیوں کو ٹیلی کام کمپنیوں کی اجازت کے بغیر ڈیٹا تک رسائی ہے؟

    پی ٹی اے کی سسٹم لگانے کی ڈائریکشن کی خط وکتابت آڈیو لیکس کیس میں ریکارڈ پرلانے کی ہدایت
    وفاقی حکومت نے ٹیلی کام آپریٹرز پر ڈیٹا دینے پر پابندی ختم کرنے کی استدعا کردی، عدالت نے استفسار کیا کہ کس نے آئی جی کو کہا ہے کہ وارنٹس نہ لیں، کیا پارلیمنٹ بے وقوف تھی جس نے یہ قانون بنا دیا، آپ نے 11 سال میں ایک دفعہ بھی عمل نہیں کیا، ایک قانون ہے 11 سال میں ایک دفعہ بھی کسی نے ڈیٹا لینے کے لیے وارنٹ نہیں لیے،وکیل ٹیلی کام کمپنی نے عدالت میں کہا کہ ڈیٹا فراہمی ٹیلی کام آپریٹرز کے لائسنس کے حصول کے لیے پی ٹی اے کی شرط ہے، جسٹس بابر ستار نے استفسار کیا جو ڈیٹا لیا جارہا ہوتا ہے اُس سے متعلق آپ کو معلوم ہوتا ہے، وکیل نے جواب دیا کہ ٹیلی کام آپریٹرز کو اس متعلق کچھ پتہ نہیں ہوتا، ٹیلی کام آپریٹرز پی ٹی اے کے کہنے پر یہ سسٹم لگاتے ہیں،جسٹس بابر ستار نے ٹیلی کام کمپنی کے وکیل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے پی ٹی اے کی سسٹم لگانے کی ڈائریکشن کی خط وکتابت آڈیو لیکس کیس میں ریکارڈ پر لانی ہے، وکیل نے جواب دیا کہ یہ لائسنس کی شرط ہے، پھر بھی کوئی خط و کتابت ہے تو ریکارڈ پر لے آتے ہیں،جسٹس بابر ستار نے کہا کہ یہ کام زبانی نہیں ہوتا بڑی تفصیلی ڈائریکشن ہوتی ہے، اگر کوئی بھی ٹیلی کام کمپنی فون ٹیپنگ میں معاونت کر رہی ہے تو یہ غیر قانونی ہے، فون ٹیپنگ سے متعلق کوئی قانون موجود نہیں۔

    جسٹس بابر ستار نے پی ٹی اے کے وکیل سے استفسار کیا کہ آپ ایک ایسے سسٹم کی اجازت کیسے دے سکتے جس میں سرویلنس کی جا سکے، سکیشن 57 کے تحت کوئی قانون نہیں بنایا گیا، آپ سے پہلے بھی یہ کیس چلتا رہا ہے، چیئرمین پی ٹی اے جو بتا کر گئے ہیں وہ ریکارڈ کا حصہ ہے۔

    آڈیو لیکس کیس،جسٹس بابر ستار پر اعتراض کی درخواست جرمانے کے ساتھ خارج

    عدالت سے غلط بیانی کی تو اس کے اثرات بھگتنا ہوں گے ،آڈیو لیکس کیس میں ریمارکس

    واضح رہے کہ اپریل میں سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کے بیٹے نجم الثاقب کی پنجاب اسمبلی کے حلقہ 137 سے پی ٹی آئی کا ٹکٹ لینے والے ابوذر سے گفتگو کی مبینہ آڈیو لیک ہوئی تھی۔ اسی طرح بشریٰ بی بی کی اپنے وکیل لطیف کھوسہ کے ساتھ کی گئی گفتگو کی آڈیو لیک ہوئی تھی جسے عدالت میں چیلنج کیا گیا تھا.

    واضح رہے کہ گزشتہ دنوں سابق وزیر اعظم اور چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی اور بہنوں کے درمیان اختلافات سے متعلق مبینہ آڈیو سامنے آئی تھی جس کے بعد لطیف کھوسہ نے اپنی اور بشریٰ بی بی کی سامنے آنے والی آڈیو کی تصدیق بھی کی تھی-

    آڈیو لیک، کمیٹی تشکیل ، سات روز میں تحقیقات مکمل کرنے کا حکم

    آڈیو لیک،عمران خان کیخلاف سخت کاروائی کی قرارداد اسمبلی میں جمع

    ہیکرز نے دعوی کیا ہے کہ اب مزید آڈیو جمعہ کو جاری کی جائیں گی

    عمران خان کا جھوٹا بیانیہ سب نے دیکھ لیا،آڈیو کے بعد بھی یوٹرن لے سکتے ہیں،عظمیٰ بخاری

    ممنوعہ فنڈنگ کیس،الیکشن کمیشن نے فیصلہ سنا دیا،تحریک انصاف "مجرم” قرار’

    ،عمرا ن خان لوگوں کو چور اور ڈاکو کہہ کے بلاتے تھے، فیصلے نے ثابت کر دیا، عمران خان کے ذاتی مفادات تھے

    واضح رہے کہ 29 اپریل 2023 کو سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کے صاحبزادے نجم ثاقب کی پنجاب اسمبلی کے حلقہ 137 سے پاکستان تحریک انصاف کا ٹکٹ لینے والے ابوذر سے گفتگو کی مبینہ آڈیو منظر عام پر آگئی تھی جس میں انہیں پنجاب اسمبلی کے ٹکٹ کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے سنا گیا،مبینہ آڈیو میں حلقہ 137 سے امیدوار ابوذر چدھڑ سابق چیف جسٹس کے بیٹے سے کہتے ہیں کہ آپ کی کوششیں رنگ لے آئی ہیں، جس پر نجم ثاقب کہتے ہیں کہ مجھے انفارمیشن آگئی ہے،اس کے بعد نجم ثاقب پوچھتے ہیں کہ اب بتائیں اب کرنا کیا ہے؟ جس پر ابوذر بتاتے ہیں کہ ابھی ٹکٹ چھپوا رہے ہیں، یہ چھاپ دیں، اس میں دیر نہ کریں، ٹائم بہت تھوڑا ہے۔

    اس حوالے سے تحقیقات کے لیے قومی اسمبلی میں تحریک کثرت رائے سے منظور کی گئی تھی، تحریک کی منظوری کے اگلے روز ہی اسپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف نے تحقیقات کے لیے اسلم بھوتانی کی سربراہی میں خصوصی کمیٹی قائم کر دی تھی،30 مئی کو نجم ثاقب نے اسپیکر قومی اسمبلی کی جانب سے بنائی گئی اسپیشل کمیٹی کی تشکیل چیلنج کردی تھی, درخواست میں نجم ثاقب نے عدالت سے استدعا کی کہ اسلم بھوتانی کی سربراہی میں پارلیمانی پینل کی کارروائی روک دی جائے کیونکہ یہ باڈی قومی اسمبلی کے قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بنائی گئی ہے،انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ کمیٹی نے انہیں طلب نہیں کیا لیکن کمیٹی کے سیکریٹری نے اس کے باوجود انہیں پینل کے سامنے پیش ہونے کو کہا،

  • عدلیہ میں مداخلت : جسٹس بابر ستار کا ایک اور خط سامنے آگیا

    عدلیہ میں مداخلت : جسٹس بابر ستار کا ایک اور خط سامنے آگیا

    اسلام آباد: عدلیہ میں مداخلت کے معاملے پر اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس بابر ستار کا ایک اور خط سامنے آگیا،انہوں نے خط چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ جسٹس عامر فاروق کے نام لکھا-

    باغی ٹی وی :نجی خبررساں ادارے کے مطابق جسٹس بابر ستار نے چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ جسٹس عامر فاروق کو لکھے خط میں انکشاف کیا ہے خط میں جسٹس بابرستار نے کہا کہ آڈیو لیکس کیس میں مجھے یہ پیغام دیا گیا پیچھے ہٹ جاؤ، سیکیورٹی اسٹیبلشمنٹ کے ٹاپ آفیشل کی طرف سے پیغام ملا پیچھے ہٹ جاؤ۔

    جسٹس بابر ستار نے خط میں کہا کہ مجھے پیغام دیا گیا سرویلینس کے طریقہ کارکی سکروٹنی کرنے سےپیچھے ہٹ جاؤ، میں نے اس طرح کے دھمکی آمیز حربے پر کوئی توجہ نہیں دی، میں نے یہ نہیں سمجھا کہ اس طرح کے پیغامات سے انصاف کے عمل کو کافی نقصان پہنچنے کا خطرہ ہے مقدمات بارے بدنیتی پر مبنی مہم کا فوکس عدالتی کارروائی کو متاثر کرنے کے لیے ایک دھمکی آمیز حربہ معلوم ہوتا ہے، آڈیولیکس کیس میں خفیہ اور تحقیقاتی اداروں کو عدالت نے نوٹس کیے، متعلقہ وزارتیں ، ریگولیٹری باڈیز اورآئی ایس آئی ، آئی بی اورایف آئی اے کونوٹس کیے، عدالت نے ریگولیٹری باڈیز پی ٹی اے اور پیمرا کو بھی نوٹس کیے تھے ۔

    وزیراعظم شہباز شریف کے اقدامات سے دشمن کی سازش ناکام ہوگئی،عطا تارڑ

    ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ کیلئے بنگلہ دیش کے 15 رکنی اسکواڈ کا اعلان

    سلمان خان کے گھر کے باہر فائرنگ کے کیس میں ملوث چھٹا ملزم بھی گرفتار

  • آڈیو لیکس کیس، جسٹس بابر ستار پر وفاقی حکومت کا اعتراض،علیحدگی کی درخواست

    آڈیو لیکس کیس، جسٹس بابر ستار پر وفاقی حکومت کا اعتراض،علیحدگی کی درخواست

    وفاقی حکومت نے جسٹس بابر ستار پر اعتراض اٹھا دیا ،آڈیو لیکس کیس کی سماعت سے علیحدگی کی استدعا کر دی

    اس ضمن میں پیمرا نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست دائر کر دی، پیمرا کی درخواست میں جسٹس بابر ستار کی آڈیو لیکس کیس سے علیحدگی کی استدعا کی گئی ہے،پیمرا نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں متفرق درخواست دائر کر دی، جس میں کہا گیا کہ اسی نوعیت کے دوسرے کیس میں اسلام آباد ہائیکورٹ کا ایک اور بنچ فیصلہ کر چکا ہے، چیئرمین پیمرا متعدد بار عدالت میں اس مقدمے میں پیش ہو چکے مگر کیس اب بھی زیر التواء ہے، انصاف کے تقاضے پورے کرنے کے لیے جسٹس بابر ستار سماعت سے معذرت کر لیں،اس نوعیت کی درخواست پر فیصلہ دینے والا بنچ اس کیس کی باقی کارروائی بھی آگے بڑھائے،بشری بی بی کی آڈیو لیک کیس کی 29 اپریل کو جسٹس بابر ستار کی عدالت میں سماعت ہونی ہے

    واضح رہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس بابر ستار نے سابق وزیر اعظم عمران خان کی اہلیہ بشری بی بی اور سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کے صاحبزادے نجم ثاقب کی آڈیو لیکس کے خلاف درخواستوں پر سماعت کے دوران چیئرمین پی ٹی اے کو دوبارہ طلب کیا تھا، چیئرمین پی ٹی اے عدالت میں گزشتہ سماعت پر پیش بھی ہوئے تھے،

    دوسری جانب سینیٹر فیصل واوڈا کا کہنا ہے کہ جسٹس بابر ستار کا کردارمشکوک ہو چکا ہے۔ ان پر دوہری شہریت اور ذاتی نوعیت کے کاروبار کے الزامات لگے ہیں اب عدل وانصاف کا تقاضا ہے کہ جسٹس بابر ستار ان الزامات کی وضاحت دیں اور اگر ان میں سچائی ہے تو سپریم جوڈیشل کونسل ان کے خلاف ایکشن لے

    عدالت سے غلط بیانی کی تو اس کے اثرات بھگتنا ہوں گے ،آڈیو لیکس کیس میں ریمارکس

    واضح رہے کہ اپریل میں سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کے بیٹے نجم الثاقب کی پنجاب اسمبلی کے حلقہ 137 سے پی ٹی آئی کا ٹکٹ لینے والے ابوذر سے گفتگو کی مبینہ آڈیو لیک ہوئی تھی۔ اسی طرح بشریٰ بی بی کی اپنے وکیل لطیف کھوسہ کے ساتھ کی گئی گفتگو کی آڈیو لیک ہوئی تھی جسے عدالت میں چیلنج کیا گیا تھا.

    واضح رہے کہ گزشتہ دنوں سابق وزیر اعظم اور چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی اور بہنوں کے درمیان اختلافات سے متعلق مبینہ آڈیو سامنے آئی تھی جس کے بعد لطیف کھوسہ نے اپنی اور بشریٰ بی بی کی سامنے آنے والی آڈیو کی تصدیق بھی کی تھی-

    آڈیو لیک، کمیٹی تشکیل ، سات روز میں تحقیقات مکمل کرنے کا حکم

    آڈیو لیک،عمران خان کیخلاف سخت کاروائی کی قرارداد اسمبلی میں جمع

    ہیکرز نے دعوی کیا ہے کہ اب مزید آڈیو جمعہ کو جاری کی جائیں گی

    عمران خان کا جھوٹا بیانیہ سب نے دیکھ لیا،آڈیو کے بعد بھی یوٹرن لے سکتے ہیں،عظمیٰ بخاری

    ممنوعہ فنڈنگ کیس،الیکشن کمیشن نے فیصلہ سنا دیا،تحریک انصاف "مجرم” قرار’

    ،عمرا ن خان لوگوں کو چور اور ڈاکو کہہ کے بلاتے تھے، فیصلے نے ثابت کر دیا، عمران خان کے ذاتی مفادات تھے