Baaghi TV

Tag: جسٹس عمر عطا بندیال

  • چیف جسٹس عمرعطاء بندیال 16 ستمبر کو ریٹائر ہوں گے

    چیف جسٹس عمرعطاء بندیال 16 ستمبر کو ریٹائر ہوں گے

    اسلام آباد: چیف جسٹس عمرعطاء بندیال 16 ستمبر کو ریٹائر ہوں گے۔

    باغی ٹی وی: نامزد چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ 17 ستمبر 2023ء کو اپنے عہدے کا حلف اٹھائیں گے،ذرائع کے مطابق چیف جسٹس کے اعزاز میں سپریم کورٹ بار کی جانب سے الوداعی عشائیہ 13 ستمبر کو دیا جائے گا، سپریم کورٹ بار کی طرف سے سپریم کورٹ کے جج کی ریٹائرمنٹ پر عشائیہ دینے کی روایت ہے۔

    جسٹس عمر عطا بندیال نے 28 ویں چیف جسٹس آف پاکستان کی ذمہ داریاں سنبھالیں تھیں سنیارٹی اسکیم کے مطابق جسٹس قاضی فائز عیسی 25 اکتوبر 2024 تک چیف جسٹس رہیں گے جس کے بعد 282 ایام کے لیے جسٹس اعجازالاحسن عہدے پر تعینات ہوں گے،بعدازاں 4 اگست 2025 سے جسٹس منصور علی شاہ عہدہ سنبھالیں گے۔

    بھارتی فوجی افسرنے پاکستان کی جاسوسی کے بہانےاپنی فوج کواربوں روپے کا چونا لگا دیا

    قاضی فائز عیسیٰ کون ہیں؟

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ 26 اکتوبر 1959 کو کوئٹہ میں پیدا ہوئے، آپ کے والد مرحوم قاضی محمد عیسیٰ آف پشین، قیامِ پاکستان کی تحریک کے سرکردہ رکن تھے اور محمد علی جناح کے قریبی ساتھی تصور کیے جاتے تھے،قاضی محمد عیسیٰ صوبہ بلوچستان میں آل انڈیا مسلم لیگ کے اہم رہنما اور پارٹی کی مرکزی مجلس عاملہ کے رکن بھی تھے۔

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ ابتدائی تعلیم کوئٹہ سے حاصل کرنے کے بعد اپنے خاندان کے ہمراہ کراچی منتقل ہوئے اور یہاں بھی تعلیم کا سلسلہ جاری رکھا انہوں نے قانون کی تعلیم لندن سے حاصل کی اور پھر وطن واپس آ کر وکالت شروع کی وہ بطور وکیل تقریباً 27 سال ملک کی مختلف عدالتوں میں پیش ہوتے رہے ۔

    پاکستان نیوی کا ہیلی کاپٹر گوادر میں گر کر تباہ

    عدالتی کیرئیر بطور جسٹس

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ 5 اگست 2009 میں بلوچستان ہائی کورٹ کے چیف جسٹس بنے انہیں 5 ستمبر 2014 میں سپریم کورٹ کا جج مقرر کیا گیا انہوں نے نومبر 2007 میں سابق صدر پرویز مشرف کی جانب سے لگائی گئی ایمرجنسی اور عبوری آئینی حکم کے تحت ججز کے حلف لینے کی مخالف کی تھی،جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اس عرصے کے دوران کئی اہم مقدمات میں انتہائی اہم فیصلے تحریر کیے۔

    جے جے وی ایل ریفرنس:ڈاکٹر عاصم حسین اور دیگر کی درخواست منظور

    سنہ 2012 میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے میمو گیٹ کمیشن کی سربراہی بھی کی میمو گیٹ اسکینڈل میں اس وقت امریکہ میں پاکستان کے سفیرحسین حقانی پرالزام تھاکہ انہوں نےپاکستان میں فوجی بغاوت کاخدشہ ظاہر کرتے ہوئے امریکہ سے سول حکومت کی مدد کی درخواست کی تھی جسٹس فائز عیسٰی نے سپریم کورٹ کو پیش کی جانے والی کمیشن رپورٹ میں حسین حقانی کو قصوار ٹھہرایا تھا۔

    8 اگست 2016 میں کوئٹہ میں ہونے والے خودکش دھماکے کے بعد اس کے حقائق جاننے کے لیے ایک انکوائری کمیشن بنایا گیا جس کی سربراہی بھی جسٹس قاضی فائز عیٰسی کو سونپی گئی انکوائری کمیشن نے اپنی پیش کردہ رپورٹ میں خود کش دھماکے کو حکومت کی غفلت قرار دیا تھا انکوائری کمیشن نے اپنی رپورٹ میں حکومت کو متنبہ کیا کہ ملک میں دہشت گردی کے خاتمے کے لیے کالعدم تنظیموں کے خلاف سخت کارروائی ضروری ہے۔

    آمدن سے زائد اثاثہ جات:آغا سراج درانی کی ضمانت منظور

  • ملازمین کو نکالنے کا عمل درست تھا،سپریم کورٹ کے ریمارکس

    ملازمین کو نکالنے کا عمل درست تھا،سپریم کورٹ کے ریمارکس

    ملازمین کو نکالنے کا عمل درست تھا،سپریم کورٹ کے ریمارکس
    سپریم کورٹ میں سیکیڈ ایمپلائز ایکٹ کیس کی سماعت ہوئی

    جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ نگران حکومت نے نوکریوں سے درست نکالا یا غلط؟ فیصلہ ہو چکا ہے،نظرثانی کیس میں اس معاملے کو نہیں دیکھ سکتے، ملازمین کے حق میں پہلے آرڈیننس بعد میں ایکٹ آیا، اس پر دلائل دیں، جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ سپریم کورٹ ایک فیصلے میں قرار دے چکی ہے ملازمین کو نکالنے کا عمل درست تھا،

    سپریم کورٹ میں سوئی ناردرن گیس اور اسٹیٹ لائف انشورس ملازمین کا کیس کی سماعت ہوئی،وکیل لطیف کھوسہ نے کہا کہ 1993 سے 1996 کے درمیان یہ ملازمین بھرتی ہوئے،عبوری حکومت نے 1997میں تمام بھرتی ملازمین کو برطرف کر دیا تھا،برطرف ملازمین نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا تو کچھ ملازمین کو بحالی ملی، جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ جب سپریم کورٹ نے پہلے بحال نہیں کیا تو اب کیا جواز ہے؟ ایک اور لارجر بنچ میں جانا ہے اس کیس کو کل پھر سنیں گے، عدالت نے کیس کی سماعت کل تک ملتوی کر دی

    راہ چلتی طالبات کو ہراساں اور آوازیں کسنے والا اوباش گرفتار

    طالبات کو کالج کے باہر چھیڑنے والا گرفتار،گھر کی چھت پر لڑکی کے سامنے برہنہ ہونیوالا بھی نہ بچ سکا

    پولیس کا قحبہ خانے پر چھاپہ،14 مرد، سات خواتین گرفتار

    خاتون کے ساتھ زیادتی ،عدالت کا چھ ماہ تک گاؤں کی خواتین کے کپڑے مفت دھونے کا حکم

    جناح ہسپتال کا ڈاکٹر گرفتار،نرسز، لیڈی ڈاکٹرز کی پچاس برہنہ ویڈیو برآمد

    خواتین نرسزکی ویڈیو بنا کر بلیک میل کرنیوالے ملزم کی ضمانت پر ہوئی سماعت

    ہنی مون پر گئے نوجوان نے موبائل فون خریدنے کیلئے بیوی کو فروخت کر دیا

    ہولی فیملی ہسپتال سے بچہ اغوا ہونے پر لواحقین کا احتجاج

    یہ ہے بزدار کا لاہور،دس روز میں 40 سے زائد بچے اغوا

    نجی یونیورسٹی کی طالبہ کو اغوا کر کے زیادتی کرنیوالا ملزم گرفتار

    رقم کی لین دین پر اغوا ہونے والا شخص بازیاب،ملزم گرفتار

    قبل ازیں گزشتہ روز کی سماعت میں جسٹس منصور علی شاہ‏ نے کہا کہ 11سال بعد ایکٹ بنا کے ہزاروں لوگوں کو بحال کیا گیا،وکیل ایس این جی پی ایل‏ نے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے موجود ہیں جن میں ملازمین کو بحال کیا گیا،جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ کچھ ملازمیں کو بحال کر کے دوسروں کا استحصال کیا گیا،وکیل وسیم سجاد نے کہا کہ کسی کا استحصال نہیں ہوا حکومت تبدیل ہوئی تو نئی نے بحال کیا،جسٹس منصور علی شاہ‏ نے کہا کہ آپ کیس کو دوسری طرف لے جارہے ہیں،جسٹس عمر عطاء بندیال نے کہا کہ کیا سوئی گیس ملازمین ٹیسٹ اور انٹرویو دےکر بھرتی ہوئے تھے؟ وکیل نے کہا کہ واک-ان انٹرویوز کے ذریعے بھرتیاں ہوئی تھیں،

    جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ختم شدہ کنٹریکٹ گیارہ سال بعد کیسے بحال ہوگئے؟ جن کے کنٹریکٹ بحال ہوئے انہوں نے کیا کارنامہ انجام دیا تھا؟ کیا تمام ملازمین دہشتگردی کی کارروائی میں زخمی ہوئے تھے؟ وکیل نے کہا کہ پارلیمنٹ کے فیصلے کے تحت ملازمین کو بحال کیا گیا،پارلیمان اس نتیجہ پر پہنچی تھی کہ ملازمین کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا گیا ہے،جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ سیاسی انتقام کا نشانہ بنانے کے شواہد کہاں ہیں؟ صرف انہی لوگوں کو کیوں بحال کیا گیا یہ سمجھائیں، ملازمت کے اہل تو بہت سے اور بھی ہوں گے جن کی جگہ یہ بحال ہوئے، وکیل نے کہا کہ عدالت پارلیمنٹ میں ہونے والی بحث منگوا کر جائزہ لے لے، اس عمر میں ملازمین کہاں جائیں گے؟ جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ سوئی گیس میں پنشن کتنا عرصہ ملازمت کے بعد ملتی ہے؟ وکیل نے کہا کہ حکومت نے غلطی کی ہے تو سزا ملازمین کو نہ دی جائے، جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ کیا تعیناتی کالعدم ہونے کے دس سال بعد پنشن مل سکتی ہے؟

    ایڈووکیٹ وسیم سجاد کے دلائل مکمل ہوئے تو کے پی محکمہ تعلیم کے وکیل افتخار گیلانی کے دلائل شروع ہوئے، جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ سپریم کورٹ کسی کو برطرف کر دے تو پارلیمنٹ کی قانون سازی سے کسی مخصوص فرد کو بحال نہیں کیا جا سکتا ،وکیل اعتزاز احسن نے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے میں ایکٹ کو صحیح سے پرکھا نہیں گیا، ایک عبوری حکومت نے آکر متعدد ملازمین کو فارغ کیا،جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ یہ نہیں کہہ رہا کہ ایک جماعت کے بھرتی کیے گئے ملازمین برطرف کیے جائیں،پارلیمنٹ نے لوگوں کے ایک مخصوص گروہ کو قانون سازی کر کے فائدہ کیوں پہنچایا؟ وکیل افتخار گیلانی نے کہا کہ سپریم کورٹ خود کہہ چکی کہ پارلیمنٹ کی قانون سازی کو کالعدم قرار نہیں دے سکتے،قانون سازوں کی بصیرت کو کوئی چیلنج نہیں کر سکتا، سپریم کورٹ اپنے فیصلےپر نظر ثانی کرے،جسٹس سجاد علی شاہ نے کہا کہ ملازمین کی بحالی کا قانون کس طرح آئین کے مطابق ہے؟ قانون آئین کے مطابق ہونے پر آپ نے ایک دلیل بھی نہیں دی، اعتزاز احسن نے کہا کہ آئی بی افسران سول سرونٹ ہیں ان پر عدالتی فیصلہ لاگو نہیں ہوتا،سال 1996 میں نگران حکومت نے آئی بی ملازمین کو برطرف کیا تھا نگران حکومت کو ملازمین کی برطرفی کا اختیار نہیں ہے، جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ نگران حکومت والے معاملے پر سپریم کورٹ 2000 میں فیصلہ دے چکی ہے، فیصلے کے 21 سال بعد کسی اور نظرثانی کیس میں مقدمہ دوبارہ نہیں کھول سکتے، وکیل آئی بی اعتزاز احسن نے کہا کہ سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں ملازمین بحالی کے قانون کی غلط تشریح کی