Baaghi TV

Tag: جسٹس قاضی فائز عیسیٰ

  • چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ چیمبر ورک پر چلے گئے، فیصلے تحریر کریں گے

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ چیمبر ورک پر چلے گئے، فیصلے تحریر کریں گے

    چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ آج چیمبر ورک پر چلے گئے جہاں وہ چیمبرک ورک کے دوران فیصلے لکھیں گے۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق رواں ہفتے جمعہ کو ریٹائر ہونے والے آج سے چیمبر ورک پر چلے گئے ہیں اور اب وہ فیصلے تحریر کریں گے۔ذرائع کے مطابق اس کے ساتھ ہی چیف جسٹس کے بعد سب سے سینئر جج جسٹس منصور علی شاہ کا بینچ کمرہ عدالت نمبر ایک میں منتقل کردیا گیا۔چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ نے 25 اکتوبر جمعہ کے روز ریٹائر ہو جانا ہے اور نئے چیف جسٹس پاکستان کے تقرر کے لیے تین سینئر ججز کے ناموں پر پارلیمانی کمیٹی آج غور کرے گی۔چیف جسٹس قاضی فائز عیسی کے ساتھ بینچ میں جسٹس نعیم اختر افغان اور جسٹس شاہد بلال شامل تھے جبکہ جسٹس منصور علی شاہ کے ساتھ بینچ میں جسٹس عائشہ ملک اور جسٹس عقیل عباسی شامل ہیں۔

    زیادتی کی جھوٹی خبر معاملہ، طالبہ کی والدہ ہونے کی دعویدار ملزمہ گرفتار

    امریکا نے 26 پاکستانی، چینی اور اماراتی کمپنیوں پر پابندیاں لگا دیں

    بی این پی کے منحرف سینیٹر قاسم رونجھو مستعفی ہو گئے

  • چیف جسٹس قاضی فائزعیسی نے گارڈ آف آنرلینے سے انکار کردیا

    چیف جسٹس قاضی فائزعیسی نے گارڈ آف آنرلینے سے انکار کردیا

    اسلام آباد: چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس قاضی فائزعیسی نے گارڈ آف آنرلینے سے انکار کردیا۔

    باغی ٹی وی: جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے گارڈ آف آنر لینے سے انکار کرتے ہوئے پولیس کو اپنی ذمہ داری دل جمی سے ادا کرنے کی ہدایت کردی،اسلام آباد پولیس کی جانب سے چیف جسٹس کو گارڈ آف آنر پیش کیا جانا تھا، پولیس نے سابق چیف جسٹس عمر عطا بندیال کو بھی گارڈ آف آنر دیا تھا۔

    دوسری جانب سپریم کورٹ میں سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کے خلاف درخواستوں پر سماعت آج ہو گی چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ پہلے عدالتی دن پر فل کورٹ کی سربراہی کریں گے، سپریم کورٹ کے 15 ججز پر مشتمل فل کورٹ سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کی سماعت کرے گاسپریم کورٹ کے 8 رکنی بینچ نے پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ پر 13 اپریل کو عملدرآمد روکا تھا-

    چیف جسٹس پاکستان کےحلف کیساتھ سپریم جوڈیشل کونسل اورجوڈیشل کمیشن میں بھی اہم تبدیلیاں

    چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ نےسماعت کے لیے پہلا بینچ تشکیل دیدیا

    سپریم کورٹ کی پہلی خاتون رجسٹرار

  • چیف جسٹس عمرعطاء بندیال 16 ستمبر کو ریٹائر ہوں گے

    چیف جسٹس عمرعطاء بندیال 16 ستمبر کو ریٹائر ہوں گے

    اسلام آباد: چیف جسٹس عمرعطاء بندیال 16 ستمبر کو ریٹائر ہوں گے۔

    باغی ٹی وی: نامزد چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ 17 ستمبر 2023ء کو اپنے عہدے کا حلف اٹھائیں گے،ذرائع کے مطابق چیف جسٹس کے اعزاز میں سپریم کورٹ بار کی جانب سے الوداعی عشائیہ 13 ستمبر کو دیا جائے گا، سپریم کورٹ بار کی طرف سے سپریم کورٹ کے جج کی ریٹائرمنٹ پر عشائیہ دینے کی روایت ہے۔

    جسٹس عمر عطا بندیال نے 28 ویں چیف جسٹس آف پاکستان کی ذمہ داریاں سنبھالیں تھیں سنیارٹی اسکیم کے مطابق جسٹس قاضی فائز عیسی 25 اکتوبر 2024 تک چیف جسٹس رہیں گے جس کے بعد 282 ایام کے لیے جسٹس اعجازالاحسن عہدے پر تعینات ہوں گے،بعدازاں 4 اگست 2025 سے جسٹس منصور علی شاہ عہدہ سنبھالیں گے۔

    بھارتی فوجی افسرنے پاکستان کی جاسوسی کے بہانےاپنی فوج کواربوں روپے کا چونا لگا دیا

    قاضی فائز عیسیٰ کون ہیں؟

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ 26 اکتوبر 1959 کو کوئٹہ میں پیدا ہوئے، آپ کے والد مرحوم قاضی محمد عیسیٰ آف پشین، قیامِ پاکستان کی تحریک کے سرکردہ رکن تھے اور محمد علی جناح کے قریبی ساتھی تصور کیے جاتے تھے،قاضی محمد عیسیٰ صوبہ بلوچستان میں آل انڈیا مسلم لیگ کے اہم رہنما اور پارٹی کی مرکزی مجلس عاملہ کے رکن بھی تھے۔

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ ابتدائی تعلیم کوئٹہ سے حاصل کرنے کے بعد اپنے خاندان کے ہمراہ کراچی منتقل ہوئے اور یہاں بھی تعلیم کا سلسلہ جاری رکھا انہوں نے قانون کی تعلیم لندن سے حاصل کی اور پھر وطن واپس آ کر وکالت شروع کی وہ بطور وکیل تقریباً 27 سال ملک کی مختلف عدالتوں میں پیش ہوتے رہے ۔

    پاکستان نیوی کا ہیلی کاپٹر گوادر میں گر کر تباہ

    عدالتی کیرئیر بطور جسٹس

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ 5 اگست 2009 میں بلوچستان ہائی کورٹ کے چیف جسٹس بنے انہیں 5 ستمبر 2014 میں سپریم کورٹ کا جج مقرر کیا گیا انہوں نے نومبر 2007 میں سابق صدر پرویز مشرف کی جانب سے لگائی گئی ایمرجنسی اور عبوری آئینی حکم کے تحت ججز کے حلف لینے کی مخالف کی تھی،جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اس عرصے کے دوران کئی اہم مقدمات میں انتہائی اہم فیصلے تحریر کیے۔

    جے جے وی ایل ریفرنس:ڈاکٹر عاصم حسین اور دیگر کی درخواست منظور

    سنہ 2012 میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے میمو گیٹ کمیشن کی سربراہی بھی کی میمو گیٹ اسکینڈل میں اس وقت امریکہ میں پاکستان کے سفیرحسین حقانی پرالزام تھاکہ انہوں نےپاکستان میں فوجی بغاوت کاخدشہ ظاہر کرتے ہوئے امریکہ سے سول حکومت کی مدد کی درخواست کی تھی جسٹس فائز عیسٰی نے سپریم کورٹ کو پیش کی جانے والی کمیشن رپورٹ میں حسین حقانی کو قصوار ٹھہرایا تھا۔

    8 اگست 2016 میں کوئٹہ میں ہونے والے خودکش دھماکے کے بعد اس کے حقائق جاننے کے لیے ایک انکوائری کمیشن بنایا گیا جس کی سربراہی بھی جسٹس قاضی فائز عیٰسی کو سونپی گئی انکوائری کمیشن نے اپنی پیش کردہ رپورٹ میں خود کش دھماکے کو حکومت کی غفلت قرار دیا تھا انکوائری کمیشن نے اپنی رپورٹ میں حکومت کو متنبہ کیا کہ ملک میں دہشت گردی کے خاتمے کے لیے کالعدم تنظیموں کے خلاف سخت کارروائی ضروری ہے۔

    آمدن سے زائد اثاثہ جات:آغا سراج درانی کی ضمانت منظور

  • چیف جسٹس کی جانب سے ججز کیلئے عشائیہ،جسٹس قاضی فائز عیسی کی عدم شرکت

    چیف جسٹس کی جانب سے ججز کیلئے عشائیہ،جسٹس قاضی فائز عیسی کی عدم شرکت

    اسلام آباد: چیف جسٹس عمرعطاء بندیال کی جانب سے سپریم کورٹ کے ججز کے لئے عشائیہ دیا گیا ، جس میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے عشائیے میں شرکت نہیں کی۔

    باغی ٹی وی : ذرائع کے مطابق چیف جسٹس نے سپریم کورٹ کے ججز کے اعزاز میں گزشتہ رات عشائیے کا اہتمام کیا، جس میں عدالت عظمیٰ کے تمام ججز کو مدعو کیا گیا۔

    آئی پی ایل:میچ میں تلخ کلامی، گوتم گھمبیر،نوین الحق اورویرات کوہلی پر کتنا جرمانہ عائد

    ذرائع کا کہنا ہے کہ گزشتہ روز عشائیے میں سپریم کورٹ کے 14 ججز نے شرکت کی جبکہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے عشائیے میں شرکت نہیں کی اور انہوں نے عشائیے میں عدم شرکت کی وجہ سے بھی آگاہ نہیں کیا۔

    عمران خان کیخلاف ملک بھر میں درج مقدمات کی تفصیلات جمع

    ذرائع کے مطابق عشائیے کا مقصد سپریم کورٹ کے ججز کے درمیان اختلافات ختم کرنا تھا جبکہ ہرعید کے بعد چیف جسٹس پاکستان ساتھی ججز کے اعزاز میں عشائیہ دیتے ہیں۔

    سارک ممالک کے مرکزی بینکوں کااجلاس آج سے اسلام آباد میں شروع ہوگا

  • جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا تفصیلی نوٹ سپریم کورٹ کی ویب سائٹ سے ہٹا دیا گیا

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا تفصیلی نوٹ سپریم کورٹ کی ویب سائٹ سے ہٹا دیا گیا

    اسلام آباد: سپریم کورٹ کے سینیئر جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا تفصیلی نوٹ سپریم کورٹ کی ویب سائٹ سے ہٹا دیا گیا۔

    باغی ٹی وی:جسٹس قاضی فائز عیسی کا نوٹ اپ لوڈ ہونے کے کچھ دیر بعد ویب سائٹ سے ہٹادیا گیا جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا نوٹ انگریزی اور اردو ترجمے کے ساتھ ویب سائٹ پر جاری کیا گیا تھا۔

     

    جسٹس قاضی فائز عیسی نےحافظ قرآن اضافی نمبر کیس میں تفصیلی نوٹ جاری کر دیا

    واضح رہے کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے حافظ قرآن 20 اضافی نمبر کیس کا تفصیلی نوٹ سپریم کورٹ کی ویب سائٹ پر جاری کیا گیا تھا تفصیلی فیصلے میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے لکھا ہے کہ ازخود نوٹس نمبر 4/2022 میں 29 مارچ کا حکم 4 اپریل کا نوٹ منسوخ نہیں کر سکتا، متکبرانہ آمریت کی دھندمیں لپٹے کسی کمرہ عدالت سے نکلنے والے فیصلے آئین کو برطرف نہیں کر سکتے۔

    تفصیلی نوٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ کے 29 مارچ کے حکم کو 6 رکنی بینچ کالعدم نہیں کر سکتا تھا، 6 ججز کا فیصلہ آئین کا متبادل نہیں ہو سکتا ،6 ججز جلد بازی میں اکٹھے ہوئے ،6 رکنی بینچ نے چند منٹ میں ازخود نوٹس کارروائی کو ختم کر دیاعدلیہ کا کام آئین اور قانون کے مطابق فیصلے کرنا ہے، اختیارات سے تجاوز کیا جائے تو ججز کے حلف کی خلاف ورزی ہوگی لارجربینچ کے حکم سے آمرانہ جھلک آتی ہے جو آئین کا متبادل نہیں ہوسکتا، چیف جسٹس کیلئے استعمال کیا گیا لفظ ماسٹر آف روسٹرز آئین میں کہیں نہیں ملتا۔

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف کیوریٹو ریویو سماعت کے لیے مقرر

  • جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف کیوریٹو ریویو سماعت کے لیے مقرر

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف کیوریٹو ریویو سماعت کے لیے مقرر

    اسلام آباد : چیف جسٹس پاکستان نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف کیوریٹو ریویو سماعت کے لیے مقرر کردیں۔

    باغی ٹی وی : چیف جسٹس پاکستان جسٹس عمر عطا بندیال اس کی سماعت کریں گے، حکومت کی جانب سے کیوریٹوریو واپس لینے کی درخواست بھی سماعت کے لیے مقرر کردی گئی ہے چیف جسٹس پاکستان 10 اپریل کو ان چیمبر سماعت کریں گے-

    چیف جسٹس آف پاکستان کیخلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس دائر

    واضح رہےکہ وفاقی حکومت نےجسٹس قاضی فائزعیسیٰ کےخلاف کیوریٹو ریویو واپس لینےکےلیےسپریم کورٹ سےرجوع کیاتھا،حکومت کا مؤقف تھا کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف کیوریٹیو ریویو ریفرنس کمزور اور بے بنیاد وجوہات پر دائر کیا گیا تھا لہٰذا حکومت نے اس کی پیروی نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے، وزیراعظم کی زیر صدارت کابینہ پہلے ہی اس فیصلے کی منظوری دے چکی ہے۔

    اس حوالے سے وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا تھا کہ ریفرنس کے نام پر جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور ان کے اہل خانہ کو ہراساں اور بدنام کیاگیا، یہ ریفرنس نہیں تھا، آئین اور قانون کی راہ پر چلنے والے ایک منصف مزاج جج کے خلاف ایک منتقم مزاج شخص عمران خان کی انتقامی کارروائی تھی۔

    پنجاب الیکشن کا ازخود نوٹس چار تین سے مسترد ہوا ، جسٹس اطہرمن اللہ کا …

    شہباز شریف نے مزید کہا تھاکہ یہ ریفرنس عدلیہ کی آزادی پر شب خون اور اسے تقسیم کرنے کی مذموم سازش تھی، پاکستان مسلم لیگ (ن) اور اتحادی جماعتوں نےاپوزیشن کےدورمیں بھی اس جھوٹےریفرنس کی مذمت کی تھی عمران خان نےصدرکےآئینی منصب کا اس مجرمانہ فعل کے لیے ناجائز استعمال کیا، صدر عارف علوی عدلیہ پر حملے کے جرم میں آلہ کاراورایک جھوٹ کےحصہ دار بنےپاکستان بار کونسل سمیت وکلا تنظیموں نے بھی اس کی مخالفت کی تھی، ہم ان کی رائے کی قدر کرتے ہیں-

    خیال رہے کہ صدارتی ریفرنس خارج ہونے کے بعد پاکستان تحریک انصاف کے دور میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف کیوریٹو ریویو دائر کیا گیا تھااس حوالے سے سابق وزیراعظم عمران خان نے بھی اعتراف کیا کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف صدارتی ریفرنس دائر کرنا ہماری حکومت کی غلطی تھی۔

    جسٹس قاضی فائز عیسی نےحافظ قرآن اضافی نمبر کیس میں تفصیلی نوٹ جاری کر دیا

  • جسٹس قاضی فائز عیسی نےحافظ قرآن اضافی نمبر کیس میں تفصیلی نوٹ جاری کر دیا

    جسٹس قاضی فائز عیسی نےحافظ قرآن اضافی نمبر کیس میں تفصیلی نوٹ جاری کر دیا

    اسلام آباد: سپریم کورٹ کے سینئیر جج جسٹس قاضی فائز عیسی نے حافظ قرآن اضافی نمبر کیس میں تفصیلی نوٹ جاری کر دیا،جسٹس قاضی فائزعیسیٰ نے اپنے فیصلے کے خلاف لارجر بینچ کی کارروائی پر اعتراض اٹھادیا-

    باغی ٹی وی : جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ازخودنوٹس 4/2022 بارے نوٹ جاری کردیا جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی جانب سے جاری نوٹ میں کہا گیا ہے کہ عشرت علی نے 4 اپریل کو خود کو غلط طور پر رجسٹرار ظاہر کیا عشرت علی کو 3 اپریل 2023 کونوٹی فیکیشن کے ذریعے وفاقی حکومت نے واپس بلایا،عشرت علی نے وفاقی حکومت کے حکم کی تعمیل سے انکار کیا-

    پاکستان آئی ایم ایف، ورلڈ بینک کا ممبر ہے کوئی بھکاری نہیں،وزیر خزانہ

    تفصیلی نوٹ میں لکھا کہ غیرقانونی سرکلر کا چیف جسٹس کو بھی خط لکھا لیکن کوئی جواب نہ ملا، سرکلر غیرآئینی ہونے کا ادراک ہونے پر ہی 6 رکنی لارجر بینچ تشکیل دیا گیا، سپریم کورٹ کے حکم کے خلاف کوئی دوسرا بینچ اپیل نہیں سن سکتا۔

    نوٹ میں کہا گیا کہ عشرت علی نے 4 اپریل کو لارجر بینچ تشکیل کے روسٹر پر دستخط کیے ، میرے فیصلے پر 6رکنی بینچ کے تشکیل کی آئین و قانون میں اجازت نہیں تھی 6رکنی بینچ کے 4 اپریل کے فیصلے کی کوئی آئینی حیثیت نہیں ،3رکنی بینچ کے فیصلے پر 6 رکنی بینچ کی تشکیل غلط تھی ، لارجر بینچ کو 4 اپریل کا آرڈر جاری کرنے کا اختیار نہیں تھا جلد بازی میں لارجر بینچ نےسماعت کی اور 8 صفحات کا فیصلہ بھی جاری کیا، معمول کے مطابق سماعت ہوتی تو 4 ججز سوچتے کہ ان کے سینئر کیا کر رہے ہیں۔

    وزیراعظم ہاؤس سے مشکوک شخص گرفتار

    تفصیلی نوٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ کے 29 مارچ کے حکم کو 6 رکنی بینچ کالعدم نہیں کر سکتا تھا، 6 ججز کا فیصلہ آئین کا متبادل نہیں ہو سکتا ،6 ججز جلد بازی میں اکٹھے ہوئے ،6 رکنی بینچ نے چند منٹ میں ازخود نوٹس کارروائی کو ختم کر دیاعدلیہ کا کام آئین اور قانون کے مطابق فیصلے کرنا ہے، اختیارات سے تجاوز کیا جائے تو ججز کے حلف کی خلاف ورزی ہوگی لارجربینچ کے حکم سے آمرانہ جھلک آتی ہے جو آئین کا متبادل نہیں ہوسکتا، چیف جسٹس کیلئے استعمال کیا گیا لفظ ماسٹر آف روسٹرز آئین میں کہیں نہیں ملتا۔

    نواز شریف نے بھی چیف جسٹس آف پاکستان سے مستعفی ہونے کا مطالبہ

  • حکومت صدارتی حکمنامہ کے ذریعے چیف جسٹس کو جبری رخصت پر بھیجے،امان اللہ کنرانی

    حکومت صدارتی حکمنامہ کے ذریعے چیف جسٹس کو جبری رخصت پر بھیجے،امان اللہ کنرانی

    سپریم کورٹ بار ایسوسیشن کے سابق صدر امان اللہ کنرانی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ جمعہ کے روز چیف جسٹس پاکستان کا کُھلی عدالت میں آبدیدہ ہونا و رونے کا مشق کرنا آئین کے تحت اپنے حلف میں کوڈ آف کنڈکٹ کی آرٹیکل 2&9کی صریحاً خلاف ورزی ہے-

    باغی ٹی وی : امان اللہ کنرانی نے کہا کہ پھر جس پس منظر میں چیف جسٹس نے اشک شوئی کی ہےوہ سینئر ترین جج جناب قاضی فائز عیسی و اہل خانہ کاکرب و درد تھاجس پر وہ روئے مگر بدقسمتی سے اس عمل کے موجد و معاون وہ خود تھے غالب کے بقول”کی میرے قتل کے بعد اس نے جفا سے توبہ—-ھائے اس زود پشیمان کا پشیمان ھونا غالب ،اس سے ثابت وتا ہے چیف جسٹس جذبات کے رو میں بہہ جانے والے ہیں ان کو جذبات پر قابو نہیں ہے-

    چیف جسٹس سمیت تینوں ججوں کے خلاف ریفرنس زیر غور ہے،وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ

    انہوں نے کہا کہ مخالفت و مخاصمت و حمایت کا برملا اظہار اپنے ایک جج صاحب کو دوسروں کو ان کے ساتھ یکجہتی پیغام دینے کے بعد اس نے اپنے آپ کو سپریم جوڈیشل کونسل میں اس کی صدارت کرنے سے نااہل ثابت کردیا ہے اور برملا اس متنازعہ جج سے اپنے تعلق ثابت کردیا جس کے خلاف ریفرنس سپریم جوڈیشل کونسل میں زیرالتوء ہے ایسی صورت میں اس بات سے واضح ہے کہ وہ اس معاملے پر کبھی بھی سپریم جوڈیشل کونسل کا اجلاس نہیں بلائیں گے یوں آئین کا آرٹیکل 209 ان کی موجودگی میں غیر موثر رہے گا اور فریق و مدعی کو آئین کے تحت آرٹیکل 10-A کی روشنی میں انصاف نہیں مل سکے گا یوں آئین کے دونوں آرٹیکل معطل رہیں گے جو یقیناً آئین کا منشاء نہیں ہے اور بنیادی آئینی حقوق کے تحفظ اور آرٹیکل 4 وآرٹیکل 25 کی صریحاً خلاف ورزی ہے-

    مسلم لیگ ن کے رہنما نذر گوندل نے پیپلز پارٹی میں شمولیت اختیار کر لی

    امان اللہ کنرانی نے کہا کہ یہاں تک جج کے لئے لازم ہے کہ کوڈ آف کنڈکٹ کے مطابق انصاف نہ صرف کیا جائے بلکہ انصاف ھوتا ھوا دکھائ بھی دے جبکہ یہاں پر اس کے برعکس رویہ ہے اس لئے ایسی اضطراری و معروضی حالات کے تناظر میں حکومت صدارتی حُکم نامہ نمبر 27 مجریہ 1970 کے آرٹیکل 2 کے تحت چیف جسٹس پاکستان جناب عمر عطا بندیال صاحب کو جبری رخصت پر بھیج کر ریفرینس کا تصفیہ ہونے تک سپریم کورٹ پاکستان کے سینئیر جج جناب جسٹس قاضی فائز عیسی صاحب کو قائمقام چیف جسٹس مقرر کیا جائے تاکہ وہ جلد از جلد اس ریفرینس کا فیصلہ کرکے رپورٹ صدر پاکستان کو بھجوا سکے اور اس کے بعد چیف جسٹس صاحب واپس اپنے عہدے پر براجمان ہوں-

    وفاق نےقاضی فائز عیسیٰ کیخلاف دائردرخواست واپس لینےکیلئےمتفرق درخواست دائرکردی

  • جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے  اپنے، اہلیہ اور بچوں کے اثاثے ظاہر کر دیئے

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اپنے، اہلیہ اور بچوں کے اثاثے ظاہر کر دیئے

    اسلام آباد: جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے رضاکارانہ طور پر اپنے، اہلیہ اور بچوں کے اثاثے سپریم کورٹ آف پاکستان کی ویب سائٹ پر ظاہر کردیئے ہیں۔

    باغی ٹی وی : سپریم کورٹ کی ویب سائٹ پر جاری دستاویزات کے مطابق جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے بطور چیف جسٹس بلوچستان ہائی کورٹ کوئی پلاٹ نہیں لیا ۔

    امیر ممالک غریب ملکوں کو شیطانی حربوں سے تنگ کررہے ہیں ،سیکرٹری اقوام متحدہ

    دستاویزات کے مطابق جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے بطور جج سپریم کورٹ کوئی سرکاری پلاٹ نہیں لیا۔ان کو سرکاری پلاٹس کی آفرز ہوئیں جو انہوں نے ٹھکرا دیں انہوں نے آمدن کے مطابق ہر سال ٹیکس جمع کرایا۔

    دستاویزات کے مطابق کینال روڈ لاہور میں پرانا گھر کرائے پر دے رکھا ہے، ان کے بینک اکاؤنٹ میں 4 کروڑ 13 لاکھ 30 ہزار 856 روپے ہیں، ایک فارن کرنسی بینک اکاؤنٹ میں 41 لاکھ روپے سے زائد رقم موجود ہے۔

    دستاویزات میں بتایا گیا ہے کہ جسٹس قاضی فائزعیسیٰ کی ملکیت میں دوکاریں، ایک گاڑی ہے ان کی ملکیت میں ڈی ایچ اے فیز ٹو کراچی کا 800 مربع فٹ رہائشی پلاٹ ہے جو بطور وکیل پریکٹس کے پیسوں سے لیا،اس پر گھر بھی بنایا-

    سب سے بات کرنے سمجھوتہ کرنے کو تیار ہوں، عمران خان

    دستاویزات میں مؤقف اپنایا گیا ہے کہ مجھے سرکاری طورپر 2 کاریں، 600 لیٹرپیٹرول ملتا ہے، وزارت داخلہ کے اجازت نامے کے باوجود ممنوعہ اسلحہ رکھنے سے انکار کیا، بطور جج سپریم کورٹ 300 ملکی مفت کال منٹس ملتے ہیں، 300 لیٹر پیٹرول مفت ملےگا۔

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے دستاویزات میں کہا ہے کہ میری اہلیہ سرینہ عیسیٰ میرے زیرکفالت نہیں، وہ برطانیہ اور پاکستان میں اپنے الگ ٹیکس گوشوارے جمع کراتی ہیں۔

    دستاویزات میں کہا گیا ہے کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سال 2018 میں آمدن ایک کروڑ 51 لاکھ13 ہزار 972روپے تھی، انہوں نے سال 2018میں 22 لاکھ 916 روپے ٹیکس ادا کیا۔

    لیفٹیننٹ جنرل (ر) نذیر احمد کوچیئرمین نیب تعینات کر دیا

    دستاویزات کے مطابق سال 2019 میں سالانہ آمدن 1 کروڑ 71 لاکھ 45 ہزار 972روپے تھی، 17 لاکھ 92 ہزار سات روپے ٹیکس دیا جبکہ سال 2020 میں آمدن 2 کروڑ 12 لاکھ 33 ہزار 921 روپے تھی، 26 لاکھ 78ہزار 799روپے ٹیکس دیا۔

    زیارت میں قائداعظم کی رہائش گاہ کے ساتھ ایک پلاٹ مجھے میرے مرحوم والد قاضی محمد عیسیٰ نے ورثے میں دیا، اس پلاٹ کے ایک حصے پر غیر قانونی طور پر بلوچستان حکومت نے قبضہ کر لیا۔

  • ہڑتال کرنے والے وکیلوں کا لائسنس ختم کرنا چاہیئے، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ

    ہڑتال کرنے والے وکیلوں کا لائسنس ختم کرنا چاہیئے، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ

    اسلام آباد: سپریم کورٹ میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ ایک کیس کی سماعت میں ہڑتال کرنے والے وکلا پر برہم ہو گئے-

    باغی ٹی وی: سپریم کورٹ میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے فیصل آباد کی ایک فیکٹری کے خلاف 6 کروڑ 78 لاکھ روپے سے زائد گیس چوری کے کیس کی سماعت کی-

    دوران سماعت ٹرائل کورٹ کے آرڈر میں وکلا کے 2 سے 3 بار ہڑتال کے باعث پیش نہ ہونے کا تذکرہ کیا گیا جس پر جسٹس قاضی فائز نے وکلا پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وکلا کیسے ہڑتال کرسکتے ہیں؟ ایسے وکیلوں کا لائسنس ختم کرنا چاہیے-

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا کہنا تھا کہ یہ کوڈ آف کنڈکٹ وکلا کا اپنا بنایا ہوا ہے جس پرخود عمل نہیں کرتے، ایسے ججزکوبھی ہٹانا چاہیے جو آرڈرپریہ لکھ رہے ہیں کہ وکلا ہڑتال پرہیں۔

    پنجاب میں الیکشن کی تاریخ کا اعلان نہ کرنے پر چیف الیکشن کمشنر اور گورنر پنجاب کیخلاف توہین عدالت…

    جسٹس فائز نے کہا کہ وکیل ہڑتال کیوں کررہے ہیں؟ یہ بھی نہیں بتایا گیا، کیا عدالت وکیل کو گھر سے اٹھا کر لائے؟ جو چاہتا ہے مرضی سے ہڑتال کرتا ہے، ایسے عدالتی نظام کوپھر بند کردیں، پورے سسٹم کو خراب کرکے رکھ دیا ہے، ہر آدمی اپنا اپنا کام کرے تو ملک کا سسٹم بہتر ہوسکتا ہے۔

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا کہنا تھا کہ کنڈکٹ کا قانون وکلا نے خود بنایا ہے، ججز یا پارلیمنٹ نے نہیں، ہم عدالت میں آئین و قانون کے مطابق چلتے ہیں، انصاف اوپر والا کرتا ہے۔

    بعد ازاں عدالت کے 2 رکنی بینچ نے کیس میں فیکٹری کی اپیل خارج کردی۔